Surat ud Dukhaan

Surah: 44

Verse: 3

سورة الدخان

اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ اِنَّا کُنَّا مُنۡذِرِیۡنَ ﴿۳﴾

Indeed, We sent it down during a blessed night. Indeed, We were to warn [mankind].

یقیناً ہم نے اسے بابرکت رات میں اتارا ہے بیشک ہم ڈرانے والے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ ... We sent it down on a blessed night. Allah tells us that He revealed the Magnificent Qur'an on a blessed night, Laylatul-Qadr (the Night of Decree), as He says elsewhere: إِنَّا أَنزَلْنَـهُ فِى لَيْلَةِ الْقَدْرِ Verily, We have sent it down in the Night of Al-Qadr, (97:1) This was in the month of Ramadan, as Allah tells us: شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْانُ The month of Ramadan in which was revealed the Qur'an, (2:185) We have already quoted the relevant Hadiths in (the Tafsir of) Surah Al-Baqarah, and there is no need to repeat them here. ... إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ Verily, We are ever warning. means, telling them what is good for them and what is harmful for them, according to Shariah, so that the proof of Allah may be established against His servants. فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ

عظیم الشان قرآن کریم کا نزول اور ماہ شعبان اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس عظیم الشان قرآن کریم کو بابرکت رات یعنی لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے ۔ جیسے ارشاد ہے آیت ( اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ Ǻ۝ښ ) 97- القدر:1 ) ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے ۔ اور یہ رات رمضان المبارک میں ہے ۔ جیسے اور آیت میں ہے ( شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ ١٨٥؁ ) 2- البقرة:185 ) رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا ۔ سورہ بقرہ میں اس کی پوری تفسیر گذر چکی ہے اس لئے یہاں دوبارہ نہیں لکھتے بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ لیلہ مبارکہ جس مے قرآن شریف ہوا وہ شعبان کی پندرہویں رات ہے یہ قول سراسر بےدلیل ہے ۔ اس لئے کہ نص قرآن سے قرآن کا رمضان میں نازل ہونا ثابت ہے ۔ اور جس حدیث میں مروی ہے کہ شعبان میں اگلے شعبان تک کے تمام کام مقرر کر دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ نکاح کا اور اولاد کا اور میت کا ہونا بھی وہ حدیث مرسل ہے اور ایسی احادیث سے نص قرآنی کا معارضہ نہیں کیا جا سکتا ہم لوگوں کو آگاہ کر دینے والے ہیں یعنی انہیں خیر و شر نیکی بدی معلوم کرا دینے والے ہیں تاکہ مخلوق پر حجت ثابت ہو جائے اور لوگ علم شرعی حاصل کرلیں اسی شب ہر محکم کام طے کیا جاتا ہے یعنی لوح محفوظ سے کاتب فرشتوں کے حوالے کیا جاتا ہے تمام سال کے کل اہم کام عمر روزی وغیرہ سب طے کر لی جاتی ہے ۔ حکیم کے معنی محکم اور مضبوط کے ہیں جو بدلے نہیں وہ سب ہمارے حکم سے ہوتا ہے ہم رسل کے ارسال کرنے والے ہیں تاکہ وہ اللہ کی آیتیں اللہ کے بندوں کو پڑھ سنائیں جس کی انہیں سخت ضرورت اور پوری حاجت ہے یہ تیرے رب کی رحمت ہے اس رحمت کا کرنے والا قرآن کو اتارنے والا اور رسولوں کو بھیجنے والا وہ اللہ ہے جو آسمان زمین اور کل چیز کا مالک ہے اور سب کا خالق ہے ۔ تم اگر یقین کرنے والے ہو تو اس کے باور کرنے کے کافی وجوہ موجود ہیں پھر ارشاد ہوا کہ معبود برحق بھی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہر ایک کی موت زیست اسی کے ہاتھ ہے تمہارا اور تم سے اگلوں کا سب کا پالنے پوسنے والا وہی ہے اس آیت کا مضمون اس آیت جیسا ہے ( قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا ١٥٨؁ ) 7- الاعراف:158 ) ، یعنی تو اعلان کر دے کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ جس کی بادشاہت ہے آسمان و زمین کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو جلاتا اور مارتا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

