Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 83

سورة النساء

وَ اِذَا جَآءَہُمۡ اَمۡرٌ مِّنَ الۡاَمۡنِ اَوِ الۡخَوۡفِ اَذَاعُوۡا بِہٖ ؕ وَ لَوۡ رَدُّوۡہُ اِلَی الرَّسُوۡلِ وَ اِلٰۤی اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡہُمۡ لَعَلِمَہُ الَّذِیۡنَ یَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَہٗ مِنۡہُمۡ ؕ وَ لَوۡ لَا فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ وَ رَحۡمَتُہٗ لَاتَّبَعۡتُمُ الشَّیۡطٰنَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۸۳﴾

And when there comes to them information about [public] security or fear, they spread it around. But if they had referred it back to the Messenger or to those of authority among them, then the ones who [can] draw correct conclusions from it would have known about it. And if not for the favor of Allah upon you and His mercy, you would have followed Satan, except for a few.

جہاں انہیں کوئی خبر امن کی یا خوف کی ملی انہوں نے اسے مشہور کرنا شروع کر دیا حالانکہ اگر یہ لوگ اسے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور اپنے میں سے ایسی باتوں کی تہہ تک پہنچنے والوں کے حوالے کر دیتے ، تو اس کی حقیقت وہ لوگ معلوم کر لیتے جو نتیجہ اخذ کرتے ہیں اور اگر اللہ تعالٰی کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو معدودے چند کے علاوہ تم سب شیطان کے پیروکار بن جاتے ۔

Word by Word by

Dr Farhat Hashmi

وَاِذَا
اور جب
جَآءَہُمۡ
آتا ہے ان کے پاس
اَمۡرٌ
کوئی معاملہ
مِّنَ الۡاَمۡنِ
امن میں سے
اَوِ
یا
الۡخَوۡفِ
خوف میں سے
اَذَاعُوۡا
وہ پھیلا دیتے ہیں
بِہٖ
اسے
وَلَوۡ
اور اگر
رَدُّوۡہُ
اور اگر وہ لوٹاتے اسے
اِلَی الرَّسُوۡلِ
طرف رسول کے
وَاِلٰۤی
اور طرف
اُولِی الۡاَمۡرِ
اولو الامر کے
مِنۡہُمۡ
ان میں سے
لَعَلِمَہُ
البتہ جان لیتے اسے
الَّذِیۡنَ
وہ جو
یَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَہٗ
نکال لاتے ہیں نتیجہ اس کا
مِنۡہُمۡ
ان میں سے
وَلَوۡلَا
اور اگر نہ ہوتا
فَضۡلُ
فضل
اللّٰہِ
اللہ کا
عَلَیۡکُمۡ
تم پر
وَرَحۡمَتُہٗ
اور رحمت اس کی
لَاتَّبَعۡتُمُ
البتہ پیروی کرتے تم
الشَّیۡطٰنَ
شیطان کی
اِلَّا
مگر
قَلِیۡلًا
بہت تھوڑے
Word by Word by

Nighat Hashmi

وَاِذَا
اور جب
جَآءَہُمۡ
آتا ہے ان کے پاس
اَمۡرٌ
کوئی معاملہ
مِّنَ الۡاَمۡنِ
امن میں سے
اَوِ
یا
الۡخَوۡفِ
خوف کا
اَذَاعُوۡا
تو وہ مشہور کر دیتے ہیں
بِہٖ
اس کو
وَلَوۡ
اور اگر
رَدُّوۡہُ
وہ لوٹاتے اسے
اِلَی الرَّسُوۡلِ
رسول تک
وَاِلٰۤی
اور طرف
اُولِی الۡاَمۡرِ
حکم دینے والوں کی
مِنۡہُمۡ
اپنے میں سے
لَعَلِمَہُ
ضرور جان لیتے اس کو
الَّذِیۡنَ
وہ لوگ جو
یَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَہٗ
اس کا اصل مطلب نکالتے ہیں
مِنۡہُمۡ
ان میں سے
وَلَوۡلَا
اور اگر نہ ہوتا
فَضۡلُ
فضل
اللّٰہِ
اللہ تعالیٰ کا
عَلَیۡکُمۡ
تم پر
وَرَحۡمَتُہٗ
اوررحمت اس کی
لَاتَّبَعۡتُمُ
البتہ پیچھے لگ جاتے تم
الشَّیۡطٰنَ
شیطان کے
اِلَّا
سوائے
قَلِیۡلًا
بہت ہی کم
Translated by

Juna Garhi

And when there comes to them information about [public] security or fear, they spread it around. But if they had referred it back to the Messenger or to those of authority among them, then the ones who [can] draw correct conclusions from it would have known about it. And if not for the favor of Allah upon you and His mercy, you would have followed Satan, except for a few.

