Surat us Shooraa
Surah: 42
Verse: 1
سورة الشورى
حٰمٓ ۚ﴿۱﴾
Ha, Meem.
حم
حٰمٓ ۚ﴿۱﴾
Ha, Meem.
حم
The Revelation and Allah's Might حم Ha Mim. عسق
حم عسق کی تفسیر : حروف مقطعات کی بحث پہلے گزر چکی ہے ۔ ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے جو منکر ہے اس میں ہے کہ ایک شخص حضرت ابن عباس کے پاس آیا اس وقت آپ کے پاس حضرت حذیفہ بن یمان بھی تھے ۔ اس نے ان حروف کی تفسیر آپ سے پوچھی آپ نے ذرا سی دیر سر نیچا کر لیا پھر منہ پھیر لیا اس شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا تو آپ نے پھر بھی منہ پھیر لیا اور اس کے سوال کو برا جانا اس نے پھر تیسری مرتبہ پوچھا ۔ آپ نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا اس پر حضرت حذیفہ نے کہا میں تجھے بتاتا ہوں اور مجھے یہ معلوم ہے کہ حضرت ابن عباس اسے کیوں ناپسند کر رہے ہیں ۔ ان کے اہل بیت میں سے ایک شخص کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے جسے ( عبد الا لہ ) اور عبداللہ کہا جاتا ہو گا وہ مشرق کی نہروں میں سے ایک نہر کے پاس اترے گا ۔ اور وہاں دو شہر بسائے گا نہر کو کاٹ کر دونوں شہروں میں لے جائے گا جب اللہ تعالیٰ ان کے ملک کے زوال اور ان کی دولت کا استیصال کا ارادہ کرے گا ۔ اور ان کا وقت ختم ہونے کا ہو گا تو ان دونوں شہروں میں سے ایک پر رات کے وقت آگ آئے گی جو اسے جلا کر بھسم کر دے گی وہاں کے لوگ صبح کو اسے دیکھ کر تعجب کریں گے ایسا معلوم ہو گا کہ گویا یہاں کچھ تھا ہی نہیں صبح ہی صبح وہاں تمام بڑے بڑے سرکش متکبر مخالف حق لوگ جمع ہوں گے اسی وقت اللہ تعالیٰ ان سب کو اس شہر سمیت غارت کر دے گا ۔ یہی معنی ہیں ( حم عسق ) کے یعنی اللہ کی طرف سے یہ عزیمت یعنی ضروری ہے یہ فتنہ قضا کیا ہوا یعنی فیصل شدہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عین سے مراد عدل سین سے مراد سیکون یعنی یہ عنقریب ہو کر رہے گا ( ق ) سے مراد واقع ہونے والا ان دونوں شہروں میں ۔ اس سے بھی زیادہ غربت والی ایک اور روایت میں مسند حافظ ابو یعلی کی دوسری جلد میں مسند ابن عباس میں ہے جو مرفوع بھی ہے لیکن اس کی سند بالکل ضعف ہے اور منقطع بھی ہے اس میں ہے کہ کسی نے ان حروف کی تفسیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے حضرت ابن عباس جلدی سے اکھٹے ہوئے اور فرمایا ہاں میں نے سنی ہے ( حم ) اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے عین سے مراد ( عاین المولون عذاب یوم بدر ) ہے ۔ سین سے مراد ( اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّانْتَــصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا ۭ وَسَـيَعْلَمُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَيَّ مُنْقَلَبٍ يَّنْقَلِبُوْنَ ٢٢٧ۧ ) 26- الشعراء:227 ) ( ق ) سے کیا مراد ہے اسے آپ نہ بتا سکے تو حضرت ابو ذر کھڑے ہوئے اور حضرت ابن عباس کی تفسیر کے مطابق تفسیر کی اور فرمایا ( ق ) سے مراد ( قارعہ ) آسمانی ہے جو تمام لوگوں کو ڈھانپ لے گا ترجمہ یہ ہوا کہ بدر کے دن پیٹھ موڑ کر بھاگنے والے کفار نے عذاب کا مزہ چکھ لیا ۔ ان ظالموں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ ان کا کتنا برا انجام ہوا ؟ ان پر آسمانی عذاب آئے گا جو انہیں تباہ و برباد کر دے گا پھر فرماتا ہے کہ اے نبی جس طرح تم پر اس قرآن کی وحی نازل ہوئی ہے اسی طرح تم سے پہلے کے پیغمبروں پر کتابیں اور صحیفے نازل ہو چکے ہیں یہ سب اس اللہ کی طرف سے اترے ہیں جو اپنا انتقام لینے میں غالب اور زبردست ہے جو اپنے اقوال و افعال میں حکمت والا ہے حضرت حارث بن ہشام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ آپ پر وحی کس طرح نازل ہوتی ہے ؟ آپ نے فرمایا کبھی تو گھنٹی کی مسلسل آواز کی طرح جو مجھ پر بہت بھاری پڑتی ہے جب وہ ختم ہوتی ہے تو مجھے جو کچھ کہا گیا وہ سب یاد ہوتا ہے اور کبھی فرشتہ انسانی صورت میں میرے پاس آتا ہے مجھ سے باتیں کر جاتا ہے جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد رکھ لیتا ہوں حضرت صدیقہ فرماتی ہیں سخت جاڑوں کے ایام میں بھی جب آپ پر وحی اترتی تھی تو شدت وحی سے آپ پانی پانی ہو جاتے تھے یہاں تک کہ پیشانی سے پسینہ کی بوندیں ٹپکنے لگتی تھیں ۔ ( بخاری مسلم ) مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی کیفیت پوچھی تو آپ نے فرمایا میں ایک زنجیر کی سی گھڑگھڑاہٹ سنتا ہوں پھر کان لگا لیتا ہوں ایسی وحی میں مجھ پر اتنی شدت سی ہوتی ہے کہ ہر مرتبہ مجھے اپنی روح نکل جانے کا گمان ہوتا ہے ۔ شرح صحیح بخاری کے شروع میں ہم کیفیت وحی پر مفصل کلام کر چکے ہیں فالحمد للہ ، پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق اس کی غلام ہے اس کی ملکیت ہے اس کے دباؤ تلے اور اس کے سامنے عاجز و مجبور ہے وہ بلندیوں والا اور بڑائیوں والا ہے وہ بہت بڑا اور بہت بلند ہے وہ اونچائی والا اور کبریائی والا ہے اس کی عظمت اور جلالت کا یہ حال ہے کہ قریب ہے آسمان پھٹ پڑیں ۔ فرشتے اس کی عظمت سے کپکپاتے ہوئے اس کی پاکی اور تعریف بیان کرتے رہتے ہیں اور زمین والوں کے لئے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت ( اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهٗ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَــحِيْمِ Ċ ) 40-غافر:7 ) یعنی حاملان عرش اور اس کے قرب و جوار کے فرشتے اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کرتے رہتے ہیں اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے اپنی رحمت و علم سے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے پس تو انہیں بخش دے جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرے راستے کے تابع ہیں انہیں عذاب جہنم سے بچا لے ۔ پھر فرمایا جان لو کہ اللہ غفور و رحیم ہے ، پھر فرماتا ہے کہ مشرکوں کے اعمال کی دیکھ بھال میں آپ کر رہا ہوں انہیں خود ہی پورا پورا بدلہ دوں گا ۔ تیرا کام صرف انہیں آگاہ کر دینا ہے تو کچھ ان پر داروغہ نہیں ۔
حم عسق : یہ حروف مقطعات ہیں، ان کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة بقرہ کی پہلی آیت کی تفسیر۔
Commentary (Ha Meem ` Ayn Seen Qaf) Only Allah knows the meaning of these letters. The gist of the first five verses is as follows: Just as this surah was revealed to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) for the ascertainment of the religious principles and for other benefits, similarly Allah Ta’ ala has been sending other prophets who preceded him. His Magnificence is such that whatever there is in the heavens and in the earth is His. He is the Supreme, the Most Magnificent. Even though some of the people of this world do not recognize and do not admit the greatness of His magnificence, yet the number of the angels in the heavens, who know Him and recognize His greatness, is so large that their load may, quite likely, cause the heavens to burst apart from above. A hadith narrated in Tirmidhi and Ibn Majah states that due to the large number of the angels, such crackling sounds are produced in the heavens as are produced when an excessive load is placed on something. And that is how it should be, because throughout the heavens there is not even a space of four fingers left vacant by angels who are in the state of prostration.
خلاصہ تفسیر حم عسق۔ (اس کے معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں، جس طرح اصول دینیہ کی تحقیق اور فوائد عظیمہ کے لئے یہ سورت آپ پر نازل ہو رہی ہے) اسی طرح آپ پر اور جو (پیغمبر) آپ سے پہلے ہوچکے ہیں ان پر اللہ تعالیٰ جو زبردست حکمت والا ہے (دوسری سورتوں اور کتابوں کی) وحی بھیجتا رہا ہے (اور اس کی یہ شان ہے کہ) اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور وہی سب سے برتر اور عظیم الشان ہے (اس کی عظمت شان کو اگر کچھ زمین والے نہ پہچانیں اور نہ مانیں مگر آسمانوں میں اس کی معرفت رکھنے والے اور عظمت کو پہچاننے والے فرشتے اس کثرت سے ہیں کہ) کچھ بعید نہیں کہ آسمان (ان کے بوجھ کی وجہ سے) اپنے اوپر سے (کہ بوجھ ادھر ہی سے پڑتا ہے) پھٹ پڑیں (جیسا کہ حدیث میں ہے اطت السماء وحق لھا ان تئط ما فیھا موضع اربعة اصابع الا و ملک واضع جبھتہ ساجد اللہ۔ رواہ الترمذی وابن ماجہ وبہ فسر الآیہ فی المدارک، یعنی آسمان میں ایسی آواز پیدا ہونے لگی جیسی کسی چیز پر زیادہ بوجھ پڑجانے سے ہوا کرتی ہے۔ اور اس میں ایسی ہی آواز ہونی چاہئے۔ کیونکہ پورے آسمانوں میں چار انگشت کی جگہ بھی ایسی نہیں جس میں کوئی فرشتہ اپنی پیشانی ٹیک کر سجدہ میں نہ ہو) اور (وہ) فرشتے اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرتے ہیں، اور اہل زمین (میں جو لوگ اس کی عظمت کا حق ادا نہیں کرتے بلکہ شرک و کفر میں مبتلا ہیں اس لئے مستحق عذاب ہیں۔ وہ فرشتے ان) کے لئے (ایک خاص وقت تک) معافی مانگتے ہیں (اس محدود معافی مانگنے سے مراد یہ ہے کہ فرشتے اس کی دعا کرتے ہیں کہ ان پر دنیا میں کوئی سخت عذاب نہ آجائے۔ جس سے سبھی ہلاک ہوجائیں۔ دنیا کی معمولی سزائیں اور آخرت کا اصلی عذاب اس استغفار کے مفہوم سے خارج ہے اور اللہ تعالیٰ فرشتوں کی اس دعاء و درخواست کو قبول فرما کر ان کو دنیا کے عذاب عام سے بچا لیتا ہے) خوب سمجھ لو کہ اللہ ہی معاف کرنیوالا اور رحمت کرنے والا ہے (اگرچہ کفار کی یہ معافی محدود اور رحمت صرف دنیا کی حد تک ہوتی ہے) اور جن لوگوں نے خدا کے سوا دوسرے کار ساز قرار دے رکھے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے (اعمال قبیحہ) کو دیکھ بھال رہا ہے (جس کی سزا ان کو مناسب وقت پر ملے گی) اور آپ کو ان پر کوئی اختیار نہیں دیا گیا (کہ آپ جب چاہیں ان پر عذاب نازل کرا دیں) اور (آپ کو ان لوگوں پر فوری عذاب نہ آنے سے حزن و ملال نہ ہونا چاہئے کیونکہ آپ کا کام تبلیغ کرنے کا ہے وہ آپ کرچکے اس سے زیادہ کی فکر آپ نہ کریں، چنانچہ) ہم نے اسی طرح (جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں) آپ پر قرآن عربی وحی کے ذریعہ (محض اس لئے) نازل کیا ہے تاکہ آپ (سب سے پہلے) مکہ کے رہنے والوں کو اور جو لوگ اس کے آس پاس ہیں ان کو ڈرائیں اور (یہ ڈرانا بھی ایک بڑی چیز سے ہے یعنی) جمع ہونے کے دن سے ڈرائیں۔ (مراد اس سے قیامت ہے جس میں سب اولین و آخرین ایک میدان میں جمع ہوں گے) جس میں ذرا شک نہیں (جس میں فیصلہ یہ ہوگا کہ) ایک گروہ جنت میں (داخل) ہوگا ایک گروہ دوزخ میں (داخل) ہوگا۔ (بس آپ کا کام اتنا ہی ہے کہ اس دن سے ان کو ڈرائیں) اور (رہا ان کا ایمان لانا یا نہ لانا یہ مشیت الٰہی پر موقوف ہے) اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو ان سب کو ایک ہی طریقہ کا بنا دیتا (یعنی سب کو ایمان نصیب ہوجاتا جیسا کہ حق تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ولوشئنا لاتینا کل نفس ھداھا۔ یعنی اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو صحیح ہدایت پر پہنچا دیتے) لیکن (بہت سی حکمتوں کی بنا پر اس کو یہ منظور نہیں ہوا بلکہ) وہ جس کو چاہتا ہے (ایمان دے کر) اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے (اور جس کو چاہتا ہے اس کے کفر و شرک پر چھوڑ دیتا ہے کہ وہ رحمت میں داخل نہیں ہوتا) اور (ان) ظالموں کا (جو کہ کفر و شرک میں مبتلا ہیں قیامت کے روز) کوئی حامی اور مددگار نہیں (آگے شرک کا ابطال کیا جاتا ہے) کیا ان لوگوں نے خدا کے سوا دوسرے کار ساز قرار دے رکھے ہیں سو (اگر کارساز بنانا ہے تو) اللہ ہی کار ساز (بنانے کا مستحق) ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے (تو کارساز بنانے کے لائق وہی ہے جو ہر چیز پر یہاں تک کہ مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہے اس کی قدرت کی خصوصیت یہ ہے کہ اور چیزوں پر تو برائے نام قدرت کچھ دوسروں کو بھی اس وقت حاصل ہے مگر مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت میں کوئی برائے نام بھی شریک نہیں) ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ حٰـمۗ ١ ۚعۗسۗقۗ ٢ كَذٰلِكَ يُوْحِيْٓ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ٠ ۙ اللہُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ٣ هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] ، ويقال بإزاء هذا في المستبعد بالشخص أو بالمنزلة : ( ذَاكَ ) و ( ذلك) قال تعالی: الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] ، ذلِكَ مِنْ آياتِ اللَّهِ [ الكهف/ 17] ، ذلِكَ أَنْ لَمْ يَكُنْ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرى [ الأنعام/ 131] ، إلى غير ذلك . ( ذ ا ) ہاں ھذا میں ذا کا لفظ اسم اشارہ ہے جو محسوس اور معقول چیز کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے ۔ چناچہ کہا جاتا ہے ۔ ھذہ وھذی وھاتا ۔ ان میں سے سرف ھاتا کا تژنیہ ھاتان آتا ہے ۔ ھذہٰ اور ھٰذی کا تثنیہ استعمال نہیں ہوتا قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تونے مجھ پر فضیلت دی ہے ۔ هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] یہ وہ چیزیں ہیں جن کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ۔ هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] یہ وہی ہے جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے ۔ إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ۔ هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] یہی وہ جہنم ہے جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے ۔ هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] یہی وہ جہنم ہے جسے گنہگار لوگ جھٹلاتے تھے ۔ ھذا کے بالمقابل جو چیز اپنی ذات کے اعتبار سے دور ہو یا باعتبار مرتبہ بلند ہو ۔ اس کے لئے ذاک اور ذالک استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] یہ کتاب یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہے ۔ ذلِكَ مِنْ آياتِ اللَّهِ [ الكهف/ 17] یہ اس لئے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہلاک کردے ۔ وحی أصل الوحي : الإشارة السّريعة، ولتضمّن السّرعة قيل : أمر وَحْيٌ ، وذلک يكون بالکلام علی سبیل الرّمز والتّعریض، وقد يكون بصوت مجرّد عن التّركيب، وبإشارة ببعض الجوارح، وبالکتابة، وقد حمل علی ذلک قوله تعالیٰ عن زكريّا : فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] وقوله : وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] فوحيه إلى موسیٰ بوساطة جبریل، ووحيه تعالیٰ إلى هرون بوساطة جبریل وموسی، ( و ح ی ) الوحی کے اصل معنی جلدی سے اشارہ کرنا کے ہیں ۔ اور اس کے معنی سرعت کو متضمن ہو نیکی وجہ سے ہر تیز رفتار معاملہ کو امر وحی کہا جاتا ہے اور یہ وحی کبھی رمزوتعریض کے طور پر بذریعہ کلام کے ہوتی ہے اور کبھی صوت مجرد کی صورت میں ہوتی ہے یعنی اس میں ترکیب الفاظ نہیں ہوتی اور کبھی بذیعہ جوارح کے اور کبھی بذریعہ کتابت کے اس بنا پر آیت : ۔ فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] پھر وہ عبادت کے حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے تو ان سے اشارے سے کہا کہ صبح وشام خدا کو یاد کرتے رہو ۔ اور آیت : ۔ وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کی طرف وحی بھیجی میں موسیٰ اور ان کے بھائی کی طرف یکساں قسم کی وحی بھیجنا مراد نہیں ہے بلکہ موسیٰ علیہ اسلام کی طر وحی تو حضرت جبریل کی وسا طت سے آتی تھی مگر ہارون (علیہ السلام) کی طرف حضرت موسیٰ اور جبریل (علیہ السلام) دونوں کی وساطت سے وحی کی جاتی ہے إلى إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست، وأَلَوْتُ في الأمر : قصّرت فيه، هو منه، كأنه رأى فيه الانتهاء، وأَلَوْتُ فلانا، أي : أولیته تقصیرا نحو : کسبته، أي : أولیته کسبا، وما ألوته جهدا، أي : ما أولیته تقصیرا بحسب الجهد، فقولک : «جهدا» تمييز، وکذلك : ما ألوته نصحا . وقوله تعالی: لا يَأْلُونَكُمْ خَبالًا[ آل عمران/ 118] منه، أي : لا يقصّرون في جلب الخبال، وقال تعالی: وَلا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ [ النور/ 22] قيل : هو يفتعل من ألوت، وقیل : هو من : آلیت : حلفت . وقیل : نزل ذلک في أبي بكر، وکان قد حلف علی مسطح أن يزوي عنه فضله وردّ هذا بعضهم بأنّ افتعل قلّما يبنی من «أفعل» ، إنما يبنی من «فعل» ، وذلک مثل : کسبت واکتسبت، وصنعت واصطنعت، ورأيت وارتأيت . وروي : «لا دریت ولا ائتلیت»وذلک : افتعلت من قولک : ما ألوته شيئا، كأنه قيل : ولا استطعت . الیٰ ۔ حرف ( جر ) ہے اور جہات ستہ میں سے کسی جہت کی نہایتہ حدبیان کرنے کے لئے آتا ہے ۔ ( ا ل و ) الوت فی الامر کے معنی ہیں کسی کام میں کو تا ہی کرنا گو یا کوتاہی کرنے والا سمجھتا ہے کہ اس امر کی انتہا یہی ہے ۔ اور الوت فلانا کے معنی اولیتہ تقصیرا ( میں نے اس کوتاہی کا والی بنا دیا ) کے ہیں جیسے کسبتہ ای اولیتہ کسبا ( میں نے اسے کسب کا ولی بنا دیا ) ماالوتہ جھدا میں نے مقدر پھر اس سے کوتاہی نہیں کی اس میں جھدا تمیز ہے جس طرح ماالوتہ نصحا میں نصحا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا } ( سورة آل عمران 118) یعنی یہ لوگ تمہاری خرابی چاہنے میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے ۔ اور آیت کریمہ :{ وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ } ( سورة النور 22) اور جو لوگ تم میں سے صاحب فضل داور صاحب وسعت ) ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہ الوت سے باب افتعال ہے اور بعض نے الیت بمعنی حلفت سے مانا ہے اور کہا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر کے متعلق نازل ہوئی تھی جب کہ انہوں نے قسم کھائی تھی کہ وہ آئندہ مسطح کی مالی امداد نہیں کریں گے ۔ لیکن اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ فعل ( مجرد ) سے بنایا جاتا ہے جیسے :۔ کبت سے اکتسبت اور صنعت سے اصطنعت اور رایت سے ارتایت اور روایت (12) لا دریت ولا ائتلیت میں بھی ماالوتہ شئیا سے افتعال کا صیغہ ہے ۔ گویا اس کے معنی ولا استطعت کے ہیں ( یعنی تونے نہ جانا اور نہ تجھے اس کی استطاعت ہوئ ) اصل میں الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة «3» لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود «4» . وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله» وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها «2» ، وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] وقرئ : ( وإلاهتك) أي : عبادتک . ولاه أنت، أي : لله، وحذف إحدی اللامین .«اللهم» قيل : معناه : يا الله، فأبدل من الیاء في أوله المیمان في آخره وخصّ بدعاء الله، وقیل : تقدیره : يا اللہ أمّنا بخیر «5» ، مركّب تركيب حيّهلا . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ الہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو ۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ ایک قراءت میں والاھتک ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں الاہ انت ۔ یہ اصل میں للہ انت ہے ایک لام کو تخفیف کے لئے خذف کردیا گیا ہے ۔ اللھم بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی یا اللہ کے ہیں اور اس میں میم مشدد یا ( حرف ندا کے عوض میں آیا ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ اصل میں یا اللہ امنا بخیر ( اے اللہ تو خیر کے ساری ہماری طرف توجہ فرما) ہے ( کثرت استعمال کی بنا پر ) ۔۔۔ حی ھلا کی طرح مرکب کرکے اللھم بنا لیا گیا ہے ۔ ( جیسے ھلم ) عزیز ، وَالعَزيزُ : الذي يقهر ولا يقهر . قال تعالی: إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] ، يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] ( ع ز ز ) العزیز العزیز وہ ہے جو غالب ہو اور مغلوب نہ ہو قرآن ، میں ہے : ۔ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] بیشک وہ غالب حکمت والا ہے ۔ يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] اے عزیز میں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہورہی ہے ۔ اعزہ ( افعال ) کے معنی کسی کو عزت بخشے کے ہیں ۔ ) حكيم والحِكْمَةُ : إصابة الحق بالعلم والعقل، فالحکمة من اللہ تعالی: معرفة الأشياء وإيجادها علی غاية الإحكام، ومن الإنسان : معرفة الموجودات وفعل الخیرات . وهذا هو الذي وصف به لقمان في قوله عزّ وجلّ : وَلَقَدْ آتَيْنا لُقْمانَ الْحِكْمَةَ [ لقمان/ 12] ، ونبّه علی جملتها بما وصفه بها، فإذا قيل في اللہ تعالی: هو حَكِيم «2» ، فمعناه بخلاف معناه إذا وصف به غيره، ومن هذا الوجه قال اللہ تعالی: أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، وإذا وصف به القرآن فلتضمنه الحکمة، نحو : الر تِلْكَ آياتُ الْكِتابِ الْحَكِيمِ [يونس/ 1] ( ح ک م ) الحکمتہ کے معنی علم وعقل کے ذریعہ حق بات دریافت کرلینے کے ہیں ۔ لہذا حکمت الہی کے معنی اشیاء کی معرفت اور پھر نہایت احکام کے ساتھ انکو موجود کرتا ہیں اور انسانی حکمت موجودات کی معرفت اور اچھے کو موں کو سرانجام دینے کا نام ہے چناچہ آیت کریمہ : وَلَقَدْ آتَيْنا لُقْمانَ الْحِكْمَةَ [ لقمان/ 12] اور ہم نے لقمان کو دانائی بخشی ۔ میں حکمت کے یہی معنی مراد ہیں جو کہ حضرت لقمان کو عطا کی گئی تھی ۔ لہزا جب اللہ تعالے کے متعلق حکیم کا لفظ بولاجاتا ہے تو اس سے وہ معنی مراد نہیں ہوتے جو کسی انسان کے حکیم ہونے کے ہوتے ہیں اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق فرمایا ہے ۔ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] کیا سب سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟
(١۔ ٢) حم عسق۔ ان الفاظ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنی حمد و ثنا فرمائی ہے۔ چناچہ حا سے اس کا حلم اور میم سے اس کا ملک اور عین سے علم اور سین سے اس کی عزت قاف سے اپنی مخلوق پر قدرت مراد ہے یا یہ کہ حا تمام ہونے والی لڑائیاں اور میم سے سلطنتوں کی تبدیلیاں اور عین سے ہر ایک وہ وعدہ جو ہوگا اور سین سے یوسف کے زمانہ کی طرح قحط سالی کے سال اور قافل سے ہر ایک ہونے والی تہمت مراد ہے یا یہ کہ ان لفاظ کے ذریعے قسم کھائی ہے کہ جو شخص خلوص کے ساتھ کلمہ لا الہ الا اللہ کا اقرار کرے گا اور اسی حالت میں اپنے پروردگار سے ملے گا تو اللہ تعالیٰ اسے ہمیشہ کے لیے دوزخ میں داخل نہ کرے گا۔
سورة الشورے مکیۃ ١۔ ٦ حم عسق حروف مقطعات میں سے ہے سورة آل عمران کی تفسیر میں یہ گزر چکا ہے کہ حروف مقطعات آیات متشابہات کی قسم میں سے ہیں کیونکہ ان کے معنوں سے کوئی حرام و حلال کا حکم متعلق نہیں ہے اس لئے حضرت عبد اللہ بن عباس کے قول کے موافق اس طرح کی سب آیتیں متشابہات میں داخل ہیں۔ صحیح بخاری ٣ ؎ و مسلم کے حوالہ سے حضرت عائشہ کی حدیث سورة آل عمران کی تفسیر میں گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے متشابہ آیتوں کی تفسیر سے علماء امت کو منع فرمایا ہے اس واسطے صحابہ اور تابعین کا زمانہ اسی طریقہ پر گزرا ہے کہ وہ متشابہ آیتوں کی تفسیر کے درپے نہ ہوتے تھے بلکہ ان کی تفسیر کو اللہ تعالیٰ کے علم پر سونپا کرتے تھے یہ تفسیر سلف کے اقوال کے موافق لکھی گئی ہے اس لئے متشابہ آیتوں کی تفسیر میں وہی طریقہ اس تفسیر میں برتا گیا ہے کذلک کا یہ تو مطلب ہے کہ اللہ کی وحدانیت اور شرک کی مذمت کی جو باتیں قرآن میں ہیں وہی باتیں پچھلے انبیاء پر اتری ہیں یا مشرکین مکہ یہ جو کہتے تھے کہ اللہ کا رسول انسان نہیں ہوسکتا کوئی فرشتہ ہونا چاہئے اسی کے جواب میں فرمایا کہ جس طرح ہمیشہ سے انسان رسول ہوتے آئے ہیں اسی طرح یہ انسان رسول ہیں کسی امت کی ہدایت کے لئے فرشتہ نہیں آیا کیونکہ فرشتوں کو اصلی صورت میں دیکھنا انسان کی طاقت سے باہر ہے پھر فرمایا اس فہمائش کے بعد بھی اگر لوگ اپنی بےٹھکانے کی باتوں سے باز نہ آئیں گے اور کلام الٰہی کو جھٹلائے جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے بدلہ لینے میں ایسا زبردست ہے کہ اس نے پچھلی بہت سی قوموں کو طرح طرح کے عذاب سے ہلاک کردیا اور کوئی اس کے عذاب کو ٹال نہ سکا۔ صاحب حکمت وہ ایسا ہے ہے کہ اس نے ہر وقت کی ضرورت کے موافق احکام نازل فرمائے ہیں۔ پچھلی قوموں کے طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوجانے کے جتنے قصے گزرے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے زبردست ہونے کی گویا تفسیر ہیں۔ صحیح ١ ؎ بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا مسئلہ تو ہر نبی کی نبوت کے زمانہ میں یکساں رہا ہے ہاں حلال و حرام کے مسئلے ہر وقت کی ضرورت کے موافق بدلتے رہے ہیں یہ حدیث اللہ تعالیٰ کے صاحب حکمت ہونے کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کی وحدانیت کا مسئلہ بڑا تاکید کا مسئلہ ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے اس کی تاکید تو ہر نبی کے زمانہ میں رکھی اور باقی کے مسئلوں کو اپنی حکمت کے موافق ہر وقت کی ضرورت کی حالت پر رکھا ہے۔ پھر فرمایا آسمان و زمین کا مالک جب کہ وہی وحدہ لا شریک ہے اور سب پر اسی کا حکم جاری ہے تر پھر کس استحقاق سے یہ مشرک لوگ غیروں کو اس کی تعظیم میں شریک کرتے ہیں یہاں تو آسمان کے پھٹ پڑنے کا ذکر مختصر طور پر فرمایا سورة مریم میں فرمایا ہے کہ یہ شرک ایسی وبال کی چیز ہے کہ اس سے آسمان پھٹ جائیں اور زمین ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے اور پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں تو یہ ہوسکتا ہے حاصل کلام یہ ہے کہ سورة مریم کی آیتیں گویا ان آیتوں کی تفسیر ہیں اس سے آسمان کے پھٹ جانے کا سبب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ صحیح بخاری ٢ ؎ و مسلم ٣ ؎ کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود کی حدیث ایک جگہ گزرچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اس لئے اپنے پیدا کرنے والے کی تعظیم میں جو لوگ دوسروں کو شریک کرتے ہیں ان سے بڑھ کر دنیا میں کوئی گناہ گار نہیں۔ مشرک کے شرک سے آسمان اور فرشتے جو خوف کرتے ہیں یہ حدیث اس کی گویا تفسیر ہے جس سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے کہ شرک کے برابر اس دنیا میں کوئی گناہ نہیں اس لئے شرک بڑے خوف کی چیز ہے سورة المومن میں فرشتوں کی دعائے مغفرت ایمانداروں کے لئے ہے اور یہاں تمام زمین والوں کے لئے مطلب اس سے یہ ہے کہ تمام اہل زمین میں جو مشرک ہیں ان کے حق میں اللہ کے فرشتے یہ دعا کرتے ہیں کہ وہ لوگ آئندہ شرک سے باز آئیں اور ایمانداروں کے حق میں ان کی دعا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو معاف فرمائے حاصل یہ ہے کہ شرک اللہ تعالیٰ کے غصہ کی چیز ہے اس لئے اس کے خوف سے جس طرح آسمان پھٹ جانے کے قریب ہوجاتے ہیں اسی طرح اللہ کے فرشتے مشرکوں کے حق میں شرک سے بچنے کی دعا کرنے لگتے ہیں کیونکہ مشرکین کو تو اپنا انجام نظر نہیں آتا اور فرشتوں کو ان کا انجام نظر آتا ہے۔ آگے فرمایا جو کوئی شرک سے آئندہ توبہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہوں کو معاف کر دے گا۔ صحیح ١ ؎ مسلم کے حوالہ سے عمرو بن العاص کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اسلام کے سبب سے پچھلے سب گناہوں کی بنیاد اکھڑ جاتی ہے۔ جو شخص شرک سے توبہ کرے اس کے پچھلے گناہوں کو معاف ہوجانے کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے پھر فرمایا اس فہمائش کے بعد بھی جو لوگ شرک سے باز نہ آئیں گے تو ایسے لوگوں کے سب کام اللہ کی نظر میں ہیں وقت مقررہ پر وہ ان کے عملوں کی ان کو سزا دے گا اور ایسے لوگ وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں دوزخی قرار پا چکے ہیں اس لئے اے رسول اللہ کے ان کو راہ راست پر لانے کے تم ذمہ دار نہیں ہو پھر فرمایا جس طرح پچھلے رسولوں پر ان ہی کی قوموں کی زبان میں احکام نازل کئے گئے اسی طرح اے رسول اللہ کے تمہاری قوم کی عربی زبان میں یہ قرآن نازل کیا گیا ہے تاکہ تم اس قرآن کے موافق مکہ اور اطراف مکہ کے نافرمان لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈراؤ۔ (٣ ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة ال عمران ص ٦٥٢ ج ٢۔ ) (١ ؎ صحیح بخاری باب ما ذکرنی الاتاب مریم ص ٤٨٩ ج ١ و صحیح مسلم باب فضائل عیسیٰ (علیہ السلام) ص ٣٦٥ ج ٢۔ ) (٢ ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة فرقان باب والذین لاید عون مع اللہ اخر الایتص ٧٠١ ج ٢۔ ) (٣ ؎ صحیح مسلم باب کون ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ اقبح الذنوب الخ ص ٦٣ ج ٢۔ ) (١ ؎ صحیح مسلم باب کون الاسلام یھدم ماقبلہ وکذا الحج والھجرۃ ص ٧٦ ج ١۔ )
آیات ١ تا ٩۔ اسرار ومعارف۔ حروف مقطعات کے معنی علم الٰہی میں ہیں ، اسی طرح دلائل کے ساتھ حقائق بیان کرنے کے لیے اور حق کو ثابت کرنے کے لیے آپ سے پہلے انبیاء پر بھی وحی نازل کی گئی جس طرح آپ پر نازل ہوئی ہے کہ اللہ زبردست اور غالب اور بڑی حکمتوں والا ہے سب اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے جو کچھ زمین میں ہے اور سب پر اسی کی حکمرانی ہے وہی عظیم ہے ساری کائنات میں جس طرح اس کا حکم جاری ہے اور خود انسان کے تقدیری امور میں بھی اگر چاہتا تو سب سے حکما منوالیتا مگر اس کی حکمت کہ انسان کو اختیار دیا اور راہنمائی کے لیے انبیاء (علیہم السلام) اور وحی کا سلسلہ جاری فرمایا ورنہ اس کی عبادت وتسبیح کرنے کو تو اس قدر فرشتے شب روز لگے ہوئے ہیں کہ ان کے بوجھ سے آسمان پھٹ پڑنے کو ہیں اور وہی فرشتے اہل زمین کے لیے بخشش طلب کرتے ہیں جس کا فائدہ کفار کو بھی ایک خاص وقت تک ملتا ہے یعنی دنیا کی زندگی گزرانے میں موت اور بعد موت کافر کو نصیب نہ ہوگامگر یہ سن لیجئے کہ اگر کوئی مان لے تو اللہ بہت بڑا معاف کرنے والا اور مہربان ہے یعنی اس کی بخشش بہت وسیع ہے اور جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں سے امیدیں وابستہ کیے بیٹھے ہیں اور اللہ کے مقابلے میں ان کی اطاعت کرتے ہیں ان کے اعمال بد بھی اللہ کے پاس جمع ہو رہے ہیں آپ اس وجہ سے کہ آپ کے ذمہ ان سے منوانا نہیں بلکہ بات پہنچانا ہے آپ پر قرآن حکیم جو عربی زبان میں نازل فرمایا گیا ہے کہ آپ اس قوم کو ڈرائیں جو ام القری یعنی سب سے بہتر شہر میں بستی ہے۔ ام القری۔ مکہ مکرمہ اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک سب سے پیارا شہر بھی ہے اور اس لیے بھی عظیم ہے کہ زمین کی ابتداء اسی مقام سے ہوئی اور آبادیوں کی بنیاد یہی جگہ ہے اور اس کے ساتھ سب اردگرد والوں کو بھی یا سب اہل زمین کو بھی اور اس عظیم دن کے نتائج سے انہیں بروقت خبردار کریں جس دن ساری مخلوق کو جمع ہوکرجواب دینا ہے کہ اس کے واقع ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس روز لوگ دو حصوں میں تقسیم ہوجائیں گے ایک فریق کو جنت نصیب ہوگی جب کہ دوسرے کو دوزخ میں رہنا پڑے گا اگر حکما سب کو ایمان عطا کرنا ہوتاتو اللہ کریم سب کو ایک ہی قوم بنادیتا کوئی اختلاف نہ کرتا اور سب اللہ کی اطاعت کرتے مگر اس کی حکمت کہ اس نے فیصلہ انسان پر چھوڑ دیا اب جوا س کے کرم کا طالب ہوتا یعنی جسے وہ چاہتا اپنی رحمت میں داخل فرماتا ہے توفیق ایمان وعمل عطا کرتا ہے اور جو لوگ ایمان نہ لاکر ظلم کے مرتکب ہو رہے ہیں آخر کو انہیں کوئی دوست نصیب ہوگا نہ کوئی مدد کرنے والا۔ بھلا ان کا یہ عمل اللہ کے علاوہ دوسروں سے اپنے خیال فاسد میں اپنی مدد کارسازی کی امید وابستہ کررکھی ہے جبکہ ایسا ہے نہیں بلکہ یہ شان صرف اللہ کو حاصل ہے کہ وہ سب کی ضروریات پوری فرماتا ہے اور سب کے کام بناتا ہے اس لیے کہ بنیادی طور پر کائنات کا ہر ذرہ مردہ ہے یا نہ ہونے کے برابر ہے اسے زندگی یا اس کا ہونا وہی عطا کرتا ہے لہذا جس چیز سے بھی کسی انسان کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو وہ اللہ کی بنائی ہوئی ہے اللہ ہی سب کے کام بناتا ہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے۔
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 9 : تکاد ( قریب ہے) یتفطرن (پھٹ پڑیں) ام القریٰ (مکہ مکرمہ (شہروں کی ماں) یوم الجمع (جمع ہونے کا دن ( قیامت کا دن) السعیر ( دھکتی آگ) تشریح : آیت نمبر 1 تا 9 : اس سورت کا آغاز ان حروف سے کیا گیا ہے جو الگ الگ کر کے پڑھے جاتے ہیں۔ ان کو حروف مقطعات کہا جاتا ہے ۔ اس سے پہلے اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ کو ہے۔ یہ آیات متشابہات میں سے ہیں ۔ ان کے معنی کا علم ممکن ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیا گیا ہو مگر آپ نے ان کے معنی کسی کو نہیں بتائے۔ اگر امت کے لئے ضروری ہوتا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان حروف کے معنی ضرور ارشاد فرماتے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ سورت بھی ان سات سورتوں میں سے ایک ہے جس کو ” حم “ سے شروع کیا گیا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ” حم “ سات ہیں اور جہنم کے بھی سات دروازے ہیں جو آدمی ان کو پڑھنے کا عادی ہوگا تو یہ سورتیں جہنم کے ہر دروازے پر موجود ہوں گی اور اللہ سے انکے پڑھنے والے کے لئے فریاد کرتے ہوئے کہیں گی کہ الٰہی ! جس نے مجھے پڑھا اور مجھ پر ایمان لایا اس کو اس دروازے سے داخل نہ کیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ارشاد فرمایا ہے کہ نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو باتیں لوگوں کو بتا رہے ہیں وہ اپنی طرف سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ہیں جو ان کی طرف وحی کی جاتی ہیں ان کو اسی طرح بیان فرما رہے ہیں۔ جس طرح آپ سے پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی طرف جو بھی وحی کی جاتی تھی تو وہ اپنی امت کے سامنے بیان فرماتے تھے۔ اور اپنی قوم کو راہ ہدایت پر لانے کی جدوجہدفرماتے تھے۔ فرمایا کہ یہ وحی اس برتر و اعلیٰ اللہ کی طرف سے بھیجی گئی ہے جس کی ذات وصفات ، اختیارات اور حقوق میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہے۔ اس کی ہیبت اور جلال کا یہ عالم ہے کہ اس کے ڈر سے گویا آسمان پھٹے جا رہے ہیں یا اس کی حمد وثناء جو ہر وقت فرشتے کر رہے ہیں ان کے بوجھ سے آسمان پھٹنے کے قریب ہیں ، چناچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ آسمان میں ایک ایسی آواز پیدا ہونے لگی ہے جیسے کسی چیز پر زیادہ بوجھ پڑنے سے پیدا ہوا کرتی ہے۔ فرمایا اس کی آواز ایسی ہی ہونی چاہیے کیونکہ پورے آسمان میں چار انگلیوں کے برابر کی جگہ بھی ایسی نہیں ہے جس میں کوئی فرشتہ اپنی پیشانی ٹیک کر سجدہ نہ کر رہا ہو ( ترمذی ، ابن ماجہ) ۔ یہ فرشتے ہر وقت اللہ کی حمد وثناء کرتے اور اہل زمین میں جو مومن ہیں ان کے لئے دعائے مغفرت و رحمت کرتے رہتے ہیں کیونکہ اللہ اپنے بندوں پر مہربان اور ان کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے۔ وہی اللہ اس لائق ہے جس کی عظمت و رحمت پر بھر پور اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ وہی عذاب سے بچانے والا اور دنیا کی ہر رفت و مصیبت سے بندے کی حفاظت کرنے والا ہے لیکن جو لوگ اللہ کو اپنا ولی اور حمایتی بنانے کے بجائے دوسروں کو اس کا شریک کرتے ہیں ۔ ان سے اپنی لو لگاتے ہیں اور اپنی تمناؤں کے پورا ہونے کا ذریعہ سمجھتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں۔ نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا ہے کہ آپ اس پیغام حق کو اللہ کے بندوں تک پہنچا دیجئے بیشک آپ لوگوں کی قسمت کے مالک و مختار بنا کر نہیں بھیجے گئے ہیں کیونکہ کسی کو اس کے اعمال پر جزا یا سزا دینا یہ اللہ رب العالمین کا کام ہے۔ البتہ حق و صداقت کو پہنچا دینا یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔ ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے اس ابدی پیغام کو عربی زبان میں نازل کیا تا کہ اس قرآن کے پہلے مخاطب ( اہل مکہ) یہ عذر پیش نہ کردیں کہ ہم تو اس پیغام کو سمجھے ہی نہیں ایمان کیسے لائیں ؟ دوسری بات یہ بھی سمجھ میں آتی ہے کہ قرآن کریم کو عربی میں اس لئے نازل کیا گیا ہے کیونکہ دنیا کی کسی اور زبان میں اتنی طاقت نہ تھی کہ وہ قرآن کریم کے عظیم تر مضامین کو سنبھال سکتی حقیقت یہ ہے کہ قرآن کے معافی کے بوجھ کو صرف عربی زبان ہی اٹھا سکتی تھی۔ فرمایا کہ ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا ہے تا کہ ” ام القری “ ( بستیوں کی اصل جڑ اور بنیادی شہر مکہ مکرمہ) اور اس کے آس پاس کے رہنے والوں کو پیغام حق سے آگاہ کردیا جائے۔ ” ام القری “ سے مراد مکہ مکرمہ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ساری دنیا کی بستیوں اور شہروں میں اور ساری دنیا کی زمین میں سب سے افضل و بہتر سر زمین صرف مکہ مکرمہ ہی کی ہے۔ چناچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مکہ کی سرزمین سے بےانتہاء محبت تھی ۔ حضرت عدی (رض) ابن حمراء زبری نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ سے ہجرت فرما رہے تھے تو میں نے سنا کہ آپ نے مکہ مکرمہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا : ”( اے مکہ کی سر زمین) تو میرے نزدیک ساری دنیا کی زمین سے بہتر اور محبوب ہے۔ اگر مجھے اس سر زمین سے نکالا نہ جاتا تو میں اپنی مرضی سے کبھی اس سر زمین کو نہ چھوڑتا “۔ ( مسند احمد) اس آیت سے مکہ مکرمہ کی عظمت اور شان بھی واضح ہے اور یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ مکہ مکرمہ جو دنیا کے تمام ملکوں اور شہروں کے درمیان میں ہے دنیا کے کسی کنارے پر نہیں ہے بلکہ اس کی مرکزی حیثیت ہے۔ جب یہ فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ” ام القری “ اور اس کے آس پاس کے تمام علاقے والوں تک پیغام حق کو پہنچا دیجئے تو اس کا صاف مطلب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ قرآن کریم کا پیغام کسی خاص سر زمین ، خطے ، علاقے اور کسی خاص قوم اور نسل کے لئے نہیں ہے بلکہ قیامت تک آنے والے تمام انسانیت کے لئے مینارہ نور اور مشعل راہ ہے۔ فرمایا کہ آپ ساری دنیا کے لوگوں کو یہ بتا دیجئے کہ قیامت وہ دن ہے جس کے واقع ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے وہ بہت جلد آنے والا ہے اور اس دن میں دو ہی گروہ ہوں گے ایک اللہ کا فرماں بردار اور دوسرا نافرمان ۔ جو لوگ قرآن کریم کے پیغام حق کو مان لیں گے وہ جنت کی ابدی راحتوں میں ہوں گے اور جنہوں نے کفر و انکار کی روش اختیار کی ہوگی وہ ایک ایسی آگ میں جھونکے جائیں گے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ فرمایا کہ اگر اللہ چاہتا تو ہر شخص کو ہدایت دے کر دنیا کے تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن اللہ کسی کو مجبور نہیں کرتا بلکہ اس کو اختیار دے کر آزماتا ہے کہ وہ راہ حق کو قبول کرتا ہے یا ظلم اور کفر و شرک کے راستے کو اختیار کرتا ہے۔ دونوں راستوں کا انجام بتا دیا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ کی نافرمانی اختیار کریں گے وہ ظالم ہیں اور قیامت کے دن ظالموں کا کوئی حمایتی اور مدد گار نہ ہوگا ۔ لیکن اللہ وہ ہے جو فرماں برداروں کا حمایتی اور مدد گار ہے زندگی اور موت پر اسے پوری قدرت حاصل ہے اور وہی اپنے نیک بندوں کو قیامت کے دن نجات عطاء فرمائے گا ۔
فہم القرآن سورة حم ٓ سجدہ کا اختتام اس بات پر ہوا کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ جو شخص اس کا انکار کرتا ہے اس سے بڑا ظالم کوئی نہیں۔ سورة الشّوریٰ کا آغاز اس بات سے ہورہا ہے کہ جس طرح قرآن کی شکل میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف وحی کی جاررہی ہے۔ اسی طرح ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے انبیاء ( علیہ السلام) کی طرف وحی کی جاتی تھی۔ حم ٓ، عسق حروف مقطّعات میں سے ہیں۔ ان کا معنٰی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ” اللہ “ ہی وحی کے ذریعے قرآن مجید آپ کی طرف نازل کررہا ہے۔ اس طرح جیسے اس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر صحائف، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات، حضرت داؤد (علیہ السلام) پر زبور اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) پر انجیل نازل فرمائی اور ان کے علاوہ دوسرے انبیاء کرام (علیہ السلام) پر وحی بھیجی۔ قرآن مجید اس ذات نے نازل فرمایا ہے جو ہر کام کرنے پر غالب ہے اس کے ہر حکم میں دانش ہوتی ہے اور اس کے احکامات محکم ہوتے ہیں۔ وہی زمین و آسمانوں اور ان کی ہر چیز کا مالک ہے۔ وہ اپنی ذات اور صفات کے اعتبار سے بلند وبالا اور عظیم تر ہے۔ یہاں پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجنے کا ذکر فرما کر یہ ثابت کیا ہے کہ جن انبیائے کرام (علیہ السلام) کے بارے میں تمہارا ایمان ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ وحی نازل کرتا تھا۔ اسی طرح تمہارا یہ بھی ایمان ہونا چاہیے کہ وہی ” اللہ “ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی کے ذریعے قرآن نازل کررہا ہے۔ اہل مکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور کچھ اور پیغمبروں کے بارے میں ایمان رکھتے تھے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہوتی تھی۔ یہودی بالخصوص حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت داؤد ( علیہ السلام) کے بارے میں اور عیسائی عیسیٰ ( علیہ السلام) کے بارے میں یقین رکھتے ہیں کہ ان پر وحی کی جاتی تھی اور وہ اللہ کے پیغمبر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی پیغمبر کا نام لیے بغیر ارشاد فرمایا ہے کہ جس طرح ان پر وحی کی جاتی تھی۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ پر بھی اسی طرح وحی کی جارہی ہے۔ اگر یہ لوگ نہیں مانتے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ پر وحی نازل نہیں ہوتی یا یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے باہر ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں کیونکہ زمین و آسمان اور ان میں جو چیز ہے وہ اللہ کی ملکیت میں ہے اور اللہ اپنی ذات، صفات، اقتدار اور اختیار کے حوالے سے بلندو بالا اور عظیم تر ہے۔ باربار دلائل پیش کرنے کے باوجود یہ لوگ نہیں مانتے تو یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہے کہ وہ انہیں مہلت دیے جارہا ہے۔ جب پکڑنے پر آئے گا تو کوئی چیز اس کے سامنے مزاحم نہیں ہوسکے گی۔ ان آیات میں ایک طرف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی ہے اور دوسری طرف قرآن مجید کے مخالفوں کو انتباہ کیا گیا ہے کہ تم بلندو بالا اور عظیم تر ہستی کی دسترس سے باہر نہیں ہو۔ اگر تم اپنی نافرمانیوں کے باوجود بچے ہوئے ہو تو یہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ اس نے تمہیں ایک مقررہ وقت تک مہلت دے رکھی ہے۔ مسائل ١۔ حٰآ عسق حروف مقطعات ہیں۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل فرمائی جس طرح پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) پر نازل کی گئی۔ ٣۔ زمین و آسمان اور ان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملک ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ بلند بالا، عظیم تر، غالب اور حکمت والا ہے۔ تفسیر بالقرآن ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملک ہے : ١۔ ہدایت وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ ہدایت قرار دے۔ (البقرۃ : ١٢٠) ٢۔ ہدایت اللہ کے اختیار میں ہے۔ (القصص : ٥٦) ٣۔ وہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ (البقرۃ : ٢١٣) ٤۔ اللہ زندہ کو مردہ اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے۔ (آل عمران : ٢٧) ٥۔ اللہ جسے چاہتا ہے معزز اور جسے چاہتا ہے ذلیل کرتا ہے۔ (آل عمران : ٢٦) ٦۔ اللہ مردے کو زندہ کرنے پر قادر ہے۔ (الاحقاف : ٣٣) ٧۔ عزت ساری کی ساری اللہ ہی کے پاس ہے۔ (فاطر : ١٠) ٨۔ اللہ سب کو موت دے کر دوسری مخلوق پیدا کرسکتا ہے۔ (النساء : ١٣٣) ٩۔ ہر قسم کی عزت اللہ کے لیے ہے وہ سننے اور جاننے والا ہے۔ (یونس : ٦٥)
حروف ، مقطعات کے بارے میں کئی سورتوں کے آغاز میں بات ہوچکی ہے جسے یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ حروف بتاتے ہیں کہ سورت کا آغاز ہو رہا ہے ۔ ان حروف کے بعد پہلا فقرہ یہ ہے۔ کذلک یوحی ۔۔۔۔ العزیز الحکیم (٤٢ : ٣) ” اسی طرح اللہ غالب و حکیم تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف وحی کرتا رہا ہے “۔ یعنی جس طرح تمہاری طرف وحی ہورہی ہے اسی طرح اور اسی انداز میں ہم نے پہلے رسولوں کی طرف بھی وحی بھیجی ہے۔ یہ وحی الفاظ ، کلمات اور حروف تہجی پر مشتمل رہی ہے۔ وحی کا کلام الٰہی حروف سے بنایا گیا ہے ۔ ان حروف سے لوگ اچھی طرح واقف ہیں۔ ان کلمات کے معانی وہ سمجھتے ہیں لیکن اس وحی کی طرح وہ کلام پیش نہیں کرسکتے۔ حالانکہ جس مواد سے یہ کلام بنا ہے ، وہ ان کے سامنے ہے اور دسترس میں ہے۔ دوسرا مفہوم اس کا یہ ہے کہ وحی ایک ہے ، وحی کا مصدر و ماخذ ایک اللہ ہے جو عزیز و حکیم ہے۔ اور جن کی طرف وحی آتی ہے وہ ہر زمان و مکان کے رسول ہیں۔ رسول مختلف ہیں ، زمان و مکان کا اختلاف ہو سکتا ہے لیکن وحی اور ہدایت ایک ہی ہے۔ الیک والی الذین من قبلک (٤٢ : ٣) ” تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف “۔ یہ بہت لمبی کہانی ہے ، زمانے کے نشیب و فراز اور تاریخ کی بیشمار کڑیوں پر مشتمل اس کے مختلف سلسلے ہیں البتہ وحی کا یہ ایک مستحکم و مستقبل اصول و منہاج ہے اور اس کی کئی شاخیں ہیں۔ یہ بات اس انداز سے جب اہل ایمان کے دلوں میں بیٹھ جاتی ہے تو وہ اپنے اندر یہ شعور پاتے ہیں کہ وہ جس منہاج اور طریقے پر ہیں ، یہ ایک مستقل ، واحد طریقہ ہے اور اس کا سرچشمہ بھی واحد اللہ وحدہ ہے۔ اور یہ کہ ان کا سر رشتہ بھی اللہ العزیز الحلیم ہے۔ اس طرح ان کے اندر یہ شعور بھی پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایک تاریخی قافلہ حق کے ممبر ہیں جس کا آخری سرایا پہلا سرا زمان ومکان کے اندر دور تک چلا گیا ہے ، یہ گویا اہل ایمان کا ایک خاندان ہے جس کا روحانی شجرۂ نسب انسانی تاریخ کے آغاز ہی سے شروع ہوتا ہے۔ آخر میں اس شجرے کی کڑیاں ملتی ہیں اور سب جا کر اللہ العزیز پر ملتے ہیں ، جو قوی اور قادر مطلق ہے ، جو حکیم ہے ، جو اپنی حکمت و تدبیر کے ساتھ جس کی طرف چاہتا ہے ، وحی کرتا ہے۔ لہٰذا تم اس واحد ثابت اور مستقل ربانی منہاج سے منتشر ہوکر ادھر ادھر پگڈنڈیوں پر کیوں جارہے ہو ، کیونکہ یہ پگڈنڈیاں تو اللہ تک نہیں پہنچاتیں ، ان کے جائے آغاز کا نہ پتہ اور نہ ان کے مقام انجام کا پتہ ہے اور نہ ان کا راستہ مستقیم ہے۔ اللہ جس نے تمام رسولوں کی طرف وحی فرمائی۔ اس کی مزید صفات بھی دی جاتی ہیں کہ وہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا واحد مالک ہے۔ اور وہی بلند اور عظیم ہے۔ لہ ما فی السموت ومافی الارض وھو العلی العظیم (٤٢ : ٤) ” آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ، اسی کا ہے ، وہ برتر اور عظیم ہے “ بسا اوقات لوگوں کو یہ دھوکہ ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بھی مالک ہیں ، محض اس لیے کہ وہ دیکھتے ہیں کہ یہ چیزیں ان کے ہاتھوں میں ہیں۔ ان کے قبضہ قدرت اور کنٹرول میں ہیں۔ وہ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور جس طرح چاہتے ہیں ان سے خدمت لیتے ہیں لیکن یہ دراصل حقیقی ملکیت نہیں ہے۔ حقیقی ملکیت اللہ کی ہے۔ وہ اللہ ہے جو موجود اور معدوم کرتا ہے ، زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔ یہ وہی ہے جو کسی بشر کو جو چاہتا ہے ، دیتا ہے۔ اور جس چیز سے چاہتا ہے محروم کردیتا ہے۔ جس وقت چاہتا ہے ان کے ہاتھ میں جو کچھ ہوتا ہے وہ یکدم چلا جاتا ہے۔ اور اگر وہ چاہے تو جو چلا گیا ہے ، اس کا متبادل دے دے۔ مالک حقیقی تمام اشیاء میں اللہ ہے۔ وہ ان چیزوں کو اپنے قانون قدرت کے مطابق چلاتا ہے۔ اور یہ تمام اشیاء اس کے حکم پر لبیک کہتی ہیں۔ اس لحاظ سے زمین و آسمان میں جو چیز ہے ، وہ اللہ کی ہے اور اس لحاظ سے اللہ کے ساتھ اس ملکیت میں کوئی شریک نہیں ہے۔ وھو العلی العظیم (٤٢ : ٤) ” وہ برتر اور عظیم ہے “۔ وہ صرف مالک ہی نہیں ہے ۔ وہ مالک اعلیٰ بھی ہے۔ اور وہ بڑی عظمتوں والا ہے ، اور اس عظمت میں وہ منفرد ہے۔ وہ اس طرح برتر ہے کہ اس کے مقابلے میں ہر چیز کمتر ہے اور وہ اس معنی میں عظیم ہے کہ اس کے مقابلے میں ہر چیز بہت ہی چھوٹی ہے۔ جب یہ حقیقت انسانوں کے خمیر میں اچھی طرح بیٹھ گئی اور لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ وہ اپنے نفوس کے لئے جو مال ، جو رزق اور جو روزگار طلب کرتے ہیں ، یہ انہوں نے کہاں سے طلب کرنا ہے یعنی یہ زمین و آسمان میں جو چیزیں موجود ہیں ، ان کا مالک اللہ ہے۔ اور وہ مالک ہی کسی کو کوئی چیز دے سکتا ہے۔ پھر وہ برتر اور عظیم بھی ہے۔ اس سے اگر کوئی کچھ مانگتا ہے تو وہ اس کے سوال کو رد نہیں کرتا۔ جس طرح مخلوقات کے سامنے ہم ہاتھ پھیلاتے ہیں وہ نہ برتر ہیں اور نہ عظیم ہیں ، اس لیے ان کا سوال محروم بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد اس کائنات میں سے ایک ایسا منظر دکھایا جاتا ہے جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اس کائنات کا مالک صرف اللہ ہے اور برتری اور عظمت اللہ ہی کے لئے ہے کہ قریب ہے کہ یہ آسمان اللہ کی عظمت کے رعب کی وجہ سے اور بعض لوگوں کی کج روی اور بری باتوں کی وجہ سے پھٹ پڑیں پھر اللہ کی عظمت کا ایک مظہر یہ بھی یہاں لایا گیا ہے کہ ملائکہ ہر وقت اللہ کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور اہل زمین کے لئے مغفرت مانگتے رہتے ہیں ، کیونکہ اہل زمین کے انحراف اور بےراہ روی کو دیکھ کر وہ بھی سہم جاتے ہیں۔ تکاد السموت یتفطرن ۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم (٤٢ : ٥) “ قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں۔ فرشتے اپنی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں اور زمین والوں کے حق میں درگزر کی درخواستیں کیے جارہے ہیں ۔ آگاہ رہو ، حقیقت میں اللہ غفور و رحیم ہی ہے ”۔ سماوات وہ عظیم کائنات ہے جو ہمارے اوپر نظر آتی ہے۔ اس کرۂ ارض کی پشت پر ہم جہاں کہیں بھی ہوں اور ہمارے پاس اس کے بارے میں ابھی تک جو معلومات جمع ہو ئی ہیں وہ اس کے ایک بالکل معمولی حصے کے بارے میں ہیں۔ آج تک جو معلومات دستیاب ہیں ان سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ہمارے سورج جیسے ایک لاکھ ملین سورج معہ اپنے لاتعداد توابع کے موجود ہیں۔ اور ایسے مجموعے یا گروپ کتنے ہیں ؟ تقریباً ایک لاکھ ملین گروپ معلوم ہوچکے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ سورج ہماری زمین سے ایک ملین گنا بڑا ہے۔ اور یہ لاکھوں اربوں سورج تو وہ ہیں جن کو ہم اپنی چھوٹی چھوٹی رصد گاہوں کے ذریعے دیکھتے ہیں ، یہ اس لا محدود فضائے کائنات (جسے ہم آسمان کہتے ہیں ) کے اندر بکھرے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان طویل مسافتیں ہیں جو ہزارہا ملین نوری سالوں کی دوری پر ہیں ، جن کا حساب روشنی کی رفتار کے حساب سے کیا جاتا ہے یعنی ١٨٦٠٠٠ میل فی سیکنڈ کے حساب سے۔ یہ آسمان جن کے بارے میں ہمارا علم بہت ہی محدود ہے ، قریب ہے کہ پھٹ پڑیں ، ہمارے اوپر اس فضا میں سے ، کیوں ؟ اللہ کے خوف سے ، اللہ کی عظمت سے ، اور اللہ کے جلال سے اور زمین کے ان لوگوں کی بدکاریوں کی وجہ سے ان کی غفلت اور نسیان کی وجہ سے جو انہوں نے اس رب ذوالجلال اور اس کائنات کے بارے میں روا رکھی ہوئی ہیں۔ قریب ہے کہ آسمانوں پر رعشہ طاری ہوجائے اور یہ ٹوٹ پڑیں اور اس مقام سے گر جائیں جہاں یہ ٹکے ہوئے ہیں۔ والملئکۃ یسبحون بحمد ربھم ویستغفرون لمن فی الارض (٤٢ : ٥) “ فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں اور زمین والوں کے حق میں درگزر کی درخواستیں کئے جاتے ہیں ”۔ ملائکہ وہ مخلوق ہے جو مکمل طور پر اطاعت شعار ہے۔ یہ تمام مخلوقات میں سے بہتر مخلوق ہے ، لیکن یہ مسلسل اپنے رب کی تسبیح کر رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کا رب کتنا برتر ہے ۔ اور کتنا عظیم ہے۔ وہ باوجود اپنی مکمل اطاعت شعاری کے پھر بھی اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں حمد و ثنا میں اور اطاعت میں ان سے کوئی تقصیر نہ ہوجائے۔ جبکہ اہل زمین قصور وار بھی ہیں ، ضعیف بھی ہیں۔ راہ راست سے منحرف بھی ہیں ، پھر بھی احساس نہیں رکھتے چناچہ ملائکہ اللہ کے غضب سے ڈرتے ہیں اور زمین میں جو معصیت ہوتی ہے ، جو تقصیرات ہوتی ہیں ، اس پر وہ اللہ کے غضب کے ڈر سے استغفار کرتے ہیں۔ یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ یہاں ملائکہ کے استغفار سے مراد اہل ایمان کے لئے استغفار ہو ، جس طرح سورة غافر میں آیا ہے۔ الذین یحملون ۔۔۔۔۔ للذین امنوا (غافر : ٧) “ عرش الٰہی کے حامل فرشتے ، اور وہ جو عرش کے گردوپیش حاضر رہتے ہیں ، سب اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں۔ وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں ”۔ اس حالت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ فرشتے زمین پر معصیت کے ارتکاب سے بہت ڈرتے ہیں۔ یہاں تک کہ اہل ایمان بھی اگر معصیت کریں تو فرشتے ڈرتے ہیں اور اس خوف کی وجہ سے وہ اللہ سے اہل زمین کے لئے معافی طلب کرتے ہیں اور وہ اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتے رہتے ہیں تا کہ ان معصیتوں کی وجہ سے اللہ کا عذاب نہ آجائے اور اس لئے کہ اللہ کی رحمت لوگوں پر آتی رہے۔ وہ امید کرتے ہیں کہ لوگوں کو معاف کیا جائے گا اور ان پر حمت ہوگی۔ الا ان اللہ ھو الغفور الرحیم (٥٢ : ٥) “ آگاہ رہو حقیقت میں اللہ غفورو رحیم ہے ”۔ اللہ کی صفات عزت اور حکمت کے ساتھ اور صفات علو اور عظمت کے ساتھ صفات مغفرت اور رحمت کو بھی یہاں جمع کیا گیا ہے تا کہ لوگ رب کی تمام صفات کو پیش نظر رکھیں۔ اس پیرے کے آخر میں ، ان صفات الٰہیہ کے بیان اور اس کائنات میں ان کے اثرات کے بیان کے بعد ، روئے سخن ان لوگوں کی طرف مڑ جاتا ہے۔ جنہوں نے اللہ کے سوا کچھ اور سرپرست بھی بنا رکھے ہیں ، حالانکہ یہ بات ظاہر ہوچکی ہے کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کوئی سرپرست نہیں ہے تا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے معاملات سے اب دستکش ہوجائیں ، کیونکہ آپ کو ان کا حوالہ دار نہیں مقرر کیا گیا۔ اللہ ہی دراصل ان پر نگران ہے اور مختار ہے۔ والذین اتخذوا من۔۔۔۔۔۔ علیھم بوکیل (٤٢ : ٦) “ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے کچھ دوسرے سرپرست بنا رکھے ہیں ، اللہ ہی ان پر نگران ہے ، تم ان کے حوالہ دار نہیں ہو ”۔ انسانی تصور میں ان کج خلق اور بدبختوں کی یہ تصویر آتی ہے کہ انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے سر پرستوں کے سامنے ہاتھ دراز کیے ہوئے ہیں اور ان سے کچھ مانگتے ہیں اور ان کے ہاتھ خالی ہیں ، وہاں تو ہوا کے سوا کچھ نہیں۔ ان کی تصویر اور ان کے سرپرستوں کی تصویر نہایت ہی مکروہ ، حقیر اور بونی تصویر ہے۔ اللہ کے قبضے میں ہیں یہ لوگ اور نہایت ہی چھوٹے ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہہ دیا گیا ہے کہ آپ ان کے معاملے سے بری الذمہ ہیں۔ آپ ان کی پرواہ نہ کریں ، اللہ تعالیٰ ان کا بندوبست کرے گا۔ اہل ایمان کے دلوں میں یہ بات اچھی طرح بیٹھ جانی چاہئے اور اس معاملے میں ان کو مطمئن ہونا چاہئے ، ہر حال میں مطمئن ہونا چاہئے۔ وہ لوگ جن کو سرپرست بنایا گیا ہے ، وہ اس کرۂ ارض پر برسر اقتدار اور اصحاب جاہ و مرتبہ ہوں یا دوسرے لوگ ہوں۔ اصحاب اقتدار کے بارے میں تو اہل ایمان کو یوں مطمئن ہونا چاہئے کہ وہ جس قدر جبار وقہار بھی ہوں ، اگر ان کا اقتدار قرآن وسنت سے ماخوذ نہیں ہے تو پھر وہ اللہ کی گرفت میں ہیں ، اللہ نے انہیں احاطے میں لے رکھا ہے۔ ان کے اردگرد پوری کائنات اللہ پر ایمان لانے والی ہے ، صرف وہی منحرف ہیں۔ وہ ایک نہایت ہی موزوں زمزمے میں ایک کرخت آواز کی طرح ہیں۔ اور اگر یہ سرپرست اہل اقتدار کے علاوہ اور پیر فقیر ہوں تو اہل ایمان پر ان کی ذمہ داری نہیں ہے کیونکہ اللہ کی مخلوق میں سے اگر کوئی غلط راہ اختیار کرتا ہے۔ تو یہ ذمہ دار نہیں۔ دین و عقائد میں زبردستی نہیں ہے ، ان پر صرف تبلیغ کی ذمہ داری ہے ۔ بندوں کے دلوں پر نگران اللہ ہی ہے۔ چناچہ مومنین کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی سیدھی راہ پر وحی الٰہی کی روشنی میں چلیں اور اگر دوسرے لوگ غلط عقائد اختیار کرتے ہیں تو ان پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ یہ غلط عقائد جو بھی ہوں ، وہ خود ذمہ دار ہیں۔ اب ہم اس سورت کے پہلے موضوع یعنی وحی و رسالت کی طرف آتے ہیں :