Surat ul Momin

Surah: 40

Verse: 14

سورة مومن

فَادۡعُوا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۱۴﴾

So invoke Allah , [being] sincere to Him in religion, although the disbelievers dislike it.

تم اللہ کو پکارتے رہو اس کے لئے دین کو خالص کر کے گو کافر برا مانیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

So, call you upon Allah making religion sincerely for Him, however much the disbelievers may hate. This means, worship Allah and call upon Him alone in all sincerity. Do not be like the idolators in conduct and beliefs. Imam Ahmad recorded that after ending every prayer, Abdullah bin Az-Zubayr used to say: "There is no (true) God except Allah Alone with no partner or associate, His is the dominion and praise, for He is able to do all things; there is no strength and no power except with Allah; there is no (true) God except Allah and we worship none but Him; to Him belongs the blessings and the virtue and good praise; there is no (true) God except Allah, we worship Him in all sincerity even though the disbelievers may hate that." He said, "The Messenger of Allah used to say Tahlil with this after every prayer." Something similar was also recorded by Muslim, Abu Dawud and An-Nasa'i. It was reported in Sahih from Ibn Az-Zubayr, may Allah be pleased with him, that the Messenger of Allah used to say the following after the prescribed (obligatory) prayers: لاَا إِلهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لاَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ لاَا حَوْلَ وَلاَا قُوَّةَ إِلاَّ بِاللهِ لاَا إِلهَ إِلاَّ اللهُ وَلاَا نَعْبُدُ إِلاَّ إِيَّاهُ لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّــنَاءُ الْحَسَنُ لاَا إِلهَ إِلاَّ اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُون There is no (true) God except Allah Alone with no partner or associate, His is the dominion and praise, for He is able to do all things; there is no strength and no power except with Allah; there is no (true) God except Allah and we worship none but Him; His is the blessing and virtue and good praise; there is no (true) God except Allah, we worship Him in all sincerity even though the disbelievers hate that.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

