Surat ul Momin

Surah: 40

Verse: 64

سورة مومن

اَللّٰہُ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرۡضَ قَرَارًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً وَّ صَوَّرَکُمۡ فَاَحۡسَنَ صُوَرَکُمۡ وَ رَزَقَکُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ؕ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمۡ ۚ ۖ فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۶۴﴾

It is Allah who made for you the earth a place of settlement and the sky a ceiling and formed you and perfected your forms and provided you with good things. That is Allah , your Lord; then blessed is Allah , Lord of the worlds.

اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو ٹھہرنے کی جگہ اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہاری صورتیں بنائیں اور بہت اچھی بنائیں اور تمہیں عمدہ عمدہ چیزیں کھانے کو عطا فرمائیں یہی اللہ تمہارا پروردگار ہے ، پس بہت ہی برکتوں والا اللہ ہے سارے جہان کا پرورش کرنے والا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

اللَّهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الاَْرْضَ قَرَارًا ... Allah, it is He Who has made for you the earth as a dwelling place, means, `He made it stable and spread it out for you, so that you might live on it and travel about in it; He strengthened it with the mountains so that it does not shake with you.' ... وَالسَّمَاء بِنَاء ... and the sky as a canopy, means, `a roof covering and protecting the world.' ... وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ ... and has given you shape and made your shapes good, means, `He created you in the best and most perfect form.' ... وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ ... and has provided you with good and pure things. means, of food and drink in this world. Allah states that that He is the Creator of the dwelling place and of the inhabitants and of the provision; He is the Creator and Provider, as He says in Surah Al-Baqarah: يَـأَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُواْ رَبَّكُمُ الَّذِىْ خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ الَّذِى جَعَلَ لَكُمُ الاٌّرْضَ فِرَاشاً وَالسَّمَأءَ بِنَأءً وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَأءِ مَأءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَتِ رِزْقاً لَّكُمْ فَلَ تَجْعَلُواْ للَّهِ أَندَاداً وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ O mankind! Worship your Lord (Allah), Who created you and those who were before you so that you may have Taqwa. Who has made the earth a resting place for you, and the sky as a canopy, and sent down water (rain) from the sky and brought forth therewith fruits as a provision for you. Then do not set up rivals unto Allah while you know. (2:21-22) And here Allah says, after mentioning the creation of all these things: ... ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ فَتَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ That is Allah, your Lord, so Blessed be Allah, the Lord of all that exists. meaning, exalted and sanctified and glorified be Allah, the Lord of all the worlds. Then He says:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

64۔ 1 آگے نعمتوں کی کچھ قسمیں بیان کی جا رہی ہیں تاکہ اللہ کی قدرت کاملہ بھی واضح ہوجائے اور اس کا بلا شرکت غیرے معبود ہونا بھی۔ 64۔ 2 جس میں تم رہتے چلتے پھرتے کاروبار کرتے اور زندگی گزارتے ہو پھر بالآخر موت سے ہمکنار ہو کر قیامت تک کے لیے اسی میں آسودہ خواب رہتے ہو۔ 64۔ 3 یعنی قائم اور ثابت رہنے والی چھت اگر اس کے گرنے کا اندیشہ رہتا تو کوئی شخص آرام کی نیند سو سکتا تھا نہ کسی کے لیے کاروبار حیات کرنا ممکن ہوتا۔ ۔ 64۔ 4 جتنے بھی روئے زمین پر حیوانات ہیں، ان سب میں (تم) انسانوں کو سب سے زیادہ خوش شکل اور متناسب الا، عضا بنایا ہے۔ 64۔ 5 یعنی اقسام و انواع کے کھانے تمہارے لئے مہیا کئے، جو لذیذ بھی ہیں اور قوت بخش بھی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٣] زمین کے جائے قرار ہونے کے مختلف پہلو :۔ زمین کے جائے قرار ہونے کے بھی کئی پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا تو وہ ہچکولے کھاتی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ایسے توازن و تناسب سے اس میں پہاڑ رکھ دیئے کہ وہ انسانوں اور تمام جانداروں کے لئے جائے قرار بن گئی۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ انسان اسی زمین پر پیدا ہوتا ہے اسی پر زندگی گزارتا ہے اسی میں مرنے کے بعد دفن ہوتا ہے اور تیسرا پہلو یہ ہے کہ انسان کے کھانے، پینے، لباس اور دوسری تمام ضروریات اسی زمین سے وابستہ ہیں۔ اور اگر اللہ تعالیٰ زمین میں ایسی خصوصیات نہ رکھ دیتا تو نہ یہاں کوئی جاندار زندہ رہ سکتا اور نہ ہی زمین جائے قرار بن سکتی تھی۔ [٨٤] آسمان ایک محفوظ چھت کیسے ؟ اس مقام پر آسمان کو چھت قرار دیا گیا ہے جبکہ سورة انبیاء کی آیت نمبر ٣٢ میں اسے (سَقْفًا مَّحْفُوْظًا 32؀) 21 ۔ الأنبیاء :32) یعنی محفوظ چھت قرار دیا گیا ہے۔ اور چھت کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آفات سماوی سے محفوظ رکھتا ہے یہی فائدہ آسمان دنیا کا ہے۔ اس وسیع کائنات میں لاتعداد سیارے، دمدار ستارے اور ٹوٹنے والے ستارے انتہائی تیز رفتاری سے تیرتے پھرتے ہیں۔ یہ آپس میں بعض دفعہ ٹکرا کر پاش پاش بھی ہوجاتے ہیں۔ مگر اللہ نے ہمارے اوپر یہ محفوظ چھت بنادی ہے۔ ورنہ عالم بالا کی آفات زمین پر بارش کی طرح برس کر زمین والوں کو تہس نہس کر دیتیں۔ اس آسمان سے گزر کر کوئی تباہ کن چیز ہم تک نہیں پہنچ سکتی۔ حتیٰ کہ آفاق کی مہلک شعاعیں بھی ہم تک نہیں پہنچ پاتیں۔ اسی وجہ سے ہم اس زمین پر امن و چین سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ [٨٥] جسمانی اعتبار سے انسان دوسرے جانوروں سے کن باتوں میں ممتاز ہے ؟:۔ تمہاری شکل و صورت تمام جانداروں سے اعلیٰ قسم کی بنائی۔ دوسرے جانداروں سے انسان کی نمایاں جسمانی خصوصیات یہ ہیں کہ تمام جاندار اپنے منہ سے غذا کھاتے ہیں جبکہ انسان اپنے ہاتھ سے خوراک منہ تک لے جاتا ہے اکثر جاندار زمین پر ہی رینگتے یا چار پیروں پر چلتے ہیں۔ جبکہ انسان دو پاؤں پر چلتا ہے اور اپنا جسم سیدھا رکھ کر چلتا ہے۔ انسان کے ہاتھ اور پاؤں کثیرالمقاصد ہیں جتنا کام انسان اپنے ہاتھ پاؤں سے لے سکتا ہے۔ دوسرا کوئی جاندار نہیں لے سکتا اس کے بےنظیر جسم اور جسمانی صلاحیتوں کے علاوہ جتنی ذہنی صلاحیتیں اللہ تعالیٰ نے انسان کو بخشی ہیں وہ کسی دوسرے جاندار کو نہیں دی گئیں۔ اور یہ صلاحیتیں عطا کرنا محض اللہ کا فضل و کرم ہے جس میں کسی دیوتا، کسی نبی اور ولی اور بزرگ کا کچھ دخل نہیں ہوتا۔ [٨٦] زمین کی پیداوارکا بہترین حصہ انسان کے لئے ہے زمینی پیداوار سے انسان کا بیشمار اشیاء بناکر کا لطف اٹھانا :۔ جتنی بھی پیداوار زمین سے اگتی ہے اس کا بہترین حصہ انسان کی خوراک کے کام آتا ہے کسی جاندار کو اتنی عمدہ اور لذیذ چیزیں کھانے کو میسر نہیں آسکتیں۔ جتنی انسان کو یہ میسر آتی ہیں۔ یہ ٹھنڈا میٹھا اور نتھرا ہوا صاف شفاف پانی، یہ غلے، یہ پھل، یہ ترکاریاں، یہ دودھ، یہ شہد، یہ گوشت، یہ نمک مرچ اور مسالے انسان کی صرف غذا کا ہی کام نہیں دیتے بلکہ انسان ان سے اور پھر ان سے دوسری بہت چیزیں تیار کرکے زندگی کا لطف اٹھاتا ہے۔ پھر انسان خوشبودار پھولوں اور ان سے عطریات تیار کرکے جو لطف اٹھاتا ہے وہ دوسرے کسی جاندار کے حصہ میں نہیں آتے۔ یہ سب چیزیں آخر کس نے اتنی فراوانی کے ساتھ زمین پر پیدا کی ہیں اور کس نے یہ انتظام کیا ہے کہ غذا کے یہ بےحساب خزانے زمین سے پے در پے نکلتے چلے آتے ہیں اور ان میں کبھی انقطاع واقع نہیں ہوتا اگر اللہ تعالیٰ تمہارے پاکیزہ رزق کا یہ انتظام نہ فرماتا تو تم خود سوچ لو کہ تمہاری زندگی کیسی بےکیف ہوتی۔ کیا یہ بات اس امرکا صریح ثبوت نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ محض خالق ہی نہیں بلکہ وہ حکیم اور رحیم بھی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) اللہ الذی جعل لکم الارض قراراً …: اس سے پہلے لیل و نہار کے ذکر کے ساتھ زمانی نعمتوں کا ذکر فرمایا : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان پر پانی بیشمار نعمتوں میں سے مزید پانچ نعمتوں کا ذکر فرما اکر اپنے اکیلے رب ہونے کی یاد دہانی فرمائی۔ ان نعمتوں کا تعلق مکان سے ہے یا انسان کی ذات یہ۔ پہلی نعمت زمین کو رہنے کی جگہ بنانا ہے۔ اس میں کئی چیزیں شامل ہیں، ایک یہ کہ اس نے زمین کو پیدا کیا تو ہم چکولے کھاتی تھی، پھر اس میں ایسے توازن و تنساب سے پہاڑ گاڑ دیے کہ وہ انسانوں اور تمام جاندارں کے لئے جائے قرار بن گئی۔ اگر اس میں مسلسل زلزلے کی کیفیت رہتی تو کوئی متنفس اس پر نہ بس سکتا۔ (دیکھیے نحل : ١٥۔ انبیائ : ٣١- لقمان : ١٠) دوسری یہ کہ زمین انسان کو اور تمام جان داروں کو زندگی میں بسیرا مہیا کرتی ہیا ور مرنے کے بعد بھی انہیں سمیٹتی ہے، اگر اس میں یہ وصف نہ ہوتا تو تعفن کی وجہ سے کوئی جاندار زندہ و سلامت نہ رہتا۔ (دیکھیے مرسلات : ٢٥، ٢٦) اور تیسری یہ کہ انسان کی تمام ضروریات کھانا پینا اور لباس وغیرہ سب زمین سے وابستہ ہیں، اگر اللہ تعالیٰ اس میں یہ صفت نہ رکھتا تو کوئی جاندار یہاں زندہ نہیں رہ سکتا تھا۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر یہ بات بیان ہوئی ہے۔ دوسری نعمت آسمان کو چھت بنانا ہے، چھت بھی ستونوں کے بغیر اور گرنے سے اور ہر قسم کی آفات سے محفوظ۔ تفصیل کیلئے دیکھیے سورة انبیاء (٣٢) ، رعد (٢) اور لقمان (١٠) ۔ تیسیر نعمت انسان کی صورت بنانا ہے، وہ بھی نہایت اہتمام کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے۔ (دیکھیے سورة ص : ٣٨) چوتھی نعمت انسان کی صورت اچھی بنانا ہے، دوسرے جانوروں کے برعکس وہ سیدھے قد کے ساتھ دو پاؤں پر چلتا ہے اور ہاتھ کے ساتھ کھانا پیتا ہے۔ مزید تفصیل کیلئے سورة بنی اسرائیل کی آیت (٧٠) : (ولقد کرمنا بنی ادم وحملنھم فی البرو البحر) کی تفسیر دیکھیں۔ پانچویں نعمت ” طیبات “ (پاکیزہ چیزیں) بطور رزق عطا کرنا ہے۔” الطیبت “ کا لفظ حرام و حلال کے سلسلے میں آئے تو مراد حلال چیزیں ہوتی ہیں اور انعام کے طور پر ذکر کیا جائے تو اس سے مراد لذیذ چیزیں ہوتی ہیں۔ یہاں یہی مراد ہے، کیونکہ تمام جانوروں کے برعکس انسان کی خوراک ہر چیز میں سے اس کا لذیذ ترین حصہ ہے ۔ خوراک کے علاوہ اس میں نکاح، لباس، زینت اور بود و باش کی بیشمار طیبات شامل ہیں۔ (٢) ذلکم اللہ ربکم، اس کی تفسیر پچھلی آیات میں گزر چکی ہے۔ (٣) فتبرک اللہ رب العلمین : ” تبارک “ کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة ملک کی پہلی آیت۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In verse 64, it was said: وَصَوَّرَ‌كُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَ‌كُمْ (and shaped you, and made your shapes so good -). Allah Ta’ ala has blessed the human person with the most distinct, superior and better-balanced form and shape out of all animals. He was given reason. He was given such hands and feet that he could get together materials to make things for his needs and comfort. Then, his eating and drinking is different, rather far distinct from common animals. They eat or graze or drink directly with their mouth. He uses hands. Common animals eat singles. Some eat meat, others eat grass or leaves, that too in singles. Contrary to that, man eats by combining different things like meat, vegetables, spices, herbs and fruits. He eats by making his food taste good. His culinary creativity knows no bounds when he would take a single fruit from nature, and turn it into all sorts of delicious eatables like pies, fruit cakes, jams, preserves and chutneys. فَتَبَارَ‌كَ اللَّـهُ رَ‌بُّ الْعَالَمِينَ (Blessed is Allah, the Best Creator).

