Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 128

سورة النساء

وَ اِنِ امۡرَاَۃٌ خَافَتۡ مِنۡۢ بَعۡلِہَا نُشُوۡزًا اَوۡ اِعۡرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَاۤ اَنۡ یُّصۡلِحَا بَیۡنَہُمَا صُلۡحًا ؕ وَ الصُّلۡحُ خَیۡرٌ ؕ وَ اُحۡضِرَتِ الۡاَنۡفُسُ الشُّحَّ ؕ وَ اِنۡ تُحۡسِنُوۡا وَ تَتَّقُوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرًا ﴿۱۲۸﴾

And if a woman fears from her husband contempt or evasion, there is no sin upon them if they make terms of settlement between them - and settlement is best. And present in [human] souls is stinginess. But if you do good and fear Allah - then indeed Allah is ever, with what you do, Acquainted.

اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی بددماغی اور بے پرواہی کا خوف ہو تو دونوں آپس میں جو صلح کرلیں اس میں کسی پر کوئی گناہ نہیں صلح بہت بہتر چیز ہے ، طمع ہر ہر نفس میں شامل کر دی گئی ہے ۔ اگر تم اچھا سلوک کرو اور پرہیز گاری کرو تو تم جو کر رہے ہو اس پر اللہ تعالٰی پوری طرح خبردار ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Ruling Concerning Desertion on the Part of the Husband Allah says; وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِن بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا ... And if a woman fears cruelty or desertion on her husband's part, Allah states, and thus legislates accordingly, that sometimes, the man inclines away from his wife, sometimes towards her and sometimes he parts with her. In the first case, when the wife fears that her husband is steering away from her or deserting her, she is allowed to forfeit all or part of her rights, such as provisions, clothing, dwelling, and so forth, and the husband is allowed to accept such concessions from her. Hence, there is no harm if she offers such concessions, and if her husband accepts them. This is why Allah said, ... فَلَ جُنَاْحَ عَلَيْهِمَا أَن يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا ... there is no sin on them both if they make terms of peace between themselves; He then said, ... وَالصُّلْحُ خَيْرٌ ... and making peace is better, (than divorce). Allah's statement, ... وَأُحْضِرَتِ الاَنفُسُ الشُّحَّ ... And human souls are swayed by greed. means, coming to peaceful terms, even when it involves forfeiting some rights, is better than parting. Abu Dawud At-Tayalisi recorded that Ibn Abbas said, "Sawdah feared that the Messenger of Allah might divorce her and she said, `O Messenger of Allah! Do not divorce me; give my day to Aishah.' And he did, and later on Allah sent down, وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِن بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَ جُنَاْحَ عَلَيْهِمَا (And if a woman fears cruelty or desertion on her husband's part, there is no sin on them both). Ibn Abbas said, "Whatever (legal agreement) the spouses mutually agree to is allowed." At-Tirmidhi recorded it and said, "Hasan Gharib". In the Two Sahihs, it is recorded that Aishah said that; when Sawdah bint Zam`ah became old, she forfeited her day to Aishah, and the Prophet used to spend Sawdah's night with Aishah. There is a similar narration also collected by Al-Bukhari. Al-Bukhari also recorded that A'ishah commented; وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِن بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا (And if a woman fears cruelty or desertion on her husband's part), that it refers to, "A man who is married to an old woman, and he does not desire her and wants to divorce her. So she says, `I forfeit my right on you.' So this Ayah was revealed." Meaning of "Making Peace is Better Allah said, ... وَالصُّلْحُ خَيْرٌ ... And making peace is better. Ali bin Abi Talhah related that Ibn Abbas said that the Ayah refers to, "When the husband gives his wife the choice between staying with him or leaving him, as this is better than the husband preferring other wives to her." However, the apparent wording of the Ayah refers to the settlement where the wife forfeits some of the rights she has over her husband, with the husband agreeing to this concession, and that this settlement is better than divorce. For instance, the Prophet kept Sawdah bint Zam`ah as his wife after she offered to forfeit her day for Aishah. By keeping her among his wives, his Ummah may follow this kind of settlement. Since settlement and peace are better with Allah than parting, Allah said, ... وَالصُّلْحُ خَيْرٌ ... and making peace is better. Divorce is not preferred with Allah. The meaning of Allah's statement, ... وَإِن تُحْسِنُواْ وَتَتَّقُواْ فَإِنَّ اللّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا But if you do good and have Taqwa, verily, Allah is Ever Well-Acquainted with what you do. if you are patient with the wife you dislike and treat her as other wives are treated, then Allah knows what you do and will reward you for it perfectly. Allah's statement,

میاں بیوی میں صلح وخیر کا اصول اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے حالات اور ان کے احکام بیان فرما رہا ہے کبھی مرد اس سے ناخوش ہو جاتا ہے کبھی چاہنے لگتا ہے اور کبھی الگ کر دیتا ہے ۔ پس پہلی حالت میں جبکہ عورت کو اپنے شوہر کی ناراضگی کا خیال ہے اور اسے خوش کرنے کے لئے اپنے تمام حقوق سے یا کسی خاص حق سے وہ دست برداری کرنا چاہے تو کر سکتی ہے ۔ مثلاً اپنا کھانا کپڑا چھوڑ دے یا شب باشی کا حق معاف کر دے تو دونوں کے لئے جائز ہے ۔ پھر اسی کی رغبت دلاتا ہے کہ صلح ہی بہتر ہے ۔ حضرت سودہ بنت زمعہ جب بہت بڑی عمر کی ہو جاتی ہیں اور انہیں معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرما لیا ۔ ابو داؤد میں ہے کہ اسی پر یہ آیت اتری ۔ ابن عباس فرماتے ہیں میاں بیوی جس بات پر رضامند ہو جائیں وہ جائز ہے ۔ آپ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت آپ کی نوبیویاں تھیں جن میں سے آپ نے آٹھ کو باریاں تقسیم کر رکھی تھیں ۔ بخاری مسلم میں ہے کہ حضرت سودہ کا دن بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کو دیتے تھے ۔ حضرت عروہ کا قول ہے کہ حضرت سودہ کو بڑی عمر میں جب یہ معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑ دینا چاہتے ہیں تو خیال کیا کہ آپ کو صدیقہ سے پوری محبت ہے اگر میں اپنی باری انہیں دیدوں تو کیا عجب کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم راضی ہو جائیں اور میں آپ کی بیویوں میں ہی آخر دم تک رہ جاؤں ۔ حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ حضور رات گزارنے میں اپنی تمام بیویوں کو برابر کے درجے پر رکھا کرتے تھے عموماً ہر روز سب بیویوں کے ہاں آتے بیٹھتے بولتے چالتے مگر ہاتھ نہ بڑھاتے پھر آخر میں جن بیوی صاحبہ کی باری ہوتی ان کے ہاں جاتے اور رات وہیں گزارتے ۔ پھر حضرت سودہ کا واقعہ بیان فرماتے جو اوپر گذار ( ابوداؤد ) معجم ابو العباس کی ایک مرسل حدیث میں ہے کہ حضور نے حضرت سودہ کو طلاق کی خبر بجھوائی یہ حضرت عائشہ کے ہاں جابیٹھیں جب آپ تشریف لائے تو کہنے لگیں آپ کو اس اللہ تعالیٰ کی قسم ہے جس نے آپ پر اپنا کلام نازل فرمایا اور اپنی مخلوق میں سے آپ کو برگزیدہ اور اپنا پسندیدہ بنایا آپ مجھ سے رجوع کر لیجئے میری عمر بڑی ہوگئی ہے مجھے مرد کی خاص خواہش نہیں رہی لیکن یہ چاہت ہے کہ قیامت کے دن آپ کی بیویوں میں اٹھائی جاؤں چنانچہ آپ نے یہ منظور فرمالیا اور رجوع کر لیا پھر یہ کہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنی باری کا دن اور رات آپ کی محبوب حضرت عائشہ کو ہبہ کرتی ہوں ۔ بخاری شریف میں آتا ہے کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ ایک بڑھیا عورت جو اپنے خاوند کو دیکھتی ہے کہ وہ اس سے محبت نہیں کر سکتا بلکہ اسے الگ کرنا چاہتا ہے تو وہ کہتی ہے کہ میں اپنے حق چھوڑتی ہوں تو مجھے جدانہ کر تو آیت دونوں کی رخصت دیتی ہے یہی صورت اس وقت بھی ہے کہ جب کسی کو دو بیویاں ہوں اور ایک سے اس کی بوجہ اس کے بڑھاپے یا بدصورتی کے محبت نہ ہو اور وہ اسے جدا کرنا چاہتا اور یہ بوجہ اپنے لگاؤ یا بعض اور مصالح کے الگ ہونا پسند نہ کرتی تو اسے حق ہے کہ اپنے بعض یا سب حقوق سے الگ ہو جائے اور خاوند اس کی بات کو منظور کر کے اسے جدا نہ کرے ۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت عمر سے ایک سوال ( جسے اس کی بیہودگی کی وجہ سے ) آپ نے ناپسند فرمایا اور اسے کوڑا ماردیا پھر ایک اور نے اسی آیت کی بابت سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ ہاں یہ باتیں پوچھنے کی ہیں اس سے ایسی صورت مراد ہے کہ مثلاً ایک شخص کی بیوی ہے لیکن وہ بڑھیا ہو گئی ہے اولاد نہیں ہوتی اس نے اولاد کی خاطر کسی جوان عورت سے اور نکاح کیا پھر یہ دونوں جس چیز پر آپس میں اتفاق کرلیں جائز ہے ۔ حضرت علی سے جب اس آیت کی نسبت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ عورت ہے جو بوجہ اپنے بڑھاپے کے یا بدصورتی کے یا بدخلقی کے یا گندگی کے اپنے خاوند کی نظروں میں گر جائے اور اس کی چاہت یہ ہو کہ خاوند مجھے نہ چھوڑے تو یہ اپنا پورا یا ادھورا مہر معاف کر دے یا اپنی باری معاف کر دے وغیرہ تو اس طرح صلح کر سکتے ہیں سلف اور ائمہ سے برابری اس کی یہی تفسیر مروی ہے بلکہ تقریباً اس پر اتفاق ہے میرے خیال سے تو اس کا کوئی مخالف نہیں واللہ اعلم ۔ محمد بن مسلم کی صاحبزادی حضرت رافع بن خدیج کے گھر میں تھیں بوجہ بڑھاپے کے یا کسی اور امر کے یہ انہیں چاہتے نہ تھے یہاں تک کہ طلاق دینے کا ارادہ کر لیا اس پر انہوں نے کہا آپ مجھے طلاق تو نہ دیجئے اور جو آپ چاہیں فیصلہ کریں مجھے منظور ہے ۔ اس پر یہ آیت اتری ۔ ان دونوں آیتوں میں ذکر ہے اس عورت کا جس سے اس کا خاوند بگڑا ہوا ہو اسے چاہئے کہ اپنی بیوی سے کہہ دے کہ اگر وہ چاہے تو اسے طلاق دے دے اور اگر وہ چاہے تو اس بات کو پسند کر کے اس کے گھر میں رہے کہ وہ مال کی تقسیم میں اور باری کی تقسیم میں اس پر دوسری بیوی کو ترجیح دے گا اب اسے اختیار ہے اگر یہ دوسری شق کو منظور کر لے تو شرعاً خاوند کو جائز ہے کہ اسے باری نہ دے اور جو مہر وغیرہ اس نے چھوڑا ہے اسے اپنی ملکیت سمجھے ۔ حضرت رافع بن خدیج انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی صاحبہ جب سن رسید ہوگئیں تو انہوں نے ایک نوجوان لڑکی سے نکاح کیا اور پھر اسے زیادہ چاہنے لگے اور اسے پہلی بیوی پر مقدم رکھنے لگے آخر اس سے تنگ آ کر طلاق طلب کی آپ نے دے دی پھر عدت ختم ہونے کے قریب لوٹالی ، لیکن پھر وہی حال ہوا کہ جوان بیوی کو زیادہ چاہنے لگے اور اس کی طرف جھک گئے اس نے پھر طلاق مانگی آپ نے دوبارہ طلاق دے دی پھر لوٹالیا لیکن پھر وہی نقشہ پیش آیا پھر اس نے قسم دی کہ مجھے طلاق دے دو تو آپ نے فرمایا دیکھو اب یہ تیسری آخری طلاق ہے اگر تم چاہو تو میں دے دوں اور اگر چاہو تو اسی طرح رہنا منظور کرو اس نے سوچ کر جواب دیا کہ اچھا مجھے اسے طرح منظور ہے چنانچہ وہ اپنے حقوق سے دست بردار ہوگئیں اور اسی طرح رہنے سہنے لگیں ۔ اس جملے کا کہ صلح خیر ہے ایک معنی تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ خاوند کا اپنی بیوی کو یہ اختیار دینا کہ اگر تو چاہے تو اسی طرح رہ کر دوسری بیوی کے برابر تیرے حقوق نہ ہوں اور اگر تو چاہے تو طلاق لے لے ، یہ بہتر ہے اس سے کہ یونہی دوسری کو اس پر ترجیح دئے ہوئے رہے ۔ لیکن اس سے اچھا مطلب یہ ہے کہ بیوی اپنا کچھ چھوڑے دے اور خاوند اسے طلاق نہ دے اور آپس میں مل کر رہیں یہ طلاق دینے اور لینے سے بہتر ہے ، جیسے کہ خود نبی اللہ علیہ صلوات اللہ نے حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اپنی زوجیت میں رکھا اور انہوں نے اپنا دن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہبہ کر دیا ۔ آپ کے اس فعل میں بھی آپ کی امت کے لئے بہترین نمونہ ہے کہ ناموافقت کی صورت میں بھی طلاق کی نوبت نہ آئے ۔ چونکہ اللہ اعلیٰ و اکبر کے نزدیک صلح افتراق سے بہتر ہے اس لئے یہاں فرما دیا کہ صلح خیر ہے ۔ بلکہ ابن ماجہ وغیرہ کی حدیث میں ہے تمام حلال چیزوں میں سے سب سے زیادہ ناپسند چیز اللہ کے نزدیک طلاق ہے ۔ پھر فرمایا تمہارا احسان اور تقویٰ کرنا یعنی عورت کی طرف کی ناراضگی سے درگذر کرنا اور اسے باوجود ناپسندیدگی کے اس کا پورا حق دینا باری میں لین دین میں برابری کرنا یہ بہترین فعل ہے جسے اللہ بخوبی جانتا ہے اور جس پر وہ بہت اچھا بدلہ عطا فرمائے گا ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ گو تم چاہو کہ اپنی کئی ایک بیویوں کے درمیان ہر طرح بالکل پورا عدل و انصاف اور برابری کرو تو بھی تم کر نہیں سکتے ۔ اس لئے کہ گو ایک ایک رات کی باری باندھ لو لیکن محبت چاہت شہوت جماع وغیرہ میں برابری کیسے کر سکتے ہو؟ ابن ملکیہ فرماتے ہیں یہ بات حضرت عائشہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بہت چاہتے تھے ، اسی لئے ایک حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے درمیان صحیح طور پر مساوات رکھتے تھے لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے فرماتے تھے الٰہی یہ وہ تقسیم ہے جو میرے بس میں تھی اب جو چیز میرے قبضہ سے باہر ہے یعنی دلی تعلق اس میں تو مجھے ملامت نہ کرنا ( ابو داؤد ) اس کی اسناد صحیح ہے لیکن امام ترمذی فرماتے ہیں دوسری سند سے یہ مرسلاً مروی ہے اور وہ زیادہ صحیح ہے ۔ پھر فرمایا بالکل ہی ایک جانب جھک نہ جاؤ کہ دوسری کو لٹکا دو وہ نہ بےخاوند کی رہے نہ خاوند والی وہ تمہاری زوجیت میں ہو اور تم اس سے بےرخی برتو نہ تو اسے طلاق ہی دو کہ اپنا دوسرا نکاح کر لے نہ اس کے وہ حقوق ادا کرو جو ہر بیوی کے لئے اس کے میاں پر ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس کی دو بیویاں ہوں پھر وہ بالکل ہی ایک کی طرف جھک جائے تو قیامت کے دن اللہ کے سامنے اس طرح آئے گا کہ اس کا آدھا جسم ساقط ہو گا ( احمد وغیرہ ) امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث مرفوع طریق سے سوائے ہمام کی حدیث کے پہچانی نہیں جاتی ۔ پھر فرماتا ہے اگر تم اپنے کاموں کی اصلاح کر لو اور جہاں تک تمہارے اختیار میں ہو عورتوں کے درمیان عدل و انصاف اور مساوات برتو ہر حال میں اللہ سے ڈرتے رہا کرو ، اس کے باوجود اگر تم کسی وقت کسی ایک کی طرف کچھ مائل ہوگئے ہو اسے اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا ۔ پھر تیسری حالت بیان فرماتا ہے کہ اگر کوئی صورت بھی نباہ کی نہ و اور دونوں الگ ہو جائیں تو اللہ ایک کو دوسرے سے بےنیاز کر دے گا ، اسے اس سے اچھا شوہر اور اسے اس سے اچھی بیوی دے دے گا ۔ اللہ کا فضل بہت وسیع ہے وہ بڑے احسانوں والا ہے اور ساتھ ہی وہ حکیم ہے تمام افعال ساری تقدیریں اور پوری شریعت حکمت سے سراسر بھرپور ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

