Surat ul Momin

Surah: 40

Verse: 61

سورة مومن

اَللّٰہُ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الَّیۡلَ لِتَسۡکُنُوۡا فِیۡہِ وَ النَّہَارَ مُبۡصِرًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَذُوۡ فَضۡلٍ عَلَی النَّاسِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَشۡکُرُوۡنَ ﴿۶۱﴾

It is Allah who made for you the night that you may rest therein and the day giving sight. Indeed, Allah is full of bounty to the people, but most of the people are not grateful.

اللہ تعالٰی نے تمہارے لئے رات بنا دی کہ تم اس میں آرام حاصل کرو اور دن کو دیکھنے والا بنا دیا بیشک اللہ تعالٰی لوگوں پر فضل و کرم والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر گزاری نہیں کرتے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Signs of the Power and Oneness of Allah Allah the exalted say; اللَّهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ لِتَسْكُنُوا فِيهِ وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا ... Allah, it is He Who has made the night for you that you may rest therein and the day for you to see. Allah reminds us of His grace towards His creation in that He has given them the night in which they rest and relax from their activities so that they can go back to them for their livelihood during the day. He has given them the day with its light, so that they can undertake their journeys and engage in their business. ... إِنَّ اللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَشْكُرُونَ Truly, Allah is full of bounty to mankind; yet, most of mankind give no thanks. means, they do not express gratitude for the favors which Allah bestows upon them. Then Allah says:

احسانات و انعامات کا تذکرہ ۔ اللہ تعالیٰ احسان بیان فرماتا ہے کہ اس نے رات کو سکون و راحت کی چیز بنائی ۔ اور دن کو روشن چمکیلا تاکہ ہر شخص کو اپنے کام کاج میں ، سفر میں ، طلب معاش میں سہولت ہو ۔ اور دن بھر کا کسل اور تھکان رات کے سکون و آرام سے اتر جائے ۔ مخلوق پر اللہ تعالیٰ بڑے ہی فضل و کرم کرنے والا ہے ۔ لیکن اکثر لوگ رب کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں ۔ ان چیزوں کو پیدا کرنے والا اور یہ راحت و آرام کے سامان مہیا کر دینے والا ہی اللہ واحد ہے ۔ جو تمام چیزوں کا خالق ہے ۔ اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں ، نہ اس کے سوا اور کوئی مخلوق کی پرورش کرنے والا ہے ۔ پھر تم کیوں اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو؟ جو خود مخلوق ہیں ۔ کسی چیز کو انہوں نے پیدا نہیں کیا ۔ بلکہ جن بتوں کی تم پرستش کر رہے ہو وہ تو خود تمہارے اپنے ہاتھوں کے گھڑے ہوئے ہیں ، ان سے پہلے کے مشرکین بھی اسی طرح بہکے اور بےدلیل و حجت غیر اللہ کی عبادت کرنے لگے ۔ خواہش نفسانی کو سامنے رکھ کر اللہ کے دلائل کی تکذیب کی ۔ اور جہالت کو آگے رکھ کر بہکتے بھٹکتے رہے اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارے لئے قرار گاہ بنایا ۔ یعنی ٹھہری ہوئی اور فرش کی طرح بچھی ہوئی کہ اس پر تم اپنی زندگی گزارو چلو پھر آؤ جاؤ ۔ پہاڑوں کو اس پر گاڑ کر اسے ٹھہرا دیا کہ اب ہل جل نہیں سکتی ۔ اس نے آسمان کو چھت بنایا جو ہر طرح محفوظ ہے ۔ اسی نے تمہیں بہترین صورتوں میں پیدا کیا ۔ ہر جوڑ ٹھیک ٹھاک اور نظر فریب بنایا ۔ موزوں قامت مناسب اعضا سڈول بدن خوبصورت چہرہ عطا فرمایا ۔ نفیس اور بہتر چیزیں کھانے پینے کو دیں ۔ پیدا کیا ، بسایا ، اس نے کھلایا پلایا ، اس نے پہنایا اوڑھایا ۔ پس صحیح معنی میں خالق و رازق وہی رب العالمین ہے ۔ جیسے سورہ بقرہ میں فرمایا ۔ ۔ الخ ، یعنی لوگو اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے اگلو کو پیدا کیا تاکہ تم بچو ۔ اسی نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے بارش نازل فرما کر اس کی وجہ سے زمین سے پھل نکال کر تمہیں روزیاں دیں پس تم ان باتوں کے جاننے کے باوجود اللہ کے شریک اوروں کو نہ بناؤ ۔ یہاں بھی اپنی یہ صفتیں بیان فرما کر ارشاد فرمایا کہ یہی اللہ تمہارا رب ہے ۔ اور سارے جہان کا رب بھی وہی ہے ۔ وہ بابرکت ہے ۔ وہ بلندی پاکیزگی برتری اور بزرگی والا ہے ، وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا ۔ وہ زندہ ہے جس پر کبھی موت نہیں ۔ وہی اول و آخر ظاہر و باطن ہے ۔ اس کا کوئی وصف کسی دوسرے میں نہیں ۔ اس کا نظیر یا برابر کوئی نہیں ۔ تمہیں چاہئے کہ اس کی توحید کو مانتے ہوئے اس سے دعائیں کرتے رہو ، اور اس کی عبادت میں مشغول رہو ۔ تمام تر تعریفوں کا مالک اللہ رب العالمین ہی ہے ۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں اہل علم کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ لا الہ الا اللہ پڑھنے والے کو ساتھ ہی الحمد للہ رب العالمین بھی پڑھنا چاہئے تاکہ اس آیت پر عمل ہو جائے ۔ ابن عباس سے بھی یہ مرودی ہے حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہی جب تک فادعو اللہ مخلصین لہ الدین پڑھے تو لا الہ الا اللہ کہہ لیا کر اور اس کے ساتھ ہی الحمد للہ رب العالمین پڑھ لیا کر ۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ہر نماز کے سلام کے بعد ( لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک والہ الحمد وھو علی کل شی قدیر ) پڑھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کلمات کو ہر نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے ۔ ( مسلم ابو داؤد ، نسائی )

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

61۔ 1 یعنی رات کو تاریک بنایا، تاکہ کاروبار زندگی معطل ہوجائیں اور لوگ امن اور سکون سے سو سکیں۔ 61۔ 2 یعنی روشن بنایا تاکہ معاشی محنت اور تگ و دو میں تکلیف نہ ہو۔ 61۔ 2 اللہ کی نعمتوں کا اور نہ ان کا اعتراف ہی کرتے ہیں یا تو کفر وجحود کی وجہ سے جیسا کہ کافروں کا شیوہ ہے یا منعم کے واجبات شکر سے اہمام و غفلت کی وجہ سے جیسا کہ جاہلوں کا شعار ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٠] ہر جاندار میں کام اور آرام کا خود کار نظام :۔ رات کو نہ سورج کی گرمی ستاتی ہے اور نہ ہی سورج جیسی تیز روشنی ہوتی ہے۔ تاریکی اور مناسب حد تک ٹھنڈک یہ دونوں باتیں نیند اور آرام کرنے کے لئے ساز گار ہیں۔ اور دن کو کام کاج کے لئے روشن بنایا کہ اس میں کسی مصنوعی روشنی کے بغیر ہی کام چل سکتا ہے۔ رات اور دن کو اللہ تعالیٰ نے دلیل توحید کے طور پر پیش فرمایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دن اور رات سورج کے اور زمین کے درمیان ایک انتہائی باقاعدہ نظام کی نشان دہی کرتے ہیں۔ جس سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ سورج اور اس زمین کا خالق، مالک اور ان پر کنٹرول کرنے والی ہستی ایک ہی ہوسکتی ہے۔ اگر ان سیاروں کے مالک الگ الگ دیوتا ہوتے جیسا کہ مشرکوں کا خیال ہے تو یہ دن رات کا نظام کبھی باقاعدگی کے ساتھ چل نہیں سکتا تھا۔ پھر اسی رات اور دن کے نظام میں اور رات کو آرام کرنے اور دن کو کام کرنے میں اللہ تعالیٰ کے حیران کن عجائبات ہیں۔ دن کو کام کرتے وقت انسان کے بیشمار خلیے ضائع اور تباہ ہوتے رہتے ہیں۔ رات کو جب انسان آرام کرتا ہے تو نیند کی حالت میں ان ضائع شدہ خلیوں کی جگہ دوسرے نئے خلیے پیدا ہوجاتے ہیں۔ اور جب یہ کام ٹھیک طور پر مکمل ہوچکتا ہے تو انسان جاگ اٹھتا ہے۔ گویا اس کا آرام کا وقت پورا ہوگیا۔ پھر وہ نئے سرے سے تازہ دم ہو کر صبح کو پھر سے کام کاج کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا یہ نظام خود کار ہے۔ اگر انسان کام کرنے کے بعد آرام نہ کرے تو نیند اسے جہاں بھی ہو دبا لیتی ہے اور اسے اضطراراً آرام کرنا پڑتا ہے۔ اگر پھر بھی انسان اپنے اس فطری تقاضے کو پورا نہ کرے یا پورا کرنے میں کوتاہی کرے تو انسان کی صحت تباہ ہوجاتی ہے۔ [٨١] یعنی اللہ تعالیٰ کی تو انسان پر اس قدر عنایات ہیں۔ مگر انسان ایسا ناشکرا اور نمک حرام واقع ہوا ہے کہ اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے اس کے شریک ٹھہرانے لگتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

