Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 91

سورة النساء

سَتَجِدُوۡنَ اٰخَرِیۡنَ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّاۡمَنُوۡکُمۡ وَ یَاۡمَنُوۡا قَوۡمَہُمۡ ؕ کُلَّمَا رُدُّوۡۤا اِلَی الۡفِتۡنَۃِ اُرۡکِسُوۡا فِیۡہَا ۚ فَاِنۡ لَّمۡ یَعۡتَزِلُوۡکُمۡ وَ یُلۡقُوۡۤا اِلَیۡکُمُ السَّلَمَ وَ یَکُفُّوۡۤا اَیۡدِیَہُمۡ فَخُذُوۡہُمۡ وَ اقۡتُلُوۡہُمۡ حَیۡثُ ثَقِفۡتُمُوۡہُمۡ ؕ وَ اُولٰٓئِکُمۡ جَعَلۡنَا لَکُمۡ عَلَیۡہِمۡ سُلۡطٰنًا مُّبِیۡنًا ﴿٪۹۱﴾  9

You will find others who wish to obtain security from you and [to] obtain security from their people. Every time they are returned to [the influence of] disbelief, they fall back into it. So if they do not withdraw from you or offer you peace or restrain their hands, then seize them and kill them wherever you overtake them. And those - We have made for you against them a clear authorization.

تم کچھ اور لوگوں کو ایسا بھی پاؤ گے جن کی ( بظاہر ) چاہت ہے کہ تم سے بھی امن میں رہیں ۔ اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں ( لیکن ) جب کبھی فتنہ انگیزی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تو اوندھے منہ اس میں ڈال دیئے جاتے ہیں ، پس اگر یہ لوگ تم سے کنارہ کشی نہ کریں اور تم سے صلح کا سلسلہ جنبانی نہ کریں اور اپنے ہاتھ نہ روک لیں ، تو انہیں پکڑو اور مار ڈالو جہاں کہیں بھی پاؤ ، یہی وہ ہیں جن پر ہم نے تمہیں ظاہر حُجت عنایت فرمائی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

سَتَجِدُونَ اخَرِينَ يُرِيدُونَ أَن يَأْمَنُوكُمْ وَيَأْمَنُواْ قَوْمَهُمْ ... You will find others that wish to have security from you and security from their people. refers to a type of people who on the surface appear to be like the type we just mentioned. However, the intention of each type is different, for the latter are hypocrites. They pretend to be Muslims with the Prophet and his Companions, so that they could attain safety with the Muslims for their blood, property and families. However, they support the idolators in secret and worship what they worship, so that they are at peace with them also. These people have secretly sided with the idolators, just as Allah described them, وَإِذَا خَلَوْاْ إِلَى شَيَـطِينِهِمْ قَالُواْ إِنَّا مَعَكُمْ But when they are alone with their Shayatin, they say: "Truly, we are with you." (2:14) In this Ayah, Allah said, ... كُلَّ مَا رُدُّوَاْ إِلَى الْفِتْنِةِ أُرْكِسُواْ فِيِهَا ... Every time they are sent back to Fitnah, they yield thereto. meaning, they dwell in Fitnah. As-Suddi said that; the Fitnah mentioned here refers to Shirk. Ibn Jarir recorded that Mujahid said that; the Ayah was revealed about a group from Makkah who used to go to the Prophet (in Al-Madinah) pretending to be Muslims. However, when they went back to Quraysh, they reverted to worshipping idols. They wanted to be at peace with both sides. Allah commanded they should be fought against, unless they withdraw from combat and resort to peace. This is why Allah said, ... فَإِن لَّمْ يَعْتَزِلُوكُمْ وَيُلْقُواْ إِلَيْكُمُ السَّلَمَ ... If they withdraw not from you, nor offer you peace, meaning, revert to peaceful and complacent behavior. ... وَيَكُفُّوَاْ أَيْدِيَهُمْ ... nor restrain their hands, refrain from fighting you, ... فَخُذُوهُمْ ... take (hold of) them, capture them. ... وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثِقِفْتُمُوهُمْ ... and kill them wherever you Thaqiftumuhum. wherever you find them. ... وَأُوْلَـيِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَيْهِمْ سُلْطَانًا مُّبِينًا In their case, We have provided you with a clear warrant against them, meaning an unequivocal and plain warrant.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

91۔ 1 یہ ایک تیسرے گروہ کا ذکر ہے جو منافقین کا تھا یہ مسلمانوں کے پاس آتے تو اسلام کا اظہار کرتے تاکہ مسلمانوں سے محفوظ رہیں، اپنی قوم میں جاتے شرک بت پرستی کرتے تاکہ وہ انہیں اپنا ہی مذہب سمجھیں اور یوں دونوں سے مفادات حاصل کرتے۔ 91۔ 2 الفِتْنۃ سے مراد شرک بھی ہوسکتا ہے اسی شرک میں لوٹا دیئے جاتے۔ یا الفتنۃُ سے مراد قتال ہے کہ جب انہیں مسلمانوں کے ساتھ لڑنے کی طرف بلایا یعنی لوٹایا جاتا ہے تو وہ اس پر آمادہ ہوجاتے ہیں، 91۔ 3 اس بات پر کہ واقعی ان کے دلوں میں نفاق اور ان کے سینوں میں تمہارے خلاف بغض وعناد ہے، تب ہی وہ یہ ادنیٰ کوشش دوبارہ فتنے (شرک) یا تمہارے خلاف آمادہ قتال ہونے میں مبتلا ہوگئے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢٦] بدترین منافق :۔ ایسے منافق بدترین قسم کے منافق ہیں جو ڈھنڈورا تو اپنی امن پسندی کا پیٹیں اور جب داؤ لگ جائے تو اسلام دشمنی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں۔ ان کی امن پسندی کی تین ہی صورتیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ مسلمانوں سے صلح کرلیں۔ دوسرے یہ کہ لشکر کفار میں شامل نہ ہوں۔ اور تیسرے یہ کہ اگر انہیں مجبوراً شامل ہونا ہی پڑے تو پھر اپنے ہاتھ روکے رکھیں یعنی عملاً لڑائی میں شامل نہ ہوں۔ اور اگر یہ تینوں باتیں نہ پائی جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کی نیت میں فتور ہے اور وہ امن پسندی کی آڑ میں دھوکہ دے کر مسلمانوں سے انتقام لینا چاہتے ہیں لہذا ایسے منافقوں کا علاج یہ ہے کہ جب بھی موقع ملے سب سے پہلے انہیں قتل کر کے ختم کرو۔ دوسرے کافروں سے جنگ بعد میں کرو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِيْنَ ۔۔۔۔۔ اس آیت کریمہ میں ایک تیسری قسم کے لوگوں کا حال بیان کیا گیا ہے، جو بہت ہی بد ترین قسم کے منافق ہیں، جو ڈھنڈورا تو اپنی امن پسندی کا پیٹتے ہیں مگر جب داؤ لگ جائے تو اسلام دشمنی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ ان کا امن پسندی کا دعویٰ سچا ہونے کی تین ہی صورتیں ممکن ہیں، ایک یہ کہ مسلمانوں سے صلح کرلیں، دوسرے یہ کہ لشکر کفار میں شامل نہ ہوں اور تیسرے یہ کہ اگر انھیں مجبوراً شامل ہونا ہی پڑے تو پھر اپنے ہاتھ روکے رکھیں، یعنی عملاً لڑائی میں شامل نہ ہوں۔ جیسا کہ جنگ بدر میں عباس (رض) کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ انھیں قتل نہ کیا جائے کیونکہ وہ مجبور کر کے لائے گئے ہیں۔ اگر یہ تینوں باتیں نہ پائی جائیں تو اس کا مطلب ہے کہ ان کی نیتوں میں فتور ہے اور وہ امن پسندی کی آڑ میں دھوکا دے کر مسلمانوں سے انتقام لینا چاہتے ہیں، لہٰذا ایسے منافقوں کا علاج یہ ہے کہ انھیں پکڑو اور جہاں ملیں قتل کر دو ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِيْنَ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّاْمَنُوْكُمْ وَيَاْمَنُوْا قَوْمَھُمْ۝ ٠ۭ كُلَّمَا رُدُّوْٓا اِلَى الْفِتْنَۃِ اُرْكِسُوْا فِيْھَا۝ ٠ۚ فَاِنْ لَّمْ يَعْتَزِلُوْكُمْ وَيُلْقُوْٓا اِلَيْكُمُ السَّلَمَ وَيَكُفُّوْٓا اَيْدِيَھُمْ فَخُذُوْھُمْ وَاقْتُلُوْھُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ۝ ٠ۭ وَاُولٰۗىِٕكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَيْہِمْ سُلْطٰنًا مُّبِيْنًا۝ ٩١ۧ وجد الوجود أضرب : وجود بإحدی الحواسّ الخمس . نحو : وَجَدْتُ زيدا، ووَجَدْتُ طعمه . ووجدت صوته، ووجدت خشونته . ووجود بقوّة الشّهوة نحو : وَجَدْتُ الشّبع . ووجود بقوّة الغضب کو جود الحزن والسّخط . ووجود بالعقل، أو بواسطة العقل کمعرفة اللہ تعالی، ومعرفة النّبوّة، وما ينسب إلى اللہ تعالیٰ من الوجود فبمعنی العلم المجرّد، إذ کان اللہ منزّها عن الوصف بالجوارح والآلات . نحو : وَما وَجَدْنا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنا أَكْثَرَهُمْ لَفاسِقِينَ [ الأعراف/ 102] . ( و ج د ) الو جود ( ض) کے معنی کسی چیز کو پالینا کے ہیں اور یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے حواس خمسہ میں سے کسی ایک حاسہ کے ساتھ اور اک کرنا جیسے وجدت طعمہ ( حاسہ ذوق ) وجدت سمعہ ( حاسہ سمع ) وجدت خثومتہ حاسہ لمس ) قوی باطنہ کے ساتھ کسی چیز کا ادراک کرنا ۔ جیسے وجدت الشبع ( میں نے سیری کو پایا کہ اس کا تعلق قوت شہو یہ کے ساتھ ہے ۔ وجدت الحزن وا لسخط میں نے غصہ یا غم کو پایا اس کا تعلق قوت غضبہ کے ساتھ ہے ۔ اور بذریعہ عقل کے کسی چیز کو پالیتا جیسے اللہ تعالیٰ یا نبوت کی معرفت کہ اسے بھی وجدان کہا جاتا ہے ۔ جب وجود پالینا ) کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے تو اس کے معنی محض کسی چیز کا علم حاصل کرلینا کے ہوتے ہیں کیونکہ ذات باری تعالیٰ جوارح اور آلات کے ذریعہ کسی چیز کو حاصل کرنے سے منزہ اور پاک ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَما وَجَدْنا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنا أَكْثَرَهُمْ لَفاسِقِينَ [ الأعراف/ 102] اور ہم نے ان میں سے اکثروں میں عہد کا نباہ نہیں دیکھا اور ان میں اکثروں کو ( دیکھا تو ) بد عہد دیکھا ۔ رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی کا فیصلہ کر ہے یا تم پر اپنا فضل وکرم کرنا چاہئے ۔ أمن أصل الأَمْن : طمأنينة النفس وزوال الخوف، والأَمْنُ والأَمَانَةُ والأَمَانُ في الأصل مصادر، ويجعل الأمان تارة اسما للحالة التي يكون عليها الإنسان في الأمن، وتارة اسما لما يؤمن عليه الإنسان، نحو قوله تعالی: وَتَخُونُوا أَماناتِكُمْ [ الأنفال/ 27] ، أي : ما ائتمنتم عليه، ( ا م ن ) الامن ۔ اصل میں امن کا معنی نفس کے مطمئن ہونا کے ہیں ۔ امن ، امانۃ اور امان یہ سب اصل میں مصدر ہیں اور امان کے معنی کبھی حالت امن کے آتے ہیں اور کبھی اس چیز کو کہا جاتا ہے جو کسی کے پاس بطور امانت رکھی جائے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ } ( سورة الأَنْفال 27) یعنی وہ چیزیں جن پر تم امین مقرر کئے گئے ہو ان میں خیانت نہ کرو ۔ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] فتن أصل الفَتْنِ : إدخال الذّهب النار لتظهر جو دته من رداء ته، واستعمل في إدخال الإنسان النار . قال تعالی: يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] ( ف ت ن ) الفتن دراصل فتن کے معنی سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا ہوجائے اس لحاظ سے کسی انسان کو آگ میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا ۔ ركس الرَّكْسُ : قَلْبُ الشیء علی رأسه، وردّ أوّله إلى آخره . يقال : أَرْكَسْتُهُ فَرُكِسَ وارْتَكَسَ في أمره، قال تعالی: وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ بِما كَسَبُوا[ النساء/ 88] ، أي : ردّهم إلى كفرهم . ( ر ک س ) الرکس کے معنی کسی چیز کو اس کے سر پر الٹا کردینا اس کے اول سرے کو موڑ کر پچھلے سرے کے ساتھ ملا دینا کے ہیں محاورہ : ۔ ارکستہ میں نے اسے الٹا کردیا اور رکس اس کا مطاوع آتا ہے ۔ اور ارتکس فی امرہ کے معنی کسی معاملہ میں الجھ جانے کے ہیں ( یعنی کسی مصیبت سے رہائی کے بعد اس میں پھنس جانا ) قرآن میں ہے : ۔ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ بِما كَسَبُوا[ النساء/ 88] حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں پھر کفر میں پلٹا دیا ہے عزل الاعْتِزَالُ : تجنّب الشیء عمالة کانت أو براءة، أو غيرهما، بالبدن کان ذلک أو بالقلب، يقال : عَزَلْتُهُ ، واعْتَزَلْتُهُ ، وتَعَزَّلْتُهُ فَاعْتَزَلَ. قال تعالی: وَإِذِ اعْتَزَلْتُمُوهُمْ وَما يَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ الكهف/ 16] ( ع ز ل ) الا عتزال کے معنی ہیں کسی چیز سے کنارہ کش ہوجانا عام اس سے کہ وہ چیز کوئی پیشہ ہو یا کوئی بات وغیرہ ہو جس سے بری ہونے کا اعلان کیا جائے نیز وہ علیحدہ گی بذریعہ بدن کے ہو یا بذریعہ دل کے دنوں قسم کی علیحگی پر بولا جاتا ہے عزلتہ واعتزلتہ وتعزلتہ میں نے اس کو علیحہ فاعتزل چناچہ وہ علیحہ ہ ہوگیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِذِ اعْتَزَلْتُمُوهُمْ وَما يَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ الكهف/ 16] اور جب تم نے ان مشرکوں سے اور جن کی یہ خدا کے سوا عبادت کرتے ہیں ان سے کنارہ کرلیا ۔ لقی( افعال) والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] ، ( ل ق ی ) لقیہ ( س) الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا ۔ قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] تو جادو گروں نے کہا کہ موسیٰ یا تو تم جادو کی چیز ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں ۔ موسیٰ نے کہا تم ہی ڈالو۔ أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سو اہم کسی اور پکڑ لیں اور کبھی غلبہ اور قہر کی صورت میں جیسے فرمایا :۔ { لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ } ( سورة البقرة 255) نہ اس پر اونگھ غالب آسکتی اور نہ ہ نیند ۔ محاورہ ہے ۔ حيث حيث عبارة عن مکان مبهم يشرح بالجملة التي بعده، نحو قوله تعالی: وَحَيْثُ ما كُنْتُمْ [ البقرة/ 144] ، وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ [ البقرة/ 149] . ( ح ی ث ) حیث ( یہ ظرف مکان مبنی برضم ہے ) اور ) مکان مبہم کے لئے آتا ہے جس کی مابعد کے جملہ سے تشریح ہوتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَحَيْثُ ما كُنْتُمْ [ البقرة/ 144] اور تم جہاں ہوا کرو ثقف الثَّقْفُ : الحذق في إدراک الشیء وفعله، ومنه قيل : رجل ثَقِفٌ ، أي : حاذق في إدراک الشیء وفعله، ومنه استعیر : المُثَاقَفَة ورمح مُثَقَّف، أي : مقوّم، وما يُثَقَّفُ به : الثِّقَاف، ويقال : ثَقِفْتُ كذا : إذا أدركته ببصرک لحذق في النظر، ثم يتجوّز به فيستعمل في الإدراک وإن لم تکن معه ثِقَافَة . قال اللہ تعالی: وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ [ البقرة/ 191] ، وقال عزّ وجل : فَإِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِي الْحَرْبِ [ الأنفال/ 57] ، وقال عزّ وجل : مَلْعُونِينَ أَيْنَما ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِيلًا [ الأحزاب/ 61] . ( ث ق ف ) الثقف ( س ک ) کے معنی ہیں کسی چیز کے پالینے یا کسی کام کے کرنے میں حذا وقت اور مہارت سی کام لینا ۔ اسی سے المثاقفۃ کا لفظ مستعار ہے ( جس کے معنی ہتھیاروں کے ساتھ باہم کھیلنے کے ہیں اور سیدھے نیزے کو رمح مثقف کہا جاتا ہو ۔ اور الثقاف اس آلہ کو کہتے ہیں جس سے نیزوں کو سیدھا کیا جاتا ہے ثقفت کذا کے اصل معنی مہارت نظر سے کسی چیز کا نگاہ سے اور اک کرلینا کے ہیں ۔ پھر مجاذا محض کسی چیز کے پالینے پر بولا جاتا ہے خواہ اسکے ساتھ نگاہ کی مہارت شامل ہو یا نہ ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ [ البقرة/ 191] اور ان کو جہان پاؤ قتل کردو ۔ فَإِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِي الْحَرْبِ [ الأنفال/ 57] اگر تم ان کو لڑائی میں پاؤ ۔ مَلْعُونِينَ أَيْنَما ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِيلًا [ الأحزاب/ 61] . پھٹکارے ہوئے جہاں پائے گئے پکڑے گئے ۔ اور جان سے مار ڈالے گئے ۔ سلط السَّلَاطَةُ : التّمكّن من القهر، يقال : سَلَّطْتُهُ فَتَسَلَّطَ ، قال تعالی: وَلَوْ شاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ [ النساء/ 90] ، وقال تعالی: وَلكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلى مَنْ يَشاءُ [ الحشر/ 6] ، ومنه سمّي السُّلْطَانُ ، والسُّلْطَانُ يقال في السَّلَاطَةِ ، نحو : وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوماً فَقَدْ جَعَلْنا لِوَلِيِّهِ سُلْطاناً [ الإسراء/ 33] ، ( س ل ط ) السلاطۃ اس کے معنی غلبہ حاصل کرنے کے ہیں اور سلطتہ فتسلط کے معنی ہیں میں نے اسے مقہود کیا تو وہ مقہود ہوگیا ۔ قرآن میں ہے :۔ وَلَوْ شاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ [ النساء/ 90] اور اگر خدا چاہتا تو ان کو تم پر مسلط کردتیاوَلكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلى مَنْ يَشاءُ [ الحشر/ 6] لیکن خدا اپنے پیغمبروں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے ۔ اور اسی سے بادشاہ کو سلطان ، ، کہا جاتا ہے ۔ اور سلطان کا لفظ تسلط اور غلبہ کے معنی میں بھی آتا ہے ۔ جیسے فرمایا : وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوماً فَقَدْ جَعَلْنا لِوَلِيِّهِ سُلْطاناً [ الإسراء/ 33] اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے۔ مبین بَيَان والبَيَان : الکشف عن الشیء، وهو أعمّ من النطق، لأنّ النطق مختص بالإنسان، ويسمّى ما بيّن به بيانا . قال بعضهم : البیان يكون علی ضربین : أحدهما بالتسخیر، وهو الأشياء التي تدلّ علی حال من الأحوال من آثار الصنعة . والثاني بالاختبار، وذلک إما يكون نطقا، أو کتابة، أو إشارة . فممّا هو بيان بالحال قوله : وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] ، أي : كونه عدوّا بَيِّن في الحال . تُرِيدُونَ أَنْ تَصُدُّونا عَمَّا كانَ يَعْبُدُ آباؤُنا فَأْتُونا بِسُلْطانٍ مُبِينٍ [إبراهيم/ 10] . وما هو بيان بالاختبار فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] ، وسمّي الکلام بيانا لکشفه عن المعنی المقصود إظهاره نحو : هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] . وسمي ما يشرح به المجمل والمبهم من الکلام بيانا، نحو قوله : ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا بَيانَهُ [ القیامة/ 19] ، ويقال : بَيَّنْتُهُ وأَبَنْتُهُ : إذا جعلت له بيانا تکشفه، نحو : لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] ، وقال : نَذِيرٌ مُبِينٌ [ ص/ 70] ، وإِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] ، وَلا يَكادُ يُبِينُ [ الزخرف/ 52] ، أي : يبيّن، وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] . البیان کے معنی کسی چیز کو واضح کرنے کے ہیں اور یہ نطق سے عام ہے ۔ کیونکہ نطق انسان کے ساتھ مختس ہے اور کبھی جس چیز کے ذریعہ بیان کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی بیان کہہ دیتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ بیان ، ، دو قسم پر ہے ۔ ایک بیان بالتحبیر یعنی وہ اشیا جو اس کے آثار صنعت میں سے کسی حالت پر دال ہوں ، دوسرے بیان بالا ختیار اور یہ یا تو زبان کے ذریعہ ہوگا اور یا بذریعہ کتابت اور اشارہ کے چناچہ بیان حالت کے متعلق فرمایا ۔ وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] اور ( کہیں ) شیطان تم کو ( اس سے ) روک نہ دے وہ تو تمہارا علانیہ دشمن ہے ۔ یعنی اس کا دشمن ہونا اس کی حالت اور آثار سے ظاہر ہے ۔ اور بیان بالا ختیار کے متعلق فرمایا : ۔ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ اگر تم نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو ۔ اور ان پیغمروں ( کو ) دلیلیں اور کتابیں دے کر ( بھیجا تھا ۔ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] اور ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو ( ارشادات ) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ اور کلام کو بیان کہا جاتا ہے کیونکہ انسان اس کے ذریعہ اپنے مافی الضمیر کو ظاہر کرتا ہے جیسے فرمایا : ۔ هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] ( قرآن لوگوں کے لئے بیان صریح ہو ۔ اور مجمل مہیم کلام کی تشریح کو بھی بیان کہا جاتا ہے جیسے ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا بَيانَهُ [ القیامة/ 19] پھر اس ( کے معافی ) کا بیان بھی ہمارے ذمہ ہے ۔ بینہ وابنتہ کسی چیز کی شروع کرنا ۔ جیسے فرمایا : ۔ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] تاکہ جو ارشادت لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ ص/ 70] کھول کر ڈرانے والا ہوں ۔إِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] شیہ یہ صریح آزمائش تھی ۔ وَلا يَكادُ يُبِينُ [ الزخرف/ 52] اور صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا ۔ وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] . اور جهگڑے کے وقت بات نہ کرسکے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے (ستجدون اخرین یریدون ان یامنوکم ویامنواقومھم، ایک اور قسم کے لوگ تمہیں ملیں گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی۔ مجاہد کا قول ہے یہ آیت مکہ کے کچھ لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جب یہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آتے تو مسلمان ہوجاتے اور پھر قریش کے پاس واپس جاکربتوں کے سامنے جھک جاتے ، اس سے ان کا مقصد یہ ہوتا کہ یہاں بھی امن میں رہیں اور وہاں بھی ، مسلمانوں کو ایسے لوگوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا اگر یہ اس رویے سے کنارہ کشی اختیار نہ کریں اور اپنی اصلاح نہ کرلیں۔ اسباط نے سدی سے ذکر کیا کہ یہ آیت نعیم بن مسعود اشجعی کے بارے میں نازل ہوئی وہ مسلمانوں اور مشرکین دونوں کے اندر امن میں رہتا اورادھر کی باتیں ادھر اورادھر کی باتیں ادھر پہنچاتا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ظاہر آیت اس پر دلالت کرتی ہے یہ لوگ جب حضور کے پاس آتے تو ایمان کا اظہار کرتے اور جب اپنی قوم میں واپس جاتے تو کفر کا اظہار کرتے کیونکہ قول باری ، مگر جب کبھی فتنہ کا موقع پائیں گے اس میں کود پڑیں گے ) فتنہ سے یہاں مراد شرک ہے اور قول باری (ارکسوافیھا) اس پر دلالت کرتا ہے یہ لوگ اس سے پہلے اسلام کا اظہار کرتے تھے۔ اللہ نے اہل ایمان کو ان لوگوں سے بھی ہاتھ روک لینے کا حکم دیاجب یہ مسلمانوں سے الگ تھلگ رہ کر ان کی طرف صلح وآشنی کا ہاتھ بڑھائیں جس طرح اللہ نے ہمیں ان لوگوں پر بھی ہاتھ اٹھانے سے روک دیاجوایسی قوم سے جاملیں جن کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہوا اور ان لوگوں سے بھی جو لڑائی سے دل برداشتہ ہوکر ہمارے پاس آجائیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت میں فرمایا، (لاینھاکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم۔ اللہ تعالیٰ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ حسن سلوک اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا۔ نیز ارشاد ہوا (وقاتلوافی سبیل اللہ الذین یقاتلونکم۔ اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں) اللہ نے صرف ان لوگوں کے خلاف جنگ کرنے کے حکم کو مخصوص کردیاجو ہمارے خلاف جنگ کرتے ہیں ان لوگوں کے خلاف نہیں جو ہمارے خلاف جنگ نہیں کرتے۔ پھر اس حکم کو اپنے اس قول (اقتلوالمشرکین حیث وجدتموھم، مشرکین کو جہاں کہیں بھی پاؤ قتل کرو) سے منسوخ کردیا، جیسا کہ ہم نے حضرت ابن عباس سے اس روایت کا پہلے ذکر کیا ہے۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ یہ آیات منسوخ نہیں ہوئیں اور مسلمانوں کے لیے یہ جائز ہے کہ جو کفار ان کے خلاف جنگ نہ کریں وہ بھی ان کے خلاف ہتھیارنہ اٹھائیں کیونکہ جو لوگ ہم سے الگ تھلگ رہ کر ہمارے خلاف جنگ کرنے سے باز رہیں ان کے خلاف ان آیات میں جنگ کرنے کی نہی کے حکم کے منسوخ ہونے کی بات ثابت نہیں ہوتی۔ جن لوگوں سے جہاد کی فرضیت کے حکم کے باقی نہ رہنے کی روایت منقول ہے ۔ ان میں ابن شبرمہ اور سفیان ثوری شامل ہیں، اس بحث پر ہم اس کے مقام پر پہنچ کر انشاء للہ۔ روشنی ڈالیں، یہاں تو صرف اتنی بات ہے کہ ان آیات میں ان کافروں کے خلاف جنگ کرنی کی ممانعت ہے جو ہمارے خلاف جنگ کرنے سے باز رہیں۔ ہمیں فقہاء میں سے کسی کے متعلق، یہ معلوم نہیں کہ وہ ان مشرکین کے خلاف جنگ کی ممانعت کے قائل ہوں جو ہمارے خلاف جنگ کرنے سے کنارہ کش ہوں۔ اختلاف صرف ان کے خلاف ترک قتال کے جواز کے اندر ہے ممانعت کے اندر نہیں۔ اس لیے سب کا اس پر اتفاق ہوگیا ہے کہ ایسے لوگوں کے خلاف قتال کی ممانعت منسوخ ہوچکی ہے جن کی خصوصیات کا ہم نے اوپرذکر کیا ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩١) اور قوم ہلال، غطفان اور اسد کے علاوہ ایسے بھی لوگ ہیں کہ وہ تم سے بھی تمہارے حامی بن کر جان ومال کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں اور اپنی قوم سے بھی کفر کا اظہار کرتے ہیں مگر جب ان لوگوں کو شرک اور کسی شرارت کی طرف بلایا جاتا ہے تو فورا اس میں شریک ہوجاتے ہیں۔ سو اگر یہ لوگ فتح مکہ کے دن تم سے نہ کنارہ کش ہوں اور نہ صلح کو باقی رکھیں اور نہ تمہارے قتال سے اپنے ہاتھوں کو روکیں، تو ان کو حل وحرم ہر جگہ قید کرو اور قتل کر دو اور ایسے لوگوں کے قتل کے لیے ہم نے تمہیں واضح حجت دی ہے۔ (حدود حرم کے اندر کی جگہ کو بھی حرم کہتے ہیں، یہاں بہت سے جائز و حلال امور بھی حرام ہوجاتے ہیں جو باہر حلال ہیں، سو مراد ہے کہ یہ فتنہ گر لوگ حدود حرم کے اندر ہوں یا باہر ان کے ساتھ سختی کا معاملہ روا رکھو) ۔ (مترجم )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٨ (سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْکُمْ وَیَاْمَنُوْا قَوْمَہُمْ ط) (کُلَّمَا رُدُّوْآ اِلَی الْفِتْنَۃِ اُرْکِسُوْا فِیْہَاج ) جب بھی آزمائش کا وقت آتا ہے تو اس میں اوندھے منہ گرتے ہیں۔ جب دیکھتے ہیں کہ اپنی قوم کا پلڑا بھاری ہے تو مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں کہ اب تو ہماری فتح ہونے والی ہے اور ہمیں مال غنیمت میں سے حصہ مل جائے گا۔ (فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْکُمْ وَیُلْقُوْآ اِلَیْکُمُ السَّلَمَ وَیَکُفُّوْآ اَیْدِیَہُمْ ) (فَخُذُوْہُمْ وَاقْتُلُوْہُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْہُمْ ط) ( وَاُولٰٓءِکُمْ جَعَلْنَا لَکُمْ عَلَیْہِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا ) ۔ ایسے لوگوں کے معاملے میں ہم نے تمہیں کھلا اختیار دے دیا ہے کہ تم ان کے خلاف اقدام کرسکتے ہو۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

55: اوپر کی آیت میں تیسری قسم کے لوگوں کا ذکر تھا جو واقعۃ جنگ سے بیزار تھے اور مسلمانوں سے لڑنا نہیں چاہتے تھے، اس آیت میں منافقین کی چوتھی قسم کا ذکر ہے جو جنگ سے بیزار ہونے کے معاملہ میں بھی منافقت سے کام لیتے تھے، ظاہر تو یہ کرتے تھے کہ ہم مسلمانوں سے جنگ نہیں چاہتے ؛ لیکن یہ جھوٹا اعلان صرف اس لئے تھا تاکہ مسلمان انہیں قتل کرنے سے بازر ہیں ؛ چنانچہ جب دوسرے کفار انہیں مسلمانوں کے خلاف کسی سازش کی دعوت دیتے تو یہ اس سازش میں بےدھڑک شریک ہوجاتے تھے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:91) ردوا۔ وہ لوٹائے گئے۔ وہ پھیرے گئے۔ رد سے باب نصر۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب۔ کلام ردوا الی الفتنۃ۔ جب کبھی حالات نے ان کو فتنہ کی طرف پھیرا تو ارکسوا فیہا ۔ وہ سر کے بل اس میں جاگرے۔ ارکسوا۔ وہ الٹ دئیے گئے۔ ازک اس سے ۔ سرکے بل اوپر سے نیچے الٹ دینا۔ ملاحظہ ہو 4:74 ۔ اس جملہ میں ارکسوا۔ فعل مجہول استعمال ہوا ہے۔ بعض دفعہ فاعل کو اس تیزی و تندی سے کرتا ہے کہ گمان ہوتا ہے کہ اس کو کوئی طاقت مجبور کر رہی ہے ورنہ وہ اپنے طور پر شاید اتنی جلد بازی نہ کرتا۔ اس سے اس کی بےتابی اور شدت خواہش ظاہر ہوتی ہے جیسا کہ حضرت لوط کے قصہ میں سورة ہود میں آیا ہے وجاء ہ قومہ یہرعون الیہ (11:79) جب فرشتوں کو انسانی شکل میں قوم لوط نے حضرت لوط کے ہاں دیکھا تو اپنی مذموم خواہش کے زیر اثر وہ سرپٹ اس طرف دوڑے۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ آبلہ زیرپا ہیں اور کوئی اور طاقت ان کو اڑائے لئے جا رہی ہے اصل میں ان کی شدت خواہش ان کو بھگائے لئے جاری تھی۔ اس طرح آیت ہذا میں ارکسوا سے فی الحقیقت یہ مراد نہیں کہ ان کو کوئی اور مسلمانوں کے خلاف قتال میں حصہ لینے پر مجبور کر رہا تھا بلکہ ان کا ایمان تو سطحی تھا۔ ان کے نہاں خانۂ دل میں تو شرک اور کفر بسا ہوا تھا موقعہ پاتے ہی وہ مسلمانوں کے خلاف جوش و خروش کے ساتھ برسر پیکار ہوگئے۔ یلقوا اور یکفوا عطف ہیں یعتزلوا پر۔ اس لئے لم کا عمل ان ہر دو فعل پر ہے۔ ثقفتموہم۔ تم پاؤ ان کو۔ سلطانا مبینا۔ کھلا کھلا اختیار۔ پورا پورا اختیار۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 یعنی ایسے منافقین جو دل سے مشرکوں کے ساتھ ہیں لیکن محض مطلب براری ارموقع شناسی خاطر تمہیں اپنے مسلمان ہونے یا غیر جانبدار رہنے کا یقین دلاتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ تمہارے خلاف سازش کرتے اور تمہیں مصیبت میں مبتلا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جا نے دیتے اس سے اسد وغطفان بعض قبائل مراد ہیں جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مدینہ آتے اور ریاکاری سے مسلمان ہوجاتے پھر مکہ واپس جاتے تو بت پرستی شروع کردیتے تو فرمایا کہ ایسے لوگ اگر کنارہ کش نہ رہیں تو ان سے لڑو۔ ( شوکانی۔ کبیر ) یہاں سلط نا مبینا سے یا تو مراد یہ ہے کہ ان سے لڑنے اور ان کو قتل کرنے کے تمہارے پاس دلیل موجود ہے وہ یہ کہ بد عہد ہیں کھلے دشمن ملے تو مسلمانوں کو نقصان پہنچانے سے دریغ نہیں کرتے یا یہ کہ ایسے لوگوں سے لڑنے کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں کھلے اجازت ہے (کبیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

آیت نمبر 91 لغات القرآن : اخرین، دوسرے۔ یا منوکم، تم سے امن میں رہیں۔ لم یعتزلوا، الگ نہ ہوں۔ سلطان مبین، کھلا اختیار ہے۔ تشریح : منافقین کی تین قسموں کا بیان کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ چوتھی قسم کی نشان دہی فرما رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مفاد کی خاطر امن چاہتے ہیں لیکن مسلمانوں کے خلاف شرارت اور فتنہ کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ یہ چھپ کر بھی وار کرتے ہیں اور کھلم کھلا بھی جیسا موقع ہو۔ اگر یہ لوگ راہ راست پر نہ آئیں اور صلح نہ کریں تو پھر مسلمانوں کو اس بات کی اجازت دے دی گئی ہے کہ اس فتنے کا سر کچلنے کے لئے جہاں بھی یہ ہاتھ لگ جائیں ان کو پکڑا جائے یا قتل کردیا جائے۔ کیونکہ دلیل سے ان کا مسلمان نہ ہونا چابت ہوگیا اسی لئے ان کا حکم عام مرتد کفار کی طرف سے ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ پہلے امن پسند کفار سے لڑنے کی ممانعت فرمائی تھی اب شر پسندوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔ البتہ تم ایسے منافق اور دغا باز لوگ ضرور پاؤ گے جو تم سے اور تمہارے دشمنوں سے امن میں رہنے کے نام نہاد دعوے دار ہیں۔ لیکن جونہی کوئی فتنہ اٹھتا ہے تو اس میں کود پڑتے ہیں اگر یہ لوگ تمہاری طرف صلح کا ہاتھ نہ بڑھائیں اور تم سے جنگ کرنے سے اجتناب نہ کریں تو انہیں جنگ کے دوران جہاں پکڑو مارو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی منافقت اور غداری کی وجہ سے تمہارے لیے ان کو قتل کرنے کی واضح حجت بنا دی ہے۔ مسائل ١۔ عہد شکنی کرنے والے کے ساتھ لڑنا جائز ہے۔ ٢۔ نہ لڑنے والوں سے لڑنا درست نہیں۔ تفسیر بالقرآن جہاد کی حدود : ١۔ کفار مسلمانوں کو اذیت دیں تو انکے خلاف جہاد کرو۔ (النساء : ٧٥) ٢۔ خوف دور کرنے کے لیے جہاد کرنا چاہیے۔ (النساء : ٨٤) ٣۔ عہد شکن اور دغا باز لوگوں سے لڑنے کی اجازت ہے۔ (الانفال : ٥٦، ٥٧) ٤۔ حرمت کے مہینوں میں صرف بدلے کے لیے لڑناجائز ہے۔ (البقرۃ : ٢١٧) ٥۔ خیانت کا اندیشہ ہو تو انہیں آگاہ کر کے عہد توڑ دو ۔ (الانفال : ٥٨) ٦۔ نہ لڑنے والوں سے لڑنا درست نہیں۔ (النساء : ٩١) ٧۔ اللہ اور رسول کے منکرین اور حرام کو حلال کرنے والوں سے جہاد کرو۔ (التوبۃ : ٢٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” نمبر ٩١۔ ابن جریر نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ یہ آیت اہل مکہ میں سے ایک قوم کے بارے میں نازل ہوئی ہے ‘ یہ لوگ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آتے تھے اور ریاکاری کے طور پر مسلمان ہوجاتے تھے اور پھر قریش کے پاس واپس ہوتے تو الٹے پاؤں پھر کر دوبارہ بتوں کی پوجا شروع کردیتے تھے ۔ ان کا مقصد اس پالیسی کے اختیار کرنے سے یہ تھا کہ ادھر بھی امن سے رہیں اور ادھر بھی امن سے رہیں ۔ تو اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے بارے میں یہ حکم دیا کہ اگر وہ اپنی یہ پالیسی چھوڑ کر اصلاح پذیر نہیں ہوتے تو انہیں قتل کردیا جائے ۔ اس طرح اللہ کا یہ فرمان کہ اگر وہ تمہارے مقابلے سے باز نہ آئیں اور تمہارے سامنے مکمل صلح وسلامتی پیش نہ کریں اور تمہارے ساتھ جنگ سے ہاتھ نہ روکیں تو تمہیں اختیار ہے کہ تم انہیں پکڑ کر قید کر دو ‘ اور جہاں بھی تمہیں ملیں وہاں پر انہیں قتل کر دو ‘ اس لئے کہ ان پر حجت تمام ہوگئی ہے ۔ یہ اسلام کا ایک حقیقت پسندانہ اور دوٹوک پہلو ہے ‘ جبکہ اس سے قبل کی دفعہ میں رواداری اور چشم پوشی سے کام لینے کی تلقین کی گئی تھی ۔ ہر پالیسی اپنی جگہ پر مناسب اور ضروری تھی ۔ واقعات اور حالات کے تقاضوں کے مطابق مختلف موقف اور پالیسیاں اختیار کی گئیں ۔ اس انداز میں اسلام کی بین الاقوامی پالیسی کے ان دو صفحات کے مطالعے سے ایک مسلم کے شعور میں بہت ہی اچھی طرح توازن پیدا ہوتا ہے ۔ نیز اس سے اسلامی نظام زندگی کے اندر بھی توازن پیدا ہوتا ہے اور یہ توازن اور ہم آہنگی اسلامی نظام زندگی کی اساسی اور امتیازی صفت ہے ۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں میں ایک طرف سخت متشدد اور پر جوش لوگ ہیں جو ہر وقت مرو اور مارو کے لئے تیار رہتے ہیں حالانکہ یہ اسلام کی پالیسی نہیں ہے ۔ دوسری جانب نہایت ہی کمزور کردار کے پگھلنے والے لوگ ہیں جو سرے سے اسلام میں جہاد ہی کے قائل نہیں ۔ یہ لوگ اسلام کے بارے میں اس انداز سے بات کرتے ہیں گویا اسلام ایک ملزم ہے جو مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا ہے اور یہ لوگ اس خطرناک ملزم کا مقدمہ لڑ رہے ہیں ۔ یہ لوگ اسلام میں صرف رواداری ‘ امن چشم پوشی اور عفو و درگزر ہی پاتے ہیں اگر اسلام میں کوئی جنگ ہوئی ہے تو یہ لوگ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ جنگ اسلامی حکومت اور اسلامی تحریک کے لئے ایک دفاعی جنگ ہوئی ہے تو یہ لوگ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ جنگ اسلامی حکومت اور اسلامی تحریک کے لئے ایک دفاعی جنگ تھی اور یہ اس مقصد کے لئے نہ تھی کہ دعوت اسلامی کی راہ سے رکاوٹیں دور ہوں اور اس کی تبلیغ دنیا کے چپے چپے پر بلا روک ٹوک کی جاسکے ۔ ان لوگوں کے نزدیک یہ مقصد بھی نہ تھا کہ اس کرہ ارض کے کونے کونے پر وہ تمام لوگ پرامن زندگی بسر کریں ‘ جنہوں نے اسلامی نظریہ حیات کو قبول کرلیا ہے ۔ نیز ان لوگوں کے نزدیک اس پالیسی کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ دنیا کے اندر ایک ایسا نظام مملکت ہو اور ایک ایسا قانونی اور دستوری نظام ہو جس کے تحت لوگ مکمل نظریاتی آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں ‘ جو عقیدہ چاہیں اختیار کرسکیں ‘ حالانکہ ایسے لوگوں کی سوچ ہر گز اسلامی سوچ نہیں ہے اور نہ یہ اسلام کی حقیقی پالیسی ہے اسلام نے جو درج بالا بین الاقوامی اصول دیئے ہیں ان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام کی حقیقی پالیسی کیا ہے ؟ یہ تو تھے مسلمانوں کے تعلقات دوسرے بیان الاقوامی ممالک اور کیمپوں کے ساتھ ۔ رہے مسلمانوں کے باہم تعلقات امت مسلمہ کے اندر ‘ تو اگرچہ وہ بالکل مختلف ممالک کے باشندے ہوں اور اس وقت صورت حال ایسی تھی کہ مسلمان مختلف ممالک میں رہتے تھے جس طرح آج وہ مختلف ممالک میں رہتے ہیں ‘ تو ان کے درمیان قتل ومقاتلہ قطعا حرام ہے ۔ کسی مسلمان کو صرف حد یا قصاص ہی میں قتل کیا جاسکتا ہے اس لئے دنیا میں ایسی کوئی چیز یا سبب نہیں ہے جو مسلمانوں کے عقیدے اور نظریے سے زیادہ اہم ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ کسی مسلمان کو کسی صورت میں یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ دوسرے عقیدے اور نظریے سے زیادہ اہم ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ کسی مسلمان کو کسی صورت میں یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ دوسرے مسلم کو ناحق کو قتل کرے اس لئے کہ ان کے درمیان نظریہ حیات اور عقیدے کے اتحاد کا زبردست تعلق پایا جاتا ہے ۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ کسی مسلم کے ہاتھوں دوسرے مسلمان کا قتل خطا کے طور پر ہوجائے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں قتل خطا کے بارے میں قانون سازی کو ضروری سمجھا گیا ۔ رہا قتل عمد تو اس کا کوئی کفارہ نہیں ہے ۔ اس لئے کہ اسلام مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کے ناحق قتل کا تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ یہ فعل حدود اسلام سے باہر کا فعل ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

65 مذکورہ بالا دو گروہوں کے علاوہ کچھ ایسے منافقوں سے بھی تم کو واسطہ پڑے گا جو ایک طرف تو تم سے امن اور سلامتی چاہیں گے اور ظاہری طور پر صلح کا معاہدہ کرلیں گے اور دوسری طرف اپنی قوم سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے دین پر ہی ہیں اور تمہارے ساتھی ہیں اور اس طرح اپنے گھروں میں رہ کر دونوں طرف سے محفوظ و مامون رہنے کی کوشش کریں گے۔ نبہ علی طائفۃ اخری مخادعۃ یریدون الاقامۃ فی مواضعھم مع اھلیھم یقولون لھم نحن معکم و علی دینکم و یقولون لھم نحن معکم و علی دینکم ویقولون للمسلمین کذلک اذا وجدوا (بحر ج 3 ص 318) ۔ کُلَّمَا رُدُّوْا اِلَی الْفِتْنَۃِ اُرْکِسُوْا فِیْھَا۔ اور جب کبھی ان کو مسلمانوں سے جنگ کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے تو وہ اسلام کا ظاہری اقرار یا صلح و معاہدہ چھوڑ چھاڑ فوراً جنگ اور شر و فساد میں کود پڑتے ہیں۔ حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں چونکہ ان کے دلوں پر مہرجباریت ثبت ہوچکی ہے اس لیے وہ اللہ کی جانب سے قہر و جباریت کے ساتھ قتال میں شامل کیے جاتے ہیں۔ ٖ 66 سو اگر وہ تمہارے ساتھ جنگ کرنے سے گریز نہ کریں اور سلامت روی اختیار نہ کریں اور نہ تمہارے ساتھ جنگ کرنے سے اپنے ہاتھوں کو روکیں تو پھر تمہارے لیے بھی ان کا خون مباح ہے تمہیں جہاں کہیں مل جائیں انہیں پکڑو اور بلا دریغ تہ تیغ کر دو ۔ وَیُلْقُوْا اِلَیْکُمُ السَّلَمَ وَ یَکُفُّوْا اَیْدِیَھُمْ دونوں یَعْتَزِلُوْ کُمْ پر معطوف ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 ان مذکورہ لوگوں کے علاوہ تم کچھ ایسے لوگوں کو ضرور پائو گے اور تم کو ایسے لوگ بھی ملیں گے جو یہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی بےخوف و خطر رہیں اور اپنی قوم سے بھی مامون و محفوظ رہیں مگر اسی کے ساتھ ان کی حالت اور ان کی صفت یہ ہے کہ جب کبھی ان کو مسلمانوں کے مخالفوں اور دشمنوں کی طرف سے کسی شرارت اور فتنہ انگیزی کی دعوت دی جاتی ہے اور ان کو مسلمانوں کے خلاف ابھارا اور متوجہ کیا جاتا ہے تو وہ فوراً بلاتامل اس میں جاگرتے ہیں اور اس شرارت و فتنہ انگیزی میں شریک ہوجاتے ہیں ۔ یعنی مسلمانوں سے جنگ کرنے کو آمادہ ہوجاتے ہیں لہٰذا اس قسم کے عہد شکن لوگ اگر تم سے کی سو نہ ہوں اور تمہارے ساتھ جنگ کرنے سے کنارہ کش نہ ہوں اور نہ تم سے مصالحانہ رویہ رکھیں اور نہ تمہارے قتل سے اپنے ہاتھوں کو روکیں تو اس پر تم بھی ان دھوکہ باز اور عہد شکنوں کو جہاں کہیں پائو گرفتار کرو اور قتل کرو اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے خلاف کاررو وائی کرنے کے لئے ہم نے تم کو کھلی سند اور صاف وصریح حجت مہیا کردی ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی بعضے ہیں کہ عہد بھی کر جاتے ہیں نہ تم سے لڑیں نہ اپنی قوم سے لیکن قائم نہیں رہتے جب اپنی قوم کو غلبہ ہوتا دیکھتے ہیں ان کے رفیق ہوجاتے ہیں تو ان سے تم بھی قصور مت کرو تمہارے ہاتھ سند لگی کہ وہ عہد پر قائم نہ رہے۔ (موضح القرآن) رکوع کے آخری حصے میں ایک تیسرے فریق کی حالت سے اطلاع دی گئی ہے کہ یہ لوگ تم سے اور اپنی قوم سے مامون رہنے کی غرض سے یہ ترکیب کرتے ہیں کہ تم سے معاہدہ کرلیتے کہ نہ ہم آپ سے جنگ کریں گے اور نہ آپ کے ساتھ مل کر اپنی قوم سے جنگ کریں گے لیکن ان کی حالت یہ ہے کہ جب ان کو کوئی تمہارا دشمن تمہارے خلاف ابھارتا ہے اور ان کو غلبہ کی توقع ہوتی ہے تو یہ اس ابھارنے میں آجاتے ہیں اور اپنے تمام عہد و مواثیق کو بالائے طاق رکھ کر جنگ میں کود پڑتے ہیں اور فتنہ میں جا گرتے ہیں تو اگر یہ لوگ ایسی حرکت کریں اور صلح اور عہد کا پاس نہ کریں اور جو ا کو کرنا چاہئے یعنی اعتزال، عدم قتال اور عہد کا خیال وہ نہ کریں تو پھر یہ اسی سزا کے مستحق ہیں جو حربی کفار کے لئے بیان کی جا چکی ہے اور ان پر تو اب عہد شکنی اور وعدہ خلافی کی حجت بھی قائم ہوچکی آخری آیتں میں جو تقابل ہے وہ بھی عجیب و غریب ہے پہلی آیت میں ہے۔ فان اعتزلو کہ۔ دوسری میں ہے فان لم یعتزلوکم پہلی آیت میں ہے فلم یقاتلوکم دوسری میں لم یکفوا ایدیھم پہلی آیت میں ہے القوالیکم السلام دوسری میں ہے لم یلقوا الیکم السلم پہلی آیت میں فما جعل اللہ دوسری میں ہے اولئکم جعلنا لکم۔ سبحان اللہ العلیم الحکیم۔ بہرحال یہاں تک تین فرقوں کا ذکر فرمایا ہے۔ 1 وہ کافر جو ہجرت نہ کریں یا دارا الاسلام سے نکل کر دارالحرب میں چلے جائیں۔ 2 جو بلا واسطہ یا بالواسطہ معاہدہ کرلیں اور جنگ نہ کرنے پر مسلمانوں سے صلح کرلیں۔ 3 جو دفع الوقتی کی غرض سے صلح کرلیں اور جب مسلمانوں کے خلاف جنگ کی دعوت دی جائے تو اس میں شریک ہوجائیں اور اپنے عہد پر قائم نہ رہیں پہلے فریق کا حکم عام کفار کی مانند ہے دوسرا فریق قتل اور پکڑ دھکڑ سے مستنثٰی ہے ۔ تیسرا فریق اسی سزا کا مستحق ہے جس کا پہلا فریق تھا ان آیتوں میں جو احکام مذکور ہوئے وہ دو ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ جب مصالحت نہ ہو تو قتال اور مصالحت ہو تو عدم قتال استثنا میں ہم نے ایک اشارہ کیا ہے جس سے معلوم ہوگا کہ استثنا صرفقتل اور پکڑ دھکڑ سے ہے ولایت اور استنصار کی اجازت نہیں ہے ولایت تو کسی حالت میں بھی کافروں سے جائز نہیں البتہ استنصار اور استعانت میں تفصیل ہے اور کسی خاص ضرورت اور اسلامی فائدے کے پیش نظر ایسا کیا جاسکتا ہے اور اگر ضرورت نہ ہو اور کوئی خاص مفاد پیش نظر نہ ہو تو استنصار اور استعانت سے اجتناب کرنا چاہئے۔ جیسا کہ غزوہ احد میں جب عبداللہ بن ابی واپس ہوا تو بعض انصار نے اجازت طلب کی کہ ہم یہود کو مدد کے لئے لے آئیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ وہ خبیث ہیں ہم کو ان کی کوئی حاجت نہیں مزید تفصیل کتب فقہ میں مذکور ہے۔ بہرحال اس آخری آیت میں جن کا ذکر ہے وہ اہل تھامہ ہوں یا مکہ کے کچھ لوگ ہوں یا نعیم بن معسود و یا اسد اور غطفان کے لوگ ہوں۔ مفسرین نے مختلف شان نزول سے بیان کیا ہے ہم اس تفصیل میں جانا نہیں چاہتے۔ جب قوموں میں انقلاب رونما ہوتا ہے اور ایک قوم کا زوال اور ایک قوم کا عروج ہونا نظر آتا ہے تو یہ سب باتیں ہوا کرتی ہیں قبل از وقت کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ کیا ہونے والا ہے۔ بعض لوگ تو کھل کر ایک پارٹی کے ساتھ ہوجاتے ہیں کچھ انتظار کرتے رہتے ہیں جس کا پلہ بھاری دیکھتے ہیں ادھر ہوجاتے ہیں کچھ دونوں طرف ملے رہتے ہیں اور کسی پارٹی سے برے بننا نہیں چاہتے۔ یہی حالت عرب میں اس انقلاب کے وقت تھی جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے وقت ہوا تھا اور جس کے آخر میں اسلام کو تفوق اور برتری حاصل ہوئی تھی اور کفر زوال پذیر ہوگیا تھا اس وقت ہر قبیلہ اور عرب کا ہر فقہ اپنے اپنے زاویہ نگاہ اور اپنی اپنی امیدوں اور توقعات پر کام کر رہا تھا اور ان ہی کے لئے قرآن میں وقتاً فوقتاً احکام نازل ہوتے رہتے تھے اس لئے کوئی صحیح اور آخری بات کہنی مشکل ہے اور جو خلاصہ ہم نے عرض کردیا ہے اس کو کافی سمجھنا چاہئے۔ معاہد اور حربیوں کے اور عہد شکنوں کے وہی احکام آج بھی ہیں اگرچہ وہ زمانہ مسلمانوں کی ترقی کا تھا اور اس وقت تمام احکام پر عمل آسان تھا اور آج مسلمانوں کے انحطاط کا وقت ہے اور غلامی کا دور ہے اگر آج ان قوانین پر عمل ناممکن ہے تو سوائے اس کے اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا جائے اور اس اقتدار کے حصول کی کوشش کی جائے جس سے اللہ تعالیٰ کا قانون بلند ہو سکے۔ وما ذلک علی اللہ بعزیز۔ یعنی اب آگے اسی سلسلے میں قتل کے بعض اور احکام بیان فرماتے ہیں اور قتل کی بعض صورتوں کے احکام بیان کرتے ہیں اور آخر میں پھر مجاہدین کی فضیلت مذکور ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)