3۔ 1 بابرکت رات (لَیْلَۃُ الْقَدْرِ ) سے مراد شب قدر ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر صراحت ہے (شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ) 2 ۔ البقرۃ :185) رمضان کے مہینے میں قرآن نازل کیا گیا، یہ شب قدر رمضان کے عشرہ اخیر کی طاق راتوں میں سے ہی کوئی ایک رات ہوتی ہے۔ یہاں قدر کی رات اس رات کو بابرکت رات قرار دیا گیا ہے۔ اس کے بابرکت ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے کہ ایک تو اس میں قرآن کا نزول ہوا دوسرے، اس میں فرشتوں اور روح الامین کا نزول ہوتا ہے تیسرے اس میں سارے سال میں ہونے والے واقعات کا فیصلہ کیا جاتا ہے (جیسا کہ آگے آرہا ہے) چوتھے اس رات کی عبادت ہزار مہینے (83 سال 4 ماہ) کی عبادت سے بہتر ہے شب قدر یا لیلہ مبارکہ میں قرآن کے نزول کا مطلب یہ ہے کہ اسی رات سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرآن مجید کا نزول شروع ہوا۔ یعنی پہلے پہل اس رات آپ پر قرآن نازل ہوا، یا یہ مطلب ہے لوح محفوظ سے اسی رات قرآن بیت العزت میں اتارا گیا جو آ ّسمان دنیا پر ہے۔ پھر وہاں سے ضرورت و مصلحت 33 سالوں تک مختلف اوقات میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اترتا رہا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١] لیلۃ القدر اور شب برات ایک ہی رات ہے :۔ یعنی جس رات قرآن نازل ہوا وہ بڑی خیر و برکت والی رات تھی۔ کیونکہ اس رات کو تمام دنیا کی ہدایت کا اہتمام کیا جارہا تھا۔ اس مقام پر اس رات کو (لَیْلَۃٍ مُّبَارَکَۃٍ ) کہا گیا اور سورة القدر میں (لَیْلَۃُ الْقَدْرِ ) یعنی بڑی قدر و منزلت والی رات یا وہ رات جس میں بڑے اہم امور کے فیصلے کئے جاتے ہیں۔ جیسا کہ اس سے اگلی آیت میں اس کی وضاحت موجود ہے۔ مطلب دونوں کا ایک ہی ہے بالفاظ دیگر ایک ہی رات کو یہاں (لَیْلَۃٍ مُّبَارِکَۃٍ ) کہا گیا ہے اور سورة القدر میں (لَیْلَۃُ الْقَدْرِ ) ۔ اور سورة بقرہ میں یہ صراحت بھی موجود ہے ہے کہ یہ رات ماہ رمضان المبارک کی رات تھی۔ (٢: ١٨٥) اور احادیث صحیحہ میں یہ صراحت بھی موجود ہے کہ یہ رات ماہ رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کوئی رات ہوتی ہے۔ اور اکثر اقوال کے مطابق یہ رمضان کی ستائیسیویں رات ہوتی ہے۔ مگر بعض ناقابل احتجاج روایات کی بنا پر بعض لوگوں نے اس رات کو دو الگ الگ راتیں قرار دے لیا یعنی (لَیْلَۃُ الْقَدْرِ ) کو تو رمضان کے آخری عشرہ میں ہی سمجھا اور (لَیْلَۃٍ مُّبَارِکَۃٍ ) کو ماہ شعبان کی پندرہ تاریخ قرار دے دیا۔ اور اس کا نام شب قدر یا شب برات رکھ لیا۔ حالانکہ شب کا لفظ لیلۃ کا فارسی ترجمہ ہے اور برات کا لفظ قدر کا۔ گویا (لَیْلَۃُ الْقَدْرِ ) کا ہی فارسی زبان میں ترجمہ کرکے ایک دوسری رات بنا کر اس کا تہوار منانے لگے اور اس میں پٹاخے اور آتش بازی چلانے لگے۔ گویا جو کام ہندو اپنے دسہرہ کے موقع پر کرتے تھے۔ وہ مسلمانوں نے شب برات سے متعلق کرکے اپنے تہوار منانے کے شوق کو پورا کرلیا۔ رہی یہ بات کہ کیا سارے کا سارا قرآن اسی رات اترا تھا جیسا کہ بظاہر اس سورت اور سورة القدر سے معلوم ہوتا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ سارے کا سارا قرآن ہی لوح محفوظ سے نقل کرکے فرشتوں اور بالخصوص جبرئیل کے حوالہ کردیا گیا تھا۔ یا یہ سارا قرآن آسمان دنیا پر اتار دیا گیا تھا۔ پھر یہ وہاں سے حسب موقع و ضرورت تئیس سال تک رسول اللہ پر نازل ہوتا رہا۔ البتہ سورة علق کی پہلی پانچ آیات اسی رات رسول اللہ پر غار حرا میں نازل ہوئی تھیں۔ [٢] یعنی قرآن کریم کے نازل کرنے سے ہمارا مقصود یہ تھا کہ اس سے تمام اہل عالم کو ان کے انجام سے خبردار کیا جائے اور ان کی گمراہی اور برے اعمال کی سزا سے انہیں ڈرایا جائے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