128۔ 1 خاوند اگر کسی وجہ سے اپنی بیوی کو ناپسند کرے اور اس سے دور رہنا اور اعراض کرنا معمول بنا لے یا ایک سے زیادہ بیویاں ہونے کی صورت میں کسی کو کم ترخوب صورت بیوی سے اعراض کرے تو عورت اپنا کچھ حق چھوڑ کر (مہر سے یا نان و نفقہ سے یا باری سے) خاوند سے مصالحت کرلے تو اس مصالحت میں خاوند یا بیوی پر کوئی گناہ نہیں کیونکہ صلح بہرحال بہتر ہے۔ حضرت ام المومنیں سودۃ (رض) نے بھی بڑھاپے میں اپنی باری حضرت عائشہ (رض) کے لئے ہبہ کردی تھی جسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبول فرما لیا۔ (صحیح بخاری) 128۔ 2 شُحّ بخل اور طمع کو کہتے ہیں۔ یہاں مراد اپنا اپنا مفاد ہے جو ہر نفس کو عزیز ہوتا ہے یعنی ہر نفس اپنے مفاد میں بخل اور طمع سے کام لیتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٦٧] اس آیت کی تفسیر میں درج ذیل دو احادیث ملاحظہ فرمائیے : ١۔ زوجین کا باہمی سمجھوتہ :۔ سیدہ عائشہ (رض) اس آیت کا مطلب یہ بیان فرماتی ہیں کہ مثلاً ایک شخص کے پاس عورت ہو جس سے وہ کوئی میل جول نہ رکھتا ہو اور اسے چھوڑ دینا چاہے اور عورت کہے کہ اچھا میں تجھے اپنی باری یا نان و نفقہ معاف کردیتی ہوں (مگر مجھے طلاق نہ دے) یہ آیت اس باب میں اتری (بخاری، کتاب التفسیر) ٢۔ سیدنا ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ سیدہ سودہ کو اندیشہ ہوا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں طلاق نہ دے دیں، تو انہوں نے آپ سے کہا && مجھے طلاق نہ دیجیے اپنے پاس ہی رکھیے اور میں اپنی باری عائشہ (رض) کو دے دیتی ہوں چناچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا ہی کیا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ گویا میاں بیوی جس شرط پر بھی صلح کرلیں وہ جائز ہے۔ && (ترمذی، ابو اب التفسیر) [١٦٩] یہاں لالچ سے مراد صرف مال و دولت کا لالچ نہیں بلکہ اس میں تمام مرغوبات نفس شامل ہیں جیسا کہ حدیث نمبر ٢ سے معلوم ہوتا ہے۔ یعنی اگر عورت اپنے خاوند کی پسند کو ملحوظ خاطر رکھے گی تو یقینا مرد کا دل بھی نرم ہوجائے گا اور صلح کے امکانات روشن ہوجائیں گے۔ [١٧٠] یعنی اگر تم بغیر کسی لالچ کے محض اللہ سے ڈر کر اپنی بیوی سے بہتر سلوک کرو اور اسے طلاق نہ دو تو اللہ سے یقینا تمہیں اس احسان کا بدلہ مل جائے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ ۔۔ : ” نشوزا “ کا مطلب ہے زیادتی، لڑائی جھگڑا، اعراض، بےرخی۔ نشوز یا اعراض یہ ہے کہ اس سے بدسلوکی کرے، اس کو حقیر سمجھے، اس کے پاس سونا بیٹھنا چھوڑ دے، اسے نان و نفقہ نہ دے، مارنے کے لیے بہانے تراشے، یا اس کے پاس اور بیوی ہے جسے وہ زیادہ چاہتا ہے، اس لیے اس کی طرف توجہ کم ہے، تو اس صورت میں دو ہی صورتیں ہوسکتی ہیں، ایک تو یہ کہ عورت سمجھے کہ میں اسی شخص کے نکاح میں رہوں تو میرے حق میں بہتر ہے، خواہ مجھے اپنے کچھ حقوق چھوڑنے پڑیں۔ دوسری یہ کہ وہ اس سے علیحدہ ہوجائے آیت (١٢٨) میں پہلی صورت کا ذکر ہے اور آیت (١٣٠) میں دوسری صورت کا ذکر ہے۔ اَنْ يُّصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا : ” صلحاً “ کی تنکیر ( کسی طرح کی صلح) سے معلوم ہوتا ہے کہ میاں بیوی آپس میں کسی طریقے سے بھی صلح کرلیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں۔ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں : ” کسی مرد کے پاس کوئی عورت ہوتی اور اب وہ اسے مزید نہ رکھنا چاہتا اور طلاق دینے کا ارادہ کرتا تو وہ عورت کہہ دیتی کہ ( مجھے طلاق نہ دے، اپنے نکاح میں رہنے دے) میں اپنی باری کے بارے میں تمہیں اجازت دیتی ہوں (کہ تو جس بیوی کے پاس چاہے رہے) چناچہ یہ آیت اس سلسلے میں نازل ہوئی۔ “ [ بخاری، التفسیر، باب (وَاِنِ امْرَاَةٌ خَافَت۔۔ ) : ٤٦٠١ ] عبد اللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ سودہ (رض) کو اندیشہ لاحق ہوا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھیں طلاق دے دیں گے تو انھوں نے عرض کیا : ” اے اللہ کے رسول ! میری باری کا دن عائشہ کو دے دیں مگر مجھے طلاق نہ دیں، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی طرح کیا، اس پر یہ آیت اتری : ( وَاِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِھَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا ) ابن عباس (رض) نے فرمایا : ” وہ دونوں جس چیز پر صلح کرلیں وہ جائز ہے۔ “ [ ترمذی، تفسیر القرآن، باب و من سورة النساء : ٣٠٤٠ ] عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ جب سودہ بنت زمعہ (رض) عمر رسیدہ ہوگئیں تو انھوں نے اپنا دن عائشہ (رض) کو ہبہ کردیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کا دن بھی عائشہ کے پاس گزارتے تھے۔ [ بخاری، النکاح، باب المرء ۃ تہب یومہا من زوجھا۔۔ : ٥٢١٢ ] وَالصُّلْحُ خَيْرٌ ۭ : یعنی صلح ہر حال میں بہتر ہے، کیونکہ شیطان اپنے کارندوں میں سے اس کارندے کو اپنے قریب کر کے شاباش دیتا ہے جو میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کروا دے۔ [ مسلم، صفات المنافقین و أحکامھم، باب تحریش الشیطان ۔۔ : ٦٧؍٢٨١٣ ] وَاُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ ۭ : ” الشح “ کا معنی ہے بخل، جس کے ساتھ حرص بھی ہو، یعنی انسان کا بخل اور لالچ تو فطری امر ہے، مرد کا شح یہ ہے کہ عورت سے فائدہ اٹھائے مگر اس کے پورے حقوق ادا نہ کرے اور عورت کا شح یہ ہے کہ مہر اور نان و نفقہ تو پورا وصول کرے مگر حقوق ادا کرنے میں کوتاہی کرے۔ وَاِنْ تُحْسِنُوْا وَتَتَّقُوْا ۔۔ : یعنی اس لالچ کے جذبے کے باوجود اگر میاں بیوی ایک دوسرے سے احسان اور فیاضی کا سلوک کریں اور اللہ سے ڈرتے رہیں تو اللہ کے ہاں اس کا اجر ضرور پائیں گے، جو ان کے ہر عمل سے پورا باخبر ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Some Qur&anic Instructions about Married Life Verses 128-130 which begin with the words: وَإِنِ امْرَ‌أَةٌ خَافَتْ مِن بَعْلِهَا (And if a woman fears ill treatment or aversion from her husband ...) and end at وَاسِعًا حَكِيمًا (... All-Embracing, All-Wise) carry instructions about the painful and hard part of married life which is faced by every married couple during one or the other stage of their long association. This is mutual displeasure and tension which, if allowed to prevail without being checked through proper control, does not only result in severe problems for the couple in their married lives but also, at times, carries the evil effects to families and tribes involving them in all sorts of mutual confrontation and even fighting and killing. The Glorious Qur&an has come to introduce a system of family life for man and woman both, keeping in view the whole range of their feelings. This system when followed will definitely make a home a paradise. Love and harmony will replace whatever bitterness there may be in the family. Just in case, inevitable circumstances bring the couple to the limit of separation, it would still be desirable to see that the parting of ways is done smoothly and painlessly. After that, when the relation-ship breaks, it is also necessary to watch that it leaves no emotional fallouts in the form of enmity, hostility, harm or hurt. Out of these three verses, verse 128 is about circumstances under which relationship between a husband and wife becomes strained for reasons beyond their control. Both parties seem to be helpless in the matter. However, their mutual bitterness makes it likely that they will fail in fulfilling the rights they have on each other. For example, a husband does not have amorous feelings in his heart for his wife and she has no control over the means which could change his heart. She may be ugly or aged while the husband is handsome. Thus, it is obvious that the woman cannot be blamed in any way for what she is, nor can the man be censured for whatever he is. Eventualities of this nature as part of the background in which the worse under reference was revealed, have been reported in Mazhari and elsewhere. Under such circumstances, as for men, the general rule given by the Holy Qur&an is: فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُ‌وفٍ أَوْ تَسْرِ‌يحٌ بِإِحْسَانٍ (2:229) that is, &retain in an honourable manner or part amicably&. It means that if the inten¬tion is to continue living with one&s wife, then, it is necessary to live with her amicably, fulfilling all rights due to her in the recognized manner. For anyone who finds himself incapable of doing so, it is proper to release her from the bond of marriage in a decent way. Now, if the woman too is willing to be released, the situation is open and clear as the parting of ways will come about in a pleasant manner. But, should it be that the woman, under such conditions, is not willing to secure her release - whether in the interest of her children or because she has no other supporter - then, she is left with only one alternative: Get the husband to agree to some option. For example, the woman may surrender all or some of her rights while the husband takes it to be reasonable enough as it unburdens him of many claims against him with the advantage of having a wife in bonus. May be this arrangement makes peace prevail between them. That such a compromise could be expected has been pointed out in this verse of the Holy Qur&an by saying: وَأُحْضِرَ‌تِ الْأَنفُسُ الشُّحَّ (Avarice is made to be present in human souls). In such a compromise, the greed of the woman lies in her intense desire to protect the future of her children for she fears that her release from the husband will ruin it, or that her life elsewhere may come out to be more bitter. On the other side, the husband is tempted by what the woman does. He sees that she has forgiven her dower due on him fully or partly and that she has also stopped from claiming other rights as well. Why then, he may think, should it be at all difficult for him to get along with her? Thus, a mutual compromise would become easy. Then, along with this, it was also said: وَإِنِ امْرَ‌أَةٌ خَافَتْ مِن بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَ‌اضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا |"And if a woman fears ill treatment or aversion from her husband, then, there is no sin upon them in entering into a compromise between them.|" Here, the expression فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا (…there is no sin upon them ...) has been used to cover the nature of the deal which, on the surface, appears to be a sort of bribe where the husband has been tempted with the forgiveness of dower and other claims and the bond of marital life has been kept intact. But, this (sagacious) statement of the Qur&an has made it clear that this is not included under bribery. Instead, it is included under expediency in the sense of a wise consideration under complex circumstances when the parties involved surrender their initial claims and agree to some moderated mean. This is permissible. The Interference of Others in a marital Dispute According to al-Tafsir al-Mazhari, the words used in the Holy Qur&an at this place are: أَن يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا . It means that the husband and wife should enter into a compromise in between them. Here, the word بَيْنَهُمَا (between the two of them) suggests that it is better if no third person interferes in husband-wife matters - let the two of them come to mutual compromise on some basis. This is because the injec¬tion of a third person may, at times, make the very compromise impos¬sible. Even if such a compromise is reached, the weaknesses of the couple get exposed before a third person unnecessarily, staying safe against which is expedient for both parties. Towards the end of this verse (128), it was said: وَإِن تُحْسِنُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرً‌ا |"And if you do good and fear Allah, then, Allah is all-aware of what you do.|" In the background of options given earlier, the husband did have the legal choice of releasing his wife on the basis of emotional incom¬patibility which made it difficult for him to fulfill her rights. Then, according to the first sentence of this verse, it is also permissible to enter into a compromise with one&s wife when she offers to surrender some of her claims. Now, the last of the verse cited here brings forth a third option. The meaning of what has been said is: &But, if you keep the fear of Allah in your heart and elect to be gracefully benign in your conduct and carry on accommodatingly with the relationship despite your emotional incompatibility and keep fulfilling her rights as due, then, this excellent conduct of yours is before Allah, the result of which is obvious. Almighty Allah will reward you for your forbearance and for the graces of your good deeds with blessings you can never imagine Perhaps, this is the reason why the text stops at; &Allah is all-aware of what you do.& It does not spell out the return for the good deed. The hint thus given is that it will be far more than one can ever imagine. A Summary of Comments made When the husband, for some reason, feels emotionally estranged with his wife and realizes that his rights remain unfulfilled, he should try to correct matters which fall within the range of what the wife can do. Such effort of correction can temporarily be expressed in the form of coldness, hard advice and even soft disciplining under circum¬stances of extreme compulsion as it has already appeared in the early verses of Surah al-Nis-a&. If the husband loses hope in correction in spite of all his efforts, or there is something about it the correction of which is just not in the control of his wife, then comes the situation in which the law of Islam gives him the right to divorce and release his wife in a decent manner without any altercation. But, if he elects to go along with the relationship living under the same conditions while ignoring his rights and fulfilling hers in full, then, this conduct of his is highly meritorious and deserving of a great reward. In contrast, if the case is the ether way around, that is, the husband does not fulfill the necessary rights of his wife for which reason the wife wishes to be released by him. Now, under this situation, if the husband is also willing to release her, the course is clear. The woman too has the right to react when the husband wishes to release her on the basis of non-fulfillment of his rights - she too has the right to opt for her freedom. In case, the husband is not ready to release her on his own, the wife has the right to reclaim her freedom through an Islamic court. But, if she braves through the cold and crooked ways of her husband with patience surrendering her claims to due rights, carries on living with him in a spirit of accommodation and keeps fulfilling his rights, then, this is highly meritorious for her and deserving of a great reward. The Guideline in Essence Thus, on the one hand, the Holy Qur&an gives to both parties the legal right to remove difficulties from their relationship and to receive their due right; while, on the other, by prompting both of them to demonstrate high morals and to be patient with the loss of their rights, the instruction given was that they should abstain from severing their relationship to the farthest limit of possibility. Both parties should bypass bits of their claims and come to a compromise on some mutually agreed formula. Compromise: The Better Option Initially, this verse simply mentions that compromise is permis¬sible in the event of a husband-wife difference and towards the end of the verse, the parties have been prompted to carry on with the relationship in the best spirit of patience and forbearance in the event that such a compromise does not materialize. In between, there appears a sentence which proves the desirability of compromise as the favoured choice. It was said: وَالصُّلْحُ خَيْرٌ‌ (The compromise is better). The nature of the sentence is fairly general as stated. It certainly includes husband-wife disputes in the present context. However, it also includes all other kinds of family differences as well as all mutual disputes, altercations and litigations that come up in worldly life. This is because the words of the Holy Qur&an are general - &The compromise is better&. Thus, the parties would fare better if they avoid being stubborn about the fulfillment of their demands in toto and elect to forgo some of these from each side and agree to a compromise on some middle ground. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has said: کُلُ صُلحِ جَایٔزُ بَینَ اَلمُسلین اِلَّا صُلحَاً اَحَلَّ حَرَامَاً اَو حَرَّمَ حَلَالاً ، والمُسلِمُونَ عَلٰی شُرُوطِھِم اِلَّا شَرطاً حَرَّمَ حَلَالاً |"Every compromise is permissible between Muslims except a compromise in which something unlawful has been made lawful or something lawful has been made unlawful and Muslims must abide by accepted conditions except a condition in which something lawful has been made unlawful.|" (Narrated by M-Hakim from Kathir ibn ` Abdullah, Tafsir Mazhari) For example, it is not permissible to enter into a compromise with one&s wife on the condition that the husband will also marry her sister because Islamic law prohibits combining two sisters in the bond of marriage. This is harem or unlawful. Or, the husband may wish to compromise on the condition that he will not fulfill the rights of the other wife for this amounts to turning something lawful into something unlawful. Since, in the hadith narration quoted above, every compromise has been declared as permissible in a general sense, Imam Abu Hanifah (رح) has deduced from this statement the ruling that all kinds of compro¬mises are permissible. They may be with an avowal, for example, the defendant&s confession that he owes $1, 000 as claimed by the plaintiff following which a compromise may be arrived at either by the surrender of a certain part of the total amount claimed by the plaintiff, or by his taking something in lieu of the claimed amount, or through a lack of avowal or disavowal by the defendant who may simply wish to reach a certain compromise no matter what the claim be in reality. Or, despite a disclaimer, the defendant may bring himself round to pay up some of the amount just to end the dispute and this very action may make the compromise possible. All these three kinds of compromise are permissible. However, in the eventuality of silence or denial, there does exist a difference among some jurists. Finally, worth mentioning here is a problem which relates to the compromise between a married couple mentioned in this verse. If a woman makes a compromise by surrendering some of her rights, this compromise will totally eliminate the right of the woman the fulfill-ment of which stood incumbent on the husband at the time of the compromise. For example, the payment of the dower which was due to, to be paid by the husband before the compromise. So, when she makes a compromise by forgiving the whole or part of the dower, then, this dower or its part would stand devolved after which her right to claim it would lapse. But, the rights the fulfillment of which was just not obligatory on the husband at the time of the compromise - for example, the payment of expenses in the future or the right to privacy which would be applicable in the future - will not be, for all practical purposes, his responsibility to fulfill. If a compromise is reached on the basis of a surrender of these rights, the right of the woman to claim these does not devolve forever. Instead, she can declare any time she so chooses that she is not willing to forgo the right in future. Under this situation, the husband will have the choice to release her. (Tafsir Mazhari etc.) In the last verse (130): وَإِن يَتَفَرَّ‌قَا يُغْنِ اللَّـهُ كُلًّا مِّن سَعَتِهِ (And if they separate, Allah shall, through His capacity, make each of them need-free), both parties have been comforted in case all efforts to put things right between them come to naught and they have to separate. This should be no cause for concern. Allah Almighty will make each of them free from needing the other. The woman will get another home, and a source of support, and the man will find another woman. The power of Allah is extensive. There is no reason to lose hope. Let each one of the couple think of the life they had before getting married. They were two separate individuals who did not know each other as husband and wife. Almighty Allah made it possible for them to be united in marriage. The same thing can happen again. By saying: وَكَانَ اللَّـهُ وَاسِعًا حَكِيمًا (And Allah is All-Embracing, All-Wise) at the close of the verse, it has been confirmed that the dimensions of Allah&s capacity are most extensive and everything that issues forth from Him is based on wisdom. It is quite possible that the very separa¬tion may be the most expedient solution of the problem. The post-separation period may bless them with mates that make their lives good to live.