جہاں انہیں کوئی خبر امن کی یا خوف کی ملی انہوں نے اسے مشہور کرنا شروع کر دیا حالانکہ اگر یہ لوگ اسے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور اپنے میں سے ایسی باتوں کی تہہ تک پہنچنے والوں کے حوالے کر دیتے ، تو اس کی حقیقت وہ لوگ معلوم کر لیتے جو نتیجہ اخذ کرتے ہیں اور اگر اللہ تعالٰی کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو معدودے چند کے علاوہ تم سب شیطان کے پیروکار بن جاتے ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

اور جب کوئی امن کی یا خطرے کی خبر ان تک پہنچتی ہے تو اسے فوراً اڑا دیتے ہیں۔ اور اگر وہ اسے رسول یا آپ نے کسی ذمہ دار حاکم تک پہنچاتے تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آجاتی جو اس سے صحیح نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں۔ اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی تو تم ماسوائے چند لوگوں کے شیطان کے پیچھے لگ جاتے

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اورجب ان کے پاس امن یاخوف کاکوئی معاملہ آتاہے تواسے مشہورکردیتے ہیں اوراگروہ اسے رسول تک یااپنے میں سے حکم دینے والوں کی طرف لوٹاتے تووہ لوگ ضرورجان لیتے اس کوجوان میں سے اس کااصل مطلب نکالتے ہیں اور اگرتم پراﷲ تعالیٰ کافضل اوراس کی رحمت نہ ہوتی توبہت ہی کم لوگوں کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے لگ جاتے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

And when there comes to them a matter about peace or fear, they spread it. Had they referred it to the Messenger and to those in authority among them, those of them who were to investigate it would have certainly known it (the& truth of the matter). But for Allah&s grace upon you, and mercy, you would have followed the Satan, save a few.

اور جب ان کے پاس پہنچتی ہے کوئی خبر امن کی یا ڈر کی تو اس کو مشہور کردیتے ہیں اور اگر ان کو پہنچا دیتے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک اور اپنے حاکموں تک تو تحقیق کرتے اس کو جو ان میں تحقیق کرنیوالے ہیں اس کی اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی مہربانی تو البتہ تم پیچھے ہولیتے شیطان کے مگر تھوڑے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

اور جب ان کے پاس کوئی خبر پہنچتی ہے امن کی یا خطرے کی تو وہ اسے پھیلا دیتے ہیں اور اگر وہ اس کو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اپنے اولوالامر کے سامنے پیش کرتے تو یہ بات ان میں سے ان لوگوں کے علم میں آجاتی جو بات کی تہہ تک پہنچنے والے ہیں تو تم سب کے سب شیطان کی پیروی کرتے سوائے چند ایک کے

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Whenever they come upon any news bearing upon either security or causing consternation they go about spreading it, whereas if they were to convey it to either the Messenger or to those from among them who are entrusted with authority, it would come to the knowledge of those who are competent to investigate it. But for Allah's bounty and mercy upon you, (weak as you were) all but a few of you would surely have followed Satan.

یہ لوگ جہاں کوئی ا طمینان بخش یا خوفناک خبر سن پاتے ہیں اسے لے کر پھیلا دیتے ہیں ، حالانکہ اگر یہ اسے رسول اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچائیں تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آجائے جو ان کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس سے صحیح نتیجہ اخذ کر سکیں ۔ 112 تم لوگوں پر اللہ کی مہربانی اور رحمت نہ ہوتی تو ﴿تمہاری کمزوریاں ایسی تھیں کہ﴾ معدودے چند کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے لگ گئے ہوتے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

اور جب ان کو کوئی بھی خبر پہنچتی ہے ، چاہے وہ امن کی ہو یا خوف پیدا کرنے والی ، تو یہ لوگ اسے ( تحقیق کے بغیر ) پھیلانا شروع کردیتے ہیں ۔ اور اگر یہ اس ( خبر ) کو رسول کے پاس یا اصحاب اختیار کے پاس لے جاتے تو ان میں سے جو لوگ اس کی کھوج نکالنے والے ہیں وہ اس کی حقیقت معلوم کرلیتے ۔ ( ٥٠ ) اور ( مسلمانو ) اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تھوڑے سے لوگوں کو چھوڑ کر باقی سب شیطان کے پیچھے لگ جاتے ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