لَيْلَةٍ مُّبَارَ‌كَةٍ &blessed night&, in verse 2 according to majority of the Commentators, refers to &laylatul Qadr& or the &Night of Power& which occurs in the last ten nights of the month of Ramadan. During this night Allah sends down countless blessings for his slaves/servants. It has been explicitly mentioned in Surah Al-Qadr, thus: إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ‌ |"We sent it (the Qur&an) down in the Night of Qadr|". (97:1) This clearly indicates that the phrase &laylah mubarakah& (blessed night) occurring in the verse refers to the &Night of Power&. It is narrated in a Tradition of the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that all Prophets (علیہم السلام) since the inception of man till the end, received their respective Books in the month of Ramadan on different dates. Sayyidna Qatadah (رض) reports on the authority of Sayyidna Wathilah (رض) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said that Prophet Ibrahim (علیہ السلام) received his Scriptures on 1st Ramadan, Torah was revealed on 6th Ramadan, Zabur was revealed on 12th Ramadan, Injil was revealed on 18th Ramadan and the Holy Qur&an was revealed on the night of 24th, that is, on 25th Ramadan. (Qurtubi). The statement that the Qur’ an was revealed in the Night of Power’ means that it was revealed in its entirety from the Preserved Tablet to the lowest Firmament in one night of the month of Ramadan. But, it was revealed to the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) gradually over a period of twenty-three years. Some scholars have expressed the opinion that the installment of the Qur&an that was destined to be revealed in a given year used to be sent down on the Night of Power from the Preserved Tablet to the Firmament of the Earth. (Qurtubi). Some other scholars of Tafsir, like ` Ikrimah (رض) ، interpret the phrase &laylah mubarakah& (blessed night) as referring to &laylat-ul-bara&ah& (the Night of Immunity), that is, the 15th night of Sha` ban. But to say that the Qur&an was revealed during this night goes against the clear texts of the Qur&an: In شَهْرُ‌ رَ‌مَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْ‌آنُ ! and in إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ‌ we come across |"The month of Ramadan is the one in which the Qur&an was revealed...(2:185) |" and |"We have sent it (the Qur&an) in the Night of Qadr - (97:1) |". In the presence of such clear texts, it cannot be accepted, without any strong evidence, that the Qur&an was revealed in the Night of Immunity. There are, however, certain Traditions that speak highly of this night - that it is a night of blessings and that it is a night during which Allah showers His mercy. Some versions of the Tradition use exactly the same words as the Qur&an uses in the verse to describe &laylah mubarakah& فِيهَا يُفْرَ‌قُ كُلُّ أَمْرٍ‌ حَكِيمٍ أَمْرً‌ا مِّنْ عِندِنَا . |"In that (night), every wise thing is decided (4) through a command from Us...(5) |". In interpreting this verse Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) says that it refers to the Night of Power, in which the Qur&an was revealed. In it all matters are decreed to happen from the present Night of Power to the next, relating to all creation, their births, their deaths, their provisions and other details. Other leading authorities on Tafsir, like Sayyidna Hasan, Qatadah, Mujahid and others (رض) concur with Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) . Mahdawi says that all matters decreed by Allah are, on this night, transferred to the angelic scribes who record the decrees of the coming year. Other texts of Qur&an and Sunnah bear testimony to the fact that Allah had decreed all matters in pre-eternity (azal) even before the creation of man. Therefore, the statement that man&s destiny is decreed in this night simply means that the decrees for the whole year are handed over, in this night, to the relevant angels for implementation. (Qurtubi). Because some versions of the Tradition state that births, deaths and sustenance are decreed in the night of immunity or 15th night of Sha&ban, some of the scholars have interpreted the phrase &laylah mubarakah& in the current verse as referring to &laylat-ul-bara&ah& or &the Night of Immunity&. But this is not correct, because here the revelation of the Qur&an is mentioned first; and its revelation in the month of Ramadan is confirmed by the clear texts of the Qur&an. Some versions state that sustenance and other things are decreed in the Night of Immunity. Ibn Kathir, first of all, says this Tradition is mursal and such Tradition cannot be reliable in the presence of clear/express texts. Qadi Abu Bakr Ibn ` Arabi asserts that no authentic Tradition relating to mid-Sha&ban is available which may show that sustenance, births and deaths are determined and decreed in that night. He further rejects the idea that there is any reliable Tradition on the merit of this night. Ruh-ul-Ma` ani, however, cites a Tradition, without a chain of transmitters, narrated by Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) in which he says that sustenance, life and death are determined in the mid-Sha&ban night, and in the Night of Power the decrees are handed over to the angels. If this Tradition is confirmed, then the two interpretations can be reconciled and synchronized. Otherwise, the express words of Qur&an and authentic Traditions relating to &laylah mubarakah& and &fiha yufraqu...& in the verse of Surah Dukhan فِيهَا يُفْرَ‌قُ clearly show that they refer to the &Night of Power&. As far as the merit of the night of mid-Sha&ban is concerned, it is a separate issue. Some Traditions do speak about it but they are weak. Therefore, Qadi Abu Bakr Ibn ` Arabi denied any merit of this night. Chains of Transmission of Traditions concerning mid-Sha&ban are all weak but, it may be suggested that, if the various ways of transmission are put together, they gain strength. Therefore, many great scholars have accepted the Traditions about mid-Sha&ban because there is room to act upon weak Traditions relating to meritorious actions. Allah knows best!

