Surat ul Momin

Surah: 40

Verse: 80

سورة مومن

وَ لَکُمۡ فِیۡہَا مَنَافِعُ وَ لِتَبۡلُغُوۡا عَلَیۡہَا حَاجَۃً فِیۡ صُدُوۡرِکُمۡ وَ عَلَیۡہَا وَ عَلَی الۡفُلۡکِ تُحۡمَلُوۡنَ ﴿ؕ۸۰﴾

And for you therein are [other] benefits and that you may realize upon them a need which is in your breasts; and upon them and upon ships you are carried.

اور بھی تمہارے لئے ان میں بہت سے نفع ہیں اور تاکہ اپنے سینوں میں چھپی ہوئی حاجتوں کو انہی پر سواری کرکے تم حاصل کر لو اور ان چوپایوں پر اور کشتیوں پر سوار کئے جاتے ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah, it is He Who has made cattle for you, that you may ride on some of them, and of some you eat. And you have (many other) benefits from them, and that you may reach by their means a desire that is in your breasts, and on them and on ships you are carried.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

80۔ 1 جیسے ان سب کے اون اور بالوں سے اور ان کی کھالوں سے کئی چیزیں بنائی جاتی ہیں۔ ان کے دودھ سے گھی مکھن، پنیر وغیرہ بھی بنتی ہے۔ 80۔ 1 ان سے مراد بچے اور عورتیں ہیں جنہیں ہودج سمیت اونٹ وغیرہ پر بٹھا دیا جاتا تھا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَكُمْ فِيْہَا مَنَافِعُ وَلِتَبْلُغُوْا عَلَيْہَا حَاجَۃً فِيْ صُدُوْرِكُمْ وَعَلَيْہَا وَعَلَي الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ۝ ٨٠ۭ نفع النَّفْعُ : ما يُسْتَعَانُ به في الوُصُولِ إلى الخَيْرَاتِ ، وما يُتَوَصَّلُ به إلى الخَيْرِ فهو خَيْرٌ ، فَالنَّفْعُ خَيْرٌ ، وضِدُّهُ الضُّرُّ. قال تعالی: وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3] ( ن ف ع ) النفع ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے خیرات تک رسائی کے لئے استعانت حاصل کی جائے یا وسیلہ بنایا جائے پس نفع خیر کا نام ہے اور اس کی ضد ضر ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3] اور نہ اپنے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتے ہیں ۔ بلغ البُلُوغ والبَلَاغ : الانتهاء إلى أقصی المقصد والمنتهى، مکانا کان أو زمانا، أو أمرا من الأمور المقدّرة، وربما يعبّر به عن المشارفة عليه وإن لم ينته إليه، فمن الانتهاء : بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً [ الأحقاف/ 15] ( ب ل غ ) البلوغ والبلاغ ( ن ) کے معنی مقصد اور متبٰی کے آخری حد تک پہنچے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ مقصد کوئی مقام ہو یا زمانہ یا اندازہ کئے ہوئے امور میں سے کوئی امر ہو ۔ مگر کبھی محض قریب تک پہنچ جانے پر بھی بولا جاتا ہے گو انتہا تک نہ بھی پہنچا ہو۔ چناچہ انتہاتک پہنچے کے معنی میں فرمایا : بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً [ الأحقاف/ 15] یہاں تک کہ جب خوب جو ان ہوتا ہے اور چالس برس کو پہنچ جاتا ہے ۔ حاج الحَاجَة إلى الشیء : الفقر إليه مع محبّته، وجمعها : حَاجٌ وحاجات وحوائج، وحَاجَ يَحُوجُ : احتاج، قال تعالی: إِلَّا حاجَةً فِي نَفْسِ يَعْقُوبَ قَضاها [يوسف/ 68] ، ( ح و ج ) الحاجۃ اس چیز کی ضرورت کو کہتے ہیں جس کی دل میں محبت ہو اس کی جمع حاجات ووحوائج آتی ہے اور حاج ( ن ) یحوج و احتاج کے معنی ضرورت مند ہونے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ إِلَّا حاجَةً فِي نَفْسِ يَعْقُوبَ قَضاها [يوسف/ 68] ہاں وہ یعقوب کے دل کی خواہش تھی جو انہوں نے پوری کی تھی ۔ صدر الصَّدْرُ : الجارحة . قال تعالی: رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي [ طه/ 25] ، وجمعه : صُدُورٌ. قال : وَحُصِّلَ ما فِي الصُّدُورِ [ العادیات/ 10] ، وَلكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ [ الحج/ 46] ، ثم استعیر لمقدّم الشیء كَصَدْرِ القناة، وصَدْرِ المجلس، والکتاب، والکلام، وصَدَرَهُ أَصَابَ صَدْرَهُ ، أو قَصَدَ قَصْدَهُ نحو : ظَهَرَهُ ، وكَتَفَهُ ، ومنه قيل : رجل مَصْدُورٌ: يشكو صَدْرَهُ ، وإذا عدّي صَدَرَ ب ( عن) اقتضی الانصراف، تقول : صَدَرَتِ الإبل عن الماء صَدَراً ، وقیل : الصَّدْرُ ، قال : يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتاتاً [ الزلزلة/ 6] ، والْمَصْدَرُ في الحقیقة : صَدَرٌ عن الماء، ولموضع المصدر، ولزمانه، وقد يقال في تعارف النّحويّين للّفظ الذي روعي فيه صدور الفعل الماضي والمستقبل عنه . ( ص در ) الصدر سینہ کو کہتے ہیں قرآن میں ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي [ طه/ 25] میرے پروردگار اس کا م کے لئے میرا سینہ کھول دے ۔ اس کی جمع صدور آتی ہے جیسے فرمایا : وَحُصِّلَ ما فِي الصُّدُورِ [ العادیات/ 10] اور جو بھید دلوں میں وہ ظاہر کردیئے جائیں گے ۔ وَلكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ [ الحج/ 46] بلکہ دل جو سینوں میں ہیں وہ اندھے ہوتے ہیں ۔ پھر بطور استعارہ ہر چیز کے اعلیٰ ( اگلے ) حصہ کو صدر کہنے لگے ہیں جیسے صدرالقناۃ ( نیزے کا بھالا ) صدر المجلس ( رئیس مجلس ) صدر الکتاب اور صدرالکلام وغیرہ صدرہ کے معنی کسی کے سینہ پر مارنے یا اس کا قصد کرنے کے ہیں جیسا کہ ظھرہ وکتفہ کے معنی کسی کی پیٹھ یا کندھے پر مارنا کے آتے ہیں ۔ اور اسی سے رجل مصدور کا محاورہ ہے ۔ یعنی وہ شخص جو سینہ کی بیماری میں مبتلا ہو پھر جب صدر کا لفظ عن کے ذریعہ متعدی ہو تو معنی انصرف کو متضمن ہوتا ہے جیسے صدرن الابل عن الماء صدرا وصدرا اونٹ پانی سے سیر ہوکر واپس لوٹ آئے ۔ قرآن میں ہے :۔ يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتاتاً [ الزلزلة/ 6] اس دن لوگ گروہ گروہ ہو کر آئیں گے ۔ اور مصدر کے اصل معنی پانی سے سیر ہوکر واپس لوٹنا کے ہیں ۔ یہ ظرف مکان اور زمان کے لئے بھی آتا ہے اور علمائے نحو کی اصطلاح میں مصدر اس لفظ کو کہتے ہیں جس سے فعل ماضی اور مستقبل کا اشتقاق فرض کیا گیا ہو ۔ فلك الْفُلْكُ : السّفينة، ويستعمل ذلک للواحد والجمع، وتقدیراهما مختلفان، فإنّ الفُلْكَ إن کان واحدا کان کبناء قفل، وإن کان جمعا فکبناء حمر . قال تعالی: حَتَّى إِذا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ [يونس/ 22] ، وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ [ البقرة/ 164] ، وَتَرَى الْفُلْكَ فِيهِ مَواخِرَ [ فاطر/ 12] ، وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعامِ ما تَرْكَبُونَ [ الزخرف/ 12] . والفَلَكُ : مجری الکواكب، وتسمیته بذلک لکونه کالفلک، قال : وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [يس/ 40] . وفَلْكَةُ المِغْزَلِ ، ومنه اشتقّ : فَلَّكَ ثديُ المرأة «1» ، وفَلَكْتُ الجديَ : إذا جعلت في لسانه مثل فَلْكَةٍ يمنعه عن الرّضاع . ( ف ل ک ) الفلک کے معنی سفینہ یعنی کشتی کے ہیں اور یہ واحد جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ لیکن دونوں میں اصل کے لحاظ سے اختلاف ہ فلک اگر مفرد کے لئے ہو تو یہ بروزن تفل ہوگا ۔ اور اگر بمعنی جمع ہو تو حمر کی طرح ہوگا ۔ قرآن میں ہے : حَتَّى إِذا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ [يونس/ 22] یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں سوار ہوتے ہو۔ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ [ البقرة/ 164] اور کشتیوں ( اور جہازوں ) میں جو دریا میں ۔۔ رواں ہیں ۔ وَتَرَى الْفُلْكَ فِيهِ مَواخِرَ [ فاطر/ 12] اور تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں دریا میں پانی کو پھاڑتی چلی جاتی ہیں ۔ وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعامِ ما تَرْكَبُونَ [ الزخرف/ 12] اور تمہارے لئے کشتیاں اور چار پائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو۔ اور فلک کے معنی ستاروں کا مدار ( مجرٰی) کے ہیں اور اس فلک یعنی کشتی نما ہونے کی وجہ سے فلک کہاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [يس/ 40] سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں ۔ اور نلکتہ المغزل کے معنی چرخے کا دم کرہ کے ہیں اور اسی سے فلک ثدی المرءۃ کا محاورہ ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں عورت کی چھاتی کے دم کزہ طرح ابھر آنے کے ہیں اور فلقت الجدی کے معنی بکری کے بچے کی زبان پھاڑ کر اس میں پھر کی سی ڈال دینے کے ہیں ۔ تاکہ وہ اپنی ماں کے پستانوں سے دودھ نہ چوس سکے ۔ حمل الحَمْل معنی واحد اعتبر في أشياء کثيرة، فسوّي بين لفظه في فعل، وفرّق بين كثير منها في مصادرها، فقیل في الأثقال المحمولة في الظاهر کا لشیء المحمول علی الظّهر : حِمْل . وفي الأثقال المحمولة في الباطن : حَمْل، کالولد في البطن، والماء في السحاب، والثّمرة في الشجرة تشبيها بحمل المرأة، قال تعالی: وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلى حِمْلِها لا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ [ فاطر/ 18] ، ( ح م ل ) الحمل ( ض ) کے معنی بوجھ اٹھانے یا لادنے کے ہیں اس کا استعمال بہت سی چیزوں کے متعلق ہوتا ہے اس لئے گو صیغہ فعل یکساں رہتا ہے مگر بہت سے استعمالات میں بلحاظ مصاد رکے فرق کیا جاتا ہے ۔ چناچہ وہ بوجھ جو حسی طور پر اٹھائے جاتے ہیں ۔ جیسا کہ کوئی چیز پیٹھ لادی جائے اس پر حمل ( بکسرالحا) کا لفظ بولا جاتا ہے اور جو بوجھ باطن یعنی کوئی چیز اپنے اندر اٹھا ہے ہوئے ہوتی ہے اس پر حمل کا لفظ بولا جاتا ہے جیسے پیٹ میں بچہ ۔ بادل میں پانی اور عورت کے حمل کے ساتھ تشبیہ دے کر درخت کے پھل کو بھی حمل کہہ دیاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلى حِمْلِها لا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ [ فاطر/ 18] اور کوئی بوجھ میں دبا ہوا پنا بوجھ ہٹانے کو کسی کو بلائے تو اس میں سے کچھ نہ اٹھائے گا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨٠ { وَلَکُمْ فِیْہَا مَنَافِعُ } ” اور ان میں تمہارے لیے اور بھی بہت سی منفعتیں ہیں “ یہ مضمون اس سے پہلے سورة النحل میں بہت تفصیل سے آچکا ہے۔ { وَلِتَبْلُغُوْا عَلَیْہَا حَاجَۃً فِیْ صُدُوْرِکُمْ وَعَلَیْہَا وَعَلَی الْفُلْکِ تُحْمَلُوْنَ } ” اور تاکہ ان پر سوار ہو کر تم اپنی وہ ضرورتیں پوری کرو جو تمہارے دل میں ہوتی ہیں اور ان پر بھی اور کشتیوں پر بھی تمہیں سوار کرایا جاتا ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(40:80) فیہا : ای فی الانعام۔ منافع (فوائد جمع منفرۃ واحد) سے مراد سواری اور خوراک کے علاوہ فوائد ہیں۔ مثلا ان کے دودھ، ان کے چمڑے وغیرہ سے فائدہ اٹھانا۔ لتبلغوا۔ لام تعلیل کا ہے۔ تبلغوا مضارع (لام کے اول آنے سے نون اعرابی حذف ہوگیا) صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تاکہ تم پہنچو۔ حاصل کرو۔ اس کا مفعول حاجۃ ہے۔ فی صدورکم۔ حاجت کی تعریف ہے یعنی جو تمہارے سینوں میں ہے۔ حاجۃ فی صدورکم : وہ مقصد جو تمہارے سینوں میں ہے یعنی تم اپنے دلوں کو مقصد تک پہنچو) مراد ان پر سوار ہوکر سفر کرنا، اسباب لاد کرلے جانا۔ دشمنوں پر چڑھائی کرنا وغیرہ۔ علیہا : ان پر سوار ہوکر ۔ یعنی مویشیوں پر چڑھ کر۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع الانعام ہے۔ وعلیہا وعلی الفلک میں وعلیہا قول مابعد وعلی الفلک تحملون کے لئے بطور توطئہ (تمہید) استعمال ہوا ہے۔ سفائن البر (الانعام) وسفائن البحر (الفلک) کو اکٹھا بیان کرنے کے لئے۔ مراد :۔ علیہا۔ (الانعام) فی البر وعلی الفلک فی البحر۔ علی الفلک بجائے فی الفلک لفظ ماقبل علیہا کی رعایت سے آیا ہے ورنہ اس (فی الفلک) میں ظرفیت اور استعلاء ہر دو کے معنی موجود ہیں۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے قلنا احمل فیہا من کل زوجین اثنین (11:40) اس (کشتی) میں ہر قسم کے جوڑوں میں سے دو دو کو چڑھا لو۔ تحملون : مضارع مجہول جمع مذکر حاضر حمل مصدر باب ضرب تم سوار کئے جاتے ہو۔ تم لدے پھرتے ہو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 جیسے کہیں کا سفر یا دشمن پر حملہ کرنا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ مثلا ان کے بال اور اون کام آتی ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(80) اور تمہارے لئے ان چوپایوں میں اور بھی بہت سے منافع اور فوائد ہیں اور یہ غرض بھی ہے کہ تم ان پر سوار ہو کر اپنی اس حاجت اور ضرورت کو پہنچ جائو جو تمہارے دلوں میں ہے اور تم ان چوپایوں پر اور کشتیوں پر چڑھے چڑھے پھرتے ہو۔ یعنی ان کا دودھ پیتے ہو ان کی اون کا استعمال کرتے ہو ان کا چمڑا کام میں لاتے ہو اور وہ حاجتیں اور ضرورتیں جو تمہارے جی میں ہوتی ہیں ان حاجتوں کو ان پر سوار ہوکر پورا کرتے ہو اور صرف چوپایوں پر کیا منحصر ہے بلکہ سواریوں پر اور کشتیوں پر چڑھے پھرتے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ خشکی اور تری دونوں قسم کے سفروں کے لئے آسانیاں اور سہولتیں پیدا کردی ہیں اور ایسی چیزیں مہیا کردی ہیں جس سے بحروبر کا سفر کرتے ہو۔