Surat uz Zukhruf

Surah: 43

Verse: 87

سورة الزخرف

وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَہُمۡ لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ فَاَنّٰی یُؤۡفَکُوۡنَ ﴿ۙ۸۷﴾

And if you asked them who created them, they would surely say, " Allah ." So how are they deluded?

اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ انہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یقیناً یہ جواب دیں گے کہ اللہ نے پھر یہ کہاں الٹے جاتے ہیں؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And if you ask them who created them, they will surely say: "Allah." How then are they turned away? means, `if you ask these idolators who associate others in worship with Allah,' مَّنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ (who created them, they will surely say: "Allah.") means, they will admit that He Alone is the Creator of all things and He has no partner in that. Yet despite that they still worship others alongside Him who have nothing and are able to do nothing. This is the utmost foolishness and stupidity. Allah says: فَأَنَّى يُوْفَكُونَ (How then are they turned away). The Prophet's Complaint to Allah Allah says, وَقِيلِهِ يَارَبِّ إِنَّ هَوُلاَء قَوْمٌ لاَّ يُوْمِنُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٩] یعنی مقدمہ کا اقرار کرتے ہیں مگر اس کے منطقی نتیجہ کا انکار کردیتے ہیں۔ اصل میں یہ سوال یوں بنتا ہے کہ تمہارے بتوں نے نہ تو تمہیں پیدا کیا ہے۔ نہ تمہارے نفع و نقصان کے مالک ہیں پھر وہ تمہاری عبادت کے حقدار کیسے بن گئے ؟ یہ دھوکا تمہیں کہاں سے لگ جاتا ہے کہ تمہیں پیدا کرنے والا اور تمہاری حاجات پوری کرنے والا تو اللہ ہو اور پرستش تم اللہ کی بجائے دوسروں کی کرنے لگ جاؤ ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) ولئن سالتھم من خلقھم…:- اس آیت میں مشرکین کے قول و فعل کا تضاد واضح فرمایا ہے، یعنی جب مانتے ہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے تو پیدا کرنے والے کو چھوڑ کر دوسروں کی پوجا کیوں کرتے ہیں ؟ مالک کو چھوڑ کر ان کو مشکل کشا اور حاجت روا کیسے مان بیٹھے ہیں جنہوں نے کچھ پیدا ہی نہیں کیا۔ (٢) فانی یوفکون : یعنی پھر بہکانے والے انہیں بہکا کر کہاں لے جا رہے ہیں ؟ ایک معنی ” فانی یوفکون “ کا یہ بھی ہے ” من ابن یوفکون “ کہ پھر و کہاں سے بہکائے جاتے ہیں، کون سی دلیل یا کیا سبب ہے جس کی وجہ سے یہ بہکائے جاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان اصل میں توحید پر ہوتا ہے۔ پھر شیاطین انسان ہوں یا جن اسے توحید سے بہکا کر شرک میں مبتلا کردیتے ہیں۔ اس لئے ایسے لوگوں سے بہت ہوشیار اور خبردار رہنا چاہیے، جیسا کہ عیاض بن حمار المجاشعی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن اپنے خطبہ میں فرمایا :(الا ان ربی امرنی ان اعلمکم ما جھلتم ما علمنی یومی ھذا کل مال نحلنہ عبدحلال و انی خلقت عبادی حنفاء کلھم وانھم انتھم الشاطین فاجتلھم عن دینھم و حرمت علیھم ما اخلک لھم و امرتھم ان یشرکوا بی مالم انزل بہ سلطانا) (مسلم ، الجنۃ وصفۃ نعیمھا و اھلھا، باب الصفات التی یعرف بھا فی الدنیا اھل الجنۃ و اھل النار :2865) ” سنو ! میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں وہ باتیں سکھاؤں جن سے تم ناواقف ہو، ان باتوں میں سے جو اس نے مجھے آج سکھائی ہیں۔ (وہ فرماتا ہے کہ) ہر وہ مال جو میں نے کسی بندے کو عطا کیا (وہ اس کے لئے) حلال ہے اور میں نے اپنے تمام بندوں کو خنفاء ایک اللہ کی طرف ہوجانے والے) پیدا کیا، ان کے پاس شیاطین آئے تو انہوں نے انھیں ان کے دین سے بہکا دیا اور ان پر وہ چیزیں حرام کردیں جو میں نے ان کے لئے حلال کی تھیں اور انہیں حکم دیا کہ میرے ساتھ ان چیزوں کو شریک بنائیں جن کی میں نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَىِٕنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَہُمْ لَيَقُوْلُنَّ اللہُ فَاَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ۝ ٨٧ ۙ سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل مٰن تو زبان سے دیا جاتا ہے لیکن کتابت یا اشارہ اس کا قائم مقام بن سکتا ہے اور مال کی استدعا کا جواب اصل میں تو ہاتھ سے ہوتا ہے لیکن زبان سے وعدہ یا انکار اس کے قائم مقام ہوجاتا ہے ۔ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے أنى أَنَّى للبحث عن الحال والمکان، ولذلک قيل : هو بمعنی كيف وأين «4» ، لتضمنه معناهما، قال اللہ عزّ وجل : أَنَّى لَكِ هذا [ آل عمران/ 37] ، أي : من أين، وكيف . ( انیٰ ) انی۔ یہ حالت اور جگہ دونوں کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اس لئے بعض نے کہا ہے کہ یہ بمعنیٰ این اور کیف ۔ کے آتا ہے پس آیت کریمہ ؛۔ { أَنَّى لَكِ هَذَا } ( سورة آل عمران 37) کے معنی یہ ہیں کہ کھانا تجھے کہاں سے ملتا ہے ۔ أفك الإفك : كل مصروف عن وجهه الذي يحق أن يكون عليه، ومنه قيل للریاح العادلة عن المهابّ : مُؤْتَفِكَة . قال تعالی: وَالْمُؤْتَفِكاتُ بِالْخاطِئَةِ [ الحاقة/ 9] ، وقال تعالی: وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوى [ النجم/ 53] ، وقوله تعالی: قاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ [ التوبة/ 30] أي : يصرفون عن الحق في الاعتقاد إلى الباطل، ومن الصدق في المقال إلى الکذب، ومن الجمیل في الفعل إلى القبیح، ومنه قوله تعالی: يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ [ الذاریات/ 9] ، فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ [ الأنعام/ 95] ، وقوله تعالی: أَجِئْتَنا لِتَأْفِكَنا عَنْ آلِهَتِنا [ الأحقاف/ 22] ، فاستعملوا الإفک في ذلک لمّا اعتقدوا أنّ ذلک صرف من الحق إلى الباطل، فاستعمل ذلک في الکذب لما قلنا، وقال تعالی: إِنَّ الَّذِينَ جاؤُ بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ [ النور/ 11] ، وقال : لِكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ [ الجاثية/ 7] ، وقوله : أَإِفْكاً آلِهَةً دُونَ اللَّهِ تُرِيدُونَ [ الصافات/ 86] فيصح أن يجعل تقدیره : أتریدون آلهة من الإفك «2» ، ويصح أن يجعل «إفكا» مفعول «تریدون» ، ويجعل آلهة بدل منه، ويكون قد سمّاهم إفكا . ورجل مَأْفُوك : مصروف عن الحق إلى الباطل، قال الشاعر : 20- فإن تک عن أحسن المروءة مأفو ... کا ففي آخرین قد أفكوا «1» وأُفِكَ يُؤْفَكُ : صرف عقله، ورجل مَأْفُوكُ العقل . ( ا ف ک ) الافک ۔ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو اپنے صحیح رخ سے پھیردی گئی ہو ۔ اسی بناء پر ان ہواؤں کو جو اپنا اصلی رخ چھوڑ دیں مؤلفکۃ کہا جاتا ہے اور آیات کریمہ : ۔ { وَالْمُؤْتَفِكَاتُ بِالْخَاطِئَةِ } ( سورة الحاقة 9) اور وہ الٹنے والی بستیوں نے گناہ کے کام کئے تھے ۔ { وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَى } ( سورة النجم 53) اور الٹی ہوئی بستیوں کو دے پٹکا ۔ ( میں موتفکات سے مراد وہ بستیاں جن کو اللہ تعالیٰ نے مع ان کے بسنے والوں کے الٹ دیا تھا ) { قَاتَلَهُمُ اللهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ } ( سورة التوبة 30) خدا ان کو ہلاک کرے ۔ یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں ۔ یعنی اعتقاد و حق باطل کی طرف اور سچائی سے جھوٹ کی طرف اور اچھے کاموں سے برے افعال کی طرف پھر رہے ہیں ۔ اسی معنی میں فرمایا ؛ ۔ { يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ } ( سورة الذاریات 9) اس سے وہی پھرتا ہے جو ( خدا کی طرف سے ) پھیرا جائے ۔ { فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ } ( سورة الأَنعام 95) پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو ۔ اور آیت کریمہ : ۔ { أَجِئْتَنَا لِتَأْفِكَنَا عَنْ آلِهَتِنَا } ( سورة الأَحقاف 22) کیا تم ہمارے پاس اسلئے آئے ہو کہ ہمارے معبودوں سے پھیردو ۔ میں افک کا استعمال ان کے اعتقاد کے مطابق ہوا ہے ۔ کیونکہ وہ اپنے اعتقاد میں الہتہ کی عبادت ترک کرنے کو حق سے برعمشتگی سمجھتے تھے ۔ جھوٹ بھی چونکہ اصلیت اور حقیقت سے پھرا ہوتا ہے اس لئے اس پر بھی افک کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : { إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ } ( سورة النور 11) جن لوگوں نے بہتان باندھا ہے تمہیں لوگوں میں سے ایک جماعت ہے ۔ { وَيْلٌ لِكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ } ( سورة الجاثية 7) ہر جھوٹے گنہگار کے لئے تباہی ہے ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ { أَئِفْكًا آلِهَةً دُونَ اللهِ تُرِيدُونَ } ( سورة الصافات 86) کیوں جھوٹ ( بناکر ) خدا کے سوا اور معبودوں کے طالب ہو ۔ میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ افکا مفعول لہ ہو ای الھۃ من الافک اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ افکا تریدون کا مفعول ہو اور الھۃ اس سے بدل ۔۔ ،۔ اور باطل معبودوں کو ( مبالغہ کے طور پر ) افکا کہدیا ہو ۔ اور جو شخص حق سے برگشتہ ہو اسے مافوک کہا جاتا ہے شاعر نے کہا ہے ع ( منسرح) (20) فان تک عن احسن المووءۃ مافوکا ففی اخرین قد افکوا اگر تو حسن مروت کے راستہ سے پھر گیا ہے تو تم ان لوگوں میں ہو جو برگشتہ آچکے ہیں ۔ افک الرجل یوفک کے معنی دیوانہ اور باؤلا ہونے کے ہیں اور باؤلے آدمی کو مافوک العقل کہا جاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور اگر آپ بنو ملیح سے یہ پوچھیں کہ تمہیں کس نے پیدا کیا تو یہی کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تو پھر اس اقرار کے باوجود کیوں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨٧ { وَلَئِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَہُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ } ” اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ ان کو کس نے پیدا کیا تو کہیں گے اللہ نے ! “ یعنی اگر آپ ان سے پوچھیں کہ خود ان کو کس نے پیدا کیا ہے تو کہیں گے کہ اللہ نے۔ اس فقرے کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ اگر آپ ان سے ان کے معبودوں کے بارے میں پوچھیں کہ انہیں کس نے پیدا کیا ہے تو بھی وہ جواب میں کہیں گے کہ انہیں بھی اللہ نے ہی بنایا ہے۔ { فَاَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ } ” تو پھر یہ کہاں سے پھیر دیے جاتے ہیں ! “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

