39 As already mentioned in AI-A'raf: 127 above, Pharaoh's courtiers had said to him: `Will you leave Moses and his people free to spread disorder in the land?" And he himself had said: `I will have their sons slain and let their daughters live." This verse states that this order was at last issued from Pharaoh's court. It was, in fact, meant to so terrify the Prophet Moses himself and his supporters and followers that they should abandon him out of fear.
40 Another meaning of this sentence can be: "Whatever the disbelievers had plotted, was aimed at deviation, tyranny and antagonism to the truth. That is, even after being convinced of the truth in their heaps, they continued to show stubbornness and did not hesitate to adopt any mean device whatever in order to defeat and frustrate the Truth.
سورة الْمُؤْمِن حاشیہ نمبر :38
یعنی جب پے در پے معجزات اور نشانیاں دکھا کر حضرت موسیٰ نے یہ بات ان پر پوری طرح ثابت کر دی کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں اور مضبوط دلائل سے اپنا برسر حق ہونا پوری طرح واضح کر دیا ۔
سورة الْمُؤْمِن حاشیہ نمبر :39
سورہ اعراف ، آیت 128 میں یہ بات گزر چکی ہے کہ فرعون کے درباریوں نے اس سے کہا تھا کہ آخر موسیٰ ( علیہ السلام ) کو کھلی چھٹی کب تک دی جائے گی ، اور اس نے کہا تھا کہ میں عنقریب بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرنے اور لڑکیوں کو جیتا چھوڑ دینے کا حکم دینے والا ہوں ( تفہیم القرآن ، جلد دوم ، الاعراف ، حاشیہ ۹۳ ) ۔ اب یہ آیت بتاتی ہے کہ فرعون کے ہاں سے آخر کار یہ حکم جاری کر دیا گیا ۔ اس سے مقصود یہ تھا کہ حضرت موسیٰ کے حامیوں اور پیروؤں کو اتنا خوف زدہ کر دیا جائے کہ وہ ڈر کے مارے ان کا ساتھ چھوڑ دیں ۔
سورة الْمُؤْمِن حاشیہ نمبر :40
اصل الفاظ ہیں وَمَا کَیْدُ الْکٰفِرِیْنَ اِلَّا فِی ضَلٰلٍ ۔ اس فقرے کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کافروں کی جو چال بھی تھی ، گمراہی اور ظلم و جور اور مخالفت حق ہی کی راہ میں تھی ، یعنی حق واضح ہو جانے اور دلوں میں قائل ہو جانے کے باوجود وہ اپنی ضد میں بڑھتے ہی چلے گئے اور صداقت کو نیچا دکھانے کے لیے انہوں نے کوئی ذلیل سے ذلیل تدبیر اختیار کرنے میں بھی باک نہ کیا ۔