معارف ومسائل ازدواجی زندگی سے متعلق چند قرآنی ہدایات : وان امراة خافت من بعلھا (انی قولہ) واسعاً حکیماً ان تینوں آیتوں میں حق تعالیٰ شانہ نے ازدواجی زندگی کے اس تلخ اور کٹھن پہلو کے متعلق ہدایات دی ہیں جو اس طویل زندگی کے مختلف ادوار میں ہر جوڑے کو کبھی نہ کبھی پیش آ ہی جاتا ہے، وہ ہے باہمی رنجش اور کشیدگی اور یہ ایسی چیز ہے کہ اس پر صحیح اصول کے ماتحت قابو پانے کی کشش نہ کی جائے تو نہ صرف زوجین کے لئے دنیا جہنم بن جاتی ہے، بلکہ بسا اوقات یہ گھریلو رنجش خاندانوں اور قبیلوں کی باہمی جنگ اور قتل و قتال تک نوبت پہنچا دیتی ہے قرآن عزیز مرد عورت دونوں کے تمام جذبات اور احساسات کو سامنے رکھ کر ہر فریق کو ایک ایسا نظام زندگی بتلانے کے لئے آیا ہے جس پر عمل کرنے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ انسان کا گھر دنیا ہی میں جنت بن جائے گا گھریلو تلخیاں محبت و راحت میں تبدیلی ہوجائیں گی، اور اگر ناگزیر حالات میں علیحدگی کی نوبت بھی آجائے تو وہ بھی خوشگوار طبقہ خوش اسلوبی کے ساتھ ہو، قطع تعلق بھی ایسا ہو کہ عداوت دشمنی اور ایذاء رسانی کے جذبات پیچھے نہ چھوڑے۔ آیت نمبر ٨٢١ ایسے حالات سے متعلق ہے جس میں غیر اختیاری طور پر میاں بیوی کے تعلقات کشیدہ ہوجائیں، ہر فریق اپنی جگہ معذور سمجھا جائے اور باہمی تلخی کی وجہ سے اس کا اندیشہ ہوجائے کہ باہمی حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی ہوجائے گی، جیسے ایک بیوی سے اس کے شوہر کا دل نہیں ملتا اور نہ ملنے کے اسباب رفع کرنا عورت کے اختیار میں نہیں، مثلاً عورت بدصورت یا سن رسیدہ بوڑھیا ہے، شوہر خوش رو ہے، تو ظاہر ہے کہ اس میں نہ عورت کا کوئی قصور ہے اور نہ مرد ہی کچھ مجرم کہا جاسکتا ہے۔ چنانچہ اس آیت کے شان نزول میں اسی طرح کے چند واقعات مظہری وغیرہ میں منقول ہیں، ایسے حالات میں مرد کے لئے تو ایک عام قانون قرآن کریم نے یہ بتلایا ہے کہ فامساک بمعروف اوتسریح بااحسان کہ اس عورت کو رکھنا ہو تو دستور کے مطابق اس کے پورے حقوق ادا کر کے رکھو اور اگر اس پر قدرت نہیں تو اس کو خوش اسلوبی سے آزاد کردو، اب اگر عورت بھی آزاد ہونے کے لئے تیار ہے تو معاملہ صاف ہے کہ قطع تعلق بھی خوشگور انداز میں ہوجائے گا، لیکن اگر ایسے حالات میں عورت کسی وجہ سے آزادی نہیں چاہتی خواہ اپنی اولاد کے مفاد کی وجہ سے یا اس وجہ سے کہ اس کا کوئی دوسرا سہارا نہیں تو یہاں ایک ہی راستہ ہے کہ شوہر کو کسی چیز پر راضی کیا جائے، مثلاً عورت اپنے تمام یا بعض حقوق کا مطالبہ چھوڑ دے اور شوہر یہ خیال کرے کہ بہت سے حقوق کے بارے سے تو سبکدوشی ہوتی ہے، بیوی مفت میں ملتی ہے اس پر صلح ہوجائے۔ قرآن کریم کی اس آیت میں ایک تو اس طرح کی مصالحت کے متوقع ہونے کی طرف رہنمائی اس طرح فرمائی وا حضرت الانفس الشح یعنی حرص تمام نفوس کے سامنے دھری رہتی ہے ایسی مصالحت میں عورت کو تو یہ حرص ہے کہ مجھے آزاد کردیا تو اولاد برباد ہوجائے گی یا میری زندگی دوسری جگہ تلخ ہوگی اور شوہر کو یہ لالچ ہے کہ جب عورت نے اپنا کل مہر یا بعض معاف کردیا اور دوسرے حقوق کا بھی مطالبہ چھوڑ دیا تو اب اس کو رکھنے میں میرے لئے کیا مشکل ہے، اس لئے مصالحت باہمی آسان ہوجائے گی، اس کے ساتھ ارشاد فرمایا : وان امراہ خافت من بعلھا نستوزا او اعراضا فلا جناح علیھما ان یصلحا بینھما صلحا، یعنی اگر کوئی عورت اپنے خاوند سے لڑائی جھگڑے یا بےرخی کا خطرہ محسوس کرے تو دونوں میں سے کسی کو گناہ نہیں ہوگا اگر آپس میں خاص شرائط پر صلح کرلیں اور گناہ نہ ہونے کے عنوان سے اس لئے تعبیر فرمایا کہ اس معاملہ کی صورت بظاہر رشوت کی سی ہے کہ شوہر کو مہر وغیرہ کی معافی کا لالچ دے کر ازدواجی زندگی کا تعلق باقی رکھا گیا ہے لیکن قرآن کے اس ارشاد نے واضح کردیا کہ یہ رشوت میں داخل نہیں بلکہ مصلحت میں داخل ہے جس میں فریقین اپنے کچھ کچھ کا مطالبہ چھوڑ کر کسی درمیانی صورت میں رضامند ہوجایا کرتے ہیں اور یہ جائز ہے۔ زوجین کے جھگڑے میں دوسروں کا دخل بلا ضرورت مناسب نہیں :۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ اس جگہ حق تعالیٰ نے ان یصلحا بینھما صلحاً فرمایا یعنی ” میاں بیوی دونوں آپس میں کسی صورت پر مصالحت کرلیں۔ “ اس میں لفظ بینھما سے اس طرف اشارہ نکلتا ہے کہ میاں بیوی کے معاملات میں بہت بہتریہ ہے کہ کوئی تیسرا دخیل نہ ہو، یہ دونوں خود ہی آپس میں کوئی بات طے کرلیں، کیونکہ تیسرے کے دخل سے بعض اوقات تو مصالحت ہی ناممکن ہوجاتی ہے اور ہو بھی جائے تو طرفین کے عیوب تیسرے آدمی کے سامنے بلا وجہ آتے ہیں جس سے بچنا دونوں کے لئے مصلحت ہے۔ مذکورہ آیت کے آخر میں فرمایا : وان تحسنوا وتتقوا فان اللہ کان بما تعلمون خبیراً یعنی ایسے حالات میں جبکہ بیوی سے تمہارا دل نہیں ملتا اور اس وجہ سے تم اس کے حقوق ادا کرنا مشکل سمجھ کر آزاد کرنا چاہتے ہو تو گو ضابطہ میں تمہیں آزاد کردینے کا اختیار بھی حاصل ہے اور آیت کے ابتدائی جملہ کی رو سے عورت کے کچھ مطالبات چھوڑنے پر صلح کرلینا بھی جائز ہے، لیکن اگر حق تعالیٰ کے خوف کو سامنے رکھ کر احسان سے کام لو اور دل نہ ملنے کے باجود اس کے تعلق کو بھی نبھاؤ اور اس کے سب حقوق بھی پورے کرو، تو تمہارا یہ حسن عمل اللہ تعالیٰ کے سامنے ہے، جس کا یہ نتیجہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اس تحمل اور حسن عمل کا بدلہ ایسی نعمتوں اور حقوق سے دے گا جس کا تم کوئی تصور بھی نہیں کرسکتے اور شاید اسی وجہ سے یہاں صرف یہ بتلا کر چھوڑ دیا کہ تمہارا یہ حسن عمل ہمارے سامنے ہے، اس کا ذکر نہیں کیا کہ اس کا بدلہ کیا دیں گے ؟ اشارہ اس طرف ہے کہ وہ بدلہ تمہارے وہم و خیال سے بھی زائد ہوگا۔ متعلقہ آیات کے مضمون کا خلاصہ یہ ہوگیا کہ شوہر جب یہ دیکھے کہ کسی وجہ سے اس کا دل اپنی بیوی سے نہیں ملتا اور اس کے حقوق پورے نہیں ہوتے تو جہاں تک بیوی کے اختیاری معاملات کا تعلق ہے ان کی تو اصلاح کی کوشش کرے، تنبیہ کے لئے عارضی طور پر بےرخی، زبانی تنبیہ اور مجبوری معمولی مار پیٹ بھی کرنا پڑے تو کرے، جیسا کہ سورة نساء کی شروع کی آیات میں گزر چکا ہے اور اگر ساری کوششوں کے باوجود اصلاح سے مایوس ہوجائے، یا معاملہ کوئی ایسا ہے جس کا درست کرنا عورت کے اختیار ہی میں نہیں، تو اب اس کو قانون شرع یہ حق دیتا ہے کہ خوش اسلوبی کے ساتھ بغیر کسی لڑائی جھگڑے کے طلاق دے کر آزاد کر دے، لیکن اگر وہ اس کے تعلق کو اسی حالت میں نبھائے، اپنے حقوق کو نظر انداز اور اس کے حقوق پورے پورے ادا کرے تو یہ اس کے لئے افضل و اعلی اور موجب ثواب عظیم ہے، اس کے بالمقابل اگر معاملہ برعکس ہو کہ مرد حقوق واجبہ نہیں ادا کرتا، اس لئے عورت آزادی چاہتی ہے تو اس صورت میں اگر شوہر بھی آزاد کرنے پر راضی ہے تو معاملہ صاف ہے، عورت کو بھی یہ حق ملتا ہے کہ جب شوہر اداء حقوق میں کوتاہی کی بناء پر اس کو آزاد کرنا چاہے تو عورت بھی اپنی آزادی اختیار کرلے اور اگر شوہر با اختیار خود آزاد کرے پر آمادہ نہیں تو عورت کو حق پہنچتا ہے کہ اسلامی عدالت سے اپنی آزادی کا مطالبہ کر کے آزاد ہوجائے لیکن اگر وہ شوہر کی بےرخی اور کج روی پر صبر کر کے اپنے حقوق کا مطالبہ چھوڑ کر اس کو نبھائے اور شوہر کے حقوق کو ادا کرے تو یہ اس کے لئے افضل و اعلی اور موجب ثواب عظیم ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ایک طرف اپنی تکلیف کو دور کرنے اور اپنا حق وصول کرنے کا فریقین کو قانونی حق قرآن کریم نے دے دیادوسری طرف دونوں کو بلند اخلاقی اور اپنے حقوق کے ترک کرنے پر صبر کی تلقین فرما کر یہ ہدایت فرما دی کہ جہاں تک ممکن ہو اس تعلق کو قطع کرنے سے بچنا چاہئے اور چاہئے کہ جانبین سے کچھ کچھ حقوق ترک کر کے کسی خاص صورت پر صلح کرلیں۔ اس آیت کے شروع میں تو میاں بیوی کے باہمی اختلاف کے وقت صلح کا صرف جائز ہونا بتلایا گیا ہے اور آخر آیت میں صلح نہ ہونے کی صورت میں بھی صبر و تحمل کے ساتھ تعلق نبھانے کی تلقین فرمائی گئی ہے، درمیان میں ایک ایسا جملہ ارشاد فرمایا ہے جس سے مصالحت کا پسندیدہ اور افضل و بہتر ہونا ثابت ہوتا ہے، ارشاد ہے والصلح خیر یعنی باہم مصالحت کرنا بہتر ہے “ اور یہ جملہ ایسے عام عنوان سے بیان فرمایا جس میں زیر بحث میاں بیوی کے جھگڑے بھی داخل ہیں اور دوسری قسم کے گھریلو اختلافات بھی اور تمام دنیا کے معاملات کے باہمی جھگڑے اور خصومات و مقدمات بھی کیونکہ الفاظ قرآن عام ہیں کہ صلح بہتر ہے۔ خلاصہ مضمون یہ کہ طرفین سے اپنے اپنے پورے مطالبہ پر اڑے رہنے کے بجائے یہ بہتر ہے کہ طرفین اپنے کچھ مطالبات دستبردار ہو کر کسی درمیاین صورت پر رضامندی کے ساتھ مصالحت کرلیں، رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : ” یعنی مسلمانوں کے درمیان ہر طرح کی مصالحت جائز ہے بجز اس صلح کے جس میں کسی حرام کو حلال یا حلال کو حرام ٹھہرایا گیا ہو اور مسلمانوں کو اپنی مانی ہوئی شرطوں پر قائم رہنا چاہئے، بجز ان شرائط کے جن کے ذریعہ کسی حلال کو حرام قرار دیا گیا ہو۔ “ مثلاً کسی عورت سے اس بات پر صلح کرلینا جائز نہیں کہ اس کے ساتھ اس کی بہن کو بھی نکاح میں رکھا جائے، کیونکہ دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنا شرعاً حرام ے، یا اس پر صلح کرے کہ دوسری بیوی کے حقوق ادا نہ کرے گا، کیونکہ اس میں ایک حلال کو حرام ٹھہرانا ہے۔ اور روایت میں چونکہ عموم کے ساتھ ہر صلح کو جائز قرار دیا ہے اس عموم سے امام اعظم (رح) نے یہ مسئلہ نکالا کہ صلح کی سب اقسام جائز ہیں خواہ اقرار کے ساتھ ہو جیسے مدعا علیہ یہ اقرار کرے کہ مدعی کے دعوے کے مطابق میرے ذمہ اس کے ایک ہزار روپیہ واجب الادا ہیں، پھر مصالحت اس پر ہوجائے کہ مدعی اس میں سے کچھ رقم چھوڑ دے، یا اس رقم کے معاوضہ میں اس سے کوئی چیز لے لے، یا مدعا علیہ دعوے کے بارے میں اقرار و انکار کچھ نہ کرے اور کہے کہ حقیقت میں جو کچھ بھی ہو میں چاہتا ہوں کہ تم اس صورت پر صلح کرلو، یا مدعا علیہ دعوے سے قطعی انکار کرلو، لیکن انکار کے باوجود جھگڑا قطع کرنے کے لئے کچھ دینے پر راضی ہوجائے اور اس پر صلح ہوجائے، یہ تینوں قسمیں صلح کی جائز ہیں، سکوت اور انکار کی صورت میں بعض ائمہ فقہاء کا اختلاف بھی ہے۔ آخر میں ایک مسئلہ قابل ذکر ہے جس کا تعلق زوجین کی باہمی مصالحت سے ہے جس کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے وہ یہ کہ اگر کسی عورت نے اپنے بعض حقوق کا مطالبہ ترک کردینے پر صلح کرلی تو یہ صلح عورت کے اس حق کو تو قطعی طور پر ختم کر دے گی جو بوقت صلح شوہر کے ذمہ عائد ہوچکا ہے، جیسے دین مہر کہ وہ شوہر پر اس صلح سے پہلے واجب الاداء ہوچکا ہے، لہذا جب وہ پورا مہر یا اس کا کوئی جز معاف کردینے پر صلح کرے تو یہ مہر یا اس کا حصہ ساقط ہوجائے گا اس کے بعد اس کو مطالبہ کا حق باقی نہ رہے گا، لیکن جو حقوق ایسے ہیں کہ بوقت صلح ان کی ادائیگی شوہر پر واجب ہی نہ تھی، مثلاً آئندہ زمانہ کا نان نفقہ یا حق شب باشی جس کا وجوب آنیوالے زمانہ میں ہوگا، بالفعل اس کے ذمہ واجب الادا نہیں ہے ان حقوق کو ترک پر اگر مصالحت کرلی گئی تو عورت کا حق مطالبہ ہمیشہ کے لئے ختم نہیں ہوجاتا، بلکہ جب اس کا دل چاہے یہ کہہ سکتی ہے کہ آئندہ میں اپنا یہ حق چھوڑنے کے لئے تیار نہیں، اس صورت میں شوہر کو اختیار ہوگا کہ اس کو آزاد کر دے (تفسیر مظہری وغیرہ) آخری آیت یعنی وان یتفر قایغن اللہ کلامن سعتہ میں فریقین کو تسلی دی گئی کہ اگر اصلاح و مصالحت کی سب کوششیں ناکام ہو کر الگ ہی ہونا پڑے تو اس سے بھی پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اللہ تعالیٰ ہر ایک کو دوسرے سے مستغنی فرما دیں گے، عورت کے لئے کوئی دوسرا ٹھکانا اور تکفل کا ذریعہ اور مرد کے لئے دوسری عورت مل جائے گی، اللہ تعالیٰ کی قدرت بڑی وسیع ہے، اس سے مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں، ان میں سے ہر ایک نکاح سے پہلی زندگی پر نظر ڈالے کہ ایک دوسرے کو پہچانتا بھی نہ تھا، اللہ تعالیٰ نے جوڑا ملا دیا، آج بھی پھر ایسی صورتیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ آخر آیت میں وکان اللہ واسعاً حکیماً فرما کر اس بات کو اور پختہ کردیا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑی وسعت ہے اور اس کا ہر کام حکمت پر مبنی ہے ممکن ہے کہ اس علیحدگی ہی میں حکمت و مصلحت ہو، جدائی کے بعد دونوں کو ایسے جوڑے مل جائیں کہ دونوں کی زندگی سدھر جائے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِنِ امْرَاَۃٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِھَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْہِمَآ اَنْ يُّصْلِحَا بَيْنَہُمَا صُلْحًا۝ ٠ۭ وَالصُّلْحُ خَيْرٌ۝ ٠ۭ وَاُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ۝ ٠ۭ وَاِنْ تُحْسِنُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ اللہَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا۝ ١٢٨ خوف الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ( خ و ف ) الخوف ( س ) کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے : قرآن میں ہے : ۔ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] اور اس کی رحمت کے امید وار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں ۔ بعل البَعْلُ هو الذکر من الزوجین، قال اللہ عزّ وجل : وَهذا بَعْلِي شَيْخاً [هود/ 72] ، وجمعه بُعُولَة، نحو : فحل وفحولة . ( ب ع ل البعل کے معنی شوہر کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ { وَهَذَا بَعْلِي شَيْخًا } ( سورة هود 72) اور یہ میرے میاں بھی بوڑھے ہیں اس کی جمع بعولۃ آتی ہے جیسے فحل وفحولۃ نشز النَّشْزُ : المُرْتَفِعُ من الأرضِ ، ونَشَزَ فلانٌ: إذا قصد نَشْزاً ، ومنه : نَشَزَ فلان عن مقرِّه : نَبا، وكلُّ نابٍ نَاشِزٌ. قال تعالی: وَإِذا قِيلَ انْشُزُوافَانْشُزُوا [ المجادلة/ 11] ويعبّر عن الإحياء بِالنَّشْزِ والإِنْشَازِ ، لکونه ارتفاعا بعد اتِّضاع . قال تعالی: وَانْظُرْ إِلَى الْعِظامِ كَيْفَ نُنْشِزُها[ البقرة/ 259] ، وقُرِئَ بضَمِّ النون وفَتْحِهَا وقوله تعالی: وَاللَّاتِي تَخافُونَ نُشُوزَهُنَ [ النساء/ 34] ونُشُوزُ المرأة : بُغْضُها لزَوْجها ورفْعُ نفسِها عن طاعتِه، وعَيْنِها عنه إلى غيره، وبهذا النَّظر قال الشاعر :إِذَا جَلَسَتْ عِنْدَ الإمامِ كأَنَّهَا ... تَرَى رُفْقَةً من ساعةٍ تَسْتَحِيلُهَا وعِرْقٌ نَاشِزٌ. أيْ : نَاتِئٌ. ( ن ش ز ) النشز۔ بلند زمین کو کہتے ہیں ۔ اور نشز فلان کے معنی بلند زمین کا قصد کرنے کے ہیں ۔ اسی سے نشز فلان عن مقرہ کا محاورہ ہے جس کے معنی کسی کے اپنی قرارگاہ سے اوپر ابھر آنے کے ہیں ۔ اور ہر اوپر اٹھنے والی چیز کو ناشز کہاجاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : وَإِذا قِيلَ انْشُزُوافَانْشُزُوا [ المجادلة/ 11] اور جب کہاجائے کہ اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہوا کرو۔ اور نشز ونشاز کے معنی زندہ کرنا ۔۔۔ بھی آتے ہیں ۔ کیونکہ زندگی میں بھی ایک طرح کا ابھار پایا جاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : وَانْظُرْ إِلَى الْعِظامِ كَيْفَ نُنْشِزُها[ البقرة/ 259] اور ( وہاں ) گدھے کی ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم ان کو کیونکہ جوڑ دیتے ہیں اور ان پر ( کس طرح ) گوشت ( پوست) چڑھادیتے ہیں ۔ اور نشرھا کے نون پر ضمہ اور فتحۃ دونوں جائز ہیں ۔ اور نشوزا المرءۃ کے معنی عورت کے اپنے شوہر کو برا سمجھنے اور سرکشی کرنے اور کسی دوسرے مرد پر نظر رکھنے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : وَاللَّاتِي تَخافُونَ نُشُوزَهُنَ [ النساء/ 34] اور جن عورتوں کی نسبت تمہیں معلوم ہو کہ سرکشی ( اور بدخوئی ) کرنے لگی ہیں ۔ چناچہ اسی معنی کے پیش نظر شاعر نے کہا ہے ( الطویل ) (426) اذا جلست عندا الامام کانھا تریٰ رفقۃ من ساعۃ تستحیلھا اور عرق ناشز کے معنی پھولی ہوئی رگ کے ہیں اعرض وإذا قيل : أَعْرَضَ عنّي، فمعناه : ولّى مُبدیا عَرْضَهُ. قال : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] ، فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ ( ع ر ض ) العرض اعرض عنی اس نے مجھ سے روگردانی کی اعراض کیا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] تو وہ ان سے منہ پھیرے ۔ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ [ النساء/ 63] تم ان سے اعراض بر تو اور نصیحت کرتے رہو ۔ جناح وسمي الإثم المائل بالإنسان عن الحق جناحا ثم سمّي كلّ إثم جُنَاحاً ، نحو قوله تعالی: لا جُناحَ عَلَيْكُمْ في غير موضع، وجوانح الصدر : الأضلاع المتصلة رؤوسها في وسط الزور، الواحدة : جَانِحَة، وذلک لما فيها من المیل اسی لئے ہر وہ گناہ جو انسان کو حق سے مائل کردے اسے جناح کہا جاتا ہے ۔ پھر عام گناہ کے معنی میں یہ لفظ استعمال ہونے لگا ہے ۔ قرآن میں متعدد مواضع پر آیا ہے پسلیاں جن کے سرے سینے کے وسط میں باہم متصل ہوتے ہیں اس کا واحد جانحۃ ہے اور ان پسلیوں کو جو انح اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ان میں میلان یعنی خم ہوتا ہے ۔ صلح والصُّلْحُ يختصّ بإزالة النّفار بين الناس، يقال منه : اصْطَلَحُوا وتَصَالَحُوا، قال : أَنْ يُصْلِحا بَيْنَهُما صُلْحاً وَالصُّلْحُ خَيْرٌ [ النساء/ 128] ( ص ل ح ) الصلاح اور الصلح کا لفظ خاص کر لوگوں سے باہمی نفرت کو دورکر کے ( امن و سلامتی پیدا کرنے پر بولا جاتا ہے ) چناچہ اصطلحوا وتصالحوا کے معنی باہم امن و سلامتی سے رہنے کے ہیں قرآن میں ہے : أَنْ يُصْلِحا بَيْنَهُما صُلْحاً وَالصُّلْحُ خَيْرٌ [ النساء/ 128] کہ آپس میں کسی قرار داد پر صلح کرلیں اور صلح ہی بہتر ہے ۔ حضر الحَضَر : خلاف البدو، والحَضَارة والحِضَارَة : السکون بالحضر، کالبداوة والبداوة، ثمّ جعل ذلک اسما لشهادة مکان أو إنسان أو غيره، فقال تعالی: كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ البقرة/ 180] ، نحو : حَتَّى إِذا جاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ الأنعام/ 61] ، وَإِذا حَضَرَ الْقِسْمَةَ [ النساء/ 8] ( ح ض ر ) الحضر یہ البدو کی ضد ہے اور الحضارۃ حاد کو فتحہ اور کسرہ دونوں کے ساتھ آتا ہے جیسا کہ بداوۃ وبداوۃ اس کے اصل شہر میں اقامت کے ہیں ۔ پھر کسی جگہ پر یا انسان وگیرہ کے پاس موجود ہونے پر حضارۃ کا لفظ بولاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ البقرة/ 180] تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت کا وقت آجائے ۔ وَإِذا حَضَرَ الْقِسْمَةَ [ النساء/ 8] اور جب تم میراث کی تقسیم کے وقت ۔۔۔ آمو جود ہوں ۔ شح الشُّحُّ : بخل مع حرص، وذلک فيما کان عادة . قال تعالی: وَأُحْضِرَتِ الْأَنْفُسُ الشُّحَّ [ النساء/ 128] ، وقال سبحانه : وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ [ الحشر/ 9] . يقال : رجل شَحِيحٌ ، وقوم أَشِحَّةٌ ، قال تعالی: أَشِحَّةً عَلَى الْخَيْرِ [ الأحزاب/ 19] ، أَشِحَّةً عَلَيْكُمْ [ الأحزاب/ 19] . وخطیب شَحْشَح : ماض في خطبته، من قولهم : شَحْشَحَ البعیر في هديره «2» . وَأُحْضِرَتِ الْأَنْفُسُ الشُّحَّ [ النساء/ 128] اور طبائع تو بخل کی طرف مائل ہوتی ہیں ۔ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ [ الحشر/ 9] اور جو شخص حرص نفس سے بچالیا گیا ۔ رجل شحیح بخیل آدمی قوم اشحۃ بخیل لوگ قرآن میں ہے : أَشِحَّةً عَلَى الْخَيْرِ [ الأحزاب/ 19] مال میں بخل کریں ۔ ( یہ اس لئے کہ تمہارے بارے میں بخل کرتے ہیں ۔ خطیب شحیح خوش بیان ار بلیغ ۔ لیکچرار ۔ یہ شحشح البعیر فی ھدیرہ کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی اونٹ کے مستی میں آواز کو پھرانے کے ہیں ۔ حسن الحُسْنُ : عبارة عن کلّ مبهج مرغوب فيه، وذلک ثلاثة أضرب : مستحسن من جهة العقل . ومستحسن من جهة الهوى. ومستحسن من جهة الحسّ. والحسنةُ يعبّر عنها عن کلّ ما يسرّ من نعمة تنال الإنسان في نفسه وبدنه وأحواله، فقوله تعالی: وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] ( ح س ن ) الحسن ہر خوش کن اور پسندیدہ چیز کو حسن کہا جاتا ہے اس کی تین قسمیں ہیں ۔ ( 1) وہ چیز جو عقل کے اعتبار سے مستحسن ہو ۔ ( 2) وہ جو خواہش نفسانی کی رو سے پسندیدہ ہو ۔ ( 3) صرف نگاہ میں بھی معلوم ہو ۔ الحسنتہ ہر وہ نعمت جو انسان کو اس کے نفس یا بدن یا اس کی کسی حالت میں حاصل ہو کر اس کے لئے مسرت کا سبب بنے حسنتہ کہلاتی ہے اس کی ضد سیئتہ ہے اور یہ دونوں الفاظ مشترکہ کے قبیل سے ہیں اور لفظ حیوان کی طرح مختلف الواع کو شامل ہیں چناچہ آیت کریمہ ۔ وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] اور ان لوگوں کو اگر کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے ۔ تقوي والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے خبیر والخَبِيرُ : الأكّار فيه، والخبر : المزادة العظیمة، وشبّهت بها النّاقة فسمّيت خبرا، وقوله تعالی: وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِما تَعْمَلُونَ [ آل عمران/ 153] ، أي : عالم بأخبار أعمالکم، ( خ ب ر ) الخبر کسان کو ِِ ، ، خبیر ، ، کہاجاتا ہے ۔ الخبر۔ چھوٹا توشہ دان ۔ تشبیہ کے طور پر زیادہ دودھ دینے والی اونٹنی کو بھی خبر کہاجاتا ہے اور آیت کریمہ :۔ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِما تَعْمَلُونَ [ آل عمران/ 153] اور جو کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کی حقیقت کو جانتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

