Commentary In the verses cited above, after having presented a few manifestations of Allah&s blessings and His perfect power, an invitation to belief in the Oneness of Allah has been extended. In the first verse (61), it was said: جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ لِتَسْكُنُوا فِيهِ وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا (Allah is the One who made for you the night, so that you may have rest in it, and the day to let you see.). Just imagine how great a blessing it is that all human beings, even animals, have been naturally tuned to a set time for sleep, and that this time has been, in a manner of saying, virtually switched off in perfect synchronization with the need to sleep. In fact, it was made the part of everyone&s psyche that this is the time, the time of night, that would bring a sound sleep. Otherwise, had sleep been in one&s own control and had everyone been making one&s own program to sleep at different hours, as he or she does to set a timetable for business or personal preferences, it would have left all sleepers deprived of the bliss of sleep, nor would it have been convenient for those awake to set their own hours of work right. The reason is that human needs are inter-related. Had sleeping hours been different, jobs of the awake connected with the sleeping would have gone topsy-turvy, and the jobs of the sleeping connected with the awake would have fared no better. Also, if only human beings had a set time for sleep - with wild beasts and animals sleeping at some other time - even then, the system of human engagement with work would have gone haywire.
خلاصہ تفسیر اللہ ہی ہے جس نے تمہارے (نفع کے) لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرو اور اسی نے دن کو (دیکھنے کے لئے) روشن بنایا (تا کہ بےتکلف معاش حاصل کرو) بیشک اللہ تعالیٰ کا لوگوں پر بڑا ہی فضل ہے (کہ ان کی مصلحتوں کی کیسی کیسی رعایت فرمائی) لکن اکثر آدمی (ان نعمتوں کا) شکر نہیں کرتے (بلکہ الٹا شرک کرتے ہیں) یہ اللہ ہے تمہارا رب (جس کا ذکر ہوا نہ وہ جن کو تم نے تراش رکھا ہے) وہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں سو (بعد اثبات توحید کے) تم لوگ کہاں (شرک کر کے) الٹے چلے جا رہے ہو (اور مخاطبین کی کیا تخصیص ہے جس طرح تعصب وعناد سے یہ الٹے چلے جا رہے ہیں) اسی طرح وہ (پہلے) لوگ بھی الٹے چلا کرتے تھے جو اللہ کی (تکوینی و تنزیلی) نشانیوں کا انکار کیا کرتے تھے اللہ ہی ہے جس نے زمین کو (مخلوق کا) قرار گاہ بنایا اور آسمان کو (اوپر سے مثل) چھت (کے) بنایا، اور تمہارا نقشہ بنایا، سو عمدہ نقشہ بنایا (چنانچہ انسان کے اعضاء کے برابر کسی حیوان کے اعضاء میں تناسب نہیں اور یہ مشاہد و مسلم ہے) اور تم کو عمدہ عمدہ چیزیں کھانے کو دیں (پس) یہ اللہ ہے تمہارا رب سو بڑا عالی شان ہے اللہ جو سارے جہان کا پروردگار ہے وہی (ازلی ابدی) زندہ (رہنے والا) ہے اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں سو تم (سب) خالص اعتقاد کر کے اس کو پکارا کرو (اور شرک نہ کیا کرو) تمام خوبیاں اسی اللہ کے لئے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔ آپ (ان مشرکوں کو سنانے کے لئے) کہہ دیجئے کہ مجھ کو اس سے ممانعت کردی گئی ہے کہ میں ان (شرکاء) کی عبادت کروں جن کو خدا کے علاوہ تم پکارتے ہو جبکہ میرے پاس میرے رب کی نشانیاں آچکیں (مراد دلائل عقلیہ و نقلیہ ہیں مطلب یہ کہ شرک سے مجھے ممانعت ہوئی ہے) اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ میں (صرف) رب العالمین کے سامنے (عبادت میں) گردن جھکا لوں (مطلب یہ کہ مجھ کو توحید کا حکم ہوا ہے) وہی ہے جس نے تم کو (یعنی تمہارے باپ کو) مٹی سے پیدا کیا پھر (آگے ان کی نسل کو) نطفہ سے پھر خون کے لوتھڑے سے (جیسا کہ سورة حج میں بیان ہوا ہے) پھر تم کو بچہ کر کے (ماں کے پیٹ سے) نکالتا ہے پھر (تم کو زندہ رکھتا ہے) تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچو پھر (تم کو اور زندہ رکھتا ہے) تاکہ تم بوڑھے ہوجاؤ اور کوئی کوئی تم میں سے (ان عمروں سے یعنی جوانی اور بڑھاپے سے) پہلے ہی مر جاتا ہے (یہ تو سب کا الگ الگ حال ہوا کہ کوئی جوان ہوا کوئی نہ ہوا کوئی بوڑھا ہوا کوئی نہ ہوا) اور (یہ امر آئندہ سب میں مشترک ہے کہ تم میں سے ہر اک کو ایک خاص عمر دیتا ہے) تاکہ تم سب (اپنے اپنے) وقت مقرر (مقدر) تک پہنچ جاؤ (پس یہ امر کلی ہے اور جزئیات مختلفہ سب اسی کلی کے جزئی ہیں) اور (یہ سب کچھ اس لئے کیا) تاکہ تم لوگ (ان امور میں غور کر کے خدا تعالیٰ کی توحید کو) سمجھو وہی ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے پھر جب وہ کسی کام کو (دفعتاً ) پورا کرنا چاہتا ہے سو بس اس کی نسبت (اتنا) فرما دیتا ہے کہ ہوجا سو وہ ہوجاتا ہے۔ معارف ومسائل آیت مذکورہ میں حق تعالیٰ کے انعامات اور قدرت کاملہ کے چند مظاہر پیش کر کے توحید کی دعوت دی گئی ہے۔ (آیت) جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ لِتَسْكُنُوْا فِيْهِ وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا۔ غور کیجئے کہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ قدرت نے تمام طبقات انسان بلکہ جانوروں تک کے لئے فطری طور پر نیند کا ایک وقت معین کردیا۔ اور اس وقت کو اندھیرا کر کے نیند کے لئے مناسب بنادیا۔ اور سب کی طبیعت و فطرت میں رکھ دیا کہ اسی وقت یعنی رات کو نیند آتی ہے ورنہ جس طرح انسان اپنے کاروبار کے لئے اپنی اپنی طبیعت و سہولت کے لحاظ سے اوقات مقرر کرتا ہے۔ اگر نیند بھی اسی طرح اس کے اختیار میں ہوتی۔ اور ہر انسان اپنی نیند کا پروگرام مختلف اوقات میں بنایا کرتا تو نہ سونے والوں کو نیند کی لذت و راحت ملتی، نہ جاگنے والوں کے کام کا نظم درست ہوتا۔ کیونکہ انسان کی حاجتیں باہم ایک دوسرے سے متعلق ہوتی ہیں، اگر اوقات نیند کے مختلف ہوتے تو جاگنے والوں کے وہ کام مختل ہوجاتے جو سونے والوں سے متعلق ہیں اور سونے والوں کے وہ کام خراب ہوجاتے جن کا تعلق جاگنے والوں سے ہے اور صرف انسانوں کی نیند کا وقت متعین ہوتا۔ بہائم اور حیوانات کی نیند کے اوقات دوسرے ہوتے تو بھی انسانی کاموں کا نظام مختل ہوجاتا۔