The present verses and those appearing immediately earlier were revealed in the background of an incident relating to Bishr, the hypo¬crite. As we already know, he had first proposed Ka&b Ibn Ashraf, the Jew as the adjudicator of his dispute, but, later on, mutual discussions forced him to go to the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم for this purpose. Since the judgment of the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was against him, he did not accept it and went to Sayyidna ` Umar (رض) for a totally fresh decision. When the news of this incident got around in the city of Madinah, the Jews chided Muslims by saying: &What sort of people you really are? Here you are believing in a Messenger of Allah and claiming to follow him, yet you do not accept his decisions! Look, in -order that their repentance be accepted, the Jews were commanded to kill each other. This was a severe command, but we obeyed it, so much so that seventy thousand of our people were killed. If you were given a command like that, what would you have done?& Thereupon, the verse وَلَوْ أَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ (And if We had prescribed for them ...) was revealed. It means: If these hypocrites, or all common people, disbelievers or believers, were charged with some severe command, such as that of self-killing or migration like the Bani& Isra` il were ordered to do, very few of them would have, being what they are, obeyed this command. On the one hand, there is a stern warning here for people who try to seek the solutions of their disputes, not from the Messenger of Allah, or not from the Law and Way of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، but take it elsewhere. On the other hand, it answers the chiding of the Jews because this state of affairs fits the hypocrites and certainly not those who are firm in their faith as true Muslims. This is proved by what happened when this verse was revealed. Someone from among the noble Companions, may Allah be pleased with them all, said: &Allah did not put us through this trial.& When this statement was relayed to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، he said: &There are people in my community in whose heart Faith is entrenched firm like moun¬tains.& Ibn Wahab says that this statement was made by Sayyidna Abu Bakr رضی اللہ تعالیٰ عنہ . According to another narration, when Sayyidna Abu Bakr (رض) heard this verse, he said: Had this command been prescribed, by God, I would have been the first to sacrifice myself and my family to obey. According to some other narrations, when this verse was revealed, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: If this command to self-kill or migrate had come from Allah, Umm ` Abd (meaning Sayyidna ` Abdullah ibn Masud (رض) would have definitely acted accord-ingly.& As for migration, the noble Companions (رض) acted faithfully and selflessly when they left their homes in Makkah, left their properties and businesses, and migrated to Madinah. Towards the end of the verse (66), it has been said that, difficult though it may seem, yet doing, so in obedience to their Lord&s command would turn out to be better for them in the end. This will make their faith more firm, bringing a great reward from Allah, and the blessing of being guided to the straight path. This great reward promised here in the end of verse 67 for those who obey Allah and His Messenger has been described immediately after in verses 69 and 70 which follow with detailed explanations of the promised ranks. it.
