Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 138

سورة النساء

بَشِّرِ الۡمُنٰفِقِیۡنَ بِاَنَّ لَہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمَۨا ﴿۱۳۸﴾ۙ

Give tidings to the hypocrites that there is for them a painful punishment -

متافقوں کو اس امر کی خبر پہنچا دو کہ ان کے لئے دردناک عذاب یقینی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Give to the hypocrites the tidings that there is for them a painful torment. Hence, the hypocrites have this characteristic, for they believe, then disbelieve, and this is why their hearts become sealed.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

بَشِّرِ الْمُنٰفِقِيْنَ : بشارت خوشی کی خبر کو کہتے ہیں، یہاں بطور طنز کہا ہے کہ منافقوں کو عذاب الیم کی خوش خبری دے دو ، جو مسلمانوں کے بجائے کافروں کو اس لیے دوست بناتے ہیں کہ اس سے انھیں عزت حاصل ہوگی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عزت کافروں کی دوستی میں نہیں بلکہ وہ تو سب کی سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یہی بات سورة فاطر (١٠ ) میں اور سورة منافقون (٨) میں بیان فرمائی، بلکہ سورة منافقون میں فرمایا : ” لیکن منافق نہیں جانتے “ کہ اللہ کے ہاں عزت تو کفر کی وجہ سے گئی اور کفار کے پاس عزت تھی ہی نہیں جو انھیں ملتی، اگر بظاہر کچھ تھی بھی تو ان کے دوغلے پن کی وجہ سے ان کا اعتبار بھی اٹھ گیا۔ [ خَسَرِ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃَ ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary In the first verse (138), the hypocrites have been given the news of a painful punishment. By articulating a distressing news with the word, &basharah& (good news), the hint given is that everyone looks forward to some good news to brighten his or her future but, for the hypocrites, there is just no other news except this.

خلاصہ تفسیر منافقین کو خوش خبری سنا دیجئے اس امر کی کہ ان کے واسطے (اخرت میں) بڑی درد ناک سزا (تجویز کی گئی) جن کی یہ حالت ہے کہ (عقائد تو اہل ایمان کے نہ رکھتے تھے مگر وضع بھی اہل ایمان کی نہ رکھ سکے چنانچہ) کافروں کو دوست بناتے ہیں مسلمانوں کو چھوڑ کر کیا ان کے پاس (جا کر) عزت حاصل کرنا چاہتے ہیں سو (خوب سمجھ لو کہ) عزت تو ساری اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے (وہ جس کو چاہیں دیں، پس اگر اللہ تعالیٰ ان کو یا جن سے جاجا کر دوستی کرتے ہیں ان کو عزت نہ دیں تو کہاں سے معزز بن جاویں گے) اور (اے مسلمانو : دیکھو تم منافقین کی طرح کفار کے ساتھ خصوصیت مت رکھنا خاص کر جس وقت وہ کفریات کا تذکرہ کرتے ہوئے چناچہ اس سورة مدینہ کے قبل بھی) اللہ تعالیٰ تمہارے پاس یہ فرمان ( سورة انعام (آیت نمبر ٨٦) میں جو مکیہ ہے) بھیج چکا ہے ( جس کا حاصل یہ ہے کہ جب (کسی مجمع میں) احکام الہیہ کے ساتھ استہزاء اور کفر ہوتا ہوا سنو تو ان لوگوں کے پاس مت بیٹھو جب تک کہ وہ کوئی اور بات شروع نہ کریں (اور یہ مضمون اس آیت کا حاصل ہے واذا رایت الذین یخوضون الخ سو یہ استہزاء کرنے والے مکہ میں مشرکین تھے اور مدینہ میں یہود تو علانیہ اور منافقین صرف غرباء، وضعفاء مسلمین کے روبرو پس جس طرح وہاں مشرکین کی مجالست ایسے وقت میں ممنوع تھی یہاں یہود اور منافقین کی مجالست سے نہی ہے اور یہ ممانعت ہم اس لئے کرتے ہیں) کہ اس حالت میں تم بھی (گناہ میں) انہی جیسے ہوجاؤ گے (گو دونوں کی نوعیت میں فرق ہو کہ ایک گناہ کفر کا ہے دوسرا فسق کا اور اس ممانعت مجالست میں کفار اور منافقین سب برابر ہیں، کیونکہ علت اس کی خوض فی الکفر یعنی کفر کی باتوں کا تذکرہ اور اس خوض کا منشاء کفر ہے، اور اس میں دونوں برابر ہیں، چناچہ سزائے کفر یعنی دوزخ کا ایندھن ہونے میں بھی دونوں برابر ہوں گے، کیونکہ) یقینا اللہ تعالیٰ منافقوں کو اور کافروں کو سب کو دوزخ میں جمع کردیں گے (اور) وہ (منافقین) ایسے ہیں کہ تم پر افتاد پڑنے کے منتظر (اور آرزو مند) رہتے ہیں پھر (ان کے اس انتظار کے بعد) اگر تمہاری فتح منجانب اللہ ہوگئی تو (تم سے آ کر) باتیں بناتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھ (جہاد میں شریک) نہ تھے (کیونکہ نام و نمود کو تو مسلمانوں میں گھسے ہی رہتے تھے، مطلب یہ کہ ہم کو بھی غنیمت کا حصہ دو ) اور اور اگر کافروں کو (غلبہ کا) کچھ حصہ مل گیا (یعنی وہ اتفاق سے غالب آئے) تو (ان سے جا کر) باتیں بناتے ہیں کہ کیا ہم تم پر غالب نہ آنے لگے تھے (مگر ہم نے قصداً تمہارے اور غالب کرنے کے لئے مسلمانوں کی مدد نہ کی اور ایسی تدبیر کی کہ لڑائی بگڑ گئی) اور کیا ہم نے (جب تم مغلوب ہونے لگے تھے) تم کو مسلمانوں سے بچا نہیں لیا ( اس طرح کہ ان کی مدد نہ کی، اور تدبیر سے لڑائی بگاڑ دی، مطلب یہ کہ ہمارا احسان مانو اور جو کچھ تمہارے ہاتھ آیا ہے ہم کو بھی کچھ حصہ دلواؤ، غرض دونوں طرف سے ہاتھ مارتے ہیں) سو (دنیا میں گو اظہار اسلام کی برکت سے مسلمانوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں لیکن) اللہ تعالیٰ تمہارا اور ان کا قیامت میں (عملی) فیصلہ فرما دیں گے اور (اس فیصلہ میں) ہرگز اللہ تعالیٰ کافروں کو مسلمانوں کے مقابلہ میں غالب نہ فرمائیں گے (بلکہ کفار مجرم قرار پا کر دوزخ میں جاویں گے اور مسلمان اہل حق ثابت ہو کر جنت میں جائیں گے اور فیصلہ عملی یہی ہے) معارف و مسائل پہلی آیت میں منافقین کے لئے درد ناک عذاب کی خبر دی گئی ہے اور اس رنج دہ خبر کو لفظ بشارت سے تعبیر کر کے اس طرف اشارہ فرما دیا گیا کہ ہر انسان اپنے مستقبل کے لئے خوشخبری سننے کا منتظر رہا کرتا ہے، مگر منفاقین کے لئے اس کے سوا کئی خبر نہیں، ان کے لئے بشارت کے عوض میں یہی خبر ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