1 ۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا بیان کرتے ہوئے توحید اور آخرت دونوں مضامین ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ ٢۔ والنھار مبصرا۔ اس جملے میں احتباک ہے، یعنی دو جملوں کا ایک ایک حصہ دوسرے جملے کے قرینے کی وجہ سے حذف کردیا ہے، جو کلام کے کمال جامعیت اور بلاغت کا آئینہ دار ہے، مفصل عبارت یوں تھی۔ اللہ الذی جعل لکم اللیل مظلما لتسکنوا فیہ والنھار مبصرا لتعملوا فیہ،۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے رات کو تاریک بنادیا، تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن کو روشن بنایا، تاکہ تم اس میں کام کرو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ نعمت متعدد مقامات پر مختلف طریقوں سے یاد کروائی ہے۔ دیکھئے سورة یونس 67، فرقان 47 بنی اسرائیل 12 قصص 71 تا 73 اور لقمان 29 ۔ 3 ۔ ان اللہ لذو فضل علی الناس : لذو فضل پر تنوین تعطیم کے لیے ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو جو کچھ عطا فرمایا ہے (زمین و آسمان، رات دن، سورج، چاند اور خود ان کا وجود وغیرہ) وہ ان کا اللہ پر کوئی حق یا قرض نہیں بلکہ محض اس کا فضل ہے اور فضل بھی بہت بڑا کہ اس نے انہیں ضرورت کی ہر چیز بخشی، فرمایا : واتاکم من کل ما سالتموہ۔ وان تعدوا نعمت اللہ لا تحصوھا (ابراہیم : 34) اور تمہیں ہر اس چیز میں سے دیا جو تم نے اس سے مانگی اور اگر تم اللہ کی نعمت شمار کرو تو اسے شمار نہ پاؤگے۔ پھر انہیں عقل وتمیز عطا فرما کر مہلت بخش اور نافرمانیوں کے باوجود فورا گرفت نہیں فرمائی۔ مومن و کافر سب کو نعمتوں سے نوازتا ہے۔ یہ سب اس اکیلے کی پیدا کردہ اور عطا کردہ نعمتیں۔ 4 ۔ ولکن اکثر الناس لا یشکرون : جب اس اکیلے نے رات دن کا یہ سلسلہ قائم کیا ہے اور یہ تمام نعمتیں عطا فرمائی ہیں، کسی اور کا ان میں ذرہ برابر دخل نہیں، تو حق تو یہ تھا کہ اس کا شکر ادا کرتے، صرف اسی کو اپنا رب مانتے، اسی سے دعا کرتے اور اس کی آیات اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے، مگر ایسے لوگ بہت کم نکلے۔ اکثر لوگ ان نعمتوں کی قد نہیں کرتے، بلکہ مالک کے ساتھ شریک بنا کر اس کی ناشکری اور غداری کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہر روز انہیں نیند اور بیداری کی صورت میں موت کے بعد زندگی کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ حق یہ تھا کہ اس روزانہ کے موت و حیات کے مشاہدے کے بعد قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے تمام مخلوق کو زندہ کرنے کی قدرت پر ایمان رکھتے اور اس دن کے لئے تیاری کرتے، مگر انہوں نے اللہ کی نعمتوں کا شکر نہیں کیا، بلکہ ناشکری کی اور قیامت کے انکار پر جمے رہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary In the verses cited above, after having presented a few manifestations of Allah&s blessings and His perfect power, an invitation to belief in the Oneness of Allah has been extended. In the first verse (61), it was said: جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ لِتَسْكُنُوا فِيهِ وَالنَّهَارَ‌ مُبْصِرً‌ا (Allah is the One who made for you the night, so that you may have rest in it, and the day to let you see.). Just imagine how great a blessing it is that all human beings, even animals, have been naturally tuned to a set time for sleep, and that this time has been, in a manner of saying, virtually switched off in perfect synchronization with the need to sleep. In fact, it was made the part of everyone&s psyche that this is the time, the time of night, that would bring a sound sleep. Otherwise, had sleep been in one&s own control and had everyone been making one&s own program to sleep at different hours, as he or she does to set a timetable for business or personal preferences, it would have left all sleepers deprived of the bliss of sleep, nor would it have been convenient for those awake to set their own hours of work right. The reason is that human needs are inter-related. Had sleeping hours been different, jobs of the awake connected with the sleeping would have gone topsy-turvy, and the jobs of the sleeping connected with the awake would have fared no better. Also, if only human beings had a set time for sleep - with wild beasts and animals sleeping at some other time - even then, the system of human engagement with work would have gone haywire.

خلاصہ تفسیر اللہ ہی ہے جس نے تمہارے (نفع کے) لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرو اور اسی نے دن کو (دیکھنے کے لئے) روشن بنایا (تا کہ بےتکلف معاش حاصل کرو) بیشک اللہ تعالیٰ کا لوگوں پر بڑا ہی فضل ہے (کہ ان کی مصلحتوں کی کیسی کیسی رعایت فرمائی) لکن اکثر آدمی (ان نعمتوں کا) شکر نہیں کرتے (بلکہ الٹا شرک کرتے ہیں) یہ اللہ ہے تمہارا رب (جس کا ذکر ہوا نہ وہ جن کو تم نے تراش رکھا ہے) وہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں سو (بعد اثبات توحید کے) تم لوگ کہاں (شرک کر کے) الٹے چلے جا رہے ہو (اور مخاطبین کی کیا تخصیص ہے جس طرح تعصب وعناد سے یہ الٹے چلے جا رہے ہیں) اسی طرح وہ (پہلے) لوگ بھی الٹے چلا کرتے تھے جو اللہ کی (تکوینی و تنزیلی) نشانیوں کا انکار کیا کرتے تھے اللہ ہی ہے جس نے زمین کو (مخلوق کا) قرار گاہ بنایا اور آسمان کو (اوپر سے مثل) چھت (کے) بنایا، اور تمہارا نقشہ بنایا، سو عمدہ نقشہ بنایا (چنانچہ انسان کے اعضاء کے برابر کسی حیوان کے اعضاء میں تناسب نہیں اور یہ مشاہد و مسلم ہے) اور تم کو عمدہ عمدہ چیزیں کھانے کو دیں (پس) یہ اللہ ہے تمہارا رب سو بڑا عالی شان ہے اللہ جو سارے جہان کا پروردگار ہے وہی (ازلی ابدی) زندہ (رہنے والا) ہے اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں سو تم (سب) خالص اعتقاد کر کے اس کو پکارا کرو (اور شرک نہ کیا کرو) تمام خوبیاں اسی اللہ کے لئے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔ آپ (ان مشرکوں کو سنانے کے لئے) کہہ دیجئے کہ مجھ کو اس سے ممانعت کردی گئی ہے کہ میں ان (شرکاء) کی عبادت کروں جن کو خدا کے علاوہ تم پکارتے ہو جبکہ میرے پاس میرے رب کی نشانیاں آچکیں (مراد دلائل عقلیہ و نقلیہ ہیں مطلب یہ کہ شرک سے مجھے ممانعت ہوئی ہے) اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ میں (صرف) رب العالمین کے سامنے (عبادت میں) گردن جھکا لوں (مطلب یہ کہ مجھ کو توحید کا حکم ہوا ہے) وہی ہے جس نے تم کو (یعنی تمہارے باپ کو) مٹی سے پیدا کیا پھر (آگے ان کی نسل کو) نطفہ سے پھر خون کے لوتھڑے سے (جیسا کہ سورة حج میں بیان ہوا ہے) پھر تم کو بچہ کر کے (ماں کے پیٹ سے) نکالتا ہے پھر (تم کو زندہ رکھتا ہے) تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچو پھر (تم کو اور زندہ رکھتا ہے) تاکہ تم بوڑھے ہوجاؤ اور کوئی کوئی تم میں سے (ان عمروں سے یعنی جوانی اور بڑھاپے سے) پہلے ہی مر جاتا ہے (یہ تو سب کا الگ الگ حال ہوا کہ کوئی جوان ہوا کوئی نہ ہوا کوئی بوڑھا ہوا کوئی نہ ہوا) اور (یہ امر آئندہ سب میں مشترک ہے کہ تم میں سے ہر اک کو ایک خاص عمر دیتا ہے) تاکہ تم سب (اپنے اپنے) وقت مقرر (مقدر) تک پہنچ جاؤ (پس یہ امر کلی ہے اور جزئیات مختلفہ سب اسی کلی کے جزئی ہیں) اور (یہ سب کچھ اس لئے کیا) تاکہ تم لوگ (ان امور میں غور کر کے خدا تعالیٰ کی توحید کو) سمجھو وہی ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے پھر جب وہ کسی کام کو (دفعتاً ) پورا کرنا چاہتا ہے سو بس اس کی نسبت (اتنا) فرما دیتا ہے کہ ہوجا سو وہ ہوجاتا ہے۔ معارف ومسائل آیت مذکورہ میں حق تعالیٰ کے انعامات اور قدرت کاملہ کے چند مظاہر پیش کر کے توحید کی دعوت دی گئی ہے۔ (آیت) جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ لِتَسْكُنُوْا فِيْهِ وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا۔ غور کیجئے کہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ قدرت نے تمام طبقات انسان بلکہ جانوروں تک کے لئے فطری طور پر نیند کا ایک وقت معین کردیا۔ اور اس وقت کو اندھیرا کر کے نیند کے لئے مناسب بنادیا۔ اور سب کی طبیعت و فطرت میں رکھ دیا کہ اسی وقت یعنی رات کو نیند آتی ہے ورنہ جس طرح انسان اپنے کاروبار کے لئے اپنی اپنی طبیعت و سہولت کے لحاظ سے اوقات مقرر کرتا ہے۔ اگر نیند بھی اسی طرح اس کے اختیار میں ہوتی۔ اور ہر انسان اپنی نیند کا پروگرام مختلف اوقات میں بنایا کرتا تو نہ سونے والوں کو نیند کی لذت و راحت ملتی، نہ جاگنے والوں کے کام کا نظم درست ہوتا۔ کیونکہ انسان کی حاجتیں باہم ایک دوسرے سے متعلق ہوتی ہیں، اگر اوقات نیند کے مختلف ہوتے تو جاگنے والوں کے وہ کام مختل ہوجاتے جو سونے والوں سے متعلق ہیں اور سونے والوں کے وہ کام خراب ہوجاتے جن کا تعلق جاگنے والوں سے ہے اور صرف انسانوں کی نیند کا وقت متعین ہوتا۔ بہائم اور حیوانات کی نیند کے اوقات دوسرے ہوتے تو بھی انسانی کاموں کا نظام مختل ہوجاتا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَللہُ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ لِتَسْكُنُوْا فِيْہِ وَالنَّہَارَ مُبْصِرًا۝ ٠ ۭ اِنَّ اللہَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَي النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُوْنَ۝ ٦١ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة «3» لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود «4» . وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله» وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها «2» ، وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] وقرئ : ( وإلاهتك) أي : عبادتک . ولاه أنت، أي : لله، وحذف إحدی اللامین .«اللهم» قيل : معناه : يا الله، فأبدل من الیاء في أوله المیمان في آخره وخصّ بدعاء الله، وقیل : تقدیره : يا اللہ أمّنا بخیر «5» ، مركّب تركيب حيّهلا . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ الہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو ۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ ایک قراءت میں والاھتک ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں الاہ انت ۔ یہ اصل میں للہ انت ہے ایک لام کو تخفیف کے لئے خذف کردیا گیا ہے ۔ اللھم بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی یا اللہ کے ہیں اور اس میں میم مشدد یا ( حرف ندا کے عوض میں آیا ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ اصل میں یا اللہ امنا بخیر ( اے اللہ تو خیر کے ساری ہماری طرف توجہ فرما) ہے ( کثرت استعمال کی بنا پر ) ۔۔۔ حیھلا کی طرح مرکب کرکے اللھم بنا لیا گیا ہے ۔ ( جیسے ھلم ) جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل ( ف ) یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/ 1] ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل ( کرنا شروع ) وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] اور رات اور دن کو تمہاری خاطر کام میں لگا دیا ۔ سكن السُّكُونُ : ثبوت الشیء بعد تحرّك، ويستعمل في الاستیطان نحو : سَكَنَ فلان مکان کذا، أي : استوطنه، واسم المکان مَسْكَنُ ، والجمع مَسَاكِنُ ، قال تعالی: لا يُرى إِلَّا مَساكِنُهُمْ [ الأحقاف/ 25] ، ( س ک ن ) السکون ( ن ) حرکت کے بعد ٹھہر جانے کو سکون کہتے ہیں اور کسی جگہ رہائش اختیار کرلینے پر بھی یہ لفط بولا جاتا ہے اور سکن فلان مکان کذا کے معنی ہیں اس نے فلاں جگہ رہائش اختیار کرلی ۔ اسی اعتبار سے جائے رہائش کو مسکن کہا جاتا ہے اس کی جمع مساکن آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : لا يُرى إِلَّا مَساكِنُهُمْ [ الأحقاف/ 25] کہ ان کے گھروں کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا تھا ۔ نهار والنهارُ : الوقت الذي ينتشر فيه الضّوء، وهو في الشرع : ما بين طلوع الفجر إلى وقت غروب الشمس، وفي الأصل ما بين طلوع الشمس إلى غروبها . قال تعالی: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] ( ن ھ ر ) النھر النھار ( ن ) شرعا طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب کے وقت گو نھار کہاجاتا ہے ۔ لیکن لغوی لحاظ سے اس کی حد طلوع شمس سے لیکر غروب آفتاب تک ہے ۔ قرآن میں ہے : وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بیانا ۔ ( بصر) مبصرۃ بَاصِرَة عبارة عن الجارحة الناظرة، يقال : رأيته لمحا باصرا، أي : نظرا بتحدیق، قال عزّ وجل : فَلَمَّا جاءَتْهُمْ آياتُنا مُبْصِرَةً [ النمل/ 13] ، وَجَعَلْنا آيَةَ النَّهارِ مُبْصِرَةً [ الإسراء/ 12] أي : مضيئة للأبصار وکذلک قوله عزّ وجلّ : وَآتَيْنا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً [ الإسراء/ 59] ، وقیل : معناه صار أهله بصراء نحو قولهم : رجل مخبث ومضعف، أي : أهله خبثاء وضعفاء، وَلَقَدْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ مِنْ بَعْدِ ما أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الْأُولی بَصائِرَ لِلنَّاسِ [ القصص/ 43] أي : جعلناها عبرة لهم، وقوله عزّ وجل : وَكانُوا مُسْتَبْصِرِينَ [ العنکبوت/ 38] أي : طالبین للبصیرة . ويصحّ أن يستعار الاسْتِبْصَار للإِبْصَار، نحو استعارة الاستجابة للإجابة، وقوله عزّوجلّ : وَأَنْبَتْنا فِيها مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ تَبْصِرَةً [ ق/ 7- 8] أي : تبصیرا وتبیانا . الباصرۃ کے معنی ظاہری آنکھ کے ہیں ۔ محاورہ ہے رائتہ لمحا باصرا میں نے اسے عیال طور پر دیکھا ۔ المبصرۃ روشن اور واضح دلیل ۔ قرآن میں ہے :۔ فَلَمَّا جاءَتْهُمْ آياتُنا مُبْصِرَةً [ النمل/ 13] جن ان کے پاس ہماری روشن نشانیاں پہنچیں یعنی ہم نے دن کی نشانیاں کو قطروں کی روشنی دینے والی بنایا ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ وَآتَيْنا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً [ الإسراء/ 59] اور ہم نے ثمود کی اونٹنی ( نبوت صالح) کی کھل نشانی دی میں مبصرۃ اسی معنی پر محمول ہے بعض نے کہا ہے کہ یہاں مبصرۃ کے معنی ہیں کہ ایسی نشانی جس سے ان کی آنکھ کھل گئی ۔ جیسا کہ رجل مخبث و مصعف اس آدمی کو کہتے ہیں جس کے اہل اور قریبی شت دار خبیث اور ضعیب ہوں اور آیت کریمہ ؛۔ وَلَقَدْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ مِنْ بَعْدِ ما أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الْأُولی بَصائِرَ لِلنَّاسِ [ القصص/ 43] میں بصائر بصیرۃ کی جمع ہے جس کے معنی عبرت کے ہیں یعنی ہم نے پہلی قوموں کی ہلاکت کو ان کے لئے تازہ یا عبرت بنادیا آیت کریمہ ؛۔ وَأَبْصِرْ فَسَوْفَ يُبْصِرُونَ [ الصافات/ 179] حالانکہ وہ دیکھنے والے تھے میں مستبصرین کے معنی طالب بصیرت کے ہیں ۔ اور یہ بھی ہوسکتہ ہے کہ بطور استعارہ استبصار ( استفعال ) بمعنی ابصار ( افعال ) ہو جیسا کہ استجابہ بمعنی اجابۃ کے آجاتا ہے اور آیت کریمہ ؛ وَكانُوا مُسْتَبْصِرِينَ [ العنکبوت/ 38] ذو ذو علی وجهين : أحدهما : يتوصّل به إلى الوصف بأسماء الأجناس والأنواع، ويضاف إلى الظاهر دون المضمر، ويثنّى ويجمع، ويقال في المؤنّث : ذات، وفي التثنية : ذواتا، وفي الجمع : ذوات، ولا يستعمل شيء منها إلّا مضافا، قال : وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] ، وقال : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى [ النجم/ 6] ، وَذِي الْقُرْبى [ البقرة/ 83] ، وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ [هود/ 3] ، ذَوِي الْقُرْبى وَالْيَتامی [ البقرة/ 177] ، إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ [ الأنفال/ 43] ، وَنُقَلِّبُهُمْ ذاتَ الْيَمِينِ وَذاتَ الشِّمالِ [ الكهف/ 18] ، وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ [ الأنفال/ 7] ، وقال : ذَواتا أَفْنانٍ [ الرحمن/ 48] ، وقد استعار أصحاب المعاني الذّات، فجعلوها عبارة عن عين الشیء، جو هرا کان أو عرضا، واستعملوها مفردة ومضافة إلى المضمر بالألف واللام، وأجروها مجری النّفس والخاصّة، فقالوا : ذاته، ونفسه وخاصّته، ولیس ذلک من کلام العرب . والثاني في لفظ ذو : لغة لطيّئ، يستعملونه استعمال الذي، ويجعل في الرفع، والنصب والجرّ ، والجمع، والتأنيث علی لفظ واحد نحو : وبئري ذو حفرت وذو طویت ( ذ و ) ذو ( والا ۔ صاحب ) یہ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ( 1) اول یہ کہ اسماء اجناس وانوع کے ساتھ توصیف کے لئے اسے ذریعہ بنایا جاتا ہے ۔ اس صورت میں اسم ضمیر کیطرف مضاف نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ اسم ظاہر کی طرف مضاف ہوتا ہے اور اس کا تنثیہ جمع بھی آتا ہے ۔ اور مونث کے لئے ذات کا صیغہ استعمال ہوتا ہے اس کا تثنیہ ذواتا اور جمع ذوات آتی ہے ۔ اور یہ تمام الفاظ مضاف ہوکر استعمال ہوتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] لیکن خدا اہل عالم پر بڑا مہرابان ہے ۔ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى [ النجم/ 6] ( یعنی جبرئیل ) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے ۔ وَذِي الْقُرْبى [ البقرة/ 83] اور رشتہ داروں ۔ وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ [هود/ 3] اور ہر ساحب فضل کو اسکی بزرگی ( کی داو ) دیگا ۔ ذَوِي الْقُرْبى وَالْيَتامی [ البقرة/ 177] رشتہ داروں اور یتیموں ۔ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ [ الأنفال/ 43] تو دلوں تک کی باتوں سے آگاہ ہے ۔ وَنُقَلِّبُهُمْ ذاتَ الْيَمِينِ وَذاتَ الشِّمالِ [ الكهف/ 18] اور ہم ان کو دائیں اور بائیں کروٹ بدلاتے ہیں ۔ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ [ الأنفال/ 7] اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بےشان و شوکت ( یعنی بےہتھیار ) ہے وہ تمہارے ہاتھ آجائے ۔ ذَواتا أَفْنانٍ [ الرحمن/ 48] ان دونوں میں بہت سے شاخیں یعنی قسم قسم کے میووں کے درخت ہیں ۔ علمائے معانی ( منطق وفلسفہ ) ذات کے لفظ کو بطور استعارہ عین شے کے معنی میں استعمال کرتے ہیں اور یہ جو ہر اور عرض دونوں پر بولاجاتا ہے اور پھر کبھی یہ مفرد یعنی بدون اضافت کت استعمال ہوتا ہے ۔ اور کبھی اسم ضمیر کی طرف مضاف ہو کر اور کبھی معرف بلالم ہوکر ۔ اور یہ لفظ بمنزلہ نفس اور خاصہ کے بولا جاتا ہے ۔ اور نفسہ وخاصتہ کی طرح ذاتہ بھی کہاجاتا ہے ۔ مگر یہ عربی زبان کے محاورات سے نہیں ہے ( 2 ) دوم بنی طیی ذوبمعنی الذی استعمال کرتے ہیں اور یہ رفعی نصبی جری جمع اور تانیث کی صورت میں ایک ہی حالت پر رہتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ع ( الوافر ) یعنی کنواں جسے میں نے کھودا اور صاف کیا ہے ۔ فضل الفَضْلُ : الزّيادة عن الاقتصاد، وذلک ضربان : محمود : کفضل العلم والحلم، و مذموم : کفضل الغضب علی ما يجب أن يكون عليه . والفَضْلُ في المحمود أكثر استعمالا، والفُضُولُ في المذموم، والفَضْلُ إذا استعمل لزیادة أحد الشّيئين علی الآخر فعلی ثلاثة أضرب : فضل من حيث الجنس، کفضل جنس الحیوان علی جنس النّبات . وفضل من حيث النّوع، کفضل الإنسان علی غيره من الحیوان، وعلی هذا النحو قوله : وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] ، إلى قوله : تَفْضِيلًا وفضل من حيث الذّات، کفضل رجل علی آخر . فالأوّلان جوهريّان لا سبیل للناقص فيهما أن يزيل نقصه وأن يستفید الفضل، کالفرس والحمار لا يمكنهما أن يکتسبا الفضیلة التي خصّ بها الإنسان، والفضل الثالث قد يكون عرضيّا فيوجد السّبيل علی اکتسابه، ومن هذا النّوع التّفضیل المذکور في قوله : وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] ، لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] ، يعني : المال وما يکتسب، ( ف ض ل ) الفضل کے منعی کسی چیز کے اقتضا ( متوسط درجہ سے زیادہ ہونا کے ہیں اور یہ دو قسم پر ہے محمود جیسے علم وحلم وغیرہ کی زیادتی مذموم جیسے غصہ کا حد سے بڑھ جانا لیکن عام طور الفضل اچھی باتوں پر بولا جاتا ہے اور الفضول بری باتوں میں اور جب فضل کے منعی ایک چیز کے دوسری پر زیادتی کے ہوتے ہیں تو اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں ( ۔ ) بر تری بلحاظ جنس کے جیسے جنس حیوان کا جنس نباتات سے افضل ہونا ۔ ( 2 ) بر تری بلحاظ نوع کے جیسے نوع انسان کا دوسرے حیوانات سے بر تر ہونا جیسے فرمایا : ۔ وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت دی ۔ ( 3 ) فضیلت بلحاظ ذات مثلا ایک شخص کا دوسرے شخص سے بر تر ہونا اول الذکر دونوں قسم کی فضیلت بلحاظ جو ہر ہوتی ہے ۔ جن میں ادنیٰ ترقی کر کے اپنے سے اعلٰی کے درجہ کو حاصل نہیں کرسکتا مثلا گھوڑا اور گدھا کہ یہ دونوں انسان کا درجہ حاصل نہیں کرسکتے ۔ البتہ تیسری قسم کی فضیلت من حیث الذات چونکہ کبھی عارضی ہوتی ہے اس لئے اس کا اکتساب عین ممکن ہے چناچہ آیات کریمہ : ۔ وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] اور خدا نے رزق ( دولت ) میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ۔ لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل ( یعنی روزی تلاش کرو ۔ میں یہی تیسری قسم کی فضیلت مراد ہے جسے محنت اور سعی سے حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ كثر الْكِثْرَةَ والقلّة يستعملان في الكمّيّة المنفصلة كالأعداد قال تعالی: وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] ( ک ث ر ) کثرت اور قلت کمیت منفصل یعنی اعداد میں استعمال ہوتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] اس سے ان میں سے اکثر کی سر کشی اور کفر اور بڑ ھیگا ۔ شكر الشُّكْرُ : تصوّر النّعمة وإظهارها، قيل : وهو مقلوب عن الکشر، أي : الکشف، ويضادّه الکفر، وهو : نسیان النّعمة وسترها، ودابّة شکور : مظهرة بسمنها إسداء صاحبها إليها، وقیل : أصله من عين شكرى، أي : ممتلئة، فَالشُّكْرُ علی هذا هو الامتلاء من ذکر المنعم عليه . والشُّكْرُ ثلاثة أضرب : شُكْرُ القلب، وهو تصوّر النّعمة . وشُكْرُ اللّسان، وهو الثّناء علی المنعم . وشُكْرُ سائر الجوارح، وهو مکافأة النّعمة بقدر استحقاقه . وقوله تعالی: اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] ، ( ش ک ر ) الشکر کے معنی کسی نعمت کا تصور اور اس کے اظہار کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ کشر سے مقلوب ہے جس کے معنی کشف یعنی کھولنا کے ہیں ۔ شکر کی ضد کفر ہے ۔ جس کے معنی نعمت کو بھلا دینے اور اسے چھپا رکھنے کے ہیں اور دابۃ شکور اس چوپائے کو کہتے ہیں جو اپنی فربہی سے یہ ظاہر کر رہا ہو کہ اس کے مالک نے اس کی خوب پرورش اور حفاظت کی ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ عین شکریٰ سے ماخوذ ہے جس کے معنی آنسووں سے بھرپور آنکھ کے ہیں اس لحاظ سے شکر کے معنی ہوں گے منعم کے ذکر سے بھرجانا ۔ شکر تین قسم پر ہے شکر قلبی یعنی نعمت کا تصور کرنا شکر لسانی یعنی زبان سے منعم کی تعریف کرنا شکر بالجوارح یعنی بقدر استحقاق نعمت کی مکانات کرنا ۔ اور آیت کریمہ : اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] اسے داود کی آل میرا شکر کرو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے فائدہ کے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن کو ذریعہ معاش تلاش کرنے کے لیے روشن بنایا اور اللہ تعالیٰ خصوصا مکہ والوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے مگر مکہ والے اس چیز کا شکر نہیں ادا کرتے اور نہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦١ { اَللّٰہُ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الَّیْلَ لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ وَالنَّہَارَ مُبْصِرًا } ” اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی ہے تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو اور دن بنا دیا ہے دیکھنے کے لیے۔ “ اس نے رات کو تاریک بنایا ہے تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن کو روشن بنایا ہے تاکہ تم اس میں کام کرو۔ { اِنَّ اللّٰہَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْکُرُوْنَ } ” یقینا اللہ تو اپنے بندوں پر بہت فضل والا ہے ‘ لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

85 This verse comprises two important themes: First, the night and the day have been presented in it as an argument for Tauhid, because their alternating regularly means that One God alone is ruling over the earth and the sun, and their alternation's being beneficial for man and other earthly creatures is an express proof of the fact that the same One God is also the Creator of all these things and has devised this system with such great wisdom that it should be beneficial and useful for all His creatures. Secondly, in this verse the atheists and the polytheists have been to realize how great a blessing has Alllah bestowed on them in the shape of the night and the day and what ungrateful wretches they are that while they are benefiting from this blessing of His they are being disloyal and rebellious to Him day and night (For father explanation see Yunus 87,Alfurqan 62, E.N.'s thereof).

