Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 57

سورة النساء

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدۡخِلُہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ لَہُمۡ فِیۡہَاۤ اَزۡوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ ۫ وَّ نُدۡخِلُہُمۡ ظِلًّا ظَلِیۡلًا ﴿۵۷﴾

But those who believe and do righteous deeds - We will admit them to gardens beneath which rivers flow, wherein they abide forever. For them therein are purified spouses, and We will admit them to deepening shade.

اور جو لوگ ایمان لائے اور شائستہ اعمال کئے ہم عنقریب انہیں ان جنّتوں میں لے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ان کے لئے وہاں صاف سُتھری بیویاں ہوں گی اور ہم انہیں گھنی چھاؤں ( اور پوری راحت ) میں لے جائیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَالَّذِينَ امَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الاَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ... But those who believe and do deeds of righteousness, We shall admit them to Gardens under which rivers flow (Paradise), abiding therein forever. describing the destination of the happy ones in the gardens of Eden, beneath which rivers flow in all of its areas, spaces and corners, wherever they desire and wish. They will reside in it for eternity, and they will not be transferred or removed from it, nor would they want to move from it. Allah said, ... لَّهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ ... Therein they shall have Azwajun Mutahharatun (purified mates), free of menstruation, postnatal bleeding, filth, bad manners and shortcomings. Ibn Abbas said that the Ayah means, "They are purified of filth and foul things." Similar was said by Ata, Al-Hasan, Ad-Dahhak, An-Nakhai, Abu Salih, Atiyah, and As-Suddi. Mujahid said that; "they are, free of urine, menstruation, spit, mucous and pregnancies." Allah's statement, ... وَنُدْخِلُهُمْ ظِـلًّ ظَلِيلً And We shall admit them to shades, wide and ever deepening (Paradise). means, wide, extensive, pure and elegant shade. Ibn Jarir recorded that Abu Hurayrah said that the Prophet said, إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِايَةَ عَامٍ لاَ يَقْطَعُهَا شَجَرَةَ الْخُلْد There is a tree in Paradise, that if a rider travels under its shade for a hundred years, he will not cross it. It is the Tree of Everlasting Life.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

57۔ 1 یہ کفار کے مقابلے میں اہل ایمان کے لئے جو ابدی نعمتیں ہیں، ان کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ لیکن اہل ایمان جو اعمال صالح کی دولت سے مالا مال ہوں گے۔ جَعَلنا اللّہ مِنْھُمْ ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہر جگہ ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ کا ذکر کرکے واضح کردیا کہ ان کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے ایمان، عمل صالح کے بغیر ایسے ہی ہے جیسے پھول مگر خوشبو کے بغیر، درخت ہو لیکن بغیر ثمر۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور خیرالقرون کے دوسرے مسلمانوں نے اس نکتے کو سمجھ لیا تھا۔ چناچہ ان کی زندگیاں ایمان کے پھل۔ اعمال صالحہ سے مالا مال تھیں۔ اسی طرح اگر کوئی شخص ایسے عمل کرتا ہے جو اعمال صالحہ کی ذیل میں آتے ہیں۔ مثلاً راست بازی، امانت و دیانت، ہمدردی و غم گساری اور دیگر اخلاقی خوبیاں۔ لیکن ایمان کی دولت سے محروم ہے تو اس کے یہ اعمال، دنیا میں تو اس کی شہرت و نیک نامی کا ذریعہ ثابت ہوسکتے ہیں، لیکن اللہ کی بارگاہ میں ان کی کوئی قدر و قیمت نہ ہوگی اس لئے کہ ان کا سرچشمہ ایمان نہیں ہے جو اچھے اعمال کو عند اللہ بار آور بناتا ہے بلکہ صرف اور صرف دنیاوی مفادات یا قومی اخلاق و عادات ان کی بنیاد ہے۔ 57۔ 2 گھنی گہری، عمدہ اور پاکیزہ چھاؤں جس کا ترجمہ میں ' پوری راحت ' سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں ہے، جنت میں ایک درخت ہے جس کا سایہ ایک سوار سو سال میں بھی اسے طے نہیں کرسکے گا یہ شجرۃ الخلد ہے