14۔ 1 یعنی جب سب کچھ اللہ ہی اکیلا کرنے والا ہے تو کافروں کو چاہے کتنا بھی ناگوار گزرے صرف اسی ایک اللہ کو پکارو اس کے لیے عبادت و اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٧] کائنات کی تمام قوتیں ایک ہی حاکم اعلیٰ کے حکم کے تحت سرگرم عمل ہیں :۔ ان آیات الٰہی میں غور کرنے سے یہی نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ کائنات کی تمام قوتیں ایک ہی حاکم اعلیٰ کے زبردست کنٹرول کے تحت سرگرم عمل ہیں۔ لہذا تمہیں بھی خالصتاً اسی کی حاکمیت تسلیم کرکے باقی ساری کائنات کے ہم آہنگ ہوجانا چاہئے۔ رہے وہ لوگ جو اللہ کی ان قدرتوں میں غور و فکر گوارا ہی نہیں کرتے تو اس کی وجہ محض یہ ہے کہ ان کی آنکھوں پر غفلت، تعصب اور تقلید آباء کی پٹی بندھی ہوئی ہے۔ اور انہی باتوں میں مگن رہنے میں ہی وہ خوشی محسوس کرتے ہیں اور انگر انہیں حقائق کی طرف توجہ دلائی جائے تو ان کا تسلیم کرنا تو درکنار، انہیں اس طرف توجہ دلانا بھی ناگوار محسوس ہوتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فادعواللہ مخلصین لہ الدین :” الدین “ کا معنی عبادت بھی ہے اور اطاعت بھی۔ یعنی جب تمہاری روزی کا مالک وہی ہے تو اپنی عبادت اور اطاعت کو اسی کے لئے خلاص کرتے ہوئے صرف اسی کو پکارو ، اس کی بندگی میں کسی دوسرے کو شریک نہ کرو۔ (٢) ولو کرہ الکفرون : یعنی تمہارے اللہ واحد کو پکارنے سے کافر و مشرک ناک بھوں چڑھائیں گے، سو تم ایک اللہ کی عبادت و اطاعت پر قائم رہو، خواہ کافر اسے کتنا ہی ناپسند کریں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَادْعُوا اللہَ مُخْلِصِيْنَ لَہُ الدِّيْنَ وَلَوْ كَرِہَ الْكٰفِرُوْنَ۝ ١٤ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں یعنی دعاء اور نداء ایک دوسرے کی جگہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ خلص الخالص کالصافي إلّا أنّ الخالص هو ما زال عنه شوبه بعد أن کان فيه، والصّافي قد يقال لما لا شوب فيه، وقوله تعالی: فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا [يوسف/ 80] ، أي : انفردوا خالصین عن غيرهم .إِنَّهُ مِنْ عِبادِنَا الْمُخْلَصِينَ [يوسف/ 24] ( خ ل ص ) الخالص ( خالص ) خالص اور الصافی دونوں مترادف ہیں مگر الصافی کبھی ایسی چیز کو بھی کہہ دیتے ہیں جس میں پہلے ہی سے آمیزش نہ ہو اور خالص اسے کہتے ہیں جس میں پہلے آمیزش ہو مگر اس سے صاف کرلیا گیا ہو ۔ آیت کریمہ : ۔ فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا [يوسف/ 80] جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہوکر صلاح کرنے لگے میں خلصوا کے معنی دوسروں سے الگ ہونا کے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَنَحْنُ لَهُ مُخْلِصُونَ [ البقرة/ 139] اور ہم خالص اس کی عبادت کرنے والے ہیں ۔ إِنَّهُ مِنْ عِبادِنَا الْمُخْلَصِينَ [يوسف/ 24] بیشک وہ ہمارے خالص بندوں میں سے تھے ۔ دين والدِّينُ يقال للطاعة والجزاء، واستعیر للشریعة، والدِّينُ کالملّة، لكنّه يقال اعتبارا بالطاعة والانقیاد للشریعة، قال إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ [ آل عمران/ 19] ( د ی ن ) دين الدین کے معنی طاعت اور جزا کے کے آتے ہیں اور دین ملت کی طرح ہے لیکن شریعت کی طاعت اور فرمانبردار ی کے لحاظ سے اسے دین کہا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ [ آل عمران/ 19] دین تو خدا کے نزدیک اسلام ہے ۔ كره قيل : الْكَرْهُ والْكُرْهُ واحد، نحو : الضّعف والضّعف، وقیل : الكَرْهُ : المشقّة التي تنال الإنسان من خارج فيما يحمل عليه بِإِكْرَاهٍ ، والکُرْهُ : ما يناله من ذاته وهو يعافه، وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ [ التوبة/ 33] ( ک ر ہ ) الکرہ ( سخت ناپسند یدگی ) ہم معنی ہیں جیسے ضعف وضعف بعض نے کہا ہے جیسے ضعف وضعف بعض نے کہا ہے کہ کرۃ ( بفتح الکاف ) اس مشقت کو کہتے ہیں جو انسان کو خارج سے پہنچے اور اس پر زبر دستی ڈالی جائے ۔ اور کرہ ( بضم الکاف ) اس مشقت کو کہتے ہیں جو اسے نا خواستہ طور پر خود اپنے آپ سے پہنچتی ہے۔ چناچہ قرآن میں ہے : وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ [ التوبة/ 33] اور اگر چہ کافر ناخوش ہی ہوں ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

تو تم لوگ اخلاص اور توحید کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اگرچہ مکہ والوں کو برا ہی کیوں نہ لگے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٤ { فَادْعُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ } ” پس تم پکارو اللہ کو اسی کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے ‘ خواہ یہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ “ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَکے یہ کلمات سورة الزمر اور اس سورت کے درمیان مماثلت اور مشابہت کی علامت ہیں۔ دونوں سورتوں میں یہ کلمات بار بار آئے ہیں۔ ظاہر ہے توحید خالص کا عملی مظاہرہ اللہ کے نافرمانوں اور طاغوتی کارندوں کو تو کبھی بھی اچھا نہیں لگے گا۔ وہ تو چاہیں گے کہ ” اللہ کا حصہ اللہ کو دیا جائے اور قیصر کا حصہ قیصرکو ! “ یعنی توحید کا ذکر بھی ہوتا رہے اور کاروبارِ شرک بھی چلتا رہے۔ کبھی کبھار کوئی حکم اللہ کا بھی مان لیا جائے ‘ مگر ساتھ ہی ساتھ دوسرے خدائوں اور حاجت روائوں کو بھی خوش رکھا جائے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

