Surat Ha meem Assajdah

Surah: 41

Verse: 4

سورة حم السجدہ

بَشِیۡرًا وَّ نَذِیۡرًا ۚ فَاَعۡرَضَ اَکۡثَرُہُمۡ فَہُمۡ لَا یَسۡمَعُوۡنَ ﴿۴﴾

As a giver of good tidings and a warner; but most of them turn away, so they do not hear.

خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا ہے پھر بھی ان کی اکثریت نے منہ پھیر لیا اور وہ سنتے ہی نہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

بَشِيرًا وَنَذِيرًا ... Giving glad tidings and warning, means, sometimes it brings glad tidings to the believers, and sometimes it brings a warning to the disbelievers. ... فَأَعْرَضَ أَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لاَأ يَسْمَعُونَ but most of them turn away, so they hear not. means, most of the Quraysh did not understand anything of it at all, despite the fact that it was so clear.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

4۔ 1 ایمان اور اعمال صالح کے حاملین کو کامیابی اور جنت کی خوشخبری سنانے والا اور مشرکین و مکذبین کو عذاب نار سے ڈرانے والا۔ 4۔ 2 یعنی غور و فکر اور تدبر و تعقل کی نیت سے نہیں سنتے کہ جس سے انہیں فائدہ ہو۔ اسی لئے ان کی اکثریت ہدایت سے محروم ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢] قرآن کی چار صفات کا ذکر :۔ یہ تمہیدی آیات ہیں جن میں قرآن کی چند صفات بیان کرکے اسے متعارف کرایا جارہا ہے اس کی پہلی صفت یہ ہے کہ یہ نہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنا کلام ہے نہ ہی کسی دوسرے آدمی کا ہے بلکہ یہ اس ہستی کی طرف سے نازل شدہ ہے جو رحمان و رحیم ہے۔ اپنی مخلوق پر بےانتہا مہربان ہے اور یہ اس کی رحمت ہی کا تقاضا ہے کہ اس نے اپنے بندوں کی فلاح وسعادت کے لیے قرآن جیسی عظیم نعمت نازل فرمائی ہے اور اگر کوئی شخص اس نعمت سے فائدہ نہیں اٹھاتا تو وہ انتہائی ناشکرا اور ناقدر شناس ہے۔ اس کتاب کی دوسری صفت یہ ہے کہ اس کی آیات کو کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ نئے سے نئے پیرائے میں بار بار بیان کیا گیا ہے تاکہ سمجھنے میں کوئی ابہام، کوئی پیچیدگی اور گنجلک باقی نہ رہے۔ نیز اس میں سینکڑوں قسم کے مضامین ایک دوسرے سے بالکل الگ الگ کرکے پیش کئے گئے ہیں۔ اس کی تیسری صفت یہ ہے کہ یہ قرآن عربی زبان میں ہے۔ تاکہ اس کے پڑھنے پڑھانے اور سمجھنے سمجھانے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے اور قوم کے لیے نافہمی کا کوئی عذر باقی نہ رہے۔ تاہم اس سے فائدہ وہی لوگ اٹھا سکتے ہیں جو اہل علم و دانش ہیں۔ جہالت کی بنا پر اڑ جانے والے اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ اس کی چوتھی صفت یہ ہے کہ یہ کتاب نہ کوئی افسانوی تخیل ہے اور نہ ہی انشا پردازی کا نمونہ ہے بلکہ یہ تمام دنیا کو خبردار کر رہی ہے کہ اس کی تعلیم کو مان لینے کے نتائج شاندار اور نہ ماننے کے نتائج نہایت ہولناک ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) بشیراً و نذیراً : یہ چوتھی اور پانچویں صفت ہے کہ یہ کتاب ایمان لانے والوں کو دنیا اور آخرت دونوں جہاں میں بہترین انجام کی بشارت دیتی ہے اور جھٹلانے والوں کو دنیا اور آخرت کے بدترین انجام سے ڈراتی ہے۔ (٢) فاعرض اکثرھم فھم لایستعون : قرآن مجید کی صفات بیان کرنے کے بعد اس پر لوگوں کا ردعمل بیان فرمایا کہ ان میں سے اکثر نے منہ موڑ لیا، سو وہ سنتے ہی نہیں۔ اکثر سے مراد یہاں کفار ہیں۔ نہ سننے سے مراد یہ ہے کہ وہ سرے سے سنتے ہیں ہیں، بلکہ مجلس سے اٹھ جاتے ہیں (دیکھیے ص : ٦) یا کانوں میں انگلیاں ڈال لیتے ہیں اور کپڑے اوڑھ لیتے ہیں۔ (دیکھیے نوح : ٧) یا شور و غل ڈال کر نہ خود سنتے ہیں نہ کسی کو سننے دیتے ہیں، جیسا کہ اسی سورة حم السجدہ کی آیت (٢٦) میں ہے اور نہ سننے سے مراد یہ بھی ہے کہ وہ اسے قبول نہیں کرتے، کیونکہ جب ماننا ہی نہیں تو سننا نہ سننا برابر ہے، جیسا کہ فرمایا :(ولقد ذرانا لجھنم کثیراً من الجن والانس، لھم قلوب لایفقون بھا ، ولھم اعین لایبصرون بھا، ولھم اذان نے بہت سے جن اور انسان جہنم ہی کے لئے پیدا کئے ہیں، ان کے دل ہیں جن کے ساتھ وہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں جن کے ساتھ وہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں جن کے ساتھ وہ سنتے نہیں، یہ لوگ چوپاؤں جیسے ہیں، بلکہ یہ زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں، یہی ہیں جو بالکل بیخبر ہیں۔ “ اور اسی سورت کی اگلی آیت (وقالوا قلوبنا فی اکنۃ مما تدعونا الیہ و فی اذاننا وقر ومن بیننا و بینک حجاب فاعمل اننا عملون ) (حم السجدۃ : ٥) ” اور انہوں نے کہا ہمارے دل اس بات سے پردوں میں ہیں جس کی طرف تو ہمیں بلاتا ہے اور ہمارے کانوں میں ایک بوجھ ہے اور ہمارے درمیان اور تیرے درمیان ایک حجاب ہے، پس تو عمل کرے، بیشک ہم بھی عمل کرنے والے ہیں۔ “ (٣) قرآن مجید نے لوگوں کی اکثریت کے متعلق فرمایا :(اکثرھم لایومنون) (البقرہ : ١٠٠)” ان کے اکثر ایمان نہیں رکھتے۔ “ اور فرمایا :(اکثرھم لایعلمون) (الانعام : ٣٨)” ان کے اکثر نہیں جانتے۔ “ اور فرمایا :(اکثرھم یجھلون) (الانعام : ١١١)” ان کے اکثر جہالت برتتے ہیں۔ “ اور فرمایا :(ولا تجد اکثرھم شکرین) (الاعراف : ١٨)” اور تو ان کے اکثر کو شکر کرنے والے نہیں پائے گا۔ “ اور فرمایا :(وان وجدنآ اکثرھم لفسقین) (الاعراف : ١٠٢)” اور بیشک ہم نے ان کے اکثر کو فاسق ہی پایا۔ “ اور فرمایا :” وما یتبع اکثرھم الا شناً ) (یونس : ٣٦)” اور ان کے اکثر پیروی نہیں کرتے مگر ایک گمان کی۔ “ اور فرمایا :(ولکن اکثرھم لایشکرون) (یونس : ٦٠) ” اور لیکن ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے۔ “ اور فرمایا :(وما یومن اکثرھم باللہ الا وھم مشرکون) (یوسف : ١٠٦) ” اور ان میں سے اکثر اللہ پر ایمان نہیں رکھتے، مگر اس حال میں کہ وہ شریک بنانے والے ہوتے ہیں۔ “ اور فرمایا :(ان فی ذلک لایۃ وما کان اکثرھم مومنین) (الشعرائ : ٨)” بیشک اس میں یقینا عظیم نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔ “ جب کہ ایمان والوں اور شکر گزار بندوں کے متعلق فرمایا کہ وہ بہت تھوڑے ہیں، جیسا کہ فرمایا :(الا الذین امنوا و عملوا الصلحت وقلیل ماھم) (ص : ٣٧)” مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے اور یہ لوگ بہت ہی کم ہے۔ “ اور فرمایا :(وقلیل من عبادی الشکور) (سبا : ١٣)” اور بہت تھوڑے میرے بندوں میں سے پورے شکر گزار ہیں۔ “ ان آیات سے کفار کے رائج کردہ نظام جمہوریت کی حقیقت واضح ہوجاتی ہے، جس کی بنیاد ہی عوام کی اکثریت پر ہے، وہ مسلم ہوں یا کافر، متقی ہوں یا فاسق۔ پھر اس اکثریت کو دستور اور قانون سازی کا بھی اختیار ہے، خواہ وہ اللہ کے دین کے مطابق ہو یا اس سے متصادم۔ اس لئے دنیا بھر کے کفار تمام مسلمان ملکوں میں جمہوریت رائج کرنے کے لئے اپنی پوری کوشش استعمال کرتے ہیں، کیونکہ اسی کے ذریعے سے وہ ان ملکوں میں اللہ اور اس کے رسول کے احاکم کو نافذ ہونے سے روک سکتے ہیں اور اپنا دخل جاری رکھ سکتے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