(آیت) لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ سے مراد جمہور مفسرین کے نزدیک شب قدر ہے جو رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ہوتی ہے۔ اس رات کو مبارک فرمانا اس لئے ہے کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر بیشمار خیرات و برکات نازل ہوتی ہیں اور قرآن کریم کا شب قدر میں نازل ہونا قرآن کی سورة قدر میں تصریح کے ساتھ آیا ہے۔ (آیت) انا انزلنہ فی لیلة القدر، اس سے ظاہر ہوا کہ یہاں بھی لیلة مبارکہ سے مراد شب قدر ہی ہے۔ اور ایک حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ بھی منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی کتابیں ابتداء دنیا سے آخر تک اپنے انبیاء (علیہم السلام) پر نازل فرمائی ہیں وہ سب کی سب ماہ رمضان المبارک ہی کی مختلف تاریخوں میں نازل ہوئی ہیں۔ حضرت قتادہ نے بروایت واثلہ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ صحف ابراہیم (علیہ السلام) رمضان کی پہلی تاریخ میں اور تورات رمضان کی چھٹی تاریخ میں، زبور بارہویں میں، انجیل اٹھارویں میں اور قرآن چوبیس تاریخ گزرنے کے بعد یعنی پچیسویں شب میں نازل ہوا۔ (قرطبی) قرآن کے شب قدر میں نازل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ لوح محفوظ سے پورا قرآن سماء دنیا پر اسی رات میں نازل کردیا گیا تھا۔ پھر تئیس سال کی مدت میں تھوڑا تھوڑا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوتا رہا۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ ہر سال میں جتنا قرآن نازل ہونا مقدر ہوتا تھا اتنا ہی شب قدر میں لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل کردیا جاتا تھا۔ (قرطبی) اور بعض مفسرین عکرمہ وغیرہ سے منقول ہے کہ انہوں نے اس آیت میں لیلہ مبارکہ سے مراد شب برات یعنی نصف شعبان کی رات قرار دی ہے مگر اس رات میں نزول قرآن دوسری تمام نصوص قرآن اور روایات حدیث کے خلاف ہے (آیت) شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن اور انا انزلنا فی لیلة القدر جیسی کھلی نصوص کے ہوتے ہوئے بغیر کسی قوی دلیل کے نہیں کہا جاسکتا کہ نزول قرآن شب برات میں ہوا۔ البتہ شعبان کی پندرھویں شب کو بعض روایات حدیث میں شب برات یا لیلة الصک کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس رات کا مبارک ہونا اور اس میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نزول کا ذکر ہے۔ اس کے ساتھ بعض روایات میں یہ مضمون بھی آیا ہے جو اس جگہ لیلہ مبارکہ کی صفت میں بیان فرمایا ہے یعنی (آیت) فِيْهَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيْمٍ ۔ امراً من عندنا یعنی اس رات میں ہر حکمت والے معاملہ کا فیصلہ ہماری طرف سے کیا جاتا ہے جس کے معنی حضرت ابن عباس یہ بیان فرماتے ہیں کہ یہ رات جس میں نزول قرآن ہوا، یعنی شب قدر، اسی میں مخلوقات کے متعلق تمام اہم امور جن کے فیصلے اس سال میں اگلی شب قدر تک واقع ہونے والے ہیں طے کئے جاتے ہیں کہ کون کون اس سال میں پیدا ہوں گے، کون کون آدمی اس میں مریں گے، کس کو کس قدر رزق اس سال میں دیا جائے گا۔ یہی تفسیر دوسرے ائمہ تفسیر حضرت قتادہ، مجاہد، حسن وغیرہم سے بھی منقول ہے اور مہدوی نے فرمایا کہ معنی اس کے یہ ہیں کہ یہ تمام فیصلے جو تقدیر الٰہی میں پہلے ہی سے طے شدہ تھے اس رات میں متعلقہ فرشتوں کے سپرد کردیئے جاتے ہیں، کیونکہ قرآن و سنت کی دوسری نصوص اس پر شاہد ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلے انسان کی پیدائش سے بھی پہلے ازل ہی میں لکھ دیئے تھے۔ تو اس رات میں ان کے طے کرنے کا حاصل یہی ہوسکتا ہے کہ قضا و قدر کی تنفیذ جن فرشتوں کے ذریعہ ہوتی ہے اس رات میں یہ سالانہ احکام ان کے سپرد کردیئے جاتے ہیں۔ (قرطبی) چونکہ بعض روایات حدیث میں شب برات یعنی شعبان کی پندرہویں شب کے متعلق بھی آیا ہے کہ اس میں آجال و ارزاق کے فیصلے لکھے جاتے ہیں۔ اس لئے بعض حضرات نے آیت مذکورہ میں لیلہ مبارکہ کی تفسیر لیلة البرات سے کردی ہے مگر یہ صحیح نہیں کیونکہ یہاں اس رات میں نزول قرآن کا ذکر سب سے پہلے ہے اور اس کا رمضان میں ہونا قرآن کی نصوص سے متعین ہے۔ اور شب برات کے متعلق جو یہ مضمون بعض روایات میں آیا ہے کہ اس میں ارزاق وغیرہ کے فیصلے ہوتے ہیں اول تو ابن کثیر نے اس کے متعلق فرمایا کہ یہ روایت مرسل ہے اور ایسی روایت نصوص صریحہ کے مقابلہ میں قابل اعتماد نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح قاضی ابوبکر بن عربی نے فرمایا کہ نصف شعبان کی رات کے بارے میں کوئی قابل اعتماد روایت ایسی نہیں جس سے ثابت ہو کہ رزق اور موت وحیات کے فیصلے اس رات میں ہوتے ہیں بلکہ انہوں نے فرمایا کہ اس رات کی فضیلت میں بھی کوئی قابل اعتماد حدیث نہیں آئی لیکن روح المانی وغیرہ کے فیصلے نصف شعبان کی رات میں لکھے جاتے ہیں اور شب قدر میں فرشتوں کے حوالے کئے جاتے ہیں اگر یہ روایت ثابت ہو تو اس طرح دونوں قول میں تطبیق ہو سکتی ہے ورنہ اصل بات جو ظاہر قرآن اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے وہ یہی ہے کہ سورة دخان کی آیت میں لیلہ مبارکہ اور فیہا یفرق وغیرہ کے سب الفاظ شب قدر ہی کے متعلق ہیں۔ رہا شب برات کی فضیلت کا معاملہ، سو وہ ایک مستقل معاملہ ہے جو بعض روایات حدیث میں منقول ہے مگر وہ اکثر ضعیف ہیں اس لئے قاضی ابوبکر بن عربی نے اس رات کی کسی فضیلت سے انکار کیا ہے لیکن شب برات کی فضیلت کی روایات اگرچہ با عتبار سند کے ضعف سے کوئی خالی نہیں لیکن تعد دطرق اور تعدد روایات سے ان کو ایک طرح کی قوت حاصل ہوجاتی ہے۔ اس لئے بہت سے مشائخ نے ان کو قبول کیا ہے کیونکہ فضائل اعمال میں ضعیف روایات پر عمل کرلینے کی بھی گنجائش ہے۔ واللہ اعلم