69 This verse has two meanings: (1) "If you ask them who has created them, they will say: Allah"; and (2) "lf you ask them who is the Creator of their gods, they will say: Allah."

سورة الزُّخْرُف حاشیہ نمبر :69 اس کے دو مطلب ہیں ۔ ایک یہ کہ اگر تم ان سے پوچھو کہ خود ان کو کس نے پیدا کیا ہے تو کہیں گے کہ اللہ نے ۔ دوسرے یہ کہ اگر تم ان سے پوچھو کہ ان کے معبودوں کا خالق کون ہے تو یہ کہیں گے کہ اللہ ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(43:87) ولئن : واؤ عاطفہ لام تاکید کے لئے اور ان شرطیہ۔ اور اگر۔ سئلتھم : (اگر) تو ان سے دریافت کرے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب ان کافروں کے لئے ہے جو اللہ کے سوا دوسروں کی پوجا کرتے تھے۔ لئن سئلتھم من خلقھم جملہ شرط۔ لیقولن اللّٰہ جواب شرط۔ لیقولئن۔ مضارع بلام تاکید ونون ثقیلہ۔ یا لام جواب شرط کے لئے اور مضارع بانون تاکید ثقیلہ صیغہ جمع مذکر غائب وہ ضرور بالضرور کہہ دیں گے۔ فانی میں فاء جزائیہ ہے ای اذا کان الامر کذلک (جملہ شرط محذوف) یؤفکون ۔ (جواب شرط۔ انی بمعنی کیف۔ کیونکر، کیسے۔ یؤفکون مضارع مجہول جمع مذکر غائب ۔ افک (باب ضرب) مصدر پھیرے جاتے ہیں ۔ کیسے بہکے پھرتے ہیں کہ یہ جانتے ہوئے اور اقرار کرتے ہوئے بھی کہ ان سب کا خالق اللہ تعالیٰ ہے پھر بھی اسے چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کی طرف کیوں پھرے جاتے ہیں۔ الافک ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو اپنے صحیح رخ سے پھیردی گئی ہو اسی لئے ان ہواؤں کو جو اپنا صحیح رخ چھوڑ دیں مؤتفکۃ کہا جاتا ہے اور قرآن مجید میں ان بستیوں کو جن کو گناہ کے کام کرنے کرنے پر الٹ دیا گیا تھا مؤتفکات کہا ہے۔ جیسے والمؤتفکات بالخاطئۃ (69:9) اور وہ الٹنے والی بستیوں نے گناہ کے کام کئے تھے۔ جھوٹ بھی چونکہ اصلیت اور حقیقت سے پھرا ہوا ہوتا ہے اسی لئے اس پر بھی افک کا لفظ بھی بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے ان الذین جاء وا بالافک عصبۃ منکم (24:11) جن لوگوں نے بہتان باندھا ہے تمہیں لوگوں میں سے ایک جماعت ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 یعنی اپنے پیدا کرنے والے کو چھوڑ کر کیونکہ دوسروں کی پوجا کرتے پھرتے ہیں۔ ان کے آستانوں پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں اور انہیں حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے پکارتے ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا یا اس کے ساتھ کسی کو شریک بناتے ہیں ان سے سوال کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی توحید سمجھانے کے لیے بیشمار اسلوب اختیار فرمائے ہیں جن میں ایک اسلوب اور طریقہ یہ بھی اختیار کیا ہے کہ مشرکوں سے پوچھا جائے کہ خود ان کی ذات کو کس نے پیدا کیا ہے۔ اس سوال کا یہ بھی مفہوم ہے کہ جن کو تم پکارتے ہو ان کو کس نے پیدا کیا ہے۔ دونوں صورتوں میں ہر دور کے مشرک اور کافر یہی جواب دیتے ہیں اور دیتے رہیں گے کہ ہم سب کو صرف ایک ” اللہ “ نے پیدا کیا ہے۔ تو پھر اللہ تعالیٰ کے ساتھ یا اس کے سوا دوسروں کو پکارنے کا کیا جواز ہے ؟ جو لوگ حقیقت مان کر بھی سچا ایمان لانے اور توحید خالص کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ قسم ہے رسول کے اس فرمان کی کہ اے رب ! یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! بس ان سے درگزر کرو اور انہیں سلام کہہ دو اور یہ فرماؤ کہ عنقریب تمہیں سب کچھ معلوم ہوجائے گا۔ یہاں سلام کا لفظ سلامتی کی دعا کے طور پر نہیں بلکہ قطع تعلق کے لیے ہے۔ جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے مایوس ہو کر کہا تھا۔ (سَلٰمٌعَلَیْکَ ) [ مریم : ٤٧] ” تجھ پر سلامتی ہو۔ “ یہی مومنوں کی صفت ہے۔ ” الرحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں اگر جاہل ان سے جھگڑیں تو وہ ان کو سلام کہہ کر چل دیتے ہیں۔ “ [ الفرقان : ٦٣] اللہ تعالیٰ نے یہاں رسول کے اس فرمان کی قسم کھائی ہے کہ ” اے میرے رب ! یہ قوم ایمان لانے والی نہیں۔ “ بالآخر ہر پیغمبر کی جدوجہد کے دوران ایک مرحلہ ایسا آتا ہے جب پیغمبر اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہوجاتا ہے۔ ایسے مرحلہ میں نبی ہجرت کر جاتے تھے یا پھر قوم کے لیے بدعا کرتے تھے۔ سورة یوسف کی آیت ١١٠ میں اسی مایوسی کا ذکر کیا گیا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ایسے موقع پر اپنی قوم کے لیے بدعا کی تھی (نوح : ٢٧) جہاں تک سرور دوعالم کا معاملہ ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس قسم کے الفاظ ثابت نہیں۔ ممکن ہے کہ ہجرت سے پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے یہ جذبات ہوں جنہیں قرآن مجید نے اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا کبیرہ گناہ ہے۔ لیکن لوگوں کے رویہ سے مایوس ہونا گناہ نہیں۔ لوگوں کے رویہ سے مایوس ہو کر ہی انبیائے کرام (علیہ السلام) اپنے وطن سے ہجرت کیا کرتے تھے۔ مسائل ١۔ ہر دور کا کافر اور مشرک اس بات کا اقرار کرتا ہے اور کرتا رہے گا کہ سب کو پیدا کرنے والا صرف ایک ” اللہ “ ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کو خالق، رازق، مالک اور بادشاہ ماننے کے باوجود مشرک صرف اس ایک کی عبادت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ ٣۔ ہر نبی کی زندگی میں ایسا وقت ضرور آتا ہے جب اسے یقین ہوجاتا ہے کہ اس کی قوم کے لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ ٤۔ جن لوگوں کے ایمان لانے سے مبلغ مایوس ہوجائے ان سے جھگڑنے کی بجائے انہیں سلام کہنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن مشرکین کا اعتراف : ١۔ مشرک سے سوال کیا جائے کہ آسمان و زمین سے رزق کون دیتا ہے کہتے ہیں ” اللہ “ ہی رزق دیتا ہے۔ (یونس : ٣١) ٢۔ مشرکین سے پوچھا جائے مخلوق کو پیدا کرنے والا کون ہے ؟ جواب دیتے ہیں ” اللہ “ ہی پیدا کرنے والا ہے۔ (یونس : ٣٤) ٣۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ زمین و آسمان کا خالق کون ہے ؟ تو کہتے ہیں ” اللہ “ ہی خالق ہے۔ (الزمر : ٣٨) ٤۔ مشرکوں سے پوچھاجائے سات آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ؟ جواباً کہتے ہیں، اللہ ہی مالک ہے۔ (المومنون : ٨٦۔ ٨٧) ٥۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ ہر چیز پر کس کی بادشاہت ہے ؟ جواب دیتے ہیں اللہ کی بادشاہی ہے۔ (المومنون : ٨٨۔ ٨٩) ٦۔ یقیناً اگر تو ان سے پوچھے کہ کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور سورج اور چاند کو مسخر کیا ؟ تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے، پوچھیں کہ پھر کہاں سے بہکائے جا رہے ہیں۔ (العنکبوت : ٦١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ٨٧ یعنی جس سچائی کو ان کی فطرت تسلیم کرتی ہے اس سے وہ کیوں منہ موڑتے ہیں اور ایک طرف ہو کر نکل جاتے ہیں۔ سورت کے آخر میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فریاد کو لایا جاتا ہے جو آپ کرتے تھے کہ میری قوم کفر ، عناد اور ایمان نہ لانے پر تلی ہوئی ہے۔ یہاں اس فریاد کو لا کر اس کی قسم اٹھائی جاتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا ﴿ وَ لَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ ﴾ (الآیۃ) اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ ان کو کس نے پیدا کیا تو یہ لوگ یہی جواب دیں گے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اس بات کے بھی اقراری ہیں کہ خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر اپنی حماقت سے غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اسی کو فرمایا ﴿ فَاَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ﴾ سو یہ لوگ کہاں الٹے جا رہے ہیں پیدا کیا اللہ نے اور عبادت کریں غیر اللہ کی یہ تو عقل اور فہم سے بہت دور ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