An offer by the infidel&s of Makkah to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) The infidels of Quraysh, who are the direct addressees of this Surah, tried very hard to suppress the propagation of Islam in early days after the revelation of the Qur&an, through the use of physical force, and tried equally hard to intimidate the Messenger of Allah and those who believed in him by causing to them all sorts of pains and agonies. But despite their opposition, Islam kept on widening the circle of its adherents, and increasing in strength. At first powerful and valiant persons like Sayyidna ` Umar Ibn Khattab (رض) entered Islam, then Sayyidna Hamzah (رض) ، one of the accepted leaders of Quraysh, embraced Islam. Now the Quraysh of Makkah started thinking that, instead of intimidation, persuasion and temptation may be more effective in blocking the way for Islam. An incident of this nature has been reproduced by Hafiz Ibn Kathir from the reports of Musnad of Bazzar, Abu Ya` la and Baghawi. There are some differences in these reports. Hafiz Ibn Kathir has considered the report of Baghawi to be the nearest to the truth. And then he has reproduced this incident from the book &Kitab-us-Sirah& written by Muhammad Ibn Ishaq and has preferred this version to the other three. Therefore, this incident is being reproduced here in accordance with the report of Ibn Ishaq. Muhammad Ibn Ishaq has stated that Muhammad Ibn Ka&b Qurazi says that this report has reached him from ` Utbah Ibn Rabi` ah who was recognized as one of the foremost leaders of Quraysh. One day he was sitting in Al-Masjid-ul-Haram with a party of Quraysh, while the Messenger of Allah was sitting alone in a corner on the other side. ` Utbah asked his people, |"If you agree, I would like to talk to Muhammad ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) and offer him some attractions, so that if he accepts them, we give them to him and he, in exchange, would cease to propagate against our religion and faith. This was a time when Sayyidna Hamzah had become a Muslim, and the number of Muslims was increasing, and they were getting stronger day by day. All of ` Utbah&s men spoke with one voice, and said |"0 ` Abul-Walid (&Utbah&s filial name) ! |"Do so. Please talk to him|". ` Utbah got up from his place, and went upto the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said, |"0 nephew! you know that you are high-born and a noble man of the Quraysh; your family is large, noble and respectable to all of us. But you have put the tribe in a great difficulty. You have given such an invitational call which has created differences among us, has made us fools, has stigmatized our deities and our religion, and declared our forefathers to be infidels. So please listen to me. I am going to present a few things to you, so that you may select any of them. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said, |"0 ` Abdul Walid! go ahead and say what you wish to say; I am listening to you.|" ` Utbah ` Abul Walid said, |"0 nephew! If the purpose of your movement is to collect possessions, we promise to collect so much wealth for you that you would become the wealthiest person of the nation. If the purpose is to become a leader and a ruler, then all of us would accept you as the leader of the whole of Quraysh, and would not do anything without your order. If you want kingdom, then we accept you as our king. And if the case is that some Jinn or Satan comes to you, and compels you to do these things and you are unable to drive him away, then we will have you treated at our expense, because we know that a person prevailed upon by a Satan can be cured by treatments.|" ` Utbah kept on speaking at some length and the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) kept on listening to him. At the end, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said, |"0 ` Abul Walid! Have you finished? When he said yes, then the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to him, |"Now please listen to me.|" And ` Utbah replied, |"No doubt, I would listen to you.|" The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، instead of saying anything himself started reciting Surah Fussilat (the present Surah): بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ ۔ حم تَنزِيلٌ مِّنَ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ كِتَابٌ فُصِّلَتْ آيَاتُهُ قُرْ‌آنًا عَرَ‌بِيًّا لِّقَوْمٍ يَعْلَمُونَ |"With the name of Allah, the All-Merciful, the Very-Merciful.|" Merciful. Ha Meem. This is a revelation from the All-Merciful, the Very-Merciful-- a book whose verses are elaborated in the form of an Arabic Qur&an for a people who understand.