بیوی اور اس کے شوہر کے درمیان مصالحت قول باری ہے وان امراۃ حافت من بعلھا نشوراً اوامراضا فلاجناح علیھا ان یصلحا بینھما صلحا۔ جب کسی عورت کو اپنے شوہر سے بدسلوکی یا بےرخی کا خطرہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں اگر میاں اور بیوی (کچھ حقوق کی کمی بیشی پر) آپس میں صلح کرلیں) نشوز کے معنی میں ایک قول مروی ہے کہ اس سے مراد بیوی سے نفرت اور بغض کی بنا پر شوہر کا ہر دم اس پر سوار رہنا ہے یعنی شوہر ہر گھڑی ڈانٹ ڈپٹ اور مار پیٹ سے کام لے یہ لفظ نشز الارض، سے ماخوذ ہے جس کے معنی ابھری ہوئی اور بلند زمین کے ہیں۔ قول باری اواعراضاً کا مفہوم یہ ہے کہ شوہر کسی ناراضگی کی بنا پر کسی اور بیوی کو اس پر ترجیح دے کر اس سے بےرخی کرے۔ اس صورت میں اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے لئے صلح کے عمل کو مباح کردیا۔ حضرت علی (رض) اور حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں کو اپنے بغض حقوق میں کمی بیشی کے ذریعے صلح کرلینے کی اجازت دے دی ہے مثلا بیوی اپنے مہر کے کچھ حصے سے دست بردار ہوجائے یا اپنی باری اپنی کسی سوکن کو دے دے۔ حضرت عمر (رض) کا قول ہے کہ میاں بیوی جس بات پر بھی صلح کرلیں ان کی صلح درست ہوگی۔ سماک نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ ام المومنین حضرت سودہ (رض) کو خدشہ لاحق ہوگیا کہ کہیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں طلاق نہ دے دیں) چناچہ انہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ مجھے طلاق نہ دیں مجھے اپنی زوجیت میں رہنے دیں اور میری باری عائشہ (رض) کو دے دیں، چناچہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہی کیا۔ اس پر درج بالا آیت نازل ہوئی۔ اس لئے میاں بیوی جس چیز پر بھی صلح کرلیں ان کی صلح جائز ہوگی۔ ہشام نے عروہ سے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ آیت اس عورت کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو کسی کے عقد میں ہو۔ وہ شخص اسے طلاق دے کر کسی اور عورت سے نکاح کرنے کا خواہش مند ہو۔ بیوی اس سے یہ کہے کہ مجھے اپنی زوجیت میں رہنے دو اور طلاق نہ دو ۔ تمہیں میرے نان و نفقہ اور باری کے سلسلے میں پوری آزادی ہے۔ قول باری فلا جناح علیھما تا قول باری واصلح خیر کا یہ مفہوم ہے۔ حضرت عائشہ (رض) سے متعدد طرق سے مروی ہے کہ ام المومنین حضرت سودہ (رض) نے اپنی باری حضرت عائشہ (رض) کو دے دی تھی۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی باری میں حضرت عائشہ (رض) کے گھر میں شب باشی کرتے تھے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ آیت متعدد بیویوں کی صورت میں ان کے مابین باریاں مقرر کرنے کے وجوب پر دلالت کرتی ہے اور ایک بیوی کی صورت میں اس کے پاس رہنے کے وجوب پر بھی دال ہے۔ حضرت عمر (رض) کے سامنے ایک شخص کعب بن سور نے اپنی بیوی کے متعلق اس رائے کا اظہار کیا کہ ہر چار دنوں میں سے ایک دن اس کا ہوگا۔ حضرت عمر (رض) نے نہ صرف کعب کی یہ بات پسند کی بلکہ اسے بصرہ کا قاضی مقرر کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات بھی جائز کردی ہے کہ ایک عورت اپنی باری سے دست بردار ہو کر اسے اپنی سوکن کو دے دے۔ آیت کا عموم اس بات کا مقتضی ہے کہ میاں بیوی کے درمیان اس شرط پر بھی صلح ہوسکتی ہے کہ بیوی اپنا مہر، نان و نفقہ اور باری نیز زوجیت کی بنا پر ملنے والے تمام حقوق سے دستبردار ہوجائے۔ اس میں اتنی بات ضرور ہے کہ بیوی کے لئے ماضی میں واجب ہونے والے نان و نفقہ سے دست برداری جائز ہوتی ہے۔ مستقبل کے نان و نفقہ سے شوہر کو بری الذمہ قرار دینا درست نہیں ہوتا۔ اسی طرح اگر بیوی شوہر کو ہمبستری سے بری الذمہ قرار دے دے تو اس کا یہ اقدام درست نہیں ہوگا بلکہ اسے یہ حق حاصل رہے گا کہ وہ شوہر سے اپنے حصے کی ہمبستری کا مطالبہ کرے۔ اگر بیوی خوشدلی کے ساتھ نان و نفقہ اور شب باشی کے مطالبے سے دست بردار ہوجائے تو اس کا یہ اقدام جائز ہوگا لیکن اگر مستقبل میں بھی وہ شوہر کو ان چیزوں سے بری الذمہ قرار دے دے تو پھر اس کا یہ اقدام درست نہیں ہوگا۔ یہ بات بھی جائز نہیں ہوگی کہ شوہر بیوی کی طرف سے باری ہمیشہ کے حق سے دستبرداری پر اسے اس کا کوئی معاوضہ ادا کرے کیونکہ یہ باطل طریقے سے مال کھانے کی صورت ہے یا یہ ایسا حق ہے جس کے بدلے کوئی معاوضہ لینا جائز نہیں ہوتا کیونکہ یہ حق نکاح کی موجودگی میں جو اس حق کے وجوب کا سبب ہے ساقط نہیں ہوتا۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ بیوی اپنے شوہر کو مہر میں دے جانے والے غلام کو اس کے حوالے کرنے کی ذمہ داری سے بری الذمہ قرار دے دے بیوی کا یہ اقدام اس کے لئے درست نہیں ہوگا کہ عقد نکاح جو اس غلام کو بیوی کے حوالے کرنے کا موجب ہے اپنی جگہ موجود ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ہمارے اصحاب نے اس بات کے جواز کا فتویٰ دیا ہے کہ شوہر اپنی بیوی سے عدت کے دوران نان و نفقہ نہ دینے کی شرط پر خلع کرسکتا ہے اس طرح گویا انہوں نے شوہر کو ایسے نان و نفقہ سے بری الذمہ قرار دے دیا جو ابھی واجب نہیں ہوا جبکہ ان نان و نفقہ کو واجب کردینے والا سبب یعنی عدت موجود ہے۔ اس لئے گزشتہ سطور میں آپ نے مستقبل کے نان و نفقہ سے عدم برات کی جو بات کی ہے وہ یہاں آکر ٹوٹ گئی۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا ہمارے اصحاب نے نان و نفقہ کی ادائیگی سے شوہر کی برات کو جائز نہیں کیا۔ جہاں تک ایسے نان و نفقہ سے جو ابھی واجب نہیں ہوا یعنی مستقبل کے نان و نفقہ سے شوہر کی برات کے امتناع کا تعلق ہے اس کے لحاظ سے خلع حاصل کرلینے والی بیوی اور عقد میں موجود بیوی کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے لیکن شوہر نے جب عدت کے دوران نان و نفقہ کی عدم ادائیگی کی شرط پر اس کا خلع قبول کرلیا تو گویا اس نے نان و نفقہ کی اس مقدار کو خلع کا معاوضہ قرار دیا جو عدت کی پوری مدت کے لئے اس پر واجب ہوتی۔ اگرچہ یہ مقدار پوری طرح معلوم و متعین نہیں ہے لیکن خلع میں دیا جانے والا معاوضہ اگر ایک حد تک نامعلوم اور غیر متعین ہو تو بھی درست وہ جاتا ہے۔ عقد خلع کی بنا پر یہ معاوضہ عورت کے زیر ضمانت ہوگا۔ پھر عدت کے نان و نفقہ کے طور پر مستقبل میں عورت کے لئے شوہر پر جو رقم واجب ہوگی یہ معوضہ اس کا بدل بن جائے گا۔ آیت زیر بحث کی اس امر پر دلالت ہو رہی ہے کہ اگر میاں بیوی اس شرط پر آپس میں صلح کرلیں کہ بیوی مہر کی پوری رقم یا اس کے کچھ حصے سے دستبردار ہوجائے یا مہر کی رقم کے اضافے کی شرط پر صلح ہوگئی ہو تو صلح کی یہ تمام صورتیں درست ہوں گی کیونکہ آیت نے اس معاملے میں کسی صورت کے حکم پر کوئی فرق نہیں رکھا اور تمام صورتوں میں صلح کرلینے کو جائز قرار دیا ہے۔ قول باری ہے والصلح خیر۔ صلح بہرحال بہتر ہے) بعض اہل علم کا قول ہے کہ صلح کرلینا بےرخی کرنے اور بدسلوکی سے پیش آنے سے بہتر ہے۔ بعض کا قول ہے کہ صلح علیحدگی یعنی طلاق سے بہتر ہے۔ آیت اس بارے میں عموم کا امکان موجود ہے کہ میاں بیوی کے درمان صلح ہر شرط اور صورت میں جائز ہے۔ البتہ اس سے وہ صورتیں خارج ہیں جو کسی دلیل کی بنا پر خاص ہوگئی ہیں۔ ناپسندیدگی کی بنا پر صلح نیز غیر متعین اور مجہول چیز پر صلح کے جواز پر بھی آیت کی دلالت ہو رہی ہے۔ قول باری ہے لاحضرت الانفس الشح۔ نفس تنگ دلی کی طرف جلد مائل ہوجاتے ہیں) حضرت ابن عباس (رض) اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ عورتوں کو ان کے شوہروں کے اموال میں سے جو حصے ملتے ہوں وہ انہیں دینے میں تنگ دلی کا مظاہر ہ کرنا مراد ہے۔ حسن کا قول ہے کہ میاں اور بیوی میں سے یہ ایک کے دل میں دوسرے کے حق کی ادائیگی کے سلسلے میں تنگی اور بخل کا جذبہ پیدا ہوجائے۔ شح بخل کو کہتے ہیں جس کا مفہوم یہ ہے کہ کسی کے دل میں بھلائی اور خیر کو دوسرے تک پہنچنے سے روک رکھنے کا جذبہ اور حرص پیدا ہوجائے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٢٨) عمیرہ کو اپنے خاوند اسعد بن ربیع کے بارے میں یہ خوف ہوا کہ وہ ان سے ہمبستری اور گفتگو اور ساتھ اٹھنا بیٹھنا چھوڑ دیں گے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ایسی صورت میں میاں بیوی کو باہم اس طریقہ پر صلح کرلینی چاہیے کہ جس سے عورت راضی ہوجائے اور ظلم و زیادتی سے باز آکر عورت کی خوشنودی کو ملحوظ رکھتے ہوئے صلح کرلینا بہتر ہے ، کیونکہ نفس میں طبعا بخل وحرص ہوتا ہے، عورت خاوند کے حقوق کی ادائیگی میں بخل کرتی ہے اور یا یہ کہ بعض عورت کی حرص وطمع اس وقت تک رہتی ہے جب تک کہ وہ راضی نہ ہوجائے۔ اور اگر تم جوان اور بوڑھی کے درمیان تقسیم اور خرچہ میں برابر کرو اور غلط برتاؤ اور بےرخی سے احتیاط رکھو تو یہ بڑے ثواب کا کام ہے۔ شان نزول : (آیت) ” وان امراۃ خافت “۔ (الخ) ابوداؤد (رح) اور حاکم (رح) نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ جب حضرت سودہ (رض) بوڑھی ہوگئیں تو ان کو یہ فکر لاحق ہوئی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو علیحدہ کردیں گے، انھوں نے اس چیز کا حضرت عائشہ (رض) سے ذکر کیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، امام ترمذی نے اسی طرح ابن عباس (رض) سے روایت نقل کی ہے۔ اور سعید بن منصور نے سعید بن مسیب (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ محمد من مسلمہ (رض) کی صاحبزادی رافع بن خدیج (رض) کے نکاح میں تھیں، رافع کو ان سے کچھ لاپروائی ہوئی بڑھاپے یا کسی اور وجہ سے تو انہوں نے انکو طلاق دینا چاہی تو یہ بولیں کہ مجھے طلاق مت دو اور جو تم چاہو، وہ حصہ میرے لیے متعین کردو، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اس روایت کا موصول طریقہ پر ایک شاہد پر ایک شاہد موجود ہے، جس کو امام حاکم نے بواسطہ سعید بن مسیب (رض) رافع ابن خدیج سے روایت کیا ہے۔ نیز امام حاکم (رح) نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت اور والصلح خیرا “۔ (الخ) ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس کے نکاح میں ایک عورت تھی اور اس سے اولاد بھی کافی تھی، اس شخص نے اس عورت کو طلاق دینا چاہی مگر یہ اس بات پر راضی ہوگئیں کہ مجھے اپنے پاس ہی رکھو اور میرے لیے اپنی جائیداد میں سے کوئی حصہ متعین نہ کرو۔ ابن جریر (رح) نے سعید بن جبیر (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی تو ایک عورت آئی اور کہنے لگی اپنے خرچہ میں سے میرے لیے کچھ حصہ متعین کر دو اگرچہ وہ پہلے اس بات پر راضی ہوگئی تھی، کہ اس کا خاوند نہ اس کو طلاق دے اور نہ اس کے پاس آئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ جملہ نازل فرمایا (آیت) ” واحضرت الانفس “۔ یعنی انسان حرص کی طرف زیادہ مائل ہوتا ہے ،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٢٨ (وَاِنِ امْرَاَۃٌ خَافَتْ مِنْم بَعْلِھَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا) ایک نشوز تو وہ تھا جس کا تذکرہ اسی سورة کی آیت ٣٤ میں عورت کے لیے ہوا تھا : (وَالّٰتِی تَخَافُوْنَ نَشُوْزَھُنَّ ) اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو۔ یعنی وہ عورتیں ‘ وہ بیویاں جو خاوندوں سے سر کشی کرتی ہیں ‘ ان کے احکام نہیں مانتیں ‘ ان کی اطاعت نہیں کرتیں ‘ اپنی ضد پر اڑی رہتی ہیں ‘ ان کے بارے میں حکم تھا کہ ان کے ساتھ کیسا معاملہ کیا جائے۔ اب یہاں ذکر ہے اس نشوزکا جس کا اظہار خاوند کی طرف سے ہوسکتا ہے۔ یعنی یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ خاوند اپنی بیوی پر ظلم کر رہا ہو ‘ اس کے حقوق ادا کرنے میں پہلو تہی کر رہا ہو ‘ اپنی قوّ امیت کے حق کو غلط طریقے سے استعمال کر رہا ہو ‘ بےجا رعب ڈالتا ہو ‘ دھونس دیتا ہو ‘ یا بلاوجہ ستاتا ہو ‘ تنگ کرتا ہو ‘ اور تنگ کر کے مہر معاف کروانا چاہتا ہو ‘ یا اگر بیوی کے والدین اچھے کھاتے پیتے ہوں تو ہوسکتا ہے اسے بلیک میل کر کے اس کے والدین سے دولت ہتھیانا چاہتا ہو۔ یہ ساری خباثتیں ہمارے معاشرے میں موجود ہیں اور عورتیں بیچاری ظلم و ستم کی اس چکی میں پستی رہتی ہیں۔ آیت زیر نظر میں اس مسئلے کی وضاحت کی گئی ہے کہ اگر کسی عورت کو اپنے شوہر سے اندیشہ ہوجائے کہ وہ زیادتی کرے گا ‘ یا اگر شوہر زیادتی کر رہا ہو اور وہ بیوی کے حقوق ادا نہ کر رہا ہو ‘ یا اس کی طرف میلان ہی نہ رکھتا ہو ‘ کوئی نئی شادی رچا لی ہو اور اب ساری توجہ نئی دلہن کی طرف ہو۔ (فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِمَآ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَہُمَا صُلْحًا ط) یہاں صلح سے مراد یہ ہے کہ سارے معاملات باہم طے کر کے عورت خلع لے لے۔ لیکن خلع لینے میں ‘ جیسا کہ ہم پڑھ چکے ہیں جبکہ عورت کو مہر چھوڑنا پڑے گا ‘ اور اگر لیا تھا تو کچھ واپس کرنا پڑے گا۔ (وَالصُّلْحُ خَیْرٌط وَاُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ ط) مردچا ہے گا کہ میرا پورا مہر واپس کیا جائے جبکہ عورت چاہے گی کہ مجھے کچھ بھی واپس نہ کرنا پڑے۔ یہ مضامین سورة البقرۃ میں بیان ہوچکے ہیں۔ (وَاِنْ تُحْسِنُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا ) تم مرد ہو ‘ مردانگی کا ثبوت دو ‘ اس معاملے میں اپنے اندر نرمی پیدا کرو ‘ بیوی کا حق فراخ دلی سے ادا کرو۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