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِيْ لَيْلَۃٍ مُّبٰرَكَۃٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِيْنَ۝ ٣ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/ 1] ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل ( کرنا شروع ) وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] اور رات اور دن کو تمہاری خاطر کام میں لگا دیا ۔ برك أصل البَرْك صدر البعیر وإن استعمل في غيره، ويقال له : بركة، وبَرَكَ البعیر : ألقی بركه، واعتبر منه معنی اللزوم، فقیل : ابْتَرَكُوا في الحرب، أي : ثبتوا ولازموا موضع الحرب، وبَرَاكَاء الحرب وبَرُوكَاؤُها للمکان الذي يلزمه الأبطال، وابْتَرَكَتِ الدابة : وقفت وقوفا کالبروک، وسمّي محبس الماء بِرْكَة، والبَرَكَةُ : ثبوت الخیر الإلهي في الشیء . قال تعالی: لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 96] ( ب رک ) البرک اصل میں البرک کے معنی اونٹ کے سینہ کے ہیں ( جس پر وہ جم کر بیٹھ جاتا ہے ) گو یہ دوسروں کے متعلق بھی استعمال ہوتا ہے اور اس کے سینہ کو برکۃ کہا جاتا ہے ۔ برک البعیر کے معنی ہیں اونٹ اپنے گھٹنے رکھ کر بیٹھ گیا پھر اس سے معنی لزوم کا اعتبار کر کے ابترکوا ا فی الحرب کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی میدان جنگ میں ثابت قدم رہنے اور جم کر لڑنے کے ہیں براکاء الحرب الحرب وبروکاءھا سخت کا ر زار جہاں بہ اور ہی ثابت قدم رہ سکتے ہوں ۔ ابترکت الدبۃ چو پائے کا جم کر کھڑا ہوجانا برکۃ حوض پانی جمع کرنے کی جگہ ۔ البرکۃ کے معنی کسی شے میں خیر الہٰی ثابت ہونا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 96] تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکات ( کے دروازے ) کھول دیتے ۔ یہاں برکات سے مراد بارش کا پانی ہے اور چونکہ بارش کے پانی میں اس طرح خیر ثابت ہوتی ہے جس طرح کہ حوض میں پانی ٹہر جاتا ہے اس لئے بارش کو برکات سے تعبیر کیا ہے ۔ النذیر والنَّذِيرُ : المنذر، ويقع علی كلّ شيء فيه إنذار، إنسانا کان أو غيره . إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ نوح/ 2] ( ن ذ ر ) النذیر النذیر کے معنی منذر یعنی ڈرانے والا ہیں ۔ اور اس کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جس میں خوف پایا جائے خواہ وہ انسان ہو یا کوئی اور چیز چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ [ الأحقاف/ 9] اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣ { اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَـیْلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ } ” یقینا ہم نے اس کو نازل کیا ہے ایک مبارک رات میں “ یہ مضمون سورة القدر میں واضح تر انداز میں آیا ہے : { اِنَّآاَنْزَلْنٰـہُ فِیْ لَـیْلَۃِ الْقَدْرِ ۔ کہ ہم نے اسے ” لیلۃ القدر “ میں نازل فرمایا۔ چونکہ قرآن مجید میں عام طور پر اہم مضامین کم از کم دو مرتبہ آئے ہیں اس لیے اس خاص رات کا ذکر بھی دو مرتبہ آیا ہے۔ وہاں ” لیلۃ القدر “ کے نام سے اور یہاں ” لیلۃ مبارکۃ “ کے نام سے۔ { اِنَّا کُنَّا مُنْذِرِیْنَ } ” یقینا ہم خبردار کردینے والے ہیں۔ “ رسالت اور انزالِ کتب کا اصل مقصد لوگوں کا انذار (خبردار کرنا ‘ آگاہ کرنا) ہے۔ جیسے سورة المدثر میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا گیا : { یٰٓـــاَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ ۔ قُمْ فَاَنْذِرْ ۔ ” اے چادر اوڑھنے والے ‘ اٹھئے اور (لوگوں کو) خبردار کیجیے “۔ دنیا کی زندگی اصل زندگی نہیں ہے۔ یہ تو اصل ” کتاب زندگی “ کے دیباچے کی مانند ہے۔ اصل زندگی تو موت کے بعد شروع ہونے والی ہے۔ چناچہ اسی حوالے سے لوگوں کو خبردار (warn) کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء ورسل (علیہ السلام) اور الہامی کتب کے ذریعے ہدایت کے ایک سلسلے کا اہتمام فرمایا تاکہ ان میں اصل اور ہمیشہ کی زندگی کو بہتر بنانے کا شعور پیداہو اور وہ اس کے لیے تیاری کرسکیں : { وَمَا ہٰذِہِ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلَّا لَہْوٌ وَّلَعِبٌط وَاِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ لَہِیَ الْحَیَوَانُ ٧ لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ ۔ ( العنکبوت) ” یہ دنیا کی زندگی تو کھیل اور تماشے کے سوا کچھ نہیں ‘ جبکہ آخرت کا گھر ہی اصل زندگی ہے۔ کاش کہ انہیں معلوم ہوتا ! “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

