Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 66

سورة النساء

وَ لَوۡ اَنَّا کَتَبۡنَا عَلَیۡہِمۡ اَنِ اقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ اَوِ اخۡرُجُوۡا مِنۡ دِیَارِکُمۡ مَّا فَعَلُوۡہُ اِلَّا قَلِیۡلٌ مِّنۡہُمۡ ؕ وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ فَعَلُوۡا مَا یُوۡعَظُوۡنَ بِہٖ لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمۡ وَ اَشَدَّ تَثۡبِیۡتًا ﴿ۙ۶۶﴾

And if We had decreed upon them, "Kill yourselves" or "Leave your homes," they would not have done it, except for a few of them. But if they had done what they were instructed, it would have been better for them and a firmer position [for them in faith].

اور اگر ہم ان پر یہ فرض کر دیتے ہیں کہ اپنی جانوں کو قتل کر ڈالو! یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ! تو اسے ان میں سے بہت ہی کم لوگ بجا لاتے اور اگر یہ وہی کریں جس کی انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو یقیناً یہی ان کے لئے بہتر اور بہت زیادہ مضبوطی والا ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Most People Disobey What They Are Ordered Allah says وَلَوْ أَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ أَنِ اقْتُلُواْ أَنفُسَكُمْ أَوِ اخْرُجُواْ مِن دِيَارِكُم مَّا فَعَلُوهُ إِلاَّ قَلِيلٌ مِّنْهُمْ ... And if We had ordered them (saying), "Kill yourselves (i.e. the innocent ones kill the guilty ones) or leave your homes," very few of them would have done it; Allah states that even if the people were commanded to commit what they were prohibited from doing, most of them would not submit to this command, for their wicked nature is such that they dispute orders. Allah has complete knowledge of what has not occurred, and how it would be if and when it did occur. This is why Allah said, وَلَوْ أَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ أَنِ اقْتُلُواْ أَنفُسَكُمْ (And if We had ordered them (saying), "Kill yourselves (i.e. the innocent ones kill the guilty ones)) until the end of the Ayah. This is why Allah said, ... وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُواْ مَا يُوعَظُونَ بِهِ ... but if they had done what they were told, meaning, if they do what they were commanded and refrain from what they were prohibited. ... لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ ... it would have been better for them, than disobeying the command and committing the prohibition, ... وَأَشَدَّ تَثْبِيتًا and would have strengthened their conviction, According to As-Suddi, stronger Tasdiq (conviction of faith).

عادت جب فطرت ثانیہ بن جائے اور صاحب ایمان کو بشارت رفاقت اللہ خبر دیتا ہے کہ اکثر لوگ ایسے ہیں کہ اگر انہیں ان منع کردہ کاموں کا بھی حکم دیا جاتا جنہیں وہ اس قوت کر رہے ہیں تو وہ ان کاموں کو بھی نہ کرتے اس لئے کہ ان کی ذلیل طبیعتیں حکم الہ کی مخالفت پر ہی استوار ہوئی ہیں ، پس اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کی خبردی ہے جو ظاہر نہیں ہوئی لیکن ہوتی تو کس طرح ہوتی ؟ اس آیت کو سن کر ایک بزرگ نے فرمایا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں یہ حکم دیتا تو یقینا ہم کر گزرتے لیکن اس کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس سے بچالیا ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا بیشک میری امت میں ایسے ایسے لوگ بھی ہیں جن کے دلوں میں ایمان پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوط اور ثابت ہے ۔ ( ابن ابی حاتم ) اس روایت کی دوسری سند میں ہے کہ کسی ایک صحابہ رضوان اللہ علیہم نے یہ فرمایا تھا سدی کا قول ہے کہ ایک یہودی نے حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فخریہ کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر خود ہمارا قتل بھی فرض کیا تو بھی ہم کر گزریں گے اس پر حضرت ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا واللہ اگر ہم پر یہ فرض ہوتا تو ہم بھی کر گزرتے اس پر یہ آیت اتری اور روایت میں ہے کہ جب یہ آیت اتری تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر یہ حکم ہوتا تو اس کے بجا لانے والوں میں ایک ابن ام عبد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ہوتے ہیں ( ابن ابی حاتم ) دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے اس آیت کو پڑھ کر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ بھی اس پر عمل کرنے والوں میں سے ایک ہیں ۔ ارشاد الٰہی ہے کہ اگر یہ لوگ ہمارے احکام بجا لاتے اور ہماری منع کردہ چیزوں اور کاموں سے رک جاتے تو یہ ان کے حق میں اس سے بہتر ہوتا کہ اور دنیا اور آخرت کی بہتر راہ کی رہنمائی کرتے پھر فرماتا ہے اور جو شخص اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام پر عمل کرے اور منع کردہ کاموں سے باز رہے اسے اللہ تعالیٰ عزت کے گھر میں لے جائے گا نبیوں کا رفیق بنائے گا اور صدیقوں کو جو مرتبے میں نبیوں کے بعد ہیں ان کا مصاحب بنائے گا شہیدوں مومنوں اور صالحین جن کا ظاہر باطن آراستہ ہے ان کا ہم جنس بنائے گا حیال تو کرو یہ کیسے پاکیزہ اور بہترین رفیق ہے صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا کہ ہر نبی کو اس کے مرض کے زمانے میں دنیا میں رہنے اور آخرت میں جانے کا اختیار دیا جاتا ہے جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوئے تو شدت نقاہت سے اٹھ نہیں سکتے تھے آواز بیٹھ گئی تھی لیکن میں نے سنا کہ آپ فرما رہے ہیں ان کا ساتھ جن پر اللہ نے انعام کیا جو نبی ہیں ، صدیق ہیں ، شہید ہیں ، اور نیکو کار ہیں ، یہ سن کر مجھے معلوم ہو گیا کہ اب آپ کو اختیار دیا گیا ہے ۔ یہی مطلب ہے جو دوسری حدیث میں آپ کے یہ الفاظ وارد ہوئے ہیں کہ اے اللہ میں بلند و بالا رفیق کی رفاقت کا طالب ہوں یہ کلمہ آپ نے تین مرتبہ اپنی زبان مبارک سے نکالا پھر فوت ہوگئے علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم ۔ اس آیت کے شان نزول کا بیان ابن جریر میں ہے کہ ایک انصاری حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے آپ نے دیکھا کہ سخت مغموم ہیں سبب دریافت کیا تو جواب ملا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہاں تو صبح شام ہم لوگ آپ کی خدمت میں آبیٹھے ہیں دیدار بھی ہو جاتا ہے اور دو گھڑی صحبت بھی میسر ہو جاتی ہے لیکن کل قیامت کے دن تو آپ نبیوں کی اعلیٰ مجلس میں ہوں گے ہم تو آپ تک پہنچ بھی نہ سکیں گے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ جواب نہ دیا اس پر حضور جبرائیل یہ آیت لائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آدمی بھیج کر انہیں یہ خوشخبری سنا دی ۔ یہی اثر مرسل سند بھی مروی ہے جو سند بہت ہی اچھی ہے ، حضرت ربیع رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا کہ یہ ظاہر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا درجہ آپ پر ایمان لانے والوں سے یقینا بہت ہی بڑا ہے پس جب کہ جنت میں یہ سب جمع ہوں گے تو آپس میں ایک دوسرے کو کیسے دیکھیں گے اور کیسے ملیں گے ؟ پس یہ آیت اتری اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اوپر کے درجہ والے نیچے والوں کے پاس اتر آئیں گے اور پربہار باغوں میں سب جمع ہوں گے اور اللہ کے احسانات کا ذکر اور اس کی تعریفیں کریں گے اور جو چاہیں گے پائیں گے ناز و نعم سے ہر وقت رہیں گے ۔ ابن مردویہ میں ہے ایک شخص حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ میں آپ کو اپنی جان سے اپنے اہل عیال سے اور اپنے بچوں سے بھی زیادہ محبوب رکھتا ہوں ۔ میں گھر میں ہوتا ہوں لیکن شوق زیارت مجھے بیقرار کر دیتا ہے صبر نہیں ہو سکتا دوڑتا بھاگتا آتا ہوں اور دیدار کر کے چلا جاتا ہوں لیکن جب مجھے آپ کی اور اپنی موت یاد آتی ہے اور اس کا یقین ہے کہ آپ جنت میں نبیوں کے سب سے بڑے اونچے درجے میں ہوں گے تو ڈر لگتا ہے کہ پھر میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار سے محروم ہو جاؤں گا ، آپ نے تو کوئی جواب نہیں دیا لیکن یہ آیت نازل ہوئی ۔ اس روایت کے اور بھی طریقے ہیں ، صحیح مسلم شریف میں ہے ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں رات کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں رہتا اور پانی وغیرہ لا دیا کرتا تھا ایک بار آپ نے مجھ سے فرمایا کچھ مانگ لے میں نے کہا جنت میں میں آپ کی رفاقت کا طالب ہوں فرمایا اس کے سوا اور کچھ؟ میں نے کہا وہ بھی یہی فرمایا میری رفاقت کے لئے میری مدد کر بکثرت سجدے کیا کر ، مسند احمد میں ہے ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا میں اللہ کے لا شریک ہونے کی اور آپ کے رسول ہونے کی گواہی دیتا ہوں اور رمضان کے روزے رکھتا ہوں تو آپ نے فرمایا جو مرتے دم تک اسی پر رہے گا وہ قیامت کے دن نبیوں صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ اس طرح ہو گا پھر آپ نے اپنی دو انگلیاں اٹھا کر اشارہ کر کے بتایا ۔ لیکن یہ شرط ہے کہ ماں باپ کا نافرمان نہ ہو مسند احمد میں ہے جس نے اللہ کی راہ میں ایک ہزار آیتیں پڑھیں وہ انشاء اللہ قیامت کے دن نبیوں کے صدیقوں شہیدوں اور صالحوں کے ساتھ لکھا جائے گا ، ترمذی میں ہے سچا امانت دار ، تاجر نبیوں ، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہو گا ، ان سب سے زیادہ زبردست بشارت اس حدیث میں ہے جو صحاج اور مسانید وغیرہ میں صاحبہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین کی ایک زبردست جماعت ہے بہ تواتر مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو ایک قوم سے محبت رکھتا ہے لیکن اس سے ملا نہیں تو آپ نے فرمایا ( حدیث المرء مع من احب ) ہر انسان اس کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھتا تھا حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں مسلمان جس قدر اس حدیث سے خوش ہوئے اتنا کسی اور چیز سے خوش نہیں ہوئی ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں واللہ میری محبت تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے تو مجھے امید ہے کہ اللہ مجھے بھی انہی کے ساتھ اٹھائے گا گو میرے اعمال ان جیسے نہیں ( یا اللہ تو ہمارے دل بھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے چاہنے والوں کی محبت سے بھر دے اور ہمارا حشر بھی انہی کے ساتھ کر دے آمین ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں جنتی لوگ اپنے سے بلند درجہ والے جنتیوں کو ان کے بالا خانوں میں اس طرح دیکھیں گے جیسے تم چمکتے ستارے کو مشرق یا مغرب میں دیکھتے ہو ان میں بہت کچھ فاصلہ ہو گا صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا یہ منزلیں تو انبیاء کرام کے لئے ہی مخصوص ہوں گی؟ کیوں اور وہاں تک کیسے پہنچ سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ان منزلوں تک وہ بھی پہنچیں گے جو اللہ پر ایمان لائے رسولوں کو سچا جانا اور مانا ( بخاری مسلم ) ایک حبشی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے آپ فرماتے ہیں جو پوچھنا ہو پوچھو اور سمجھو وہ کہتا ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کو صورت میں رنگ میں نبوت میں اللہ عزوجل نے ہم پر فضیلت دے رکھی ہے اگر میں بھی اس چیز پر ایمان لاؤں جس پر آپ ایمان لائے ہیں اور ان احکام کو بجا لاؤں جنہیں آپ بجا لا رہے ہیں تو کیا جنت میں آپ کا ساتھ ملے گا ؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں اس اللہ تعالیٰ کی قسم جس کے ہاتھ جگمگاتا ہوا نظر آئے گا ۔ لا الہ الا اللہ کہنے والے سے اللہ کا وعدہ ہے اور سبحان اللہ وبحمدہ کہنے والے کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں اس پر ایک اور صاحب نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب یہ حقائق ہیں تو پھر ہم کیسے ہلاک ہو سکتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا ایک انسان قیامت کے دن اس قدر اعمال لے کر آئے گا اگر کسی پہاڑ پر رکھے جائیں تو وہ بھی بوجھل ہوئے لیکن ایک ہی نعمت جو ؟ ؟ ؟ کے مقابل کھڑی ہو گی جو صرف اس کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے کا نتیجہ ہوگی اس کے سامنے مذکورہ اعمال کم نظر آئیں گے محض اس کا شکریہ میں ہی یہ اعمال کم نظر آئیں گے ہاں یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ سے اسے ڈھانک لے اور جنت دے دے اور یہ آیتیں اتریں ( هَلْ اَتٰى عَلَي الْاِنْسَانِ حِيْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْـــًٔا مَّذْكُوْرًا سے وَاِذَا رَاَيْتَ ثَمَّ رَاَيْتَ نَعِيْمًا وَّمُلْكًا كَبِيْرًا ) 76 ۔ الدہر:1 تا 20 ) تک ۔ تو حبشی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا جنت میں جن جن چیزوں کو آپ کی آنکھیں دیکھیں گی میری آنکھیں بھی دیکھ سکیں گی؟ آپ نے فرمایا ہاں اس پر وہ حبشی فرط شوق میں روئے اور اس قدر روئے کہ اسی حالت میں فوت ہوگئے رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ ان کی نعش مبارک کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر میں اتار رہے تھے یہ روایت غریب ہے اور اس میں اصولی خامیاں بھی ہیں اس کی سند بھی صغیف ہے ۔ ارشاد الٰہی ہے یہ خاص اللہ کی عنایت اور اس کا فضل ہے اس کی رحمت سے ہی یہ اس کے قابل ہوئے نہ کہ اپنے اعمال سے ، اللہ خوب جاننے والا ہے اس بخوبی معلوم ہے کہ مستحق معلوم ہدایت و توفیق کون ہے؟

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

66۔ 1 آیت میں انہی نافرمان قسم کے لوگوں کی طرف اشارہ کرکے کہا جا رہا ہے کہ اگر انہیں حکم دیا جاتا کہ ایک دوسرے کو قتل کرو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو، جب یہ آسان باتوں پر عمل نہیں کرسکے تو اس پر عمل کس طرح کرسکتے تھے ؟ یا اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے مطابق ان کے بابت فرمایا جو یقینا واقعات کے مطابق ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سخت حکموں پر تو یقینا مشکل ہے لیکن اللہ تعالیٰ بہت شفیق اور مہربان ہے اور اس کے احکامات بھی آسان ہیں۔ اس لیے اگر وہ ان حکموں پر چلیں جن کی ان کو نصیحت کی جاتی ہے تو یہ ان کے لیے بہتر اور ثابت قدمی کا باعث ہو۔ کیونکہ ایمان اطاعت سے زیادہ اور معصیت سے کم ہوتا ہے نیکی سے نیکی کا راستہ کھلتا اور بدی سے بدی متولد ہوتی ہے یعنی اس کا راستہ کشادہ اور آسان ہوتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٨] یعنی ایسے منافقین جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلہ کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔ اگر ہم کسی بنا پر ان پر قتل واجب کردیتے جیسا کہ بچھڑا پوجنے والوں پر واجب کیا تھا یا یہاں (مدینہ) سے کسی اور جگہ نقل مکانی یا ہجرت کرنے کو کہتے تو اس قسم کی قربانیاں یہ لوگ کیسے بجا لاسکتے تھے ؟ اور اگر یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کردیتے تو ان کی منزل مقصود قریب تر ہوجاتی اور یہ بہرحال فائدہ میں رہتے۔ یہاں دنیا میں بھی باوقار زندگی نصیب ہوتی اور آخرت میں بھی بڑے اجر کے مستحق ہوتے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ان آیات کا تعلق بھی منافقین سے ہے، ان میں انھیں اخلاص اور ترک نفاق کی ترغیب دی گئی ہے۔ یعنی چاہیے تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے میں جان دینے سے بھی دریغ نہ کیا جائے، (مگر یہ ایسے ہیں کہ ) اگر کہیں ان کو اللہ تعالیٰ اپنی جانیں ہلاک کر ڈالنے یا اپنے گھر چھوڑ دینے کا حکم دے دیتا تو یہ اسے کب بجا لانے والے تھے، جو حکم ہم نے انھیں دیے ہیں وہ نہایت آسان اور محض ان کی خیر خواہی کے لیے ہیں، نصیحت مانیں اور ان احکام پر چلیں، نفاق جاتا رہے گا، ایمان کامل نصیب ہوگا اس کو غنیمت سمجھیں۔ (موضح) 2 ابن عاشور فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں یہ تمہید ہے جہاد کے ان احکام کی جو ساتھ ہی شروع ہو رہے ہیں : ( يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوْا جَمِيْعًا) [ النساء : ٧١ ] اور ان آیات کے ساتھ مناسبت یہ بھی ہے کہ اگر ہم ان پر ہجرت یا قتال ( اَنِ اقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِيَارِكُمْ ) فرض کردیتے تو بہت کم لوگ اس پر عمل کرتے، لیکن اگر وہ ایسا کرتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا اور بیشمار اجر کا باعث ہوتا۔ یعنی ابھی تو ایمان کے اعلیٰ مدارج جو اسلام کے کوہان کی چوٹی ہیں، ان کا حکم بھی آنے والا ہے، کجا یہ کہ یہ لوگ فیصلے بھی کہیں اور سے کروانا چاہتے ہیں۔ [ التحریر والتنویر ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The present verses and those appearing immediately earlier were revealed in the background of an incident relating to Bishr, the hypo¬crite. As we already know, he had first proposed Ka&b Ibn Ashraf, the Jew as the adjudicator of his dispute, but, later on, mutual discussions forced him to go to the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم for this purpose. Since the judgment of the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was against him, he did not accept it and went to Sayyidna ` Umar (رض) for a totally fresh decision. When the news of this incident got around in the city of Madinah, the Jews chided Muslims by saying: &What sort of people you really are? Here you are believing in a Messenger of Allah and claiming to follow him, yet you do not accept his decisions! Look, in -order that their repentance be accepted, the Jews were commanded to kill each other. This was a severe command, but we obeyed it, so much so that seventy thousand of our people were killed. If you were given a command like that, what would you have done?& Thereupon, the verse وَلَوْ أَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ (And if We had prescribed for them ...) was revealed. It means: If these hypocrites, or all common people, disbelievers or believers, were charged with some severe command, such as that of self-killing or migration like the Bani& Isra` il were ordered to do, very few of them would have, being what they are, obeyed this command. On the one hand, there is a stern warning here for people who try to seek the solutions of their disputes, not from the Messenger of Allah, or not from the Law and Way of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، but take it elsewhere. On the other hand, it answers the chiding of the Jews because this state of affairs fits the hypocrites and certainly not those who are firm in their faith as true Muslims. This is proved by what happened when this verse was revealed. Someone from among the noble Companions, may Allah be pleased with them all, said: &Allah did not put us through this trial.& When this statement was relayed to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، he said: &There are people in my community in whose heart Faith is entrenched firm like moun¬tains.& Ibn Wahab says that this statement was made by Sayyidna Abu Bakr رضی اللہ تعالیٰ عنہ . According to another narration, when Sayyidna Abu Bakr (رض) heard this verse, he said: Had this command been prescribed, by God, I would have been the first to sacrifice myself and my family to obey. According to some other narrations, when this verse was revealed, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: If this command to self-kill or migrate had come from Allah, Umm ` Abd (meaning Sayyidna ` Abdullah ibn Masud (رض) would have definitely acted accord-ingly.& As for migration, the noble Companions (رض) acted faithfully and selflessly when they left their homes in Makkah, left their properties and businesses, and migrated to Madinah. Towards the end of the verse (66), it has been said that, difficult though it may seem, yet doing, so in obedience to their Lord&s command would turn out to be better for them in the end. This will make their faith more firm, bringing a great reward from Allah, and the blessing of being guided to the straight path. This great reward promised here in the end of verse 67 for those who obey Allah and His Messenger has been described immediately after in verses 69 and 70 which follow with detailed explanations of the promised ranks. it.