50:۔ ” ولئن سالتھم۔ الایۃ “ یہ عقلی دلیل ہے علی سبیل الاعتراف من الخصم “ اگر ان مشرکین سے آپ پوچھیں کہ یہ توبتاؤ کہ تمہیں اور تمہارے معبودوں کو جن کو تم عنداللہ شفیع سمجھتے ہو، کس نے پیدا کیا ہے، تو جواب دیں گے کہ ان کو اللہ نے پیدا کیا ہے۔ پھر اس کی عبادت سے کیوں پھرے جاتے ہیں اور اس اقرار کے باوجود اللہ کی وحدانیت سے منہ مور کر کس طرف الٹے جا رہے ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(87) اور اے پیغمبر اگر آپ ان دین حق کے منکروں سے دریافت کریں کہ ان کو کس نے پیدا کیا ہے تو ضرور یہی جواب دیں گے کہ اللہ نے پھر اب یہ منکر کہاں الٹے پھرے چلے جاتے ہیں۔ یعنی حق دشمنی کا ان کی یہ حال ہے کہ اگر پوچھو تم کو کس نے پیدا کیا ہے تو جواب یہی دیں گے کہ ہم کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے تو توحید کا ایک مقدمہ تو تسلیم کرتے ہیں اور دوسرا مقدمہ کہ وہی ذات قابل پرستش ہوسکتی ہے جو حقیقی طور پر قادر علی الخلق ہو اس کو نہیں مانتے اسی کو فرمایا کہ اب الٹے کہاں پھرے جاتے ہیں۔ یعنی توحید کا ایک مقدمہ تسلیم کرنے کے بعد پھر کہاں جاتے ہو خالق اور قادر علی الخلق مان کو جو مستلزم ہے افتقارالیٰ خالق کے پھر اس کے عبادت میں شرک کا دعویٰ کرنا انتہائی حق دشمنی اور عناد وجمود ہے۔