اور جب ان کے پاس کائی امن یا ڈر کی خبر آتی اس کو اڑادیتے ہیں 3 اور اگر لاڑانے سے پہلے اس کو پیغمبر اور اپنے سرداروں کے پاس لے تھے ان سے اس خبر کی تحقیق کرتے تو جن لوگوں کو خبر کو تلاش رہتی ہے ان کو اڑانے والوں میں سے 4 وہ خود ان سے یعنی پیغمبر سے اور سرداروں سے اس خبر کو اچھی گر معلوم کرلیتے اور اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم نہ ہوتا یہ کہ اس نے پیغمبر بھیجے اور کتابیں اتاریں تو تم شیطان کے تابع ہوجاتے مگر تھو ڑے 5

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

اور جب ان کے پسا امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اسے پھیلا دیتے ہیں اور اگر اسے پیغمبر اور اپنے امراء کے پاس لے جاتے تو ان میں سے جانچنے والے اسے جانچ لیتے اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو تھوڑے لوگوں کے سوا تم سب شیطان کے پیروہ ہوجاتے

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی خبر پہنچتی ہے تو وہ اسے پھیلاتے پھرتے ہیں حالانکہ ان کے لئے ضروری تھا کہ اس خبر کو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچاتے یا پھر ذمہ داروں تک تاکہ صحیح غلط کی چھان بین کرلیتے اور اس میں سے کام کی بات چھانٹ لیتے۔ (اے مسلمانو ! ) اگر اللہ کا فضل و کرم تم پر نہ ہوتا تو چند لوگوں کے سوا تم تو شیطان کے پیچھے لگ جاتے۔

Translated by

Fateh Muhammad Jalandhari

اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اس کو مشہور کردیتے ہیں اور اگر اس کو پیغمبر اور اپنے سرداروں کے پاس پہنچاتے تو تحقیق کرنے والے اس کی تحقیق کر لیتے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو چند اشخاص کے سوا سب شیطان کے پیرو ہوجاتے

Translated by

Abdul Majid Daryabadi

And when there cometh unto them aught of security aught of alarm, they bruit it; abroad: whereas had they referred it to the apostle and those in authority among them, then those of them who can think it out would have known it. And had there not been Allah's grace upon you and His mercy, ye would surely have followed Satan, save a few.

اور انہیں جب کوئی بات امن یا خوف کی پہنچتی ہے تو یہ اسے پھیلا دیتے ہیں ۔ اور اگر یہ لوگ اسے رسول کے یا اپنے میں سے صاحبان امر کے حوالہ کردیتے ۔ تو ان میں سے جو لوگ استنباط کی صلاحیت رکھتے ہیں اس کی حقیقت بھی جان لیتے ۔ اور اگر تم پر اللہ کی رحمت شامل نہ ہوتی تو تم (سب) بجز تھوڑے سے لوگوں کے شیطان کی پیروی کرنے لگ جاتے ۔

Translated by

Amin Ahsan Islahi

اور جب ان کو کوئی بات امن یا خطرے کی پہنچتی ہے تو وہ اسے پھیلا دیتے ہیں اور اگر یہ اس کو رسول اور اپنے اولو الامر کے سامنے پیش کرتے تو جو لوگ ان میں سے بات کی تہہ کو پہنچنے والے ہیں ، وہ اس کو اچھی طرح سمجھ لیتے اور اگر تم لوگوں پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تھوڑے سے لوگوں کے سوا ، تم شیطان کے پیچھے لگ جاتے ۔

Translated by

Mufti Naeem

اور جب انہیں امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اسے مشہور کردیتے ہیں اور اگر وہ اس خبر کو رسول ( ﷺ ) اور سمجھ دار لوگوں کے حوالے کردیتے تو جو لوگ تہہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ضرور حقیقت کو سمجھ لیتے اور اگر اﷲ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تم لوگوں پر نہ ہوتی تو تھوڑے لوگوں کے علاوہ تم لوگ شیطان کی اتباع کرنے لگ جاتے ۔

Translated by

Muhtrama Riffat Ijaz

یہ لوگ جہاں بھی کوئی اطمینان بخش یا خوفناک خبر سن پاتے ہیں تو اسے پھیلا دیتے ہیں، حالانکہ اگر یہ اسے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچائیں تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آجائے جو ان کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس سے صحیح نتیجہ اخذ کرسکیں۔ تم لوگوں پر اللہ کی مہربانی اور رحمت نہ ہوتی تو (تمہاری کمزوریاں ایسی تھیں کہ) سوائے چند کے تم سب شیطان کے پیچھے لگ گئے ہوتے