22 For the explanation of "making one's religion sincerely Allah's", see E.N. 3 of Az-Zumar.

سورة الْمُؤْمِن حاشیہ نمبر :22 دین کو اللہ کے لیے خالص کرنے کی وضاحت سورہ زمر حاشیہ نمبر 3 میں کی جاچکی ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٤۔ ٢٠۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو قرآن کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور طرح طرح کے جھگڑے اللہ کے حکم کے ماننے میں نکالتے تھے پھر فرمایا تھا کہ قرآن شریف کی آیتوں سے وہی لوگ نصیحت پاسکتے ہیں جن کا دل خالص دل سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف رجوع اور مائل ہے اب ان آیتوں میں ان ہی صاحب توحید اور خالص دل سے عبادت کرنے والوں کو خطاب کر کے فرمایا ہے کہ تم خالص دل سے اللہ کی یاد اور اللہ کی عبادت کئے جائو اور اللہ کے حکم میں جھگڑا کرنے والوں کا اور ان کی ناخوشی کا کچھ خیال نہ کرو صحیح و مسلم ١ ؎ ابوداو ود و نسائی میں حضرت عبد اللہ بن زبیر سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیشہ فرضوں کے بعد کلمہ توحید پڑھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے یا اللہ ہم سوا تیرے کسی کی عبادت نہیں کرتے اور یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ کافر لوگ ناخوش ہوں تو ہوں حقیقت میں خالص دین اور خالص عبادت اللہ ہی کا حق ہے اب آگے اللہ تعالیٰ نے انبیا کا جن کے سبب سے خالص عبادت الٰہی کی ہدایت لوگوں کو ہوتی ہے اور خالص عبادت کرنے والوں کا درجہ ہر ایک رتبہ کے موافق قیامت کے دن بلند فرمائے گا۔ قتادہ ٢ ؎ کے قول کے موافق یہاں روح کے معنی وحی کے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کسی کو نبوت کے قابل پاتا ہے اس کو نبی مقرر کر کے بذریعہ وحی کے اپنے نبی پر اس لئے احکام بھیجتا ہے کہ وہ اللہ کے نبی لوگوں کو قیامت کے دن کے عذاب سے ڈرا دیں اسی واسطے صحیحین ٣ ؎ میں ابوہریرہ (رض) کی حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میری اور امت کے لوگوں کی مثال ایسی ہے جس طرح کوئی شخص آگ جلائے اور آگ کی روشنی کے گرد کیڑے پتنگے جمع ہو کر اس آگ میں گرنا اور جلنا چاہیں اور وہ آگ جلانے والا شخص ہرچند ان کیڑوں پتنگوں کو روکے مگر وہ نہ مانیں اور آخر آگ میں گر کر جل جائیں اسی طرح امت کے لوگوں کو کمر پکڑ پکڑ کر میں عذاب الٰہی کی آگ سے ان کو روکتا ہوں مگر وہ نہیں مانتے اور آگ میں گرنے کے کام کرتے ہیں۔ صحیح بخاری ٤ ؎ و مسلم میں سہل (رض) بن سعد کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس دوسری نئی زمین پر لوگ حشر کے میدان میں کھڑے کئے جائیں گے اس زمین پر نہ کسی مکان اور پہاڑ کی کچھ علامت ہوگی نہ اور کچھ آڑ ہوں گی بلکہ صاف میدان چٹیل ہوگا اسی واسطے آگے کی آیت کے ٹکڑے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ حشر کے دن جب لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو ان کی کوئی چیز اللہ سے چھپی نہ رہے گی اور اس دن نیکی کا بدلہ دس سے لے کر سات سو تک ہوگا اور برائی کی سزا میں کچھ زیادتی نہ ہوگی اس واسطے فرمایا اس دن کچھ ظلم نہ ہوگا۔ صحیح و مسلم ٥ ؎ کے حوالہ سے ابوذر کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرا لیا ہے۔ اس حدیث سے لاظلم الیوم کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ عذاب کی دہشت سے لوگوں کے دل ٹھکانے نہ رہیں گے اسی کو اذا القلوب لدی الحناجر فرمایا۔ صحیح بخاری ٦ ؎ میں ابوہریرہ (رض) کی روایت سے اور ترمذی ابن ماجہ میں عوف بن مالک کی روایت سے ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا شفاعت اہل کلمہ گناہ گاروں کے لئے ہوگی اسی واسطے مشرکوں کے ذکر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کا قیامت کے دن نہ کوئی دوست ہوگا نہ شفاعت کرنے والا ہوگا یہ جو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آنکھ کی چوری کو جانتا ہے اس آنکھ کی چوری کی تفسیر آنکھ کے اشارہ سے بات کرنے کی بڑی صحیح تفسیر ہے کیونکہ ابو داؤود ١ ؎ اور نسائی کی مرفوع روایت میں یہ تفسیر آچکی ہے۔ سوا اس تفسیر کے اور تفسیرین جو مفسروں نے بیان کی ہیں وہ مرفوع حدیث سے کم درجہ کی ہیں اس مرفوع حدیث کا حاصل یہ ہے کہ عبد اللہ (رض) بن سرح کے قتل کا حکم آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے بعد دیا مگر عبد اللہ نے آنکھ بچا کر آنحضرت سے بیعت کا ارادہ کیا جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبد اللہ کی بیعت کا حال سنا تو صحابہ سے فرمایا کہ جب عبد اللہ بیعت کے ارادہ سے آرہا تھا تو تم میں سے کسی نے اس کو روک لیا ہوتا صحابہ نے عرض کیا کہ اگر آپ ہم کو اشارہ سے فرما دیتے تو ہم لوگ عبد اللہ کو آپ تک آنے سے ضرور روک دیتے آپ نے اس وقت یہی آیت میں کا کلمہ فرمایا کہ اللہ کے رسول کو خائنۃ الاعین جائز نہیں ہے ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ مشرک لوگ تو بغیر بتوں کی تعظیم کے کبھی خوش نہیں رہ سکتے اس لئے ہر ایماندار کو چاہئے کہ وہ خالص اللہ کی عبادت میں لگا رہے اور ان مشرکوں کی ناخوشی کا کچھ خیال نہ کرے۔ درجات کے معنی اگر مخلوقات کے مرتبوں کے لئے جائیں گے تو حاصل مطلب وہی ہوگا جو اوپر بیان کیا گیا کہ خالص دل سے اللہ کی عبادت کرنے والوں کا درجہ ہر ایک کے رتبہ کے موافق قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بلند فرمائے گا اور درجات کے معنی اگر اللہ تعالیٰ کی صفات کے لئے جائیں تو یہ مطلب ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اپنے صفات میں بہت بالا تر ہے اس واسطے کوئی اس کا شریک نہیں قرار دیا جاسکتا لیکن تفسیر سورة المجادلہ کی آیت یرفع اللہ الذین امنوا منکم والذین اوتوا العلم درجات کے موافق ہے کیونکہ جو مطلب اس تفسیر کا ہے وہی مطلب اس آیت کا ہے اس واسطے یہی تفسیر قوی معلوم ہوتی ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اور بندوں کی ملاقات ہوگی اس واسطے اس کو ملاقات کا دن فرمایا۔ آخر کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کی بات کو سنتا ہر ایک کے کام کو دیکھتا ہے اس واسطے قیامت کے دن نیک و بد کا وہی انصاف سے فیصلہ کرے گا جن نیک لوگوں کی مورتوں کو یہ مشرک پوجتے ہیں وہ قیامت کے دن ان مشرکوں سے بیزار ہوجائیں گے اور یہ بت تو بالکل بت ہی ہیں نہ ان کی آنکھیں نہ ان کے کان نہ ان میں نیک و بد کے سمجھنے کی عقل اس لئے یہاں دنیا میں یہ مشرک لوگ اپنے بتوں کو مان لیں قیامت کے دن تو ان مشرکوں کا پورا فیصلہ اللہ ہی کے اختیار میں ہوگا۔ (١ ؎ صحیح مسلم باب استحباب الذکر بعد الصلوۃ وصفۃ ص ٢١٨ ج ١۔ ) (٢ ؎ تفسیر الدر المنثور ص ٣٤٨ ج ٥۔ ) (٣ ؎ صحیح مسلم باب مثل ما بعث النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الخ ص ٣٤٨ ج ٢۔ ) (٤ ؎ صحیح بخاری باب یقض اللہ الارض ص ٥٦٥ ج ٢۔ ) (٥ ؎ صحیح مسلم باب تحریم الظلم ص ٣١٩ ج ٢۔ ) (٦ ؎ مشکوٰۃ شریف باب فی الحوض و الشفاعۃ ص ٤٨٩۔ ) (١ ؎ ابو دائود کتاب الحدود باب الحکم فیمن ارتد۔ ص ٩۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 یعنی توحید پر قائم رہو۔ یہ چیز اگر کافروں کو ناگوار ہو تو ہوا کرے، تم اس کی ہرگز پروا نہ کرو، اللہ تمہارا حامی و مددگار ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(فَادْعُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہٗ الدِّیْنَ ) (سو تم اللہ کو پکارو اسی کی عبادت کرو اور دین کو اس کے لیے خالص رکھو) یعنی اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بناؤ (وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ ) (اگرچہ کافروں کو ناگوار ہو) تم اللہ کے بندے ہو خالص اسی کی عبادت کرو توحید اور ایمان پر مستقیم رہنا اور خالص اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرنا یہ تمہارا فریضہ ہے جو لوگ تمہارے دین کو قبول نہیں کرتے وہ تم سے اور تمہارے عقیدہ توحید اور اخلاص فی العبادۃ سے راضی نہیں انہیں ناراض رہنے دو ان کی ناراضگی اور ناگواری کی کوئی پروا نہ کرو۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