خلاصہ تفسیر اور ہم اگر لوگوں پر یہ بات (بطور احکام مقصودہ کے) فرض کردیتے کہ تم خودکشی کیا کرو یا اپنے وطن سے بےوطن ہوجایا کرو تو بجز معدودے چند لوگوں کے (جو مومن کامل ہوتے) اس حکم کو کوئی بھی نہ بجالاتا (اس سے ثابت ہوا کہ کمال اطاعت کرنے والے کم ہوتے ہیں) اور اگر یہ (منافق) لوگ جو کچھ ان کو (اطاعت رسول بجان دل کی) نصیحت کی جاتی ہے اس پر عمل کیا کرتے تو ان کے لئے (دنیا میں تو بوجہ استحقاق ثواب کے) بہتر ہوتا اور (نیز با اعتبار تکمیل دین کے ان کے) ایمان کو زیادہ پختہ کرنے والا ہوتا (کیونکہ تجربہ سے ثابت ہوا کہ دین کا کام کرنے سے خود باطنی کیفیت اعتقاد و یقین کو ترقی ہوتی ہے) اور اس حالت میں جب کہ عمل سے خیریت اور تثبیت دین حاصل ہوجاتی تو آخرت میں) ہم ان کو خاص اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت فرماتے، اور ہم ان کو (جنت کا) سیدھا راستہ بتلا دیتے (کہ بےروک ٹوک جنت میں داخل ہوں جو کہ اجر عظیم ملنے کا مقام ہے۔ ) معارف ومسائل شان نزول :۔ جس واقعہ کی بناء پر یہ آیت اور اس سے پہلی آیات نازل ہوئیں، وہ بشر منافق کا معاملہ تھا، جس نے اپنے جھگڑے کے فیصلہ کے لئے پہلے کعب بن اشرف یہودی کو تجویز کیا، پھر مجبور ہو کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا اور آپ کا فیصلہ چونکہ اس کے خلاف تھا اس پر راضی نہ ہوا دوبارہ فیصلہ کرانے کے لئے حضرت عمر کے پاس پہنچا اس واقعہ کی جب مدینہ میں شہرت ہوئی تو یہود نے مسلمانوں کو عار دلائی کہ تم کیسے لوگ ہو کہ جس کو رسول مانتے ہو اور اس کے اتباع کے دعوے دار ہو، مگر اس کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کرتے، دیکھو یہودیوں کو ان کے گناہ کی توبہ کے سلسلہ میں یہ حکم ملا تھا کہ تم اس میں ایک دوسرے کو قتل کرو ہم نے تو اس شدید حکم کی تعمیل بھی کی، یہاں تک کہ ہمارے ستر ہزار آدمی مارے گئے، اگر تمہیں کوئی ایسا حکم دے دیا جاتا تو تم کیا کرتے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، ولواناً کتبنا علیھم یعنی ان منافقین کا یا عام لوگوں کا جن میں کافر و مومن سب داخل ہیں یہی حال ہے کہ اگر ان کو بنی اسرائیل کی طرح کوئی سخت حکم خودکشی یا ترک وطن کا دے دیا جاتا تو ان میں سے بہت کم آدمی اس حکم کی تعمیل کرتے۔ اس میں ان لوگوں کو سخت تنبیہ ہے جو اپنے جھگڑوں کا فیصلہ رسول اللہ یا شریعت رسول کو چھوڑ کر کسی دوسری طرف لے جاتے ہیں اور یہودی کے طعن کا جواب بھی ہے کہ یہ حال منافقین کا ہے پکے مسلمانوں کا نہیں اور شاہد اس کا یہ ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے ایک صاحب نے کہا کہ اللہ نے ہمیں اس آزمائش میں نہیں ڈالا، صحابی کا یہ کلمہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچا تو آپ نے فرمایا کہ میری امت میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے دلوں میں ایمان کا مضبوط پہاڑوں سے زیادہ جما ہوا ہے، ابن وہب کا بیان ہے کہ یہ کلمہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کا تھا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت صدیق اکبر (رض) نے یہ آیت سن کر کہا کہ اگر یہ حکم نازل ہوتا تو خدا کی قسم میں سب سے پہلے اپنے آپ اور اپنے اہل بیت کو اس پر قربان کردیتا۔ بعض روایات میں ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے پر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر یہ حکم خودکشی یا ترک وطن کا اللہ کی طرف سے آجاتا تو ابن ام عبد یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود ضرر اس پر عمل کرتے اور رہا دوسرا معاملہ ترک وطن کا تو صحابہ کرام نے اس پر تو عمل کر کے دکھلا دیا کہ اپن وطن مکہ اور اپنی تمام جائیدادوں اور تجارتوں کو چھوڑ کر مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت اختیار کرلی۔ آخر آیت میں فرمایا کہ یہ کام اگرچہ مشکل ہے، لیکن اگر وہ ہمارے فرمان کے مطابق اس کو مان لیں تو انجام کار یہی ان کے لئے بہتر ہوگا، اور یہ معلوم ان کے ایمان کو اور مضبوط کر دے گا اور ہم اس پر ان کو ثواب عظیم عطا کریں گے اور ان کو سیدھی راہ پر چلائیں گے۔ اس کے بعد آخری آیت میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرنے والوں کے درجات عظیمہ کا بیان ہے جس میں ان کو یہ بشارت دے دیگئی ہے کہ یہ لوگ جنت میں انبیاء اور صدیقین اور شہداء و صلحاء کے ساتھ ہوں گے۔ اس آیت کے نزول کا ایک خاص واقعہ ہے اور اس کی تفصیل انبیاء صدیقین، شہداء اور صالحین کے چار درجات جن کا اس آیت میں ذکر ہے ان کی تشریح اور جنت میں ان کے ساتھ ہونے کی تفسیر انشاء اللہ آگے آئے گی۔