Translated by

Mulana Ishaq Madni

، اور جب پہنچتی ہے ان کے پاس کوئی خبر، امن کی یا خوف کی، تو یہ اسے فورا پھیلا دیتے ہیں، حالانکہ اگر یہ لوگ اسے لوٹا دیتے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف، اور اپنے میں سے با اختیار لوگوں کی طرف، تو ضرور اس کی حقیقت کو پالیتے ان میں سے وہ لوگ جو بات کی تہہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور اگر نہ ہوتی اللہ کی مہربانی تم پر، اور اس کی رحمت (و عنایت) تو تم لوگ ضرور پیچھے لگ جاتے شیطان کے، بجز تھوڑے سے لوگوں کے،

Translated by

Noor ul Amin

اور جب امن کی یاخطرے کی خبران تک پہنچتی تواسے فور اً پھیلانا شروع کردیتے ہیں حالانکہ اگر وہ اسے اپنے رسول یاذمہ دارحاکموں تک پہنچاتے تووہ ایسے لوگوں کے علم میں آجاتی جو اس سے صحیح نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں توان میں سے تحقیق کی صلاحیت رکھنے والے اس کی تہہ تک پہنچ جاتے ، اوراگراللہ کافضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی تو ماسوائے چند لوگوں کے تم سبھی شیطان کے پیچھے لگ جاتے

Kanzul Eman by

Ahmad Raza Khan

اور جب ان کے پاس کوئی بات اطمینان ( ف۲۱٤ ) یا ڈر ( ف۲۱۵ ) کی آتی ہے اس کا چرچا کر بیٹھتے ہیں ( ف۲۱٦ ) اور اگر اس میں رسول اور اپنے ذی اختیار لوگوں ( ف۲۱۷ ) کی طرف رجوع لاتے ( ف۲۱۸ ) تو ضرور ان سے اس کی حقیقت جان لیتے یہ جو بعد میں کاوش کرتے ہیں ( ف۲۱۹ ) اور اگر تم پر اللہ کا فضل ( ۲۲۰ ) اور اس کی رحمت ( ف۲۲۱ ) نہ ہوتی تو ضرور تم شیطان کے پیچھے لگ جاتے ( ف۲۲۲ ) مگر تھوڑے ( ۲۲۳ )

Translated by

Tahir ul Qadri

اور جب ان کے پاس کوئی خبر امن یا خوف کی آتی ہے تو وہ اسے پھیلا دیتے ہیں اور اگر وہ ( بجائے شہرت دینے کے ) اسے رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اور اپنے میں سے صاحبانِ امر کی طرف لوٹادیتے تو ضرور ان میں سے وہ لوگ جو ( کسی ) بات کانتیجہ اخذ کرسکتے ہیں اس ( خبر کی حقیقت ) کو جان لیتے ، اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو یقیناً چند ایک کے سوا تم ( سب ) شیطان کی پیروی کرنے لگتے

Translated by

Hussain Najfi

اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی بات پہنچتی ہے تو اسے پھیلا دیتے ہیں حالانکہ اگر وہ اسے رسول اور اولی الامر کی طرف لوٹاتے تو ( حقیقت کو ) وہ لوگ جان لیتے جو استنباط کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی ، تو چند آدمیوں کے سوا باقی شیطان کی پیروی کرنے لگ جاتے ۔

Translated by

Abdullah Yousuf Ali

When there comes to them some matter touching (Public) safety or fear, they divulge it. If they had only referred it to the Messenger, or to those charged with authority among them, the proper investigators would have Tested it from them (direct). Were it not for the Grace and Mercy of Allah unto you, all but a few of you would have fallen into the clutches of Satan.

Translated by

Muhammad Sarwar

When they receive any news of peace or war, they announce it in public. Had they told it to the Messenger or to their (qualified) leaders, they could have used that information more properly. Were it not for the favor and mercy of God, all but a few of them would have followed Satan.

Translated by

Safi ur Rehman Mubarakpuri

When there comes to them some matter touching (public) safety or fear, they make it known (among the people); if only they had referred it to the Messenger or to those charged with authority among them, the proper investigators would have understood it from them (directly). Had it not been for the grace and mercy of Allah upon you, you would have followed Shaytan, except a few of you.