157.The actual response to the query begins here. In order to appreciate the response fully one would do well to consider the query itself. In the days of Ignorance a man was free to marry an unlimited number of women, who had virtually no rights. When the preliminary verses of the present surah were revealed (see especially verse 3) this freedom was circumscribed in two ways. First, the maximum number of wives was fixed at four. Second, justice (that is, equal treatment of wives) was laid down as a necessary condition for marrying more than one. This gives rise to the question whether a person is obligated by Islam to feel equally towards each of his wives, to love each to an equal degree, and treat them equally even in respect of sexual relationship. Such questions are especially relevant with regard to a husband one of whose wives might be, say, afflicted with either sterility, permanent sickness or who is incapable of sexual intercourse. Does justice demand that if he fails to live up to the standards of equality mentioned above that he should renounce his first wife in order to marry the second? Moreover, where the first wife is disinclined to agree to annulment of the marriage, is it appropriate for the spouses to make a voluntary accord between themselves, according to which the wife, towards whom the husband feels relatively less attracted, voluntarily surrenders some of her rights, prevailing upon her husband not to repudiate the marriage? Would such an act be against the dictates of justice? It is to questions such as these that these verses are addressed. 158. It is better for the spouses to come to a mutual understanding so that the wife may remain with the same man with whom she has already spent part of her life. 159. The 'selfishness' on the part of the wife is that even though she is conscious of the causes which have contributed to her husband's aversion towards her, she nevertheless expects from him the treatment that a husband accords to the wife that he loves. The 'selfishness' of the husband, on the other hand, lies in suppressing her unduly and curtailing her rights to an intolerable extent, merely because she is keen to continue to live with him even though she has lost her attraction for him. 160. Here, too, God urges the male, as He usually does in such matters, to be magnanimous. God urges a man to treat his wife, who has probably spent a considerable number of years with him as his companion, with kindliness and grace in spite of the aversion that he has come to feel for her. He also urges man to love God, for if He were to deprive him of His loving care and blessing in order to punish him for his shortcomings, what place would he have under the sun?