(آیت) وَّصَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ ۔ انسان کی صورت کو اللہ تعالیٰ نے سب جانوروں سے ممتاز، اعلیٰ اور بہتر ہئیت میں بنایا ہے۔ اس کو سوچنے سمجھنے کی عقل عطا فرمائی۔ اس کے ہاتھ پاؤں ایسے بنائے کہ ان سے طرح طرح کی اشیاء و مصنوعات بنا کر اپنی راحت کے سامان پیدا کرلیتا ہے۔ اس کا کھانا پینا بھی عام جانوروں سے ممتاز ہے وہ اپنے منہ سے چرتے اور پیتے ہیں یہ ہاتھوں سے کام لیتا ہے۔ عام جانوروں کی غذا مفردات سے ہے، کوئی گوشت کھاتا ہے کوئی گھاس اور پتے اور وہ بھی بالکل مفرد بخلاف انسان کے کہ یہ اپنے کھانے کو مختلف قسم کی چیزوں پھلوں، ترکاریوں، گوشت اور مصالحہ سے لذیذ و مرغوب بنا کر کھاتا ہے۔ ایک ایک پھل سے طرح طرح کے کھانے اور اچار، مربے، چٹنی تیار کرتا ہے۔ فتبارک اللہ احسن الخالقین۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَللہُ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّالسَّمَاۗءَ بِنَاۗءً وَّصَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ۝ ٠ ۭ ذٰلِكُمُ اللہُ رَبُّكُمْ۝ ٠ ۚۖ فَتَبٰرَكَ اللہُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ۝ ٦٤ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ قرار قَرَّ في مکانه يَقِرُّ قَرَاراً ، إذا ثبت ثبوتا جامدا، وأصله من القُرِّ ، وهو البرد، وهو يقتضي السّكون، والحرّ يقتضي الحرکة، وقرئ : وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ [ الأحزاب/ 33] «1» قيل «2» : أصله اقْرِرْنَ فحذف إحدی الرّاء ین تخفیفا نحو : فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ [ الواقعة/ 65] ، أي : ظللتم . قال تعالی: جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَراراً [ غافر/ 64] ( ق ر ر ) قرر فی مکانہ یقر قرار ا ( ض ) کے معنی کسی جگہ جم کر ٹھہر جانے کے ہیں اصل میں یہ فر سے ہے جس کے معنی سردی کے ہیں جو کہ سکون کو چاہتی ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ [ الأحزاب/ 33 اور اپن گھروں میں ٹھہری رہو ۔ میں ایک قرات وقرن فی بیوتکن ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں اقررن ہے ایک راء کو تخفیف کے لئے خلاف کردیا گیا ہے جیسا کہ آیت ؛ فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ [ الواقعة/ 65] ، ہے اور ایک ) لام کو تخفیفا حذف کردیا گیا ہے ۔ القرار ( اسم ) ( ٹھہرنے کی جگہ ) قرآن میں ہے : جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَراراً [ غافر/ 64]( جس نے ) زمین کو قرار لگا دبنا یا سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ بنی يقال : بَنَيْتُ أَبْنِي بِنَاءً وبِنْيَةً وبِنًى. قال عزّ وجلّ : وَبَنَيْنا فَوْقَكُمْ سَبْعاً شِداداً [ النبأ/ 12] . والبِنَاء : اسم لما يبنی بناء، قال تعالی: لَهُمْ غُرَفٌ مِنْ فَوْقِها غُرَفٌ مَبْنِيَّةٌ [ الزمر/ 20] ، والبَنِيَّة يعبر بها عن بيت اللہ تعالیٰ «2» . قال تعالی: وَالسَّماءَ بَنَيْناها بِأَيْدٍ [ الذاریات/ 47] ، وَالسَّماءِ وَما بَناها [ الشمس/ 5] ، والبُنيان واحد لا جمع، لقوله تعالی: لا يَزالُ بُنْيانُهُمُ الَّذِي بَنَوْا رِيبَةً فِي قُلُوبِهِمْ [ التوبة/ 110] ، وقال : كَأَنَّهُمْ بُنْيانٌ مَرْصُوصٌ [ الصف/ 4] ، قالُوا : ابْنُوا لَهُ بُنْياناً [ الصافات/ 97] ، وقال بعضهم : بُنْيَان جمع بُنْيَانَة، فهو مثل : شعیر وشعیرة، وتمر وتمرة، ونخل ونخلة، وهذا النحو من الجمع يصح تذكيره وتأنيثه . و ( ب ن ی ) بنیت ابنی بناء وبنیتہ وبنیا کے معنی تعمیر کرنے کے ہیں قرآن میں ہے ۔ { وَبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا } ( سورة النبأ 12) اور تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنائے { وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ } ( سورة الذاریات 47) اور آسمانوں کو ہم ہی نے ہاتھوں سے بنایا ۔ { وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا } ( سورة الشمس 5) اور آسمان اور اس ذات کی ( قسم ) جس نے اسے بنایا ۔ البنیان یہ واحد ہے جمع نہیں ہے جیسا کہ آیات ۔ { لَا يَزَالُ بُنْيَانُهُمُ الَّذِي بَنَوْا رِيبَةً فِي قُلُوبِهِمْ } ( سورة التوبة 110) یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں ( موجب ) خلجان رہے گی ۔ { كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ } ( سورة الصف 4) کہ گویا سیساپلائی ہوئی دیوار ہیں :{ قَالُوا ابْنُوا لَهُ بُنْيَانًا فَأَلْقُوهُ فِي الْجَحِيمِ } ( سورة الصافات 97) وہ کہنے لگے کہ اس کے لئے ایک عمارت بناؤ ۔ سے معلوم ہوتا ہے ۔ بعض کے نزدیک یہ بنیانۃ کی جمع ہے اور یہ : شعیر شعیر وتمر وتمر ونخل ونخلتہ کی طرح ہے یعنی جمع اور مفرد میں تا کے ساتھ فرق کرتے ہیں اور جمع کی اس قسم میں تذکر وتانیث دونوں جائز ہوتے ہیں لَهُمْ غُرَفٌ مِنْ فَوْقِها غُرَفٌ مَبْنِيَّةٌ [ الزمر/ 20] ان کے لئے اونچے اونچے محل ہیں جن کے اوپر بالا خانے بنے ہوئے ہیں ۔ بناء ( مصدر بمعنی مفعول ) عمارت جمع ابنیتہ البنیتہ سے بیت اللہ مراد لیا جاتا ہے صور الصُّورَةُ : ما ينتقش به الأعيان، ويتميّز بها غيرها، وذلک ضربان : أحدهما محسوس يدركه الخاصّة والعامّة، بل يدركه الإنسان وكثير من الحیوان، كَصُورَةِ الإنسانِ والفرس، والحمار بالمعاینة، والثاني : معقول يدركه الخاصّة دون العامّة، کالصُّورَةِ التي اختصّ الإنسان بها من العقل، والرّويّة، والمعاني التي خصّ بها شيء بشیء، وإلى الصُّورَتَيْنِ أشار بقوله تعالی: ثُمَّ صَوَّرْناكُمْ [ الأعراف/ 11] ، وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ [ غافر/ 64] ، وقال : فِي أَيِّ صُورَةٍ ما شاء رَكَّبَكَ [ الانفطار/ 8] ، يُصَوِّرُكُمْ فِي الْأَرْحامِ [ آل عمران/ 6] ، وقال عليه السلام : «إنّ اللہ خلق آدم علی صُورَتِهِ» «4» فَالصُّورَةُ أراد بها ما خصّ الإنسان بها من الهيئة المدرکة بالبصر والبصیرة، وبها فضّله علی كثير من خلقه، وإضافته إلى اللہ سبحانه علی سبیل الملک، لا علی سبیل البعضيّة والتّشبيه، تعالیٰ عن ذلك، وذلک علی سبیل التشریف له کقوله : بيت الله، وناقة الله، ونحو ذلك . قال تعالی: وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي [ الحجر/ 29] ، وَيَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ [ النمل/ 87] ، فقد قيل : هو مثل قرن ينفخ فيه، فيجعل اللہ سبحانه ذلک سببا لعود الصُّوَرِ والأرواح إلى أجسامها، وروي في الخبر «أنّ الصُّوَرَ فيه صُورَةُ الناس کلّهم» «1» ، وقوله تعالی: فَخُذْ أَرْبَعَةً مِنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَ«2» أي : أَمِلْهُنَّ من الصَّوْرِ ، أي : المیل، وقیل : قَطِّعْهُنَّ صُورَةً صورة، وقرئ : صرهن «3» وقیل : ذلک لغتان، يقال : صِرْتُهُ وصُرْتُهُ «4» ، وقال بعضهم : صُرْهُنَّ ، أي : صِحْ بِهِنَّ ، وذکر الخلیل أنه يقال : عصفور صَوَّارٌ «5» ، وهو المجیب إذا دعي، وذکر أبو بکر النّقاش «6» أنه قرئ : ( فَصُرَّهُنَّ ) «7» بضمّ الصّاد وتشدید الرّاء وفتحها من الصَّرِّ ، أي : الشّدّ ، وقرئ : ( فَصُرَّهُنَّ ) «8» من الصَّرِيرِ ، أي : الصّوت، ومعناه : صِحْ بهنّ. والصَّوَارُ : القطیع من الغنم اعتبارا بالقطع، نحو : الصّرمة والقطیع، والفرقة، وسائر الجماعة المعتبر فيها معنی القطع . ( ص و ر ) الصورۃ : کسی عین یعنی مادی چیز کے ظاہر ی نشان اور خدوخال جس سے اسے پہچانا جاسکے اور دوسری چیزوں سے اس کا امتیاز ہوسکے یہ دو قسم پر ہیں ( 1) محسوس جن کا ہر خاص وعام ادراک کرسکتا ہو ۔ بلکہ انسان کے علاوہ بہت سے حیوانات بھی اس کا ادراک کرلیتے ہیں جیسے انسان فرس حمار وغیرہ کی صورتیں دیکھنے سے پہچانی جاسکتی ہیں ( 2 ) صؤرۃ عقلیہ جس کا ادارک خاص خاص لوگ ہی کرسکتے ہوں اور عوام کے فہم سے وہ بالا تر ہوں جیسے انسانی عقل وفکر کی شکل و صورت یا وہ معانی یعنی خاصے جو ایک چیز میں دوسری سے الگ پائے جاتے ہیں چناچہ صورت کے ان پر ہر دو معانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : ۔ ثُمَّ صَوَّرْناكُمْ [ الأعراف/ 11] پھر تمہاری شکل و صورت بنائی : وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ [ غافر/ 64] اور اس نے تمہاری صورتیں بنائیں اور صؤرتیں بھی نہایت حسین بنائیں ۔ فِي أَيِّ صُورَةٍ ما شاء رَكَّبَكَ [ الانفطار/ 8] اور جس صورت میں چاہا تجھے جو ڑدیا ۔ جو ماں کے پیٹ میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہاری صورتیں بناتا ہے ۔ اور حدیث ان اللہ خلق ادم علیٰ صؤرتہ کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو اس کی خصوصی صورت پر تخلیق کیا ۔ میں صورت سے انسان کی وہ شکل اور ہیت مراد ہے جس کا بصرہ اور بصیرت دونوں سے ادارک ہوسکتا ہے اور جس کے ذریعہ انسان کو بہت سی مخلوق پر فضیلت حاصل ہے اور صورتہ میں اگر ہ ضمیر کا مرجع ذات باری تعالیٰ ہو تو اللہ تعالیٰ کی طرف لفظ صورت کی اضافت تشبیہ یا تبعیض کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ اضافت ملک یعنی ملحاض شرف کے ہے یعنی اس سے انسان کے شرف کو ظاہر کرنا مقصود ہے جیسا کہ بیت اللہ یا ناقۃ اللہ میں اضافت ہے جیسا کہ آیت کریمہ : ۔ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي [ الحجر/ 29] میں روح کی اضافت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف کی ہے اور آیت کریمہ وَيَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ [ النمل/ 87] جس روز صور پھونکا جائیگا ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ صؤر سے قرآن یعنی نر سنگھے کی طرح کی کوئی چیز مراد ہے جس میں پھونکا جائیگا ۔ تو اس سے انسانی صورتیں اور روحیں ان کے اجسام کی طرف لوٹ آئیں گی ۔ ایک روایت میں ہے ۔ ان الصورفیہ صورۃ الناس کلھم) کہ صور کے اندر تمام لوگوں کی صورتیں موجود ہیں اور آیت کریمہ : ۔ فَخُذْ أَرْبَعَةً مِنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَ«2» میں صرھن کے معنی یہ ہیں کہ ان کو اپنی طرف مائل کرلو اور ہلالو اور یہ صور سے مشتق ہے جس کے معنی مائل ہونے کے ہیں بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی پارہ پارہ کرنے کے ہیں ایک قرات میں صرھن ہے بعض کے نزدیک صرتہ وصرتہ دونوں ہم معنی ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ صرھن کے معنی ہیں انہیں چلا کر بلاؤ چناچہ خلیل نے کہا ہے کہ عصفور صؤار اس چڑیا کو کہتے ہیں جو بلانے والے کی آواز پر آجائے ابوبکر نقاش نے کہا ہے کہ اس میں ایک قرات فصرھن ضاد کے ضمہ اور مفتوحہ کے ساتھ بھی ہے یہ صر سے مشتق ہے اور معنی باندھنے کے ہیں اور ایک قرات میں فصرھن ہے جو صریربمعنی آواز سے مشتق ہے اور معنی یہ ہیں کہ انہیں بلند آواز دے کر بلاؤ اور قطع کرنے کی مناسبت سے بھیڑبکریوں کے گلہ کو صوار کہاجاتا ہے جیسا کہ صرمۃ قطیع اور فرقۃ وغیرہ الفاظ ہیں کہ قطع یعنی کاٹنے کے معنی کے اعتبار سے ان کا اطلاق جماعت پر ہوتا ہے ۔ احسان الإحسان فوق العدل، وذاک أنّ العدل هو أن يعطي ما عليه، ويأخذ أقلّ مما له، والإحسان أن يعطي أكثر مما عليه، ويأخذ أقلّ ممّا له «3» . فالإحسان زائد علی العدل، فتحرّي العدل واجب، وتحرّي الإحسان ندب وتطوّع، وعلی هذا قوله تعالی: وَمَنْ أَحْسَنُ دِيناً مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ [ النساء/ 125] ، وقوله عزّ وجلّ : وَأَداءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 178] ، ولذلک عظّم اللہ تعالیٰ ثواب المحسنین، فقال تعالی: وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ [ العنکبوت/ 69] ، وقال تعالی:إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ [ البقرة/ 195] ، وقال تعالی: ما عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلٍ [ التوبة/ 91] ، لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هذِهِ الدُّنْيا حَسَنَةٌ [ النحل/ 30] . ( ح س ن ) الحسن الاحسان ( افعال ) احسان عدل سے بڑھ کر چیز ہے کیونکہ دوسرے کا حق پورا دا کرنا اور اپنا حق پورا لے لینے کا نام عدل ہے لیکن احسان یہ ہے کہ دوسروں کو ان کے حق سے زیادہ دیا جائے اور اپنے حق سے کم لیا جائے لہذا احسان کا درجہ عدل سے بڑھ کر ہے ۔ اور انسان پر عدل و انصاف سے کام لینا تو واجب اور فرض ہے مگر احسان مندوب ہے ۔ اسی بنا پر فرمایا :۔ وَمَنْ أَحْسَنُ دِيناً مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ [ النساء/ 125] اور اس شخص سے کس کا دین اچھا ہوسکتا ہے جس نے حکم خدا قبول کیا اور وہ نیکو کا ر بھی ہے ۔ اور فرمایا ؛ وَأَداءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 178] اور پسندیدہ طریق سے ( قرار داد کی ) پیروی ( یعنی مطالبہ خونہار ) کرنا ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محسنین کے لئے بہت بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا :۔ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ [ العنکبوت/ 69] اور خدا تو نیکو کاروں کے ساتھ ہے ۔ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ [ البقرة/ 195] بیشک خدا نیکی کرنیوالوں کو دوست رکھتا ہے ۔ ما عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلٍ [ التوبة/ 91] نیکو کاروں پر کسی طرح کا الزام نہیں ہے ۔ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هذِهِ الدُّنْيا حَسَنَةٌ [ النحل/ 30] جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ان کے لئے بھلائی ہے ۔ رزق الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة «2» ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم، ( ر ز ق) الرزق وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق کہاجاتا ہے جو پیٹ میں پہنچ کر غذا بنتی ہے ۔ کہاجاتا ہے ۔ اعطی السلطان رزق الجنود بادشاہ نے فوج کو راشن دیا ۔ رزقت علما ۔ مجھے علم عطا ہوا ۔ قرآن میں ہے : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] یعنی جو کچھ مال وجاہ اور علم ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے صرف کرو طيب يقال : طَابَ الشیءُ يَطِيبُ طَيْباً ، فهو طَيِّبٌ. قال تعالی: فَانْكِحُوا ما طاب لَكُمْ [ النساء/ 3] ، فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ [ النساء/ 4] ، وأصل الطَّيِّبِ : ما تستلذّه الحواسّ ، وما تستلذّه النّفس، والطّعامُ الطَّيِّبُ في الشّرع : ما کان متناولا من حيث ما يجوز، ومن المکان الّذي يجوز فإنّه متی کان کذلک کان طَيِّباً عاجلا وآجلا لا يستوخم، وإلّا فإنّه۔ وإن کان طَيِّباً عاجلا۔ لم يَطِبْ آجلا، وعلی ذلک قوله : كُلُوا مِنْ طَيِّباتِ ما رَزَقْناكُمْ [ البقرة/ 172] ( ط ی ب ) طاب ( ض ) الشئی یطیب طیبا فھم طیب ( کے معنی کسی چیز کے پاکیزہ اور حلال ہونے کے ہیں ) قرآن میں ہے : : فَانْكِحُوا ما طاب لَكُمْ [ النساء/ 3] تو ان کے سوا عورتیں تم کو پسند ہوں ان سے نکاح کرلو ۔ ، فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ [ النساء/ 4] ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے تم کو چھوڑدیں ۔ اصل میں طیب اسے کہا جاتا ہے جس سے انسان کے حواس بھی لذت یاب ہوں اور نفس بھی اور شریعت کی رو سے الطعام الطیب اس کھانے کو کہا جائے گا جو جائز طریق سے حاصل کیا جائے اور جائز جگہ سے جائز انداز کے مطابق لیا جائے کیونکہ جو غذا اس طرح حاصل کی جائے وہ دنیا اور آخرت دونوں میں خوشگوار ثابت ہوگی ورنہ دنیا کی خوشگوار چیزیں آخرت میں نقصان وہ ثابت ہونگی اسی بنا پر قرآن طیب چیزوں کے کھانے کا حکم دیتا ہے ۔ چناچہ فرمایا ۔ كُلُوا مِنْ طَيِّباتِ ما رَزَقْناكُمْ [ البقرة/ 172] جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں عطا فرمائی ہیں اور ان کو کھاؤ ۔ برك أصل البَرْك صدر البعیر وإن استعمل في غيره، ويقال له : بركة، وبَرَكَ البعیر : ألقی بركه، واعتبر منه معنی اللزوم، فقیل : ابْتَرَكُوا في الحرب، أي : ثبتوا ولازموا موضع الحرب، وبَرَاكَاء الحرب وبَرُوكَاؤُها للمکان الذي يلزمه الأبطال، وابْتَرَكَتِ الدابة : وقفت وقوفا کالبروک، وسمّي محبس الماء بِرْكَة، والبَرَكَةُ : ثبوت الخیر الإلهي في الشیء . قال تعالی: لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 96] ( ب رک ) البرک اصل میں البرک کے معنی اونٹ کے سینہ کے ہیں ( جس پر وہ جم کر بیٹھ جاتا ہے ) گو یہ دوسروں کے متعلق بھی استعمال ہوتا ہے اور اس کے سینہ کو برکۃ کہا جاتا ہے ۔ برک البعیر کے معنی ہیں اونٹ اپنے گھٹنے رکھ کر بیٹھ گیا پھر اس سے معنی لزوم کا اعتبار کر کے ابترکوا ا فی الحرب کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی میدان جنگ میں ثابت قدم رہنے اور جم کر لڑنے کے ہیں براکاء الحرب الحرب وبروکاءھا سخت کا ر زار جہاں بہ اور ہی ثابت قدم رہ سکتے ہوں ۔ ابترکت الدبۃ چو پائے کا جم کر کھڑا ہوجانا برکۃ حوض پانی جمع کرنے کی جگہ ۔ البرکۃ کے معنی کسی شے میں خیر الہٰی ثابت ہونا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 96] تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکات ( کے دروازے ) کھول دیتے ۔ یہاں برکات سے مراد بارش کا پانی ہے اور چونکہ بارش کے پانی میں اس طرح خیر ثابت ہوتی ہے جس طرح کہ حوض میں پانی ٹہر جاتا ہے اس لئے بارش کو برکات سے تعبیر کیا ہے ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ عالَمُ والعالَمُ : اسم للفلک وما يحويه من الجواهر والأعراض، وهو في الأصل اسم لما يعلم به کالطابع والخاتم لما يطبع به ويختم به، وجعل بناؤه علی هذه الصّيغة لکونه کا لآلة، والعَالَمُ آلة في الدّلالة علی صانعه، ولهذا أحالنا تعالیٰ عليه في معرفة وحدانيّته، فقال : أَوَلَمْ يَنْظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 185] ، وأمّا جمعه فلأنّ من کلّ نوع من هذه قد يسمّى عالما، فيقال : عالم الإنسان، وعالم الماء، وعالم النّار، وأيضا قد روي : (إنّ لله بضعة عشر ألف عالم) «1» ، وأمّا جمعه جمع السّلامة فلکون النّاس في جملتهم، والإنسان إذا شارک غيره في اللّفظ غلب حكمه، وقیل : إنما جمع هذا الجمع لأنه عني به أصناف الخلائق من الملائكة والجنّ والإنس دون غيرها . وقد روي هذا عن ابن عبّاس «2» . وقال جعفر بن محمد : عني به النّاس وجعل کلّ واحد منهم عالما «3» ، وقال «4» : العَالَمُ عالمان الکبير وهو الفلک بما فيه، والصّغير وهو الإنسان لأنه مخلوق علی هيئة العالم، وقد أوجد اللہ تعالیٰ فيه كلّ ما هو موجود في العالم الکبير، قال تعالی: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمِينَ [ الفاتحة/ 1] ، وقوله تعالی: وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعالَمِينَ [ البقرة/ 47] ، قيل : أراد عالمي زمانهم . وقیل : أراد فضلاء زمانهم الذین يجري كلّ واحد منهم مجری كلّ عالم لما أعطاهم ومكّنهم منه، وتسمیتهم بذلک کتسمية إبراهيم عليه السلام بأمّة في قوله : إِنَّ إِبْراهِيمَ كانَ أُمَّةً [ النحل/ 120] ، وقوله : أَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعالَمِينَ [ الحجر/ 70] . العالم فلک الافلاک اور جن جواہر واعراض پر حاوی ہے سب کو العالم کہا جاتا ہے دراصل یہ فاعل کے وزن پر ہے جو اسم آلہ کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے طابع بہ ۔ مایطبع بہ خاتم مایختم بہ وغیرہ اسی طرح عالم بھی ہے جس کے معنی ہیں ماعلم بہ یعنی وہ چیز جس کے ذریعہ کسی شے کا علم حاصل کیا جائے اور کائنات کے ذریعہ بھی چونکہ خدا کا علم حاصل ہوتا ہے اس لئے جملہ کائنات العالم کہلاتی ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن نے ذات باری تعالیٰ کی وحدانیت کی معرفت کے سلسلہ میں کائنات پر غور کرنے کا حکم دیا ہے ۔ چناچہ فرمایا ۔ أَوَلَمْ يَنْظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 185] کیا انہوں نے اسمان اور زمین گی بادشاہت پر غور نہیں کیا ۔ اور العالم کی جمع ( العالمون ) اس لئے بناتے ہیں کہ کائنات کی ہر نوع اپنی جگہ ایک مستقلی عالم عالم کی حیثیت رکھتی ہے مثلا عالم الاانسان؛عالم الماء وعالمالناروغیرہ نیز ایک روایت میں ہے ۔ ان اللہ بضعتہ عشر الف عالم کہ اللہ تعالیٰ نے دس ہزار سے کچھ اوپر عالم پیدا کئے ہیں باقی رہا یہ سوال کہ ( واؤنون کے ساتھ ) اسے جمع سلامت کے وزن پر کیوں لایا گیا ہے ( جو ذدی العقول کے ساتھ مختص ہے ) تو اس کا جواب یہ ہے کہ عالم میں چونکہ انسان بھی شامل ہیں اس لئے اس کی جمع جمع سلامت لائی گئی ہے کیونکہ جب کسی لفظ میں انسان کے ساتھ دوسری مخلوق بھی شامل ہو تو تغلیبا اس کی جمع واؤنون کے ساتھ بنالیتے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ چونکہ لفظ عالم سے خلائق کی خاص قسم یعنی فرشتے جن اور انسان ہی مراد ہیں جیسا کہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے ۔ اس لئے اس کی جمع واؤنون کے ساتھ لائی گئی ہے امام جعفر بن محمد کا قول ہے کہ عالیمین سے صرف انسان مراد ہیں اور ہر فرد بشر کو ایک عالم قرار دے کر اسے جمع لایا گیا ہے ۔ نیز انہوں نے کہا ہے کہ عالم دو قسم پر ہے ( 1 ) العالم الکبیر بمعنی فلک دمافیہ ( 2 ) العالم اصغیر یعنی انسان کیونکہ انسان کی تخلیق بھی ایک مستقل عالم کی حیثیت سے کی گئی ہے اور اس کے اندر قدرت کے وہ دلائل موجود ہیں جا عالم کبیر میں پائے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعالَمِينَ [ الحجر/ 70] کیا ہم نے تم کو سارے جہاں ( کی حمایت وطر فداری سے ) منع نہیں کیا الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمِينَ [ الفاتحة/ 1] سب تعریف خدا ہی کو سزا وار ہے جو تمام مخلوقات کو پروردگار ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعالَمِينَ [ البقرة/ 47] کے بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ تم یعنی بنی اسرائیل کو ان کی ہمعصراز قوام پر فضیلت دی اور بعض نے اس دور کے فضلا مراد لئے ہیں جن میں سے ہر ایک نواز شات الہٰی کی بدولت بمنزلہ ایک عالم کے تھا اور ان کو عالم سے موسم کرنا ایسے ہی ہے جیسا کہ آیت کریمہ : إِنَّ إِبْراهِيمَ كانَ أُمَّةً [ النحل/ 120] بیشک حضرت ابراہیم ایک امہ تھے میں حضرت ابراہیم کو امۃ کہا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اللہ ہی ہے جس نے زمین کو زندوں اور مردوں کی آرام گاہ بنایا اور آسمان کو اوپر چھت کی طرح بنایا اور رحموں کے اندر تمہاری شکلیں بنائیں اور جانوروں کی روزی کے مقابلہ میں تمہیں عمدہ عمدہ چیزیں کھانے کو دیں یا یہ کہ حلال روزی دی بس ان چیزوں کا خالق یہ اللہ ہے تمہارا رب اسی کا شکر کرو سو وہ بڑی عالی شان اور برکتوں والا ہے جو کہ ہر اس جاندار چیز کا بھی خدا ہے جو کہ روئے زمین پر موجود ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٤ { اَللّٰہُ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّالسَّمَآئَ بِنَآئً } ” اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے بنا دیا زمین کو ٹھہرنے کی جگہ اور آسمان کو چھت “ { وَّصَوَّرَکُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَکُمْ } ” اور تمہاری صورت گری کی ‘ تو کیا ہی عمدہ تمہاری صورتیں بنائیں “ { وَرَزَقَکُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ } ” اور تمہیں رزق بہم پہنچایا پاکیزہ چیزوں سے۔ “ { ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْج } ” وہ ہے اللہ تمہارا رب ! “ { فَتَبٰـرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ } ” تو بہت بابرکت ہے اللہ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

89 For explanation, see An-Naml: 61 and E.N. 74 on it. 90 That is, "You have not been exposed to outer space so that heavenly calamities should rain on you and annihilate you completely, but We have built over the earth a fully fortified celestial system (which appears like a dome to the eye), which does not allow any destructive element to reach you; so much so that even the destructive cosmic rays cannot reach you and that is. how you are living peacefully on the earth. " 91 That is, "We had provided for you such a safe and peaceful place of rest even before your creation. Then We created you and gave you a fine body with most appropriate limbs and physical and mental powers of a high calibre. You did not create this erect stature, these hands and feet, these eyes and nose and ears, this talking tongue and this brain, which is a treasure-house of great capabilities, nor were these created by your mother and father, nor had a prophet . or a saint or a god the power to create them. Their Maker and Creator was the All-Wise, All-Merciful, All-Mighty Sovereign, Who created Man with this wonderful body to function in the world, when He decided to bring him into being. Then as soon as you were created, you found by His beneficence a vast table laid out with pure provisions containing items of pure food which is not poisonous but health-giving, which is not bitter and tasteless but tasty, which u not , rotten and stale and stinking but goodsmelling, which is not lifeless dregs but rich in vitamins and useful organic substances, so essential for the proper development and nourishment of yew body. Who has provided in such abundance this water, and corn, vegetables, fruits, milk, honey, meat and condiments, which not only add relish to your food but also provide you vitality and pleasures of life? And who has made the arrangements that these measureless granaries of food should go on coming out from the earth endlessly and their supply should never fail? Just consider this: What would have become of life if there had been no arrangement of food and man had been brought into existence suddenly? Is this not a clear proof that Your Creator is not merely a Creator but is an All-Wist Creator and All-Merciful Lord? (For further explanation, see Hud: 6, An-Naml 60-66 and the E.N.'s thereof):

