Surat ul Momin

Surah: 40

Verse: 45

سورة مومن

فَوَقٰىہُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِ مَا مَکَرُوۡا وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ ﴿ۚ۴۵﴾

So Allah protected him from the evils they plotted, and the people of Pharaoh were enveloped by the worst of punishment -

پس اسے اللہ نے تمام بدیوں سے محفوظ رکھ لیا جو انہوں نے سوچ رکھی تھیں اور فرعوں والوں پر بری طرح کا عذاب الٹ پڑا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَوَقَاهُ اللَّهُ سَيِّيَاتِ مَا مَكَرُوا ... So Allah saved him from the evils that they plotted, means, in this world and in the Hereafter; in this world, Allah saved him along with Musa, peace be upon him, and in the Hereafter (He will admit him) to Paradise. Proof of the Torment of the Grave Allah says: ... وَحَاقَ بِألِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ while an evil torment encompassed Fir`awn's people. this refers to drowning in the sea,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

45۔ 1 یعنی اس کی قوم قبط نے اس مومن کے اظہار حق کی وجہ سے اس کے خلاف جو تدبیریں اور سازشیں سوچ رکھی تھیں ان سب کو ناکام بنادیا اور اسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ نجات دے دی۔ اور آخرت میں اس کا گھر جنت ہوگا۔ 45۔ 2 یعنی دنیا میں انہیں سمندر میں غرق کردیا گیا اور آخرت میں ان کے لئے جہنم کا سخت ترین عذاب ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٩] معلوم ایسا ہوتا ہے کہ فرعون اس مرد مومن کو فوری طور پر قتل نہیں کرنا چاہتا تھا بلکہ اس کو گرفتار کرکے اسے جسمانی تعذیب دینا چاہتا تھا تاکہ اس سے وہ سب باتیں اگلوا لے جن باتوں کی اسے ضرورت تھی۔ ان لوگوں نے اس مرد مومن کے خلاف کیا چالیں چلی تھیں۔ ان کی وضاحت معلوم نہیں ہوسکی۔ بہرحال اس واقعہ کے بعد جلد ہی سیدنا موسیٰ کو ہجرت کا حکم مل گیا اور یہ مرد مومن بھی مہاجرین میں شامل تھا۔ اس طرح اسے فرعون کی چالوں سے نجات مل گئی۔ اور جب فرعون اور آل فرعون نے ان مہاجرین کا تعاقب کیا تو خود ہی اپنی اس چال میں پھنس گئے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) فوقہ اللہ سیات مامکروا : فرعون اس مرد مومن کی واشگاف الفاظ میں نصیحت پر جتنا بھی غضب ناک ہوا ہو اللہ تعالیٰ کی حفاظت کی وجہ سے علی الاعلان اس کے خلاف کوئی کاروائی نہ کرسکا، بلکہ اس نے اور اس کے دربار والوں نے اس کے خلاف کاروائی کے لئے کئی خفیہ منصوبے طے کئے، مگر اللہ تعالیٰ نے اسے ان کے برے نتائج سے بھی بچالیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ نہیں بتایا کہ کس طرح بچایا۔ بعض مفسرین نے بیان کیا کہ وہ ان سے بچ کر پہاڑوں کی طرف نکل گیا۔ بعض نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد جلد ہی موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر نکلے تو وہ بھی ان کے ساتھ سمندر پار ہوگیا ۔ ہمارے پاس یہ معلوم کرنے کا کوئی یقینی نذریعہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کس طرح بچایا۔ شاید اللہ تعالیٰ کے یہ بات نہ بتانے میں یہ حکمت ہو کہ تم اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر دو ، پھر یہ اس کا کام ہے کہ وہ تمہیں کس طرح بچاتا ہے۔ اس کے بچانے کے طریقے تمہاری سوچ سے بہت بلند ہیں۔ (٢) وخاق بال فرعون سوٓء العذاب : وہ مومن تو آل فرعون کی سازشوں کے برے نتائج سے بچ کر دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوگیا ، مگر آل فرعون کو دنیا اور آخرت کے دوہرے عذاب نے گھیر لیا۔ دنیا میں وہ سمندر میں غرق ہوئے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

This has been mentioned in verse 45 in the following words: فَوَقَاهُ اللَّـهُ سَيِّئَاتِ مَا مَكَرُ‌وا وَحَاقَ بِآلِ فِرْ‌عَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ (Then Allah saved him from the evils of what they designed, and the House of the Pharaoh was encircled by an evil punishment.), that is, Allah Ta’ ala saved the believer from the harm the people of Pharaoh planned to bring to him, but they themselves were seized by a severe punishment. First of all, Allah Ta’ ala, in His mercy, saved the believer belonging to the House of Pharaoh right here in this world from the aggressive designs of the people of the Pharaoh against him, the details of which have not been mentioned in the Qur&an. But, the words of the Qur&an seem to say simply that the people of the Pharaoh had made many plans to hurt and kill him, and when the people of Pharaoh were drowned, Allah Ta ala saved this believing servant of Allah along with Sayyidna Musa (علیہ السلام) . As for salvation in the Hereafter, it is fairly obvious.

