The root of this word, its grammatical form, and every other place in the Quran where the same root is used - with each of those verses one click away.
اَلْفَتٰی کے معنی نوجوان کے ہیں اس کی مؤنث فَتَاۃٌ اور مصدر فَتَائٌ ہے بعدہ کنایہ کے طور پر دونوں لفظ (فَتًی اور فَتَاۃٌ) غلام اور لونڈی کے معنی میں استعمال ہونے لگے ہیں۔ قرآن پاک میں ہے۔ (تُرَاوِدُ فَتٰىہَا عَنۡ نَّفۡسِہٖ) (۱۲:۳۰) اپنے غلام کو اپنی طرف مائل کرنا چاہتی تھی۔ جس طرح نوجوان آدمی کو فَتًی کہا جاتا ہے۔ اسی طرح نوجوان اونٹ پر فِتیٌّ (فعیل) بولا جاتا ہے فتًی کی جمع فِتْیَۃٌ وَفِتْیَانٌ اور فَتَاہٌ کی جمع فَتَیَاتٍ آتی ہے۔ چنانچہ فرمایا: (مِّنۡ فَتَیٰتِکُمُ الۡمُؤۡمِنٰتِ) (۴:۲۵) تو مومن لونڈیوں میں سے…۔ (وَ لَا تُکۡرِہُوۡا فَتَیٰتِکُمۡ عَلَی الۡبِغَآءِ اِنۡ اَرَدۡنَ تَحَصُّنًا) (۲۴:۳۳) اور اپنی لونڈیوں کو اگر وہ پاک دامن رہنا چاہیں تو … بدکاری پر مجبور نہ کرنا۔ (وَ قَالَ لِفِتۡیٰنِہِ ) (۱۲:۶۲) اور یوسف علیہ السلام نے اپنے خدام سے کہا۔ (اِذۡ اَوَی الۡفِتۡیَۃُ اِلَی الۡکَہۡفِ ف) (۱۸:۱۰) جب وہ جوان غار میں جارہے۔ (اِنَّہُمۡ فِتۡیَۃٌ اٰمَنُوۡا بِرَبِّہِمۡ ) (۱۸:۱۳) وہ کئی نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے۔ اور کسی مشکل مسئلہ کے وجاب کو فُتْیَا وَفَتْوٰی کہا جاتا ہے۔ اِسْتَفْتَاہٗ کے معنی فتوی طلب کرنے اور اَفْتَاہُ (افعال) کے معنی فتوی دینے کے ہیں جیسے فرمایا: (وَ یَسۡتَفۡتُوۡنَکَ فِی النِّسَآءِ ؕ قُلِ اللّٰہُ یُفۡتِیۡکُمۡ فِیۡہِنَّ) (اے پیغمبر) لوگ تم سے (یتیم) عورتوں کے بارے میں فتویٰ طلب کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا تم کو ان کے (ساتھ نکاح کرنے کے) معاملے میں فتویٰ (اجازت) دیتا ہے۔ (۴:۱۲۷) (فَاسۡتَفۡتِہِمۡ ) (۳۷:۱۱) تو ان سے پوچھو… (اَفۡتُوۡنِیۡ فِیۡۤ اَمۡرِیۡ) (۲۷:۳۲) میرے اس معاملہ میں مجھے مشورہ دو۔
2 results