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۔۔ : قرآن پاک میں عموماً وعدہ اور وعید کو ایک ساتھ بیان فرمایا گیا ہے اور اس اسلوب کی وجہ سے قرآن کو ” کتابا متشابھا “ فرمایا ہے اور وعظ و تذکیر کا یہ مؤثر ترین انداز ہے۔ بعض نے اس آیت سے سمجھا ہے کہ عمل صالح ایمان سے الگ چیز ہے، کیونکہ یہ دونوں عطف کے ساتھ آئے ہیں، مگر قرآن نے متعدد آیات میں عمل صالح پر زور دینے کے لیے عمل صالح کو الگ عطف کے ساتھ بیان کردیا ہے، ورنہ یہ بھی ایمان میں داخل نہیں۔ (دیکھیے سورة عصر کی تفسیر) جنت کی نہروں کا بیان سورة محمد کی آیت (١٥) میں دیکھیے ازواج مطہرۃ کے لیے سورة رحمن کا آخری حصہ اور سورة بقرہ کی آیت (٢٥) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ ظِلًّا ظَلِيْلًا : اسی سائے کو دوسری آیت میں ظل ممدود فرمایا ہے۔ (دیکھیے الواقعۃ : ٢٧ تا ٣٠) رسول اللہ نے فرمایا : ” جنت میں ایک درخت ایسا ہے جس کے سائے میں سوار سو برس تک چلے گا پھر بھی اسے طے نہ کر پائے گا۔ “ [ بخاری، بدء الخلق، باب صفۃ الجنۃ : ٣٢٥١، عن أبی ہریرۃ (رض) ] ایک حدیث میں اس درخت کا نام ” شجرۃ الخلد “ آیا ہے۔ [ أحمد : ٢؍٤٥٥ ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَـنُدْخِلُھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْھَآ اَبَدًا۝ ٠ۭ لَھُمْ فِيْھَآ اَزْوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ۝ ٠ۡ وَّنُدْخِلُھُمْ ظِلًّا ظَلِيْلًا۝ ٥٧ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے صالح الصَّلَاحُ : ضدّ الفساد، وهما مختصّان في أكثر الاستعمال بالأفعال، وقوبل في القرآن تارة بالفساد، وتارة بالسّيّئة . قال تعالی: خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] ( ص ل ح ) الصالح ۔ ( درست ، باترتیب ) یہ فساد کی ضد ہے عام طور پر یہ دونوں لفظ افعال کے متعلق استعمال ہوتے ہیں قرآن کریم میں لفظ صلاح کبھی تو فساد کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے اور کبھی سیئۃ کے چناچہ فرمایا : خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] انہوں نے اچھے اور برے عملوں کے ملا دیا تھا ۔ دخل الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] ( دخ ل ) الدخول ( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4) دار الخلد (5) جنۃ المآوٰی (6) دار السلام (7) علیین ۔ جَرْي : المرّ السریع، وأصله كمرّ الماء، ولما يجري بجريه . يقال : جَرَى يَجْرِي جِرْيَة وجَرَيَاناً. قال عزّ وجل : وَهذِهِ الْأَنْهارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي [ الزخرف/ 51] وقال تعالی: جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهارُ [ الكهف/ 31] ، وقال : وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ [ الروم/ 46] ، وقال تعالی: فِيها عَيْنٌ جارِيَةٌ [ الغاشية/ 12] جریۃ وجریا وجریا نا کے معنی تیزی سے چلنے کے ہیں ۔ اصل میں یہ لفظ پانی اور پانی کی طرح چلنے والی چیزوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَهذِهِ الْأَنْهارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي [ الزخرف/ 51] اور یہ نہریں جو میرے ( محلوں کے ) نیچے بہ رہی ہیں ۔ میری نہیں ہیں ۔ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهارُ [ الكهف/ 31] باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ۔ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ [ الروم/ 46] اور تاکہ کشتیاں چلیں فِيها عَيْنٌ جارِيَةٌ [ الغاشية/ 12] اس میں چشمے بہ رہے ہوں گے تحت تَحْت مقابل لفوق، قال تعالی: لَأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ [ المائدة/ 66] ، وقوله تعالی: جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهارُ [ الحج/ 23] ، تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمْ [يونس/ 9] ، فَناداها مِنْ تَحْتِها [ مریم/ 24] ، يَوْمَ يَغْشاهُمُ الْعَذابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ [ العنکبوت/ 55] . و «تحت» : يستعمل في المنفصل، و «أسفل» في المتصل، يقال : المال تحته، وأسفله أغلظ من أعلاه، وفي الحدیث : «لا تقوم الساعة حتی يظهر التُّحُوت» «4» أي : الأراذل من الناس . وقیل : بل ذلک إشارة إلى ما قال سبحانه : وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ وَأَلْقَتْ ما فِيها وَتَخَلَّتْ [ الانشقاق/ 3- 4] . ( ت ح ت) تحت ( اسم ظرف ) یہ فوق کی ضد ہے قرآن میں ہے :۔ لَأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ [ المائدة/ 66] تو ( ان پر رزق مینہ کی طرح برستا کہ اپنے اوپر سے اور پاؤں کے نیچے سے کھاتے ۔ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهارُ [ الحج/ 23] ( نعمت کے ) باغ میں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ۔ فَناداها مِنْ تَحْتِها [ مریم/ 24] اس وقت ان کے نیچے کی جانب سے آواز دی ۔ تحت اور اسفل میں فرق یہ ہے کہ تحت اس چیز کو کہتے ہیں جو دوسری کے نیچے ہو مگر اسفل کسی چیز کے نچلا حصہ کو جیسے ۔ المال تحتہ ( مال اس کے نیچے ہے ) اس کا نچلا حصہ اعلیٰ حصہ سے سخت ہے ) حدیث میں ہے (48) لاتقوم الساعۃ حتیٰ یظھر النحوت کہ قیامت قائم نہیں ہوگی ۔ تا وقی کہ کمینے لوگ غلبہ حاصل نہ کرلیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ حدیث میں آیت کریمہ ؛۔ وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ وَأَلْقَتْ ما فِيها وَتَخَلَّتْ [ الانشقاق/ 3- 4] اور جب یہ زمین ہموار کردی جائے گی اور جو کچھ اس میں سے اسے نکلا کر باہر ڈال دے گی ۔ کے مضمون کی طرف اشارہ ہے ۔ نهر النَّهْرُ : مَجْرَى الماءِ الفَائِضِ ، وجمْعُه : أَنْهَارٌ ، قال تعالی: وَفَجَّرْنا خِلالَهُما نَهَراً [ الكهف/ 33] ، ( ن ھ ر ) النھر ۔ بافراط پانی بہنے کے مجری کو کہتے ہیں ۔ کی جمع انھار آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : وَفَجَّرْنا خِلالَهُما نَهَراً [ الكهف/ 33] اور دونوں میں ہم نے ایک نہر بھی جاری کر رکھی تھی ۔ خلد الخُلُود : هو تبرّي الشیء من اعتراض الفساد، وبقاؤه علی الحالة التي هو عليها، والخُلُودُ في الجنّة : بقاء الأشياء علی الحالة التي عليها من غير اعتراض الفساد عليها، قال تعالی: أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] ، ( خ ل د ) الخلودُ ( ن ) کے معنی کسی چیز کے فساد کے عارضہ سے پاک ہونے اور اپنی اصلی حالت پر قائم رہنے کے ہیں ۔ اور جب کسی چیز میں دراز تک تغیر و فساد پیدا نہ ہو۔ قرآن میں ہے : ۔ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ [ الشعراء/ 129] شاید تم ہمیشہ رہو گے ۔ جنت میں خلود کے معنی یہ ہیں کہ اس میں تمام چیزیں اپنی اپنی اصلی حالت پر قائم رہیں گی اور ان میں تغیر پیدا نہیں ہوگا ۔ قرآن میں ہے : ۔ أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] یہی صاحب جنت میں ہمشہ اسمیں رہیں گے ۔ ابد قال تعالی: خالِدِينَ فِيها أَبَداً [ النساء/ 122] . الأبد : عبارة عن مدّة الزمان الممتد الذي لا يتجزأ كما يتجرأ الزمان، وذلک أنه يقال : زمان کذا، ولا يقال : أبد کذا . وكان حقه ألا يثنی ولا يجمع إذ لا يتصور حصول أبدٍ آخر يضم إليه فيثنّى به، لکن قيل : آباد، وذلک علی حسب تخصیصه في بعض ما يتناوله، کتخصیص اسم الجنس في بعضه، ثم يثنّى ويجمع، علی أنه ذکر بعض الناس أنّ آباداً مولّد ولیس من کلام العرب العرباء . وقیل : أبد آبد وأبيد أي : دائم «2» ، وذلک علی التأكيد . وتأبّد الشیء : بقي أبداً ، ويعبّر به عما يبقی مدة طویلة . والآبدة : البقرة الوحشية، والأوابد : الوحشیات، وتأبّد البعیر : توحّش، فصار کالأوابد، وتأبّد وجه فلان : توحّش، وأبد کذلک، وقد فسّر بغضب . اب د ( الابد) :۔ ایسے زمانہ دراز کے پھیلاؤ کو کہتے ہیں ۔ جس کے لفظ زمان کی طرح ٹکڑے نہ کئے جاسکیں ۔ یعنی جس طرح زمان کذا ( فلا زمانہ ) کہا جا سکتا ہے ابدکذا نہیں بولتے ، اس لحاظ سے اس کا تنبیہ اور جمع نہیں بننا چا ہیئے ۔ اس لئے کہ ابد تو ایک ہی مسلسل جاری رہنے والی مدت کا نام ہے جس کے متوازی اس کی جیسی کسی مدت کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا ۔ کہ اسے ملاکر اس کا تثنیہ بنا یا جائے قرآن میں ہے { خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا } [ النساء : 57] وہ ابدالاباد ان میں رہیں گے ۔ لیکن بعض اوقات اسے ایک خاص مدت کے معنی میں لے کر آباد اس کی جمع بنا لیتے ہیں جیسا کہ اسم جنس کو بعض افراد کے لئے مختص کر کے اس کا تثنیہ اور جمع بنا لیتا جاتا ہے بعض علمائے لغت کا خیال ہے کہ اباد جمع مولّدہے ۔ خالص عرب کے کلام میں اس کا نشان نہیں ملتا اور ابدابد وابدابید ( ہمیشہ ) ہمیشہ کے لئے ) میں دوسرا لفظ محض تاکید کے لئے لایا جاتا ہے تابدالشئی کے اصل معنی تو کسی چیز کے ہمیشہ رہنے کے ہیں مگر کبھی عرصہ درازتک باقی رہنا مراد ہوتا ہے ۔ الابدۃ وحشی گائے ۔ والجمع اوابد وحشی جانور) وتأبّد البعیر) اونٹ بدک کر وحشی جانور کی طرح بھاگ گیا ۔ تأبّد وجه فلان وأبد ( اس کے چہرے پر گھبراہٹ اور پریشانی کے آثار نمایاں ہوئے ) بعض کے نزدیک اس کے معنی غضب ناک ہونا بھی آتے ہیں ۔ زوج يقال لكلّ واحد من القرینین من الذّكر والأنثی في الحیوانات الْمُتَزَاوِجَةُ زَوْجٌ ، ولكلّ قرینین فيها وفي غيرها زوج، کالخفّ والنّعل، ولكلّ ما يقترن بآخر مماثلا له أو مضادّ زوج . قال تعالی: فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثى[ القیامة/ 39] ، وقال : وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ [ البقرة/ 35] ، وزَوْجَةٌ لغة رديئة، وجمعها زَوْجَاتٌ ، قال الشاعر : فبکا بناتي شجوهنّ وزوجتي وجمع الزّوج أَزْوَاجٌ. وقوله : هُمْ وَأَزْواجُهُمْ [يس/ 56] ، احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْواجَهُمْ [ الصافات/ 22] ، أي : أقرانهم المقتدین بهم في أفعالهم، وَلا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلى ما مَتَّعْنا بِهِ أَزْواجاً مِنْهُمْ [ الحجر/ 88] ، أي : أشباها وأقرانا . وقوله : سُبْحانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْواجَ [يس/ 36] ، وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنا زَوْجَيْنِ [ الذاریات/ 49] ، فتنبيه أنّ الأشياء کلّها مركّبة من جو هر وعرض، ومادّة وصورة، وأن لا شيء يتعرّى من تركيب يقتضي كونه مصنوعا، وأنه لا بدّ له من صانع تنبيها أنه تعالیٰ هو الفرد، وقوله : خَلَقْنا زَوْجَيْنِ [ الذاریات/ 49] ، فبيّن أنّ كلّ ما في العالم زوج من حيث إنّ له ضدّا، أو مثلا ما، أو تركيبا مّا، بل لا ينفكّ بوجه من تركيب، وإنما ذکر هاهنا زوجین تنبيها أنّ الشیء۔ وإن لم يكن له ضدّ ، ولا مثل۔ فإنه لا ينفكّ من تركيب جو هر وعرض، وذلک زوجان، وقوله : أَزْواجاً مِنْ نَباتٍ شَتَّى [ طه/ 53] ، أي : أنواعا متشابهة، وکذلک قوله : مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ [ لقمان/ 10] ، ثَمانِيَةَ أَزْواجٍ [ الأنعام/ 143] ، أي : أصناف . وقوله : وَكُنْتُمْ أَزْواجاً ثَلاثَةً [ الواقعة/ 7] ، أي : قرناء ثلاثا، وهم الذین فسّرهم بما بعد وقوله : وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ [ التکوير/ 7] ، فقد قيل : معناه : قرن کلّ شيعة بمن شایعهم في الجنّة والنار، نحو : احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْواجَهُمْ [ الصافات/ 22] ، وقیل : قرنت الأرواح بأجسادها حسبما نبّه عليه قوله في أحد التّفسیرین : يا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ راضِيَةً مَرْضِيَّةً [ الفجر/ 27- 28] ، أي : صاحبک . وقیل : قرنت النّفوس بأعمالها حسبما نبّه قوله : يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ ما عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَراً وَما عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ [ آل عمران/ 30] ، وقوله : وَزَوَّجْناهُمْ بِحُورٍ عِينٍ [ الدخان/ 54] ، أي : قرنّاهم بهنّ ، ولم يجئ في القرآن زوّجناهم حورا، كما يقال زوّجته امرأة، تنبيها أن ذلک لا يكون علی حسب المتعارف فيما بيننا من المناکحة . ( ز و ج ) الزوج جن حیوانات میں نر اور مادہ پایا جاتا ہے ان میں سے ہر ایک دوسرے کا زوج کہلاتا ہے یعنی نر اور مادہ دونوں میں سے ہر ایک پر اس کا اطلاق ہوتا ہے ۔ حیوانات کے علاوہ دوسری اشیاء میں جفت کو زوج کہا جاتا ہے جیسے موزے اور جوتے وغیرہ پھر اس چیز کو جو دوسری کی مماثل یا مقابل ہونے کی حثیت سے اس سے مقترن ہو وہ اس کا زوج کہلاتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثى [ القیامة/ 39] اور ( آخر کار ) اس کی دو قسمیں کیں ( یعنی ) مرد اور عورت ۔ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ [ البقرة/ 35] اور تیری بی بی جنت میں رہو ۔ اور بیوی کو زوجۃ ( تا کے ساتھ ) کہنا عامی لغت ہے اس کی جمع زوجات آتی ہے شاعر نے کہا ہے فبکا بناتي شجوهنّ وزوجتیتو میری بیوی اور بیٹیاں غم سے رونے لگیں ۔ اور زوج کی جمع ازواج آتی ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ هُمْ وَأَزْواجُهُمْ [يس/ 56] وہ اور ان کے جوڑے اور آیت : ۔ احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْواجَهُمْ [ الصافات/ 22] جو لوگ ( دنیا میں ) نا فرمانیاں کرتے رہے ہیں ان کو اور ان کے ساتھیوں کو ( ایک جگہ ) اکٹھا کرو ۔ میں ازواج سے ان کے وہ ساتھی مراد ہیں جو فعل میں ان کی اقتدا کیا کرتے تھے اور آیت کریمہ : ۔ إِلى ما مَتَّعْنا بِهِ أَزْواجاً مِنْهُمْ [ الحجر/ 88] اس کی طرف جو مختلف قسم کے لوگوں کو ہم نے ( دنیاوی سامان ) دے رکھے ہیں ۔ اشباہ و اقران یعنی ایک دوسرے سے ملتے جلتے لوگ مراد ہیں اور آیت : ۔ سُبْحانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْواجَ [يس/ 36] پاک ہے وہ ذات جس نے ( ہر قسم کی ) چیزیں پیدا کیں ۔ نیز : ۔ وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنا زَوْجَيْنِ [ الذاریات/ 49] اور تمام چیزیں ہم نے دو قسم کی بنائیں ۔ میں اس بات پر تنبیہ کی ہے ۔ کہ تمام چیزیں جوہر ہوں یا عرض مادہ و صورت سے مرکب ہیں اور ہر چیز اپنی ہیئت ترکیبی کے لحا ظ سے بتا رہی ہے کہ اسے کسی نے بنایا ہے اور اس کے لئے صائع ( بنانے والا ) کا ہونا ضروری ہے نیز تنبیہ کی ہے کہ ذات باری تعالیٰ ہی فرد مطلق ہے اور اس ( خلقنا زوجین ) لفظ سے واضح ہوتا ہے کہ روئے عالم کی تمام چیزیں زوج ہیں اس حیثیت سے کہ ان میں سے ہر ایک چیز کی ہم مثل یا مقابل پائی جاتی ہے یا یہ کہ اس میں ترکیب پائی جاتی ہے بلکہ نفس ترکیب سے تو کوئی چیز بھی منفک نہیں ہے ۔ پھر ہر چیز کو زوجین کہنے سے اس بات پر تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ اگر کسی چیز کی ضد یا مثل نہیں ہے تو وہ کم از کم جوہر اور عرض سے ضرور مرکب ہے لہذا ہر چیز اپنی اپنی جگہ پر زوجین ہے ۔ اور آیت أَزْواجاً مِنْ نَباتٍ شَتَّى [ طه/ 53] طرح طرح کی مختلف روئیدگیاں ۔ میں ازواج سے مختلف انواع مراد ہیں جو ایک دوسری سے ملتی جلتی ہوں اور یہی معنی آیت : ۔ مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ [ لقمان/ 10] ہر قسم کی عمدہ چیزیں ( اگائیں ) اور آیت کریمہ : ۔ ثَمانِيَةَ أَزْواجٍ [ الأنعام/ 143]( نر اور مادہ ) آٹھ قسم کے پیدا کئے ہیں ۔ میں مراد ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَكُنْتُمْ أَزْواجاً ثَلاثَةً [ الواقعة/ 7] میں ازواج کے معنی ہیں قرناء یعنی امثال ونظائر یعنی تم تین گروہ ہو جو ایک دوسرے کے قرین ہو چناچہ اس کے بعد اصحاب المیمنۃ سے اس کی تفصیل بیان فرمائی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ [ التکوير/ 7] اور جب لوگ باہم ملا دیئے جائیں گے ۔ میں بعض نے زوجت کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ ہر پیروکار کو اس پیشوا کے ساتھ جنت یا دوزخ میں اکٹھا کردیا جائیگا ۔ جیسا کہ آیت : ۔ احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْواجَهُمْ [ الصافات/ 22] میں مذکور ہوچکا ہے اور بعض نے آیت کے معنی یہ کئے ہیں کہ اس روز روحوں کو ان کے جسموں کے ساتھ ملا دیا جائیگا جیسا کہ آیت يا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ راضِيَةً مَرْضِيَّةً [ الفجر/ 27- 28] اے اطمینان پانے والی جان اپنے رب کی طرف لوٹ آ ۔ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی ۔ میں بعض نے ربک کے معنی صاحبک یعنی بدن ہی کئے ہیں اور بعض کے نزدیک زوجت سے مراد یہ ہے کہ نفوس کو ان کے اعمال کے ساتھ جمع کردیا جائیگا جیسا کہ آیت کریمہ : ۔ يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ ما عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَراً وَما عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ [ آل عمران/ 30] جب کہ ہر شخص اپنے اچھے اور برے عملوں کو اپنے سامنے حاضر اور موجود پائیگا ۔ میں بھی اس معنی کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَزَوَّجْناهُمْ بِحُورٍ عِينٍ [ الدخان/ 54] اور ہم انہیں حورعین کا ساتھی بنا دیں گے ۔ میں زوجنا کے معنی باہم ساتھی اور رفیق اور رفیق بنا دینا ہیں یہی وجہ ہے کہ قرآن نے جہاں بھی حور کے ساتھ اس فعل ( زوجنا ) کا ذکر کیا ہے وہاں اس کے بعد باء لائی گئی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ حوروں کے ساتھ محض رفاقت ہوگی جنسی میل جول اور ازواجی تعلقات نہیں ہوں گے کیونکہ اگر یہ مفہوم مراد ہوتا تو قرآن بحور کی بجائے زوجناھم حورا کہتا جیسا کہ زوجتہ امرءۃ کا محاورہ ہے یعنی میں نے اس عورت سے اس کا نکاح کردیا ۔ طهر والطَّهَارَةُ ضربان : طَهَارَةُ جسمٍ ، وطَهَارَةُ نفسٍ ، وحمل عليهما عامّة الآیات . يقال : طَهَّرْتُهُ فَطَهُرَ ، وتَطَهَّرَ ، وَاطَّهَّرَ فهو طَاهِرٌ ومُتَطَهِّرٌ. قال تعالی: وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُباً فَاطَّهَّرُوا[ المائدة/ 6] ، أي : استعملوا الماء، أو ما يقوم مقامه، قال : وَلا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذا تَطَهَّرْنَ [ البقرة/ 222] ، ( ط ھ ر ) طھرت طہارت دو قسم پر ہے ۔ طہارت جسمانی اور طہارت قلبی اور قرآن پاک میں جہاں کہیں طہارت کا لفظ استعمال ہوا ہے وہاں بالعموم دونوں قسم کی طہارت مراد ہے کہا جاتا ہے : ۔ طھرتہ فطھروتطھر واطھر فھو طاھر ومتطھر میں نے اسے پاک کیا چناچہ وہ پاک ہوگیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُباً فَاطَّهَّرُوا[ المائدة/ 6] اور اگر نہانے کی حاجت ہو تو نہاکر پاک ہوجایا کرو ۔ یعنی یا جو چیز اس کے قائم مقام ہو اس کے ذریعہ طہارت کرلیا کرو ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَلا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذا تَطَهَّرْنَ [ البقرة/ 222] اور جب تک پاک نہ ہوجائیں ان سے مقاربت نہ کرو ۔ ظلل الظِّلُّ : ضدُّ الضَّحِّ ، وهو أعمُّ من الفیء، فإنه يقال : ظِلُّ اللّيلِ ، وظِلُّ الجنّةِ ، ويقال لكلّ موضع لم تصل إليه الشّمس : ظِلٌّ ، ولا يقال الفیءُ إلّا لما زال عنه الشمس، ويعبّر بِالظِّلِّ عن العزّة والمنعة، وعن الرّفاهة، قال تعالی: إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلالٍ [ المرسلات/ 41] ، أي : في عزّة ومناع، ( ظ ل ل ) الظل ۔ سایہ یہ الضح ( دهوپ ) کی ضد ہے اور فیی سے زیادہ عام ہے کیونکہ ( مجازا الظل کا لفظ تورات کی تاریکی اور باغات کے سایہ پر بھی بولا جاتا ہے نیز ہر وہ جگہ جہاں دہوپ نہ پہنچنے اسے ظل کہہ دیا جاتا ہے مگر فییء صرف اس سے سایہ کو کہتے ہیں جوز وال آفتاب سے ظاہر ہو ہے اور عزت و حفاظت اور ہر قسم کی خش حالی کو ظل سے تعبیر کرلیتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلالٍ [ المرسلات/ 41] کے معنی یہ ہیں کہ پرہیز گار ہر طرح سے عزت و حفاظت میں ہوں گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٧) اگلی آیت مومنین کے بارے میں نازل فرمائی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآں کریم اور تمام کتابوں اور رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں اور خلوص کے ساتھ تمام احکام خداوندی کی بجا آوری کرتے ہیں، ایسے حضرات کو آخرت میں ایسے باغات ملیں گے، جن میں درختوں کے نیچے شہد، دودھ، پانی پاکیزہ، اور شراب کی نہریں جارہی ہوں گی وہ جنت میں رہیں گے نہ ان کو موت آئے گی، اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے، حیض اور ہر قسم کی باتوں سے پاک عورتیں ہوں گی اور عزت کے ساتھ گھنے سایہ میں ہم ان کو داخل کریں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٧ (وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ) یہاں بھی وہی فوری تقابل (simultaneous contrast) ہے کہ اہل جہنم کے تذکرے کے فوراً بعد اہل جنت کا تذکرہ ہے۔ (وَّنُدْخِلُہُمْ ظلاًّ ظَلِیْلاً ) ۔ انہیں ایسی گہری اور ٹھنڈی چھاؤں میں رکھا جائے گا جو دھوپ کی حدت اور تمازت سے بالکل محفوظ ہوگی۔ّ َ یہاں وہ حصہ ختم ہوا جس میں اہل کتاب کی طرف روئے سخن تھا۔ اب پھر مسلمانوں سے خطاب ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

40: اشارہ اس طرف ہے کہ جنت میں روشنی ہوگی مگر دھوپ کی تپش نہیں ہوگی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:57) ظلا ظلیلا۔ ظل۔ سایہ ۔ پرچھائیں۔ ظلیل صیغہ صفت ہے گھنی چھاؤں۔ ٹھنڈا سایہ۔ ظل کے بعد اسے تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔ یعنی ہم ان کو گھنی چاؤں میں داخل کریں گے۔ ربیع بن انس کہتے ہیں کہ ظلال ظلیلا۔ سے مراد عرش کا سایہ ہے جو کبھی زائل نہ ہوگا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 قرآن پاک میں عموما دندہ اور وعید کو ایک ساتھ بیان فرمایا گیا ہے اور اس اسلوب کی وجہ سے قرآن کو لتابا متشابھا فرمایا ہے اور وعظ تذکیر کا یہ مئو ثر ترین انداز ہے۔ آیت سے بعض نو سمجھا ہے کہ عمل صالح ایمان کا غیر ہے کیونکہ یو دونوں عطف کے ساتھ مذکور ہیں مگر قرآن نے متعدد آیات میں عمل صالح پر زور دینے کے لیے عمل صالح کو الگ عطف سے ساتھ بیان کردیا ہے۔ ورنہ یہ بھی ایمان میں داخل ہے (ابن کثیر، شوکانی) آیت میں ظلا ظلیلا (گھنے سائے) نہایت درجہ کی راحت سے کنا یہ ہے۔ (کبیر) گھنے سائے تفسیر میں امام ابن جریر (رح) نے حضرت ابوہریرہ (رض) کی یہ روایت نقل کی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جنت میں ایک درخت ہے جس کے سایہ میں سوار سو برس تک چلے گا پھر بھی اسے طے نہ کرسکے گا۔ وہ ہمیشگی کا درخت ہے۔ (ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ یعنی دنیا کا سایہ نہ ہوگا کہ خود سایہ کے اندر بھی دھوپ چھنتی ہے وہ بالکل متصل ہوگا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : کفر اور حسد کرنے والوں کے مقابلہ میں صاحب ایمان اور صالح کردار لوگوں کا صلہ اور انجام۔ جو لوگ ایمان لائے اور صالح کردار کے حامل ہوئے جو نہی وہ دنیا کے امتحانات سے نکل کر عالم عقبیٰ میں پہنچیں گے ان کے لیے ایسے باغات ہوں گے جن میں نہریں اور آبشاریں چلتی ہوں گی۔ صاحب ایمان اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اس میں نہایت پاک و صاف، وفادار اور جانثار بیویاں ہوں گی۔ انہیں سر سبز و شاداب اور لہلہاتے ہوئے باغوں کے گھنے سایوں میں داخل کیا جائے گا۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَال اللّٰہُُ أَعْدَدْتُّ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالَا عَیْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ فَاقْرَءُ وْا إِنْ شِءْتُمْ (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ أُخْفِیَ لَھُمْ مِنْ قُرَّۃِ أَعْیُنٍ ) [ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ وأنھا مخلوقۃ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے جو کچھ تیار کیا ہے نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی بشر کے دل میں خیال پیدا ہوا چاہو تو اللہ کا فرمان پڑھ لو ” کوئی بھی نہیں جانتا کہ جنتیوں کے لیے کیا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک پوشیدہ رکھی گئی ہے۔ “ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِيِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّۃِ لَشَجَرَۃً یَسِیْرُ الرَّاکِبُ فِيْ ظِلِّھَا ماءَۃَ سَنَۃٍ وَاقْرَءُ وْا إِنْ شِءْتُمْ (وَظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ ) [ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ ....] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے میں ایک سوار سو برس تک چلتا رہے تب بھی ختم نہ ہوگا اگر چاہو تو اللہ کا فرمان (وَظِلِّ مَّمْدُوْدٍ ) پڑھو۔ “ (عَنْ اَنَسٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غَدْوَۃٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَوْ رَوْحَۃٌ خَیْرٌ مِّنَ الدُّنْیَا وَمَافِیْھَا وَلَوْ أَنَّّ امْرَاأۃً مِّنْ نِّسَاءِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ اطَّلَعَتْ إِلَی الْأَرْضِ لَأَضَاءَ تْ مَابَیْنَھُمَا وَلَمَلَأَتْ مَا بَیْنَھُمَارِیْحًا وَلَنَصِیْفُھَا عَلٰی رَأْسِھَا خَیْرٌ مِّنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق ‘ باب صفۃ الجنۃ والنار ] ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اللہ کی راہ میں نکلنا دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے بہتر ہے۔ اگر اہل جنت کی عورتوں سے کوئی ان کی طرف جھانک لے ‘ تو مشرق ومغرب اور جو ان کے درمیان ہے روشن اور معطر ہوجائے۔ نیز اس کے سر کا دوپٹہ دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے قیمتی ہے۔ “ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِيِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِنَّ فِی الْجَنَّۃِ لَشَجَرَۃً یَسِیْرُ الرَّاکِبُ فِیْ ظِلِّھَا ماءَۃَ سَنَۃٍ وَاقْرَءُ وْا إِنْ شِءْتُمْ (وَظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ ) وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِکُمْ فِی الْجَنَّۃِ خَیْرٌ مِّمَّا طَلَعََتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ اَوْتَغْرُبُ ) [ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ وأنھا مخلوقۃ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ اگر کوئی سوار اس کے سایہ میں سو سال چلتا رہے تب بھی اس کو عبور نہ کرسکے گا۔ اگر تم چاہو تو اللہ کا یہ فرمان پڑھ لو ” لمبے لمبے سائے “ اور یقیناً جنت میں تم میں سے کسی ایک شخص کی کمان کے برابر جگہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے۔ جن پر سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے۔ “ مسائل ١۔ صاحب ایمان و کردار جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔ ٢۔ جنتیوں کے لیے پاک بیویاں اور گھنے سائے ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن ازواج جنت کا حسن و جمال : ١۔ پاک بیویاں۔ (البقرۃ : ٢٥) ٢۔ خوبصورت بڑی بڑی آنکھوں والیاں۔ (الصافات : ٤٨، ٤٩) ٣۔ جنتیوں کی ہم عمر۔ (ص ٓ: ٥٢) ٤۔ یاقوت و مونگے کی طرح خوبصورت۔ (الرحمن : ٥٨) ٥۔ چھپائے ہوئے موتی۔ (الواقعہ : ٢٣) ٦۔ کنواری اور ہم عمر ہوں گی۔ (الواقعہ : ٣٦، ٣٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اہل کفر کی سزا بیان فرمانے کے بعد اہل ایمان کے انعامات کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا (وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ ) (الآیۃ) یعنی جو لوگ ایمان لائے اور اعمال صالحہ کیے ہم ان کو عنقریب ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، ان کے لیے پاکیزہ بیویاں ہوں گی وہ ظاہری الائش حیض و نفاس اور بلغم اور میل کچیل سے پاک ہوں گی اور بد اخلاقی اور بد مزاجی اور ہراس چیز سے پاک ہوں گی جو نفرت اور وحشت کا سبب ہو۔ آخر میں فرمایا (وَّ نُدْخِلُھُمْ ظِلًّا ظَلِیْلًا) (اور ہم ان کو گھنے گنجان سایہ میں داخل کریں گے) مطلب یہ ہے کہ وہ جن باغوں میں داخل ہوں گے ان میں گنجان اور گھنا سایہ ہوگا۔ گھنا سایہ خوب ٹھنڈا ہوتا ہے اور بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ سایہ بھی ہوتا ہے لیکن پتوں کے درمیان سے دھوپ بھی چھن کر آتی رہتی ہے وہاں ایسا نہ ہوگا۔ سارا سایہ متصل ہوگا اور گنجان ہوگا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے ہم ان کو عنقریب ایسے باغات میں داخل کریں گے جن کی بارہ دریوں اور سیر گاہوں کے نیچے نہریں جاری ہوں گی یہ لوگ ان باغوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ان لوگوں کے لئے ان باغات میں پاک و صاف بیویاں ہوں گی یعنی جو اخلاق کے اعتبار سے بھی پاک ہوں گی اور دوسری نجاستوں سے بھی پاک و صاف بیویاں ہوں گی یعنی جو اخلاق کے اعتبار سے بھی پاک ہوں گی اور دوسری نجاستوں سے بھی پاک ہوں گی اور ہم ان لوگوں کو نہایت گنجان سیالوں اور بےحد گھنی چھائوں والے مقامات میں داخل کردیں گے۔ (تیسیر) فمنھم من امن بہ کی آیت میں دو گروہوں کا ذکر کیا تھا روگردانی اور اعراض کرنے والوں کا انجام پہلی آیت میں بیان فرما دیا اور پہلے فریق کا ذکر اس آیت میں فرمایا مستقبل اور عنقریب سے مراد قیامت ہی کا دن ہے بیویوں کے پاک صاف ہونے کا مطلب ہم نے تیسیر میں کھول دیا ہے اور پہلے پارے میں بھی بتا چکے ہیں کہ بغض و عداوت اور حسد رکھنے سے دل صاف ہوں گے اور حیض و نفاس اور پیشاب و پاخانہ کی آلائشوں سے پاک ہوں گی۔ جنت کے نیچے نہروں کے بہنے سے مراد یہ ہے کہ جنت کے مساکن، محلات اور تفریح گاہوں کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، جیسا کہ عام طریقہ سے باغات کا قاعدہ ہے کہ باغ کے کنارے دریا بہہ رہا ہو اور دریا کا منظر محلات کے سامنے ہو۔ گنجان سایہ یا گھنی چھائوں کا مطلب بھی یہی ہے کہ جن مقامات میں سکونت پذیر ہوں گے اور جن مقامات پر بسائے جائیں گے وہ گہری اور گھنی چھائوں میں ہوں گے۔ ظل ظلیلا ایک محاورہ ہے جو مبالغہ کے لئے بولا جاتا ہے جیسے شمس شامس لیل لئیسل اور یوم الیوم وغیرہ۔ اسی سایہ کو سورة واقعہ میں وظل ممدود فرمایا ہے یعنی گھنا بھی ہوگا اور دراز بھی ہوگا ہوسکتا ہے کہ عرش الٰہی کا سایہ مراد ہو اور ہوسکتا ہے کہ رحمت کا سایہ ہو اہور ہوسکتا ہے کہ جنت کے درختوں کا سایہ ہو اور ہوسکتا ہے کہ اسباب راحت سے کنایہ ہو کیونکہ اہل زبان سایہ کو راحت کا سبب سمجھتے تھے۔ حدیث میں آتا ہے السلطان ظل اللہ (واللہ اعلم) سایہ ہوگا اور بغیر آفتاب کے ہوگا۔ بہرحال جس طرح پہلا فریق دائماً عذاب میں مبتلا رہے گا اور عذاب کا مزہ چکھتا رہے گا اسی طرح دوسرا فریق دائماً راحت و آرام میں رہے گا چونکہ یہود کا یہ عام طریقہ تھا کہ توریت کے احکام کو چھپاتے تھے اور جن تک ان احاکم کو پہنچانے کا حکم تھا ان تک نہیں پہنچاتے تھے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نعمت کو چھپاتے تھے کسی معاملہ میں پنچ بنتے تھے تو ناانصافی کرتے تھے اس لئے ا ن کے ان افعال قبیحہ پر تنبیہہ فرماتے ہیں۔ اگرچہ آیت کا نزول کسی خاص معاملہ سے تعلق رکھتا ہو لیکن حکم سب کے لئے عام ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)