89 For explanation, see An-Naml: 61 and E.N. 74 on it.
90 That is, "You have not been exposed to outer space so that heavenly calamities should rain on you and annihilate you completely, but We have built over the earth a fully fortified celestial system (which appears like a dome to the eye), which does not allow any destructive element to reach you; so much so that even the destructive cosmic rays cannot reach you and that is. how you are living peacefully on the earth. "
91 That is, "We had provided for you such a safe and peaceful place of rest even before your creation. Then We created you and gave you a fine body with most appropriate limbs and physical and mental powers of a high calibre. You did not create this erect stature, these hands and feet, these eyes and nose and ears, this talking tongue and this brain, which is a treasure-house of great capabilities, nor were these created by your mother and father, nor had a prophet . or a saint or a god the power to create them. Their Maker and Creator was the All-Wise, All-Merciful, All-Mighty Sovereign, Who created Man with this wonderful body to function in the world, when He decided to bring him into being. Then as soon as you were created, you found by His beneficence a vast table laid out with pure provisions containing items of pure food which is not poisonous but health-giving, which is not bitter and tasteless but tasty, which u not , rotten and stale and stinking but goodsmelling, which is not lifeless dregs but rich in vitamins and useful organic substances, so essential for the proper development and nourishment of yew body. Who has provided in such abundance this water, and corn, vegetables, fruits, milk, honey, meat and condiments, which not only add relish to your food but also provide you vitality and pleasures of life? And who has made the arrangements that these measureless granaries of food should go on coming out from the earth endlessly and their supply should never fail? Just consider this: What would have become of life if there had been no arrangement of food and man had been brought into existence suddenly? Is this not a clear proof that Your Creator is not merely a Creator but is an All-Wist Creator and All-Merciful Lord? (For further explanation, see Hud: 6, An-Naml 60-66 and the E.N.'s thereof):
سورة الْمُؤْمِن حاشیہ نمبر :89
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو جلد سوم ، النمل ، حواشی ۷٤ ۔ ۷۵
سورة الْمُؤْمِن حاشیہ نمبر :90
یعنی تمہیں کھلی فضا میں نہیں چھوڑ دیا گیا کہ عالم بالا کی آفات بارش کی طرح برس کر تم کو تہس نہس کر دیں ، بلکہ زمین کے اوپر ایک نہایت مستحکم سماوی نظام ( جو دیکھنے والی آنکھ کو گنبد کی طرح نظر آتا ہے ) تعمیر کر دیا جس سے گزر کر کوئی تباہ کن چیز تم تک نہیں پہنچ سکتی ، حتیٰ کہ آفاق کی مہلک شعاعیں تک نہیں پہنچ سکتیں ، اور اسی وجہ سے تم امن و چین کے ساتھ زمین پر جی رہے ہو ۔
سورة الْمُؤْمِن حاشیہ نمبر :91
یعنی تمہارے پیدا کرنے سے پہلے تمہارے لیے اس قدر محفوظ اور پر امن جائے قرار مہیا کی ۔ پھر تمہیں پیدا کیا تو اس طرح کہ ایک بہترین جسم ، نہایت موزوں اعضاء اور نہایت اعلیٰ درجہ کی جسمانی و ذہنی قوتوں کے ساتھ تم کو عطا کیا ۔ یہ سیدھا قامت ، یہ ہاتھ اور یہ پاؤں ، یہ آنکھ ناک اور یہ کان ، یہ بولتی ہوئی زبان اور یہ بہترین صلاحیتوں کا مخزن دماغ تم خود بنا کر نہیں لے آئے تھے ، نہ تمہاری ماں اور تمہارے باپ نے انہیں بنایا تھا ، نہ کوئی نبی یا ولی یا دیوتا میں یہ قدرت تھی کہ انہیں بناتا ۔ ان کا بنانے والا وہ حکیم و رحیم قادر مطلق تھا جس نے انسان کو وجود میں لانے کا جب فیصلہ کیا تو اسے دنیا میں کام کرنے کے لیے ایسا بے نظیر جسم دے کر پیدا کیا ۔ پھر پیدا ہوتے ہی اس کی مہربانی سے تم نے اپنے لیے پاکیزہ رزق کا ایک وسیع خوان یغما بچھا ہوا پایا ۔ کھانے اور پینے کا ایسا پاکیزہ سامان جو زہریلا نہیں بلکہ صحت بخش ہے ، کڑوا کسیلا اور بد مزہ نہیں بلکہ خوش ذائقہ ہے ، سڑا بسا اور بدبو دار نہیں بلکہ خوش رائحہ ہے ، بے جان پھوک نہیں بلکہ ان حیاتینوں اور مفید غذائی مادوں سے مالا مال ہے جو تمہارے جسم کی پرورش اور نشو و نما کے لیے موزوں ترین ہیں ۔ یہ پانی ، یہ غلے ، یہ ترکاریاں ، یہ پھل ، یہ دودھ ، یہ شہد ، یہ گوشت ، یہ نمک مرچ اور مسالے ، جو تمہارے ، جو تمہارے تغذیے کے لیے اس قدر موزوں اور تمہیں زندگی کی طاقت ہی نہیں ، زندگی کا لطف دینے کے لیے بھی اس قدر مناسب ہیں ، آخر کس نے اس زمین پر اتنی افراط کے ساتھ مہیا کیے ہیں ، اور کس نے یہ انتظام کیا ہے کہ غذا کے یہ بے حساب خزانے زمین سے پے در پے نکلتے چلے آئیں اور ان کی رسد کا سلسلہ کبھی ٹوٹنے نہ پائے؟ یہ رزق کا انتظام نہ ہوتا اور بس تم پیدا کر دیے جاتے تو سوچو کہ تمہاری زندگی کا کیا رنگ ہوتا ۔ کیا یہ اس بات کا صریح ثبوت نہیں ہے کہ تمہارا پیدا کرنے والا محض خالق ہی نہیں بلکہ خالق حکیم اور رب رحیم ہے؟ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو جلد دوم ، ہود ، حواشی٦ ۔ ۷ ، جلد سوم ، النمل ، حواشی ۷۳ تا۸۳ )