The Order to Have Faith after Believing
Allah says;
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ امَنُواْ امِنُواْ بِاللّهِ وَرَسُولِهِ
...
O you who believe! Believe in Allah, and His Messenger,
Allah commands His faithful servants to adhere to all the elements of faith, its branches, pillars and cornerstones. This is not stated as mere redundancy, but from the view of completing faith and the continual maintenance of it.
For instance, the believer proclaims in every prayer,
اهدِنَــــا الصِّرَاطَ المُستَقِيم
(Guide us to the straight way) which means, make us aware of the straight path and increase us in guidance and strengthen us on it.
In this Ayah Allah commands the believers to believe in Him and in His Messenger, just as He said elsewhere,
يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ اتَّقُواْ اللَّهَ وَءَامِنُواْ بِرَسُولِهِ
O you who believe! Have Taqwa of Allah, and believe in His Messenger. (57:28)
Allah's statement,
...
وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَى رَسُولِهِ
...
and the Book which He has sent down to His Messenger,
refers to the Qur'an,
while,
...
وَالْكِتَابِ الَّذِيَ أَنزَلَ مِن قَبْلُ
...
and the Scripture which He sent down to those before (him);
refers to the previously revealed divine Books.
Allah then said,
...
وَمَن يَكْفُرْ بِاللّهِ وَمَلَيِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الاخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَلاً بَعِيدًا
and whosoever disbelieves in Allah, His Angels, His Books, His Messengers, and the Last Day, then indeed he has strayed far away.
meaning, he will have deviated from the correct guidance and strayed far away from its path.
ایمان کی تکمیل مکمل اطاعت میں مضمر ہے
ایمان والوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ ایمان میں پورے پورے داخل ہو جائیں تمام احکام کو کل شریعت کو ایمان کی تمام جزئیات کو مان لیں ، یہ خیال نہ ہو کہ اس میں تحصیل حاصل ہے نہیں بلکہ تکمیل کامل ہے ۔ ایمان لائے ہو تو اب اسی پر قائم رہو اللہ جل شانہ کو مانا ہے تو جس طرح وہ منوائے مانتے چلے جاؤ ۔ یہی مطلب ہر مسلمان کی اس دعا کا ہے کہ ہمیں صراط مستقیم کی ہدایت کر ، یعنی ہماری ہدایت کو ثابت رکھ مدام رکھ اس میں ہمیں مضبوط کر اور دن بدن بڑھاتا رہ ، اسی طرح یہاں بھی مومنوں کو اپنی ذات پر اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کو فرمایا ہے اور آیت میں ایمانداروں سے خطاب کر کے فرمایا اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ ۔ پہلی کتاب سے مراد قرآن ہے اور اس سے پہلے کی کتاب سے مراد تمام نبیوں پر جو جو کتابیں نازل ہوئیں سب ہیں ۔ قرآن کے لئے لفظ نزل بولا گیا اور دیگر کتابوں کے لئے انزل اس لئے کہ قرآن بتدریج وقتاً فوقتاً تھوڑا تھوڑا کر کے اترا اور باقی کتابیں پوری پوری ایک ساتھ نازل ہوئیں ، پھر فرمایا جو شخص اللہ جل شانہ کے ساتھ اس کے فرشتوں کے ساتھ اس کی کتابوں کے ساتھ اس کے رسولوں کے ساتھ آخرت کے دن کے ساتھ کفر کرے وہ راہ ہدایت سے بہک گیا اور بہت دور غلط راہ پڑ گیا گمراہی میں راہ حق سے ہٹ کر راہ باطل پہ چلا گیا ۔