Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 9

سورة النساء

وَ لۡیَخۡشَ الَّذِیۡنَ لَوۡ تَرَکُوۡا مِنۡ خَلۡفِہِمۡ ذُرِّیَّۃً ضِعٰفًا خَافُوۡا عَلَیۡہِمۡ ۪ فَلۡیَتَّقُوا اللّٰہَ وَ لۡیَقُوۡلُوۡا قَوۡلًا سَدِیۡدًا ﴿۹﴾

And let those [executors and guardians] fear [injustice] as if they [themselves] had left weak offspring behind and feared for them. So let them fear Allah and speak words of appropriate justice.

اور چاہئے کہ وہ اس بات سے ڈریں کہ اگر وہ خود اپنے پیچھے ( ننھے ننھے ) ناتواں بچے چھوڑ جاتے جنکے ضائع ہو جانے کا اندیشہ رہتا ہے ، ( تو ان کی چاہت کیا ہوتی ) پس اللہ تعالٰی سے ڈر کر جچی تُلی بات کہا کریں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And let those (executors and guardians) have the same fear in their minds as they would have for their own, if they had left weak offspring behind. So, let them have Taqwa of Allah and speak truthfully. وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُواْ مِنْ خَلْفِهِمْ (And let those have the same fear in their minds as they would have for their own, if they had left behind...), Ali bin Abi Talhah reported that Ibn Abbas said that this part of the Ayah, "Refers to a man who is near death and he dictates a will and testament that harms some of the rightful inheritors. Allah commands whoever hears such will to fear Allah, and direct the dying man to do what is right and to be fair, being as eager to protect the inheritors of the dying man as he would be with his own." Similar was reported from Mujahid and several others. The Two Sahihs record that; when the Messenger of Allah visited Sa`d bin Abi Waqqas during an illness he suffered from, Sa`d said to the Messenger, "O Messenger of Allah! I am wealthy and have no inheritors except a daughter. Should I give two-thirds of my property in charity?" He said, "No." Sa`d asked, "Half." He said, "No." Sa`d said, "One-third." The Prophet said; الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِير One-third, and even one-third is too much. The Messenger of Allah then said, إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاس You'd better leave your inheritors wealthy rather than leaving them poor, begging from others. A Stern Warning Against Those Who Use Up the Orphan's Wealth It was also said that the Ayah وَلاَ تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا وَبِدَارًا أَن يَكْبَرُواْ (consume it not wastefully and hastily, fearing that they should grow up), (4:6) means, let them have Taqwa of Allah when taking care of the orphan's wealth, as Ibn Jarir recorded from Al-Awfi who reported this explanation from Ibn Abbas. This is a sound opinion that is supported by the warning that follows against consuming the orphan's wealth unjustly. In this case, the meaning becomes: Just as you would want your offspring to be treated fairly after you, then treat other people's offspring fairly when you are given the responsibility of caring for them. Allah proclaims that those who unjustly consume the wealth of orphans, will be eating fire into their stomach, this is why Allah said, إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

9۔ 1 بعض کے نزدیک اس کے مخطب اوصیاء ہیں (جن کو وصیت کی جاتی ہے) ان کو نصیحت کی جا رہی ہے کہ ان کے زیر کفالت جو یتیم ہیں انکے ساتھ وہ ایسا سلوک کریں جو اپنے بچوں کے ساتھ اپنے مرنے کے بعد کیا جانا پسند کرتے ہیں۔ بعض کے نزدیک اس کے مخاطب عام لوگ ہیں کہ وہ یتیموں اور دیگر چھوٹے بچوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مرنے والے کو اچھی باتیں سمجھائیں تاکہ وہ نہ حقوق اللہ میں کوتاہی کرسکے نہ حقوق بنی آدم میں، اور وصیت میں وہ ان دونوں باتوں کو ملحوظ رکھے۔ اگر وہ خوب صاحب حیثیت ہے تو ایک تہائی مال کی وصیت ایسے لوگوں کے حق میں ضرور کرے جو اس کے قریبی رشتہ داروں میں غریب اور مستحق امداد ہیں یا پھر کسی دینی مقصد اور ادارے پر خرچ کرنے کی وصیت کرے تاکہ یہ مال اس کے لیے زاد آخرت بن جائے اور اگر وہ صاحب حیثیت نہیں ہے تو اسے تہائی مال میں وصیت کرنے سے روکا جائے تاکہ اس کے اہل خانہ بعد میں مفلسی اور احتیاج سے دو چار نہ ہوں۔ اسی طرح کوئی اپنے ورثا کو محروم کرنا چاہے تو اس سے اس کو منع کیا جائے اور یہ خیال کیا جائے کہ اگر ان کے بچے فقر و فاقہ سے دو چار ہوجائیں تو اس کے تصور سے ان پر کیا گزرے گی۔ اس تفصیل سے مذکورہ سارے ہی مخاطبین اس کا مصداق ہیں۔ (تفسیر قرطبی وفتح القدیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٥] یعنی اگر تم اس حال میں مرجاؤ کہ پیچھے چھوٹی چھوٹی اولاد چھوڑ جاؤ تو تمہیں یہ ضرور خیال آئے گا کہ میرے بعد ان بچوں سے بہتر سلوک ہو۔ ایسے ہی جو یتیم اس وقت تمہارے زیر کفالت ہیں، اللہ سے ڈرتے ہوئے ان سے بھی ایسا ہی سلوک کرو۔ اور کوئی ایسی بات نہ کرو جس سے یتیموں کا دل شکستہ ہو۔ جو بات کرو ان کے حق میں بھلائی کی ہونی چاہیے۔ اس دور میں یتیموں اور بیواؤں سے جس طرح کا سلوک کیا جاتا تھا مندرجہ ذیل حدیث سے اس پر کافی روشنی پڑتی ہے : میراث میں بیوی بچوں کا حصہ :۔ سیدنا جابر (رض) کہتے ہیں && سعد (رض) بن ربیع کی بیوی اپنی دو بیٹیوں کے ہمراہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی۔ یہ سعد بن ربیع (رض) کی بچیاں ہیں ان کا باپ جنگ احد میں شہید ہوگیا ہے بچیوں کے چچا (سعد بن ربیع کے بھائی) نے سعد کے سارے ترکہ پر قبضہ کرلیا ہے اور ان کے لیے کچھ نہیں چھوڑا۔ اور مال کے بغیر ان کا نکاح بھی نہیں ہوسکتا۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ خود اس معاملہ میں فیصلہ فرمائے گا۔ پھر میراث کی آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سعد کے بھائی کو بلایا اور فرمایا کہ ترکہ میں سے دو تہائی تو سعد کی بچیوں کو دو اور آٹھواں حصہ ان کی والدہ کو۔ باقی جو بچے (یعنی ٢٤ حصوں میں سے صرف ٥ حصے) وہ تمہارا ہے && (ترمذی، ابو اب الفرائض)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلْيَخْشَ الَّذِيْنَ ۔۔ : یہ حکم میت کی وصیت سن کر نافذ کرنے والوں کو ہے اور ان لوگوں کو بھی جو یتیموں کے سرپرست اور وصی مقرر ہوں۔ ان سب کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے میت کی اولاد اور یتیموں کے مفاد کا اسی طرح خیال رکھیں جس طرح وہ چاہتے ہیں کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی چھوٹی اور بےبس اولاد کے مفاد کا خیال رکھا جائے، لہٰذا انھیں یتیموں سے بہتر سلوک کرنا چاہیے اور ان کی عمدہ سے عمدہ تعلیم و تربیت کرنی چاہیے۔ یتیموں کے اولیاء سے اس آیت کا تعلق زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے، کیونکہ بعد میں یتامیٰ کی حق تلفی کرنے والوں کے متعلق جو وعید آرہی ہے اولیاء کی اس کے ساتھ زیادہ مناسبت پائی جاتی ہے۔ ویسے عام مسلمانوں کو بھی یتیموں کے ساتھ خاص احسان اور سلوک کرنے کا حکم ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Fear Allah while distributing inheritance The third verse (9) addresses Muslims in general exhorting them to make it certain that the inheritance of the deceased reaches his chil¬dren fully and fairly. They must abstain from any mode of action which may affect the share of the children adversely. The general sense of the verse covers the eventuality when one sees a Muslim making a will or disposing property off in a manner which could cause damage or loss to his children and other inheritors. If so, one must stop him from such bequeathal or such disposal, very much like what the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) did when he stopped the blessed Companion, Sayyidna Sa&d ibn Abi Waqqas (رض) ، from giving the whole, or half, of his property in charity (Sadaqah), allowing him to give only one-third of his property as such (Mishkat, Bab al-Wasaya, p. 265), because, &If the whole, or half of the property was given in charity, the share of the inheritors would have either been all consumed, or curtailed. Also included in the general sense of the verse is that guardians of the orphaned children should protect their property and give it to them in full when they become mature. They should take pains to accomplish this mission of trust and never let the least negligence on their part affect their duty; if they wish that others treat their children well after them, without causing them any harm or injustice, then, they should treat the children of others - the orphans - in the same manner.

اللہ سے ڈرتے ہوئے میراث تقسیم کریں : تیسری آیت میں عام مسلمانوں کو خطاب عام ہے کہ اس کا پورا اہتمام کریں کہ مرنے والے کا ترکہ اس کی اولاد کو پورا پورا پہنچ جائے اور ہر ایسے طریقہ سے پرہیز کریں جس میں اولاد کے حصہ پر کوئی ناگوارا اثر پڑتا ہو، اس کے عموم میں یہ بھی داخل ہے کہ آپ کسی مسلمان کو کوئی ایسی وصیت یا تصرف کرتے ہوئے دیکھیں جس سے اس کی اولاد اور دوسرے وارثوں کو نقصان پہنچ جانے کا خطرہ ہے تو آپ پر لازم ہے کہ اس کو ایسی وصیت یا ایسے تصرف سے روکیں، جیسا کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سعد بن ابی وقاص کو اپنا پورا مال یا آدھا مال صدقہ کرنے سے روک دیا اور صرف ایک تہائی مال کو صدقہ کرنے کی اجازت دیدی، (مشکوة باب الوصایا، ص ٥٦٢) کیونکہ پورا مال یا آدھا مال صدقہ کردیا جاتا تو وارثوں کا حصہ ختم یا کم ہوجاتا۔ نیز اس کے عموم میں یہ بھی داخل ہے کہ یتیم بچوں کے اولیاء ان کے مال کی حفاظت اور پھر بالغ ہونے کے بعد ان کو پورا پورا دینے کا بڑا اہتمام کریں، اس میں ادنی کوتاہی کو راہ نہ دیں اور دوسروں کے یتیم بچوں کے حالات کو اپنے بچوں اور اپنی محبت کے ساتھ موازنہ کر کے دیکھیں اور اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بعد ان کی اولاد کے ساتھ لوگ اچھا معاملہ کریں اور وہ پریشان نہ ہوں کوئی ان پر ظلم نہ کرے تو ان کو چاہئے کہ دوسرے کی اولاد یتامی کے ساتھ یہی معاملہ کریں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلْيَخْشَ الَّذِيْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِھِمْ ذُرِّيَّۃً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَيْھِمْ۝ ٠ ۠ فَلْيَتَّقُوا اللہَ وَلْيَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِيْدًا۝ ٩ خشی الخَشْيَة : خوف يشوبه تعظیم، وأكثر ما يكون ذلک عن علم بما يخشی منه، ولذلک خصّ العلماء بها في قوله : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ( خ ش ی ) الخشیۃ ۔ اس خوف کو کہتے ہیں جو کسی کی عظمت کی وجہ سے دل پر طاری ہوجائے ، یہ بات عام طور پر اس چیز کا علم ہونے سے ہوتی ہے جس سے انسان ڈرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ ؛۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] اور خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ میں خشیت الہی کے ساتھ علماء کو خاص کیا ہے ۔ لو لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] . ( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔ خلف ( پیچھے ) خَلْفُ : ضدّ القُدَّام، قال تعالی: يَعْلَمُ ما بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَما خَلْفَهُمْ [ البقرة/ 255] ، وقال تعالی: لَهُ مُعَقِّباتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ [ الرعد/ 11] ( خ ل ف ) خلف ( پیچھے ) یہ قدام کی ضد ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ يَعْلَمُ ما بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَما خَلْفَهُمْ [ البقرة/ 255] جو کچھ ان کے روبرو ہو راہا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہوچکا ہے اسے سب معلوم ہے ۔ لَهُ مُعَقِّباتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ [ الرعد/ 11] اس کے آگے پیچھے خدا کے جو کیدار ہیں ۔ ذر الذّرّيّة، قال تعالی: وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] ( ذ ر ر) الذریۃ ۔ نسل اولاد ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] اور میری اولاد میں سے بھی ضعف والضَّعْفُ قد يكون في النّفس، وفي البدن، وفي الحال، وقیل : الضَّعْفُ والضُّعْفُ لغتان . قال تعالی: وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفاً [ الأنفال/ 66] ( ض ع ف ) الضعف اور الضعف رائے کی کمزوری پر بھی بولا جاتا ہے اور بدن اور حالت کی کمزوری پر بھی اور اس میں ضعف اور ضعف ( ولغت ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفاً [ الأنفال/ 66] اور معلوم کرلیا کہ ابھی تم میں کس قدر کمزور ی ہے ۔ خوف الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ، وحقیقته : وإن وقع لکم خوف من ذلک لمعرفتکم . والخوف من اللہ لا يراد به ما يخطر بالبال من الرّعب، کاستشعار الخوف من الأسد، بل إنما يراد به الكفّ عن المعاصي واختیار الطّاعات، ولذلک قيل : لا يعدّ خائفا من لم يكن للذنوب تارکا . والتَّخویفُ من اللہ تعالی: هو الحثّ علی التّحرّز، وعلی ذلک قوله تعالی: ذلِكَ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِ عِبادَهُ [ الزمر/ 16] ، ( خ و ف ) الخوف ( س ) کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے : قرآن میں ہے : ۔ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] اور اس کی رحمت کے امید وار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں ۔ اس کے اصل معنی یہ ہیں کہ اگر حالات سے واقفیت کی بنا پر تمہیں اندیشہ ہو کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے ) کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ جس طرح انسان شیر کے دیکھنے سے ڈر محسوس کرتا ہے ۔ اسی قسم کا رعب اللہ تعالیٰ کے تصور سے انسان کے قلب پر طاری ہوجائے بلکہ خوف الہیٰ کے معنی یہ ہیں کہ انسان گناہوں سے بچتا رہے ۔ اور طاعات کو اختیار کرے ۔ اسی بنا پر کہا گیا ہے کہ جو شخص گناہ ترک نہیں کرتا وہ خائف یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا نہیں ہوسکتا ۔ الخویف ( تفعیل ) ڈرانا ) اللہ تعالیٰ کے لوگوں کو ڈرانے کے معنی یہ ہیں کہ وہ لوگوں کو برے کاموں سے بچتے رہنے کی ترغیب دیتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ ذلِكَ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِ عِبادَهُ [ الزمر/ 16] بھی اسی معنی پر محمول ہے اور باری تعالےٰ نے شیطان سے ڈرنے اور اس کی تخویف کی پرواہ کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ تقوي والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔ سد السَّدُّ والسُّدُّ قيل هما واحد، وقیل : السُّدُّ : ما کان خلقة، والسَّدُّ : ما کان صنعة «1» ، وأصل السَّدِّ مصدر سَدَدْتُهُ ، قال تعالی: بَيْنَنا وَبَيْنَهُمْ سَدًّا، [ الكهف/ 94] ، وشبّه به الموانع، نحو : وَجَعَلْنا مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا [يس/ 9] ، وقرئ سدا «2» السُّدَّةُ : کا لظُّلَّة علی الباب تقية من المطر، وقد يعبّر بها عن الباب، كما قيل : ( الفقیر الذي لا يفتح له سُدَدُ السّلطان) «3» ، والسَّدَادُ والسَّدَدُ : الاستقامة، والسِّدَادُ : ما يُسَدُّ به الثّلمة والثّغر، واستعیر لما يسدّ به الفقر . ( س د د ) السد : ( دیوار ، آڑ ) بعض نے کہا ہے سد اور سد کے ایک ہی معنی ہیں اور بعض دونوں میں فرق کرتے ہیں کہ سد ( بضمہ سین ) اس آڑ کو کہا جاتا ہے جو قدرتی ہو اور سد ( بفتحہ سین ) مصنوعی اور بنائی ہوئی روک کو کہتے ہیں ۔ اصل میں یہ سددتہ ( ن ) کا مصدر ہے جس کے معنی رخنہ کو بند کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ بَيْنَنا وَبَيْنَهُمْ سَدًّا، [ الكهف/ 94] کہ ( آپ ) ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار کھینچ دیں ۔ اور تشبیہ کے طور پر ہر قسم کے موانع کو سد کہہ دیا جاتا ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا [يس/ 9] اور ہم نے ان کے آگے بھی دیوار بنا دی اور ان کے پیچھے بھی ایک قراءت میں سدا بھی ہے ۔ السدۃ برآمدہ جو دروازے کے سامنے بنایا جائے تاکہ بارش سے بچاؤ ہوجائے ۔ کبھی دروازے کو بھی سدۃ کہہ دیتے ہیں جیسا کہ مشہور ہے : ۔ ( الفقیر الذي لا يفتح له سُدَدُ السّلطان) یعنی وہ فقیر جن کے لئے بادشاہ کے دروازے نہ کھولے جائیں ۔ السداد والسدد کے معنی استقامت کے ہیں اور السداد اسے کہتے ہیں جس سے رخنہ اور شگاف کو بھرا جائے ۔ اور استعارہ کے طور پر ہر اس چیز کو سداد کہا جاتا ہے جس سے فقر کو روکا جائے ۔ سدیدا ۔ سدید بروزن فعیل صفتتت مشبہ کا صیغہ ہے۔ سدیسد سددا وسدادادرست ہونا۔ ھو یسدفی تولہ وہ ٹھکانہ کی بات کہتا ہے۔ قلت لہ سدادا من القول میں نے اسے ٹھیک اور سیدھی بات کہی ( سدید کامیر استوار و درست منتہی الادب)

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

معاشرتی معاملات کی بنیاد وسیع ترقومی مفاد کے اصولوں پر ہونی چاہیئے قول باری ہے (ولیخش الذین لوترکوامن خلفھم ذریۃ ضعافاخافوا علیھم فلیتقوا اللہ ولیقولواقولا سدیدا، لوگوں کو اس بات کا خیال کرکے ڈرنا چاہیے کہ اگر خوداپنے پیچھے بےبس اولاد چھوڑتے تومرتے وقت انہیں اپنے بچوں کے حق میں کیسے کچھ اندیشے لاحق ہوتے۔ پس چاہیے کہ وہ خدا کا خوف کریں اور راستی کی بات کریں) اس آیت کی تاویل میں سلف کے اندراختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) سے ایک روایت کی بناپرنیز سعید بن جبیر، حسن، مجاہد، قتادہ، ضحاک، سدی کے قول کے مطابق اس سے مراد وہ شخص ہے جس کی موت کا وقت قریب آجائے، اس کے پاس موجودلوگوں میں سے کوئی اس سے کہے، انہیں یعنی رشتہ داروں کو بھی کچھ دے جاؤ، ان کے ساتھ صلہ رحمی اور نیکی کرو، اگر یہ لوگ خودوصیت کرنے والے ہوتے تو اپنی اولاد کے لیے سب کچھ بچالینا زیادہ پسند کرتے۔ حبیب بن اوس کہتے ہیں میں نے مقسم سے اس تفسیر کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ تفسیر اس طرح نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ شخص ہے جس کی موت کا وقت آجائے۔ اس کے پاس موجودلوگوں میں سے کوئی اسے یہ مشورہ دے کہ، اللہ کا خوف کرو اوراپنامال اپنے پاس رہنے دور کسی اور کونہ دو ، اگر مشورہ دینے والے خود اس کے رشتہ دارہوتے توا نہیں یہ بات زیادہ پسند ہوتی۔ کہ وہ ان کے متعلق وصیت کرجائے پہلے گروہ نے آیت کی یہ تاویل کی کہ اس قریب المرگ انسان کے پاس موجودلوگوں کوا سے وصیت پر ابھارنے سے روک دیاگیا ہے جبکہ مقسم نے اس کی یہ تاویل کی ہے کہ آیت میں ترک وصیت کا مشورہ دینے والے کو اس قسم کے مشورے سے روک دیا گیا ہے۔ ایک اور روایت میں حسن کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو قریب الموت شخص اپنے مال کی تہائی سے زائد وصیت کا مشورہ دیتا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) سے ایک اور روایت کے مطابق یتیم کے مال کی سرپرستی اور حفاظت کے سلسلے میں آپ نے فرمایا کہ سرپرستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے مال میں وہی کچھ کریں اور اس کے متعلق وہی کچھ کہیں جو وہ اپنی موت کے بعد پیچھے رہ جانے والے یتیموں اور بے بس اولاد کے مال میں کرنا اور کہنا پسند کرتے ہوں۔ یہاں یہ کہنا درست ہوگا کہ آیت کی سلف سے جتنی تاویلات مروی ہیں وہ سب مراد ہیں۔ البتہ ایک تاویل جس کی رو سے وصیت کا مشورہ اپنے سے روکا گیا ہے اس وقت درست ہوگی جب مشورہ دینے والے کا ارادہ ورثاء کو نقصان پہنچانے یا ان لوگوں کو محروم رکھنے کا ہو جن کے بارے میں مرنے والاوصیت کرنا چاہتا تھا یعنی مشورہ دینے والے کی یہ حرکت ایسی ہو کہ اگر وہ خود ان کی جگہ ہوتاتو اسے پسندنہ کرتا۔ وہ اس طرح کہ مرض موت میں مبتلا شخص کا مال بہت کم مقدار میں ہو اور اس کے ورثاء اس کے ورثاء اس کے بےبس اور کمزوراولاد ہو۔ اب یہ مشیر اسے مال کی پوری ایک تہائی کی وصیت کا مشورہ دے، حالانکہ اگر وہ خود اس کی جگہ ہوتاتو اپنے بےبس ، ورثاء کے خیال سے کبھی ایسا کرنے پر رضامند نہ ہوتا۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کسی شخص کے کمزور اوربے بس ورثاء ہوں اور اس کا مال بھی کوئی زیادہ نہ ہو تو اس کے لیے یہی مستحب ہے کہ کسی قسم کی وصیت نہ کرے اور سارامال اپنے ورثاء کے لیے چھوڑجائے اور اگر اسے وصیت کرنا ہی ہوتوتہائی سے کم کی وصیت کرجائے۔ حضرت سعد (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جب یہ عرض کیا تھا کہ میں اپنا مال وصیت میں دے دینا چاہتاہوں تو آپ انہیں روکتے رہے۔ حتی کہ وہ تہال مال پر آگئے اس پر آپ نے فرمایا (الثلث والثلث کثیر، انک ان تدع ورثتک اغنیاء خیرمن ان تدعھم عالۃ یتکفقون الناس، تہائی ٹھیک ہے اور تہائی بھی بہت بھی بہت زیادہ ہے تم اگر اپنے ورثاء کو مالدارچھوڑجاؤتویہ اس سے بہت رہے کہ انہیں تنگدستی میں مبتلا کر جاؤ کہ پھر وہ اپنے گذارے کے لیے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھلاتے پھریں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ واضح فرمادیا کہ ورثاء اگر غریب ہوں تو ایسی صورت میں ان کی خوشحالی کو مدنظررکھتے ہوئے وصیت نہ کرنا وصیت کرنے سے افضل ہے ۔ حسن بن زیادنے امام ابوحنیفہ سے نقل کیا ہے کہ جو شخص مالدارہو اس کیلئیے افضل صورت یہی ہے کہ رضائے الہی کی خاطر اپنے تہائی مال کی وصیت کرجائے اور جو شخص مال دارنہ ہو اس کے لیے افضل یہی ہے کہ کوئی وصیت نہ کرے بلکہ سارامال انے ورثا کیلیے چھوڑجائے۔ آیت کی تاویل میں حسن سے منقول روایت کے مطابق وصیت سے نہی کا حکم اس شخص کے لیے ہے جو مرنے والے کو تہائی سے زائد کی وصیت کرجانے کا مشورہ دے اس لیے کہ اسے ایسا کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے (الثلث کثیر، تہائی بھی بہت زیادہ ہے) نیز آپ نے حضرت سعد (رض) کو تہائی سے زائدمال کی وصیت سے منع کردیا تھا۔ مقسم نے آیت کی تاویل کے سلسلے میں جو کہا ہے آیت سے وہ مرادلینا بھی جائز ہے وہ اس طرح کہ مرنے والے کے پاس موجود کوئی شخص اسے وصیت نہ کرنے کا مشورہ دے۔ اگر یہ مشیر اس کے رشتہ داروں میں سے ہوتا تو وہ اپنے بارے میں اسکی وصیت کے عمل کو ضرورپسند کرتا۔ اس طرح وہ اسے ایسا مشورہ دینے کا مرتکب ٹھہراج سے وہ اپنی ذات کے لیے پسند نہیں کرتا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی اس معنی میں روایت موجود ہے۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت کی، انہیں ابراہیم بن ہاشم نے، انہیں ھلابہ نے، انہیں ہمام نے ، انہیں قتادہ نے حضرت انس (رض) سے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (لایؤمن العبدحتی یحب الخید مایحب لنفسہ من الخیر، کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی بھلائی نہ چاہے جو وہ اپنی ذات کے لیے چاہتا ہے) ہمیں عبدالباقی نے روایت بیان کی۔ انہیں حسن بن العباس رازی نے، انہیں سہل بن عثمان نے، انہیں زیادبن عبداللہ نے لیث سے، انہوں نے ظاحہ سے، انہوں نے خیثمہ سے، انہوں نے حضرت عبداللہ عمر (رض) سے انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہ آپ نے فرمایا (من سرہ ان یزحزح عن النارویدخل الجنۃ فلتاتہ میتہ وھویشھد ان لاالہ الا اللہ وان محمدا رسول اللہ ویحب ان یاتی الی الناس مایحب ان یاتی الیہ، جس شخص کو یہ بات خوش کردے کہ اسے جہنم سے دورکردیاجائے اور جنت میں داخل ہوجائے توا سے چاہیے کہ اس کی موت ایسی حالت میں آئے کہ وہ اللہ کی واحدانیت اور اس کی معبودیت نیز حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کی گواہی دیتاہو اور اسے اپنی ذات کے لیے جس چیز کا حصول پسند ہو لوگوں کے لیے بھی اس کا حصول اسے پسندہو) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ قول باری (ولیخش الذین لوترکوامن خلفھم ذریۃ ضعافا خافواعلیھم فلیتقوا اللہ والیقولو اقولا سدیدا) کے یہ معنی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع کردیا ہے کہ کوئی شخص کسی شخص کو ای سے کام کا مشورہ دے یا ایسا قدم اٹھا نے کا حکم کرے جو وہ اپنی ذات، اپنے اہل وعیال اور اپنے ورثاء کے لیے اٹھا ناپسند نہ کرتا ہو۔ اس کی بجائے مرنے والے کا پاس موجودلوگوں کو سیدھی اور درست بات کرنے کا حکم دیا ہے۔ یعنی حق وانصاف کی بات جس میں کوئی ہیرپھیریا خرابی نہ ہو کہ اس سے کسی وارث کو نقصان پہنچتا ہویا کسی رشتہ دار کی محرومی لازم آتی ہو۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩۔ ١٠) اور ان لوگوں کو جو قریب المرض مریض کے پاس ہوتے ہیں اور تہائی مال سے زیادہ وصیت کرنے کا حکم دیتے ہیں، ان کو ان یتیم بچوں کے بارے میں ڈرنا چاہیے کیوں کہ اگر وہ اپنے چھوٹے بچوں کو چھوڑ کر مرجائیں تو ان کو اپنی اولاد کی فکر ہو، اسی طرح ان لوگوں کو مرنے والے کی اولاد کی فکر ہونی چاہیے۔ اور یہ لوگ مریض کے پاس آتے تھے اور اس سے کہتے تھے کہ اپنا مال فلاں کو دے دو اور فلاں کو دے دو اس طریقہ سے اس کا سارا مال خوامخواہ تقسیم کرا دیتے تھے اور اس کے چھوٹے بچوں کے لیے کچھ نہیں رہتا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس چیز کی ممانعت فرما دی لہٰذا یہ لوگ جو تہائی مال سے زیادہ مرنے والے کو وصیت کا حکم کرتے ہیں، ان کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے اور بیمار سے انصاف کی بات کرنی چاہیے اور جو بلااستحقاق (بلاضرورت شرعی) یتیم کا مال کھاتے ہیں ان کا حال یہ ہوگا کہ وہ قیامت کے دن اپنے پیٹوں میں دوزخ کے انگارے بھریں گے اور اس کی جلتی آگ کا ایندھن ہوں گے یہ آیت حنظلہ بن شمرو کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٩ (وَلْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَکُوْا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْہِمْ ) (فَلْیَتَّقُوا اللّٰہَ ) انہیں یہ خیال کرنا چاہیے کہ یہ یتیم جو اس وقت آگئے ہیں یہ بھی کسی کے بچے ہیں ‘ جن کے سر پر باپ کا سایہ نہیں رہا۔ لہٰذا وہ ان کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