خلاصہ تفسیر اور ہم اگر لوگوں پر یہ بات (بطور احکام مقصودہ کے) فرض کردیتے کہ تم خودکشی کیا کرو یا اپنے وطن سے بےوطن ہوجایا کرو تو بجز معدودے چند لوگوں کے (جو مومن کامل ہوتے) اس حکم کو کوئی بھی نہ بجالاتا (اس سے ثابت ہوا کہ کمال اطاعت کرنے والے کم ہوتے ہیں) اور اگر یہ (منافق) لوگ جو کچھ ان کو (اطاعت رسول بجان دل کی) نصیحت کی جاتی ہے اس پر عمل کیا کرتے تو ان کے لئے (دنیا میں تو بوجہ استحقاق ثواب کے) بہتر ہوتا اور (نیز با اعتبار تکمیل دین کے ان کے) ایمان کو زیادہ پختہ کرنے والا ہوتا (کیونکہ تجربہ سے ثابت ہوا کہ دین کا کام کرنے سے خود باطنی کیفیت اعتقاد و یقین کو ترقی ہوتی ہے) اور اس حالت میں جب کہ عمل سے خیریت اور تثبیت دین حاصل ہوجاتی تو آخرت میں) ہم ان کو خاص اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت فرماتے، اور ہم ان کو (جنت کا) سیدھا راستہ بتلا دیتے (کہ بےروک ٹوک جنت میں داخل ہوں جو کہ اجر عظیم ملنے کا مقام ہے۔ ) معارف ومسائل شان نزول :۔ جس واقعہ کی بناء پر یہ آیت اور اس سے پہلی آیات نازل ہوئیں، وہ بشر منافق کا معاملہ تھا، جس نے اپنے جھگڑے کے فیصلہ کے لئے پہلے کعب بن اشرف یہودی کو تجویز کیا، پھر مجبور ہو کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا اور آپ کا فیصلہ چونکہ اس کے خلاف تھا اس پر راضی نہ ہوا دوبارہ فیصلہ کرانے کے لئے حضرت عمر کے پاس پہنچا اس واقعہ کی جب مدینہ میں شہرت ہوئی تو یہود نے مسلمانوں کو عار دلائی کہ تم کیسے لوگ ہو کہ جس کو رسول مانتے ہو اور اس کے اتباع کے دعوے دار ہو، مگر اس کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کرتے، دیکھو یہودیوں کو ان کے گناہ کی توبہ کے سلسلہ میں یہ حکم ملا تھا کہ تم اس میں ایک دوسرے کو قتل کرو ہم نے تو اس شدید حکم کی تعمیل بھی کی، یہاں تک کہ ہمارے ستر ہزار آدمی مارے گئے، اگر تمہیں کوئی ایسا حکم دے دیا جاتا تو تم کیا کرتے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، ولواناً کتبنا علیھم یعنی ان منافقین کا یا عام لوگوں کا جن میں کافر و مومن سب داخل ہیں یہی حال ہے کہ اگر ان کو بنی اسرائیل کی طرح کوئی سخت حکم خودکشی یا ترک وطن کا دے دیا جاتا تو ان میں سے بہت کم آدمی اس حکم کی تعمیل کرتے۔ اس میں ان لوگوں کو سخت تنبیہ ہے جو اپنے جھگڑوں کا فیصلہ رسول اللہ یا شریعت رسول کو چھوڑ کر کسی دوسری طرف لے جاتے ہیں اور یہودی کے طعن کا جواب بھی ہے کہ یہ حال منافقین کا ہے پکے مسلمانوں کا نہیں اور شاہد اس کا یہ ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے ایک صاحب نے کہا کہ اللہ نے ہمیں اس آزمائش میں نہیں ڈالا، صحابی کا یہ کلمہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچا تو آپ نے فرمایا کہ میری امت میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے دلوں میں ایمان کا مضبوط پہاڑوں سے زیادہ جما ہوا ہے، ابن وہب کا بیان ہے کہ یہ کلمہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کا تھا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت صدیق اکبر (رض) نے یہ آیت سن کر کہا کہ اگر یہ حکم نازل ہوتا تو خدا کی قسم میں سب سے پہلے اپنے آپ اور اپنے اہل بیت کو اس پر قربان کردیتا۔ بعض روایات میں ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے پر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر یہ حکم خودکشی یا ترک وطن کا اللہ کی طرف سے آجاتا تو ابن ام عبد یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود ضرر اس پر عمل کرتے اور رہا دوسرا معاملہ ترک وطن کا تو صحابہ کرام نے اس پر تو عمل کر کے دکھلا دیا کہ اپن وطن مکہ اور اپنی تمام جائیدادوں اور تجارتوں کو چھوڑ کر مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت اختیار کرلی۔ آخر آیت میں فرمایا کہ یہ کام اگرچہ مشکل ہے، لیکن اگر وہ ہمارے فرمان کے مطابق اس کو مان لیں تو انجام کار یہی ان کے لئے بہتر ہوگا، اور یہ معلوم ان کے ایمان کو اور مضبوط کر دے گا اور ہم اس پر ان کو ثواب عظیم عطا کریں گے اور ان کو سیدھی راہ پر چلائیں گے۔ اس کے بعد آخری آیت میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرنے والوں کے درجات عظیمہ کا بیان ہے جس میں ان کو یہ بشارت دے دیگئی ہے کہ یہ لوگ جنت میں انبیاء اور صدیقین اور شہداء و صلحاء کے ساتھ ہوں گے۔ اس آیت کے نزول کا ایک خاص واقعہ ہے اور اس کی تفصیل انبیاء صدیقین، شہداء اور صالحین کے چار درجات جن کا اس آیت میں ذکر ہے ان کی تشریح اور جنت میں ان کے ساتھ ہونے کی تفسیر انشاء اللہ آگے آئے گی۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْہِمْ اَنِ اقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِيَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْہُ اِلَّا قَلِيْلٌ مِّنْھُمْ۝ ٠ۭ وَلَوْ اَنَّھُمْ فَعَلُوْا مَا يُوْعَظُوْنَ بِہٖ لَكَانَ خَيْرًا لَّھُمْ وَاَشَدَّ تَثْبِيْتًا۝ ٦٦ۙ كتب ( فرض) ويعبّر عن الإثبات والتّقدیر والإيجاب والفرض والعزم بِالْكِتَابَةِ ، ووجه ذلك أن الشیء يراد، ثم يقال، ثم يُكْتَبُ ، فالإرادة مبدأ، والکِتَابَةُ منتهى. ثم يعبّر عن المراد الذي هو المبدأ إذا أريد توكيده بالکتابة التي هي المنتهى، قال : كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي [ المجادلة/ 21] ، وقال تعالی: قُلْ لَنْ يُصِيبَنا إِلَّا ما كَتَبَ اللَّهُ لَنا [ التوبة/ 51] ، لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ [ آل عمران/ 154] نیز کسی چیز کے ثابت کردینے اندازہ کرنے ، فرض یا واجب کردینے اور عزم کرنے کو کتابہ سے تعبیر کرلیتے ہیں اس لئے کہ پہلے پہل تو کسی چیز کے متعلق دل میں خیال پیدا ہوتا ہے پھر زبان سے ادا کی جاتی ہے اور آخر میں لکھ جاتی ہے لہذا ارادہ کی حیثیت مبداء اور کتابت کی حیثیت منتھیٰ کی ہے پھر جس چیز کا ابھی ارادہ کیا گیا ہو تاکید کے طورپر اسے کتب س تعبیر کرلیتے ہیں جو کہ دراصل ارادہ کا منتہیٰ ہے ۔۔۔ چناچہ فرمایا : كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي[ المجادلة/ 21] خدا کا حکم ناطق ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ضرور غالب رہیں گے ۔ قُلْ لَنْ يُصِيبَنا إِلَّا ما كَتَبَ اللَّهُ لَنا [ التوبة/ 51] کہہ دو کہ ہم کو کوئی مصیبت نہیں پہنچ سکتی بجز اس کے کہ جو خدا نے ہمارے لئے مقدر کردی ہے ۔ لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ [ آل عمران/ 154] تو جن کی تقدیر میں مار جانا لکھا تھا ۔ وہ اپنی اپنی قتل گاہوں کی طرف ضرو ر نکل آتے ۔ قتل أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ( ق ت ل ) القتل ( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا اعتبار کیا جائے تو اسے قتل کہا جاتا ہے اور اگر صرف روح کے فوت ہونے کا اعتبار کیا جائے تو اسے موت کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں قرآن میں ہے : ۔ أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] خرج خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ، ( خ رج ) خرج ۔ ( ن) خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں سے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔ ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] أي : نعم شيئا يعظکم به، وقوله : فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] فقد أجيز أن يكون ما نكرة في قوله : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها [ البقرة/ 26] ، وقد أجيز أن يكون صلة، فما بعده يكون مفعولا . تقدیره : أن يضرب مثلا بعوضة الثالث : الاستفهام، ويسأل به عن جنس ذات الشیء، ونوعه، وعن جنس صفات الشیء، ونوعه، وقد يسأل به عن الأشخاص، والأعيان في غير الناطقین . وقال بعض النحويين : وقد يعبّر به عن الأشخاص الناطقین کقوله تعالی: إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] ، إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] وقال الخلیل : ما استفهام . أي : أيّ شيء تدعون من دون اللہ ؟ وإنما جعله كذلك، لأنّ «ما» هذه لا تدخل إلّا في المبتدإ والاستفهام الواقع آخرا . الرّابع : الجزاء نحو : ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ الآية [ فاطر/ 2] . ونحو : ما تضرب أضرب . الخامس : التّعجّب نحو : فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] . وأمّا الحروف : فالأوّل : أن يكون ما بعده بمنزلة المصدر كأن الناصبة للفعل المستقبَل . نحو : وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] فإنّ «ما» مع رَزَقَ في تقدیر الرِّزْق، والدّلالة علی أنه مثل «أن» أنه لا يعود إليه ضمیر لا ملفوظ به ولا مقدّر فيه، وعلی هذا حمل قوله : بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] ، وعلی هذا قولهم : أتاني القوم ما عدا زيدا، وعلی هذا إذا کان في تقدیر ظرف نحو : كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] ، كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] ، كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] . وأما قوله : فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] فيصحّ أن يكون مصدرا، وأن يكون بمعنی الذي . واعلم أنّ «ما» إذا کان مع ما بعدها في تقدیر المصدر لم يكن إلّا حرفا، لأنه لو کان اسما لعاد إليه ضمیر، وکذلک قولک : أريد أن أخرج، فإنه لا عائد من الضمیر إلى أن، ولا ضمیر لهابعده . الثاني : للنّفي وأهل الحجاز يعملونه بشرط نحو : ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] «1» . الثالث : الکافّة، وهي الدّاخلة علی «أنّ» وأخواتها و «ربّ» ونحو ذلك، والفعل . نحو : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ، إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] ، كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] وعلی ذلك «ما» في قوله : رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] ، وعلی ذلك : قَلَّمَا وطَالَمَا فيما حكي . الرابع : المُسَلِّطَة، وهي التي تجعل اللفظ متسلِّطا بالعمل، بعد أن لم يكن عاملا . نحو : «ما» في إِذْمَا، وحَيْثُمَا، لأنّك تقول : إذما تفعل أفعل، وحیثما تقعد أقعد، فإذ وحیث لا يعملان بمجرَّدهما في الشّرط، ويعملان عند دخول «ما» عليهما . الخامس : الزائدة لتوکيد اللفظ في قولهم : إذا مَا فعلت کذا، وقولهم : إمّا تخرج أخرج . قال : فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] ، وقوله : إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما[ الإسراء/ 23] . ( ما ) یہ عربی زبان میں دو قسم پر ہے ۔ اسمی اور حر فی پھر ہر ایک پانچ قسم پر ہے لہذا کل دس قسمیں ہیں ( 1 ) ما اسمی ہو تو واحد اور تذکیر و تانیث کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے ۔ پھر لفظا مفرد ہونے کے لحاظ سے اس کی طرف ضمیر مفرد بھی لوٹ سکتی ہے ۔ اور معنی جمع ہونے کی صورت میں ضمیر جمع کا لانا بھی صحیح ہوتا ہے ۔ یہ ما کبھی بمعنی الذی ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] اور یہ ( لوگ ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پر ستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں ۔ تو یہاں ما کی طرف یضر ھم میں مفرد کی ضمیر لوٹ رہی ہے اس کے بعد معنی جمع کی مناسب سے هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] آگیا ہے اسی طرح آیت کریمہ : ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جوان کو آسمانوں اور زمین میں روزیدینے کا ذرہ بھی اختیار نہیں رکھتے میں بھی جمع کے معنی ملحوظ ہیں اور آیت کریمہ : ۔ بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] کہ تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے ۔ میں بھی جمع کے معنی مراد ہیں اور کبھی نکرہ ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] بہت خوب نصیحت کرتا ہے ۔ تو یہاں نعما بمعنی شیئا ہے نیز فرمایا : ۔ فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] تو وہ بھی خوب ہیں ایت کریمہ : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها[ البقرة/ 26] کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کیس چیز کی میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما نکرہ بمعنی شیاء ہو اور یہ بھی کہ ماصلہ ہو اور اس کا ما بعد یعنی بعوضۃ مفعول ہو اور نظم کلام دراصل یوں ہو أن يضرب مثلا بعوضة اور کبھی استفھا فیہ ہوتا ہے اس صورت میں کبھی کبھی چیز کی نوع یا جنس سے سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی کسی چیز کی صفات جنسیہ یا نوعیہ کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی غیر ذوی العقول اشخاص اور اعیان کے متعلق سوال کے لئے بھی آجاتا ہے ۔ بعض علمائے نحو کا قول ہے کہ کبھی اس کا اطلاق اشخاص ذوی العقول پر بھی ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] مگر ان ہی بیویوں یا ( کنیزوں سے ) جو ان کی ملک ہوتی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں خواہ وہ کچھ ہی ہو خدا اسے جانتا ہے ۔ میں خلیل نے کہا ہے کہ ماتدعون میں ما استفہامیہ ہے ای شئی تدعون من دون اللہ اور انہوں نے یہ تکلف اس لئے کیا ہے کہ یہ ہمیشہ ابتداء کلام میں واقع ہوتا ہے اور مابعد کے متعلق استفہام کے لئے آتا ہے ۔ جو آخر میں واقع ہوتا ہے جیسا کہ آیت : ۔ ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُالآية [ فاطر/ 2] خدا جو اپنی رحمت کا در وازہ کھول دے اور مثال ماتضرب اضرب میں ہے ۔ اور کبھی تعجب کے لئے ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] یہ ( آتش جہنم کیسی بر داشت کرنے والے ہیں ۔ ما حرفی ہونے کی صورت میں بھی پانچ قسم پر ہے اول یہ کہ اس کا بعد بمنزلہ مصدر کے ہو جیسا کہ فعل مستقبل پر ان ناصبہ داخل ہونے کی صورت میں ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ تو یہاں ما رزق بمعنی رزق مصدر کے ہے اور اس ما کے بمعنی ان مصدر یہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کی طرف کہیں بھی لفظا ما تقدیر اضمیر نہیں لوٹتی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] اور ان کے جھوٹ بولتے کے سبب ۔ میں بھی ما مصدر ری معنی پر محمول ہے ۔ اسی طرح اتانیالقوم ماعدا زیدا میں بھی ما مصدر یہ ہے اور تقدیر ظرف کی صورت میں بھی ما مصدر یہ ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] جب بجلی ( چمکتی اور ) ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں ۔ كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] یہ جب لڑائی کے لئے آگ جلاتے ہیں ۔ خدا اس کو بجھا دیتا ہے ۔ كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] جب ( اس کی آگ ) بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو ( عذاب دینے ) کے لئے اور بھڑ کا دیں گے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] پس جو حکم تم کو ( خدا کی طرف سے ملا ہے وہ ( لوگوں ) کو سنا دو ۔ میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما مصدر یہ ہوا اور یہ بھی کہ ما موصولہ بمعنی الذی ہو ۔ یاد رکھو کہ ما اپنے مابعد کے ساتھ مل کر مصدری معنی میں ہونے کی صورت میں ہمیشہ حرفی ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ اسی ہو تو اس کی طرف ضمیر کا لوٹنا ضروری ہے پس یہ ارید ان اخرک میں ان کی طرح ہوتا ہے جس طرح ان کے بعد ضمیر نہیں ہوتی جو اس کی طرف لوٹ سکے اسی طرح ما کے بعد بھی عائد ( ضمیر نہیں آتی ۔ دوم ما نافیہ ہے ۔ اہل حجاز اسے مشروط عمل دیتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] یہ آدمی نہیں ہے تیسرا ما کا فہ ہے جو ان واخواتھا اور ( رب کے ساتھ مل کر فعل پر داخل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] نہیں بلکہ ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں ۔ كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] گویا موت کی طرف دھکیلے جارہے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے ۔ میں بھی ما کافہ ہی ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ قلما اور لما میں بھی ما کافہ ہوتا ہے ۔ چہارم ما مسلمۃ یعنی وہ ما جو کسی غیر عامل کلمہ کو عامل بنا کر مابعد پر مسلط کردیتا ہے جیسا کہ اذا ما وحیتما کا ما ہے کہ ما کے ساتھ مرکب ہونے سے قبل یہ کلمات غیر عاملہ تھے لیکن ترکیب کے بعد اسمائے شرط کا سا عمل کرتے ہیں اور فعل مضارع کو جز م دیتے ہیں جیسے حیثما نقعد اقعد وغیرہ پانچواں مازائدہ ہے جو محض پہلے لفظ کی توکید کے لئے آتا ہے جیسے اذا مافعلت کذا ( جب تم ایسا کرو ماتخرج اخرج اگر تم باہر نکلو گے تو میں بھی نکلو نگا قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] اگر تم کسی آدمی کو دیکھوں ۔ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما [ الإسراء/ 23] اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھا پے کو پہنچ جائیں ۔ فعل الفِعْلُ : التأثير من جهة مؤثّر، وهو عامّ لما کان بإجادة أو غير إجادة، ولما کان بعلم أو غير علم، وقصد أو غير قصد، ولما کان من الإنسان والحیوان والجمادات، والعمل مثله، ( ف ع ل ) الفعل کے معنی کسی اثر انداز کی طرف سے اثر اندازی کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ تاثیر عمدگی کے ساتھ ہو یا بغیر عمدگی کے ہو اور علم سے ہو یا بغیر علم کے قصدا کی جائے یا بغیر قصد کے پھر وہ تاثیر انسان کی طرف سے ہو یا دو سے حیوانات اور جمادات کی طرف سے ہو یہی معنی لفظ عمل کے ہیں ۔ دار الدَّار : المنزل اعتبارا بدورانها الذي لها بالحائط، وقیل : دارة، وجمعها ديار، ثم تسمّى البلدة دارا، والصّقع دارا، والدّنيا كما هي دارا، والدّار الدّنيا، والدّار الآخرة، إشارة إلى المقرّين في النّشأة الأولی، والنّشأة الأخری. وقیل : دار الدّنيا، ودار الآخرة، قال تعالی: لَهُمْ دارُ السَّلامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الأنعام/ 127] ، أي : الجنة، ( د و ر ) الدار ۔ منزل مکان کو کہتے ہیں کیونکہ وہ چار دیواری سے گھرا ہوتا ہے بعض نے دراۃ بھی کہا جاتا ہے ۔ اس کی جمع دیار ہے ۔ پھر دار کا لفظ شہر علاقہ بلکہ سارے جہان پر بولا جاتا ہے اور سے نشاۃ اولٰی اور نشاہ ثانیہ میں دو قرار گاہوں کی طرف اشارہ ہے بعض نے ( باضافت ) بھی کہا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ : لَهُمْ دارُ السَّلامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الأنعام/ 127] ان کے لئے ان کے اعمال کے صلے میں پروردگار کے ہاں سلامتی کا گھر ہے ۔ قل القِلَّةُ والکثرة يستعملان في الأعداد، كما أنّ العظم والصّغر يستعملان في الأجسام، ثم يستعار کلّ واحد من الکثرة والعظم، ومن القلّة والصّغر للآخر . وقوله تعالی: ثُمَّ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا[ الأحزاب/ 60] ( ق ل ل ) القلۃ والکثرۃ بلحاظ اصل وضع کے صفات عدد سے ہیں جیسا کہ عظم اور صغر صفات اجسام سے ہیں بعد کثرت وقلت اور عظم وصغڑ میں سے ہر ایک دوسرے کی جگہ بطور استعارہ استعمال ہونے لگا ہے اور آیت کریمہ ؛ثُمَّ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا[ الأحزاب/ 60] پھر وہاں تمہارے پڑوس میں نہیں رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن ۔ میں قلیلا سے عرصہ قلیل مراد ہے ۔ وعظ الوَعْظُ : زجر مقترن بتخویف . قال الخلیل . هو التّذكير بالخیر فيما يرقّ له القلب، والعِظَةُ والمَوْعِظَةُ : الاسم . قال تعالی: يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ [ النحل/ 90] ( و ع ظ ) الوعظ کے معنی ایسی زجر تو بیخ کے ہیں جس میں خوف کی آمیزش ہو خلیل نے اس کے معنی کئے ہیں خیر کا اس طرح تذکرہ کرنا جس سے دل میں رقت پیدا ہوا عظۃ وموعضۃ دونوں اسم ہیں قرآن میں ہے : ۔ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ [ النحل/ 90] نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو ۔ شد الشَّدُّ : العقد القويّ. يقال : شَدَدْتُ الشّيء : قوّيت عقده، قال اللہ : وَشَدَدْنا أَسْرَهُمْ [ الإنسان/ 28] ، ( ش دد ) الشد یہ شدد ت الشئی ( ن ) کا مصدر ہے جس کے معنی مضبوط گرہ لگانے کے ہیں ۔ قرآں میں ہے : وَشَدَدْنا أَسْرَهُمْ [ الإنسان/ 28] اور ان کے مفاصل کو مضبوط بنایا ۔ ثبت الثَّبَات ضدّ الزوال، يقال : ثَبَتَ يَثْبُتُ ثَبَاتاً ، قال اللہ تعالی: يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا [ الأنفال/ 45] ( ث ب ت ) الثبات یہ زوال کی ضد ہے اور ثبت ( ن ) ثباتا کے معنی ایک حالت پر جمے رہنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا [ الأنفال/ 45] مومنو جب ( کفار کی ) کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٦۔ ٦٧۔ ٦٨) جیسا کہ ہم نے بنی اسرائیل پر فرض کیا تھا اگر اسی طرح ان لوگوں پر بھی ہم یہ بات فرض کردیتے تو مخلص لوگوں کے علاوہ جن کے رئیس ثابت بن قیس بن شماس انصاری ہیں اور کوئی بھی اس کو خوشی سے بجا نہ لاتا۔ اور اگر یہ منافقین توبہ اور اخلاص پر عمل کرتے تو یہ چیز آخرت میں بھی ان کے لیے بہتر ہوتی اور دنیا میں بھی ان کے ایمان کو اور پختہ کرتی اور جس چیز کا ان لوگوں کو حکم دیا گیا تھا، اگر یہ اس کی بجا آوری کرتے تو جنت میں ہم ان کو اپنے پاس سے اجر عظیم عطا کرتے اور دنیا میں بھی ایسے دین کے یہاں پسندیدہ ہے یعنی دین اسلام پر ان کو پختگی عطا کرتے۔ شان نزول : (آیت) ” ولو انا کتبنا علیہم ان اقتلوا (الخ) ابن جریر (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ جس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی، تو ثابت بن قیس بن شماس انصاری اور ایک یہودی نے آپس میں فخر کیا، یہودی کہنے لگا اللہ کی قسم جب اللہ تعالیٰ نے ہم پر کود کشی فرض کی تو ہم نے خود کشی کرلی، ثابت بولے اللہ کی قسم اگر ہم پر بھی خود کشی فرض کی جاتی تو ہم ایسا کرلیتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٦ (وَلَوْ اَنَّا کَتَبْنَا عَلَیْہِمْ اَنِ اقْتُلُوْآ اَنْفُسَکُمْ ) (اَوِاخْرُجُوْا مِنْ دِیَارِکُمْ ) (مَّا فَعَلُوْہُ الاَّ قَلِیْلٌ مِّنْہُمْ ط) (وَلَوْ اَنَّہُمْ فَعَلُوْا مَا یُوْعَظُوْنَ بِہٖ ) اس کا ترجمہ اس طرح بھی کیا گیا ہے : اور اگر یہ لوگ وہ کرتے جس کی انہیں ہدایت کی جاتی یعنی اپنے آپ کو قتل کرنا اور اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہونا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

96. As these people are not prepared to endure even minor losses and inconveniences in order to follow the law of God, they can never be expected to make big sacrifices. If asked either to lay down their lives or to give up their homes and families for the sake of the Truth they would fly straight back to unbelief and disobedience. 97. Had these people been able to free themselves of uncertainty, hesitation and ambivalence, and to resolve firmly to follow and obey the Prophet (peace be on him), their lives would have been spared the instability from which they suffer. Their way of thinking, their morals and their practical dealings would all have found permanent and stable foundations, and they would have enjoyed the blessings granted only to those who follow the one straight path with firmness and resolution. For one who is subject to indecision and hesitation, who keeps changing from one direction to another in a state of uncertainty, life is a continuous exercise in futility.

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :96 یعنی جب ان کا حال یہ ہے کہ شریعت کی پابندی کرنے میں ذرا سا نقصان یا تھوڑی سی تکلیف بھی یہ برداشت نہیں کر سکتے تو ان سے کسی بڑی قربانی کی ہرگز توقع نہیں کی جا سکتی ۔ اگر جان دینے یا گھر بار چھوڑنے کا مطالبہ ان سے کیا جائے تو یہ فوراً بھاگ کھڑے ہوں گے اور ایمان و اطاعت کے بجائے کفر و نافرمانی کی راہ لیں گے ۔ سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :97 یعنی اگر یہ لوگ شک اور تذبذب اور تردد چھوڑ کر یکسوئی کے ساتھ رسول کی اطاعت و پیروی پر قائم ہو جاتے اور ڈانواں ڈول نہ رہتے تو ان کی زندگی تزلزل سے محفوظ ہو جاتی ۔ ان کے خیالات ، اخلاق اور معاملات سب کے سب ایک مستقل اور پائدار بنیاد پر قائم ہو جاتے اور یہ ان برکات سے بہرہ ور ہوتے جو ایک شاہراہ مستقیم پر ثابت قدمی کے ساتھ چلنے سے ہی حاصل ہوا کرتی ہیں ۔ جو شخص تذبذب اور تردد کی حالت میں مبتلا ہو ، کبھی اس راستہ پر چلے اور کبھی اس راستہ پر ، اور اطمینان کسی راستہ کے بھی صحیح ہونے پر اسے حاصل نہ ہو اس کی ساری زندگی نقش بر آب کی طرح بسر ہوتی ہے اور سعی لا حاصل بن کر رہ جاتی ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