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :157 یہاں سے اصل استفتاء کا جواب شروع ہوتا ہے ۔ اس جواب کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے سوال کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیا جائے ۔ زمانہ جاہلیت میں ایک شخص غیر محدود تعداد تک بیویاں کر نے کے لیے آزاد تھا اور ان کثیر التعداد بیویوں کے لیے کچھ بھی حقوق مقرر نہ تھے ۔ سورہ نساء کی ابتدائی آیات جب نازل ہو ئیں تو اس آزادی پر دو قسم کی پابندیاں عائد ہوگئیں ۔ ایک یہ کہ بیویوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ چار تک محدود کر دی گئی ۔ دوسرے یہ کہ ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کے لیے عدل ( یعنی مساویانہ برتا ؤ ) کو شرط قرار دیا گیا ۔ اب یہ سوال پیدا ہوا کہ اگر کسی شخص کی بیوی بانجھ ہے ، یا دائم المرض ہے ، یا تعلق زن و شو کے قابل نہیں رہی ہے ، اور شوہر دوسری بیوی بیاہ لاتا ہے تو کیا وہ مجبور ہے کہ دونوں کے ساتھ یکساں رغبت رکھے؟ یکساں محبت رکھے؟ جسمانی تعلق میں بھی یکسانی برتے؟ اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو کیا عدل کی شرط کا تقاضا یہ ہے کہ وہ دوسری شادی کرنے کے لیے پہلی بیوی کو چھوڑ دے؟ نیز یہ کہ اگر پہلی بیوی خود جدا نہ ہونا چاہے تو کیا زوجین میں اس قسم کا معاملہ ہو سکتا ہے کہ جو بیوی غیر مرغوب ہو چکی ہے وہ اپنے بعض حقوق سے خود دست بردار ہو کر شوہر کو طلاق سے باز رہنے پر راضی کر لے؟ کیا ایسا کرنا عدل کی شرط کے خلا ف تو نہ ہوگا ؟ یہ سوالات ہیں جن کا جواب ان آیات میں دیا گیا ہے ۔ سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :158 یعنی طلاق و جدائی سے بہتر ہے کہ اس طرح باہم مصالحت کر کے ایک عورت اسی شوہر کے ساتھ رہے جس کے ساتھ وہ عمر کا ایک حصہ گزار چکی ہے ۔ سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :159 عورت کی طرف سے تنگ دلی یہ ہے کہ وہ اپنے اندر شوہر کے لیے بے رغبتی کے اسباب کو خود محسوس کرتی ہو اور پھر بھی وہ سلوک چاہے جو ایک مرغوب بیوی کے ساتھ ہی برتا جا سکتا ہے ۔ مرد کی طرف سے تنگ دلی یہ ہے کہ جو عورت دل سے اتر جانے پر بھی اس کے ساتھ ہی رہنا چاہتی ہو اس کو وہ حد سے زیادہ دبانے کی کوشش کرے اور اس کے حقوق ناقابل برداشت حد تک گھٹا دینا چاہے ۔ سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :160 یہاں پھر اللہ تعالیٰ نے مرد ہی کے جذبہ فیاضی سے اپیل کی ہے جس طرح بالعموم ایسے معاملات میں اس کا قاعدہ ہے ۔ اس نے مرد کو ترغیب دی ہے کہ وہ بے رغبتی کے باوجود اس عورت کے ساتھ احسان سے پیش آئے جو برسوں اس کی رفیق زندگی رہی ہے ، اور اس خدا سے ڈرے جو اگر کسی انسان کی خامیوں کے سبب سے اپنی نظر التفات اس سے پھیر لے اور اس کے نصیب میں کمی کرنے پر اتر آئے تو پھر اس کا دنیا میں کہیں ٹھکانا نہ رہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

76: تشریح : بعض اوقات کسی شوہر کا اپنی بیوی سے دل نہیں ملتا اور وہ اس سے بے رخی اختیار کرکے اسے طلاق دینا چاہتا ہے، اس صورت میں اگر بیوی طلاق پر راضی نہ ہو تو وہ اپنے بعض حقوق سے دستبردار ہو کر شوہر سے صلح کرسکتی ہے، یعنی یہ کہہ سکتی ہے کہ میں اپنے فلاں حق کا مطالبہ نہیں کروں گی، مگر مجھے اپنے نکاح میں رہنے دو، ایسی صورت میں شوہر کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ صلح پر آمادہ ہوجائے اور طلاق پر اصرار نہ کرے ؛ کیونکہ مصالحت کا رویہ ہی بہتر ہے، نیز اگلے جملے میں احسان کی نصیحت فرماکر شوہر کو اس بات کی ترغیب دی گئی ہے کہ وہ دل نہ ملنے کی باوجود بیوی سے نباہ کرنے کی کوشش کرے اور اللہ سے ڈرتے ہوئے اس کے حقوق ادا کرتا رہے تو اس کے لئے دنیا اور آخرت دونوں کی بہتری کا ذریعہ ہوگا۔ 77: مطلب بظاہر یہ ہے کہ ہر انسان کی طبیعت میں دنیوی فائدوں کا کچھ نہ کچھ لالچ ہوتا ہے، اس لئے اگر عورت اپنے کچھ دنیوی مفادات چھوڑرہی ہے تو شوہر کو یہ سوچنا چاہئے کہ اسے طلاق کی صورت میں کوئی سخت تکلیف پیش آنے کا اندیشہ ہے، اسی لئے وہ اپنے یہ مفادات چھوڑنے پر آمادہ ہوئی ہے، ایسی صورت میں صلح کرلینا بہتر ہے، دوسری طرف بیوی کو یہ سوچنا چاہئے کہ شوہر نے کچھ دنیوی فائدوں کے لئے نکاح کیا تھا جو اس کو میری زوجیت میں حاصل نہیں ہورہے ہیں، لہذا وہ میری جگہ کسی اور سے نکاح کرکے وہ فائدے حاصل کرنا چاہتا ہے، اب میں اپنے بعض حقوق سے دستبردارہوکر اسے کچھ دوسرے فوائد مہیا کردوں تو وہ اس ارادے سے باز آسکتا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(128 ۔ 130) ۔ ابو داؤد، ترمذی، اور مسند امام احمد بن حنبل میں جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے جس کو مستدرک حاکم میں روایت کیا جاکر صحیح کہا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ام المومنین سودہ (رض) حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بی بی جب ضعیف ہوگئیں تو ان کو یہ اندیشہ ہوا کہ شاید آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو چھوڑدیں گے۔ اس لئے انہوں نے اپنی باری کی رات حضرت عائشہ (رض) کو ہبہ کردی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ١ سو اس شان نزول کے مفسروں نے اور شان نزول جو اس آیت کی بیان کی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس قصہ پر بھی اس آیت کا مضمون صادق آتا ہے ورنہ اصل شان نزول وہی ہے جو صحیح روایتوں کے حوالہ سے اوپر بیان کی ہوئی ہے حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ عورت اپنے شوہر کی بےدلی اور بےتوجہی دیکھ کر اس کے خوش کرنے کو اپنے مہر یا حق نان و نفقہ میں سے کچھ دیوے تو مرد ضرور راضی ہوجائے گا۔ کیونکہ انسان کے جی میں مال کی حرص ہے اس لئے مال کی بچت سب کو اچھی معلوم ہوتی ہے۔ اس طرح شب باشی کی نوبت میں اگر عورت کچھ چھوڑدے تو اس پر بھی صلح ہوسکتی ہے۔ اور جدائی سے صلح اللہ کے نزدیک بہتر ہے اسلئے جو میاں بی بی خدا کا خوف کر کے آپس میں حسن سلوک سے رہیں گے تو اللہ تعالیٰ اس کا نیک بدلہ دینے سے بیخبر نہیں ہے۔ میاں بی بی کے حسن سلوک کی رغبت کا ذکر جو آیت میں ہے اس کی تفسیر جناب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یوں فرمائی ہے کہ کسی شخص کا اپنے اہل و عیال کے ساتھ حسن سلوک سے گذران کا کرنا اس شخص کے ایمان داری کی نشانی ہے۔ چناچہ ترمذی میں ابوہریرہ (رض) کی حدیث میں اس کا ذکر ہے۔ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے ٢۔ سنن اربعہ صحیح ابن حبان، مستدرک حاکم میں حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ازواج مطہرات میں باری باری ٹھہرا کر یہ فرمایا کرتے تھے کہ یا اللہ یہ میری وہ تقسیم و باری ہے جو میرے اختیار میں ہے اور جو بات میرے اختیار سے باہر اور تیرے ید قدرت میں ہے اس پر مجھ کو ملامت نہ فرمائی جائے اگرچہ ترمذی نے اس حدیث کو مرسل کہا ہے۔ لیکن ابن حبان اور حاکم نے اس کو متصل اور صحیح کہا ہے ١۔ اس حدیث کے معنی میں علماء نے لکھا ہے کہ جس شخص کی مثلا دو بیبیاں ہوں ان میں باری کے ٹھہرانے میں اور روٹی کپڑے میں برابر کا برتنا آدمی کے اختیار میں ہے۔ رہی ذاتی الفت اس میں عام لوگ تو درکنار اس حدیث کے موافق یہ امر انبیاء کے اختیار سے بھی باہر ہے۔ اس صورت میں آیت و لن تستطیعوا ان تعدلوا بین النساء ولو حرصتم کے یہ معنی ہیں کہ دلی الفت میں برابری کا برتنا انسان کے اختیار سے باہر ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی کمی بیشی کو تو معاف کیا۔ لیکن اس کی کمی بیشی کو اس حدت تک نہ پہنچانا چاہیے کہ رفتہ رفتہ ایک عورت کو بالکل بیخبر ی سے اندھیر میں رکھو کہ نہ اس کے ساتھ خود اختیاری امور میں برابری برتو نہ اس کو بالکل چھوڑ ہی دو کہ وہ اور کسی سے نکاح کرلے۔ اب آگے میاں بی بی کی علیحدگی ہوجائے تو اس کا ذکر فرما کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بڑا صاحب فضل اور صاحب تدبیر ہے اور اس کے فضل سے ناامید نہ ہونا چاہیے اس کے فضل سے کچھ دور نہیں کہ اس جدائی اور علیحدگی کے بعد بھی میاں بی بی دونوں کے لئے کوئی اور بہتر صورت نکال دے۔ صحیح مسلم، ابو داؤد، نسائی ترمذی، وغیرہ میں ام سلمہ (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ابو سلمہ (رض) سے میرا نکاح آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہوا ٢۔ اس طرح کی مثالیں شریعت کی کتابوں میں اور تجربہ کے حالات میں اور بھی ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے نکاح میں میاں بی بی کی مفارقت ہوجائے تو اس علیحدگی کے بعد اللہ اپنے فضل سے کبھی پہلی صورت سے بہتر نکال دیتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:128) یہاں سے اصل استفتاء کا جواب شروع ہوتا ہے۔ بعلہا۔ اس عورت کا خاوند۔ نشوزو۔ مصدر۔ منصوب نکرہ۔ (نصر۔ ضرب) زیادتی۔ ناموافقت۔ شوہر کی طرف سے نشوز سے مراد ہے کہ عورت کو ذلیل سمجھ کر ہمبستری ترک کردینا۔ یا مصارف کم کردینا۔ لاپرواہی۔ بدسلوکی۔ اعراضا۔ بےرخی۔ کنارہ کشی۔ روگردانی۔ جناح۔ گناہ۔ جنوح سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی ایک طرف مائل ہونے کے ہیں۔ اس لئے وہ گناہ جو انسان کو حق سے دوسری طرف مائل کر دے۔ یعنی جھکا دے وہ جناح سے موسوم ہوا پھر ہر گناہ کے لئے اس کا ستعمال ہونے لگا۔ کنایۃ حرج اور مضائقہ بھی مراد لیا جاتا ہے۔ فلا جناح علیہما۔ ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کوئی مضائقہ نہیں۔ کوئی حرج نہیں۔ یصلحا۔ وہ دونوں آپس میں صلح کرلیں۔ مضارع منصوب تثنیہ مذکر غائب۔ اصلاح سے۔ احصرت۔ وہ حاضر کی گئی۔ احصار سے جس کے معنی حاضر کرنے کے ہیں ماضی مجہول واحد مؤنث غائب۔ الشح۔ خود غرضی۔ کنجوسی۔ بخل۔ حرص۔ راغب لکھتے ہیں کہ شحٔ وہ بخل ہے جس میں حرص ہو اور عادت بن گیا ہو ۔ خود غرضی۔ یہ مصدر ہے اور ابواب ۔ سمع۔ ضرب۔ نصر۔ تینوں سے آتا ہے۔ ومن یوق شح نفسہ (59:9) اور جو شخص حرص نفس سے بچا لیا گیا۔ واحضرت الانفس الشح۔ اور طبائع تو خود غرضی کی طرف مائل ہوتی ہیں۔ وان تحسنوا ۔۔ اور اگر تم احسان کرو۔ یہاں خطاب صرف مردوں سے ہے کہ وہ احسان کریں اور خدا ترسی سے کام لیں۔ کیونکہ بحیثیت قوامون علی النساء کے اس پر فرائض بھی زیادہ عائد ہوتے ہیں اور اسی سے عالی ظرفی اور جذبہ فیاضی کی زیادہ امید کی جاسکتی ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

شرارتے یہ ہے کہ اس سے بدسلوکی کرے اس کو حقیر سمجھے اس کے پاس سونا بیٹھنا چھوڑدے اسے نان ونفقہ نہ دے مانے پیٹنے کے لیے بہانے تراشے وغیرہ5 مطلب یہ ہے کہ آپس میں مصالحت کرلیں اور شرارت یا بےپروای کیفیت کو ختم کردیں اس سلسسلہئہ میں مصالحت کی جو صورت میں اختیار کرلیں وہ جائز ہے مثلا یہ کہ عورت اپنی باری چھوڑدے مہر کم کردے یا تھوڑے سے نان ونفقہ پر راضی ہوجائے حضرت عائشہ (رض) اور ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جب حضرت سودہ (رض) ضعیف ہوگئیں اور انہیں ی اندیشہ ہوا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو طلاق نہ دے دیں تو انہوں نے اپنی باری حضرت عائشہ (رض) کو ہبہ کردی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ( ابو دود۔ ترمذی) بعض نے اس شان نزول میں رافع (رض) بن خدیج اور ان کی بیوی محمد بن مسلمہ لڑکی کا قصہ بھی بیان کیا ہے کہ رافع نے ایک جوان لڑکی سے نکاح کرلیا تھا کچھ عرصہ لڑائی جھگڑے کے بعد ان کی بیوی نے اس جوان لڑکی کو اپنے حقوق بخش کر رافع سے صلح کرلی کہ میں تمہاری بیوی بن کر رہنا پسند کرتی ہوں مگر پہلی شان نزول صحیح ہے۔ ( ابن کثیر۔ لباب النقول )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

آیت نمبر 128 لغات القرآن : خافت، ڈرتی ہے۔ ڈری۔ بعل، شوہر۔ ان یصلحا، یہ کہ وہ دونوں صلح کرلیں۔ احضرت، حاضر کی گئی۔ الشح، بخل، کنجوسی۔ تشریح : ازدواجی زندگی میں بہت سے موڑ ایسے آتے ہیں جہاں ایک کو دوسرے سے جائز یا ناجائز شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔ بعض طرز عمل اختیاری ہے، مثلاً غصہ، ظلم، بےوفائی ، لڑنا، تنگ کرنا، نفرت، فضول خرچی، تذلیل، نان نفقہ سے محروم کردینا، نافرمانی، بےعصمتی وغیرہ۔ چند باتیں غیر اختیاری ہیں۔ مثلاً مسلسل بیماری، بےاولادی، بد صورتی، بڑھاپا، دماغی خرابی، بدمزاجی وغیرہ اس صورت میں الگ ہوجانا آسان ہے مگر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ صلح، میل ملاپ اور سمجھوتہ بہرحال بہتر بات ہے۔ اگر کسی فریق میں غیر اختیاری خرابیاں ہیں تو بہتر ہے کہ اپنے حقوق میں نرمی قبول کرلے۔ مثلاً اگر عورت بانجھ ہے تو وہ مرد کو دوسری شادی کی اجازت دے دے۔ یا اگر مرد نان نفقہ کا صحیح انتظام نہیں کرسکتا تو عورت کو آزاد کر دے۔ اگر خرابی اختیاری ہے تو فریق متعلق برداشت پیدا کرے اور دوسرے کی شکایت دور کرے۔ بعض شدید مجبوری کے حالات میں طلاق یا خلع بہتر ہے لیکن اکثر حالات میں صلح صفائی اور نباہ زیادہ اچھا ہے ۔ اگر دو طرفہ احسان کا جذبہ (یعنی زیادہ دینا اور کم لینا ہو) تو خوب عمدہ گزارا ہو سکتا ہے۔ ظلم اور زیادتی سے ہر حال میں بچنا چاہئے کیونکہ اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ صلح اور سمجھوتہ وہی بہتر ہے جو میاں بیوی آپس میں طے کرلیں کسی تیسرے کو بیچ میں نہ ڈالیں۔ گھر کا راز گھر ہی میں رہے تو اچھا ہے اور یہاں صلح سے مراد یہ ہے کہ عورت اگر اپنے شوہر کے پاس رہنا چاہے جو پورے حقوق ادا کرنا نہیں چاہتا ہے تو عورت اپنے کچھ حقوق چھوڑ دے مثلاً نان نفقہ معاف کر دے یا مقدار کم کر دے اور شوہر اس معافی کو قبول کرلے تاکہ طلاق یا خلع کی نوبت ہی پیش نہ آئے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : تسلسل جاری ہے یتامیٰ اور عورتوں کے حقوق کا تعین کیا گیا ہے۔ قرآن مجید نے بار بار مردوں کو حکم دیا ہے کہ عورتوں کے حق مہر خندہ پیشانی اور دل کی رغبت کے ساتھ دیا کرو۔ اگر وہ اپنی خوشی سے حق مہر معاف کریں تو بھی اس انداز سے کھاؤ اور استعمال کرو کہ انہیں تمہارے بارے میں ہلکے پن اور حریص ہونے کا گمان پیدا نہ ہو۔ یہاں عورتوں کو تلقین فرمائی جا رہی ہے کہ اگر کسی عورت کو ایسے خاوند کے ساتھ واسطہ پڑا ہے جو حریص اور لالچی ہے یا کسی وجہ سے مجبور ہو کر چاہتا ہے کہ اسے حق مہر معاف کردیا جائے ‘ بصورت دیگر خاوند کی طرف سے اعراض اور اختلاف کا خطرہ ہے تو تنازعہ کھڑا کرنے کی بجائے بہتر ہے کہ عورت اپنے خاوند کے اختلاف اور اعراض سے بچنے کے لیے اپنے حقوق سے دست بردار ہونے کے بارے میں غور کرے۔ ایسا کرنے کا اسے اختیار ہے اس پر اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ گھر اجاڑنے سے بہتر ہے کہ عورت اپنے حقوق میں نرمی اختیار کرلے۔ اس سے عورت کا بھرم قائم رہنے کے ساتھ گھریلو ماحول میں خوشگوار تبدیلی آئے گی۔ یہ ہدایت اس لیے کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں خوش حال اور تمہارے گھروں کو آباد دیکھنا چاہتا ہے۔ یہاں دونوں کو ہر حال میں صلح کا رویہ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے گو انسان حریص واقع ہوا ہے لیکن اس کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ احسان کا رویہ اختیار کرکے اختلافات سے بچنا چاہیے۔ اگر عورت بوڑھی ہوچکی ہو یا خاوند کو اس کی کوئی عادت پسند نہیں تو بھی نباہ کرنا چاہیے۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ اچھی طرح خبر گیر ہے کہ کون تم میں صلح جو، ایثار پسند اور گھر آباد رکھنا چاہتا ہے اور کون ایسا نہیں کرنا چاہتا۔ مسائل ١۔ میاں بیوی کے درمیان صلح جوئی اور اصلاح کا ماحول ہونا چاہیے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نیکی اور تقویٰ اختیار کرنے والے کو جانتا ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” نمبر ١٢٨ تا ١٣٠۔ اسلامی نظام نے اس سے قبل عورت کی طرف سے بدسلوکی اور نافرمانی کے بارے میں قانون سازی کردی تھی ۔ اور وہ تمام انتظامات کردیئے تھے کہ اس پہلو میں نقصان پیدا ہونے کے خلاف تدابیر اختیار کی جائیں گی ۔ (ملاحظہ ہو اس پارہ کی ابتدائی آیات) ۔ یہاں سے بےرخی اور نافرمانی کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ جو خاوند کی طرف سے ہو ‘ اور جس کی وجہ سے عورت کے احترام اور عزت نفس کو خطرہ ہو اور اس کے نتیجے میں خاندان کے تباہ ہونے کا خدشہ ہو اس لئے کہ دل بدل سکتے ہیں اور میلانات اور رجحانات کے اندر تبدیلی آسکتی ہے ۔ اسلام ایک ایسا نظام ہے جو معاشرتی معاملات کے اندر زندگی کے تمام اجزاء کا احاطہ کرتا ہے اور جو مشکلات اور خطرات پیش آسکتے ہیں ان کو حل کرتا ہے ۔ اسلام ان تمام مسائل کو اپنے رجحانات اور اصول کے مطابق حل کرتا ہے اور اپنی اسکیم کے مطابق تمام اقدامات کرتا ہے ۔ اگر عورت اور مرد کے اند باہم تعلقات میں کشیدگی سی پیدا ہوجائے اور طلاق کا خطرہ ہو ‘ یا یہ خطرہ ہو کہ خاوند بیوی کو معطل اور معلق چھوڑ دے گا ۔ نہ وہ بیوی ہوگی اور نہ وہ مطلقہ ہوگی تو اس صورت میں دونوں کے لئے اس امر میں ممانعت نہیں ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف مالی اور دوسرے حقوق کے اندر کچھ دو کی پالیسی اختیار کرلیں ۔ مثلا یہ کہ عورت اپنے مالی اخراجات میں سے کچھ معاف کر دے یا سب معاف کر دے ۔ یا یہ کہ اگر زیادہ عورتیں ہوں تو بیوی اپنی باری وغیرہ سے دست بردار ہوجائے ۔ مثلا اگر کوئی دوسری بیوی مرد کو زیادہ پسند ہو تو اس کے حق میں کوئی بیوی دست بردار ہوجائے یا مثلا اس صورت میں کہ معاف کرنے والی بیوی کو بعض حقوق کے اندر زیادہ دلچسپی نہ رہی ہو ۔ یہ اس صورت میں کہ عورت تمام احوال اور معاملات کو دیکھ کر ‘ سوچ کر کامل آزادی کے ساتھ یہ فیصلہ کرے کہ اس کے لئے یہ حالت طلاق سے بہتر ہے ۔ (آیت) ” وان امراۃ خافت من بعلھا نشوزا اواعراضا فلا جناح علیھما ان یصلحا بینھما صلحا “۔ (٤ : ١٢٧) (اگر کسی عورت کو اپنے شوہر سے بدسلوکی یا بےرخی کا خطرہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں کہ میاں اور بیوی (کچھ حقوق کی کمی بیشی پر) آپس میں صلح کرلیں) یہ وہی صلح ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا ۔ اس کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ مقدمہ بازی سے صلح ہر صورت میں بہتر ہوتی ہے ۔ بےرخی ‘ خشک تعلقات اور طلاق ‘ سب حالات کے مقابلے میں صلح خیر ہے ۔ (والصلح خیر (٤ : ١٢٧) (صلح بہرحال بہتر ہے) صلح کی وجہ سے خشک اور جفا پیشہ دلوں کے اوپر بادنسیم کے ٹھنڈے جھونکے چلنے لگتے ہیں ۔ انس و محبت کی شبنم سے باہم تعلقات کو طراوت نصیب ہوتی ہے اور ازدواجی تعلقات کو باقی رکھنے کا داعیہ پیدا ہوتا ہے اور اگر ختم ہوچکے ہوں تو ازدواجی تعلقات پھر سے استوار ہو سکتے ہیں ۔ اسلام نفس انسانی کے ساتھ حقیقت پسندانہ معاملہ کرتا ہے ۔ وہ تمام ذرائع اور وسائل کو کام میں لا کر نفس انسانی کو ایک ایسی سطح تک سربلند کرتا ہے جس کے لئے اس نے اس کے مزاج اور فطرت کو تیار کیا ہے ۔ لیکن اسلام ان تمام وسائل کو کام میں لاتے ہوئے یہ بھی پیش نظر رکھتا ہے کہ انسانی فطرت کے بھی کچھ حدود وقیود ہوتے ہیں ۔ اسلام فطرت انسانی اور انسانی مزاج کو ایسے کاموں پر مجبور نہیں کرتا جو اس کی قدرت اور وسعت سے باہر ہوں اسلام لوگوں کو یہ حکم نہیں دیتا کہ تم اپنے سروں کو دیواروں سے ٹکڑاؤ اور یہ ہے میرا حکم بس اسلام علیکم ! یہ کرو چاہے قدرت ہے یا نہیں ہے۔ اسلامی نظام نفس انسانی کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ ضعیفی کی حالت پر رہے یا تقصیرات پر راضی ہو ۔ وہ یہ بھی نہیں کرتا کہ انسانی گندگی کے دلدل میں کانوں تک ڈوبا ہو ‘ اور وہ اس کی تعریف وتمجید کرے اور اس کے لئے جواز یہ ڈھونڈے کہ انسان بطور حقیقت واقعہ اسی طرح ہے ۔ وہ اس طرح بھی نہیں کرتا کہ اسے عالم بالا کے ساتھ بذریعہ رسی باندھ کر لٹکا دے اور پھر وہ جدھر چاہے جھولتا پھرے کیونکہ اس صورت میں اس کے پاؤں بھی زمین پر نہ ہوں گے اور ہم اس صورت حال کو یہ کہیں کہ یہ رفعت اور سربلندی ہے ۔ اسلام ان انتہاؤں کے درمیان دین وسط ہے ۔ یہ ایسا نظام ہے جس کے اندر حقیقت پسندانہ واقعیت پائی جاتی ہے یا سنجیدہ حقیقت پسندی ہے ۔ یہ نظام انسان کے ساتھ معاملہ کرتا ہے اور انسان کو انسان سمجھ کر معاملہ کرتا ہے ۔ اپنی فطرت کے اعتبار سے انسان ایک عجیب مخلوق ہے ۔ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کے پاؤں زمین پر ہیں لیکن اس کی روح آسمانوں پر ہے ۔ اس کی روح اس کے جسم میں بھی ہوتی ہے اور آسمانوں پر بھی ہوتی ہے ۔ غرض جسم زمین پر اور روح آسمانوں پر ہوتی ہے ۔ یہ حکم دیتے ہوئے اسلامی نظام ایک انسان کے ساتھ معاملہ کرتا ہے اور اس معاملے میں انسان کی ایک عام خصوصیت کا ذکر کرتا ہے ۔ (آیت) ” (واحضرت الانفس الشح (٤ : ١٢٨) (نفس تنگ دلی کی طرف جلدی مائل ہوجاتے ہیں) مطلب یہ ہے کہ تنگ دلی دائما نفوس کے اندر موجود ہوتی ہے ۔ نفس کے اندر تنگ دلی قائم رہتی ہے ۔ تنگ دلی کی کئی اقسام ہیں ۔ مال میں تنگ دلی ۔ جذبات میں تنگ دلی ‘ زوجین کی زندگی میں بعض اوقات ایسے اسباب جمع ہوجاتے ہیں جن کی وجہ سے بخل اور تنگدلی ابھر آتی ہے ۔ ایسے اسباب پیدا ہوجاتے ہیں کہ خاوند عورت کے بارے میں سخت تنگ دل ہوجاتا ہے ۔ اب عورت اگر اپنا بقایا مہر چھوڑ دے یا نفقات معاف کر دے یا مالی تاوان ادا کردے اور نکاح کو باقی رکھوالے تو معاملہ خراب ہونے سے ٹل سکتا ہے ۔ اس لئے کہ کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ عورت اپنے حقوق زنا وشوئی بھی معاف کردیتی ہے مگر طلاق لینا پسند نہیں کرتی ۔ اگر صورت یہ ہو کہ خاوند کی کوئی دوسری زیادہ محبوب بیوی ہو اور پہلی بیوی کے اندر کشش اور تازگی باقی نہ رہی ہو اور عورت خاوند کے جذبات کا احترام کرکے اس کو راضی کرلے اور اس طرح نکاح باقی رہ جائے ۔ غرض ان تمام حالات میں معاملہ بیوی کے اختیار میں دے دیا گیا ہے ۔ وہ مختار ہے کہ اس کی مصلحت جس صورت میں ہو وہ اسے اختیار کرلے ۔ اسلامی نظام اس پر کچھ لازم نہیں کرتا بلکہ اختیار ہے کہ وہ اپنے معاملے میں تدبر کرکے کوئی بہتر فیصلہ اپنے حق میں کرلے ۔ لیکن اسلام معاملے کو بخل کے حوالے ہی نہیں کردیتا بلکہ اسے ایک دوسرے طرز عمل کی طرف بھی بلاتا ہے ‘ اس لئے کہ بخل ہی انسانی فطرت کا خاصہ قائمہ نہیں ہے بلکہ احسان اور خدا ترسی بھی فطرت انسان کے اندر ہیں ۔ (آیت) ” وان تحسنوا وتتقوا فان اللہ کان بما تعملون خبیرا “۔ (٤ : ١٢٧) (لیکن اگر تم لوگ احسان سے پیش آؤ اور خدا ترسی سے کام لو تو یقین رکھو کہ اللہ تمہارے اس طرز عمل سے بیخبر نہ ہوگا) احسان اور تقوی پر ہی آخری دارومدار ہے اور احسان اور تقوی کا کوئی عمل ضائع نہ ہوگا ۔ اس لئے ضائع نہ ہوگا کہ اللہ کا علم سب چیزوں پر محیط ہے ۔ وہ ہر انسان کے عمل سے بھی خبردار ہے اور اس عمل کی تہ میں پائے جانے والی نیت سے بھی خبردار ہے ۔ نفس انسانی کو اس طرف پکارنا کہ تم احسان اور تقوی کو اپنا شعار بناؤ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ تمام اعمال سے خبردار ہے ‘ یہ ایک ایسی پکار ہے جس کا نفس انسانی پر گہرا اثر پڑتا ہے ۔ اس پکار پر ہر انسان لبیک کہتا ہے ۔ بلکہ یہ وہ واحد دعوت وتلقین ہے جس کے لئے ہر نفس بہت جلدی تیار ہوجاتا ہے ۔ ایک بار ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی نظام حیات انسانی زندگی کے حالات اور اس کی واقعی صورت حال کے ساتھ معاملہ کرتا ہے ۔ یہ معاملہ مثالی طور پر حقیقت پسندانہ ہے یا حقیقت پسندانہ مثالیت ہے ۔ اسلام ان باتوں کا اعتراف کرتا ہے جو فطرت انسانی کا لازمی حصہ ہیں اور ہیں بھی پوشیدہ اور یہ اعتراف نہایت ہی تعجب خیز انداز میں ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