Translated by

Muhammad Habib Shakir

And when there comes to them news of security or fear they spread it abroad; and if they had referred it to the Apostle and to those in authority among them, those among them who can search out the knowledge of it would have known it, and were it not for the grace of Allah upon you and His mercy, you would have certainly followed the Shaitan save a few

Translated by

William Pickthall

And if any tidings, whether of safety or fear, come unto them, they noise it abroad, whereas if they had referred it to the messenger and to such of them as are in authority, those among them who are able to think out the matter would have known it. If it had not been for the grace of Allah upon you and His mercy ye would have followed Satan, save a few (of you).

Translated by

Moulana Younas Palanpuri

और जब उनको कोई बात अमन की या ख़ौफ़ की पहुँचती है तो वे उसको फैला देते हैं; हालाँकि अगर वे उसको रसूल तक या अपने ज़िम्मेदार लोगों तक पहुँचाते तो उनमें से जो लोग तहक़ीक़ करने वालें हैं वे उसकी हक़ीक़त को जान लेते, और अगर तुम पर अल्लाह का फ़ज़्ल और उसकी रहमत न होती तो थोड़े लोगों के सिवा तुम सब शैतान की राह पर चल पड़ते।

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

اور جب ان لوگوں کو کسی امر کی خبر پہنچتی ہے خواہ امن ہو یا خوف تو اس کو مشہور کردیتے ہیں اور اگر یہ لوگ اس کو رسول کے اور جو ان میں سے ایسے امور کو سمجھتے ہیں ان کے حوالے پر رکھتے تو اس کو وہ حضرات تو پہچان ہی لیتے جو ان میں اس کی تحقیق کرلیا کرتے اور اگر تم لوگوں پر خدا کا فضل اور رحمت نہ ہوتی تو تم سب کے سب شیطان کے پیرو ہوجاتے بجز تھوڑے سے آدمیوں کے۔ (83)

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

جب انہیں کوئی امن یا خوف کی خبر ملتی ہے تو اسے پھیلا دیتے ہیں۔ حالانکہ اگر یہ لوگ اسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اپنی جماعت کے ذمہ دار لوگوں کے سامنے پیش کرتے تاکہ وہ اس کی اصلیت معلوم کرلیتے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو چند ایک کے علاوہ تم سب شیطان کے پیچھے لگ جاتے

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ لوگ جہاں کوئی اطمینان بخش یا خوفناک خبر سن پاتے ہیں اسے لے کر پھیلا دیتے ہیں ‘ حالانکہ اگر یہ اسے رسول اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچائیں تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آجائے جو ان کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس سے صحیح نتیجہ اخذ کرسکیں ‘ تم لوگوں پر اللہ کی مہربانی اور رحمت نہ ہوتی تو (تمہاری کمزوریاں ایسی تھیں کہ) معدودے چند کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے لگ گئے ہوتے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر آجاتی ہے تو اسے مشہور کردیتے ہیں، اور اگر اس خبر کو پہنچا دیتے رسول کی طرف اور ان لوگوں کی طرف جو ان میں سے فہم رکھنے والے ہیں تو ان میں جو ایسے حضرات ہیں جو اس سے استخراج کرلیتے ہیں وہ اس کو جان لیتے اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم شیطان کے پیرو ہوجاتے سوائے چند آدمیوں کے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

اور جب ان کے پاس پہنچتی ہے کوئی خبر امن کی یا ڈر کی تو اس کو مشہور کردیتے ہیں اور اگر اسکو پہنچا دیتے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک اور اپنے حاکموں تک تو تحقیق کرتے اس کو جو ان میں تحقیق کرنے والے ہیں اس کی اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی مہربانی تو البتہ تم پیچھے ہو لیتے شیطان کے مگر تھوڑے

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

اور ان لوگوں کو جب کوئی اطلاع موصول ہوتی ہے خواہ وہ امن کی ہو یا خوف کی تو یہ اس کو ہر ایک سے کہتے پھرتے ہیں اور اگر وہ اس خبر و شہرت دینے سے قبل پیغمبر تک اور ان لوگوں تک پہنچا دیتے جو ان میں سے ذمہ دار حضرات ہیں تو اس کی صحیح حقیقت کو ان میں سے وہ حضرات اچھی طرح سمجھ لیتے جو بات کی نہ اس میں سے بات کا صحیح نتیجہ اخذ کرلیا کرتے ہیں اور اگر تم لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور مہربانی نہ ہوتی تو یقینا چند آدمیوں کے سوا تم سب کے سب شیطان کے پیچھے ہو لئے ہوتے