فوقہ اللہ سیات ما مکروا وحاق بال فرعون سوء العذاب۔ یعنی اس کو اللہ تعالیٰ نے قوم فرعون کی بری تدبیروں کے شر سے بچا لیا مگر خود قوم فرعون سخت عذاب میں پکڑی گئی۔ مولائے کریم نے مومن آل فرعون کو دنیا میں اول تو آل فرعون کو ان کے خلاف تدبیروں سے بچایا جس کی تفصیل قرآن میں مذکور نہیں۔ مگر الفاظ قرآن سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ ان کو قتل کرنے اور تکلیف پہنچانے کے لئے قوم فرعون نے بہت سی تدبیریں کی تھیں اور جب پھر قوم فرعون غرق ہوئی تو اس بندہ مومن کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ نجات دی گئی اور آخرت کی نجات تو ظاہر ہی ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَوَقٰىہُ اللہُ سَيِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَحَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْۗءُ الْعَذَابِ۝ ٤٥ۚ وقی الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، وَوَقاهُمْ عَذابَ الْجَحِيمِ [ الدخان/ 56] ، وَما لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ واقٍ [ الرعد/ 34] ، ما لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا واقٍ [ الرعد/ 37] ، قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ ناراً [ التحریم/ 6] ( و ق ی ) وقی ( ض ) وقایتہ ووقاء کے معنی کسی چیز کو مضر اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچانا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] تو خدا ان کو بچا لیگا ۔ التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔ وَوَقاهُمْ عَذابَ الْجَحِيمِ [ الدخان/ 56] اور خدا ان کو دوزخ کے عذاب سے بچالے گا ۔ وَما لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ واقٍ [ الرعد/ 34] اور ان خدا کے عذاب سے کوئی بھی بچانے والا نہیں ۔ ما لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا واقٍ [ الرعد/ 37] تو خدا کے سامنے نہ کوئی تمہارا مدد گار ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا ۔ قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ ناراً [ التحریم/ 6] اپنے آپ کو اور اپنے اہل عیال کو آتش جہنم سے بچاؤ ۔ سَّيِّئَةُ : الفعلة القبیحة، وهي ضدّ الحسنة، قال : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10]: بَلى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً [ البقرة/ 81] سَّيِّئَةُ : اور ہر وہ چیز جو قبیح ہو اسے سَّيِّئَةُ :، ، سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اسی لئے یہ لفظ ، ، الحسنیٰ ، ، کے مقابلہ میں آتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10] پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا ۔ چناچہ قرآن میں ہے اور سیئۃ کے معنی برائی کے ہیں اور یہ حسنۃ کی ضد ہے قرآن میں ہے : بَلى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً [ البقرة/ 81] جو برے کام کرے مكر المَكْرُ : صرف الغیر عمّا يقصده بحیلة، وذلک ضربان : مکر محمود، وذلک أن يتحرّى بذلک فعل جمیل، وعلی ذلک قال : وَاللَّهُ خَيْرُ الْماكِرِينَ [ آل عمران/ 54] . و مذموم، وهو أن يتحرّى به فعل قبیح، قال تعالی: وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ [ فاطر/ 43] ( م ک ر ) المکر ک ے معنی کسی شخص کو حیلہ کے ساتھ اس کے مقصد سے پھیر دینے کے ہیں یہ دو قسم پر ہے ( 1) اگر اس سے کوئی اچھا فعل مقصود ہو تو محمود ہوتا ہے ورنہ مذموم چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَاللَّهُ خَيْرُ الْماكِرِينَ [ آل عمران/ 54] اور خدا خوب چال چلنے والا ہے ۔ پہلے معنی پر محمول ہے ۔ اور دوسرے معنی کے متعلق فرمایا : ۔ وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ [ فاطر/ 43] اور بری چال کا وبال اس کے چلنے والے پر ہی پڑتا ہے : حاق قوله تعالی: وَحاقَ بِهِمْ ما کانوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ [هود/ 8] . قال عزّ وجلّ : وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ [ فاطر/ 43] ، أي : لا ينزل ولا يصيب، قيل : وأصله حقّ فقلب، نحو : زلّ وزال، وقد قرئ : فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطانُ [ البقرة/ 36] ، وأزالهما «2» وعلی هذا : ذمّه وذامه . ( ح ی ق ) ( الحیوق والحیقان) ( ض ) کے معنی کسی چیز کو گھیر نے اور اس پر نازل ہونے کے ہیں ۔ اور یہ باء کے ساتھ متعدی ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ : وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ [ فاطر/ 43] اور بری چال کا وبال اسکے چلنے والے پر ہی پڑتا ہے وحاق بِهِمْ ما کانوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ [هود/ 8] اور جس چیز سے استہزاء کیا کرتے تھے اس نے ان کو آگھیرا ۔ فِرْعَوْنُ : اسم أعجميّ ، وقد اعتبر عرامته، فقیل : تَفَرْعَنَ فلان : إذا تعاطی فعل فرعون، كما يقال : أبلس وتبلّس، ومنه قيل للطّغاة : الفَرَاعِنَةُ والأبالسة . فرعون یہ علم عجمی ہے اور اس سے سرکش کے معنی لے کر کہا جاتا ہے تفرعن فلان کہ فلاں فرعون بنا ہوا ہے جس طرح کہ ابلیس سے ابلس وتبلس وغیرہ مشتقات استعمال ہوتے ہیں اور ایس سے سرکشوں کو فراعنۃ ( جمع فرعون کی اور ابا لسۃ ( جمع ابلیس کی ) کہا جاتا ہے ۔ ساء ويقال : سَاءَنِي كذا، وسُؤْتَنِي، وأَسَأْتَ إلى فلان، قال : سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الملک/ 27] ، وقال : لِيَسُوؤُا وُجُوهَكُمْ [ الإسراء/ 7] ، مَنْ يَعْمَلْ سُوءاً يُجْزَ بِهِ [ النساء/ 123] ، أي : قبیحا، وکذا قوله : زُيِّنَ لَهُمْ سُوءُ أَعْمالِهِمْ [ التوبة/ 37] ، عَلَيْهِمْ دائِرَةُ السَّوْءِ [ الفتح/ 6] ، أي : ما يسوء هم في العاقبة، وکذا قوله : وَساءَتْ مَصِيراً [ النساء/ 97] ، وساءَتْ مُسْتَقَرًّا [ الفرقان/ 66] ، وأما قوله تعالی: فَإِذا نَزَلَ بِساحَتِهِمْ فَساءَ صَباحُ الْمُنْذَرِينَ [ الصافات/ 177] ، وساءَ ما يَعْمَلُونَ [ المائدة/ 66] ، ساءَ مَثَلًا[ الأعراف/ 177] ، فساء هاهنا تجري مجری بئس، وقال : وَيَبْسُطُوا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ وَأَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوءِ [ الممتحنة/ 2] ، وقوله : سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الملک/ 27] ، نسب ذلک إلى الوجه من حيث إنه يبدو في الوجه أثر السّرور والغمّ ، وقال : سِيءَ بِهِمْ وَضاقَ بِهِمْ ذَرْعاً [هود/ 77] : حلّ بهم ما يسوء هم، وقال : سُوءُ الْحِسابِ [ الرعد/ 21] ، وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ [ الرعد/ 25] ، وكنّي عن الْفَرْجِ بِالسَّوْأَةِ «1» . قال : كَيْفَ يُوارِي سَوْأَةَ أَخِيهِ [ المائدة/ 31] ، فَأُوارِيَ سَوْأَةَ أَخِي [ المائدة/ 31] ، يُوارِي سَوْآتِكُمْ [ الأعراف/ 26] ، بَدَتْ لَهُما سَوْآتُهُما [ الأعراف/ 22] ، لِيُبْدِيَ لَهُما ما وُورِيَ عَنْهُما مِنْ سَوْآتِهِما [ الأعراف/ 20] . ساء اور ساءنی کذا وسؤتنی کہاجاتا ہے ۔ اور اسات الی ٰ فلان ( بصلہ الی ٰ ) بولتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الملک/ 27] تو کافروں کے منہ برے ہوجائیں گے ۔ لِيَسُوؤُا وُجُوهَكُمْ [ الإسراء/ 7] تاکہ تمہارے چہروں کو بگاڑیں ۔ اور آیت :، مَنْ يَعْمَلْ سُوءاً يُجْزَ بِهِ [ النساء/ 123] جو شخص برے عمل کرے گا اسے اسی ( طرح ) کا بدلہ دیا جائیگا ۔ میں سوء سے اعمال قبیحہ مراد ہیں ۔ اسی طرح آیت : زُيِّنَ لَهُمْ سُوءُ أَعْمالِهِمْ [ التوبة/ 37] ان کے برے اعمال ان کو بھلے دکھائی دیتے ہیں ۔ میں بھی یہی معنی مراد ہیں اور آیت : عَلَيْهِمْ دائِرَةُ السَّوْءِ [ الفتح/ 6] انہیں پر بری مصیبت ( واقع ) ہو ۔ میں دائرۃ السوء سے مراد ہر وہ چیز ہوسکتی ہے ۔ جو انجام کا رغم کا موجب ہو اور آیت : وَساءَتْ مَصِيراً [ النساء/ 97] اور وہ بری جگہ ہے ۔ وساءَتْ مُسْتَقَرًّا [ الفرقان/ 66]( دوزخ ) ٹھہرنے کی بری جگہ ہے ۔ میں بھی یہی معنی مراد ہے ۔ اور کبھی ساء بئس کے قائم مقام ہوتا ہے ۔ یعنی معنی ذم کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : فَإِذا نَزَلَ بِساحَتِهِمْ فَساءَ صَباحُ الْمُنْذَرِينَ [ الصافات/ 177] مگر جب وہ ان کے مکان میں اتریگا تو جن کو ڈرسنایا گیا تھا ان کے لئے برادن ہوگا ۔ وساءَ ما يَعْمَلُونَ [ المائدة/ 66] ان کے عمل برے ہیں ۔ ساءَ مَثَلًا[ الأعراف/ 177] مثال بری ہے ۔ اور آیت :۔ سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الملک/ 27] ( تو) کافروں کے منہ برے ہوجائیں گے ۔ میں سیئت کی نسبت وجوہ کی طرف کی گئی ہے کیونکہ حزن و سرور کا اثر ہمیشہ چہرے پر ظاہر ہوتا ہے اور آیت : سِيءَ بِهِمْ وَضاقَ بِهِمْ ذَرْعاً [هود/ 77] تو وہ ( ان کے آنے سے ) غم ناک اور تنگدل ہوئے ۔ یعنی ان مہمانوں کو وہ حالات پیش آئے جن کی وجہ سے اسے صدمہ لاحق ہوا ۔ اور فرمایا : سُوءُ الْحِسابِ [ الرعد/ 21] ایسے لوگوں کا حساب بھی برا ہوگا ۔ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ [ الرعد/ 25] اور ان کیلئے گھر بھی برا ہے ۔ اور کنایہ کے طور پر سوء کا لفظ عورت یا مرد کی شرمگاہ پر بھی بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : كَيْفَ يُوارِي سَوْأَةَ أَخِيهِ [ المائدة/ 31] اپنے بھائی کی لاش کو کیونکہ چھپائے ۔ فَأُوارِيَ سَوْأَةَ أَخِي [ المائدة/ 31] کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا ۔ يُوارِي سَوْآتِكُمْ [ الأعراف/ 26] کہ تمہار ستر ڈھانکے ، بَدَتْ لَهُما سَوْآتُهُما [ الأعراف/ 22] تو ان کے ستر کی چیزیں کھل گئیں ۔ لِيُبْدِيَ لَهُما ما وُورِيَ عَنْهُما مِنْ سَوْآتِهِما[ الأعراف/ 20] تاکہ ان کے ستر کی چیزیں جو ان سے پوشیدہ تھیں ۔ کھول دے ۔ عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس مومن کو فرعونیوں کی قتل کی تدبیر سے محفوظ رکھا اور فرعون اور اس کی قوم پر غرق ہونے کا سخت عذاب نازل ہوا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٥ { فَوَقٰــٹـہُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِ مَا مَکَرُوْا } ” تو بچالیا اللہ نے اس کو ان کی چالوں کی برائیوں سے “ یہاں پر ہُ کی ضمیر کا مرجع مومن ِآلِ فرعون بھی ہوسکتا ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس سے مراد مومن آلِ فرعون ہے کہ اللہ نے اسے فرعون کے انتقام کا نشانہ بننے سے بچالیا ‘ لیکن اکثر حضرات کی رائے یہ ہے کہ اس سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ٰ مراد ہیں۔ چونکہ اس بات کا آغاز فرعون کی اس قرارداد سے ہوا تھا جو اس نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ٰ کو قتل کرنے کی اجازت کے لیے اپنے درباریوں کے سامنے پیش کی تھی۔ اس لیے زیادہ قرین ِقیاس یہی ہے کہ اس پوری تفصیل کے اختتام پر آیت زیر مطالعہ میں فرعون کے مذکورہ منصوبے کی ناکامی پر تبصرہ کیا گیا ہے کہ مومن ِآلِ فرعون کی اس تقریر کے بعد دربار کا ماحول ایسا نہ رہا کہ اس میں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ٰ کے قتل کی قرارداد پاس ہوسکتی۔ چناچہ فرعون اور اس کے درباری اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ کرسکے اور یوں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کے شر سے محفوظ رکھا۔ { وَحَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓئُ الْعَذَابِ } ” اور گھیر لیا آلِ فرعون کو بدترین عذاب نے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

61 This shows that the Believer was such an important man in the kingdom of Pharaoh that although he spoke out the truth in the face of Pharaoh, in the full-packed court, yet none could have the courage to punish him publicly. That is why, Pharaoh and his supporters had to make secret plans to kill him, but these plans also were frustrated by Allah. 62 It so appears from the style that this event of the Believer's speaking out the trnth had taken place in the last stage of the conflict between the Prophet Moses and Pharaoh. Probably being fed up and disgusted with the long drawn out conflict, Pharaoh might have at last made up his mind to kill the Prophet Moses. But he might have felt from the truthfulness of that influential person of his kingdom that the Prophet Moses' influence had even reached the higher circles of his government. Therefore, he might have decided that before taking the extreme step against Moses he should find out who among the chiefs and nobles and higher officials of the kingdom had been influenced by the movement, and should seize Moses after having punished them. But while he was still busy devising his plans, AIlah commanded the Prophet Moses and his companions to migrate, and it was while pursuing them that Pharaoh was drowned in the sea along with his hosts.