44: مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو تو بڑے سخت قسم کے احکام دیئے گئے تھے جن میں توبہ کے طور پر ایک دوسرے کو قتل کرنا بھی شامل تھا، جس کا ذکرسورۂ بقرہ (۵۴) میں آیا ہے، اب اگر کوئی ایسا سخت حکم دیاجاتا تو ان میں سے کوئی بھی عمل نہ کرتا۔ اب اس سے بہت آسان حکم یہ دیا جارہا ہے کہ آنحضرتﷺ کے اَحکام کو دِل وجان سے تسلیم کرلو، لہٰذا عافیت کا راستہ یہی ہے کہ وہ آپﷺ کے صحیح معنیٰ میں فرماں برادار بن جائیں۔ بعض روایات میں ہے کہ کچھ یہودیوں نے یہ شیخی بھی بگھاری تھی کہ ہم توایسی فرماں برادار قوم ہیں کہ جب ہمارے آبا ؤاجداد کو یہ حکم ہوا کہ وہ ایک دوسرے کو قتل کریں تو انہوں نے اس جیسے سخت حکم پر عمل کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا، یہ آیت ان کی اس بات کی طرف بھی اشارہ کررہی ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(66 ۔ 68) ۔ اوپر اللہ کے رسول کی فرمانبرداری کا ذکر تھا ان آیتوں میں ان کی تاکید اور طرح سے فرمائی۔ تفسیر سدی وغیرہ میں ان آیتوں کی شان نزول کی بابت جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ مدینہ کے گردونواح میں جو یہود رہتے تھے ان میں سے کسی نے بعض مسلمانوں کے روبرو ذکر کیا کہ ہمارے بڑوں پر بچھڑا پوجنے کی توبہ قتل قرار پائی۔ اور ہمارے بڑوں نے اس پر عمل کیا۔ مسلمانی شریعت میں تو ایسا سخت حکم کوئی بھی نہیں ہے۔ مسلمانوں نے اس کا جواب دیا کہ ہمارے اوپر بھی اگر کوئی ایسا حکم نازل ہوتا تو ہم ضرور اس کی تعمیل کرتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں ١۔ اور فرمایا کہ حال کی شریعت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی فرمانبرداری لازم کردی ہے وہ بھی اسے مسلمانوں سے پوری نہیں ہوسکتی جن کا ذکر اوپر کی آیتوں میں گذرا ایسی حالت میں قتل نفس یا جلا وطنی کا کوئی حکم حال کی شریعت میں نازل ہوتا تو بہت تھوڑے لوگ اس پر عمل کرتے پھر فرمایا حال کی شریعت میں جن باتوں کے کرنے اور نہ کرنے کا حکم ہے اگر حال کے مسلمان اس پر پوری پابندی نیک نیتی سے کریں گے تو ان کی بہتری اور ان کی فرمانبرداری کی مضبوطی کی نشانی ہے اور جب یہ لوگ ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ اپنی توفیق سے ان کو ہمیشہ راہ راست پر قائم رکھے گا اور ان کے تھوڑے سے عملوں کا بہت سا ثواب اپنے پاس سے عطا فرمائے گا۔ صحیح بخاری و مسلم، موطا اور صحیح ابن حبان میں حضرت عائشہ (رض) اور ام سلمہ (رض) سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ ایسا تھوڑا سے عمل بھی اللہ تعالیٰ کو پسند ہے جس پر آدمی ہمیشہ قائم رہے ٢۔ اسی واسطے فرمایا کہ ہم ” ان کو چلاویں راہ سیدہی “۔ اور ہمیشہ کا تھوڑا سا عمل بھی اللہ کو بہت پسند ہے۔ اس لئے ان کے تھوڑے سے عملوں پر اللہ تعالیٰ ان کو ایسا اجر دے گا جو ان کی نجات کا باعث ہوگا۔ جس نصیحت میں ثواب و عذاب کا ذکر ہو اس کو وعظ کہتے ہیں قرآن و حدیث میں ان دونوں باتوں کا ذکر ہے اس لئے قرآن و حدیث کو وعظ کہتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:66) مایوعظون بہ۔ میں ما بیانیہ ہے۔ یعنی جس چیز کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ اشد تثبیتا۔ اشد پختہ تر۔ افعل التفضیل کا صیغہ۔ تثبیتا مصدر۔ باب تفعیل ۔ ثابت کرنا۔ ثابت رکھنا۔ یعنی ان کے ایمان میں ثابت قدمی کی پختگی کا باعث ہوتا۔ یعنی اس طرح وہ سختی سے اپنے ایمان میں ثابت قدم ہوجاتے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 اس آیت کا تعلق بھی منافقین سے ہے اور اس میں ان کو اخلاص اور ترک نفاق کی ترغیب دی گئی ہے (رازی) یعنی چاہیے تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کا حکم مانے میں جان سے بھی دریغ نہ کیا جائے (مگر یہ ایسے ہیں کہ) اگر کہیں ان کو اللہ تعالیٰ اپنی جانیں ہلاک کر ڈالنے یا اپنے گھر چھوڑ دینے کا حکم دے دیتا تو یہ اس کو کب بجالانے والے تھے جو حکم ہم نے انہیں دیئے ہیں وہ نہایت آسان اور محض ان کی خیر خواہی کے لیے ہیں نصیحت مانیں اور ان احکام پر چلیں نفاق جاتا رہے گا ایمان کامل نصیب ہوگا اس امر کو غنیمت سمجھیں۔ (از موضح) فائدہ اللہ تعالیٰ کے تمام احکام چونکہ وعدہ وعید اس لیے ان کو لفظ وعظ سے تعبیر فرمایا ہے (رازی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ اس معدودے چند میں تمام صحابہ مومنین کاملین داخل ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : منافقین مشکل حکم ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے لوگوں پر ایسے احکام نازل کیے جو نرمی اور آسانی پر مبنی ہیں۔ اگر یہ احکام سخت اور مشکل ہوتے تو لوگوں کو ان پر عمل کرنا دشوار اور ناممکن ہوتا۔ اس صورت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ اگر ہم لوگوں کو اپنے آپ کو قتل کرنے یا اپنے جگر گوشوں کو گھروں سے نکال دینے کا حکم دیتے یعنی جو نافرمان اور سرکش ہیں انہیں قتل کرنے یا گھروں سے نکال باہر کرنے کا حکم دیتے تو چند لوگوں کے سوا کوئی بھی ان پر عمل نہ کرسکتا۔ یا جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم پر شرک کی یہ سزا تجویز کی گئی تھی کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں تو انہیں قتل کرنا پڑا تھا۔ یہاں یہ بتلانا مقصود ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے معاملات میں فیصل تسلیم کرو۔ اس میں تمہارے لیے نرمی بھی ہے اور بھلائی بھی۔ (عَنْ عَاءِشَۃَ (رض) أَنَّھَا قَالَتْ مَاخُیِّرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بَیْنَ أَمْرَیْنِ إِلّآ أَخَذَ أَیْسَرَھُمَا مَالَمْ یَکُنْ إِثْمًا فَإِنْ کَانَ إِثْمًا کَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْہُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لِنَفْسِہٖٓ إِلَّا أَنْ تُنْتَھَکَ حُرْمَۃُ اللّٰہِ فَیَنْتَقِمُ لِلّٰہِ بِھَا) [ رواہ البخاری : کتاب المناقب، باب صفۃ النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دو کاموں میں اختیار دیا جاتا تو آپ دونوں میں سے آسان کام کو اختیار کرتے جو کام گناہ کا نہ ہوتا۔ اگر وہ کام گناہ کا ہوتا تو لوگوں میں سب سے زیادہ اس سے دور رہتے اور آپ نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہ لیا البتہ جب اللہ کی حرمتوں کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لیے انتقام لیتے۔ “ اگر منافق اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرتے تو ان کے لیے یہ بہتر اور ایمان کی پختگی کا باعث ہوتا۔ اس کے بدلے انہیں عظیم اجر اور مزید صراط مستقیم کی رہنمائی سے بھی نوازا جاتا۔ گویا کہ اللہ تعالیٰ کے احکام بظاہر عمل کرنے میں مشکل کیوں نہ ہوں پھر بھی ان پر عمل کرنا آدمی کے لیے بہتر ہوا کرتا ہے۔ ابن جریر طبری بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ایک آدمی نے کہا کہ اگر ہمیں ایسا کرنے کا حکم ہوتا تو ہم ضرور کر گزرتے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہم سے درگزر فرمائی ہے یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچی تو آپ نے فرمایا میری امت میں ایسے لوگ بھی ہیں جن میں پہاڑوں سے زیادہ مضبوط ایمان ہے۔ امام ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (وَلَوْ أَنَّا کَتَبْنَا) تلاوت فرمائی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ سے عبداللہ بن رواحہ (رض) کی طرف اشارہ کرکے فرمایا : ( لَوْ أَنَّ اللّٰہَ کَتَبَ ذٰلِکَ لَکَانَ ھٰذَا مِنْ أُولٰءِکَ الْقَلِیْلِ ) ” اگر اللہ تعالیٰ یہ کام لازم کردیتے تو عبداللہ بن رواحہ (رض) بھی انہی تھوڑے لوگوں میں سے ہوتے جو اللہ کا حکم مان کر اپنے آپ کو قتل کرتے۔ “ ( ابن کثیر) حضرت عمر (رض) نے اظہار تشکر کے طور پر فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا بےپناہ فضل و کرم ہوا ہے کہ اس نے ہمیں اپنے آپ کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا۔ اگر یہ حکم نازل ہوجاتا تو ہم اس پر عمل کرنے سے ہرگز گریز نہ کرتے۔ اس بات کا عملی ثبوت انہوں نے غزوۂ بدر کے موقعہ پر دیا تھا کہ جب قیدیوں کے بارے میں مشاورت ہوئی کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے ؟ تو دو تجاویز سامنے آئیں جن میں حضرت صدیق اکبر (رض) کی رائے یہ تھی کہ قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑدینا چاہیے۔ اس میں مسلمانوں کی مالی امداد کے ساتھ کفار کے لیے ہدایت کا آخری موقعہ فراہم کرنا تھا۔ حضرت عمر (رض) کی تجویز یہ تھی کہ یہ لوگ ناقابل معافی اور ناقابل اصلاح ہیں۔ ان کو قتل کرنے سے ہمیشہ کے لیے کفر کی کمر ٹوٹ جائے گی۔ ان کی تجویز تھی کہ ہر کوئی اپنے قریبی رشتہ دار قیدی کو قتل کرے سب سے پہلے میں اپنے رشتہ دار قیدیوں کو قتل کروں گا۔ [ الرحیق المختوم ‘ غزوۂ بدر کے قیدیوں کا قضیہ ] مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کی پیروی کرنا ہر حال میں انسان کے لیے بہتر ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو عظیم اجر اور مزید ہدایت سے سرفراز فرماتے ہیں۔ ٣۔ صراط مستقیم کی ہدایت اطاعت رسول میں پنہاں ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” نمبر ٦٦ تا ٦٨۔ اسلام ایک ایسا نظام زندگی ہے جس پر ہر وہ شخص عمل کرسکتا ہے جو مستقیم اور سلیم الفطرت ہو ‘ اس پر عمل کرنے کے لئے کسی خارق العادت عزم اور کسی بڑے اولو العزم شخص کی ضرورت نہیں ہے ۔ ایسے لوگ تو دنیا میں چند ایک ہوتے ہیں اور اسلامی نظام حیات ان چند لوگوں کے لئے نہیں بھیجا گیا ۔ یہ تمام دنیا کے انسانوں کے لئے بھیجا گیا ہے ‘ اور دنیا میں ہر قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں جو مختلف درجات کے ہوتے ہیں ۔ بعض کی طاقتیں اور صلاحتیں زیادہ ہوتی ہیں اور بعض کی کم ۔ یہ دین لوگوں کی اوسط تعداد کو مد نظر رکھ کا بھیجا گیا ہے ‘ جو احکام پر عمل کرسکتے ہیں اور معاصی سے رک سکتے ہیں۔ قتل نفس اور جلاوطن دو ایسے احکام ہیں جو نہایت ہی شاق ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں پر یہ چیزیں بطور احکام وفرائض عائد کردیتا تو ان احکام پر لوگوں کے لئے عمل کرنا مشکل ہوجاتا ۔ لیکن اللہ نے یہ احکام اس لئے عائد نہیں کئے گئے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو شکست دینا نہیں چاہتا تھا اور یہ بھی نہ چاہتا تھا کہ لوگ ان احکام سے انکار کردیں بلکہ مقصد یہ تھا کہ سب لوگ احکام الہی پر عمل کریں ۔ احکام ایسے ہوں جو سب کے دائرہ قدرت میں ہوں ۔ قافلہ ایمان کے اندر تمام اوسط درجے کے لوگ بھی شامل ہوں اور یہ کہ اسلامی سوسائٹی میں مختلف طبقات کے لوگ ‘ مختلف ہمتوں کے لوگ ‘ مختلف استعدادوں اور صلاحیتوں کے لوگ شامل ہوں ۔ یہ سب لوگ مل کر اسلامی سوسائٹی کو ترقی دیں ۔ اور ایک ایسے کثیر التعداد قافلے کی شکل میں جو طویل و عریض ہو ۔ ابن جریج ‘ اسحاق ابو الازھر ‘ اسماعیل ‘ ابو اسحاق کی سند سے ابو الحاق کہتے ہیں ۔ جب یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” ولو انا کتبنا علیھم ان اقتلوانفسکم (٤ : ٦٦) تو ایک شخص نے کہا اگر اللہ حکم دیتا تو ہم ضرور ایسا کرتے لیکن اللہ کی بڑی مہربانی ہے کہ اس نے ہمیں معاف کردیا ۔ یہ بات حضرت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میری امت میں ایسے لوگ ہیں کہ ان کے دل میں ایمان ان پہاڑوں سے بھی زیادہ بیٹھا ہوا ہے جو نہایت ہی اونچے ہیں ۔ “ ایک دوسری روایت ابن ابو حاتم نے حضرت مصعب (رض) سے روایت کی ہے ۔ انہوں نے اپنے چچا عامر بن عبید ابن زبیر (رض) سے روایت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” ولو انا کتبنا علیھم ان اقتلوانفسکم او اخرجوا من دیارکم ما فعلوہ الا قلیل منھم (٤ : ٦٦) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اگر یہ حکم نازل ہوتا تو ابن ام عبدان میں سے ہوتا ۔ “ انہوں نے ایک روایت شریح ابن عبید سے نقل کی ہے ۔ فرماتے ہیں ‘ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی ۔ (آیت) ” ولو انا کتبنا علیھم ان اقتلوانفسکم (٤ : ٦٦) تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبداللہ ابن رواحہ (رض) کی طرف اشارہ فرمایا : ” اگر اللہ تعالیٰ یہ فرائض عائد کرتا تو یہ ان قلیل لوگوں میں سے ہوتے ۔ “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ساتھیوں کو نہایت ہی گہرائی سے اور نہایت ہی اچھی طرح جانتے تھے ۔ ان کے خصائص اور صلاحیتیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نظر میں اس قدر درست تھیں کہ وہ خود بھی اپنے بارے میں اس قدر نہ جانتے تھے ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت میں ایسے بیشمار واقعات ہیں جن سے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ صلاحیت اچھی طرح معلوم ہوتی ہے کہ آپ اپنے ساتھیوں کے بارے میں گہری معلومات رکھتے تھے ۔ نیز حضور کو ان قبائل کی صلاحیتوں کا بھی علم تھا جن سے آپ برسر پیکار تھے ۔ آپ ایک بصیرت افروز قائد کی طرح اپنے ماحول سے اچھی طرح واقف تھے اور بعض اوقات یہ معلومات نہایت ہی معجزانہ ہوتی تھیں ۔ کیونکہ یہ لدنی علم پر مبنی تھیں ۔ اس جگہ ہمارا یہ موضوع نہیں ہے ‘ یہاں ہم جو کہنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معلوم تھا کہ آپ کے ساتھیوں میں اور آپ کی امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو ناقابل برداشت مشکلات کو برداشت کریں گے ۔ اگر یہ مشکلات ان پر فرض کردی جائیں لیکن آپ کو یہ بھی معلوم تھا کہ آپ صرف ان چند ممتاز لوگوں کی طرف رسول بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے ۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے پیدا کئے ہوئے انسان کی فطرت کے بارے میں اچھی طرح علم تھا ‘ اس کی محدود طاقت کا بھی اسے علم تھا ‘ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس دین کے احکام میں وہی کچھ فرض کیا جس پر سب لوگ عمل کرسکتے تھے ‘ اس لئے کہ یہ دین سب کے لئے آیا تھا ‘ بشرطیکہ کسی کے اندر عزم ہو ‘ اس کی فطرت معتدل ہو ‘ اور اس کے اندر اطاعت کا داعیہ ہو اور وہ اس دین کو مذاق اور غیر ضروری نہ سمجھتا ہو ۔ اس حقیقت کا ذہن نشین کرنا بہت بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ خصوصا ان تخریبی تحریکات کے حوالے سے جن کی دعوت یہ ہے کہ انسان مرتبہ حیوانیت تک اتر آئے اور وہ نفسانیت کے کیچڑ میں کیڑے کی طرح لت پت ہو ۔ اس کے لئے یہ لوگ دلیل یہ دیتے ہیں کہ یہی انسان کی حقیقی صورت حالات ہے اور یہی اس کی طبیعت ‘ فطرت اور اس کی طاقت ہے اور یہ کہ دین تو اس مقام کی طرف دعوت دیتا ہے جو ایک مثالی مقام ہے ‘ جس کا اس کرہ ارض پر حقیقت کا روپ اختیار کرنا نہایت ہی مشکل ہے ۔ اگر کوئی ایک فرد دین کے فرائض پر عمل پیرا ہو بھی جائے تو سو عمل پیرا نہیں ہو سکتے ۔ یہ نہایت ہی جھوٹا دعوی ہے ۔ یہفریب پر مبنی ہے ۔ یہ جہالت پر مبنی ہے ۔ اس لئے کہ یہ مدعی انسان کو اس طرح نہیں سمجھ سکتا جس طرح اس کو خالق رب العالمین سمجھتا ہے ۔ جس نے اس کے لئے دینی فرائض مقرر کئے ۔ وہ ذات خالق یہ جانتی ہے کہ یہ احکام اس کے دائرہ خدمت میں ہیں ۔ اس لئے کہ دین چند ممتاز لوگوں کے لئے تو نہیں بھیجا گیا ۔ یہ تو صرف عزم کی بات ہے ‘ ایک عام آدمی کی عزیمت ‘ اخلاص نیت اور کام کے آغاز کی بات ہے اور جب عزم نیت اور آغاز ہوجائے تو ۔ (آیت) ” ولو انھم فعلوا ما یوعظون بہ لکان خیرا لھم واشد تثبیتا (٦٦) واذا لاتینھم من لدنا اجرا عظیما (٦٧) ولھدینھم صراطا مستقیما (٦٨) ” حالانکہ جو نصیحت انہیں کی جاتی ہے اگر یہ اس پر عمل کرتے تو یہ ان کے لئے زیادہ بہتری اور زیادہ ثابت قدمی کا موجب ہوتا ۔ اور جب یہ ایسا کرتے تو ہم انہیں اپنی طرف سے بہت بڑا اجر دیتے ۔ اور انہیں سیدھا راستہ دکھا دیتے ۔ “ صرف کام کے آغاز ہی سے اللہ کی طرف سے امداد شروع ہوجاتی ہے اور اس راہ پر گامزن ہونے لئے ثابت قدمی نصیب ہوتی ہے جس کے بعد اجر عظیم نصیب ہوتا ہے ۔ اس کے بعد صحیح راستے کی طرف راہنمائی نصیب ہوتی ہے ۔ (صدق اللہ العظیم) کیا اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو دھوکہ دے رہے ہیں ؟ کیا وہ ان سے وہ وعدہ کر رہے ہیں جو پورا نہ ہو ؟ بلکہ اللہ تو ان سے بہت ہی سچی بات فرماتے ہیں ۔ (ومن اصدق من اللہ حدیثا) ” (اللہ سے زیادہ سچا اور کون ہے) اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ اس دین میں آسانی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگوں کو چھوٹ دے دی جائے ۔ یہ دین ایسا نہیں ہے کہ اس میں ہر طرف سے چھوٹ دی جاتی رہے اور پھر بھی وہ نظام حیات ہو ۔ اس میں عزیمت بھی ہے اور رخصت بھی ہے ۔ عزیمت تو اصل دین ہے اور رخصت بعض عارضی حالات کی وجہ سے ہے ۔ ہمارے بعض مخلص لوگ جو اس دین کی طرف بلاتے ہیں وہ ان کے سامنے رخصتیں پیش کرتے ہیں ۔ وہ ایک ایک رخصت تلاش کرتے اور اسے لوگوں کے سامنے رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ہے دین اور پھر وہ لوگوں کو کہتے ہیں دیکھو اس دین میں یہ یہ سہولتیں ہیں ۔ بعض لوگ شیطان کی خواہشات یا عوام الناس کی خواہشات پوری کرنا چاہتے ہیں ‘ وہ ایک سوراخ تلاش کرتے ہیں جہاں سے نکلا جاسکے اور پھر وہ کہتے ہیں کہ یہ ہے یدن ۔ یہ دین درحقیقت نہ رخصتوں کا نام ہے اور نہ ہی عزیمتوں کا نام ہے ۔ اس میں مجموعی طور پر دونوں چیزیں موجود ہیں اور یہ دین ایسا ہے کہ اگر ایک عام انسان اس پر عمل کے لئے عزم کرلے تو وہ اس پر عمل کرسکتا ہے ۔ وہ اپنی حدود بشریت کے اندر رہتے ہوئے اس کے اندر ذاتی کمال حاصل کرسکتا ہے ۔ جیسے ایک ہی باغ میں وہ انگور ‘ شہتوت ‘ انجیر خربوزہ ‘ تربوز اور دوسرے پھل پیدا ہوتے ہیں اور سب کے ذائقے جدا ہوتے ہیں کسی کے بارے میں بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ پختہ نہیں ہے ۔ بشرطیکہ ہو پک گیا ہو ‘ اگرچہ ایک کا ذائقہ دوسرے سے کم درجے کا ہو۔ اس دین کے باغ میں ساگ ‘ ترکاری اور کھیرے ککڑی پیدا ہوتے ہیں ۔ کینو اور انار پیدا ہوتے ہیں ۔ سیب اور اخروٹ بھی پیدا ہوتے ہیں۔ انگور اور انجیر پیدا ہوتے ہیں اور سب کے سب پکتے ہیں ۔ سب کے ذائقے مختلف ہوتے ہیں اور سب پختہ ہوتے ہیں۔ اپنے اپنے درجے میں کمال کو پہنچ جاتے ہیں ۔ دنیا اللہ کا کھیت ہے ۔ اس میں انسان اللہ کی تربیت میں اللہ کی نگرانی میں سہولت کے ساتھ آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ اب آخر میں ‘ اس سبق کے خاتمے پر دی جاتی ہے ‘ دلوں کے اندر جوش پیدا کیا جاتا ہے اور لوگوں کو محبوب مال ومتاع کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے ۔ یہ دولت نبیوں ‘ صدیقین ‘ صالحین اور شہداء کے ساتھ ہم نشیبی کی متاع ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