9: یعنی جس طرح تمہیں اپنے بچوں کی فکر ہوتی ہے کہ ہمارے مرنے کے بعد ان کا کیا ہوگا اسی طرح دوسروں کے بچوں کی بھی فکر کرو اور یتیموں کے مال میں خرد برد کرنے سے ڈرو۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(9 ۔ 10) ۔ علمائے مفسرین نے اس آیت کی شان نزول دو طرح بیان کی ہے بعض کہتے ہیں کہ قریب المرگ بیمار کے پاس اوپر والے لوگ بیمار کو ایسی صلاحیں دیا کرتے تھے کہ حق دار وارثوں کا حق مار کر غیروں کے نام پر تیسرے حصہ سے زیادہ نام نمود کے لئے وصیت کرے ان کی ممانعت میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے اور اس طرح کے صلاح کاروں کو ڈرایا ہے کہ صلاح نیک دو آج دوسروں کی اولاد کا حق مارا جانے کی صلاح دو گے تو کل تمہاری اولاد کے لئے بھی یہی دن پیش آنے والا ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یتیموں کے بڑے بوڑھے یتیموں کو اور یتیموں کے مال کو بےاحتیاطی سے رکھتے تھے ان کے ڈرانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ کل کو تمہاری اولاد بھی یتیم ہونے والی ہے دوسروں کی یتیم اولاد کے ساتھ اچھا برتاؤ رکھو اور اپنی اولاد کو یہ دن یاد کرواؤ رفع اس اختلاف کا یہی ہے کہ آیت عام ہے دونوں حکموں کو شامل ہے چناچہ خود امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے دونوں شان نزول کی روایتیں ہیں۔ صحیح ابن حبان میں ابی برزہ (رض) سے روایت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن فرمایا کہ قیامت کے دن ایک گروہ خلقت کا قبروں سے جب اٹھے گا تو ان کے منہ اور آنکھ ناک کانوں سے آگ کے شعلے نکلتے ہوں گے صحابہ نے پوچھا کہ حضرت وہ کون لوگ ہیں آپ نے فرمایا یتیموں کا مال کھانے والے ٢ اور وصیت میں بےاحتیاطی کرنے کی ممانعت کی یہ حدیث ترمذی ٣ اور ابو داؤد کے حوالہ سے اوپر سورة بقر ٤ میں گذرچ کی ہے کہ بعض لوگ ساری عمر نیک عمل کرکے آخر وقت وصیت میں بےاحتیاطی کرتے ہیں جس سے ان کے سارے نیک عمل ضائع ہوجاتے ہیں بعض مفسروں نے یہ جو وہم کیا ہے کہ آیت وَاِنْ تُخَالِطُوْھُمْ فَاِخْوَانَکُمْ (٢٢٠/٢) سے آیت اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتَامٰی ظُلْمَا۔ منسوخ ہے یہ وہم بالکل غلط ہے یتیم کا مال کھانا کسی طرح جائز نہیں ہے اور نہ آیت وان تخالطو ھم کا مطلب یہ ہے کہ یتیم کا مال کھانا جائز ہے بلکہ اس آیت کا مطلب تو اسی قدر ہے کہ یتیم کے خرچ سے یتیم کے کھانے کے موافق آٹا دال وغیر جنس میں ملا کر پکا کستے ہو غرض یتیم کے مال کی بابت جب اللہ تعالیٰ نے سخت اور تشددی احکام نازل فرمائے تو لوگ بہت ڈر گئے تھے۔ اور جن لوگوں کی پرورش میں یتیم تھے انہوں نے یہاں تک احتیاط کی کہ کھانا بھی الگ پکوانے لگے اس میں ایک طرح کا حرج تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے آیت وان تخالطوھم سے صرف اس حرج کو رفع فرما دیا ہے کسی حکم کی منسوخی اس آیت سے منسوخ نہیں فرمائی ہے اوپر حضرت ابوہریرہ (رض) کی حدیث گذر چکی ہے ١ جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یتیم کے مال کھا جانے کو بڑا گناہ فرمایا ہے۔ اس سے ابن حبان کی روایت کی تائید ہوتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:9) ولیخش۔ واحد مذکر گا ئب امر خشیۃ مصدر باب سمع۔ اس کو ڈرنا چاہیے۔ وہ ڈرتا رہے۔ ذریۃ۔ چھوٹے چھوٹے بچے۔ واحد اور جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ضعافا۔ ضعف سے کمزور۔ ناتواں۔ ضعیف کی جمع ہے۔ (4:9) خافوا علیہم۔ وہ فکر مند ہوئے ان کے متعلق۔ ولیخش ۔۔ خافوا علیہم۔ پس جو لوگ یتیموں کے سرپرست ہیں وہ ڈریں یتیموں کے ساتھ سلوک کرنے میں اور سوچیں کہ اگر وہ خود اپنے پیچھے چھوٹے چھوٹے کمزور ناتواں بچے چھوڑ کر اس جہاں سے رخصت ہوں تو اپنے ان بچوں کے متعلق وہ کتنے فکر مند ہوتے ۔ پس جیسے وہ اپنے پسماندگان سے اپنے بچوں کے متعلق سلوک کی تمنا رکھتے ہیں ویسا ہی سلوک وہ اب اپنے زیر سرپرستی سے کریں۔ سدیدا۔ سدید بروزن فعیل صفتتت مشبہ کا صیغہ ہے۔ سدیسد سددا وسدادادرست ہونا۔ ھو یسدفی تولہ وہ ٹھکانہ کی بات کہتا ہے۔ قلت لہ سدادا من القول میں نے اسے ٹھیک اور سیدھی بات کہی (سدید کامیر استوار و درست منتہی الادب)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یہ حکم میت کے وصیت سن کر نافذ کرنے والوں کو ہے اور ان لوگوں کو بھی جو یتیموں کے سرپرست اور وصی مقرر ہوں۔ ان سب کو ہدایت کی جارہی ہے وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے میت کی اولاد اور یتیموں کو مفاد کا سی طرح خیال رکھیں جس طرح وہ چاہتے ہیں کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی چھو ٹی اور بےبس اولاد کے مفاد کا خیال رکھا جائے۔ لہذا انہیں یتیموں سے بہتر سے بہتر سلوک کرنا چاہیے اور ان کی عمدہ سے عمدہ تعلیم و تربیت کرنا چایئے یتیموں کے اولیا سے اس آیت کا تعلق انسب معلوم ہو تو ہے کیونکہ بعد میں یت امیٰ کی حق تلفی کرنے والوں کو متعلق جو وعید آرہی ہے اس کے ساتھ زیادہ منا سبت پائی جاتی ہے، ( ابن کثیر۔ قرطبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیت 9 تا 10 ۔ قرآنی انداز تربیت : دین اسلام کو یاد دلاتا ہے کہ اسے بھی مرنا ہے اور ممکن ہے اسی طرح چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ کر مرجائے تو یہ کیا چاہے گا کہ ان کے ساتھ کیسا سلوک ہونا چاہئے ویسا ہی سلوک ان بچوں سے کرے جو آج اس کے سامنے یتیم ہو کر بےکسی کی تصویر بنے کھڑے ہیں۔ اور اللہ سے ڈرتا رہے کہ وہ ہر چیز پہ قادر ہے ایسا ہی سلوک اس کے ساتھ بھی کرسکتا ہے سو چاہئے کہ نہایت ہی موزوں بات کرے۔ اور یہ یاد رکھو کہ مال یتیم جو شخص بھی ناروا طور پر کھائے گا وہ یقیناً اپنے پیٹ میں آگ بھر رہا ہے اور عنقریب اسے بھڑکتی آگ یعنی دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ بعض علما نے لکھا کہ یہ خبر بطور استعارہ کے ہے مگر ایسا نہیں ہے بلکہ اعمال انسانی پر دونوں اجر بیک وقت دئیے جاتے ہیں دنیا کا اجر بھی اور آخرت کا بھی دنیا کا اثر یہ ہے کہ پیٹ بھر گیا مگر اخروی اجر یہ ہے کہ پیٹ میں آگ ڈالی جا رہی ہے حدیث شریف میں وارد ہے کہ بعض لوگ اس حال میں اٹھیں گے کہ منہ ناک کان وغیرہ سے دھواں اور شعلے نکل رہے ہوں گے اور یہ آگ اگرچہ ظاہر کی آنکھوں سے نظر نہیں آتی مگر اپنا اثر دکھاتی ہے اور دنیا میں بھی چین نصیب نہیں ہوتا ایسے لوگ زندگی بھر تڑپتے رہتے ہیں اور بعد مرگ تو عذاب ہے ہی۔ اللہ کریم اپنے عذابوں سے اپنے ہی پناہ میں رکھے اور ایسے امور سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے جو اس کی ناراضگی کا سبب ہوں۔ آمین۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ”۔ ولیخش الذین لو ترکوا من خلفھم ذریة ضعفا خافوا علیھم فلیتقوا اللہ ولیقولوا قولا سدیدا (٩) ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما انما یاکلون فی بطونھم نارا ، وسیصلون سعیرا “۔ (٠١) یہ پہلی چٹکی دل کے پردے کو ٹچ کرتی ہے ۔ ایک حساس محبت سے بھر آنے والے باپ کے دل کو اپنے چھوٹے اور کمزور بچوں کی نسبت سے یہ تصور دیا جاتا ہے کہ ذرا سوچیں تو سہی تمہارے چھوٹے بچے ہوں ‘ ناتوان ہوں اور ان پر کوئی ترس کھانے والا نہ ہو اور نہ کوئی ان کا محافظ ونگران ہو۔ جو ان کے سرپر رحم کا ہاتھ پھیرے ۔ یہی حالت ان یتیموں کی ہے ‘ جن کی تقدیر تمہارے سپرد ہے ۔ انکے باپوں کا سایہ ان کے سروں سے اٹھ چکا ہے ۔ انہیں کیا معلوم ہے کہ کل تم نہ رہو تو خود تمہارے بچے دوسرے زندہ اولیاء کی تولیت میں ہوں جس طرح یہ موجود بچے تمہاری ولایت میں ہیں ۔ اس ٹچ کے بعد انہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ اس تصور کے ساتھ ساتھ ان بچوں کے بارے میں خدا کا خوف ہر وقت دل میں ان کو اور اس کا بدلہ یہ ہوگا کہ کل تمہارے بچوں کا انتظام بھی اللہ ایسے ہی خدا ترس اولیاء کے ذریعے کرانے کا انتظام کرے گا ۔ جو خدا خوفی ‘ احتیاط اور محبت سے یہ ڈیوٹی سرانجام دیں گے ۔ پھر یہ نصیحت بھی کی جاتی ہے کہ وہ ان یتیموں کے بارے میں سیدھی سیدھی بات کریں ۔ یعنی اس تربیت اور نگرانی اور اس کے متاع واموال کی دیکھ بھال کے دوران ۔ اور یہ دوسرا ٹچ کیا ہے ؟ نہایت ہی خوفناک کچھ لوگ ہیں جو دھکتے انگاروں کو اس طرح کھائے جا رہے ہیں جس طرح لقمہ رزق ‘ کیا خوفناک تصویر ہے یہ ’ آخر کار جہنم میں اور پیٹ میں بھی جہنم ‘ یہ دولت جسے وہ کھا رہے ہیں ۔ یتیموں کا مال ‘ گویا وہ آگ کے دھکتے انگارے کھا رہے ہیں ۔ مال کار وہ جہنم رسید ہوں گے ۔ وہ ان کے ان معدوں اور ان کی کھال کو بھسم کر کے رکھ دے گی ۔ ظاہر میں بھی آگ اور باطن میں آگ ، مجسمہ آگ جسے پیٹ اور کھال دونوں محسوس کرتے ہیں ۔ اس تصویر کو آنکھیں دیکھ رہی ہیں اور اس میں پیٹ اور جسم اور کھال سب جل رہے ہیں ۔ قرآن کریم کے اس موثر انداز تعبیر نے صحابہ کرام اور مسلمانوں کے دل و دماغ پر خوب اثر کیا ۔ ان نصوص کے موثر اشارات نے اہل ایمان کے دل و دماغ سے جاہلیت کی میل کچیل دھو کر رکھ دی ۔ ان کے دلوں کو اس قدر جھنجوڑا کہ جاہلیت کے ہر قسم کے گرد و غبار کو جھاڑ کر رکھ دیا ۔ اور اس جگہ ان مومن دلوں کے اندر خدا ترسی ‘ خدا خوفی اور احتیاط واحتساب کے جذبات پیدا کردیئے اور ان کی حالت یہ ہوگی کہ انہوں نے یتیموں کے مال کو اچھوت تصور کیا وہ دیکھ رہے تھے کہ اس مال کے اندر آگ ہے اور یہ تصور ان کے دلوں میں ان آیات پر تاثیرات نے پیدا کردیا تھا ۔ انکی حالت یہ ہوگئی کہ وہ اموال یتامی کو چھونا تک گوارا نہ کرتے تھے ۔ اور ان اموال سے اس طرح دور بھاگتے تھے جسے لومڑی ڈر کے مارے بھاگتی ہے ۔ عطاء ابن سائب کے واسطہ سے سعید ابن جبیر (رض) نے حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے ۔ فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما “۔ ” تو جن لوگوں کے پاس یتیم تھے ، انہوں نے ان کھانا پکانا جدا کردیا ۔ ان کا کھانا پینا علیحدہ کردیا گیا ، بعض اوقات ان کے کھانے پینے سے کچھ چیز بچ جاتی تھی تو وہ ان کیلئے چھوڑ دی جاتی تھی کہ یا تو وہ دوسرے وقت کھائیں یا وہ چیز خراب ہوجاتی ۔ یہ معاملہ ان کیلئے تکلیف کا باعث بن گیا اس بات کی شکایت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ہوئی تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” ویسئلونک عن الیتمی ، قل اصلاح لھم خیر ، وان تخالطوھم فاخوانکم ، واللہ یعلم المفسد من المصلح ، ولو شآء اللہ لاعنتکم “۔ ترجمہ : ” پوچھتے ہیں یتیموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے ؟ کہو جس طرز عمل میں ان کیلئے بھلائی ہو ‘ وہی اختیار کرنا بہتر ہے ۔ اگر تم اپنا اور انکا خرچ اور رہنا سہنا مشترک رکھو ‘ تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ آخر وہ تمہارے بھائی بند ہی تو ہیں ۔ برائی کرنے والے اور بھلائی کرنے والے دونوں کا حال اللہ پر روشن ہے ۔ اللہ چاہتا تو اس معاملے میں تم پر سختی کرتا ، “ اس کے بعد صحابہ (رض) اجمعین نے یتیموں کا کھانا اپنے کھانے کے ساتھ شامل کیا اور ان کا پینا اپنے پینے کے ساتھ ۔ یوں قرآنی انداز تربیت نے ان لوگوں کے ایمان وضمیر کو بلند کردیا اور وہ انسانیت کے افق کا روشن ستارہ بن گئے ۔ اور ان کے دل و دماغ کو جاہلیت کی تمام آلودگیوں سے پاک وصاف کردیا اور یہ پاکی اور تطہیر اس معاشرے میں تعجب انگیز تھی ۔ اب بات نظام وراثت تک آپہنچتی ہے ۔ آغاز کلام اس طرح ہوتا ہے کہ اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے اس وصیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت ہی رحیم ‘ بہت ہی بھلائی کرنے والے اور بہت ہی عادل ہیں ۔ اور وہ والدین سے بھی زیادہ رحیم وشفیق ہیں ۔ اور ان انداز خطاب میں یہ اشارہ بھی کیا جاتا ہے کہ اس پورے نظام کا مرجع ومآل آخر کار اللہ میاں کی ذات مبارک ہے ۔ اور اللہ کی ذات ہی ہے جو ایک والد اور اس کی اولاد کے درمیان بھی فیصلہ کرنے والی ہے ۔ وہ رشتہ داروں کے درمیان بھی حقوق طے کرنے والی ہے اور لوگوں کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اللہ سے سیکھیں اور اخذ کریں اور اس کے احکام ووصیت کو نافذ کریں ، یہی معنی دین کے ہیں ۔ جیسا کہ ہم نے آغاز سورت پر کلام کے وقت یہ نکتہ بیان کیا تھا کہ اس سورت کے موضوعات میں سے ایک اہم موضوع اور محور دین کے مفہوم کی وضاحت ہے ۔ چناچہ نظام میراث پر کلام کا آغاز یوں ہوتا ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

10 یہ ان لوگوں کو زجر ہے جو یتامی اور مساکین کی حق تلفی کریں اور میراث سے ان کو ان کا مقررہ حصہ نہ دیں۔ لِیَخْشَ کا مفعول (اللہ) محذوف ہے۔ یعنی اولاء میت خدا سے ڈریں اور سوچیں کہ اگر وہ مرجائیں اور ان کے پیچھے ان کے یتیم بچے رہ جائیں تو وہ ان کے حق میں کس قسم کے سلوک کی تمنا کریں گے۔ اس لیے اب ان کو دوسرے یتیموں اور مسکینوں سے ویسا ہی برتاؤ کرنا چاہئے جیسے برتاؤ کی وہ اپنی یتیم اور مسکین اولاد سے تمنا اور خواہش رکھتے ہیں۔ ای افعلوا بالیتامی ما تحبون ان یفعل باولادکم من بعدکم (قرطبی ج 5 ص 51) ۔ اِنَّ الَّذِیْنَ یَاکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیتٰمٰی ظُلْماً اِنَّمَا یَاکُلُوْنَ فِی بُطُوْنِہِمْ نَاراً ۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ پہلے احکام کا خلاصہ یہ ہے کہ یتیم لڑکوں اور لڑکیوں کی حق تلفی نہ کرو۔ ان سے عدل و انصاف کا برتاؤ کرو۔ اور ان کا مال ظلماً نہ کھاؤ۔ اس لیے یہاں اس پر وعید شدید کی دھمکی دی گئی ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 4 اور یتامیٰ کے بارے میں لوگوں کو یہ خیال کرکے ڈرنا چاہئے کہ اگر وہ خود مرتے وقت اپنے پیچھے چھوٹے چھوٹے کمزور و ناتواں بچے چھوڑیں تو ان کو ان بچوں کی کس طرح فکر ہو اور وہ ان کے بارے میں کیسے کیسے اندیشے کریں کہ دیکھئے ہمارے بعدان چھوٹے بچوں کا کیا حال ہوگا اور کون ان کی دیکھ بھال کرے گا۔ بس اسی طرح دوسروں کے بچوں کا بھی خیال کریں اس بات کو سوچ کر یعنی اگر ہم چھوٹے بچے چھوڑ کر مرتے تو ان کے متعلق کیا چاہتے یتیموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہیں اور خدا کے حکم کی مخالفت کرنے سے جو یتیموں کے بارے میں اس نے دیا ہے اجتناب کریں۔ اور یتیموں سے سیدھی سچی اور موقع کی بات کہا کریں۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی پیٹھ کے پیچھے اس کی اولاد کے حق میں قصور نہ کریں اپنے اوپر قیاس کریں کہ ہماری اولاد رہ جائے تو ہم کو کیا فکر ہو۔ (موضح القرآن) دنیوی امور میں یتامیٰ کے ساتھ حسن سلوک کی ترغیب کا قرآن کریم نے بہترین اور دلکش طریقہ اختیار کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کی کمزور و ناتواں اولاد کے ساتھ سلوک کرتے وقت اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر دیکھو کہ تم اگر مرتے اور ایسے ہی چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ جاتے تو تم ان کے متعلق کیا چاہتے وہی دوسرے مرنے والوں کی اولاد کے ساتھ کرو۔ سبحان اللہ کیا خوب انداز بیان ہے اس تمثیلی واقعہ کو بیان کرکے پھر فرمایا کہ بس اس بات کا خیال کرکے خدا سے ڈرتے رہیں یعنی یتیموں کی دل آزاری نہ کریں اور ان کو ہاتھ سے کوئی تکلیف نہ پہنچائیں ان کا مال برباد نہ کریں۔ پھر قول سدید کا حکم دیا یعنی ہاتھ سے ضرر نہ پہنچائیں اور زبان سے ان کی دل جوئی اور تلطف کا برتائو کریں اور موقع کی بات کہیں یعنی ان کی تعلیم اور تادیب کا خیال رکھیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے جب کسی یتیم کو مارا جاتا ہے اور وہ روتا ہے تو اس کے رونے سے عرش الٰہی ہل جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ملائکہ سے دریافت کرتا ہے جس کے باپ کو میں نے مٹی میں چھپا دیا ہے اس کے بچے کو کس نے رلایا۔ حالانکہ وہ جانتا ہے فرشتے عرض کرتے ہیں ہم کو علم نہیں۔ ارشاد ہوتا ہے جو اس بچہ کو راضی کردے گا میں اس کو قیامت کے دن اپنے پاس سے راضی کردوں گا۔ اوپر کی آیت میں یتیم کو ہر قسم کی تکلیف سے خواہ وہ جسمانی ہو یامالی۔ محفوظ رکھنے کا حکم ولتیق اللہ سے معلوم ہوا اور اس کی ہر قسم کی شفقت اور تعلیم و تربیت اور تادیب کا حکم ولیقولوا قولا سدیدا سے معلوم ہوا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وصیت میں احتیاط کا حکم ہو کہ اتنی وصیت نہ کر جائو کہ پیچھے ورثاء تکلیف اٹھائیں ورثا کو غنی چھوڑ کر مرنا اس سے بہتر ہے کہ ورثاء کو فقیر کرجائو۔ ابن عطیہ اور دوسرے اہل علم کا یہی خیال ہے کہ اس آیت میں وصیت سے احتیاط مراد ہے لیکن واضح قول وہی ہے جو ہم نے اختیار کیا ہے اب آگے یتامیٰ کا مال ظلم اور زور سے کھا جانے والوں کے متعلق اخروی وعید کا ذکر ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)