سورة الْمُؤْمِن حاشیہ نمبر :89 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو جلد سوم ، النمل ، حواشی ۷٤ ۔ ۷۵ سورة الْمُؤْمِن حاشیہ نمبر :90 یعنی تمہیں کھلی فضا میں نہیں چھوڑ دیا گیا کہ عالم بالا کی آفات بارش کی طرح برس کر تم کو تہس نہس کر دیں ، بلکہ زمین کے اوپر ایک نہایت مستحکم سماوی نظام ( جو دیکھنے والی آنکھ کو گنبد کی طرح نظر آتا ہے ) تعمیر کر دیا جس سے گزر کر کوئی تباہ کن چیز تم تک نہیں پہنچ سکتی ، حتیٰ کہ آفاق کی مہلک شعاعیں تک نہیں پہنچ سکتیں ، اور اسی وجہ سے تم امن و چین کے ساتھ زمین پر جی رہے ہو ۔ سورة الْمُؤْمِن حاشیہ نمبر :91 یعنی تمہارے پیدا کرنے سے پہلے تمہارے لیے اس قدر محفوظ اور پر امن جائے قرار مہیا کی ۔ پھر تمہیں پیدا کیا تو اس طرح کہ ایک بہترین جسم ، نہایت موزوں اعضاء اور نہایت اعلیٰ درجہ کی جسمانی و ذہنی قوتوں کے ساتھ تم کو عطا کیا ۔ یہ سیدھا قامت ، یہ ہاتھ اور یہ پاؤں ، یہ آنکھ ناک اور یہ کان ، یہ بولتی ہوئی زبان اور یہ بہترین صلاحیتوں کا مخزن دماغ تم خود بنا کر نہیں لے آئے تھے ، نہ تمہاری ماں اور تمہارے باپ نے انہیں بنایا تھا ، نہ کوئی نبی یا ولی یا دیوتا میں یہ قدرت تھی کہ انہیں بناتا ۔ ان کا بنانے والا وہ حکیم و رحیم قادر مطلق تھا جس نے انسان کو وجود میں لانے کا جب فیصلہ کیا تو اسے دنیا میں کام کرنے کے لیے ایسا بے نظیر جسم دے کر پیدا کیا ۔ پھر پیدا ہوتے ہی اس کی مہربانی سے تم نے اپنے لیے پاکیزہ رزق کا ایک وسیع خوان یغما بچھا ہوا پایا ۔ کھانے اور پینے کا ایسا پاکیزہ سامان جو زہریلا نہیں بلکہ صحت بخش ہے ، کڑوا کسیلا اور بد مزہ نہیں بلکہ خوش ذائقہ ہے ، سڑا بسا اور بدبو دار نہیں بلکہ خوش رائحہ ہے ، بے جان پھوک نہیں بلکہ ان حیاتینوں اور مفید غذائی مادوں سے مالا مال ہے جو تمہارے جسم کی پرورش اور نشو و نما کے لیے موزوں ترین ہیں ۔ یہ پانی ، یہ غلے ، یہ ترکاریاں ، یہ پھل ، یہ دودھ ، یہ شہد ، یہ گوشت ، یہ نمک مرچ اور مسالے ، جو تمہارے ، جو تمہارے تغذیے کے لیے اس قدر موزوں اور تمہیں زندگی کی طاقت ہی نہیں ، زندگی کا لطف دینے کے لیے بھی اس قدر مناسب ہیں ، آخر کس نے اس زمین پر اتنی افراط کے ساتھ مہیا کیے ہیں ، اور کس نے یہ انتظام کیا ہے کہ غذا کے یہ بے حساب خزانے زمین سے پے در پے نکلتے چلے آئیں اور ان کی رسد کا سلسلہ کبھی ٹوٹنے نہ پائے؟ یہ رزق کا انتظام نہ ہوتا اور بس تم پیدا کر دیے جاتے تو سوچو کہ تمہاری زندگی کا کیا رنگ ہوتا ۔ کیا یہ اس بات کا صریح ثبوت نہیں ہے کہ تمہارا پیدا کرنے والا محض خالق ہی نہیں بلکہ خالق حکیم اور رب رحیم ہے؟ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو جلد دوم ، ہود ، حواشی٦ ۔ ۷ ، جلد سوم ، النمل ، حواشی ۷۳ تا۸۳ )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(40:64) قرارا۔ آرام گاہ۔ ٹھہرنے کی جگہ۔ مصدر و اسم مصدر۔ بنائ : چھت۔ عمارت۔ جو چیز بنائی جائے عمارت کہلاتی ہے۔ صورکم : تمہاری صورت گری کی۔ تمہاری صورت بنائی۔ صور (باب تفعیل سے ماضی واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے اور کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ احسن ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے اچھا کیا۔ اس نے اچھا بنایا۔ احسان (افعال) مصدر۔ صورکم تمہاری صورتیں۔ صور تصویر کی جمع۔ تبارک : وہ بہت برکت والا ہے۔ تبارک مصدر جس کے معنی بابرکت ہونے کے ہیں۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے اس کی گردان نہیں آتی صرف ماضی کا صیغہ (تبارک) مستعمل ہے اور وہ بھی صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 چناچہ کسی حیوان کو وہ عمدہ شکل و صورت اور جسمانی ساخت حاصل نہیں ہے جو انسان کو حاصل ہے۔ سیدھا قد اور با وقار طریقہ سے دو پائوں پر چلتا ہے جبکہ تمام جانور زمین کی طرف جھک کر چلتے ہیں۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں سب جانوروں سے انسان کی صورت بہتر اور روزی ستھری ہے۔ ( موضح)4 اس کے سوا کوئی تمہارا مالک نہیں کیونکہ تمہیں یہ نعمتیں دینے میں کسی کا کوئی حصہ نہیں۔5 کسی دوسرے کا یہ حق نہیں کہ اسکی نعریف کی جائے اور شکر ادا کرنے کیلئے اس کی بندگی کی جائے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ چناچہ انسان کے اعضاء کے برابر کسی حیوان کے اعضاء میں تناسب نہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جس ” اللہ “ نے اپنی ذات سے مانگنے کا حکم دیا ہے اور جس نے رات کو پرسکون بنایا اور دن کو روشن کیا ہے اس کی یہ بھی صفت اور قدرت ہے کہ اس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور وہی لوگوں کی شکل و صورت بناتا ہے اور انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کے بارے میں مشرک اور کافر جھگڑتے ہیں۔ حالانکہ اللہ ہی وہ ذات ہے جس نے لوگوں کے لیے زمین کو جائے قرار بنایا اور آسمان کو چھت ٹھہرایا ہے اور پھر وہی ہے جو لوگوں کی بہتر سے بہتر شکل و صورت بناتا ہے اور اسی نے انسانوں کے لیے پاکیزہ رزق کا بندوبست کیا ہے۔ اس کے سوا کوئی زندہ یا فوت شدہ اور کوئی بھی ہستی نہیں جس نے ان میں سے کوئی ایک کام کیا ہو یا ان کاموں میں کسی کا عمل دخل ہو۔ صرف ایک ” اللہ “ ہی سب کچھ پیدا کرنے والا ہے اور سارے کا سارا نظام چلا نے والا ہے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنی تین قدرتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ 1 اس نے صرف زمین بنائی ہی نہیں بلکہ لوگوں اور ہر جاندار کے رہنے کے لیے اسے جائے قرار بھی بنایا ہے۔ پہلے یہ زمین حرکت کرتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر پہاڑوں کی میخیں لگا دیں جس سے زمین میں ٹھہراؤ اور قرار پیدا ہوا۔ 2 اللہ تعالیٰ نے زمین کے ساتھ انسان کا انس یعنی قرار پیدا کردیا ہے جس وجہ سے ہر انسان اور جاندار اپنے علاقہ، بستی اور گھرکے ساتھ پیار کرتا ہے۔ بیشک پردیس میں اسے ہر چیز میسر ہو مگر پھر بھی اس کا دل اپنے وطن اور گھر کی طرف ہی مائل رہتا ہے۔ 3 زمین اس لحاظ سے بھی جائے قرار ہے کہ انسان کی زندگی بھر کی جسمانی ضروریات کا تعلق زمین کے ساتھ وابستہ ہیں۔ 4 ۔ انسان کا وجود زمین سے بنایا گیا ہے اور موت کے بعد اس نے مٹی میں جانا ہے لہٰذا اوّل و آخر انسان کا ٹھکانہ یہی زمین ہے۔ بہرحال یہ زمین انسان کے لیے کئی اعتبار سے جائے قرار ہے۔ ” اللہ “ ہی لوگوں کی شکل و صورت بنانے والا ہے : اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کی تخلیق کے مختلف مراحل کا بار ہا دفعہ ذکر فرمایا ہے۔ یہاں انسان کی تخلیق کے آخری مرحلہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ” اللہ “ ہی وہ ذات بابرکات ہے جس نے تمہیں بہتر سے بہترین شکل میں پیدا فرمایا۔ اسی بات کو دوسرے مقام پریوں بیان فرمایا ہے۔ “ ” بیشک اللہ تعالیٰ سے زمین و آسمان کی کوئی چیز چھپی نہیں ہے۔ وہی ماں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ نہایت غالب اور خوب حکمت والا ہے۔ “ (آل عمران : ٥، ٦) ” قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی اور طو رسیناء کی اور اس امن والے شہر کی۔ یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے “ (التین : ١ تا ٤) (عَن أَبِیْ مُوسَی الْأَشْعَرِیِ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ اللّٰہَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَۃٍ قَبَضَہَا مِنْ جَمِیعِ الْأَرْضِ فَجَاءَ بَنُو آدَمَ عَلٰی قَدْرِ الْأَرْضِ جَاءَ مِنْہُمْ الْأَحْمَرُ وَالْأَبْیَضُ وَالْأَسْوَدُ وَبَیْنَ ذٰلِکَ وَالسَّہْلُ وَالْحَزْنُ وَالْخَبِیثُ وَالطَّیِّبُ ) [ رواہ ابو داود : کتاب السنہ، باب فی القدر ] ” حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا جو ساری زمین سے لی گئی آدم کی اولاد زمین کے مطابق ہوئی۔ ان میں سرخ، سفید سیاہ اور درمیانی رنگت کے لوگ ہیں ان میں سخت بھی ہیں اور نرم طبیعت بھی، نیک بھی ہیں اور بد بھی۔ “ ” اللہ “ ہی لوگوں کو رزق دینے والا ہے : اللہ تعالیٰ نے انسان کے صرف رزق کام بندوبست نہیں کیا بلکہ رزق طیب سے نوازا ہے۔ طیب کا معنٰی ایسا رزق جو پاک بھی ہو اور طبع انسانی کے موافق بھی۔ انسان جب شکم مادر میں تھا تو اس کے لوتھڑے کو خون کی ضرورت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ماں کے خون سے اس لوتھڑے کی پرورش کی۔ جب لوتھڑے نے انسانی وجود کی شکل اختیار کی تو ماں کی خوراک سے اس کی خوراک کا بندوسبت فرمایا۔ جب پیدا ہوا تو کھانے پینے کے قابل نہ تھا تو اس کے لیے ماں کی چھاتی سے دودھ جاری کیا۔ اس طرح عمر کے لحاظ سے اس کے رزق کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ انسان کے لیے جو چیز پیدا کی وہ اپنی اصلیت کے اعتبار سے پاکیزہ اور طیّب پیدا فرمائی۔ پھلوں کو لیجیے ! اللہ تعالیٰ نے انہیں کس طرح چھلکوں میں سنبھال کر رکھا ہے۔ گندم، چاول اور دیگراشیاء کو دیکھیں۔ بیشک وہ گندے پانی میں ہی تیار کیوں نہ ہوئے ہوں۔ اس کے ذائقہ میں کسی قسم کی غلاظت کا ایک ذرہ بھی شامل نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ اس میں بو تک نہیں پائی جاتی گائے، بھیڑ، بکری اور دیگر دودھ دینے والے چوپاؤں کو دیکھیں کہ بیشک وہ گلاسڑا چارہ کھائیں لیکن ان کے دودھ اور گوشت میں کڑواہٹ یا گندگی کا کوئی اثر نہیں پایا جاتا۔ اس کے ساتھ ہی اس بات پر غور کریں کہ دنیا میں کروڑوں انسان ہوئے اور ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی روزی کا اس قدر انتظام کیا ہے کہ ہر آنے والے وقت میں ان کی روزی میں اضافہ ہی کیا جارہا ہے۔ گندم اور چاول وغیرہ آج سے پہلے جس زمین میں تھوڑی مقدار میں پیدا ہوتے تھے آج وہی زمین دگنی مقدار دے رہی ہے۔ اس لیے ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑی بابرکت ذات ہے جو جہانوں کو پیدا کرنے اور پالنے والا ہے۔ مسائل ١۔ ” اللہ “ ہی نے زمین کو باعث قرار اور آسمان کو چھت بنایا۔ ٢۔ ” اللہ “ لوگوں کی شکل و صورت بنانے والا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ ہی رزق دینے والا ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ تمام کائنات کا پیدا کرنے والا اور سب کی ضرورتیں پوری کرنے والا ہے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ بابرکت ذات ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ بابرکت ہستی ہے : ١۔ اللہ تعالیٰ بابرکت ذات ہے جس نے اپنے بندے پر حق و باطل میں فرق کرنے والی کتاب نازل کی تاکہ آپ لوگوں کو ڈرائیں۔ (الفرقان : ١) ٢۔ بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں زمین و آسمان کی بادشاہت ہے۔ (الملک : ١) ٣۔ بابرکت ہے وہ ذات جس نے آسمان میں برج بنائے۔ (الفرقان : ٦١) ٤۔ ہر چیز تباہ ہوجائے گی صرف اللہ ہی وہ بابرکت ذات ہے جس کو دوام حاصل ہے۔ (الرحمن : ٢٧) ٥۔ اللہ تعالیٰ کی ذات زمین و آسمان کا نور ہے۔ (النور : ٣٥) ٦۔ بابرکت ہے وہ ذات جو سب سے احسن پیدا کرنے والی ہے۔ (النور : ١٤) ٧۔ بابرکت ہے وہ ذات جو تمام جہانوں کو پالنے والی ہے۔ (المومن : ٦٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(64) اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے زمین کو قرار کی جگہ اور ٹھہرنے کی جگہ بنایا اور آسان کو مثل چھت کے بنایا اور اس نے تمہاری شکل و صورت بنائی سو تمہاری صورتیں بہترین بنائیں اور تم کو لزیذ اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو عطا فرمائیں یہ ہے اللہ تعالیٰ تمہارا پروردگار سو بڑی برکت ہے اللہ تعالیٰ کی اور اللہ تعالیٰ بڑا عالیشان ہے جو تمام عالموں کا پروردگار ہے۔ یعنی رہنے کی زمین اور وہ زمین آسمان کے ساتھ مستقف یعنی آسمان کی چھت اس نے ہی تمہاری صورت اور تمہارا نقشہ بھی بہترین بنایا اور تم کو لذیذ ونفیس اور خوش ذائقہ پاکیزہ اور عمدہ چیزوں سے روزی دی اب سمجھ لو کہ جس نے یہ سب کچھ کیا وہی تمہارا پروردگار ہے اور وہ رب العالمین بڑا عالیشان ہے اور اس کی بڑی برکت ہے ہم نے تیسر میں تمام معاف کی رعایت رکھی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں سب جانوروں سے انسان کی صورت بہتر اور روزی ستھری ہے۔ خلاصہ : یہ کہ صورت میں بھی سب سے بہتر اور دیدہ زیب غذا میں بھی دانے اور پھل تمہارے اور پتے اور بھوسا جانوروں کا فتبارک اللہ رب العلمین۔