سورة الْمُؤْمِن حاشیہ نمبر :61 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص فرعون کی سلطنت میں اتنی اہم شخصیت کا مالک تھا کہ بھرے دربار میں فرعون کے رو در رو یہ حق گوئی کر جانے کے باوجود علانیہ اس کو سزا دینے کی جرأت نہ کی جا سکتی تھی ، اس وجہ سے فرعون اس کے حامیوں کو اسے ہلاک کرنے کے لیے خفیہ تدبیریں کرنی پڑیں ، مگر ان تدبیروں کو بھی اللہ نے نہ چلنے دیا ۔ سورة الْمُؤْمِن حاشیہ نمبر :62 اس طرز بیان سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ مومن آل فرعون کی حق گوئی کا یہ واقعہ حضرت موسیٰ اور فرعون کی کشمکش کے بالکل آخری زمانے میں پیش آیا تھا ۔ غالباً اس طویل کشمکش سے دل برداشتہ ہو کر آخر کار فرعون نے حضرت موسیٰ کو قتل کر دینے کا ارادہ کیا ہو گا ۔ مگر اپنی سلطنت کے اس با اثر شخص کی حق گوئی سے اس کو یہ خطرہ لاحق ہو گیا ہو گا کہ موسیٰ علیہ السلام کے اثرات حکومت کے بالائی طبقوں تک میں پہنچ گئے ہیں ۔ اس لیے اس نے فیصلہ کیا ہو گا کہ حضرت موسیٰ کے خلاف یہ انتہائی اقدام کرنے سے پہلے ان عناصر کا پتہ چلایا جائے جو سلطنت کے امراء اور اعلیٰ عہدہ داروں میں اس تحریک سے متأثر ہو چکے ہیں ، اور ان کی سرکوبی کر لینے کے بعد حضرت موسیٰ پر ہاتھ ڈالا جائے ۔ لیکن ابھی وہ ان تدبیروں میں لگا ہی ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کو ہجرت کا حکم دے دیا ، اور ان کا پیچھا کرتے ہوئے فرعون اپنے لشکروں سمیت غرقاب ہو گیا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(40:45) فوقہ : ف تعلیل کا ہے۔ یعنی اپنے جملہ امور کو اللہ کی سپردگی میں دے دینے سے فرعون کی ہرگز ند سے بچنے کا سبب بن گئی۔ چناچہ عربی میں کہتے ہیں سھا فسجد اس سے سہو ہوئی۔ پس اس نے سجدہ کیا۔ یعنی اس کی سہو سجدہ کا سبب بن گئی۔ وقی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ وقایہ مصدر باب ضرب : و ق ی مادہ۔ (لفیف مفروق) بچانا۔ حفاظت کرنا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ اس نے اس کو حفاظت میں رکھا۔ بچا لیا۔ بچائے رکھا۔ سیئات ما مکروا : سیئات جمع سیئۃ واحد۔ برائیں۔ اعمال بد۔ مضاف ۔ ما موصولہ مکروا ماضی جمع مذکر غائب ۔ مضاف الیہ۔ ان کی تدابیر مذموم کے مال بد سے۔ یعنی فرعونیوں کی ضرررساں تدبیروں کے شر سے اس کو محفوظ رکھا۔ علامہ پانی پتی (رح) فرماتے ہیں :۔ فوقہ سے پہلے چند جملے محذوف ہیں۔ پوری عبارت اس طرح تھی۔ فرعونیوں نے اس (مرد مومن) کو قتل کرنا چاہا مگر وہ بھاگ گیا۔ فرعون نے اس کو پکڑنے کے لئے اپنے آدمیوں کو بھیجا لیکن اللہ نے اسے محفوظ رکھا۔ حاق : ماضی واحد مذکر غائب۔ حیق (باب ضرب) مصدر۔ الحیوق و الحیقان (باب ضرب کے معنی کسی چیز کو گھیرے میں لے لینا۔ اور اس پر نازل ہونا کے ہیں۔ یہ باء کے ساتھ متعدی ہوتا ہے : وحاق بال فرعون : اور اس نے آل فرعون کو (یعنی فرعونیوں کو) چاروں طرف سے گھیر لیا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ولا یحیق المکر السیء الا باہلہ (35:43) اور بری چال کا وبال اس کے چلنے والے پر ہی ہوتا ہے۔ بال فرعون : میں فرعون از خود شامل ہے۔ سوء العذاب : ترکیب اضافی ہے۔ سوء اسم ہے بمعنی برائی ، آفت۔ عذاب کی برائی۔ عذاب کی شدت۔ عذاب کی سختی۔ بمعنی شدید عذاب یا سخت عذاب ۔ اسی طرح سوء الدار بمعنی برا گھر۔ جیسے قرآن مجید میں دوسری جگہ آیا ہے ولہم سوء الدار (13:25) اور ان کے لئے برا گھر ہے۔ اولئک لہم سوء الحساب (13:18) ایسے لوگوں کا حساب بھی برا ہوگا۔ یہاں سب جگہ سوء بمعنی بئس آیا ہے۔ بمعنی برا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص غیر معمولی حیثیت کا مالک تھا اور فرعونیوں کو یہ ہمت نہ ہوسکی کہ اسے علانیہ سزا دے سکیں۔ اس لئے انہوں نے خفیہ تدبیریں اختیار کیں مگر اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کی اور وہ اس کے قتل میں ناکام رہے۔ قتادۃ (رح) کہتے ہیں کہ وہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے ساتھ سمندر کے پار چلا گیا۔ ( شوکانی)4 اور سب کو سمندر میں غرق ہونا پڑا