سورة الْمُؤْمِن حاشیہ نمبر :85 یہ آیت دو اہم مضامین پر مشتمل ہے ۔ اوّلاً اس میں رات اور دن کو دلیل توحید کے طور پر پیش کیا گیا ہے ، کیونکہ ان کا باقاعدگی کے ساتھ آنا یہ معنی رکھتا ہے کہ زمین اور سورج پر ایک ہی خدا حکومت کر رہا ہے ، اور ان کے الٹ پھیر کا انسان اور دوسری مخلوقات ارضی کے لیے نافع ہونا اس بات کی صریح دلیل ہے کہ وہی ایک خدا ان سب اشیاء کا خالق بھی ہے اور اس نے یہ نظام کمال درجہ حکمت کے ساتھ اس طرح بنایا ہے کہ وہ اس کی پیدا کردہ مخلوقات کے لیے نافع ہو ۔ ثانیاً ، اس میں خدا کے منکر اور خدا کے ساتھ شرک کرنے والوں کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ خدا نے رات اور دن کی شکل میں یہ کتنی بڑی نعمت ان کو عطا کی ہے ، اور وہ کتنے سخت ناشکرے ہیں کہ اس کی اس نعمت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شب و روز اس سے غداری و بے وفائی کیے چلے جاتے ہیں ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو جلد دوم ، صفحات 296 تا 298 ۔ جلد سوم ، صفحات 461 ۔ 606 ۔ 659 ۔ 747 جلد چہارم ، لقمان ، آیت 29 ، حاشیہ 50 ۔ یٰس ، آیت 37 ، حاشیہ 32 ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦١۔ ٦٦۔ اوپر خالص اللہ کی عبادت کا حکم دے کر ان آیتوں میں مثال کے طور پر سمجھانے کے لئے رات دن کے پیدا کرنے کا فضل اور احسان جتایا اور فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو اور انسان کی ضرورت کی ہر ایک چیز کو اس طرح پیدا کیا کہ اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے تو پھر یہ لوگ اپنے پیدا کرنے والے کی خالص عبادت سے کیوں پھرے ہوئے ہیں اور اس کی تعظیم میں دوسروں کو کس استحقاق سے شریک کرتے ہیں کیا ان کو معلوم نہیں کہ ان کی عادتوں کے لوگ ان سے پہلے گزرچکے ہیں اور ان کا انجام جو کچھ ہوا وہ بھی ان کو کوئی دفعہ سنایا گیا ہے کہ آخر طرح طرح کے عذابوں سے وہ ہلاک ہوگئے اگر یہ لوگ ان کے قدم بہ قدم رہے تو یہی انجام ان کا ہونے والا ہے اس کے بعد دوسرے فضل اور احسان کا ذکر فرمایا کہ اللہ وہ ہے جس نے بنایا تمہارے لئے زمین کو ٹھہرنے کی جگہ مانند بچھونے کے کہ تم اس پر چلو پھرو، سو، بیٹھو، ہر ایک طرح کا آرام حاصل کرو پہاڑوں کی میخوں سے سے اس کو ایسا مضبوط جما دیا کہ ہل نہیں سکتی ورنہ تم کو اس پر رہنا مشکل ہوجاتا اور آسمان کو تمہارے لئے ایک چھت بنا دیا اور صورت بنائی تمہاری خوبصورت اور روزی دی تم کو پاکیزہ چیزیں کھانے پینے کی۔ پھر فرمایا یہ ہے اللہ رب تمہارا جس نے یہ سب چیزیں پیدا کیں اس لئے وہ بڑی برکت والا ہے اور وہی پالنے والا ہے کل جہان کے لوگوں کا صحیح بخاری ١ ؎ کی حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت سے اوپر گزر چکا ہے کہ قوم نوح میں کچھ نیک لوگ مرگئے تھے دنیا میں بت پرستی ان ہی کی مورتوں سے پھیلی ہے غرض جن کی مورتوں کی پوجا کی جاتی ہے وہ تو مرگئے اور ان کی مورتیں بالکل بےجان ہیں اس لئے فرمایا لائق عبادت وہی اللہ ہے جو ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا وہ مرے ہوئے نیک لوگ ان کی بےجان مورتیں کوئی اس قابل نہیں ہیں کہ اس اللہ جہان بھر کے زندہ رکھنے والے کی عبادت میں کسی کو شریک کیا جائے آگے اپنے رسول کو مخاطب کرکے فرمایا کہ اے رسول اللہ کے جو سمجھانے کا حق تھا وہ تو ان لوگوں کو سمجھا دیا گیا اب تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ مجھ کو تو قرآن کے ذریعہ سے یہ حکم ہے کہ میں شرک سے بیزاری کر کے خالص اللہ کی فرمانبرداری اور عبادت میں لگا رہوں کیونکہ وہی سب کا مالک ہے اس لئے کسی کو اس کی عبادت میں شریک ٹھہرانے کا حق نہیں ہے صحیح بخاری ٢ ؎ و مسلم کے حوالہ سے معاذ بن جبل کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں اس حق کے ادا ہونے کے بعد یہ حق بندوں کا اللہ پر ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کو دوزخ کے عذاب سے بچائے۔ شرک سے بیزار اور خالص اللہ کی عبادت میں لگے رہنے کا ان آیتوں میں جو حکم ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ انسان کو اور انسان کی ضرورت کی چیزوں کو جب اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تو اس کی شکر گزاری کے طور پر اللہ کا یہ حق ہر شخص کے ذمہ ہے کہ اللہ کی عبادت میں کوئی شخص کسی دوسرے کو شریک نہ کرے جس شخص نے شکر گزاری کے طور پر اس حق کو پورا ادا کیا اس کا بارگاہ الٰہی میں یہ حق پیدا ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ اس کو عذاب دوزخ سے بچائے۔ اور جس شخص نے اس حق الٰہی کی ادا کرنے میں کوتاہی کی اس نے اپنے حق کو ضائع کیا۔ (١ ؎ صحیح بخاری باب وداو لا سوا عاو لا یغثو ویعوق ولسرا۔ ص ٧٣٢ ج ٢۔ ) (٢ ؎ صحیح بخاری باب دعاء النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امتہ الی توحید اللہ الخ ص ١٠٩٧ ج ٢۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(40:61) مبصرا۔ اسم فاعل واحد مذکر (حالت نصب) ابصار (افعال) مصدر سے۔ دیکھنے والا۔ دکھانے والا۔ جو خود روشن ہو اور دوسروں کو بھی روشن کر دے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یعنی اس کی روشنی میں تم ہر چیز دیکھتے ہو۔2 یعنی اللہ تعالیٰ کی بندگی کی بجائے دوسروں کا احسان مان کر ان کی عبادت کرتے ہیں حالانکہ تمام احسانات کرنے والا صرف وہ ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 7: آیات 61 تا 68: اسرار و معارف : عظمت الہی کو دیکھو وہ ذات کتنی عظیم بھی ہے اور کریم بھی کہ تم آرام کے مھتاج تھے اس نے رات پیدا کردی کہ وقتی طور پر نظام کار رک جاتا ہے اور ایک پرسکون ماحول آرام کے لیے پیدا ہوجاتا ہے بنی آدم آرام کرکے کھوئی ہوئی طاقت بحال کرلیتا ہے پھر ایک موزوں وقفے کے بعد دن کی روشنی میں سارے ہنگامے پلٹ آتے ہیں اور انسان تازہ دم ہو کر کاروبار حیات میں جت جاتا ہے وہ ذات بنی آدم پہ کس قدر مہربان ہے کہ اس کی تمام تر ضرورتوں کی تکمیل کا اہتمام فرمایا لیکن اکثر لوگ اس کا شکر ادا نہیں کرتے اور نافرمانی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ کیسا کریم ہے تمہار اپالنے ولا ا کہ ہر شئے کا خالق ہے اور سب صنعت کو ایسے سجایا ہے کہ بنی نوع انسان کی خدمت کرتی رہے بھلا اس کے سوا کون ہوسکتا ہے جس کی عبادت کی جائے کوئی بھی تو نہیں لیکن انسان کہا بھٹکتا پھرتا ہے اور بلا دلیل یہ دیکھتے ہوئے بھی کہ اللہ کا ارشاد برحق ہے اپنی انا کو باقی رکھنے کے لیے انکار کردیتا ہے بھلا دیکھو تو اللہ کس قدر کریم ہے کہ اس نے روئے زمین کو تمہارے لیے جائے قرار اور ٹھکانہ بنا دیا کہ اپنی کروی صورت کے باوجود ہر جگہ تمہارے لیے میدان ہی بنی ہوئی ہے اور جگہ قیام اور مکان زراعت باغبانی کارخانے سب کچھ ہورہا ہے اور بغیر دیواروں اور ستونوں کے آسمان کو تمہارے لیے عمارت اور چھت کی طرح بنا دیا ہے کہ گرتا بھی نہیں اور اس نظام کا ایک اہم حصہ بھی ہے پھر اپنی صورت ہی دیکھ لو کہ تمہیں کتنی مناسب اور حسین صورت عطا فرمائی اور تمہارے لیے سب سے اچھی چیز بطور غذا مقرر فرما دی کہ جانوروں کی طرح گھاس نہ چرتے پھرو ذرا ان سب باتوں میں غور کرو عظمت الہی کا کسی حد تک اندازہ لگا سکو گے کہ بہت ہی برکت والا ہے اللہ جل شانہ جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے۔ وہی ایک ذات ہے جو ہمیشہ زندہ ہے جسے کبھی فنا نہیں لہذا اس کے علاوہ کوئی عبادت کا مستحق نہیں سو اے مخاطب ہمیشہ اسی کی عبادت کرو اور پورے خلوص سے کرو اپنی امیدیں اسی سے وابستہ رکھو اور اسی سے مانگو کہ سب تعریفیں اسی کو سزوار ہیں جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے یعنی اس کے علاوہ کوئی بندگی کا مستحق کیسے ہوسکتا جب سب اس کی مخلوق اس کے رزق پہ پلنے والے یا اس کے رکھنے سے باقی اور سب فانی ہیں صرف وہ ایک ذات ہے جس کے لیے کبھی کسی کمزور ی کا کوئی گذر نہیں۔ اور کفار سے کہہ دے کہ بندہ مومن سے یہ امید نہ رکھیں کہ وہ ان کی طرح بتوں سے امیدیں وابستہ کرلے گا یارب العالمین کے حکم کے خلاف اسباب پہ تکیہ کرنے لگے گا کہ آج کا دور ایک ایسی تاریکی میں ڈوب رہا ہے جہاں بتوں سے زیادہ بھروسہ اسباب پر کیا جا رہا ہے کفار بھی بڑی بڑی طاقتوں اور حکومتوں کے پجاری بن گئے ہیں اور مذاہب سے عمومی بیزاری کا عہد ہے مگر بندہ مومن اسباب بھی اطاعت الہی کی حدود کے اندر اختیار کرسکتا ہے ورنہ اللہ کی اطاعت رک کرنے کی بجائے اسباب کا ترک کرے گا اور کفار کی طرح اسباب ہی کی پوجا نہ کرے گا کہ اس کے پاس تو اس کے پروردگار کی طرف سے واضح اور روشن دلائل موجود ہیں اور اسے یہ حکم دیا گیا ہے کہ صرف اس ہستی ہی کی عبادت کرے جو تمام جہانوں کو پالنے والی اور سب کی خالق ومالک و رازق ذات ہے وہی جس نے اے بنی آدم تجھے خاک سے پیدا کردیا کس طرح اور کہاں کہاں سے خاکی ذرات کو مختلف حالتوں سے گذار کر نطفہ بنا دیا پھر وہ نطفہ رحم مادر میں پہنچا تو خون کی پھٹکی میں تبدیل ہوگیا اور گوشت ہڈیاں پھر پھر اعضاء مکمل ہو کر انسان کا بچہ بنا کر پیدا کردیا۔ سبحان اللہ قرآن حکیم میں دوسرے مقام پر بھی یہ تفصیل ارشاد ہے جبکہ وہ عہد سائنس کا نہ تھا اور کوئی یہ سب کچھ جان نہ سکتا تھا۔ چودہ سو سال بعد سائنس نے اس کی تائید کی اور اس کی تحقیقات یہاں تک پہنچ سکیں۔ پھر وہ تمہاری تربیت کرتا ہے اور تم جوانی کے زور سے بھرپور ہوتے ہو۔ وہی طاقتور جوان پھر ایک کمزور بوڑھے کی صورت میں نظر آتا ہے کچھ تم میں سے اس سارے عمل کو پورا نہیں کرپاتے کہ ہر ایک کی موت کا وقت معین ہے لہذا ان کا وقت مقررہ اس عمر کو پہنچنے سے پہلے آجاتا ہے اور وہ مرجاتے ہیں۔ یہ سب دلائل ہیں اللہ کی عظمت کے اور اس کے احسانات ہیں تاکہ تم غور کرو اور سمجھ پاؤ۔ وہی ایک ذات ہے جو زندگی عطا کرتی ہے اور اسی کے حکم سے موت آتی ہے جب اسے کوئی کام کرنا منظور ہو تو حکم فرماتا ہے کہ ہوجا اور وہ ہوجاتا ہے نہ وہ کسی کی مدد کا محتاج نہ اجازت کا طالب نہ وہاں کوئی دیر لگتی ہے اور نہ تاخیر ہوتی ہے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ تاکہ بےتکلف معاش حاصل کرو۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جس رب کی عبادت کرنے اور اس سے مانگنے کا حکم دیا گیا ہے اس کی صفات یہ ہیں۔ جو کسی اور میں نہیں پائی جاتیں۔ لہٰذا صرف اسی کی عبادت کرو اور اسی کے سامنے اپنا دامن حاجت پھیلاؤ۔ جس طرح تمہاری نیند کے بعد تمہیں اٹھاتا ہے اسی طرح تمہاری موت کے بعد تمہیں اٹھائے گا اور تم سے حساب لے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی جن قدرتوں کا کئی بار تذکرہ کیا ہے ان میں سے لیل و نہار بھی ہیں۔ انہیں اپنی قدرت کی عظیم دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ رات کو لباس اور باعث سکون بنایا ہے۔ رات کے مقابلے میں دن ہے جس کے لیے یہاں ” مُبْصِراً “ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ یعنی دن کو دیکھنے والا بنایا گیا ہے۔ لیل و نہار کو بنانے والا ” اللہ “ اپنے بندوں پر بڑا ہی فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ اس کا شکر ادا نہیں کرتے۔ یہاں شکر سے پہلی مراد یہ ہے کہ آدمی صرف ایک رب کی عبادت کرے اور اسی کے سامنے اپنا دامن حاجت پھیلائے۔ جو لوگ ایسا نہیں کرتے وہ اپنے رب کے ناشکرے اور متکبر ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ ہی لوگوں کا رب ہے اور اسی نے ہر چیز پیدا فرمائی ہے اس کے سوا نہ کسی نے کوئی چیز پیدا کی اور نہ کسی کی عبادت کرنا جائز ہے۔ نہ اس کے سوا کوئی ذات ایسی ہے جو اپنی مخلوق کی ضرورتیں پوری کرے اور لوگوں کی مشکلات کو رفع فرمائے۔ ایسی قدرتوں اور فضل کرنے والے رب کو چھوڑ کر کہاں ٹکریں کھاتے پھرتے ہو۔ جس طرح مشرک در در کی ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں اسی طرح وہ لوگ بھی مارے مارے پھرتے ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں۔ یعنی کافر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں اپنی قدرت اور تخلیق کی سب سے پہلی دلیل یہ دی ہے کہ اس نے رات کو سکون کا باعث قرار دیا ہے۔ جو انسانوں کے لیے ہی باعث سکون نہیں کہ تھکے ماندے انسان کی تھکاوٹ دور ہوجاتی ہے اور صبح کے وقت وہ گزرے ہوئے کل کی طرح پھر تازہ دم ہو کر اپنے کام کے لیے نکل کھڑا ہوتا ہے۔ رات ہر جاندار کے لیے باعث سکون بنائی گئی ہے اور وہ بھی صبح کے وقت تازہ دم ہوجاتا ہے۔ دن کو اس لیے روشن بنایا گیا ہے تاکہ لوگوں کو اپنا کام کاج کرنے اور ادھر سے ادھرجانے میں پریشانی نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ہر قسم کا فضل فرماتا ہے۔ صرف رات اور دن پر غور فرمائیں کہ اگر رات کو روشن کردیا جائے تو لوگوں کی نیند حرام ہوجائے گی اور دن کے کسی حصہ کو تاریک کردیا جائے تو لوگوں کے کام کاج ٹھپ ہوجائیں۔ رات اور دن کا حوالہ دے کر یہ بھی اشارہ کیا ہے کہ جس طرح رات کے بعد دن ہے اسی طرح مرنے کے بعد زندگی اور دنیا کے بعد آخرت ہے۔ مگر پھر بھی لوگ خالص ” اللہ “ کی عبادت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ یہ سب سے بڑا تکبر اور اللہ تعالیٰ کی ناشکری ہے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے ہی رات کو باعثّ سکون اور دن کو روشن بنایا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کو پیدا کرنے والا اور اس کی ضرورتیں پوری کرتا ہے۔ ٣۔ ہر دور کے مشرک اور کافر اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں جھگڑتے رہے ہیں۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق اور حاجت روا، مشکل کشا نہیں۔ ٥۔ مگر اس کے باوجود لوگ ادھر ادھر بہکے پھر رہے ہیں۔ ٦۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت فضل کرنے والا ہے لیکن لوگوں کی اکثریت اس کا شکر ادا نہیں کرتی۔ تفسیر بالقرآن ” اللہ “ ہی پیدا کرنے والا ہے۔ “ ١۔ (البقرۃ : ٢٢) (الروم : ٢٠) (التین : ٤) (الدھر : ٢) (الاعراف : ١٨٩) (الاعراف : ٥٤) (النساء : ١) (الانعام : ١٠٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر 61 تا 64 گزرش لیل ونہار تو دو کائناتی مظاہر ہیں جبکہ زمین آسمان دو کائناتی تخلیقات ہیں۔ ان دونوں کو یہاں ذکر کرکے پھر بتایا جاتا ہے کہ اس لیل ونہار اور ارض وسماء کے اندر اللہ نے تمہاری خوبصورت شکلیں پیدا کیں اور پھر تمہارے لیے اس جہاں میں قسم قسم کے رزق پیدا کیے۔ یہ ہے تمہارا رب اور یہ ہیں اس کے کارنامے۔ بڑی ہی برکتوں والا ہے رب العالمین ! وہی زندہ ہے اور اس کے سوا کوئی زندہ نہیں ہے اور یہ سب کچھ اس کا فضل ہے۔ لہٰذا اللہ کو وحدہ لاشریک سمجھتے ہوئے صرف اسی کی بندگی کرو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کائناتی مظاہر اور ان تکوینی معافی اور اللہ کی ان تخلیقات کو اللہ کی توحید اور اللہ کے نظام زندگی کے حوالے سے وسیع دائرہ میں پڑھنا ، ان پر تدبر کرنا اور توحید اور شریعت کے ساتھ ان کا ربط پانا ضروری ہے۔ اور یہ دیکھنا کہ اس تکوینی نظام کے درمیان ہم آہنگی کیا ہے۔ یہ کائنات اللہ نے جس اصول پر بنائی ہے ، پھر اللہ نے اسے جس ناموس فطرت کے مطابق چلایا ہے ، وہی اللہ ہے جس نے اس کراۂ ارض پر زندگی کو چلایا ، اس کی ترقی اور نشوونما کا انتظام فرمایا۔ پھر یہ وہی ذات باری ہے جس نے انسان کو اس کی موجود شکل عطا فرمائی جسے ہم دیکھ رہے ہیں۔ اور انسان کی تخلیق اور اس کی حیات کے لیے ضروری امور کو اس کائنات کے اندر ملحوظ رکھا۔ وہی تو ہے جس نے رات کو سکون ، آرام اور راحت کے لیے بنایا۔ اور دن روشن ، دیکھنے کے لیے معاون اور دوڑ دھوپ کے لیے بنایا۔ اور زمین کو زندگی کے قابل اور چلنے پھرنے کے اہل بنایا اور آسمان کو ایک چھت کی طرح بنایا کہ وہ بلندیوں پر سیاروں اور ستاروں کو لیے ہوئے ہے ، جو گرتے نہیں۔ اور جن کی دوریاں بھی باہم ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا کر خلل ڈالتیں۔ اگر ان دوریوں میں پھر فرق پڑجائے تو اس چھوٹے سے کرۂ ارض پر انسان کے وجود کے اندر خلل واقع ہوجائے۔ یہ اللہ ہی ہے جس نے اس زمین پر پاک خوراک پیدا کی۔ یہ رزق اسی زمین سے پیدا کیا۔ یہ رزق آسمانون سے بارشوں کی شکل میں نازل ہوتا ہے اور لوگ اس سے نفع اٹھاتے ہیں۔ اور انسانی صورتیں کس قدر خوبصورت اور رنگا رنگ ہیں۔ اور پھر وہی ہے جس نے انسان کے اندر وہ صلاحیتیں پیدا کیں جو اس کائنات کے ساتھ متفق ہیں۔ اور یہ صلاحیتیں اس زمین پر رہنے کے لیے کافی ہیں۔ پھر یہ صلاحیتیں اس پوری کائنات کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہیں۔ تو یہ تمام امور باہم مربوط اور موافق ہیں جیسا کہ ہر شخص ملاحظہ کرسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان تمام امور کو قرآن ایک ہی جگہ لیتا ہے۔ اسی ترتیب اور ربط سے لیتا ہے اور ان اموردے وحدانیت پر برہان قاطع پیش کرتا ہے۔ اور ان امور ہی کی روشنی میں قلب انسانی کو دعوت دیتا ہے کہ اللہ وحدہ کو پکارو۔ اور دین اور نظام زندگی صرف اسی کارائج کرو۔ اور آخر میں کہا جاتا ہے ، الحمدللہ رب العالمین ! اور یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ رب العالمین وہی ذات ہوسکتی ہے جس نے ان تمام چیزوں کو اس طرح پیدا کیا۔ یہی ہے الٰہ ، رب العالمین ، لہٰذا تعجب ہے کہ لوگ اس عظیم سچائی سے کس طرح منہ موڑتے ہیں۔ یہاں ہم سرسری طور پر وہ جھلکیاں دیتے ہیں جو خود بتائیں گی کہ اس کائنات کی ساخت میں ، اور انسان کی زندگی کے ساتھ اس کے تعلق میں یہ امور ملحوظ رکھے گئے ہیں۔ اللہ نے یہاں جس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے ، اس سمت میں چند لمحات۔ ” یہ زمین سورج کے سامنے گردش محوری کررہی ہے جس کے نتیجے میں لیل ونہار کا نظام وجود میں آیا ہے ، اگر اپنی گردش کی موجودہ رفتار سے اس کی رفتار قدرے تیز ہوجائے تو تمام مکانات گرجائیں ، اس زمین کے اجزاء ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں اور فضائے آسمانی میں بکھر جائیں “۔ ” اور اگر یہ زمین موجود گردش محوری کی رفتار ذراکم کردے تو لوگ گرمی یا سردی سے ہلاک ہوجائیں۔ زمین کی موجودہ گردش محوری ایسی بنائی گئی ہے کہ یہ اس زمین کے اوپر حیوانی اور نباتاتی زندگی کے ساتھ ہم آہنگ اور ان کے لیے اپنے وسیع معنوں میں مفید ہے “۔ ” اور اگر زمین گردش محوری صرف رک جائے تو بخارات ختم ہوجائیں اور سمندر پانیوں سے خالی ہوجائیں “۔ ” اگر زمین گردش محوری ختم کردے اور سورج کے اردگرد اپنی گردش سالانہ جاری رکھے تو کیا ہوگا۔ تمام فصلیں ختم ہوجائیں ، لوگوں کو پتہ نہ چلے کہ گرمیاں کہاں ہیں اور سردیاں کب ہوئیں اور ربیع وخریف ختم ہوجائے “۔ ” اگر زمین کا چھلکا چند قدم اور دبیز ہوتا تو بعض گیسوں کے جذب کرلینے کی وجہ سے نباتات ختم ہوجائے “۔ ” زمین کے اوپر کرۂ ہوائی جس قدر بلندی پر ہے اگر اس سے مزید بلند ہوجائے تو آج کل لاکھوں کے حساب سے ہوا میں جو شہاب ثاقب جل جاتے ہیں ، وہ سب کے سب کرۂ ارض پر گرنے لگتے ، ان کی رفتار 46 میل فی سکینڈ ہوتی ہے۔ اس طرح وہ زمین کے اوپر ان تمام چیزوں کو جلا کر رکھ دیں گے جو جلنے کے قابل ہیں۔ اور اگر یہ شہاب بندوق کی گولی کی رفتار سے بھی چلیں تب بھی سب کے سب زمین سے ٹکڑا جائیں۔ اور اس کے نتائج نہایت ہی خوفناک ہوں۔ انسان بیچارے کی حالت تو یہ ہے کہ اگر ایک چھوٹا سا شہاب جس کی رفتار بندوق کی گولی سے ستر مرتبہ زیادہ ہو ، اس زمین سے بھی ٹکرا جائے تو اس شہاب کے گزرنے سے جو حرارت پیدا ہوگی ، صرف اس حرارت ہی سے اس کے اجزائے جسم بکھر کر رہ جائیں “۔ ” اس وقت ہوا میں آکسیجن کی نسبت 21 فیصد ہے اگر یہ 50 فیصد ہوجائے تو جل جانے کی قابل تمام چیزیں آگ پکڑ لیں اور جل جائیں۔ بس آگ کی ایک چنگاری لگتے ہی تمام جنگلات جل جائیں بلکہ بھک سے اڑجائیں۔ اگر ہوا کی آکسیجن کم ہوکر 10 فیصد ہوجائے یا اس سے کم ہوجائے تو کرۂ ارض کی زندگی شاید ایک طویل عرصہ بعد اپنے آپ کو اس کے ساتھ ہم آہنگ کر ہی لے لیکن وہ تمام سہولیات ختم ہوجائیں جن کی وجہ سے انسان متمدن قرار پاتا ہے مثلاًآگ وغیرہ “۔ غرض اس کائنات کی تخلیق وتشکیل میں ہزاروں ایسی ممد اور معاون چیزیں ، باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ رکھی ہوئی نظر آتی ہیں کہ اگر ان میں سے کسی ایک چیز میں معمولی خلل آجائے تو ہماری زندگی اپنی موجودہ شکل میں نہ رہے۔ اسی طرح دوسرے حیوانات کی زندگی کی موجودہ شکل بھی نہ رہے۔ رہا انسان تو اس کی توبہ پیاری پیاری صورت ہی ایسی ہے ، جو نہایت ہی منفرد انداز میں ہے اور تمام زندہ اشیاء میں ممتاز ہے۔ یہ ایک اس قدر کامل اور مکمل تخلیق ہے کہ وہ اپنے تمام فرائض نہایت ہی سہولت اور باریکی سے ادا کرتی ہے۔ اس کی یہ تخلیق اس کی زمین کے اوپر حرکت اور وہ حالات جن میں اس کے لیے زندہ رہنا اور کام کرنا آسان بنایا گیا ہے ، پھر اس کی اعلیٰ وارفع خصوصیت جس کے ذریعہ اسے تمام روئے زمین کی مخلوقات کا سردار بنایا گیا ہے اور اسے منصب خلافت ارضی دی گئی ہے اور اس منصب کے فرائض کی ادائیگی کے لئے اسے عقل وخرد سے نوازا گیا ہے۔ اور پھر رب تعالیٰ کے ساتھ اسے رابطے کا اعزاز دیا ہے۔ یہ تو انسان کی ممتاز ترین خصوصیات ہیں۔ اب ذرا ذات انسان کی طرف آئے اگر انسانی ذات اس کے اعضاء ، اور ان کے فرائض کی باریکی پر بحث کریں ، جو اس آیت کا مفہوم بھی ہے۔ وصورکم فاحسن صورکم (40: 64) ” جس نے تمہاری صورت بنائی اور بہت ہی عمدہ بنائی “۔ تو ہمیں انسان کے چھوٹے چھوٹے اعضاء میں سے ہر ایک کا مطالعہ کرنا پڑے گا۔ بلکہ انسان کے خلیات میں سے ہر ایک خلیے پر بحث کرنی ہوگی۔ ایک ہی مثال سے تخلیق انسانی اور جسم انسانی کی گہری ٹیکنالوجی کا پتہ چل سکتا ہے۔ انسان کے جبڑے کو لیجئے اور اس کے اندر دانتوں کی تنصیب کو اگر آلہ خوراک کے زاویہ سے دیکھا جائے تو یہ اس قدر حساس ہیں کہ اگر زبان یا لعاب میں 10/1 ملی میٹر کی حد تک ابھار آجائے تو یہ جبڑے زبان اور لعاب کی مزاحمت کرتے ہیں۔ اور اگر کسی دانت میں اسی قدر ابھار آجائے تو وہ اپنے مقابل جسم کے ساتھ ٹکرانا شروع کردے اور اگر دوجبڑوں کے درمیان سگریٹ کے کاغذ جتنا موٹا کاغذ آجائے تو وہ دونوں جبڑوں کا دباؤ محسوس کرے گا۔ اور اس پر بھی دونوں جبڑوں کا دباؤ ہوگا کیونکہ دونوں جبڑوں کی ساخت ایسی ہوتی ہے کہ جب یہ دونوں ملتے ہیں تو دونوں طرف کے دانت پوری طرح ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جاتے ہیں۔ یوں یہ پینے اور چبانے کا عمل کرتے ہیں اور ایسی چیزوں کو بھی چبالیتے ہیں جن کا موٹاپا سگریٹ کے ابری کاغذ جیسا باریک ہو۔ پھر اسی انسان کو اپنی اس ساخت کے ساتھ ، اس زمین پر رہنے کے لیے سہولیات فراہم کی گئی ہیں کہ یہ یہاں زندہ رہے۔ اس کی آنکھوں کو روشنی کی لہروں پر بنایا گیا ہے تاکہ یہ دیکھنے کا کام کریں۔ اور اس کے کانوں کو ہوا اور آواز کی لہروں پر بنایا گیا ہے تاکہ یہ سننے کا کام کریں۔ غرض اس کے تمام اعضاء اور حواس کو اس فضا کے مطابق بناتا گیا ہے جس کے اندر اس نے زندگی بسر کرنا ہے اور اسے یہ طاقت بھی دی گئی ہے کہ وہ ایک حد تک اپنے آپ کو حالات کے مطابق ڈھال سکے۔ غرض اسے اس زمین کے لیے بنایا گیا ہے تاکہ یہ یہاں زندہ رہے۔ اس سے متاثر ہو ، اس کو متاثر کرے۔ غرض یہ ماحول جس میں انسان رہتا ہے ، اس کے اور انسان کی تخلیق کے درمیان گہری منصوبہ بندی موجود ہے۔ پھر انسان کی موجودہ شکل و صورت کا بھی اس کے موجودہ ماحول کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ اس کی ساخت کو اس ماحول کے مطابق بنایا گیا ہے ، جہاں وہ رہتا ہے ، یعنی اس زمین و آسمان کے مطابق ۔ اس لیے یہاں اللہ نے انسان کی اسی شکل کا ذکر اس آیت کے درمیان کیا ہے جس میں زمین و آسمان کی تخلیق کا ذکر ہے۔ اب قرآنی آیات کی قدرے تشریح۔ اللہ الذی۔۔۔۔ مبصرا (40: 61) ” وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو ، اور دن کو روشن کیا “۔ رات کو سکون کرنا ہر زندہ چیز کے لیے ضروری ہے۔ نیز ایک تاریکی کا عرصہ ضروری ہے تاکہ اس میں زندہ خلیے آرام کرسکیں اور اس وقت کے بعد پھر روشنی میں کام شروع کرسکیں۔ صرف نیند ہی کافی نہیں ہے تاریکی بھی ضروری ہے۔ بلکہ رات ضروری ہے۔ کیونکہ زندہ خلیہ روشنی کو برداشت کرتے کرتے اس قدر تھک جاتا ہے کہ اس کے اعصاب تلف ہونا شروع ہوجاتے ہیں چونکہ روشنی میں اسے آرام نہیں مل سکتا۔ لہٰذا رات کی تاریکی ضروری ہے۔ والنھار مبصرا (40: 61) ” دن کو روشن کیا “۔ انداز تعبیر بالکل شخص ہے گویا دن ایک شخص ہے جو دیکھ رہا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ لوگ دن میں دیکھتے ہیں۔ یہ تو ہے دن کی غالب افادیت اور صفت۔۔۔ لیکن گردش لیل ونہار کا یہ نظام ایک نعمت ہے جو اپنے اندر مزید نعمتیں پوشیدہ رکھتی ہے۔ اگر رات اور دن میں سے کوئی ایک دائمی ہوجائے ، بلکہ موجودہ وقت سے ذرا طویل ہی ہوجائے تو زندگی ناپید ہوجائے یہی وجہ ہے کہ اسکے بعد اللہ کے اس فضل کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جسکا لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ ان اللہ ۔۔۔۔ لایشکرون (40: 61) ” حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر لوگ شکر ادا نہیں کرتے “۔ اور ان دوفطری مظاہر یعنی گردش ونہار کے بعد یہ تصریح کردی جاتی ہے کہ ان کو اللہ نے پیدا کیا ہے لہٰذا وہی الہہ ہونے کا مستحق ہے اور یہ نام ” اللہ “ ایک عظیم نام ہے۔ ذٰلکم اللہ ۔۔۔۔ توفکون (40: 62) ” یہ ہے اللہ تمہارا رب جو ہر چیز کا خالق ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے ، پھر تم کدھر بہکائے جارہے ہو “۔ یہ ایک نہایت ہی تعجب انگیز اور حیرت افزا بات ہے کہ لوگ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے اور ہر چیز میں اللہ کا ہاتھ ہے ، اور تمام اشیاء کا موجود ہونا ہی ازروئے عقل اس بات کو فرض کردے کہ اس کا اللہ خالق ہے اور اللہ کے سوا کوئی اور قوت بھی نہ ہو کہ وہ خالق ہونے کی مدعی ہو ، اور یہ بات بھی ذہن میں نہ آتی ہو کہ یہ چیزیں خود بخود وجود میں آگئی ہوں یہ فی الواقع ایسی عجیب بات جوہر معقول انسان کے لیے تعجب انگیز ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے اور دیکھتے ہوئے بھی لوگ ایمان لانے سے منہ موڑیں۔ فانی توفکون (40: 62) ” کدھر بہکائے جارہے ہو “۔ لیکن ، ہو یہی رہا ہے کہ لوگ بدستورمنہ موڑ رہے ہیں جیسا کہ قرآن کے پہلے مخاطب منہ موڑ رہے تھے اور اس کے بعد بھی ہر زمان ومکان میں منہ موڑ رہے ہیں۔ بغیر حجت اور بغیر دلیل کے۔ کذٰلک ۔۔۔۔ یجحدون (40: 63) ” اسی طرح وہ سب لوگ بہکائے جارہے ہیں ، جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے “۔ اب سیاق کلام اس طرف آتا ہے کہ اپنی جگہ ٹھیرایا گیا اور آسمان کو چھت کی طرح اوپر ٹھیرایا گیا۔ اللہ الذی۔۔۔۔ بنآء (40: 64) ” وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو جائے قرار بنایا اور اوپر آسمان کا گنبد بنادیا “۔ زمین تو برقرار ہے اور انسانوں کی رہائش کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اور اس میں ایسی بیشمار سہولیات رکھ دی گئی جو انسان کے لیے ضروری ہیں اور جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے اور آسمان ایک ایسی چھت ہے جس کی نسبتیں متعین اور مقرر ہیں۔ جس کی دوریاں ، حرکتیں اور چکر مقرر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی وجہ سے زمین پر انسان کی زندگی کو قرار حاصل ہے اور یہ قرار اور سہولیات اس کائنات کے نقشے کے اندر حساب سے رکھ دی گئی ہیں اور اس کی تعمیر میں انہیں ایک خاص نسبت سے رکھا گیا ہے۔ زمین و آسمان کی تخلیق کے ساتھ ہی انسان کی پیاری صورت اور انسان کے لیے رزق کو بھی مربوط کردیا گیا جیسا کہ ہم نے ان باتوں کی طرف اجمالی اشارہ کردیا ہے۔ وصورکم۔۔۔۔ من الطیبٰت (40: 64) ” جس نے تمہاری صورت بنائی اور بڑی عمدہ بنائی جس نے تمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا “۔۔۔ اور پھر ان نشانیوں اور مہربانیوں پر یہ تبصرہ : ذٰلکم اللہ ۔۔۔۔ رب العلمین (40: 64) ” یہ ہے اللہ تمہارا رب ، بےحساب برکتوں والا ہے۔ وہ کائنات کا رب ہے “۔ یہ اللہ جو تخلیق کرتا ہے ، جو انداز سے تخلیق کرتا ہے اور پھر اپنی مخلوقات کا مدبر بھی ہے۔ وہ تمہاری نگہبانی کرتا ہے اور تمہیں اس نے اپنی اس مخلوق میں بسایا ہے۔ یہ ہے تمہارا رب ، برکتوں والا ، اور بہت بہت برکتوں والا اور تمام جہانوں والا ، جن کے تصور ہی سے سر چکرا جاتا ہے۔ ھوالحی (40: 65) ” وہی زندہ ہے “۔ ہاں ، وہی اکیلا زندہ ہے۔ اس کی ذاتی زندگی ہے ، کسی سے لی نہیں گئی ، کسی کی تخلیق کردہ نہیں ہے۔ نہ اس کی ابتداء اور نہ انتہا ہے نہ اس کے درمیان کوئی حائل ہے اور نہ وہ زائل ہونے والی ہے۔ نہ اس میں کوئی انقلاب آتا ہے اور نہ تغیر۔ اللہ کے سوا کسی کو یہ صفات حاصل نہیں ہیں۔ اللہ پاک ہی منفرد ہے ان صفات میں۔ لہٰذا وہی منفرد ہے الوہیت میں ۔ اس لیے کہ زندہ وہی ہے۔ لہٰذا حق یہی ہے کہ وہی واحدوقہار ہو۔ لآ الٰه الاھو (40: 65) ” نہیں کوئی الٰہ مگر وہ “ تو پھر صرف : فادعوہ مخلصین له الدین (40: 65) ” اسی کو تم پکارو ، اپنے دین کو اسی کے لیے خالص کرکے “۔ اس کی حمد کرو ، اس سے دعا کرو ، الحمدللہ رب العٰلمین (40: 65) ” ساری تعریف اللہ رن العالمین ہی کے لیے ہے “۔ ان نشانیوں اور مہربانیوں کے تذکرے اور ان پر تبصرے کے بعد اور حقیقت الوہیت اور عقیدۂ توحید اور مظاہر ربوبیت کی تشریح کے بعد اب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ تلقین کی جاتی ہے کہ آپ اعلان کردیں کہ ان نشانیوں اور دلائل کی بناپر میں روک دیا گیا ہون کہ میں تمہارے معبودوں کی بندگی کروں مجھے تو حکم دیدیا گیا کہ صرف رب العالمین کے سامنے سرتسلیم خم کردوں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے، لیل و نہار، ارض و سماء اسی نے پیدا فرمائے ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے انعامات کبیرہ اور اللہ تعالیٰ کی صفات جلیلہ بیان فرمائیں، ارشاد فرمایا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے رات دن بنائے رات میں آرام کرتے ہو سکون اور چین سے رہتے ہو اور دن کو ایسی چیز بنا دی جس میں دیکھتے بھالتے ہو آتے جاتے ہو رزق تلاش کرتے ہو، رات اور دن دونوں اس کی بڑی نعمتیں ہیں لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ رب ہے وہ ہر چیز کو پیدا فرمانے والا ہے اسی کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ان باتوں کا تقاضا ہے کہ تم اسی کی طرف متوجہ ہو اسی کی عبادت کرو اس کو چھوڑ کر کدھر جا رہے ہو تمہارا کدھر کو رخ ہے معبود برحق کی طرف سے ہٹ کر تمہارا کدھر کو جانا ہے ؟ اس کے بعد یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے وہ لوگ ہٹا دئیے جاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہیں یہ اس کی آیات کا انکار کرنا اس بات کا ذریعہ بن جاتا ہے کہ شیاطین الانس والجن ان کو حق سے ہٹا کر دوسری طرف لے جاتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کی مزید چند نعمتوں کا ذکر فرمایا، اول یہ کہ اللہ نے تمہارے لیے زمین بنائی جس پر آرام سے رہتے سہتے ہو وہ ہلتی جلتی نہیں ہے اور اس نے آسمان کو تمہارے لیے ایک چھت بنا دیا اوپر دیکھتے ہو تو دل خوش ہوتا ہے اور فرمایا کہ اللہ نے تمہاری صورتیں بنائیں اور اچھی صورتیں بنائیں پھر مزید یہ کرم فرمایا کہ پاکیزہ عمدہ چیزیں عطاء فرمائیں جو کھانے کی چیزیں بھی ہیں اور پہننے کی بھی ہیں اور دوسرے مواقع پر بھی استعمال ہوتی ہیں جس نے تمہیں ان چیزوں سے نوازا یہ اللہ ہے تمہارا رب ہے بابرکت ہے رب العلمین ہے وہ زندہ ہے اس کی حیات ذاتی ہے حقیقی ہے ازلی و ابدی ہے ان باتوں کو سمجھو اور یقین کرو کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے لہٰذا اسی کو پکارو اسی سے مانگو اسی کی عبادت کرو اور ایسی عبادت کرو کہ عبادت اور طاعت خالص اسی کے لیے ہو آخر میں فرمایا (اَلْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ) (سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

63:۔ ” اللہ الذی جعل “ یہ توحید پر پہلی عقلی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی نے رات کو تمہارے آرام کے لیے تاریک اور دن کو تمہارے کام کاج کے لیے روشن بنایا۔ بیشک اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان اور متفضل ہے، لیکن اکثر لوگ اس کے انعامات کا شکر ادا نہیں کرتے۔ ” ذلکم اللہ ربکم الخ “ یہ دلیل کا نتیجہ وثمرہ ہے۔ یہ اللہ جو صفا بالا سے متصف ہے، نظام شمسی (نظام کائنات) جس کے ہاتھ میں ہے وہی تمہارا رب ہے ہر چیز کا خالق، لہذا اس کے سوا کوئی الہ نہیں، بس صرف اسی کی عبادت کرو اور مصائب و حاجات میں مافوق الاسباب صرف اسی کو پکارو۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے ایسے روشن دلائل کے باوجود تم کدھر الٹے جارہے ہو، تمہای عقل و فکر کو کیا ہوگیا ہے۔ اللہ کے سوا ایسوں کو معبود اور کارساز ٹھہرا رکھا ہے جو بالکل عاجز ہیں۔ فکیف ومن ای جھۃ تصرفون من عبادتہ سبحانہ الی عبادۃ غیرہ عز وجل (روح ج 24 س 83) ۔ ” کذلک یوفک الخ “ جو لوگ مھض ضد وعناد کی وجہ سے اللہ کی آیتوں کا انکار کریں اور انصاف سے ان میں غور و فکر نہ کریں ان کی عقل اسی طرح ماری جاتی ہے اور وہ سیدھی راہ سے بھٹک جاتے ہیں ای کل من جحد بایات اللہ ولم یتاملہا ولم یطلب الھق (فک کما افکوا۔ (مدارک ج 4 ص 64) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(61) اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاک کہ تم اس میں آرام حاصل کرو اور اس نے دن کی روشن اور دکھانے والا بنایا بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر بڑا ہی فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ اس کا شکر نہیں بجا لاتے اور اس کا احسان نہیں مانتے۔ یعنی رات آرام کو اور دن روزی کمانے کو بنایا اللہ تعالیٰ نے بندوں پر کس قدر احسان فرمایا اور بندوں کی مصلحت کی کتنی رعایت فرمائی لیکن بندوں کی یہ حالت کہ وہ حق ماننے کی بجائے ناسپاسی کرتے ہیں۔