43 This implies the Signs which Allah showed them through the Prophet Moses afterwards, and these were the following:
(1) A public encounter of Allah's Prophet with the magicians, who believed after their defeat. For details, see Al-A'raf: 112-126, Ta Ha: 68-73. AshShu'ara: 37-51.
(2) A severe famine which hit the land of Egypt according to the Prophet Moses' announcement and which left the country only on his prayer.
(3) Dreadful rain and hail-storms accompanied by lightning and thunder struck the country even as the Prophet had announced, which destroyed the crops and dwellings and which also was removed only on his prayer.
(4) The sudden appearance of locusts in the land. This calamity also was not removed till the Prophet prayed to Allah.
(5) Lice and weavils spread throughout the country according to the announcement made by Moses, which afflicted men and animals on the one hand, and destroyed granaries on the other. This torment also was averted when the Prophet Moses was requested to pray for its removal.
(6) Frogs appeared everywhere in the country according to the warning given by Moses, which put the whole population to great distress; this calamity also did not retreat till the Prophet prayed for it.
(7) The torment of blood appeared precisely as foretold by Moses, which turned the water of all canals, wells, springs, pools and cisterns into blood. The fish died and the water smelled so bad that the Egyptians could not drink from it for a full week. This evil also was averted when the Prophet Moses was asked to pray for its removal. For details, see AIA'raf: 130-136. An-Naml: 12 and E.N. 37 of Al-Mu'min.
Chapters 7 to 10 of Exodus also contain the details of these calamities, but it is a combination of gossip and truth. It says that when the calamity of blood appeared, the magicians also worked a similar miracle, but when the calamity of the lice came, the magicians could not produce lice in response, and they said that it was God's work. Even more strange than this is that when the storm of the frogs came, the magicians also brought about frogs, but in spite of that Pharaoh requested only the Prophet Moses to pray to God to take away the frogs. The question is when the magicians could produce frogs, why didn't Pharaoh get the frogs taken away through them? And how did it become known which of the frogs were Allah's work and which of the magicians'? The same question arises about the blood. When according to the warning of Moses water became blood everywhere, which water did the magicians turn into blood? And how was it known that the water of a particular place had turned blood by the power of the magicians? Such are the things which show that the Bible does not consist of purely Divine revelation, but the people who wrote it mixed up many things in it from their own imagination. The pity, however, is that the authors also were people of ordinary intelligence, who did not even know how to invent a story.
سورة الزُّخْرُف حاشیہ نمبر :43
ان نشانیوں سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو بعد میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے ذریعہ سے ان کو دکھائیں ، اور وہ یہ تھیں:
( 1 ) جادوگروں سے اللہ کے نبی کا برسر عام مقابلہ ہوا اور وہ شکست کھا کر ایمان لے آئے تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم ، الاعراف ، حواشی ۸۸ تا ۹۲ ، جلد سوم ، طہ ، حواشی ۳۰ تا ۵۰ ، الشعراء ، حواشی ۲۹ تا ٤۰ ۔
( 2 ) حضرت موسیٰ کے پیشگی اعلان کے مطابق مصر کی سر زمین میں شدید قحط برپا ہو گیا اور وہ انکی دعا پر ہی دور ہوا ۔
( 3 ) ان کے پیشگی اعلان کے بعد سارے ملک میں ہولناک بارشوں اور ژالہ باری اور گرج اور کڑک کے طوفان آ ئے جنہوں نے بستیوں اور کھیتوں کو تباہ کر ڈالا ، اور یہ بلا بھی ان کی دعا سے ہی دفع ہو ئی ۔
( 4 ) پورے ملک پر ان کے اعلان کے مطابق ٹڈی دلوں کا خوفناک حملہ ہوا اور یہ آفت بھی اس وقت تک نہ ٹلی جب تک انہوں نے اسے ٹالنے کے لیے اللہ سے دعا نہ کی ۔
( 5 ) ملک بھر میں ان کے اعلان کے مطابق جوئیں اور سرسریاں پھیل گئیں جن سے ایک طرف آدمی اور جانور سخت مبتلا ئے عذاب ہوئے اور دوسرے طرف غلوں کے گودام تباہ ہو گئے ۔ یہ عذاب بھی اس وقت ٹلا جب حضرت موسیٰ سے درخواست کر کے دعا کرائی گئی ۔
( 6 ) ملک کے گوشے گوشے میں ان کی قبل از وقت تنبیہ کے مطابق مینڈکوں کا سیلاب امنڈ آیا جس نے پوری آبادی کا ناطقہ تنگ کر دیا ۔ اللہ کی یہ فوج بھی حضرت موسیٰ کی دعا کے بغیر واپس نہ گئی ۔
( 7 ) ٹھیک ان کے اعلان کے مطابق خون کا عذاب رونما ہوا ، جس سے تمام نہروں ، کنوؤں ، تالابوں اور حوضوں کا پانی خون میں تبدیل ہو گیا ، مچھلیاں مرگئیں ، ہر جگہ پانی کے ذخیروں میں عفونت پیدا ہو گئی ، اور پورے ایک ہفتے تک مصر کے لوگ صاف پانی کو ترس گئے ۔ یہ آفت بھی اس وقت ٹلی جب اس سے نجات پا نے کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دعا کرائی گئی ۔ تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم ، الاعراف ، حواشی ۹٤تا ۹٦ ، جلد سوم ، النمل ، حواشی ۱٦ ، ۱۷ ، جلد چہارم ، المومن ، حاشیہ۳۷ ۔
بائیبل کی کتاب خروج ، باب 7 ۔ 8 ۔ 9 ۔ 10 اور 12 میں بھی ان عذابوں کی مفصل رو داد درج ہے ، مگر وہ گپ اور حقیقت کا مجموعہ ہے ۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جب خون کا عذاب آیا تو جادوگروں نے بھی ویسا ہی لا کر دکھایا ۔ مگر جب جوؤں کا عذاب آیا تو جادوگر جواب میں جوئیں پیدا نہ کر سکے اور انہوں نے کہا کہ یہ خدا کا کام ہے ۔ پھر اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب مینڈکوں کا سیلاب اٹھا تو جادوگر بھی جواب میں مینڈک چڑھا لائے ، لیکن اس کے باوجود فرعون نے حضرت موسیٰ ہی سے یہ درخواست کی کہ اللہ سے دعا کر کے اس عذاب کو دفع کراییئے ۔ سوال یہ ہے کہ جب جادوگر مینڈک چڑھا لانے پر قادر تھے تو فرعون نے ان ہی کے ذریعہ سے یہ عذاب کیوں نہ دور کرا لیا ؟ اور آخر یہ معلوم کیسے ہوا کہ مینڈکوں کی اس فوج میں اللہ کے مینڈک کون سے ہیں اور جادوگروں کے مینڈک کون سے ؟ یہی سوال خون کے بارے میں بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب حضرت موسیٰ کی تنبیہ کے مطابق ہر طرف پانی کے ذخیرے خون میں تبدیل ہو چکے تھے تو جادوگروں نے کس پانی کو خون بنایا اور کیسے معلوم ہوا کہ فلاں جگہ کا پانی جادوگروں کے کرتب سے خون بنا ہے ؟ ایسی ہی باتوں سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ بائیبل خالص کلام الٰہی پر مشتمل نہیں ہے بلکہ اس کو جن لوگوں نے تصنیف کیا ہے انہوں نے اس کے اندر اپنی طرف سے بھی بہت کچھ ملا دیا ہے ۔ اور غضب یہ ہے کہ یہ مصنفین کچھ تھے بھی واجبی سی عقل کے لوگ جنہیں بات گھڑنے کا سلیقہ بھی نصیب نہ تھا ۔