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : مرد حق نے اپنے خطاب میں فرعون اور قوم کے سامنے وہی باتیں کیں جو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کے سامنے پیش کی تھیں۔ جن باتوں سے فرعون اور اس کی قوم کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) ڈرایا کرتے تھے وہی باتیں مرد حق نے آل فرعون کو سمجھائیں مگر وہ نہ سمجھے۔ جس کے نتیجے میں انہوں نے وہی پایا جس سے ان کو ڈرایا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کی سازشوں سے محفوظ رکھا فرعون اور آل فرعون کو بدترین عذاب میں مبتلا کیا۔ عالم برزخ میں صبح و شام انہیں آگ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور قیامت کے دن فرعون اور اس کے ساتھیوں کو حکم ہوگا کہ شدید ترین عذاب میں داخل ہوجاؤ۔ صبح و شام آگ کے سامنے پیش کرنے سے مراد ہر وقت جہنّم کی آگ میں جلنا ہے۔ عالم برزخ میں عذاب : ” سیدہ عائشہ (رض) کے پاس ایک یہودی عورت آئی اس نے قبر کے عذاب کا ذکر کیا اور کہنے لگی آپ کو اللہ عذاب قبر سے محفوظ فرمائے۔ سیدہ عائشہ (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عذاب قبر کے متعلق پوچھا آپ نے فرمایا ہاں عذاب قبر برحق ہے سیدہ عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ اس کے بعد میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی ایسی نماز پڑھتے نہیں دیکھا جس میں آپ نے عذاب قبر سے پناہ نہ مانگی ہو۔ “

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر 45 تا 50 یہاں اس دنیا کے صفحات کو لپیٹ دیا جاتا ہے اور کتاب دنیا کا آخری صفحہ جو ہم نے پڑھا یہ ہے کہ رجل مومن جس نے کلمہ حق نہایت بےباکی کے ساتھ کہا اور چلا گیا تو اسکو اللہ نے فرعون کی بری اور گہری مکاریوں سے بچالیا۔ فرعون اور اسکے حاشیہ نشین نہ اسے اس دنیا میں گزند پہنچاسکے اور نہ آخرت میں جبکہ فرعون اور اس کے تمام ساتھی ایک نہایت ہی برے عذاب میں گھر گئے۔ النار یعرضون۔۔۔۔ اشد العذاب (40: 46) ” دوزخ کی آگ ہے جس کے سامنے یہ صبح وشام پیش کیے جاتے ہیں اور جب قیامت کی گھڑی آئے گی تو حکم ہوگا کہ آل فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کرو “۔ آیت اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ صبح وشام ان کو آگ پر پیش کیا جاتا ہے۔ ان کی موت کے بعد اور قیامت سے پہلے کے زمانے میں ، یہ ہوگا عذاب قبر۔ کیونکہ اس کے بعد یہ فقرہ آتا ہے۔ ویوم تقوم۔۔۔۔ العذاب (40: 46) اور جب قیامت کی گھڑی آئے گی تو حکم ہوگا کہ آل فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کرو “۔ لہٰذا آگ پر پیش کرنے کا عذاب قیامت سے پہلے کا عذاب ہوگا اور یہ بہت ہی سخت سزا ہے کہ صبح وشام ان کو آگ پر پیش کیا جاتا ہے۔ وہ اسے دیکھتے اور سوچتے ہیں کہ یہ آگ ہے جو انہیں جلائے گی۔ اس کی حرارت تو ان کو بہرحال پہنچے گی۔ یہ بھی شدید عذاب ہے کیونکہ لفظ عرض قرآن میں چھونے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ تو معنی یہ ہوں گے کہ عملاً انہیں صبح وشام آگ میں جلایا جاتا ہے اور قیامت کے دن پھر مستقلاً شدید ترین عذاب میں داخل ہوں گے۔ لیکن اگلی آیت میں اب جو منظر ہے اس میں قیامت عملاً برپا ہے۔ ایک جھلک جہنم کی دکھائی جاتی ہے۔ جہاں وہ یوں جھگڑتے ہیں : فیقول۔۔۔۔ من الناز (40: 47) ” دنیا میں جو لوگ کمزور تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے ، ہم تمہارے تابع تھے ، اب کیا یہاں تم نار جہنم کی تکلیف کے کچھ حصے سے ہم کو بچالوگے “۔ اس وقت ضعفاء بھی متکبرین کے ساتھ جہنم میں ہوں گے۔ یہ بات ان کے لیے بھی مفید نہ ہوگی کہ وہ دوسروں کے تابع مہمل تھے اور ماتحت تھے۔ ان کے لیے یہ بات مفید نہ ہوگی کہ انہیں تو دنیا میں بھیڑ بکریوں کی طرح چلایا جارہا تھا۔ اور ان کی کوئی رائے اور کوئی ارادہ نہ تھا اور نہ اختیارات تھے۔ اللہ نے تو ان کو بہت بڑا مرتبہ دیا تھا ، انسانی کرامت اور شرافت دی تھی اور یہ شرافت دی تھی کہ ہر ایک فرد اپنے کیے کا ذمہ دار ہے۔ اور ہر فرد کو آزادی اور حریت دی تھی لیکن انہوں نے ازخود ان سب باتوں کو ترک کردیا اور ازخود انہوں نے ان بڑے اور سرکشوں کے پیچھے چلنا شروع کردیا۔ اس لیے اب یہ لوگ ان کبراء سے کیوں شکایت کرتے ہیں بلکہ وہ اس شکایت کے بارے میں سوچتے کیوں ہیں بلکہ یہ جو شکایت کرتے ہیں اسکے بارے میں انہوں نے سوچا ہی نہیں ، وہ کہتے ہیں۔ انا کنا لکم تبعا (40: 47) ” ہم تمہارے تابع تھے “۔ لیکن یہ اس لیے تو تابع نہ ہوئے تھے اور اپنی آزادی سے اس لیے تو دستکش نہ ہوئے تھے کہ اللہ کے ہاں یہ کبراء کوئی شفاعت کریں گے۔ وہ تو اس وقت آگ میں جل رہے ہیں اور یہاں تک کبراء ہی نے ان کو پہنچایا ہے ، جس طرح وہ دنیا میں ان کو چلاتے تھے۔ اس طرح جیسے بھیڑ بکریوں کو چلایا جاتا ہے لیکن پھر بھی وہ ان کبراء سے پوچھتے ہیں۔ فھل انتم مغنون عنا نصیبا من النار (40: 47) ” اب کیا یہاں تم نار جہنم کی تکلیف کے کچھ حصے سے ہم کو بچالوگے “۔ جس طرح زمین میں تمہارا دعویٰ تھا کہ ہم عوام کو سیدھے راستے کی طرف لے جاتے ہیں اور فساد سے بچاتے ہیں اور شر اور تکلیفوں اور دکھوں سے اور دشمنوں کی سازشوں سے بچاتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو دنیا میں بڑے بنے ہوئے تھے۔ وہ اس سوال کا جواب بڑی ترشی سے دیتے ہیں ، کیونکہ وہ جہنم کے عذاب میں جل رہے ہیں ، نہایت ہی تنگدلی کیساتھ ، وہ دوٹوک الفاظ میں ، جواب دیتے ہیں اور استکبار کے بعد اب اجرام کا اقرار کرتے ہیں۔ قال الذین۔۔۔۔ العباد (40: 48) ” بڑے بننے والے جواب دیں گے ، ہم سب یہاں ایک حال میں ہیں اور اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کرچکا ہے “۔ ہم سب اس میں ہیں۔ اناکل فیھآ (40: 48) ” ہم سب اس میں ہیں “۔ اب ہم سب ضعفاء ہیں۔ کوئی معاون اور کوئی مددگار نہیں ہے۔ سب رنج والم میں مبتلا ہیں ، سب کے سب دردوکرب میں ہیں۔ اس لیے تمہارا سوال احمقانہ ہے ۔ یہاں تو کبراء وضعفاء سب ہی مر رہے ہیں۔ اللہ نے فیصلہ سب کا کردیا ہے ، اس پر کوئی اپیل نہیں ہوسکتی ، اس میں کوئی تغیر وتبدل نہیں ہوسکتا۔ یہ فائنل فیصلہ ہے۔ بندوں میں سے تو کوئی اللہ کے کسی فیصلے کی سزا میں کمی نہیں کرسکتا۔ جب دونوں نے معلوم کرلیا کہ اللہ کے سوا کوئی شنوائی نہیں کرسکتا تو یہ لوگ اب جہنم کے داروغہ کی طرف جاتے ہیں ، نہایت ہی ذلت کی حالت میں ، نہایت ہی عاجزی اور بےکسی میں ، اور یہ حالت کبراء وضعفاء دونوں پر طاری ہے۔ وقال الذین۔۔۔۔۔ العذاب (40: 49) ” پھر یہ دوزخ میں پڑے ہوئے لوگ جہنم کے اہل کاروں سے کہیں گے ” اپنے رب سے دعا کرو کہ ہمارے عذاب میں پس ایک دن کی تخفیف کردے “۔ اب یہ جہنم کے اہل کاروں کی سفارش لانے کی سعی کریں گے کہ وہ ان کی دوخواست پیش کریں ، ان اہلکاروں سے امیدیں وابستہ کریں گے کیونکہ عذاب سخت ہے ، اور تم لوگ رب تعالیٰ سے صرف ایک دن کی معافی دلوا دو ۔ صرف اہل دن ۔ کہ ایک دن کے لیے تو ہم سانس لے سکیں اور ایک دن ہی تو آرام سے گزرجائے ۔ جہنم میں ایک دن بھی اس قدر اہم ہوگا کہ اس کے لیے یہ عاجزانہ التماس کررہے ہیں۔ لیکن جہنم کے اہل کار اس عاجزانہ دوخواست پر بحث ہی نہیں کرتے ۔ جو نہایت ہی ذلت اور مصیبت میں دی گئی ہے کیونکہ ان کو اللہ کے قواعد معلوم ہیں۔ ان کو سنت الہیہ کا علم ہے۔ امن کو معلوم ہے کہ ان لوگوں نے وقت گنوادیا ہے۔ لہذا وہ ان کو ملامت کرکے مزید دکھ دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اب تو سوچو کہ اس حالت زار تک کس طرح پہنچے۔ قالوآاولم۔۔۔۔۔ قالوابلٰی (40: 50) ” وہ پوچھیں گے کیا تمہارے پاس تمہارے رسول نشانیاں لے کر نہیں آتے رہے تھے۔ وہ کہیں گے ہاں “۔ جہنم کے اہل کار ان کا یہ سوال جواب ہی اس بات کے لیے کافی ہے کہ بات یہاں ختم ہوجائے ۔ اب جہنم کے اہل کار ان سے دامن جھاڑلیتے ہیں اور نہایت ہی حقارت اور استہزاء کے ساتھ ان کو اس مایوسی میں ڈوبا ہوا چھوڑ دیتے ہیں۔ قالوا فادعوا (40: 50) ” پھر تو تم دعا کرو “۔ اگر یہ دعا تمہاری اس حالت کے اندر کوئی تبدیلی پیدا کرسکتی ہے۔۔۔۔ اور آخر میں یہ تبصرہ آتا ہے : وما دعوالکٰفرین الافی ضلٰل (40: 50) ” اور کافروں کی دعا اکارت ہی جانے والی ہے “۔ وہ مقام تک نہیں پہنچ سکتی ۔ وہ نہ جگہ تک پہنچتی ہے اور نہ اس کا جواب آتا ہے۔ یوں ضعفاء اور کبراء دونوں کو ناقابل التفات حالت میں چھوڑدیا جاتا ہے۔ جہنم کے اس فیصلہ کن موقف کے بعد آخری تبصرہ یہ ہے۔ یہ تمام مخلوق کے لیے سبق ہے۔ اس سے قبل اس طرف اشارہ آیا تھا کہ جو گروہ اور پارٹیاں اللہ کے عذاب کو دعوت دیتی ہیں اور رسول کی تکذیب کرتی ہیں اور زمین میں استکبار کا رویہ اختیار کرتی ہیں ، قیامت میں تو ان اک یہ حال ہوگا ہی دنیا میں بھی بےغم نہ رہیں گے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مرد مومن کا قوم کی شرارتوں سے محفوظ ہوجانا اور قوم فرعون کا برباد ہونا یہاں تک مرد مومن کا کلام تھا آگے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے اس کی حفاظت کا اور آل فرعون کے مبتلائے عذاب ہونے کا تذکرہ فرمایا ارشاد فرمایا (فَوَقَہُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِ مَا مَکَرُوْا) (سو اللہ نے اس کو ان لوگوں کے مکر اور تدبیر کی مصیبتوں سے محفوظ فرما دیا) (وَحَاق بآلِ فِرْعَوْنَ سَؤٓءُ الْعَذَابِ ) (اور فرعون اور آل فرعون پر برا عذاب نازل ہوگیا) یہ لوگ دریا میں غرق ہوئے اور ڈوب مرے اگر (وَحَاق بآلِ فِرْعَوْنَ ) سے اسی غرق کو مراد لیا جائے تو سیاق کلام سے بعید نہیں ہے گو صاحب روح المعانی نے یہ بھی لکھا ہے کہ جب مرد مومن کو قتل کرنے کا فرعون نے منصوبہ بنایا (جس کا مومن ہونا بعد میں ظاہر ہوگیا تھا) تو وہ ایک پہاڑ کی طرف چلے گئے ان کے پیچھے فرعون نے ہزار آدمی بھیج دئیے ان آدمیوں نے انہیں نماز پڑھتے ہوئے پایا اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت فرمائی اور ان لوگوں کو درندے کھا گئے اور ان میں سے بعض پہاڑ میں پیاسے مرگئے اور بعض لوگ فرعون کے پاس واپس آگئے اس نے ان کو یہ کہہ کر قتل کردیا کہ تم قصداً اس شخص کو لے نہیں آئے واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

51:۔ ” النار یعرضون “ یہ تخویف اخروی ہے۔ اس میں عالم برزخ اور قیامت دونوں کے عذاب کا ذکر ہے۔ قوم فرعون کو ہلاکت اور غرق کے بعد عالم برزخ میں روزانہ صبح شام آگ کا عذاب دیا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ اور جب قیامت قائم ہوگی، تو حکم ہوگا کہ قوم فرعون کو اب اس پہلے سے بھی زیادہ سخت عذاب میں داخل کر دو ۔ یہ آیت عذاب قبر (عالم برزخ) کے ثبوت پر نص صریح ہے اور تمام اہل سنت و جماعت عذاب قبر کے اثبات پر متفق ہیں۔ اس آیت میں دو عذابوں کا ذکر ہے ایک ” النار یعرضون الخ “۔ دوم ” ادخلوا ال فرعون الخ “ دونوں کے درمیان ” ویم تقوم الساعۃ وارد ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ” النار یعرضون الخ “ میں جس عذاب کا ذکر کیا گیا ہے، وہ قیام قیامت سے پہلے ہے۔ اور یہ عالم برزخ کے عذاب کے سوا اور کوئی نہیں۔ وھذہ الایۃ دلیل علی عذاب القبر (مدارک) والجمہور علی ان ھذا العرض فی البرزخ، ھذہ الایۃ تدل علی عذاب القبر فی الدنیا (قرطبی ج 15 ص 319، 318) ۔ دل علی ان المراد النار یعرضون علہا غدوا وعشیا قبل القیامۃ (جصاص ج 3 ص 473) ۔ ھذہ الایۃ تدل علی عذاب القبر (جصاص ج 3 ص 473) ۔ ان ھذا العرض انما حصل بعد الموت و قبل یوم القیامۃ و ذلک یدل علی اثبات عذاب القبر الخ (کبیر ج 7 ص 330) ۔ وھذہ الایۃ اصل کبیر فی استدلال اھل السنۃ علی عذاب البرزخ فی القبور (ابن کثیر ج 4 ص 81) ۔ اور یہ عالم برزخ کا عذاب اجسام مثالیہ کی وساطت سے ارواح پر وارد ہوتا ہے چناچہ حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں آل فرعون کی روحوں کو سیاہ پرندوں کے اجواف میں داخل کر کے انہیں آگ پر پیش کیا جاتا ہے۔ ارواح ال فرعون نے فی اجواف طیور سود یعرضون علی النار الخ (معالم، قرطبی، روح) اور یہ صور مثالیہ ان کے اعمال کی اشکال سے پیدا کی جاتی ہیں۔ وھذہ الطیر صور تخلق لہم من صور اعمالہم (روح ج 24 ص 73) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(45) چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس مومن مرد کو یا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ان لوگوں کی بدی اور شرارت آمیز جالوں سے محفوظ رکھا اور فرعون والوں کو برے اور بدترین عذاب نے آگھیرا۔ یعنی یا تو حزقیل کو یا موسیٰ (علیہ السلام) کو کیونکہ کلمۃ الحق کے اعلان کے بعد فرعون حزقیل کا بھی دشمن ہوگیا ہوگا اسی لئے بعض نے حزقیل مراد لیا اور بعض نے موسیٰ کو مراد لیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے برے دائوں اور برے چالوں سے اس کو بچا لیا اور فرعونیوں کو برے عذاب نے گھیر لیا غرض وہ دریامیں ڈبودیئے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا مرنے کے بعد فرعون والوں کے ساتھ جو سلوک ہورہا ہے اس کو آگے بیان فرماتے ہیں۔