بَشِّرِ الْمُنٰفِقِيْنَ بِاَنَّ لَھُمْ عَذَابًا اَلِيْـمَۨا۝ ١٣٨ۙ بشر واستبشر : إذا وجد ما يبشّره من الفرح، قال تعالی: وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] ، يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] ، وقال تعالی: وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ [ الحجر/ 67] . ويقال للخبر السارّ : البِشارة والبُشْرَى، قال تعالی: هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ، وقال تعالی: لا بُشْرى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ [ الفرقان/ 22] ، وَلَمَّا جاءَتْ رُسُلُنا إِبْراهِيمَ بِالْبُشْرى [هود/ 69] ، يا بُشْرى هذا غُلامٌ [يوسف/ 19] ، وَما جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرى [ الأنفال/ 10] . ( ب ش ر ) البشر التبشیر کے معنی ہیں اس قسم کی خبر سنانا جسے سن کر چہرہ شدت فرحت سے نمٹما اٹھے ۔ مگر ان کے معافی میں قدر سے فرق پایا جاتا ہے ۔ تبیشتر میں کثرت کے معنی ملحوظ ہوتے ہیں ۔ اور بشرتہ ( مجرد ) عام ہے جو اچھی وبری دونوں قسم کی خبر پر بولا جاتا ہے ۔ اور البشرتہ احمدتہ کی طرح لازم ومتعدی آتا ہے جیسے : بشرتہ فابشر ( یعنی وہ خوش ہوا : اور آیت کریمہ : { إِنَّ اللهَ يُبَشِّرُكِ } ( سورة آل عمران 45) کہ خدا تم کو اپنی طرف سے بشارت دیتا ہے میں ایک قرآت نیز فرمایا : لا تَوْجَلْ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ عَلِيمٍ قالَ : أَبَشَّرْتُمُونِي عَلى أَنْ مَسَّنِيَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُونَ قالُوا : بَشَّرْناكَ بِالْحَقِّ [ الحجر/ 53- 54] مہمانوں نے کہا ڈریے نہیں ہم آپ کو ایک دانشمند بیٹے کی خوشخبری دیتے ہیں وہ بولے کہ جب بڑھاپے نے آپکڑا تو تم خوشخبری دینے لگے اب کا ہے کی خوشخبری دیتے ہو انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو سچی خوشخبری دیتے ہیں ۔ { فَبَشِّرْ عِبَادِ } ( سورة الزمر 17) تو میرے بندوں کو بشارت سنادو ۔ { فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَأَجْرٍ كَرِيمٍ } ( سورة يس 11) سو اس کو مغفرت کے بشارت سنادو استبشر کے معنی خوش ہونے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] اور جو لوگ ان کے پیچھے رہ گئے ( اور شہید ہوکر ) ان میں شامل ہیں ہوسکے ان کی نسبت خوشیاں منا رہے ہیں ۔ يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] اور خدا کے انعامات اور فضل سے خوش ہورہے ہیں ۔ وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ [ الحجر/ 67] اور اہل شہر ( لوط کے پاس ) خوش خوش ( دورے ) آئے ۔ اور خوش کن خبر کو بشارۃ اور بشرٰی کہا جاتا چناچہ فرمایا : هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی ۔ لا بُشْرى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ [ الفرقان/ 22] اس دن گنہگاروں کے لئے کوئی خوشی کی بات نہیں ہوگی ۔ وَلَمَّا جاءَتْ رُسُلُنا إِبْراهِيمَ بِالْبُشْرى [هود/ 69] اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشخبری سے کرآئے ۔ يا بُشْرى هذا غُلامٌ [يوسف/ 19] زہے قسمت یہ تو حسین ) لڑکا ہے ۔ وَما جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرى [ الأنفال/ 10] اس مدد کو تو خدا نے تمہارے لئے رذریعہ بشارت ) بنایا نِّفَاقُ ، وهو الدّخولُ في الشَّرْعِ من بابٍ والخروجُ عنه من بابٍ ، وعلی ذلک نبَّه بقوله : إِنَّ الْمُنافِقِينَ هُمُ الْفاسِقُونَ [ التوبة/ 67] أي : الخارجون من الشَّرْعِ ، وجعل اللَّهُ المنافقین شرّاً من الکافرین . فقال : إِنَّ الْمُنافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ [ النساء/ 145] نفاق جس کے معنی شریعت میں دو رخی اختیار کرنے ( یعنی شریعت میں ایک دروازے سے داخل ہوکر دوسرے نکل جانا کے ہیں چناچہ اسی معنی پر تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا : ۔ إِنَّ الْمُنافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ [ النساء/ 145] کچھ شک نہیں کہ منافق لوگ دوزخ کے سب سے نیچے کے درجہ میں ہوں گے ۔ عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا ألم الأَلَمُ الوجع الشدید، يقال : أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قال تعالی: فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَما تَأْلَمُونَ [ النساء/ 104] ، وقد آلمت فلانا، و عذاب أليم، أي : مؤلم . وقوله : لَمْ يَأْتِكُمْ [ الأنعام/ 130] فهو ألف الاستفهام، وقد دخل علی «لم» . ( ا ل م ) الالم کے معنی سخت درد کے ہیں کہا جاتا ہے الم یالم ( س) أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قرآن میں ہے :۔ { فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ } ( سورة النساء 104) تو جس طرح تم شدید درد پاتے ہو اسی طرح وہ بھی شدید درد پاتے ہیں ۔ اٰلمت فلانا میں نے فلاں کو سخت تکلیف پہنچائی ۔ اور آیت کریمہ :۔ { وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ } ( سورة البقرة 10 - 174) میں الیم بمعنی مؤلم ہے یعنی دردناک ۔ دکھ دینے والا ۔ اور آیت :۔ اَلَم یَاتِکُم (64 ۔ 5) کیا تم کو ۔۔ نہیں پہنچی ۔ میں الف استفہام کا ہے جو لم پر داخل ہوا ہے ( یعنی اس مادہ سے نہیں ہے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے بشر المنافقین بان لھم عذاباً الیماً الذین یتخذون الکافرین اولیاء من دون المومنین۔ منافقین کو خوش خبری سنا دو کہ ان کے لئے ایک دردناک عذاب تیار ہے یہ وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست بناتے ہیں۔ ایک قول ہے کہ انہوں نے کافروں کو اپنا مددگار اور پشت پناہ بنا لیا تھا کیونکہ اس بات کا وہم ہوگیا تھا کہ مسلمانوں کے ساتھ عداوت اور دشمنی نیز ان کے ساتھ صف آراء ہونے کی بنا پر کافروں میں زبردست یکجہتی قوت و طاقت پیدا ہوگئی ہے اور ان کا اب بڑا دبدبہ ہے لیکن ان منافقین کو اللہ کے دین کا کچھ علم نہیں تھا اور اگر انہیں اس کا علم ہوتا تو وہ مسلمانوں کو اپنا دوست بناتے۔ آیت میں جن منافقین کا ذکر کیا گیا ان کی یہ خصوصیت تھی۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ مسلمانوں کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ کافروں کے مقابلے کے لئے دوسرے کافروں سے مدد حاصل کریں کیونکہ انہیں غلبہ حاصل ہونے کی صورت میں کفر غالب آجائے گا۔ ہمارے اصحاب کا یہی مسلک ہے۔ عزت کفار کے پاس نہیں ہے قول باری ایبتغون عندھما لغزۃ۔ کیا یہ لوگ عزت کی طلب میں ان کے پاس جاتے ہیں ) ہمارے اصحاب کے درج بالا قول کی صحت پر دلالت کرتا ہے اور یہ واضح کرتا ہے کہ کافروں سے مدد لینا جائز نہیں ہے۔ اس لئے کہ جب انہیں غلبہ حاصل ہوگا تو اس صورت میں مدد کرنے والے کافروں کو بھی غلبہ حاصل ہوگا اور انہیں ابھرنے کا بھی موقع ملے گا جس کے نتیجے میں کفر کو پروان چڑھنے کے لئے زمین ہموار ہوجائے گی۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیت میں منافقین کا ذکر ہے جو کافر تھے اس سے مسلمانوں کے متعلق یہ استدلال کیسے ہوسکتا ہے کہ کافروں سے ان کی استعانت جائز نہیں ہے۔ اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ کافروں سے استعانت ممنوع ہے تو اس کے بعد اس حکم میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ مدد حاصل کرنے والے کون لوگ ہیں مسلمان ہیں یا غیر مسلم۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی فعل پر کسی قوم کی مذمت کرے دے تو اس فعل کی قباحت مسلم ہوجاتی ہے اور اس کے بعد کسی بھی شخص کو اس کا ارتکاب جائز نہیں رہتا۔ البتہ اگر کوئی ایسی دلالت وجود میں آجائے جو اس کے جواز کی نشاندہی کرتی ہو تو یہ الگ بات ہوگی ایک قول یہ ہے کہ عزت کے اصل معنی شدت اور سختی کے ہیں۔ اسی بنا پر سخت اور ٹھوس زمین کو عزاز کا نام دیا جاتا ہے۔ ایک محاورہ ہے ” قداسعزالمرض علی المریض “ جو اس وقت بولا جاتا ہے جب مریض کا مرض شدت اختیار کرلے۔ اس سے یہ محاورہ بھی ہے عزعلی کذا میرے لئے یہ کام مشکل ہوگیا ہے۔ اسی طرح کسی چیز کی کامیابی پر یہ فقرہ کہاجاتا ہے ” عزاشئی “ کیونکہ اس صورت میں اس چیز کا حصول بڑی دقت اور جان جوکھوں کا کام ہوجاتا ہے جب کوئی شخص کی معاملہ میں دوسرے شخص کے ساتھ سختی سے پیش آئے تو کہا جاتا ہے ” عازہ فی الامر “ اس نے اس معاملے میں اس کے ساتھ بڑی سختی کی ہے) اس طرح اگر بکری کے تھن کی تنگی کی بنا پر اس کا دوہنا بڑا کٹھن ہوجائے تو ایسی بکری کو ” شاۃ عزور “ کہتے ہیں۔ عزت بمعنی قوت دراصل شدت کے اس معنی سے ماخوذ ہے عزیز اس شخص کو کہتے ہیں جو بڑا قوی اور اپنے دفاع کی پوری صلاحیت رکھتا ہو کہ اس پر ہاتھ ڈالنا آسان نہ ہو۔ آیت اس حکم کو متضمن ہے کہ کفار کو اپنا دوست اور مددگار بنانا لیکن ان کے سہارے قوت و طاقت حاصل کرنا اور اس مقصد کے لئے ان کی طرف رجوع کرنا سب ممنوع ہے۔ ہمیں ایک شخص نے روایت کی ہے کہ جس پر روایت کے سلسلے میں کوئی انگشت نمائی نہیں کرسکتا۔ انہیں عبداللہ بن اسحاق بن ابراہیم الدوری نے، انہیں یعقوب بن حمید بن کا سب نے انہیں عبداللہ بن عبداللہ اموی نے حسن بن الحر سے انہوں نے یعقوب بن عتبہ سے، انہوں نے سعید بن المسیب سے، انہوں نے حضرت عمر (رض) سے، انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہ آپ نے فرمایا، من اعتزبالعید ذلہ اللہ، جس شخص نے غلاموں کے ذریعے عزت و قوت حاصل کی اللہ تعالیٰ اسے ذیلی کر دے گا) یہ ان لوگوں پر محمول ہے جو کافروں اور فاسقوں کے سہارے عزت و قوت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے بالمقابل مسلمانوں کے سہارے عزت و قوت حاصل کرنا کوئی قابل مذمت بات نہیں ہے۔ ارشاد باری وللہ العزۃ ولرسولہ وللمومنین اللہ۔ اس کے رسول اور اہل ایمان کے لئے عزت و غلبہ ہے) قول باری ایبتغون عندھم العزۃ فان العزۃ اللہ جمیعاً ۔ کیا یہ لوگ عزت کی طلب میں ان کے پاس جاتے ہیں حالانکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کے لئے ہے) میں کافروں کے سہارے قوت و عزت حاصل کرنے کی نہی کی مزید تاکید ہے اور یہ خبر دی گئی ہے کہ عزت صرف اللہ کو حاصل ہے کافروں کو نہیں۔ اس مفہوم کو کئی صورتوں میں بیان کیا گیا ہے ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی ذات کے لئے عزت کا اطلاق ممتنع ہے کیونکہ اللہ کی عزت اور قوت کے مقابلے میں کسی اور کی عزت اور قوت کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی شمار و قطار میں ہے اس لئے کہ اللہ کے مقابلے میں کسی اور کی عزت اور قول اس قدر حقیر اور پست ہوتی ہے کہ اس پر اس لفظ کا اطلاق کسی طرح سجتا ہی نہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اللہ کی تمام مخلوقات میں جسے بھی کوئی عزت و قوت حاصل ہے اس کا سرچشمہ اللہ کی ذات ہے اس نے ہی اسے یہ عزت و قوت بخشی ہے اس لئے تمام عزت و قوت کا دراصل مالک وہی ہے اس لئے کہ وہ خود اپنی ذات کے لحاظ سے عزیز یعنی قوی ہے اور اس کائنات میں جس کسی کی طرف عزت کا کوئی مفہوم اور کوئی صورت منسوب ہے اس کا منبع اور سرچشمہ بھی وہی ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ کفار اللہ کی نظروں میں ذلیل ہیں اس لئے ان سے عزت کی صفت منتقی ہوگئی ہے اور یہ عزت صرف اللہ کو حاصل ہے یا ان لوگوں کو جن کے متعلق اللہ کی طرف سے اس کی نسبت کی خبر دی گئی ہے یعنی اہل ایمان اس بنا پر کافروں کو اگر عزت اور قوت کی کوئی صورت حاصل بھی ہوجائے پھر بھی وہ اس کے مستحق نہیں ہوتے کہ ان پر اس لفظ کا اطلاق کیا جاسکے۔ کفار کی ہم نشینی سے گریز کیا جائے حی کہ وہ اسلام کا مذاق اڑائیں۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٣٨۔ ١٣٩) اس کے بعد والی آیات منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہیں کہ عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو اور جو قیامت تک ان میں اس حالت پر قائم رہے گا ایسے درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجیے کہ جس کی تکلیف ان کے دلوں تک سرایت کرجائے گی، اب منافقین کی علامات بیان فرماتے ہیں کہ یہ یہودی خالص مومنین کو چھوڑ کر کفار کو مددگار بناتے ہیں کیا یہ ان یہودیوں کے پاس جا کر طاقتور اور باعزت رہنا چاہتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٣٨ (بَشِّرِ الْمُنٰفِقِیْنَ بِاَنَّ لَہُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا ) یعنی واضح طور پر فرما دیا گیا کہ یہ لوگ منافق ہیں اور ان کو عذاب کی بشارت بھی دے دی گئی۔ یہ عذاب کی بشارت دینا طنزیہ انداز ہے ۔ یہاں پر قبول حق کے دعویداروں کو یہ حقیقت اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ جو لوگ دائرۂ اسلام میں داخل ہوتے ہیں ‘ اللہ کو اپنا رب مانتے ہیں ‘ ان کے لیے یہاں پھولوں کی سیج نہیں ہے ‘ اس لیے جو شخص اس گروہ میں شامل ہونا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ یکسو ہو کر آئے ‘ دل میں تحفظات (reservations) رکھ کر نہ آئے۔ یہاں تو قدم قدم پر آزمائشیں آئیں گی ‘ یہ اللہ کا اٹل فیصلہ ہے : (وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ط) (البقرۃ : ١٥٥) ۔ یہاں تو علی الاعلان بتایا جا رہا ہے : (لَتُبْلَوُنَّ فِیْٓ اَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْقف وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْآ اَذًی کَثِیْرًا ط) (آل عمران : ١٨٦) ۔ یہاں تو مال و جان کا نقصان اٹھانا پڑے گا ‘ ہر قسم کی تلح ونازیبا باتیں سننی پڑیں گی ‘ کڑوے گھونٹ بھی حلق سے اتارنے پڑیں گے ‘ قدم قدم پر خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا ؂ در رہ منزل لیلیٰ کہ خطر ہاست بسے شرطِ اوّل قدم ایں است کہ مجنوں باشی !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:138) بشر۔ امر واحد مذکر حاضر۔ تو خوشخبری دے۔ تبشیر (تفعیل) بشارت ۔ خوشخبری یہاں بشارت انذار کے معنی میں آیا ہے اور طنز کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ ایسے کلام کو صنعت تعریض کہتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : منافق کفر اور ایمان کے درمیان رہتا ہے لیکن آخر میں اس کا انجام کفر پر ہوتا ہے۔ پہلے پارے کے دوسرے رکوع کی تفسیر میں واضح کیا جاچکا ہے کہ منافق کا لفظ نفق سے نکلا ہے۔ جس کا معنی ہے چوہے کی ایسی بل جس کے دو منہ ہوں۔ جب تک دونوں طرف سے بل بند نہ کی جائے چوہا قابو نہیں آسکتا۔ یہی حالت منافق کی ہوتی ہے اسے مسلمانوں کی طرف سے فائدہ ہو تو اسلام اسلام کرتا ہے اگر کفار کی طرف سے فائدہ پہنچنے کی امید ہو تو ان کا طرف دار ہوجاتا ہے۔ گویا کہ منافق عقیدے کے اعتبار سے کذّاب، کردار کے لحاظ سے دغا باز اور اخلاق کے حوالے سے مکّار اور مفاد پرست ہوتا ہے۔ اگلی آٹھ آیات میں منافق کی آٹھ بد ترین عادتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ جس بنا پر اسے خوفناک عذاب کی خوشخبری سنائی گئی ہے۔ (١) بار بار کفر اختیار کرنا۔ (٢) مسلمانوں کی کامیابی کا مخالف ہونا اور کفار سے دلی ہمدردی رکھنا۔ (٣) ایمان میں ہمیشہ متذبذب رہنا۔ (٤) اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کرنا اور ان کا مذاق اڑانا۔ (٥) اللہ اور اس کے رسول کو دھوکہ دینے کی کوشش کرنا۔ (٦) جان بوجھ کر نماز میں غفلت اور سستی اختیار کرنا۔ (٧) اللہ تعالیٰ کے بجائے کفار سے عزت طلب کرنا۔ (٨) نماز اور نیکی کے کام نمائش کے لیے کرنا۔ مسائل ١۔ منافقوں کو درد ناک عذاب کی خوشخبری ہے۔ تفسیر بالقرآن عذاب کی خوشخبری کے مستحق : ١۔ منافقین۔ (النساء : ١٣٨) ٢۔ کفار۔ (التوبہ : ٣) ٣۔ گانے بجانے والا اور متکبر۔ (لقمان : ٧) ٤۔ متکبر گنہگارو بہتان باز۔ (الجاثیۃ : ٨) ٥۔ انبیاء اور منصف لوگوں کے قاتل۔ (آل عمران : ٢١) ٦۔ زکوٰۃ نہ دینے والے۔ (التوبہ : ٣٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” ١٣٨ تا ١٤٣۔ منافقین پر یہ تنقیدی جملہ اس طنز کے ساتھ شروع ہوتا ہے یہاں ارتداد کے بجائے لفظ بشر سے ان پر تنقید شروع کردی جاتی ہے ۔ انہیں اس عذاب کی خوشخبری دی جا رہی ہے جو ان کے انتظار میں ہے ۔ اس کے بعد سبب عذاب بھی بتا دیا جاتا ہے ‘ وہ یہ ہے کہ یہ لوگ اہل ایمان کے ساتھ دوستی کرنے کے بجائے کافروں کو دوست بنا رہے ہیں ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کو اللہ سے بدظنی ہے ۔ تیسرے یہ کہ ان کو معلوم نہیں ہے کہ عزت اور ذلت دینے والا کون ہے ۔ (آیت) ” بشر المنفقین بان لھم عذابا الیما (١٣٨) الذین یتخذون الکفرین اولیاء من دون المومنین ایبتغون عندھم العزۃ فان العزۃ للہ جمیعا “ (١٣٩) (٤ : ١٣٨۔ ١٣٩) (جو منافق اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفق بناتے ہیں ‘ انہیں یہ مژدہ سنا دو کہ ان کے لئے دردناک سزا تیار ہے ۔ کیا یہ لوگ عزت کی طلب میں ان کے پاس جاتے ہیں ؟ حالانکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کے لئے ہے ۔ ) یہاں جن کفار کا ذکر کیا گیا ہے راجح روایات کے مطابق ان سے مراد یہودی ہیں ‘ منافقین ان کے ہاں پناہ لیتے تھے اور ان کے ہاں راتوں کو چھپتے تھے ۔ ان کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف مشورے کرتے تھے اور مسلمانوں کے خلاف قسم قسم کی سازشیں کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ سوالیہ انداز میں پوچھتے ہیں کہ یہ لوگ دعوائے ایمان بھی کرتے ہیں اور اس کے باوجود کفار کے ساتھ دوستی کرتے ہیں ‘ اپنے آپ کو یہ لوگ کس لئے ایسے موقف میں کھڑا کرتے ہیں ۔ کیا یہ لوگ کفار سے عزت کے طلبگار ہیں ؟ حالانکہ عزت تو اللہ کے ہاں ہوتی ہے اور عزت صرف اسے ملتی ہے جو اللہ کا دوست ہو اور جو اللہ کی درگاہ سے عزت کا طلبگار ہو اور اللہ کے ہاں وہ پناہ لینے والا ہو ۔ اس طرح ان آیات میں منافقین کی ایک جھلکی دکھائی جاتی ہے ۔ یہ ان کی پہلی صفت ہے کہ وہ مومنین کے ساتھ دوستی نہیں رکھتے اور کافروں کے دوست ہوتے ہیں ۔ وہ عزت اور قوت کافروں کے ہاں ڈھونڈتے ہیں حالانکہ عزت اور قوت کا سرچشمہ اللہ ہے ۔ اس لئے ضروری ہے عزت کی تلاش اور قوت کی تلاش اللہ کے ہاں سے کی جائے اور اگر وہ یہ تلاش کسی دوسری جگہ کریں گے تو یہ تلاش عبث ہوگی ‘ اس لئے کہ یہ جنس دوسری جگہ ہے ہی نہیں ۔ یہ بات نوٹ کرلیں کہ اس کائنات میں نفس انسانی کے لئے ایک ہی سہارا ہے ‘ جہاں سے وہ عزت پاسکتا ہے ۔ جب اس سہارے کے آگے یہ نفس جھکے گا تو دوسروں کے مقابلے میں سربلند ہوجائے گا ۔ یہ ایک ہی بندگی اور ایک ہی سجدہ انسان کو تمام سجدوں سے بےنیاز کردیتا ہے ۔ اگر نفس انسانی نے اللہ کے سامنے جھکنا نہ شروع کیا تو اسے بہت سے خداؤں کی بندگی کرنا ہوگی ‘ اسے کئی اشخاص کی بندگی کرنا ہوگی ۔ وہ مختلف قسم کے لحاظ رکھے گا ‘ مختلف جہتوں کا اسے خیال کرنا ہوگا اور وہ مختلف خطرات سے دوچار ہوگا اور یہ سب لحاظ وملاحظے اور مختلف لوگوں کی بندگی اور غلامی بھی اسے بچا نہ سکے گی ۔ اس لئے کہ یا یہاں تو اللہ کی بندگی ہوگی اور پھر انسان سربلند اور معزز ہوجائے گا اور یا پھر انسانوں کی بندگی ہوگی جو عبارت ہے ‘ غلامی اور ذلت سے اور جس میں آزادی کے بجائے قید وبند ہے ۔ اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ ان میں سے کس کو اختیار کرتا ہے ‘ غلامی کو یا آزادی کو ؟ کوئی شخص مومن ہوتے ہوئے یہ نہیں کرسکتا کہ وہ ماسوی اللہ کے ہاں عزت کا طلبگار ہو ۔ اگر ایسا کرے گا تو وہ مومن نہیں ہو سکتا ۔ اسی طرح اگر مومن اللہ کے دشمنوں سے عزت ‘ نصرت اور قوت طلب کرتا ہے ‘ تو وہ مومن نہ ہوگا ۔ آج جو لوگ اسلام کا دعوی کرتے ہیں اور مسلمانوں جیسے نام رکھتے ہیں اور وہ اس کائنات کے اندر دشمنان اسلام سے مدد لیتے ہیں تو سب لوگوں کی نسبت ان کو اس بات کی زیادہ ضرورت ہے کہ وہ ذرا قرآن کی ان ہدایات پر تدبر کریں بشرطیکہ ان کے دلوں میں صحیح مسلمان ہونے کی خواہش ہو ۔ اگر ان کو اس بارے میں کوئی رغبت ہی نہیں ہے تو اللہ تو عالمین سے غنی ہے۔ علاوہ دوسری باتوں کے یہ بھی کفار سے عزت طلب کرنے کے مترادف ہے کہ انسان اپنے ان آباء و اجداد پر فخر کرے جو کفر پر مر گئے تھے اور یہ لحاظ رکھے کہ انکے اور مسلمانوں کے درمیان نسبت اور قرابت کا تعلق ہے ۔ جس طرح بعض لوگ فرعونوں پر فخر کرتے ہیں ‘ بعض لوگ اشوریوں پر فخر کرتے ہیں ‘ بعض فنیضیوں پر فخر کرتے ہیں ‘ بعض بابئیوں پر فخر کرتے ہیں اور عرب اپنی جاہلیت عربیہ اور جمعیت جاہلیہ کا لحاظ رکھتے ہیں ۔ امام احمد نے ابو ریحانہ سے روایت نقل کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جو شخص (٩) نو کافر آباؤاجداد کی طرف اپنی نسبت کرے گا اور اس سے اس کا مقصد یہ ہو کہ وہ ان پر فخر کرتا ہے تو یہ شخص دسواں شخص ہوگا جو ان کا جہنم میں ساتھی ہوگا ۔ “ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام میں اکٹھ صرف نظریہ حیات پر ہے ۔ اسلام میں امت صرف اسلام و ایمان کی اساس پر ہے اور آغاز اسلام سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے آغاز اسلام سے آج تک ہر سرزمین ‘ ہر جگہ اور ہر نسل میں اسلام کا یہی موقف رہا ہے ۔ امت کا معنی یہ نہیں ہیں کہ کسی دور میں کسی نسل کی ایک جگہ رہائش ہو اور وہ ایک امت بن جائے ۔ مراتب نفاق میں سے اعلی مرتبہ یہ ہے کہ ایک مومن کسی ایسی مجلس میں بیٹھا رہے جس کے اندر اللہ کی آیات کا انکار کیا جا رہا ہو ‘ ان کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہو اور یہ شخص خاموش بیٹھا ہو اور چشم پوشی کرے ۔ پھر اس کو ودرواداری کا نام دے یا اسے ہوشیاری ‘ یا وسعت قلبی یا آزادی رائے کا نام دے حالانکہ یہ موقف دراصل داخلی شکست ہے جو اس کی رگ وپے میں سرایت کرگئی ہے ۔ یہ نام وہ اس لئے رکھ رہا ہے کہ لوگ اسے کمزور اور ضعیف الایمان ہونے کا طعنہ نہ دیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ ان الفاظ میں اپنی کمزوری کو چھپاتے ہیں ۔ اللہ کے لئے حمیت ‘ اللہ کے دین کے لئے حمیت اور آیات الہی کے لئے حمیت ‘ درحقیقت ایمان کی بڑی نشانی ہے ۔ جب یہ حمیت ختم ہوجاتی ہے تو پھر بند ٹوٹ جاتا ہے اور تمام پردے ہٹ جاتے ہیں ۔ تمام رکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں اور جب زیادہ دباؤ پڑتا ہے تو وہ کچا دھاگہ بھی ٹوٹ جاتا ہے ۔ پہلے پہل اسلامی حمیت دب جاتی ہے جس طرح چنگاری کو راکھ میں دبا دیا جاتا ہے پھر وہ ٹھنڈی ہو کر بجھ جاتی ہے ۔ جو شخص بھی کسی مجلس میں اپنے دین کے ساتھ مذاق سے اسے چاہئے کہ یا تو وہ دین کا دفاع کرے یا مجلس سے اٹھ کر چلا جائے لیکن اگر وہ چشم پوشی کرتا ہے اور خاموش رہتا ہے تو یہ اس کی پہلی شکست ہے ۔ یہ ایک ایسی حالت ہوتی ہے کہ ہوتی ہے کہ انسان نفاق کے پل پر بالکل بیچ میں ایمان اور کفر کے درمیان کھڑا ہوتا ہے ۔ مدینہ میں بعض مسلمان ایسے تھے جو بڑے بڑے منافقین کی محفلوں میں بیٹھتے تھے اور یہ منافقین بڑے بااثر تھے ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجرت کے بعد بھی ان کو معاشرے میں اثر ورسوخ حاصل تھا ۔ اس لئے قرآن کریم نے مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ ایسی مجالس میں جانا اور پھر ان مجالس میں جو گفتگوئیں اسلام کے خلاف چلتی ہیں ان کی خاموشی سے سنتے چلے جانا ‘ شکست کا پہلا مرحلہ ہے ۔ چناچہ حکم دیا گیا کہ مسلمان ان مجالس سے باز آجائیں لیکن حالات ایسے نہ تھے کہ قرآن ایسی مجالس میں بیٹھنے سے مطلقا روک دیتا اس لئے یہاں صرف یہ حکم دیا گیا کہ جب اللہ کی آیات کا انکار کیا جارہا ہو اور ان کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہو تو مسلمانوں کو ان کا بائیکاٹ کردینا چاہئے ۔ اگر اس صورتحال میں بھی ایک مسلم شریک ہوتا ہے تو وہ منافق ہے ۔ (آیت) ” وقد نزل علیکم فی الکتب ان اذا سمعتم ایت اللہ یکفربھا ویستھزا بھا فلا تعقدوا معھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ انکم اذا مثلھم ان اللہ جامع المنفقین والکفرین فی جھنم جمیعا “۔ (٤ : ١٤٠) (اللہ اس کتاب میں تم کو پہلے ہی حکم دے چکا ہے کہ جہاں تم سنو کہ اللہ کی آیات کے خلاف کفر بکا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے وہاں نہ بیٹھو جب تک کہ لوگ کسی دوسری بات میں نہ لگ جائیں ۔ اب اگر تم ایسا کرتے ہو تو تم بھی انہی کی طرح ہو ۔ یقین جانو کہ اللہ منافقوں اور کافروں کی جہنم میں ایک جگہ جمع کرنے والا ہے ۔ ) یہاں الکتاب کا جو ریفرنس دیا گیا ہے ۔ وہ سورة انعام کی یہ آیت ہے ۔ (آیت) ” واذا رایت الذین یخوضون فی ایاتنا فاعرض عنھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ) یہاں جو سخت بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ (آیت) ” انکم اذا مثلھم) (اب اگر تم ایسا کرتے ہو تو تم بھی انہی کی طرح ہو) اور اس کے بعد جو سخت وعید آتی ہے وہ ایسی ہے کہ جو بات کو کاٹ کر رکھ دیتی ہے ۔ (آیت) ” ان اللہ جامع المنفقین والکفرین فی جھنم جمیعا “ (٤ : ١٤٠) (یقین جانو کہ اللہ منافقوں اور کافروں کو جہنم میں ایک جگہ جمع کرنے والا ہے) لیکن صرف ان مجالس سے منع کیا گیا ہے جن میں آیات الہی کا کفر کیا جارہا ہے ۔ ان کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہو اور اس وقت جماعت مسلمہ جن حالات سے گزر رہی تھی اللہ نے ان حالات میں مکمل بائیکاٹ کا حکم نہیں دیا ۔ ایسے حالات دوسرے معاشروں اور آنے والی نسلوں میں بھی پیش آسکتے ہیں اور اسلامی نظام حیات کا طریقہ کار بھی یہی ہے کہ وہ اگر کوئی تحریک برپا کرتا ہے تو اسے نہایت ہی حکمت اور تدریج کے ساتھ لیتا ہے ۔ وہ معاشرے کے اندر پائے جانے والے حالات ‘ واقعی صورت حال اور لوگوں کے افکار وخیالات کو مدنظر رکھتا ہے لیکن ہدف یہی ہوتا ہے کہ اس واقعی صورت حال کو تبدیل کرکے چھوڑا جائے گا اور اس سمت پر مسلسل آگے بڑھا جائے گا ۔ اس کے بعد منافقین کے کچھ خدوخال بیان کئے جاتے ہیں ۔ یہاں منافقین کی بہت ہی بھونڈی صورت حال کی سینری (OilpAinting) بنائی جاتی ہے کہ وہ جب مسلمانوں کے ہاں کھڑے ہوں تو ان کے چہرے کے خدوخال دوسرے ہوتے ہیں اور اس سینری میں جب وہ منافقین کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں تو ان کے چہرے کے خدوخال بالکل دوسرے ہوتے ہیں ۔ انہوں نے اپنی عجیب حالت بنا رکھی ہے ۔ وہ کیڑے مکوڑوں اور سانپوں کی طرح پہلو بدلتے چلتے ہیں ۔ نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے ۔ (آیت) ” الذی یتربصون بکم فان کان لکم فتح من اللہ قالوا الم نکن معکم وان کان للکفرین نصیب قالوا الم نستحوذ علیکم ونمنعکم من المومنین فاللہ یحکم بینکم یوم القیمۃ ولن یجعل اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا (٤ : ١٤١) (یہ منافق تمہارے معاملے میں انتظار کر رہے ہیں (کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے) اگر اللہ کی طرف سے فتح تمہاری ہوئی تو آکر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ اگر کافروں کا پلہ بھاری رہا تو ان سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے خلاف لڑنے پر قادر نہ تھے اور پھر بھی ہم نے تم کو مسلمانوں سے بچایا ؟ بس اللہ ہی تمہارے اور انکے معاملے کا فیصلہ قیامت کے روز کرے گا اور (اس فیصلے میں) اللہ نے کافروں کے لئے مسلمانوں پر غالب آنے کی ہر گز کوئی سبیل نہیں رکھی ۔ ) یہ عجیب تصویر اور سینری ہے ۔ اس میں دکھایا جاتا ہے کہ منافقین مسلمانوں کے خلاف کس قدر گہری چال چل رہے ہیں اور کس قدر برے ارادے ہیں ان کے ۔ وہ ہر وقت اس گھڑی کے انتظار مین ہیں کہ اہل اسلام پر کوئی مصیبت آئے ۔ لیکن بظاہر وہ مسلمانوں کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں کہ اگر مسلمانوں کو فتح نصیب ہو اور کوئی غنیمت ملے تو وہ اس وقت کہیں گے ۔ (الم نکن معکم (٤ : ١٤١) (کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے) اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ ہم جنگ کے موقعہ میں تمہارے ساتھ تھے ۔ اس لئے کہ منافقین کبھی کبھار مسلمانوں کی صفوں میں جا کر اپنی ریشہ دوانیاں جاری رکھتے تھے یا اس سے مراد یہ ہے کہ ہم کہیں گے کہ ہم بھی تمہارے حامی اور ناصر تھے ۔ اور اگر جنگ پر نہ گئے تو پشت پر تمہارے ہی مددگار تھے ۔ (آیت) ” وان کان للکفرین نصیب قالوا الم نستحوذ علیکم ونمنعکم من المومنین (٤ : ١٤١) (اگر کافروں کا پلہ بھاری رہا تو ان سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے خلاف لڑنے پر قادر نہ تھے اور پھر بھی ہم نے تم کو مسلمانوں سے بچایا) ان کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے ان سے تعاون کیا ‘ امداد کی اور ان کی پشتیبانی کی اور مسلمانوں کے ساتھ سچ نہ کہا اور مسلمانوں کی صفوں کے اندر بےچینی اور افراتفری پیدا کی ۔ اس طرح یہ لوگ کیڑوں اور سانپوں کی طرح پہلو بدلتے تھے اور ان کے دلوں میں اسلام کے خلاف زہر بھرا ہوا تھا ۔ ان کے منہ میں چکنی چپڑی باتیں تھیں لیکن یہ کمزور کردار کے لوگ تھے ۔ ان کی اس سینری سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نہایت ہی خستہ حال اور بدشکل ہیں اور ان کو اہل ایمان نظر انداز کر رہے ہیں ۔ اہل ایمان کی روح کے لئے اسلامی نظام حیات کی یہ پہلی جھلکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نگرانی اور ہدایت کے زیر سایہ منافقین کے ساتھ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا منصوبہ یہ تھا کہ ان کے ساتھ چشم پوشی اور نرمی کا رویہ اختیار کیا جائے اور اہل اسلام کو ان کے مقابلے میں متنبہ اور خبردار کردیا جائے ، ان کو ان کے اصل عزائم سے آگاہ کردیا جائے اور اس طرح ان کو زہر کا میٹھا پیالہ پلایا جائے اسی لئے ان کی سزا کے لئے یہ کہا جاتا ہے سزا دہی میں شتابی نہ کرو ‘ ان کا فیصلہ اللہ آخرت میں کرے گا ۔ (فاللہ یحکم بینکم یوم القیمۃ) (٤ : ١٤١) ”(اللہ انکا فیصلہ قیامت کے روز کرے گا) جہاں کوئی سازش نہ چلے گی ‘ جہاں کوئی عیاری اور مکاری کام نہ دے گی اور جہاں کوئی شخص بات دل میں نہ چھپا سکے گا ۔ اس موقعہ پر اہل ایمان کے ساتھ بھی ایک قطعی وعدہ کرکے ان کو مطمئن کردیا جاتا ہے کہ ان لوگوں کو مکاری اور عیاری کا کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔ اور اس کے ذریعے اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی اور کافروں کے ساتھ ان کی سازش ان کو کوئی فائدہ نہ دے گی ۔ اللہ کی سنت یہ ہے کہ اس نے کافروں اور منافقوں کے لئے یہ لکھا ہی نہیں ہے کہ وہ اہل ایمان پر غالب ہوں۔ (آیت) ” ولن یجعل اللہ للکفرین علی المومنین سبیلا) (٤ : ١٤١) ”(اور اللہ نے کافروں کو مسلمانوں پر غالب آنے کی کوئی سبیل نہیں رکھی) بعض روایات میں آتا ہے کہ اس آیت میں کافروں کے غلبے سے مراد قیامت کے روز غلبہ ہے جہاں اللہ اہل ایمان اور منافقین وکافرین کے درمیان فیصلہ کرے گا اور مومنین کے بارے میں اچھا فیصلہ ہوگا ۔ لیکن ایک دوسری روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ اس سے مراد کہ مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کافروں کو اس طرح غلبہ نہیں دے گا کہ کافر انہیں بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکیں اگرچہ بعض معرکوں اور بعض علاقوں میں ان کو غلبہ نصیب ہو سکتا ہے ۔ اس آیت کو اگر دنیا اور آخرت دونوں کے لئے لیا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے ‘ اس لئے کہ اس میں کوئی اخروی تحدید و تخصیص نہیں ہے ۔ اگر اس سے اخروی کامیابی لی جائے تو پھر اس میں تو کوئی شک وشبہ ہی نہیں ہے ۔ البتہ اگر دنیاوی غلبہ لیا جائے تو اس میں بعض اوقات اشکال پیش آسکتے ہیں اور غلط فہمی بھی لاحق ہو سکتی ہے جس کی تشریح کی ضرورت ہے ۔ یہ اللہ کا ایک قطعی وعدہ ہے اور اللہ کا ایک جامع حکم ہے ۔ جب اہل ایمان کے دلوں میں ایمان کی حقیقت بیٹھ جائے اور ان کی زندگی کی اصل صورت حال میں اس حقیقت کا ظہور ہوجائے ‘ اور پھر یہ حقیقت ان کے لئے نظام زندگی بن جائے اور اس کے اوپر نظام حکومت قائم ہوجائے اور ان کی ہر حرکت اور ہر سوچ اللہ کے لئے ہوجائے اور وہ چھوٹے اور بڑے سب امور میں اللہ کے بندے بن جائیں تو پھر کافروں کو مسلمانوں پر غالب آنے کی کوئی صورت سنت الہی میں نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ اس کے خلاف تاریخ اسلامی میں کوئی ایک واقعہ بھی بطور مثال پیش کیا جاسکتا ۔ میں بڑے وثوق سے کہتا ہوں کہ اللہ کے اس وعدے کے بارے میں کوئی شک نہیں ہوسکتا ۔ صحیح اہل ایمان کو کبھی شکست نہیں ہو سکتی ۔ اور ان کو تاریخ میں کبھی بھی ایسی کسی شکست سے دور چار ہونا نہیں پڑا ۔ اور جب کبھی بھی ایسا ہوا ہے تو صرف اس وقت جب ان کے ایمان میں کمزوری ہوئی ہے ۔ یا تو شعوری طور پر ایمان کمزور ہوا ہے یا عقیدے میں کمزوری پائی گئی ہے یا پھر عمل میں کوئی نہ کوئی کمزوری رہی ہے ۔ یاد رہی ہے ۔ یاد رہے کہ ایمان کا یہ مطالبہ ہے کہ اہل ایمان ہر وقت جہاد کے لئے تیار رہیں اور یہ جہاد بھی خالصتا فی سبیل اللہ ہو اور اس میں کوئی اور مقصد پیش نظر نہ ہو ۔ اور اگر اس میں کوئی لوپ ہول ہو تو پھر اس کمزوری کے مطابق ہی شکست ہوتی رہتی ہے ۔ لیکن جونہی اہل ایمان ‘ ایمان وعمل سے یہ کمزوری دور کرلیں ‘ فتح و کامرانی پھر انکے قدم چومتی ہے ۔ دیکھئے احد میں کمزوری یہ تھی کہ تیر اندازوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کے بجائے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا اور اس کی وجہ صرف مال غنیمت کا لالچ تھا ۔ اور جنگ حنین میں کمزوری تھی کہ مسلمانوں کو اپنی کثرت پر ناز ہوگیا اور وہ اپنی قوت کے اصل سرچشمے کو پیش نظر نہ رکھ سکے ۔ اگر ہم اپنی پوری تاریخ میں ہر اس واقعے کا تجزیہ کریں جس میں ہمیں شکست ہوئی تو معلوم ہوگا کہ وہاں اس قسم کی کوتاہیوں میں سے کوئی نہ کوئی کوتاہی تھی ۔ اگر کہیں کوتاہی نظر نہ آئے تو یہ ہماری فہم کا قصور ہوگا ۔ رہا اللہ کا یہ وعدہ تو وہ دنیا واخرت دونوں میں برحق ہے ۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ بعض اوقات ابتلاء محض حکمت خداوندی کی وجہ سے ہوتی ہے اس میں حکمت یہ ہوتی ہے کہ مسلمان اپنے ایمان کے تقاضے میں عائد ہونے والے لازمی اعمال میں اپنی کمزوریوں کا اچھی طرح احساس کرلیں ۔ جیسا کہ احد میں پیش آیا اور اس پر اللہ نے طویل تبصرہ فرمایا ۔ اور جب اس ابتلاء کی وجہ سے حقیقت ایمان لازمی اعمال اور تیاریاں درست ہوگئیں تو اللہ کی مدد آپہنچی اور نصرت سامنے آگئی ‘ بالکل کھلی نصرت ۔ رہا یہ کہ ہزیمت سے مراد وہ ہزیمت ہے جو کسی ایک معرکے اور جھڑپ میں ہزیمت نہیں ہیں ۔ اس کے معنی بھی بہت ہی وسیع ہیں ۔ اس سے مراد روحانی شکست ہے عزم کا ٹوٹ جانا ہے ۔ کسی معرکے میں شکست تب تسلیم ہوگی جب اس کے زیر اثر شکست خورد وجماعت کی ہمت ٹوٹ جائے اور وہ تھک ہار کر بیٹھ جائے ۔ لیکن اگر وہ اپنے اندر از سر نو ہمت تازہ پیدا کرلے ‘ از سر نو مشعل روشن کرلے اور اپنی کمزوری کے مقامات تلاش کرلے اور اسے معلوم ہوجائے کہ اس معرکے کا مزاج کیا ہے ‘ اس نظریہ حیات کا مزاج کیا ہے ‘ اور اس راہ میں کیا کیا مشکلات ہیں تو فتح ونصرت کے لئے یہ شکست ایک تمہید ہوگی اگرچہ راہ طویل ہوجائے ۔ جب اس آیت میں یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ نے اہل کفر کے غلبے کی کوئی صورت ہی نہیں رکھی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مومن روحانی طور پر غالب ہوتا ہے اور فتح تبھی ہوتی ہے جب روح اور ایمان غالب ہوں ۔ فتح دراصل افکار مومنانہ کی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو دعوت دیتا ہے کہ اپنے شعور اور تصور کے اعتبار سے وہ کامل اور مکمل مومن ہوں ۔ اپنی عملی زندگی میں وہ برتر اور کامل ہوں ۔ ان کا عمل وکردار برتر ہو اور ان کا اعتماد صرف عنوان پر ہی نہ ہو ۔ اس لئے کہ نصرت صرف نام اور عنوان کو نہیں ملتی بلکہ نام اور عنوان کے پیچھے جو حقیقت ہوتی ہے فتح اسے نصیب ہوتی ہے ۔ ہماری فتح اور شکست کے لئے صرف ایک ہی شرط ہے اور وہ شرط یہ ہے کہ ہم حقیقت ایمان کو مکمل کریں اور اس کے بعد اس حقیقت ایمانیہ کے تقاضے میں جو عملی زندگی میں تبدیلیاں لانی ہیں وہ لائیں ۔ حقیقت ایمان یہ ہے کہ ہم پوری طرح تیاری کریں اور سامان جنگ اور تجربہ جنگ سے لیس ہوں ۔ ایمان کی حقیقت کی تکمیل میں یہ بات بھی ہے کہ ہم دشمنوں کے آگے ہر گز نہ جھکیں اور عزت کے طلبگار صرف اللہ سے ہوں ۔ اللہ کا یہ مؤکد وعدہ پوری طرح حقیقت ایمانیہ کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے اور اس طرح حقیقت کفر کے ساتھ بھی یہی وعدہ ہے ۔ ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ انسان کا رابطہ اس عظیم قوت سے ہوجائے جو نہ کمزور پڑتی ہے اور نہ ضعیف ہوتی ہے ۔ کفر کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی اس عظیم قوت سے اپنا رابطہ کاٹ دے ۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ محدود ‘ ٹوٹی پھوٹی یکہ و تنہا قوت ایک ایسی قوت پر غالب آجائے جو لاحمدود ہو ‘ جو اپنے سرچشمہ قوت سے مربوط ہو اور جو قوت اس پوری کائنات کی قوت ہے ۔ لیکن یہ بات ذہن میں رکھنا چاہئے کہ حقیقت ایمان اور محض مظہر ایمان میں بہت فرق ہوتا ہے ۔ حقیقت ایمانیہ تو وہ قوت ہے جو ٹھوس ہے ‘ اور اس طرح مستحکم اور اٹل ہے جس طرح اس کائنات کے قوانین طبیعی ٹھوس اور اٹل ہیں ۔ اور وہ حقیقت ایمانی حضرت انسان کی شخصیت پر مکمل کنڑول رکھتی ہے اور اس کی ہر حرکت پراثر انداز ہوتی ہے ۔ یہ ایک عظیم حقیقت ہوتی ہے اور وہ اس بات کی ضامن ہوتی ہے کہ جب اس کا سامنا کفر کی قوت کے ساتھ ہو جو یکہ و تنہا ہوتی ہے ‘ جو حقیقی منبع قوت سے کٹی ہوئی ہوتی ہے اور محدود ہوتی ہے تو یہ ایمانی حقیقت ‘ حقیقت کفر پر غالب آجاتی ہے ۔ لیکن ایمان اگر حقیقت نہ ہو محض صورت ہو تو اس صورت پر کفر غالب آسکتا ہے جبکہ کفر اپنی حقیقت کے اندر فعال ہو اور کفر اپنے حقیقت کفر میں مخلص ہو محض صورت نہ ہو اس لئے کہ کسی بھی چیز کی حقیقت محض صورت کے مقابلے میں بھاری ہوتی ہے اگرچہ ایک صورت ایمان اور دوسری طرف صورت کفر ہو ۔ اللہ کے ہاں باطل کو مغلوب کرنے اصول یہ ہے کہ اس کے مقابلے میں حق اور سچائی اٹھے اور جب سچائی اپنی حقیقت کے اعتبار سے موجود ہو تو پھر سچائی اور باطل کے درمیان کشمکش کا فیصلہ اسی وقت ہوجاتا ہے ۔ اگرچہ باطل بظاہر بہت ہی بڑا اور عظیم نظر آئے اور آنکھوں کو چکا چوند کرنے والا ہو ۔ (آیت) ” بل نقذف بالحق علی الباطل فاذا ھی یدمغہ ما ذا ھو زاھق) (بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینکتے ہیں اور وہ باطل کا سر پھوڑ دیتا ہے اور وہ اچانک زائل ہوجاتا ہے) صدق اللہ العظیم ( اور اللہ نے کافروں کے لئے مومنین پر غلبے کی کوئی صورت نہیں رکھی ہے) اس قطعی اور فیصلہ کن وعدے کے بعد کہ کافر مومنین پر غالب و برتر نہیں ہو سکتے اور منافقوں کو جو کافروں کے ساتھ دوست کرتے ہیں اور جو کافروں کے ہاں عزت ڈھونڈتے ہیں اللہ تعالیٰ منافقین کی ایک دوسری تصویر پیش کرتا ہے اور اس تصویر کے ساتھ ان کی سبکی اور ان کی گوشمالی بھی ہے ۔ (آیت) ” ان النمنفقین یخدعون اللہ وھو خادعھم واذا قاموا الی الصلوۃ قاموا کسالی یراؤن الناس ولا یذکرون اللہ الاقلیلا (١٤٢) مذبذبین بین ذالک لا الی ھولآء ولا الی ھولاء ومن یضلل فلن تجدلہ سبیلا (١٤٣) (٤ : ١٤٢۔ ١٤٣) ( یہ منافق اللہ کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں حالانکہ درحقیقت اللہ ہی نے انہیں دھوکہ میں ڈال رکھا ہے ۔ جب یہ نماز کے لئے اٹھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے محض لوگوں کو دکھانے کی خاطر اٹھتے ہیں اور خدا کو کم ہی یاد کرتے ہیں ۔ کفر و ایمان کے درمیان ڈانوا ڈول ہیں ۔ نہ پورے اس طرف ہیں نہ پورے اس طرف ۔ جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو اس کے لئے تم کوئی راستہ نہیں پا سکتے۔ ) اسلامی نظام کی جھلکیوں میں سے یہ ایک اور جھلکی مومن دلوں کو دکھائی جارہی ہے کہ اللہ تو کسی کو دھوکہ نہیں دیتا ‘ اس لئے کہ اللہ تو دل کے رازوں کو بھی جانتا ہے اور جو شخص اللہ کو دھوکہ دینے کی جرات کرتا ہے وہ بہرحال ایک ، احمق ‘ جاہل اور نہایت ہی بدفطرت شخص ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ایسے لوگوں کو نہایت ہی حقیر ‘ قابل نفرت اور گھٹیا قرار دیا جارہا ہے ۔ اس جھلکی اور ٹچ کے بعد یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ اللہ بھی ان لوگوں کو دھوکے میں ڈال رہا ہے ‘ انہیں مہلت دے رہا ہے اور گمراہی کی حالت ہی میں انہوں چھوڑ دیا ہے ۔ ان پر کوئی ایسی مصیبت نہیں لا رہا ہے جس سے وہ متنبہ ہو کر راہ راست پر آجائیں اور نہ ایسی کھٹک سے انہیں دو چار کر رہا ہے جس سے متنبہ ہو کر ان لوگوں کی آنکھیں کھل جائیں ۔ اللہ انہیں کھلی چھٹی دے رہا ہے کہ وہ اس راستے پر چلتے رہیں جس میں گڑھے ہیں تاکہ یہ لوگ ان میں گرجائیں ۔ یہ ہے وہ خدع جو اللہ کی طرف سے ان کے ساتھ ہو رہی ہے ۔ حادثات اور مشقتیں بعض اوقات اللہ کی رحمت بن کر آتی ہیں ۔ جب بعض بندوں پر مصیبتیں آتی ہیں تو وہ راہ خطا سے باز آجاتے ہیں اور انہیں وہ راز معلوم ہوجاتے ہیں جن کا پہلے انہیں کوئی علم و شعور نہیں ہوتا ۔ اور بعض اوقات امن و عافیت انسان کے لئے اللہ کی جانب سے مہلت ہوتی ہے اور گناہگار بری راہ پر مزید آگے بڑھ جاتے ہیں اس لئے کہ یہ لوگ گناہ اور گمراہی کی راہ میں اس قدر آگے جا چکے ہوتے ہیں کہ اللہ انہیں عافیت دے کر مزید آگے جانے دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ برے انجام تک جا پہنچتے ہیں ۔ اب بات ذرا اور آگے بڑھتی ہے اور ان کی اس کریمہ المنظر تصویر میں کچھ اور دھبے دکھائی دیتے ہیں۔ (آیت) ” واذا قاموا الی الصلوۃ قاموا کسالی یراؤن الناس ولا یذکرون اللہ الاقلیلا (٤ : ١٤٢) (جب یہ نماز کے لئے اٹھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے محض لوگوں کو دکھانے کی خاطر اٹھتے ہیں اور خدا کو کم ہی یاد کرتے ہیں ۔ ) وہ نماز کے لئے اس لئے نہیں اٹھتے کہ انہیں اللہ سے ملاقات کرنے کا شوق ہوتا ہے ‘ وہ اللہ کے سامنے دست بستہ کھڑے ہونا چاہتے ہیں ‘ اللہ کے ساتھ جڑنا چاہتے ہیں اور اللہ سے مدد لینا چاہتے ہیں ۔ یہ صرف لوگوں کو دکھانے کے لئے نماز پڑھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ نماز کی طرف نہایت ہی بوجھل قدموں سے اٹھتے ہیں ‘ مثلا جیسے کوئی شخص کسی بھاری کام کے لئے اٹھ رہا ہو ‘ یا اسے کسی بیگار کے لئے بلایا جارہا ہو اور ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ کو بہت ہی کم یاد کرتے ہیں ۔ وہ اللہ کو یاد نہیں کرتے بلکہ لوگوں کو یاد کرتے ہیں ۔ وہ اللہ کی طرف متوجہ نہیں ہوتے بلکہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔ بیشک مومنین کی نظر میں ان کی یہ نہایت ہی کریہہ المنظر صورت ہے ۔ اس نے ان کی نظروں میں حقارت اور ناپسندیدگی کے جذبات پیدا کردیئے ہیں اور ان جذبات اور اس سوچ کا قدرتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اہل ایمان اور اہل نفاق کے درمیان بعد پیدا ہوجاتا ہے ۔ ذاتی اور مفاداتی تعلقات کمزور پڑتے ہیں اور اہل ایمان اور اہل نفاق کے درمیان مکمل بائیکاٹ کے مراحل میں سے یہ ایک مرحلہ ہے اور اسلامی منہاج تربیت امت مسلمہ کو اس کی طرف بڑھا رہا ہے ۔ ذرا مزید خدوخال اور دھبے دیکھئے : (آیت) ” مذبذبین بین ذالک لا الی ھولآء ولا الی ھولاء ومن یضلل فلن تجدلہ سبیلا (٤ : ١٤٣) (کفر و ایمان کے درمیان ڈانوا ڈول ہیں ۔ نہ پورے اس طرف ہیں نہ پورے اس طرف ۔ جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو اس کے لئے تم کوئی راستہ نہیں پا سکتے۔ ) ان کا موقف مذبذب اور ڈانوا ڈول ہے ۔ وہ کسی ایک قطار میں ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے ۔ نہ مومنین کی صفت میں ہیں اور نہ کافروں کی صف میں ۔ یہ ایسا موقف ہے جو ایمان دلوں میں کوئی جذبہ ماسوائے حقارت اور کراہت کے پیدا ہی نہیں کرتا ۔ اس سے اہل نفاق کی ذاتی کمزوری بھی سامنے آتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کوئی دو ٹوک اور فیصلہ کن موقف اختیار نہیں کرتے اور نہ ہی وہ علی الاعلان کسی عقیدے اور رائے کا اظہار کرسکتے ہیں ۔ نہ ادھر کے اور نہ ادھرکے ۔ اب اس بدنما تصویر اور اس عاجزانہ موقف کا اختتامیہ یہ آتا ہے کہ ان لوگوں پر اللہ کا فیصلہ قطعی ہوچکا ہے اور اللہ نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ راہ ہدایت کے حصول میں ان کے ساتھ کوئی معاونت نہ کرے ۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی انہیں راہ ہدایت پر نہیں لا سکتا اور نہ ان کے لئے کوئی راہ ہدایت تلاش کرسکتا ہے ۔ (آیت) ” یضلل اللہ فلن تجدلہ سبیلا “۔ (٤ : ١٤٣) یہاں تک قرآن کریم نے اہل ایمان کے دلوں میں منافقین کے خلاف کراہت اور حقارت کے جذبات پیدا کرکے ان کو ب اور کرایا کہ وہ بہت ہی کمزور لوگ ہیں ۔ یہ مقصد اچھی طرح حاصل کرنے کے بعد اب روئے سخن اہل ایمان کی طرف ہوتا ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ کہیں تم بھی اہل نفاق کی راہ پر نہ چل نکلو اور اہل نفاق کا طریقہ یہ تھا کہ وہ کفار کے ساتھ دوستی کرتے تھے جبکہ وہ مسلمانوں کے ساتھ کوئی دوستی نہ کرتے تھے ۔ اللہ مومنین کو پنی پکڑ سے ڈراتے ہیں اور اس طرح اللہ تعالیٰ منافقین کے اخروی انجام کی ایک جھلک دکھا کر ان کو ڈراتے ہیں ۔ یہ جھلک نہایت ہی خوفناک ہے اور نہایت ہی ذلت آمیز ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi