Surat us Shooraa

Surah: 42

Verse: 45

سورة الشورى

وَ تَرٰىہُمۡ یُعۡرَضُوۡنَ عَلَیۡہَا خٰشِعِیۡنَ مِنَ الذُّلِّ یَنۡظُرُوۡنَ مِنۡ طَرۡفٍ خَفِیٍّ ؕ وَ قَالَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّ الۡخٰسِرِیۡنَ الَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ وَ اَہۡلِیۡہِمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ فِیۡ عَذَابٍ مُّقِیۡمٍ ﴿۴۵﴾

And you will see them being exposed to the Fire, humbled from humiliation, looking from [behind] a covert glance. And those who had believed will say, "Indeed, the [true] losers are the ones who lost themselves and their families on the Day of Resurrection. Unquestionably, the wrongdoers are in an enduring punishment."

اور تو انہیں دیکھے گا کہ وہ ( جہنم کے ) سامنے لا کھڑے کیئے جائیں گے مارے ذلت کے جھکے جا رہے ہونگے اور کن آنکھوں سے دیکھ رہے ہونگے ، ایمان والے صاف کہیں گے کہ حقیقی زیاں کار وہ ہیں جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو نقصان میں ڈال دیا ۔ یاد رکھو کہ یقیناً ظالم لوگ دائمی عذاب میں ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَتَرَاهُمْ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا ... And you will see them brought forward to it, means, to the Fire. ... خَاشِعِينَ مِنَ الذُّلِّ ... made humble by disgrace, means, in a befitting manner, because of their previous disobedience towards Allah. ... يَنظُرُونَ مِن طَرْفٍ خَفِيٍّ ... (and) looking with stealthy glance. Mujahid said, "In a humiliated manner." That is, they will steal glances at it, because they will be afraid of it. But the thing that they are afraid of will undoubtedly happen, and worse than that -- may Allah save us from that. ... وَقَالَ الَّذِينَ امَنُوا ... And those who believe will say, means, on the Day of Resurrection they will say: ... إِنَّ الْخَاسِرِينَ ... Verily, the losers... means, the greatest losers. ... الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ... are they who lose themselves and their families on the Day of Resurrection. means, they will be taken to the Fire and deprived of any pleasures in the Hereafter. They will lose themselves, and they will be separated from their loved ones, companions, families and relatives, and they will lose them. ... أَلاَ إِنَّ الظَّالِمِينَ فِي عَذَابٍ مُّقِيمٍ Verily, the wrongdoers will be in a lasting torment. means, everlasting and eternal, with no way out and no escape.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

45۔ 1 یعنی دنیا میں یہ کافر ہمیں بیوقوف اور دنیاوی خسارے کا حامل سمجھتے تھے، جب کہ ہم دنیا میں صرف آخرت کو ترجیح دیتے تھے اور دنیا کے خساروں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے۔ آج دیکھ لو حقیقی خسارے سے کون دو چار ہے۔ وہ جنہوں نے دنیا کے عارضی خسارے کو نظر انداز کیے رکھا اور آج جنت کے مزے لوٹ رہے ہیں یا وہ جنہوں نے دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ رکھا تھا اور آج ایسے عذاب میں گرفتار ہیں جس سے چھٹکارا ممکن ہی نہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٤] جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر اپنی موت کے ڈر سے آنکھیں بند کرلیتا ہے ویسے ہی جب وہ جہنم کے عذاب کو دیکھیں گے تو ڈر اور ذلت کی وجہ سے آنکھیں بند کریں گے۔ پھر جب مزید گھبراہٹ پیدا ہوگی تو کن اکھیوں سے جہنم کی طرف دیکھیں گے جس میں عنقریب وہ ڈالے جانے والے ہوں گے۔ [٦٥] یعنی یہ بدبخت صرف خود ہی گمراہ نہ ہوئے بلکہ اپنے ساتھ اپنے متعلقین اور گھر والوں کو بھی لے ڈوبے سبھی کو تباہ و برباد کرکے چھوڑا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) وترھم یعرضون علیھا خشعین من الذل ینظرون…: آگ پر حاضری کے وقت ان کی حالت کا نقشہ کھینچا ہے کہ وہ ذلت سے سر جھکائے ہوئے چھپی آنکھ سے دیکھ رہے ہوں گے، جیسے کسی کے ہاتھ پاؤں باندھ کر تلوار سے مارنے لگیں تو وہ ڈر کے مارے آنکھیں بند کرلیتا ہے، پھر کبھی کبھی تھوڑی سی آنکھ کھول کر دیکھتا ہے کہ تلوار کب اس پر گرتی ہے۔ خوف کے مارے پوری طرح آنکھیں کھول کر دیکھنے کی ہمت نہیں پڑتی۔ (٢) وقال الذین امنو ان الخسرین…: ای کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة زمر کی آیت (١٥) کی تفسیر۔ (٣) الا ان الظلمین فی عذاب مقیم : یہ ایمان وا اوں کے کالم کا آخری حصہ بھی ہوسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی ۔ دائمی عذاب میں رہنے والے ظالم کافر و مشرک ہی ہیں، فرمایا :(انہ من یشرک باللہ فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ وما ومہ النار وما للظلمین من انصار) (المائدۃ : ٨٢)” بیشک حقیقت یہے کہ جو بھی اللہ کے ساتھ شریک بنائے سو یقینا اس پر اللہ نے جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا آگ ہے اور ظالموں کے لئے کوئی مدد کرنے والے نہیں۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary The earlier three of the above verses state the end of those people who, as against the virtuous Muslims, remained desirous of the delights and luxuries of this world, instead of caring about the Hereafter. Then in verse 47, they have been advised to repent and embrace faith before the scourge of Doomsday comes upon them. Thereafter, in verse 48, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has been comforted and assured that if these people do not come to their senses, despite your preaching again and again, and despite your tireless efforts, then you should not worry: فَإِنْ أَعْرَ‌ضُوا فَمَا أَرْ‌سَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا |"So, if they turn away, then We did not send you as a supervisor over them. You are not responsible but for conveying the message|" - 48. Verses 49 and 50 state the absolute power and perfect wisdom of Allah Ta’ ala in the creation of this universe in which He has no partner, and then mankind has been called to believe in the Oneness of Allah. In this regard, after stating the creation of the earth and the heavens, Allah Almighty has stated a fact about His power in verse 49, خْلُقُ مَا يَشَاءُ (He creates what He wills.) to indicate that He has absolute Power to create anything small or big. He creates whatever He wills whenever He wills. In this context, creation of mankind has been mentioned by saying, |"He grants females to whom He wills, and grants males to whom He wills. Or He combines for them couples, both males and females, and makes whom He wills barren. Surely He is All-Knowing, Very Powerful. (49-50) |" It means that nobody&s intention or authority has anything to do in the creation of a human being, nor does anybody have its knowledge. What to say of anybody else, even the intention or choice of the parents, who are the apparent agents of the creation of a human beings, does not have any bearing on the child&s creation. Let alone having a say in the child&s creation, the mother does not even know before the child is born as to what is being formed in her womb, and how it is being processed. It is Allah Ta’ ala alone who grants female children to whom He wills, and male children to whom He wills; to some He grants both male and female children, and He renders some females barren who do not have any children. While stating the sex of children in this verse, Allah Ta’ ala has mentioned females first, and males later. Taking a hint from this verse, Sayyidna Wathilah Ibn Asqa& (رض) has said that blessed is the woman who gives birth to a daughter first. (Qurtubi)

معارف ومسائل آیات مذکورہ کی ابتدائی آیات میں ان لوگوں کا انجام مذکور ہے جو مومنین صالحین کے بالمقابل بجائے فکر آخرت کے صرف دنیا کی لذت و راحت کے طلب گار رہے۔ اس کے بعد (آیت) اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ میں ان کو نصیحت کی گئی کہ قیامت کا عذاب آنے سے پہلے توبہ کرلیں اور ایمان لے آئیں۔ اور پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی اور اطمینان دلایا گیا ہے کہ آپ کی بار بار تبلیغ اور کوشش کے باوجود اگر یہ لوگ ہوش میں نہ آویں تو آپ غم نہ کریں، (آیت) فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَآ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيْظًا۔ کا یہی مطلب ہے۔ آخرت آیات میں (آیت) لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ سے آخر تک تخلیق کائنات میں جو حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کا مشاہدہ ہوتا ہے جس میں کوئی اس کا شریک نہیں، ان کو بیان کر کے توحید کی دعوت دی گئی ہے۔ اس سلسلہ میں آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا ذکر فرمانے کے بعد ایک ضابطہ قدرت بیان فرمایا کہ (آیت) يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۭ۔ یعنی اس کو ہر بڑی چھوٹی چیز کے بنانے پر پوری قدرت ہے وہ جب چاہے جو چاہے پیدا کردیتا ہے۔ اسی سلسلہ میں تخلیق انسانی کا ذکر فرمایا (آیت) يَهَبُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ اِنَاثًا وَّيَهَبُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ الذُّكُوْرَ ۔ اَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّاِنَاثً آ وَيَجْعَلُ مَنْ يَّشَاۗءُ عَــقِـيْمً آ اِنَّهٗ عَلِيْمٌ قَدِيْرٌ یعنی انسان کی تخلیق میں کسی کے ارادہ و اختیار بلکہ علم و خبر کا بھی کوئی دخل نہیں اور کسی کا دخل تو کیا ہوتا، انسان کے ماں باپ جو اس کی تخلیق کا ظاہری سبب بنتے ہیں خود ان کے ارادے اور اختیار کا بھی بچہ کی تخلیق میں کوئی دخل نہیں۔ تخلیق میں دخل ہونا تو دور کی بات، بچہ کی ولادت سے پہلے ماں کو بھی کچھ خبر نہیں ہوتی کے اس کے پیٹ میں کیا، کیسا اور کس طرح بن رہا ہے۔ یہ صرف حق تعالیٰ کا کام ہے کہ کسی کو اولاد لڑکیاں دے دیتا ہے، کسی کو نرینہ اولاد لڑکے بخش دیتا ہے۔ کسی کو لڑکے اور لڑکیاں دونوں عطا فرما دیتا ہے اور کسی کو بالکل بانجھ کردیتا ہے۔ کہ ان سے کوئی اولاد نہیں ہوتی۔ ان آیات میں بچوں کے اقسام بیان کرنے میں حق تعالیٰ نے پہلے لڑکیوں کا ذکر فرمایا ہے۔ لڑکوں کا ذکر بعد میں کیا ہے۔ اسی آیت کے اشارہ سے حضرت واثلہ بن اسقع نے فرمایا کہ جس عورت کے بطن سے پہلے لڑکی پیدا ہو وہ مبارک ہوتی ہے۔ (قرطبی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَتَرٰىہُمْ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْہَا خٰشِعِيْنَ مِنَ الذُّلِّ يَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِيٍّ۝ ٠ ۭ وَقَالَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ الْخٰسِرِيْنَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ وَاَہْلِيْہِمْ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ۝ ٠ ۭ اَلَآ اِنَّ الظّٰلِـمِيْنَ فِيْ عَذَابٍ مُّقِيْمٍ۝ ٤٥ عرض أَعْرَضَ الشیءُ : بدا عُرْضُهُ ، وعَرَضْتُ العودَ علی الإناء، واعْتَرَضَ الشیءُ في حلقه : وقف فيه بِالْعَرْضِ ، واعْتَرَضَ الفرسُ في مشيه، وفيه عُرْضِيَّةٌ. أي : اعْتِرَاضٌ في مشيه من الصّعوبة، وعَرَضْتُ الشیءَ علی البیع، وعلی فلان، ولفلان نحو : ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلائِكَةِ [ البقرة/ 31] ، ( ع ر ض ) العرض اعرض الشئی اس کی ایک جانب ظاہر ہوگئی عرضت العود علی الاناء برتن پر لکڑی کو چوڑی جانب سے رکھا ۔ عرضت الشئی علی فلان اولفلان میں نے فلاں کے سامنے وہ چیزیں پیش کی ۔ چناچہ فرمایا : ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلائِكَةِ [ البقرة/ 31] پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا ۔ خشع الخُشُوع : الضّراعة، وأكثر ما يستعمل الخشوع فيما يوجد علی الجوارح . والضّراعة أكثر ما تستعمل فيما يوجد في القلب ولذلک قيل فيما روي : روي : «إذا ضرع القلب خَشِعَتِ الجوارح» «2» . قال تعالی: وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعاً [ الإسراء/ 109] ، وقال : الَّذِينَ هُمْ فِي صَلاتِهِمْ خاشِعُونَ [ المؤمنون/ 2] ، وَكانُوا لَنا خاشِعِينَ [ الأنبیاء/ 90] ، وَخَشَعَتِ الْأَصْواتُ [ طه/ 108] ، خاشِعَةً أَبْصارُهُمْ [ القلم/ 43] ، أَبْصارُها خاشِعَةٌ [ النازعات/ 9] ، كناية عنها وتنبيها علی تزعزعها کقوله : إِذا رُجَّتِ الْأَرْضُ رَجًّا [ الواقعة/ 4] ، وإِذا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزالَها [ الزلزلة/ 1] ، يَوْمَ تَمُورُ السَّماءُ مَوْراً وَتَسِيرُ الْجِبالُ سَيْراً [ الطور/ 9- 10] . ( خ ش ع ) الخشوع ۔ ( ان ) کے معنی ضواعۃ یعنی عاجزی کرنے اور جھک جانے کے ہیں ۔ مگر زیادہ تر خشوع کا لفظ جوارح اور ضراعت کا لفظ قلب کی عاجزی پر بولا جاتا ہے ۔ اسی لئے ایک روایت میں ہے :۔ (112) اذا ضرعت القلب خشعت الجوارح جب دل میں فروتنی ہو تو اسی کا اثر جوارح پر ظاہر ہوجاتا ہے قرآن میں ہے : وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعاً [ الإسراء/ 109] اور اس سے ان کو اور زیادہ عاجزی پید اہوتی ہے ۔ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلاتِهِمْ خاشِعُونَ [ المؤمنون/ 2] جو نماز میں عجز و نیاز کرتے ہیں ۔ وَكانُوا لَنا خاشِعِينَ [ الأنبیاء/ 90] اور ہمارے آگے عاجزی کیا کرتے تھے ۔ وَخَشَعَتِ الْأَصْواتُ [ طه/ 108] آوازیں پست ہوجائیں گے ۔ ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی ۔ أَبْصارُها خاشِعَةٌ [ النازعات/ 9] یہ ان کی نظروں کے مضطرب ہونے سے کنایہ ہے ۔ جیسا کہ زمین وآسمان کے متعلق بطور کنایہ کے فرمایا ۔ إِذا رُجَّتِ الْأَرْضُ رَجًّا [ الواقعة/ 4] جب زمین بھونچال سے لرزنے لگے ۔ وإِذا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزالَها [ الزلزلة/ 1] جب زمین بھونچال سے ہلا دی جائے گی ۔ يَوْمَ تَمُورُ السَّماءُ مَوْراً وَتَسِيرُ الْجِبالُ سَيْراً [ الطور/ 9- 10] جس دن آسمان لرزنے لگے کپکپا کر۔ اور پہاڑ اڑانے لگیں ( اون ہوکر ) ذلت يقال : الذُّلُّ والقُلُّ ، والذِّلَّةُ والقِلَّةُ ، قال تعالی: تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ [ المعارج/ 44] ، وقال : ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ [ البقرة/ 61] ، وقال : سَيَنالُهُمْ غَضَبٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَذِلَّةٌ [ الأعراف/ 152] ، وذَلَّتِ الدّابة بعد شماس «6» ، ذِلًّا، وهي ذَلُولٌ ، أي : ليست بصعبة، قال تعالی: لا ذَلُولٌ تُثِيرُ الْأَرْضَ [ البقرة/ 71] ، بغیر تاء کے ذل اور تار کے ساتھ ذلتہ کہا جاتا ہے جیسا کہ قل اور قلتہ ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ [ المعارج/ 44] اور ان کے مونہوں پر ذلت چھا جائے گی ۔ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ [ البقرة/ 61] اور ( آخری کار ) زلت ( اور رسوائی ) اور محتاجی ( اور بےتوانائی ) ان سے چنٹادی گئی ۔ سَيَنالُهُمْ غَضَبٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَذِلَّةٌ [ الأعراف/ 152] پروردگار کا غضب واقع ہوگا اور ذلت ( نصیب ہوگی ) منہ زوزی کے بعد سواری کا مطیع ہوجانا اور اس قسم کی مطیع اور مئقاد سواری کا ذلول ( صفت فاعلی ) کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ لا ذَلُولٌ تُثِيرُ الْأَرْضَ [ البقرة/ 71] کہ وہ بیل کام میں لگا ہوا نہ ۔ نہ تو زمین جوتتا ہو ۔ نظر النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] أي : تَأَمَّلُوا . والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ وأَنْظَرْتُهُ. أي : أَخَّرْتُهُ. قال تعالی: وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] ، وقال : إِلى طَعامٍ غَيْرَ ناظِرِينَ إِناهُ [ الأحزاب/ 53] أي : منتظرین، ( ن ظ ر ) النظر کے معنی کسی چیز کو دیکھنے یا اس کا ادراک کرنے کے لئے آنکھ یا فکر کو جو لانی دینے کے ہیں ۔ پھر کبھی اس سے محض غو ر وفکر کرنے کا معنی مراد لیا جاتا ہے اور کبھی اس معرفت کو کہتے ہیں جو غور وفکر کے بعد حاصل ہوتی ہے ۔ چناچہ محاور ہ ہے ۔ نظرت فلم تنظر۔ تونے دیکھا لیکن غور نہیں کیا ۔ چناچہ آیت کریمہ : قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] ان کفار سے کہو کہ دیکھو تو آسمانوں اور زمین میں کیا کیا کچھ ہے ۔ اور النظر بمعنی انتظار بھی آجاتا ہے ۔ چناچہ نظرتہ وانتظرتہ دونوں کے معنی انتظار کرنے کے ہیں ۔ جیسے فرمایا : وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] اور نتیجہ اعمال کا ) تم بھی انتظار کرو ۔ ہم بھی انتظار کرتے ہیں خفی خَفِيَ الشیء خُفْيَةً : استتر، قال تعالی: ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] ، ( خ ف ی ) خفی ( س ) خفیتہ ۔ الشیء پوشیدہ ہونا ۔ قرآن میں ہے : ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ خسر ويستعمل ذلک في المقتنیات الخارجة کالمال والجاه في الدّنيا وهو الأكثر، وفي المقتنیات النّفسيّة کالصّحّة والسّلامة، والعقل والإيمان، والثّواب، وهو الذي جعله اللہ تعالیٰ الخسران المبین، وقال : الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ أَلا ذلِكَ هُوَ الْخُسْرانُ الْمُبِينُ [ الزمر/ 15] ، ( خ س ر) الخسروالخسران عام طور پر اس کا استعمال خارجی ذخائر میں نقصان اٹھانے پر ہوتا ہے ۔ جیسے مال وجاء وغیرہ لیکن کبھی معنوی ذخائر یعنی صحت وسلامتی عقل و ایمان اور ثواب کھو بیٹھنے پر بولا جاتا ہے بلکہ ان چیزوں میں نقصان اٹھانے کو اللہ تعالیٰ نے خسران مبین قرار دیا ہے ۔ چناچہ فرمایا :۔ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ أَلا ذلِكَ هُوَ الْخُسْرانُ الْمُبِينُ [ الزمر/ 15] جنہوں نے اپنے آپ اور اپنے گھر والوں کو نقصان میں ڈٖالا ۔ دیکھو یہی صریح نقصان ہے ۔ نفس الَّنْفُس : ذاته وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، ( ن ف س ) النفس کے معنی ذات ، وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے قِيامَةُ والقِيامَةُ : عبارة عن قيام الساعة المذکور في قوله : وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ [ الروم/ 12] ، يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ المطففین/ 6] ، وَما أَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً [ الكهف/ 36] ، والْقِيَامَةُ أصلها ما يكون من الإنسان من القیام دُفْعَةً واحدة، أدخل فيها الهاء تنبيها علی وقوعها دُفْعَة، والمَقامُ يكون مصدرا، واسم مکان القیام، وزمانه . نحو : إِنْ كانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَقامِي وَتَذْكِيرِي [يونس/ 71] ، القیامتہ سے مراد وہ ساعت ( گھڑی ) ہے جس کا ذکر کہ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ [ الروم/ 12] اور جس روز قیامت برپا ہوگی ۔ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ المطففین/ 6] جس دن لوگ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔ وَما أَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً [ الكهف/ 36] اور نہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت برپا ہو۔ وغیرہ آیات میں پایاجاتا ہے ۔ اصل میں قیامتہ کے معنی انسان یکبارگی قیام یعنی کھڑا ہونے کے ہیں اور قیامت کے یکبارگی وقوع پذیر ہونے پر تنبیہ کرنے کے لئے لفظ قیام کے آخر میں ھاء ( ۃ ) کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ المقام یہ قیام سے کبھی بطور مصدر میمی اور کبھی بطور ظرف مکان اور ظرف زمان کے استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنْ كانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَقامِي وَتَذْكِيرِي [يونس/ 71] اگر تم کو میرا رہنا اور ۔ نصیحت کرنا ناگوار ہو ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں مُقَامةُ : مقیم الإقامة، قال : الَّذِي أَحَلَّنا دارَ الْمُقامَةِ مِنْ فَضْلِهِ [ فاطر/ 35] نحو : دارُ الْخُلْدِ [ فصلت/ 28] ، وجَنَّاتِ عَدْنٍ [ التوبة/ 72] وقوله : لا مقام لَكُمْ فَارْجِعُوا[ الأحزاب/ 13] ، من قام، أي : لا مستقرّ لكم، وقد قرئ : لا مقام لَكُمْ من : أَقَامَ. ويعبّر بالإقامة عن الدوام . نحو : عَذابٌ مُقِيمٌ [هود/ 39] ، وقرئ : إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي مَقامٍ أَمِينٍ «2» [ الدخان/ 51] ، أي : في مکان تدوم إقامتهم فيه، وتَقْوِيمُ الشیء : تثقیفه، قال : لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ [ التین/ 4] وذلک إشارة إلى ما خصّ به الإنسان من بين الحیوان من العقل والفهم، وانتصاب القامة الدّالّة علی استیلائه علی كلّ ما في هذا العالم، المقام : یہ مصدر میمی ، ظرف ، مکان ظرف زمان اور اسم مفعول کے طور پر استعمال ہوتا ہے ۔ لیکن قرآن پاک میں صرف مصدر میمی کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنَّها ساءَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقاماً [ الفرقان/ 66] اور دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے ۔ اور مقامتہ ( بضم الیم ) معنی اقامتہ ہے جیسے فرمایا : الَّذِي أَحَلَّنا دارَ الْمُقامَةِ مِنْ فَضْلِهِ [ فاطر/ 35] جس نے ہم کو اپنے فضل سے ہمیشہ کے رہنے کے گھر میں اتارا یہاں جنت کو دارالمقامتہ کہا ہے جس طرح کہ اسے دارالخلد اور جنات عمدن کہا ہے ۔ اور آیت کریمہ : لا مقام لَكُمْ فَارْجِعُوا[ الأحزاب/ 13] یہاں تمہارے لئے ( ٹھہرنے کا ) مقام نہیں ہے تو لوٹ چلو ۔ میں مقام کا لفظ قیام سے ہے یعنی تمہارا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے اور ایک قرات میں مقام ( بضم المیم ) اقام سے ہے اور کبھی اقامتہ سے معنی دوام مراد لیا جاتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ عَذابٌ مُقِيمٌ [هود/ 39] ہمیشہ کا عذاب ۔ اور ایک قرات میں آیت کریمہ : ۔ إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي مَقامٍ أَمِينٍ [ الدخان/ 51] بیشک پرہیزگار لوگ امن کے مقام میں ہوں گے ۔ مقام بضمہ میم ہے ۔ یعنی ایسی جگہ جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ تقویم الشی کے معنی کسی چیز کو سیدھا کرنے کے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ [ التین/ 4] کہ ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ۔ اس میں انسان کے عقل وفہم قدوقامت کی راستی اور دیگر صفات کی طرف اشارہ ہے جن کے ذریعہ انسان دوسرے حیوانات سے ممتاز ہوتا ہے اور وہ اس کے تمام عالم پر مستولی اور غالب ہونے کی دلیل بنتی ہیں ۔ تقویم السلعۃ : سامان کی قیمت لگانا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور دوزخ کے سامنے لائے جائیں گے ذلت اور غم کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے سست نگاہ سے دیکھتے ہوں گے۔ اور ایمان والے کہیں گے کہ پورے خسارہ والے وہ لوگ ہیں جو جنت میں اپنی جانوں اور اپنے خادموں کی وجہ سے خسارہ میں رہے یقینا یہ مشرک دائمی عذاب میں ہوں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٥ { وَتَرٰٹہُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْہَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ } ” اور تم دیکھو گے انہیں کہ وہ پیش کیے جائیں گے اس (جہنم ) پر ‘ نگاہیں زمین میں گاڑے ہوں گے ذلت کی وجہ سے ‘ دیکھ رہے ہوں گے کن انکھیوں سے۔ “ اسی کیفیت میں وہ لوگ ایک دوسرے سے گفتگو کر رہے ہوں گے۔ { وَقَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ وَاَہْلِیْہِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ } ” اور (اُس وقت) اہل ایمان کہیں گے کہ واقعتا تباہ و برباد ہونے والے تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو قیامت کے دن خسارے میں مبتلا کیا۔ “ { اَلَآ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ } ” آگاہ ہو جائو ! یہ ظالم تو ہمیشہ قائم رہنے والے عذاب میں رہیں گے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

71. By nature man is such that when a dreadful scene comes before him and he knows that soon he is going to fall a prey to it, he closes his eyes forthwith in fear. Then, when he cannot hold himself any longer, he tries to see what kind of the calamity it is and how far away it is from him. But he does not find the courage to lift up his head and have a full view of it. Therefore, he opens his eyes a little again and again and sees it from the corner of the eye, and then again closes his eyes from fear. The same state of those who will be driven to Hell has been depicted here.

سورة الشُّوْرٰی حاشیہ نمبر :71 انسان کا قاعدہ ہے کہ جب کوئی ہولناک منظر اس کے سامنے ہوتا ہے اور وہ جان رہا ہوتا ہے کہ عنقریب وہ اس بلا کے چنگل میں آنے والا ہے جو سامنے نظر آ رہی ہے ، تو پہلے تو ڈر کے مارے وہ آنکھیں بند کر لیتا ہے ۔ پھر اس سے رہا نہیں جاتا ۔ دیکھنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ بلا کیسی ہے اور ابھی اس سے کتنی دور ہے ۔ لیکن اس کی بھی ہمت نہیں پڑتی کہ سر اٹھا کر نگاہ بھر کر اسے دیکھے ۔ اس لیے بار بار ذرا سی آنکھیں کھول کر اسے گوشہ چشم سے دیکھتا ہے اور پھر ڈر کے مارے آنکھیں بند کر لیتا ہے ۔ جہنم کی طرف جانے والوں کی اسی کیفیت کا نقشہ اس آیت میں کھینچا گیا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(42:45) ترھم : تری مضارع واحد مذکر حاضر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب تو ان کو دیکھے گا۔ یعرضون : مضارع مجہول جمع مذکر غائب ۔ عرض (باب ضرب) ان کو پیش کیا جائے گا۔ علیہا میں ھا ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع النار ہے (آگ ، دوزخ) جس پر لفظ العذاب دلالت کرتا ہے۔ خشعین : خشوع (باب ضرب) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر، ڈرنے والے عاجزی کرنے والے فروتنی کرنے والے من الذل : من بمعنی ب سببیہ ہے الذل ذل بذل (باب ضرب) سے مصدر ہے ذلت، عاجزی، تواضع، دوسرے کے دباؤ اور قہر کی بناء پر جو ذلت ہو اس کو ذل (بصیغہ دال) کہتے ہیں ۔ اور بغیر کسی کے قہر اور دباؤ کے خود اپنی سرکشی اور سخت گیری کے بعد جو ذلت حاصل ہو وہ ذل (بکسرہ ذال) کہلاتی ہے۔ ذ ل ل مادہ۔ من الذل۔ ذلت کی وجہ سے عاجز و درماندہ و خوف زدہ۔ ینظرون من طرف خفی۔ نیچی دزدیدہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے۔ طرف خفی۔ موصوف و صفت، طرف کے معنی ہیں۔ نظر ، نگاہ۔ طرف العین کہتے ہیں آنکھ کی پلک اور طرف کے معنی ہیں پلک جھپکنے کے۔ پلک جھپکنے کو لازم ہے نگاہ۔ اس لئے خود نگاہ اور نظر کے لئے بھی طرف کا استعمال ہوتا ہے۔ قصرت الطرف (55:56) نیچی نگاہ والیاں۔ خفی صفت مشبہ کا صیغہ ہے خفاء (باب سمع) مصدر۔ پوشیدہ ، چھپی ہوئی۔ یعنی چوری کی نظر سے دیکھیں گے۔ جیسے وہ شخص جو رسیوں سے بندھا ہوا ہو خوف زدہ ہو کر عاجزی کے ساتھ چوری کی نظر سے جلاد کی تلوار کو دیکھتا ہے۔ یعرضون علیہا۔ خشعین من الذل اور ینظرون من طرف خفی تینوں جملے حال ہیں ہم ضمیر مفعول سے۔ خسروا انفسھم واہلیہم : (جنہوں نے) اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو گھاٹے میں ڈالا۔ یوم القیامۃ : مضاف مضاف الیہ ۔ مفعول فیہ۔ قیامت کے روز۔ الا۔ خبردار ہوجاؤ۔ جان لو۔ سن لو۔ عذاب مقیم۔ موصوف و صفت۔ ہمیشہ کا عذاب۔ قائم رہنے والا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 جیسے کسی کے ہاتھ پائوں باندھ کر تلوار سے مارنے لگیں تو وہ ڈر کے مارے آنکھیں بند کرلے لیکن کبھی کبھی کنگھیوں سے دیکھ لے کہ آیا تلوار سر پر لٹکی ہوئی ہے یا ٹل گئی ہے۔ پوری طرح آنکھ کھول کر نہ دیکھ سکے۔ 3 اپنے آپ کو تباہ اس طرح کیا کہ خواہ گمراہ ہوئے اور گھر والوں کو بھی گمراہ کیا۔ ( ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(45) اور آپ ان کو دیکھیں گے وہ آگ کے سامنے اس حال میں لائے جائیں گے اور جہنم کے روبرو پیش کیے جائیں گے تو ان کی حالت یہ ہوگی کہ آپ ان کو دیکھیں گے مارے ذلت کے جھکے ہوئے ہوں گے اور خفیہ خفیہ گوشہ چشم نیم کشادہ سے آگ کو دیکھتے ہوں گے اور اس وقت اہل ایمان کہیں گے کہ حقیقی زیاں کار اور نقصان اٹھانے والے وہی لوگ ہیں جو آج قیامت کے دن اپنی جانوں کو اور اپنے متعلقین کو خسارے میں اور نقصان میں ڈال بیٹھے آگاہ رہو بلا شبہ ظلم کرنے والے دائمی عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ پیغمبر (علیہ السلام) کو خطاب فرماتے ہوئے گمراہ لوگوں کے اس منظر پر توجہ دلائی ہے جو قیامت میں پیش آنے والا ہے اوپر کی آیتوں میں ہدایت یافتہ حضرات کے اجروثواب کا ذکر تھا من یضالاللہ سے دین حق کے منکروں کا ذکر شروع ہوا پہلے تو عذاب کو دیکھ کر واپس آنے اور دنیا میں دوبارہ آنے کی راہ تلاش کریں گے پھر جب جہنم کے روبرو لائے جائیں گے تو ان کی حالت یہ ہوگی کہ ذلت و رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے عاجزی کررہے ہوں گے اور آگ کو کنکہیوں سے دیکھتے ہوں گے جیسے خوف کے وقت آدمی خوف کی چیز کو دیکھتا ہو اس وقت اہل ایمان اپنی نجات اور بچنے پر یہ الفاظ کہیں گے کہ آج قیامت کے دن حقیقی زیاں کار اور نقصان میں وہی لوگ ہیں جو اپنی جان کو نقصان میں ڈال بیٹھے اور نہ صرف اپنی جان کو بلکہ اپنے ساتھ اپنے متعلقین یعنی بیوی بچوں کو بھی اور اپنے قرابت داروں کو نقصان میں ڈال دیا۔ کیونکہ ان کا ظلم اور ان کا کفر دوسروں کے لئے بھی ایمان لانے اور ہدایت قبول کرنے سے مانع ہوا آخر میں حضرت حق تعالیٰ نے فرمایا کہ سن لو یہ مشرک ظالم دین حق کے منکر دائمی طور پر عذاب میں رہیں گے اور جہنم سے نکلنا نصیب نہ ہوگا۔