|" Bazzar and Baghawi narrate that, during the recitation of the verses of this Surah, when the Holy Prophet reached this verse: فَإِنْ أَعْرَ‌ضُوا فَقُلْ أَنذَرْ‌تُكُمْ صَاعِقَةً مِّثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ |"So, if they turn away, then say,” I have warned you of a calamity like the calamity of ` Ad and Thamud,|" (41:13) ` Utbah put his hand on the blessed mouth of Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، and asked him to have mercy on his lineage and relationship, and not to recite any further for their sake. Ibn Ishaq narrates that when the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) commenced the recitation of these verses, ` Utbah listened quietly and attentively while supporting his back by his hands, till the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) reached the verse of Sajdah in this Surah and prostrated. Then he addressed ` Utbah, and said to him, |"You have heard what you heard, and now you are free to do what you like.|" ` Utbah got up and started walking towards his party. When they saw him coming, his party members started saying among themselves that, by God, ` Abul Walid&s face has changed - it is not the same as it was when he had gone. When ` Utbah reached them, they asked him, |"What is the news you have come with?|" He said to them: انِی سمعت قولا واللہ ما سمعت مثلہ قط، واللہ ما ھو بالسحر ولا بالشعر ولا بالکھانۃ ، یا معشر قریش اطیعونی واجلُھا لی، خَلُوّوا بین الرجل وبین ما ھو فیہ فاعتزلوہ فو اللہ لیکونن لقولہ الزی سمعت نباء، فان تصبہ العرب فقد کفیتموہ بغیرکم، وان یظھر علی العرب فمل کہ ملککم وعزہ عزّکم و کنتم اسعد الناس بہٖ |"I heard such a discourse that, by God, I have never heard any discourse like it before; by God, it is neither a sorcerer&s enchantment, nor a poet&s poetry, nor a wizard incantation (which they obtain from shaitans). 0 my tribe of Quraysh! Listen to me, and let me handle this matter. My advice is that you should give up confronting him, and let him go about his business, because this discourse of his is bound to receive eminence. You should wait and see how the rest of Arabia treats them. If, besides Quraysh, the rest of Arabs defeat them, then your problem is solved without any effort on your part, and if he prevails on the rest of Arabs, then his rule will be your rule, their honor will be your honor, and you will be the luckiest people because of him.|" (Ibn Kathir p. 91, vol. 4) When his Qurayshi companions heard his speech, they said to him |"0 Abul Walid! Muhammad has cast an enchanting spell upon you with his words.|" ` Utbah replied to them, |"I have given you my advice, and now it is upto you to do what you like.

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کفار مکہ کی طرف سے ایک پیشکش : کفار قریش جو اس سورت کے بلاواسطہ مخاطب ہیں۔ انہوں نے نزول قرآن کے بعد ابتداء اسلام میں زور قوت کے ساتھ اسلام کی تحریک کو دبانے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ پر ایمان لانے والوں کو طرح طرح کی ایذائیں پہنچا کر خوفزدہ کرنے کی بہت سی کوششیں کیں۔ لیکن اسلام ان کے علی الرغم بڑھتا اور قوت پکڑتا چلا گیا۔ پہلے حضرت حمزہ جو قریش کے مسلم سردار تھے وہ مسلمان ہوگئے پھر حضرت عمر بن خطاب جیسے قوی اور جری داخل اسلام ہوگئے تو اب قریش مکہ نے تخویف کا راستہ چھوڑ کر ترغیب اور لالچ کے ذریعہ تبلیغ اسلام کا راستہ روکنے کی تدبیریں سوچنا شروع کردیں۔ اسی سلسلہ کا ایک واقعہ ہے جس کو حافظ ابن کثیر نے، مسند براز، ابو یعلی اور بغوی کی روایتوں سے نقل کیا ہے۔ ان سب روایتوں میں تھوڑا تھوڑا فرق ہے۔ ابن کثیر نے ان میں بغوی کی روایت کو سب سے زیادہ اشبہ واقرب قرار دیا۔ اور ان سب کے بعد محمد بن اسحاق کی کتاب السیرة سے اس واقعہ کو نقل کر کے ان سب روایات پر اس کو ترجیح دی۔ اس لئے یہ قصہ اس جگہ ابن اسحاق ہی کی روایت کے مطابق نقل کیا جاتا ہے۔ محمد بن اسحاق نے بیان کیا کہ محمد بن کعب قرظی کہتے ہیں کہ مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ عتبہ بن ربیعہ جو قریش کا بڑا سردار مانا جاتا تھا، ایک دن قریش کی ایک جماعت کے ساتھ مسجد حرام میں بیٹھا ہوا تھا۔ دوسری طرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد کے ایک گوشہ میں اکیلے بیٹھے تھے۔ عتبہ نے اپنی قوم سے کہا کہ اگر آپ لوگوں کی رائے ہو تو میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گفتگو کروں اور ان کے سامنے کچھ ترغیب کی چیزیں پیش کروں کہ اگر وہ ان میں سے کسی کو قبول کرلیں تو ہم وہ چیزیں انہیں دے دیں تاکہ وہ ہمارے دین و مذہب کے خلاف تبلیغ کرنا چھوڑ دیں۔ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب کہ حضرت حمزہ (رض) مسلمان ہوچکے تھے اور مسلمانوں کی قوت روز بروز بڑھ رہی تھی۔ عتبہ کی پوری قوم نے بیک زبان کہا کہ اے ابو الولید (یہ اس کی کنیت ہے) ضرور ایسا کریں اور ان سے گفتگو کرلیں۔ عتبہ اپنی جگہ سے اٹھ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ گفتگو شروع کی کہ اے ہمارے بھتیجے آپ کو معلوم ہے کہ ہماری قوم قریش میں آپ کو ایک مقام بلند نسب اور شرافت کا حاصل ہے آپ کا خاندان وسیع اور ہم سب کے نزدیک مکرم ومحترم ہے۔ مگر آپ نے قوم کو ایک بڑی مشکل میں پھنسا دیا ہے۔ آپ ایک ایسی دعوت لے کر آئے، جس نے ہماری جماعت میں تفرقہ ڈال دیا، ان کو بیوقوف بنایا، ان کے معبودوں پر اور ان کے دین پر عیب لگایا اور ان کے جو آباء و اجداد گزر چکے ہیں ان کو کافر قرار دیا۔ اس لئے آپ میری بات سنیں، میں چند چیزیں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں تاکہ آپ ان میں سے کسی کو پسند کرلیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ ابو الولید کہئے جو کچھ آپ کو کہنا ہے، میں سنوں گا۔ عتبہ ابوالولید نے کہا کہ اے بھتیجے، آپ نے جو تحریک چلائی ہے اگر اس سے آپ کا مقصد مال جمع کرنا ہے تو ہم وعدہ کرتے ہیں کہ آپ کے لئے اتنا مال جمع کردیں گے کہ آپ ساری قوم سے زیادہ مالدار ہوجائیں۔ اور اگر مقصد اقتدار اور حکومت ہے تو ہم آپ کو سب قریش کا سردار تسلیم کرلیں گے اور آپ کے حکم کے بغیر کوئی کام نہ کریں گے۔ اور اگر آپ بادشاہت چاہتے ہیں تو ہم آپ کو اپنا بادشاہ تسلیم کرتے ہیں اور اگر یہ صورت ہے کہ آپ کے پاس آنے والا کوئی جن یا شیطان ہے جو آپ کو ان کاموں پر مجبور کرتا ہے اور آپ اس کو دفع کرنے سے عاجز ہیں تو ہم آپ کے لئے ایسے معالج بلوائیں گے جو آپ کو اس تکلیف سے نجات دلا دیں اس کے لئے ہم اپنے اموال خرچ کریں گے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ بعض اوقات کوئی جن انسان پر غالب آجاتا ہے جس کا علاج کیا جاتا ہے۔ عتبہ یہ طویل تقریر کرتا رہا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سنتے رہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ ابو الولید آپ اپنی بات پوری کرچکے ؟ اس نے کہا ہاں، آپ نے فرمایا کہ اب میری بات سنئے۔ عتبہ نے کہا کہ بیشک میں سنوں گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی طرف سے کوئی جواب دینے کی بجائے اس سورة فصلت کی تلاوت شروع فرما دی۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ (آیت) حٰـمۗ تَنْزِيْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰيٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا لِّــقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ ۔ بزار اور بغوی کی روایت میں ہے کہ جب آپ اس سورت کی آیات پڑھتے پڑھتے اس آیت پر پہنچ گئے، (آیت) فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ ۔ تو عتبہ نے آپ کے منہ مبارک پر ہاتھ رکھ دیا۔ اور اپنے نسب اور رشتہ کی قسم دی کہ ان پر رحم کیجئے۔ آگے کچھ نہ فرمائیے۔ اور ابن اسحاق کی روایت میں ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیات پڑھنا شروع کیں تو عتبہ خاموشی کے ساتھ سننے لگا اور اپنے ہاتھوں کی پیٹھ پیچھے ٹیک لگا لی تاکہ غور سے سن سکے، یہاں تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس صورت کی آیت سجدہ پر پہنچ گئے۔ اور آپ نے سجدہ کیا۔ پھر عتبہ کو خطاب کر کے فرمایا۔ اے ابو الولید۔ آپ نے سن لیا، جو کچھ سنا اب آپ کو اختیار ہے جو چاہو کرو۔ عتبہ آپ کی مجلس سے اٹھ کر اپنی مجلس کی طرف چلا تو یہ لوگ دور سے عتبہ کو دیکھ کر آپس میں کہنے لگے کہ خدا کی قسم ابوالولید کا چہرہ بدلا ہوا ہے۔ آپ کا وہ چہرہ نہیں جس میں یہاں سے گئے تھے۔ جب عتبہ اپنی مجلس میں پہنچا تو لوگوں نے پوچھا کہو ابو الولید کیا خبر لائے۔ عتبہ ابو الولید نے کہا کہ میری خبر یہ ہے کہ ” میں نے ایسا کلام سنا کہ خدا کی قسم اس سے پہلے کبھی ایسا کلام نہیں سنا تھا، خدا کی قسم نہ تو یہ جادو کا کلام ہے نہ شعر یا کاہنوں کا کلام ہے (جو وہ شیاطین سے حاصل کرتے ہیں) ۔ اے میری قوم قریش تم میری بات مانو، اور اس معاملہ کو میرے حوالے کردو، میری رائے یہ ہے کہ تم لوگ ان کے مقابلہ اور ایذاء سے باز آجاؤ اور ان کو ان کے کام پر چھوڑ دو کیونکہ ان کے اس کلام کی ضرور ایک خاص شان ہونے والی ہے۔ تم بھی انتظار کرو، باقی عرب کے لوگوں کا معاملہ دیکھو۔ اگر قریش کے علاوہ باقی عرب لوگوں نے ان کو شکست دے دی تو تمہارا مطلب بغیر تمہاری کسی کوشش کے حاصل ہوگیا اور اگر وہ عرب پر غالب آگئے تو ان کی حکومت تمہاری حکومت ہوگی، ان کی عزت سے تمہاری عزت ہوگی اور اس وقت تم ان کی کامیابی کے شریک ہو گے “ اس کے ساتھی قریشیوں نے جب اس کا یہ کلام سنا تو کہنے لگے کہ اے ابو الولید تم پر تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی زبان سے جادو کردیا ہے۔ عتبہ نے کہا میری رائے تو یہی ہے، جو کچھ کہہ چکا آگے تمہیں اختیار ہے جو چاہو کرو۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا۝ ٠ۚ فَاَعْرَضَ اَكْثَرُہُمْ فَہُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ۝ ٤ بشیر ويقال للخبر السارّ : البِشارة والبُشْرَى، قال تعالی: هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] والبشیر : المُبَشِّر، قال تعالی: فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ أَلْقاهُ عَلى وَجْهِهِ فَارْتَدَّ بَصِيراً [يوسف/ 96] ( ب ش ر ) البشر اور خوش کن خبر کو بشارۃ اور بشرٰی کہا جاتا چناچہ فرمایا : هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی ۔ البشیر خوشخبری دینے والا ۔ قرآن میں ہے : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ أَلْقاهُ عَلى وَجْهِهِ فَارْتَدَّ بَصِيراً [يوسف/ 96] جب خوشخبری دینے والا پہنچا تو کرتہ یعقوب کے منہ پر ڈال دیا اور وہ بینا ہوگئے ۔ النذیر والنَّذِيرُ : المنذر، ويقع علی كلّ شيء فيه إنذار، إنسانا کان أو غيره . إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ نوح/ 2] ( ن ذ ر ) النذیر النذیر کے معنی منذر یعنی ڈرانے والا ہیں ۔ اور اس کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جس میں خوف پایا جائے خواہ وہ انسان ہو یا کوئی اور چیز چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ [ الأحقاف/ 9] اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے ۔ اعرض وإذا قيل : أَعْرَضَ عنّي، فمعناه : ولّى مُبدیا عَرْضَهُ. قال : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] ، فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ ( ع ر ض ) العرض اعرض عنی اس نے مجھ سے روگردانی کی اعراض کیا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] تو وہ ان سے منہ پھیرے ۔ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ [ النساء/ 63] تم ان سے اعراض بر تو اور نصیحت کرتے رہو ۔ كثر الْكِثْرَةَ والقلّة يستعملان في الكمّيّة المنفصلة كالأعداد قال تعالی: وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] ( ک ث ر ) کثرت اور قلت کمیت منفصل یعنی اعداد میں استعمال ہوتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] اس سے ان میں سے اکثر کی سر کشی اور کفر اور بڑ ھیگا ۔ سمع السَّمْعُ : قوّة في الأذن به يدرک الأصوات، وفعله يقال له السَّمْعُ أيضا، وقد سمع سمعا . ويعبّر تارة بالسمّع عن الأذن نحو : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وتارة عن فعله كَالسَّمَاعِ نحو : إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] ، وقال تعالی: أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] ، وتارة عن الفهم، وتارة عن الطاعة، تقول : اسْمَعْ ما أقول لك، ولم تسمع ما قلت، وتعني لم تفهم، قال تعالی: وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] ، ( س م ع ) السمع ۔ قوت سامعہ ۔ کا ن میں ایک حاسہ کا نام ہے جس کے ذریعہ آوازوں کا اور اک ہوتا ہے اداس کے معنی سننا ( مصدر ) بھی آتے ہیں اور کبھی اس سے خود کان مراد لیا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے ۔ اور کبھی لفظ سماع کی طرح اس سے مصدر ی معنی مراد ہوتے ہیں ( یعنی سننا ) چناچہ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] وہ ( آسمائی باتوں کے ) سننے ( کے مقامات ) سے الگ کردیئے گئے ہیں ۔ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] یا دل سے متوجہ ہو کر سنتا ہے ۔ اور کبھی سمع کے معنی فہم و تدبر اور کبھی طاعت بھی آجاتے ہیں مثلا تم کہو ۔ اسمع ما اقول لک میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو لم تسمع ماقلت لک تم نے میری بات سمجھی نہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں ( یہ کلام ) ہم نے سن لیا ہے اگر چاہیں تو اسی طرح کا ( کلام ) ہم بھی کہدیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

جنت کی خوشخبری دینے والا اور دوزخ سے ڈرانے والا ہے یعنی قرآن کریم پر ایمان لانے والوں کو جنت کی خوشخبری دیتا ہے اور اس کا انکار کرنے والوں کو دوزخ سے ڈراتا ہے۔ مگر مکہ والوں نے رسول اکرم پر ایمان لانے اور قرآن کریم کے ماننے سے اعراض کیا اور وہ نہ حضور اکرم اور قرآن کریم کی تصدیق کرتے ہیں اور نہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤ { بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا } ” بشارت دینے والی اور آگاہ کردینے والی۔ “ یہ کتاب بشارتیں بھی دیتی ہے اور خبردار بھی کرتی ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی تبشیر اور انذار کا حق قرآن مجید کے ذریعے سے ہی ادا فرماتے تھے۔ جیسا کہ سورة مریم میں فرمایا گیا : { فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰــہُ بِلِسَانِکَ لِتُبَشِّرَ بِہِ الْمُتَّقِیْنَ وَتُنْذِرَ بِہٖ قَوْمًا لُّدًّا ۔ } ” پس ہم نے توآسان کردیا ہے اس (قرآن) کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان میں ‘ تاکہ آپ بشارت دیں اس کے ساتھ متقین کو اور خبردار کریں اسی کے ذریعے جھگڑالو قوم کو۔ “ { فَاَعْرَضَ اَکْثَرُہُمْ فَہُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ } ” تو ان کی اکثریت نے اعراض کیا اور وہ سنتے ہی نہیں ہیں۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

1 This is a brief introduction to the Surah. A study of the following discourse can show what relevance the things mentioned in it have with the theme that follows. The first thing said is that this Word is being sent down by God, as if to say: "You, O people, may go on saying again and again that this Word is being composed by Muhammed (upon whom be Allah's peace) but the fact is that its revelation is from God, Lord of the worlds. " Furthermore, the addressees have also been warned, so as to say: "If you express your displeasure on hearing this discourse. this displeasure is not against Muhammad (upon whom be Allah's peace) tart against God. If you reject it, you reject Allah's Word, not of a man, and if you turn away from it, you do not turn away from a mart but from Allah." Secondly, that the one sending it down is that God, Who is extremely Merciful (Rehman and Rahim) to His creatures. The mention of the attribute of mercy of the Sender of Revelation, instead of any other attributes, points to the truth that He has sent down this Word under the requirement of His mercifulness. By this the addressees have been warned, so as to say: °If someone spurns this Word, or rejects it. or expresses displeasure at it, he in fact is his own enemy "Thts is indeed a supreme blessing. which God has sent down, out of this infinite mercy, for the guidance and well-being and happiness of man. if God were merciless to mankind, He would have left them to wander about in darkness and would have least cared what pit they fell into. But this is His bounty and beneficence that along with bringing men into existence and providing for them He has taken on Himself the responsibility to show them the light of knowledge also in order to adorn their lives, and is sending down this Word to a servant of His for the same purpose. Now, who could be more ungrateful and a greater enemy of himself than the ono who instead of benefiting from this mercy made up his mind to fight it?" Thirdly that the verses of this Book are well-expounded. That is, there is nothing confusing and ambiguous in it so that somebody might excuse himself from accepting it on the ground that he was unable to understand the contents of the Book.It has been plainly told m it what is the truth and what is the falsehood, what arc the right beliefs and what are the wrong beliefs, what is good and what is evil, what is high morality and what is vice, in what way lies the good of tnan and in what he incurs loss for himself. If a person rejects such clear and manifest guidance, or pays no heed to it, he cannot offer any excuse for it. His attitude clearly unplies that he wants to remain in the wrong wilfully. Fourthly, that this is an Arabic Qur'an, which implies this: "If this Qur'an had been sent down in some other language, the Arabs would have presented the excuse that they were ignorant of the language in which God had sent His Book. But this is their own language. They cannot put forward the excuse that they cannot understand it. (Here, one should keep in view verse 44 also, in which the same theme has been expressed in a different way, and the suspicion that in that case there is a reasonable excuse for the non-Arabs not to accept the message of the Qur'an, we have already removed in our commentary of Surah Yusuf: 2 and E.N. 2 on it. Please also see Rasa'il-o-Masa'il. Vol. I, pp. 19-23). Fifthly, that this Book is for those who possess knowledge. That is, only the people of understanding can draw any benefit from this Book. For the ignorant it is as useless as a precious diamond for the one who cannot distinguish it from a mere stone. Sixthly, that this Book gives good news and administers warning. That is, it does not consist of mere fantasy, or a philosophy, or a specimen of good literary composition, which one may accept or reject without entailing any consequence, but it is openly administering a warning to the whole world that the results of accepting and believing in it are marvellous and of rejecting it very dreadful. Thus only a fool could reject it with scant attention.

سورة حٰمٓ السَّجْدَة حاشیہ نمبر :1 یہ اس سورہ کی مختصر تمہید ہے ۔ آگے کی تقریر پر غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آ سکتی ہے کہ اس تمہید میں جو باتیں ارشاد ہوئی ہیں وہ بعد کے مضمون سے کیا مناسبت رکھتی ہیں ۔ پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ یہ کلام خدا کی طرف سے نازل ہو رہا ہے ۔ یعنی تم جب تک چاہو یہ رٹ لگاتے رہو کہ اسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم خود تصنیف کر رہے ہیں ، لیکن واقعہ یہی ہے کہ اس کلام کا نزول خداوند عالم کی طرف سے ہے ۔ مزید براں یہ ارشاد فرما کر مخاطبین کو اس بات پر بھی متنبہ کیا گیا ہے کہ تم اگر اس کلام کو سن کر چیں بجبیں ہوتے ہو تو تمہارا یہ غصہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نہیں بلکہ خدا کے خلاف ہے ، اگر اسے رد کرتے ہو تو ایک انسان کی بات نہیں بلکہ خدا کی بات رد کرتے ہو ، اور اگر اس سے بے رخی برتتے ہو تو ایک انسان سے نہیں بلکہ خدا سے منہ موڑتے ہو ۔ دوسری بات یہ ارشاد ہوئی ہے کہ اس کا نازل کرنے والا وہ خدا ہے جو اپنی مخلوق پر بے انتہا مہربان ( رحمان اور رحیم ) ہے ۔ نازل کرنے والے خدا کی دوسری صفات کے بجائے صفت رحمت کا ذکر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس نے اپنی رحیمی کے اقتضا سے یہ کلام نازل کیا ہے ۔ اس سے مخاطبین کو خبردار کیا گیا ہے کہ اس کلام سے اگر کوئی بے رخی برتتا ہے ، یا اسے رد کرتا ہے ، یا اس پر چین بجبیں ہوتا ہے تو در حقیقت اپنے آپ سے دشمنی کرتا ہے ۔ یہ تو ایک نعمت عظمٰی ہے جو خدا نے سراسر اپنی رحمت کی بنا پر انسانوں کی رہنمائی اور فلاح و سعادت کے لیے نازل کی ہے ۔ خدا اگر انسانوں سے بے رخی برتتا تو انہیں اندھیرے میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتا اور کچھ پروا نہ کرتا کہ یہ کس گڑھے میں جا کر گرتے ہیں ۔ لیکن یہ اس کا فضل و کرم ہے کہ پیدا کرنے اور روزی دینے کے ساتھ ان کی زندگی سنورنے کے لیے علم کی روشنی دکھانا بھی وہ اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے اور اسی بنا پر یہ کلام اپنے ایک بندے پر نازل کر رہا ہے ۔ اب اس شخص سے بڑھ کر ناشکرا اور آپ اپنا دشمن کون ہو گا جو اس رحمت سے فائدہ اٹھانے کے بجائے الٹا اس سے لڑنے کے لیے دوڑے ۔ تیسری بات یہ فرمائی ہے کہ اس کتاب کی آیات خوب کھول کر بیان کی گئی ہیں ۔ اس میں کوئی بات گنجلک اور پیچیدہ نہیں ہے کہ کوئی شخص اس بنا پر اسے قبول کرنے سے معذوری ظاہر کر دے کہ اس کی سمجھ میں اس کتاب کے مضامین آتے نہیں ہیں ۔ اس میں تو صاف صاف بتایا گیا ہے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ، صحیح عقائد کون سے ہیں اور غلط عقائد کون سے ، اچھے اخلاق کیا ہیں اور برے اخلاق کیا ، نیکی کیا ہے اور بدی کیا ، کس طریقے کی پیروی میں انسان کی بھلائی ہے اور کس طریقے کو اختیار کرنے میں اس کا اپنا خسارہ ہے ۔ ایسی صاف اور کھلی ہوئی ہدایت کو اگر کوئی شخص رد کرتا ہے یا اس کی طرف توجہ نہیں کرتا تو وہ کوئی معذرت پیش نہیں کر سکتا ۔ اس کے اس رویے کے صاف معنی یہ ہیں کہ وہ خود بر سر غلط رہنا چاہتا ہے ۔ چوتھی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ یہ عربی زبان کا قرآن ہے ۔ مطلب یہ ہے اگر یہ قرآن کسی غیر زبان میں آتا تو اہل عرب یہ عذر پیش کر سکتے تھے کہ ہم اس زبان ہی سے نابلد ہیں جس میں خدا نے اپنی کتاب بھیجی ہے ۔ لیکن یہ تو ان کی اپنی زبان ہے ۔ اسے نہ سمجھ سکنے کا بہانا نہیں بنا سکتے ۔ ( اس مقام پر آیت 44 بھی پیش نظر رہے جس میں یہی مضمون ایک دوسرے طریقے سے بیان ہوا ہے ۔ اور یہ شبہ کہ پھر غیر اہل عرب کے لیے تو قرآن کی دعوت کو قبول نہ کرنے کے لیے ایک معقول عذر موجود ہے ، اس سے پہلے ہم رفع کر چکے ہیں ۔ ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم ، ص 383 ، 384 ۔ رسائل و مسائل ، حصہ اول ، ص 19 تا 23 ) پانچویں بات یہ فرمائی گئی ہے کہ یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ہے جو علم رکھتے ہیں ۔ یعنی اس سے فائدہ صرف دانا لوگ ہی اٹھا سکتے ہیں ۔ نادان لوگوں لئے یہ اسی طرح بے فائدہ ہے جس طرح ایک قیمتی ہیرا اس شخص کے لئے بے فائدہ ہے جو ہیرے اور پتھر کا فرق نہ جانتا ہو ۔ چھٹی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ یہ کتاب بشارت دینے والی اور ڈرانے والی ہے ۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ یہ محض ایک تخیل ، ایک فلسفہ ، اور ایک نمونہ انشاء پیش کرتی ہو جسے ماننے یا نہ ماننے کا کچھ حاصل نہ ہو ۔ بلکہ یہ ہانکے پکارے تمام دنیا کو خبردار کر رہی ہے کہ اسے ماننے کے نتائج نہایت شاندار اور نہ ماننے کے نتائج انتہائی ہولناک ہیں ۔ ایسی کتاب کو صرف ایک بیوقوف ہی سرسری طور پر نظر انداز کر سکتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(41:4) بشیرا ونذیرا۔ یہ ہر دو صفات ہیں جن کا موصوف قرانا ہے۔ (یہ قرآن) اہل اطاعت کے لئے مژدہ سنانے والا ہے اور اہل معصیت کے ڈرانے والا ہے۔ فاعرض۔ ماضی صیغہ واحد مذکر غائب اس نے اعراض کیا۔ اس نے روگردانی کی۔ اس نے منہ پھیرلیا۔ اس نے کنارہ کیا۔ اعراض (افعال) مصدر ۔ فاعرض اکثرھم۔ یعنی چاہیے تو یہ تھا کہ ان صفات کے پیش نظر سب اس پر ایمان لے آتے لیکن ہوا یہ کہ ان میں سے اکثر لوگوں نے اس سے روگرانی کی۔ اکثرھم مضاف مضاف الیہ۔ ان میں سے اکثر۔ ہم ضمیر کا مرجع قوم ہے۔ فھم لا یسمعون ۔ عربی محاورہ ہے تشفعت الی فلان فلم یسمع تولی : میں نے فلاں کو سفارش کے لئے کہا لیکن اس نے میری بات نہ سنی۔ یعنی میری بات نہ مانی۔ یعنی قرآن اس کے احکام بجا لانے والوں کو خوشخبری سنانے والا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو انجام بد سے ڈرانے والا ہے لیکن ان لوگوں نے بشارت یا انذار کو سنا ہی نہیں یعنی اس کو مانا ہی نہیں ۔ قبول ہی نہیں کیا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کے نزول اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کا مقصد نیک لوگوں کو خوشخبری سنانا اور بروں لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرانا ہے نزول قرآن کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے نیک لوگوں کو ان کے بہتر انجام کی خوشخبری دی جائے اور برے لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرایا جائے۔ قرآن مجید نے متعدد مقامات پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے یہی بات بیان فرمائی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری کا مقصد حقیقی ایمان اور صالح کردار رکھنے والوں کو دنیا اور آخرت کی خوشخبری سنانا اور باطل عقائد اور برا کردار رکھنے والوں کو ان کے بھیانک انجام سے ڈرانا ہے۔ جسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پورے خلوص اور جانفشانی کے ساتھ کھول کر بیان کردیا۔ لیکن اس کے باوجود لوگوں کی اکثریت نے اعراض کیا اور آپ کی بات سننے کے لیے تیارنہ ہوئے۔ نہ صرف سننے کے لیے تیارنہ ہوئے بلکہ کھلے الفاظ میں کہتے ہیں کہ جس بات کی آپ دعوت دیتے ہیں اس کے بارے میں ہمارے دلوں پر پردے پڑچکے ہیں۔ ہمارے کان اسے سننے سے بہرے ہیں اور ہمارے اور تیرے درمیان ایک پردہ حائل ہوچکا ہے۔ تم اپنا کام کرو اور ہم اپنا کام کرتے رہیں گے۔ مکہ کی غالب اکثریت کا یہی رویہّ تھا اس لیے انہوں نے اپنے بارے میں یہ الفاظ استعمال کیے۔ اس کے دو مفہوم بنتے ہیں۔ ١۔ تم دعوت دینے سے باز آنے والے نہیں اور ہم مرتے دم تک آپ کی مخالفت چھوڑنے والے نہیں۔ ٢۔ تم اپنا کام کرو اور ہم اپنا کام کریں گے۔ یعنی تم اپنے طریقے کے مطابق رب کی عبادت کرو ہم اپنے طریقے کے مطابق عبادت کریں گے۔ سرداران قریش دعوت اسلام کو نیچا دکھانے کے لیے کئی طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتے رہے۔ مگر ناکام ہوئے بالآخر انہوں نے یہ ہتھکنڈا استعمال کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے درمیان سمجھوتہ ہوجائے۔ ایک دن رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حرم کے ایک گوشہ میں تشریف فرما تھے اور دوسرے گوشہ میں چند سرداران قریش بیٹھے ہوئے تھے۔ عتبہ بن ربیعہ ایک معزز قریشی سردار، نہایت بہادر اور فطرتاً نیک دل انسان تھا۔ وہ اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا کہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کچھ باتیں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ امید ہے کہ وہ ان میں سے ایک نہ ایک ضرور مان لے گا۔ اگر اس نے میری بات قبول کرلی تو ہم اس مصیبت سے نجات حاصل کرلیں گے۔ اس کے ساتھیوں نے کہا : ابو الولید ! آپ یہ کام ضرور کریں۔ چناچہ عتبہ وہاں سے اٹھ کر رسول اکر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر کہنے لگا۔ بھتیجے ! قوم میں جو تفریق پیدا ہوچکی ہے آپ اسے جانتے ہیں۔ میں چند باتیں پیش کرتا ہوں ان میں سے جو چاہو پسند کرلو۔ مکہ کی حکومت چاہتے ہو یا کسی بڑے گھرانے میں شادی یا مال و دولت ؟ اور اگر آپ کے پاس کوئی جن بھوت آتا ہے تو اس کے علاج کی بھی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ مگر آپ اپنی دعوت سے باز آجائیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عتبہ کی باتیں سنتے رہے۔ جب عتبہ خاموش ہوگیا تو آپ نے فرمایا۔ اب میرا جواب سن لیں آپ نے سب باتوں کے جواب میں اسی سورة کی ابتدائی چند آیات تلاوت فرمائیں۔ جب آپ اس آیت پر پہنچے تو عتبہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور اس نے آپ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ اسے یہ خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں یہ عذاب اسی وقت نہ اتر پڑے پھر وہ اٹھ کر اپنے ساتھیوں کے پاس آکر کہنے لگا۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کلام پیش کرتا ہے وہ شاعری نہیں۔ بلکہ کلام ربانی ہے تم اسے اس کے حال پر چھوڑ دو ۔ اگر وہ عرب پر غالب آگیا تو اس میں تمہاری ہی عزت ہے اور اگر وہ خود ہی ختم ہوگیا تو یہی تم چاہتے ہو۔ اس کے ساتھیوں نے کہا : ابو الولید ! معلوم ہوتا ہے کہ تم پر بھی اس کا جادو چل گیا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر) مسائل ١۔ اللہ کے رسول ایمانداروں کو خوشخبری دینے اور دوسروں کو ڈرانے کے لیے تشریف لاتے تھے۔ ٢۔ کفار فخر و غرور اور جہالت کی بنیاد پر کہتے تھے کہ ہمارے دلوں پر پردہ، کانوں پر بوجھ اور تیرے اور ہمارے درمیان ایک رکاوٹ کھڑی ہوچکی ہے۔ ٣۔ لوگوں کی اکثریت حقیقت سننے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

3:۔ ” فاعرض اکثرھم “ تا ” اننا عملون “ یہ منکرین پر زجر ہے اور پہلا شکوی ہے چاہئے تو یہ تھا کہ وہ ایسی عظیم الشان اور جلیل القدر کتاب کو سینوں سے لگاتے۔ لیکن انہوں نے اس سے اس طرح منہ موڑا کہ اسے سمجھنا اور اس میں غور وفکر کرنا تو درکنار وہ اسے سنتے بھی نہیں۔ ان کے نہ سننے اور اعراض کو آگے تین تعبیروں سے ذکر کیا گیا ہے۔ اول، ” وقالوا قلوبنا فی اکنۃ مما تدعونا الیہ۔ ماتدعونا الیہ “ سے مسئلہ توحید مراد ہے جو سورة مومن کا دعوی ہے۔ ” ما تدعونا الیہ من التوحید “ (مدارک مظہری) ۔ یعنی ہمارے دل تہ بتہ پردوں میں لپٹے ہوئے ہیں۔ اس لیے تیرے اس مسئلہ کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یہ بات ہماری سمجھ سے بالا تر ہے کہ ہمارے یہ معبود سب عاجز ہیں اور کچھ نہیں کرسکتے اور یہ کہ ہمارے باپ دادا سب باطل پرست اور گمراہ تھے۔ اصل بات یہ ہے کہ وہ سمجھتے تو تھے لیکن اپنے عقیدے کے مخالف ہونے کی وجہ سے انکار کرتے تھے۔ محض ضداً اور عناداً ۔ دوسری تعبیر ” وفی اذاننا وقر “ ہمارے کان تیرے کلام سے بہرے ہیں، تیرا کلام ہمارے کانوں میں داخل ہی نہیں ہوسکتا۔ تیسری تعبیر ” ومن بیننا وبینک حجاب “ تیرے اور ہمارے درمیان ایک پردہ حائل ہے یعنی ہمارا دین تیرے دین سے الگ ہم بہت سے معبودوں کے پجاری ہیں اور تو صرف ایک خدا کا قائل ہے۔ یہ اختلاف دین ایک ایسا دبیز پردہ ہے جو ہمیں تیری بات سننے اور سمجھنے سے روکتا ہے یہ سب اعراض اور عدم قبول سے کنایات اور اس کی تمثیلات ہیں۔ ” فاعمل اننا عملون “ جا میاں تو اپنا کرم کر تیری بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔ ہم تو وہی کچھ کریں گے جو ہمارے باپ دادا کرتے آرہے ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(4) اس قرآن کریم کی شان یہ ہے کہ بشارت دینے والا اور ڈرانے والا ہے پھر بھی ان کے اکثر لوگوں نے اس قرآن کریم سے روگردانی کی سو وہ سنتے ہی نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس کلام کی آیتیں مفصل ہیں یعنی جدا جدا ایک آیت سے دوسری آیت علیحدہ اور اپنے مضامین اور معانی میں نہایت صاف اور واضح مراد لیتا ہوں میں قرآن عربی زبان کا یعنی اس کتاب سے مراد قرآن ہے جو عربی میں ہے تاکہ جن لوگوں میں یہ نازل ہوا ہے وہ اس کو آسانی سے سمجھ سکیں اور دوسرے لوگوں کو سمجھا سکیں اور دوسرے لوگوں کو سمجھا سکیں ان لوگوں کے نفع کے لئے یہ قرآن کریم نازل کیا گیا ہے جو سمجھدار ہیں یعنی اگرچہ مکلف سب ہیں لیکن حقیقتہً منتفع وہی لوگ ہوتے ہیں جو اہل دانش ہیں۔ اس قرآن کریم کا حال اور اس کی شان یہ ہے کہ جو اس کو مانتے ہیں ان کو بشارت اور خوشخبری دیتا ہے اور جو نہیں مانتے ان کو ڈراتا ہے پھر بھی عرب کے اکثر لوگوں نے اس کتاب سے اعراض کیا اور منہ پھیرا پھر وہ اس کو سنتے ہی نہیں یعنی اس کتاب کا سننا بھی گوارہ نہیں کرتے اور سننے سے اعراض کرتے ہیں پھر اسی پر اکتفا نہیں بلکہ بطور عناد اور سرکشی کے ہرزہ سرائی کرتے ہیں۔