جانوں کے قتل کرنے اور گھروں سے نکلنے کا حکم ہوتا تو تھوڑے افراد عمل کرتے اوپر کی آیات میں یہ بتایا کہ مومن کی شان یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہر فیصلے پر بلا چون و چرا سچے دل سے راضی ہو اور دل میں ذراسی بھی تنگی محسوس نہ کرے۔ اور اس آیت میں یہ ارشاد فرمایا کہ ان کو جو حکم دیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فرمانبر داری کریں اور آپ کے حکم کو تسلیم کریں اور آپ کے فیصلہ پر راضی ہوجائیں یہ کوئی ایسی مشکل چیز نہیں ہے جس پر عمل نہ ہو سکے۔ اور اگر ہم ان پر یہ فرض کردیتے کہ اپنی جانوں کو قتل کرو (جیسا کہ بنی اسرائیل کو بچھڑے کی عبادت کرنے کی وجہ سے بطور توبہ جانوں کے قتل کرنے کا حکم ہوا تھا) یا یہ حکم دیتے کہ اپنے گھروں سے نکل جاؤ (جیسا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے نکلنے کا حکم ہوا تھا) تو اس پر عمل نہ کرتے مگر تھوڑے سے افراد۔ جب یہ آیت شریفہ نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اگر مجھے حکم دیں کہ اپنی جان کو قتل کروں تو میں ضرور ایسا کر گزروں گا۔ آپ نے فرمایا اے ابوبکر (رض) ! تم نے سچ کہا اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جب آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا کہ اگر یہ چیز فرض کی جاتی تو یہ بھی انہیں قلیل افراد میں سے ہوتے جو اس پر عمل کرلیتے، حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے بارے میں بھی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا فرمایا، حضرت حسن بصری (رح) سے منقول ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ (رض) میں سے چند حضرات نے کہا کہ اگر یہ ہمیں حکم ہوگا تو ضرور عمل کرلیں گے۔ ان لوگوں کی یہ بات آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچ گئی آپ نے فرمایا کہ ایمان ان کے قلوب میں مضبوطی کے ساتھ جمے ہوئے پہاڑوں سے بھی زیادہ جما ہوا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے بھی یہی کہا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے سب تعریف ہے جس نے ہمیں عافیت سے رکھا اگر ہمیں حکم ہوتا کہ اپنی جانوں کو قتل کریں تو ہم ضرور ایسا کرلیتے، آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ بلاشبہ میری امت میں بعض لوگ ایسے ہیں کہ ان کے دلوں میں ایمان جمے ہوئے پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوط ہیں۔ (روح المعانی صفحہ ٧٢: ج ٥ معالم التنزیل) بعض آثار میں یہ بھی ہے کہ جب حضرت زبیر (رض) زمین کی سیرابی والے قضیہ کا فیصلہ کراکر واپس ہو رہے تھے تو حضرت مقداد (رض) پر ان کا گزر ہوا حضرت مقداد (رض) نے پوچھا کہ کس کے لیے فیصلہ ہوا۔ انصاری نے اپنا منہ پھیرتے ہوئے جواب دیا کہ اپنی پھوپھی کے بیٹے کے لیے فیصلہ کردیا وہاں ایک یہودی بھی موجود تھا اس نے بات کو سمجھ لیا اور کہنے لگا کہ اللہ ان لوگوں کا برا کرے یہ لوگ گواہی دیتے ہیں کہ یہ اللہ کے رسول ہیں اور اس کے باوجود اگر آپ کوئی فیصلہ کردیں اس میں آپ کو (جانبداری) کی تہمت لگاتے ہیں قسم اللہ کی ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی میں ایک گناہ کیا تھا انہوں نے توبہ کی دعوت دی اور توبہ کے سلسلہ میں جانوں کے قتل کرنے کا حکم دیا تو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری پر عمل کرتے ہوئے ہم لوگوں نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ مقتولین کی تعداد ٧٠ ہزار کو پہنچ گئی اور اس سے ہمارا رب راضی ہوگیا۔ واقعہ مذکورہ ایک ہی انصاری کا تھا لیکن یہودی نے تمام انصار و مہاجرین پر طعن کردیا اس پر ثابت بن قیس اور ابن مسعود اور عمار بن یاسر (رض) نے کہا کہ ہمیں جان کے قتل کا حکم ہوگا تو ہم ضرور عمل کریں گے۔ یہودی کا یہ کہنا اور حضرات صحابہ (رض) کی طرف سے اس کا جواب دینا اس کی سند تو بیان نہیں کی گئی لیکن بشرط ثبوت آیت شریفہ کا ربط آیت سابقہ سے واضح طور پر معلوم ہوجاتا ہے۔ (از روح المعانی صفحہ ٧٢: ج ٥) جس شخص کا یہ واقعہ ہے وہ منافق تھا انصار کے کسی قبیلہ سے ہونے کی وجہ سے اسے انصاری کہہ دیا گیا تھا۔ پھر فرمایا (وَ لَوْ اَنَّھُمْ فَعَلُوْا مَا یُوْعَظُوْنَ بِہٖ لَکَانَ خَیْرًا لَّھُمْ ) (الایۃ) کہ اگر یہ لوگ اس پر عمل کرتے جو ان کو نصیحت کی جاتی ہے تو دنیا و آخرت میں ان کے لیے بہتر ہوتا اور ان کو سختی کے ساتھ حق پر جمانے کا ذریعہ ہوتا، اور جب یہ اس پر عمل کرلیتے جس کی ان کو نصیحت کی جاتی ہے تو ہم ان کو اپنے پاس سے اجر عظیم عطا کردیتے اور ان کو سیدھے راستہ پر چلاتے۔ (روح المعانی صفحہ ٤: ج ٥)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 اور اگر ہم لوگوں پر یہ بات فرض کردیتے کہ تم اپنے آپ کو قتل کرو اور خودکشی کردیا اپنے گھروں کو چھوڑ کر نکل جائو اور وطن سے بےوطن ہو جائو تو سوائے معدودے چند اور تھوڑے سے لوگوں کے ان میں سے اس حکم کی کوئی بھی تعمیل نہ کرتا اور اگر یہ منافق جس بات کی ان کو نصیحت کی جاتی ہے یعنی رسول کی کامل اطاعت اور ان کے حق میں ثواب کے اعتبار سے بہتر اور ایمان کی تکمیل کے اعتبار سے پختہ اور مضبوط کرنے والا ہوتا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی مالک کے حکم میں تو جان تک دریغ نہ کرنا چاہئے اگر اللہ ویسے حکم کرتا تو یہ منافق کب کرسکتے یہ حکم تو نصیحت کے ہیں انہیں پر چلیں تو نفاق جاتا رہے اور مومن ہوجاویں غنیمت نہیں سمجھتے۔ (موضح القرآن) آیت کا مطلب یہ ہے کہ جن باتوں کا ان کو حکم دیا جا رہا ہے اور جن باتوں کی ان کو نصیحت کی جا رہی ہے وہ تو آسان اور سہل باتیں ہیں اور ان سے بھی یہ جان چرا رہے ہیں۔ اگر فرض کرو ! ہم لوگوں پر خودکشی پر فرض کردیتے یا ترک وطن کو فرض کردیتے اور احکام مقصودہ کی طرح یہ چیزیں لوگوں پر فرض ہوجاتیں تو سوائے ان چند لوگوں کے جن کے ایمان کامل ہوتے اور کوئی بھی اس حکم اور اس فریضہ کو ان میں سے پورا نہ کرتا لیکن اب جن آسان اور سہل باتوں کو ان پر لازم کیا گیا ہے اور جن باتوں کی ان کو نصیحت کی گئی ہے ان کو بجا لائیں اور ان کی پوری پوری تعمیل کریں تو ان کے حق میں ثواب کے اعتبار سے بہتر ہوگا یعنی زیادہ اطاعت کرنے میں زیادہ ثواب ملے اور نیز تکمیل دین اور کمال ایمان کے لئے ان احکام کی بجا آوری مضبوطی اور تثبیت کا سبب ہو کیونکہ یہ بات ظاہر ہے کہ دین کی خدمت کرنے سے انسان کا عقیدہ پختہ ہوتا ہے اور باطن کی اصلاح ہوتی ہے چونکہ علیہم کی ضمیر کے مرجع میں دو قول تھے اس لئے ہم نے ترجمہ میں ایک قول کی اور تیسیر میں دوسرے قول کی رعایت رکھی ہے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضر عمر حضرت عمار بن یاسر اور حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا اگر ایسا حکم ہوتا تو خدا کی قسم ہم اس حکم کی تعمیل کرتے خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہم کو محفوظ رکھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اصحاب کا جب یہ قول سنا تو فرمایا کہ میری امت میں ایسے لوگ ہیں جن کے ایمان ان کے دلوں میں پہاڑوں سے بھی زیادہ جمے ہوئے ہیں اگر کوئی یہ شبہ کرے کہ جہاد اور ہجرت تو اب بھی اسلام میں ہے اور جہاد میں قتل اور ہجرت میں ترک وطن ہوتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ چیزیں مقصود نہیں ہیں بلکہ اعلاء کلمتہ اللہ کے سلسلہ میں کبھی کبھی پیش آجاتی ہیں اصل مقصد تو اعلاء کلمتہ اللہ ہے اگر اعلاء کلمتہ اللہ بدون جہاد اور بدون ہجرت کے حاصل ہوجائے تو نہ جہاد کی ضرورت ہے اور نہ ہجرت کی اور قلیل سے تمام قلیل ہی ہوتے ہیں۔ اب آگے کثرت ثواب اور تثبیت ایمان جو کامل اطاعت و فرمانبرداری کا ثمرہ تھا اس پر جو اثرات مرتب ہونے والے ہیں ان کا اظہار فرماتے ہیں کامل اطاعت و فرمانبرداری سبب بنا کثرت ثواب اور تثبیت ایمان فی القلوب کا اور یہ دونوں چیزیں سبب نہیں دوسرے منافع کا چناچہ ان منافع کا آگے ذکر ہے ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)