میاں بیوی کا آپس میں صلح کرلینا اور بیویوں میں انصاف کرنا سنن ابو داؤد میں ہے کہ حضرت عائشہ (رض) نے بیان فرمایا کہ ام المؤمنین حضرت سودہ (رض) کو یہ ڈر ہوا کہ کہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ سے جدائی اختیار نہ فرما لیں یہ اس وقت کی بات ہے جب وہ بوڑھی ہوگئی تھیں انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں اپنی باری کا دن عائشہ (رض) کو دیتی ہوں اس پر آیت (وَ اِنِ امْرَاَۃٌخَافَتْ ) نازل ہوئی۔ مستدرک حاکم میں ہے کہ حضرت عائشہ (رض) نے بیان فرمایا کہ آیت (وَ الصُّلْحُ خَیْرٌ) ایک ایسے شخص کے بارے میں نازل ہوئی جس کی ایک بیوی تھی جس سے کئی بچے پیدا ہوچکے تھے اس مرد کی خواہش ہوئی کہ اس کو چھوڑ کر دوسری کسی عورت سے نکاح کرے لہٰذا اس عورت نے اس سے یہ صلح کرلی کہ وہ اسی کے نکاح میں رہے اور راتوں کی تقسیم میں اسے شامل نہ کیا جائے۔ نکاح بھی انسان کی ایک بہت بڑی ضرورت ہے، مردوں کو بھی اس کی ضرورت ہے اور عورتوں کو بھی، اور اس میں مرد اور عورت کی بہت ساری دینی اور دنیاوی مصلحتیں ہیں اور نکاح اسی لیے کیا جاتا ہے کہ زندگی بھر دونوں ساتھ رہیں اور حسن معاشرت کے ساتھ دونوں میاں بیوی خیر و خوبی اور محبت و الفت کے ساتھ زندگی گزاریں لیکن کبھی بعض امور ایسے پیش آجاتے ہیں کہ کچھ ناگواری کی صورتیں سامنے آجاتی ہیں اور بعض مرتبہ نباہ مشکل ہوجاتا ہے اس لیے شرعیت مطہرہ نے اس کے لیے طلاق اور خلع کی صورت بھی جائز رکھی ہیں۔ بعض مرتبہ مرد کو ایک سے زیادہ نکاح کرنے کی ضرورت پیش آجاتی ہے۔ امت کی اجتماعی ضرورت سے بھی ایک سے زیادہ نکاح کرنے کی ضرورت پڑجاتی ہے۔ کیونکہ بسا اوقات جہاد کے مواقع پر مجاہدین شہید ہوجاتے ہیں ان کی بیواؤں اور بچوں کو سنبھالنے کا اس سے بہت ر کوئی ذریعہ نہیں کہ ان بیواؤں سے مسلمان نکاح کرلیں۔ جب ایک سے زیادہ نکاح کرلیا تو اس میں تمام بیویوں کے ساتھ عدل کو سامنے رکھ کر زندگی گزارنا فرض ہے۔ اخراجات اور خوراک و پوشاک تو سبھی کے لیے ضروری ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہر بیوی کے پاس راتوں کو قیام کرنے میں برابری کرے یعنی جتنی راتیں ایک کے پاس رہے دوسری کے پاس بھی اسی قدر راتیں گزارے یہ وہ عدل ہے جس کا حکم دیا گیا ہے جو انسان کے اختیار میں ہے اور جو چیز اختیار میں نہیں ہے یعنی یہ کہ قلبی میلان کسی کی طرف زیادہ ہو تو اس پر مواخذہ نہیں لیکن اس کی وجہ سے عدل اختیاری کو نہ چھوڑے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی بیویوں میں عدل فرماتے تھے یعنی انصاف کے ساتھ راتیں تقسیم کرتے تھے لیکن بعض بیویوں کی طرف قلبی رجحان زیادہ تھا اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں عرض کیا اللھم ان ھذا قسمی فیما املک فلا تلمنی فیما تملک ولا املک (اے اللہ یہ میری تقسیم ہے جو میرے اختیار میں ہے سو آپ اس میں مجھے ملامت نہ فرمایئے جو چیز میرے اختیار میں نہیں۔ (رواہ الترمذی) اگر کوئی شخص امر اختیاری میں عدل و انصاف نہ کرے گا تو گنہگار ہوگا۔ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو گرا ہوا ہوگا۔ (رواہ الترمذی) اگر اپنے اختیار سے عدل کرنے میں کامیابی ہوتی نظر نہیں آتی اور اسے خیال ہوتا ہے یا عزم پختہ کرلیتا ہے کہ میں اس عورت کو طلاق دیتا ہوں جس کے ساتھ برابری کا معاملہ نہیں کرسکتا یا اس لیے طلاق دینا چاہتا ہے کہ اس کی عمر زیادہ ہوگئی اور وہ عورت صورتحال کو سمجھ کر یوں صلح کرلے کہ چلو راتیں تقسیم کرنے والا میرا حق فلاں بیوی کو دے دیا کریں یا یہ کہ نان و نفقہ معاف کرتی ہوں یا مقدار کم کرتی ہوں تو ایسی صلح کرلینے میں کوئی گناہ کی بات نہیں۔ اور صلح اچھی ہی چیز ہے۔ جب اتنی بڑی زندگی ساتھ گزاری ہے تو طلاق دے کر رنج پہنچانا اچھی بات نہیں، خصوصاً جب کہ وہ اپنا حق چھوڑنے پر بھی راضی ہے تو طلاق دینا بہت ہی نامناسب ہے، صاحب روح المعانی لکھتے ہیں والصلح خیر ای من الفرقۃ وسوء العشرہ او من الخصومۃ یعنی صلح کرنا جدا ہونے سے اور برے طریقے پر زندگی گزارنے سے یا لڑنے جھگڑنے سے بہتر ہے۔ والصلح خیرٌ فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (وَ اُخْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ ) لفظ الشح کے بارے میں مفسرین لکھتے ہیں کہ ھو البخل مع الحرص۔ یعنی شخ اس بخل کو کہتے ہیں جس میں حرص بھی ہو اور در حقیقت بات یہ ہے کہ بخل اور حرص آپس میں ایک دوسرے کو لازم ہوتے ہیں، کیونکہ ان دونوں بری خصلتوں کا سبب حب دنیا ہے اس لیے سورة تغابن اور سورة حشر میں فرمایا (وَّمَنْ یُّوقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُوْلٰٓءِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ) (جو شخص شخ نفس سے بچا لیا گیا سو یہ لوگ کامیاب ہیں) حدیث شریف شَرُّمَافِی الرَّجُلِ شُحٌّ مَالِعٌ وَجُبْنٌ خَالِعٌ کہ انسان کے اندر سب سے زیادہ بری چیز حرص اور بخل ہے جو خوب زیادہ گھبراہٹ میں ڈالنے والا ہے اور دوسری چیز بزدلی ہے جان نکالنے والی ہے۔ (رواہ ابوداؤد کما فی المشکوٰۃ صفحۃ ١٦٥۔ وہو فی السنن فی کتاب الجہاد صفحہ ٣٤: ج ١) مفسرین نے فرمایا ہے کہ جملہ (وَ اُخْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ ) میں بتایا ہے کہ چونکہ نفوس انسانیہ میں ایک طرح کی حرص ہے اور خرچ نہ کرنے کے جذبات بھی ہیں اس لیے صلح میں آسانی ہوگی۔ جب شوہر دیکھے گا کہ عورت پورا یا آدھا اپنا مالی حق چھوڑ رہی ہے یا یہ کہ دوسری عورت کو اپنی بارے کا حق سپرد کر رہی ہے تو اس طرح سے میری طبعی حرص میں کچھ خلل نہیں آتا اور عورت بھی مفت میں میرے نکاح میں رہ جاتی ہے تو وہ نکاح میں رکھنے پر راضی ہوجائے گا اور عورت کو جو حرص ہے کہ وہ پرانے شوہر ہی کے نکاح میں رہے اس کی یہ حرص بھی پوری ہوجائے گی اور اس طرح سے صلح آسان ہوگی اگر بچے ہیں تو کسی فریق کو بچوں سے جدا ہونا بھی نہ پڑے گا اور مل جل کر سب کی خوشگوار زندگی گزرے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ پھر فرمایا (وَ اِنْ تُحْسِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا) کہ اگر تم بھلائی کرو اور پرہیزگاری اختیار کرو تو اللہ تعالیٰ کو تمہارے اعمال کی خبر ہے وہ تمہیں نیکی اور تقویٰ کا اچھا بدلہ دے گا۔ اس میں مرد اور عورت دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک اختیار کرنے اور پرہیزگاری کرنے کی ترغیب دی ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

88 تنویر ثانی۔ یہ چودھویں حکم رعیت پر تنویر ہے۔ وَاِنْ خَفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِھِمَا الخ (رکوع 6) سے شبہ ہوتا تھا کہ اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ ہر ایک کو اسکا پورا حق ملے یہاں اس کا ازالہ کردیا کہ اصلاح سے مراد عام ہے دونوں میں سے خواہ کسی ایک کو اپنے حق سے دستبردار ہونا پڑے جیسا کہ وَاِنْ تُحْسِنُوْا وَتَتَّقُوْا سے اس طرف اشارہ ہے یعنی ہر ایک اپنے حقوق پر حریص ہوتا ہے اور کسی طرح اپنا حق چھوڑنا نہیں چاہتا لیکن اگر تم تقاضائے نفس کے خلاف اپنا حق چھوڑ دو اور اس سے درگذر کرو تو یہ تمہارے لیے بہت بہتر ہے تمہارا یہ عمل ضائع نہیں جائیگا بلکہ تمہیں اس کا پورا پورا اجر ملیگا۔ وَلَنْ تَسْتَطِیعُوْا اَنْ تَعْدِلُوْا الخ جب تم پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی کرلو تو پورا سولہ آنے عدل و انصاف اگرچہ تمہاری طاقت سے باہر ہے لیکن اپنی طاقت کے مطابق ضرورانصاف کرو اور پہلی بیوی کو کالمعلقہ بناکر مت چھوڑو۔ وَاِنْ یَّتَفَرَّقَا الخ پہلے تفریق کا ذکر نہیں تھا یہاں یہ بھی فرما دیا کہ اگر دونوں تفریق پر راضی ہوں تو تفریق کرلیں دونوں کا اللہ مالک و رازق ہے اور اپنی مہربانی سے دونوں کی بہتری کے اسباب پیدا کردیگا۔ نُشُوْز کے معنی سرکشی کے ہیں وَاِنْ تُحْسِنُوْا۔ احسان سے یہاں عفو و درگذر مراد ہے بقرینہ وَاِنْ تَعْفُوْا اقرب للتقوی (بقرہ ع 31) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1 اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے لڑنے جھگڑنے اور زیادتی کرنے کا یا بےرغبتی اور بےپروائی کا خوف ہو تو ایسی حالت میں دونوں میاں بیوی کو اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ دونوں آپس میں کسی خاص طور پر صلح کرلیں اور باہم کسی بات پر خودہی صلح کرلیں اور یہ آپس میں صلح کرلینا بہر حال بہتر ہے اور ہر انسان کے سامنے طبعاً حرص رکھی ہوئی ہے اور ہر جی میں حرص و بخل کی خواہش ودیعت کی گئی ہے اور اگر تم عورتوں کے ساتھ نیکی کرو اور ان کے ساتھ اچھا برتائو کرو اور احتیاط سے کام لو تو اجر کے مستحق ہو گے کیونکہ بلاشبہ تم جو کام کرتے ہو اللہ تعالیٰ ان سب کاموں سے باخبر ہے۔ (تیسیر) نشوز کے معنی ہم عرض کرچکے ہیں اعراض منہ پھیرنا، بےرغبتی اور بےپروائی کا اظہار کرنا۔ شح کے معنی بخل اور حرص ہم نے اس کا ترجمہ کہیں بخل آمیز حرص اور کہیں حرص آمیز تجل کیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی مرد کا دل پھر ا دیکھے اور عورت اس کی خوشی کرنے کو اپنا حق کچھ چھوڑ دے تو روا ہے اور جیوں کے سامنے دھری ہے حرص یعنی مال بچنا ہر کسی کو خوش خوش لگتا ہے البتہ مرد راضی ہوجاوے گا۔ (موضح القرآن) ازدواجی زندگی میں نشوز خواہ عورت کی جانب سے ہو خواہ مرد کی جانب سے بڑی تکلیف وہ چیز ہے اس سے میاں بیوی دونوں کی زندگی پر برا اثر پڑتا ہے اور زندگی تلخ ہوجاتی ہے اگر عورت کی جانب سے نشوز ہو تو چونکہ خاوند کو من وجہ عورت پر برتری اور فوقیت حاصل ہے اس لئے اس کا علاج اور تھا جو اسی پارے ک شروع میں گزر چکا ہے اور یہ اگر نشوز مرد کی جانب سے ہو مثلاً بد اخلاقی کج روی، بات بات پر بد مزاجی یا یہ کہ عورت کی جانب سے بےتوجہی ار بےرخی غرض یہ سب وہ باتیں ہیں جو عورت کے لئے تکلیف دہ اور موجب اذیت ہوتی ہیں اس لئے ان کے دفع کرنے کا طریقہ یہاں سکھایا بعض حضرات نے نشوز اور اعراض کا ایک ہی مطلب بیان کیا ہے لیکن نحاس وغیرہ نے فرق بیان کیا ہے اور مفسرین کے بیان سے بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نشوز اعراض سے بڑھا ہوا ہے، غرض ! آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ عورت کو اگر قرآئن سے اس امر کا احتمال غالب ہو کہ خاوند کی جانب سے نشوز اور اعراض کا برتائو ہوگا اور عورت طلاق اور جدائی نہ چاہتی ہو تو آپس میں بغیر کسی حکم کے بنائے ہوئے کسی خاص طور پر صلح کرلیں عورت اپنا حق چھوڑ دے یا کم کر دے مثلاً ! نان نفقہ چھوڑ دے یا کم کر دے یا اپنی باری چھوڑ دے اور شوہر اس کو قبل کرے اور اس طرح صلح ہوجائے تو یہ صلح بہرحال روزمرہ کی جھک جھک اور طلاق و فراق سے بہتر ہے پھر فرمایا واحضرت الانفس الشح یہ جملہ بطور دلیل کے فرمایا ہے کیونکہ طبعاً ہر انسان کے دل میں مال کی حرص اور مال پر بخل موجود ہے جب خاوند کو فائدہ نظر آئے گا تو وہ اس شرط کو مان لے گا نان و نفقہ کی کمی یا بالکل چھوڑ دینے میں تو مال کا فائدہ دکھائی دے گا اور باری معاف کردینے میں پابندی اٹھ جائے گی اور دوسری بیویوں کے لئے ایک رات مل جائے گی اس طرح یہ خواہش اور یہ حرص پوری ہوجائے گی اور وہ جب دیکھے گا کہ میرا مطلب پورا ہوتا ہے تو وہ طلاق نہ دے گا اور صلح پر رضا مند ہوجائے گا اور اس صلح سے عورت کی خواہش بھی پوری ہوجائے گی کہ وہ کس طرح نکاح میں رہے اور اس کو طلاق نہ ہو اگرچہ مردوں کو اس طرح صلح کرلینا جائز ہے لیکن پھر بھی احسان اور تقوے کی جانب ان کو توجہ دلائی کہ اگر ان کے حقوق چھڑوانے کی خواہش نہ کرو اور نشوز و اعراض میں احتیاط ہر تو اور ان سے بد اخلاقی اور بےرخی کی برتائو نہ کرو تو تم کو اجر وثواب ملے گا اور اس کا یقین کرو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے باخبر اور واقف ہے لہٰذا اگر احسان اور تقوے کی روش اختیار کرو گے تو تم کو اجر ضرور ملے گا۔ کہتے ہیں کہ یہ آیت خویلہ بنت محمد بن مسلمہ اور اس کے خاوند سعد بن ربیع کے بارے میں نازل ہوئی ہے جب خویلہ کا نکاح ہوا تو وہ جو ان تھی بڑھاپے میں سعد نے اور بیوی کرلی اس پر زیادتی کرنے لگا خویلہ طلاق لینا نہ چاہتی تھی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ بخاری نے کہا کہ کوئی شخص تھا جو زیادہ مالدار نہ تھا وہ اپنی بیوی کو ھچوڑنا چاہتا تھا بیوی نے اپنے حقوق چھوڑ دیئے اور طلاق نہ لی۔ صحابہ کی ایک جماعت نے سودہ بنت زمعہ کی شان میں اس آیت کا نزول ذکر کیا ہے، بہرحال آیت کا نزول کسی ایک واقعہ سے تعلق رکھتا ہو یا چند واقعات سے تعلق ہو اس سے اصل حکم پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور ہم نے جو صلح کے ترجمہ میں خاص کا لفظ استعمال کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ صلح شرعی طور پر ہو اگر کوئی شرط ناجائز ہوگی تو صلح بھی ناجائز ہوگی اور حقوق چھوڑ دینے کا یہ مطلب نہیں کہ پھر ان حقوق کا مطالبہ کرنے کا حق باقی نہیں رہتا بلکہ عورت کو یہ حق باقی رہتا ہے کہ وہ چاہے تو اپنے حقوق کا مطالبہ کرے خاوند یا تو ان حقوق کو پورا کرے گا یا طلاق دے دے گا اور ہوسکتا ہے کہ وا حضرت الانفس الشح میں اس طرف اشارہ ہو کہ دلوں میں حرص تو موجود ہی ہے ہو سکات ہے کہ عورت کچھ دنوں کے بعد اپنے حقوق کا مطالبہ کر بیٹھے تو بہرحال عورت کو ایسا مطالبہ کرنے کا حق باقی رہتا ہے اور گزشتہ سقوط سے آئندہ کا حق ساقط نہیں ہوتا۔ اب آگے اسی سلسلے میں اور ایک بات بیان کی جاتی ہے جس کا تعلق اس امر سے ہے کہ اگر چند بیویوں میں دل کا تعلق سب سے یکساں نہ ہو تو ظاہری حقوق میں مساوات کا رکھنا لازمی ہوگا۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ (تسہیل)