18:۔ ” فادعوا الخ “ تمہید اور ترغیب کے بعد پہلی بار دعوی کا ذکر ہے۔ ” فاء “ فصیحہ ہے اور اس کی شرفط محذوف ہے ای ذا کان الامر کما ذکر من اختصاص التذکر بمن ینیب فاعبدوہ ایھا المومنون مخلصین لہ دینکم الخ ‘ (ابو السعود ج 7 ص 301) ۔ یعنی جب معاملہ یہ ہے کہ صرف انابت کرنے والے ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں، تو ایمان والو ! تم خالصۃً اللہ ہی کو پکارو۔ لیکن حضرت شیخ قدس سرہ کے نزدیک ” فادعوا اللہ مخلصین لہ الدین “ اس سورت کا مرکزی دعوے ہے جو ابتدائے سورت سے لے کر یہاں تک بیان شدہ تمہید و ترکیب کے سارے مضمون پر مترتب ہے جس کا حاصل یہ ہے۔ جب تمہیں معلوم ہوگیا کہ یہ حکمنامہ جو ” فادعوا اللہ الخ “ کے مضمون پر مشتمل ہے، بہت بڑے شہنشاہ کی طرف سے ہے جو مہربان بھی ہے اور شدید العقاب بھی، اس میں جدال صرف معاندین ہی کریں گے۔ لیکن جو لوگ اس حکمنامے کو مان لیں گے اللہ کے فرشتے ان کے لیے دعائیں کریں گے اور جو اس حکمنامے کو ٹکرا دیں گے، وہ غضب خداوندی کا مور بنیں گے۔ یہ حکمنامہ بڑے مہربان اور محسن بادشاہ کا ہے جو تمہیں اپنی توحید کے نشانات دکھاتا ہے۔ لیکن مانیں گے وہی جو اللہ کی طرف نابت کریں گے۔ جب تم یہ سب کچھ سن چکے تو اب حاجات و مصائب میں مافوق الاسباب صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارو اور اس کی پکار میں کسی کو شریک نہ کرو۔ تقدیر عبارت یوں ہوگی۔ اذا سمعتم ما ذکر فادعوا اللہ مخلصین لہ الدین۔ 19:۔ ” ولو کفرہ الکافرون “ تم ہر حال میں صرف اللہ ہی کو پکارو اگرچہ مشرکین جو تمہارا نام و نشان مٹانے پر تلے ہوئے ہیں اس کو ناپسند کریں اور غیظ و غضب سے جل بھن جائیں ای اعبدوہ مخلصین لہ الدین من الشرک علی کل حال حتی فی حال غیظ اعدائکم المتمالئین علیکم وعلی استئصالکم (بحر ج 7 ص 454) ۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ قتل کا ذکر نہیں کیا، اس لیے کہ دعاء اور پکار کا تعلق زبان سے ہے اور بصورت اکراہ قتل سے بچنے کیلئے زبان سے کلمہ شرک کہنے کی رخصت ہے بشرطیکہ دل ایمان پر قائم ہو جیسا کہ ارشاد ہے : ” الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان “ (النحل رکوع 14) ۔ 20:۔ ” رفیع الدرجات “ یہ دعوائے سورت کی اہمیت کی طرف اشارہ ہے۔ یہ حکمنامہ جس کے لیے اتنی لمبی چوری تمہید ذکر کی گئی ہے کوئی معمولی نہیں بلکہ یہ رفیع الشان، عرش عظیم کے مالک بادشاہ کا حکمنامہ ہے، جو اس سے پہلے بھی اپنے پیغمبروں پر اپنا حکمنامہ نازل فرامتا رہا ہے، تاکہ اس کے بندے اس کی تعمیل کر کے اور اس کو مان کر قیامت کی سختیوں اور تکلیفوں سے بچ جائیں۔ ” فیع الدرجات “ بلندو برتر، عظمت و شان والا۔ ھو المرتفع بعظمتہ فی صفات جلالہ وکمالہ ووحدانیتہ المستغنی عن کل ما سواہ وکل الخلق فقراء الیہ (خازن ج 6 ص 77) ۔ عبارۃ عن رفعۃ شانہ و علو سلطانہ کما ان قولہ ذوالعرش عبارۃ عن ملکہ وبنحوہ فسر ابن زید قال : عظیم الصفات (بحر ج 7 ص 455) ۔ 21:۔ ” یلقی “ صیغہ مضارع ماضی استمراری کے مفہوم میں ہے یعنی ڈالتا رہا ہے۔ والاستمرار التجددی المفہوم من (یلقی) ظاہر فان الالقاء لم یزل من لدن ادم (علیہ السلام) الی انتھاء زمان نبینا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (روح ج 24 ص 56) ۔ اس صورت میں ” الروح “ سے مطلق وحی مراد ہوگی وحی کو روح اس لیے فرمایا کہ جس روح سے بدن کو حیات حاصل ہوتی ہے، اسی طرح وحی الٰہی سے جو احکام نازل ہوتے ہیں وہ دلوں کی حیات کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ الوحی الذی تحیا بہ القلوب (مدارک) حیاۃ الارواح بالمعارف الاھیۃ والجلایا القدسیۃ فاذا کان الوحی سببا لحصول ھذہ الارواح سمی بالوح فان الروح سبب لحصول الحیاۃ والوحی سبب لحصول ھذہ الحیاۃ الروحانیۃ “ (کبیر ج 7 ص 306) ۔ حاصل یہ ہے کہ یہ وحی اور پیغام توحید جس سے دلوں کی حیات وابستہ ہے اس قدر اہم ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو ہمیشہ اپنے پیغمبروں پر نازل فرماتا رہا ہے، تاکہ وہ انبیاء (علیہم السلام) کی وساطت سے بندوں کو قیامت کے دن آفات سے خبردار کرے اور وہ اللہ کے حکمنامے کو مان کر ان سے نجات پالیں۔ لیکن اگر ” الروح “ سے قرآن مجید مراد ہو جیسا کہ حضرت ابن عباس (رض) (بحر، روح) اور ابن زید (رض) (قرطبی) سے منقول ہے تو اس سصورت میں یلق حال مستمر پر محمول ہوگا۔ یعنی ڈال رہا ہے اور اتار رہا ہے۔ پہلی صورت میں ” من یشاء الخ “ سے تمام انبیاء (علیہم السلام) مراد ہوں۔ وھم الانبیاء یشاء ھو ان یکونوا انبیاء ولیس لاحد فیہم مشیئۃ (قرطبی ج 15 ص 299) ۔ اور دوسری صورت میں اس سے حضرت خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مراد ہوں گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(14) پس خاص اللہ تعالیٰ ہی کی بندگی کے اعتقاد سے اس کو پکارو اور اس کی عبادت کرو اگر چو منکر برا مانیں۔ اگر یہ خطاب مسلمانوں کو ہے جیسا کہ ظاہر یہی ہے تب تو مطلب صاف ہے اور اگر خطاب کفار کو ہے تو مطلب یہ ہے کہ خالص اللہ کی بندگی کا اعتقاد رکھ کر اس کی عبادت کرو اور اسلام قبول کرلو خواہ تمہارے ساتھی کتنا ہی برامانیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے۔ لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیئی قدیر ولا الہ الا اللہ ولا نعبد الاایاہ لہ النعمۃ ولہ الفضل ولہ الثناء الحسن لا الہ الا اللہ مخلصین لہ