1 The meaning of taking an oath by "the lucid Book" has been explained in E.N. 1 of Surah Zukhruf. Here also what has been sworn by is that Muhammad (upon whom be Allah's peace) is not the author of this Book but "We", and this Book by itself is enough to provide a proof of this. Furthermore, it has been said chat the night in which it was sent down was full of blessings. That is, the foolish and ignorant people, who have no idea of their own well-being or otherwise, regard the revelation of this Book as a disaster for themselves and are deeply anxious as how to get rid of it. But, as a matter of fact, the Hour when "We" decided to send down this Book to arouse the heedless, was highly blessed for them and _for aII mankind Some commentators have expressed the opinion that the meaning of sending down the Qur'an in that night is that its revelation began during that night, and some others think that the whole of the Qur'an was transferred from Umm alKitab and entrusted to the bearers of Revelation (angels), and then revealed to the Holy Prophet as and when required and demanded by the occasion and circumstances during 23 years. As to what actully happened Allah alone has the best knowledge. The night implies the same night which has been called lailat-ul-qadr in Surah Al-Qadr (97), There it has been said: `We sent it down in a Night of Glory," and here: `We sent it down in a blessed Night." Then the Qur'an itself has told that it was a night of the month of Ramadan (Al-Baqarah).

سورة الدُّخَان حاشیہ نمبر :1 کتاب مبین کی قسم کھانے کا مطلب سورہ زخرف حاشیہ نمبر 1 میں بیان کیا جا چکا ہے ۔ یہاں بھی قسم جس بات پر کھائی ہے وہ یہ ہے کہ اس کتاب کے مصنف محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہیں بلکہ ہم ہیں ، اور اس کا ثبوت کہیں اور ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ، خود یہ کتاب ہی اس کے ثبوت کے لیے کافی ہے ۔ اس کے بعد مزید بات یہ فرمائی گئی کہ وہ بڑی خیر و برکت والی رات تھی جس میں اسے نازل کیا گیا ۔ یعنی نادان لوگ ، جنہیں اپنی بھلائی برائی کا شعور نہیں ہے ، اس کتاب کی آمد کو اپنے لیے بلائے ناگہانی سمجھ رہے ہیں اور اس سے پیچھا چھڑانے کی فکر میں غلطاں و پیچاں ہیں ۔ لیکن در حقیقت ان کے لیے اور تمام نوع انسانی کے لیے وہ ساعت بڑی سعید تھی جب ہم نے غفلت میں پڑے ہوئے لوگوں کو چونکانے کے لیے یہ کتاب نازل کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اس رات میں قرآن نازل کرنے کا مطلب بعض مفسرین نے یہ لیا ہے کہ نزول قرآن کا سلسلہ اس رات شروع ہوا ۔ اور بعض مفسرین اس کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ اس میں پورا قرآن ام الکتاب سے منتقل کر کے حامل وحی فرشتوں کے حوالہ کر دیا گیا اور پھر وہ حالات و وقائع کے مطابق حسب ضرورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر 23 سال تک نازل کیا جاتا رہا ۔ صحیح صورت معاملہ کیا ہے ، اسے اللہ ہی بہتر جانتا ہے ۔ اس رات سے مراد وہی رات ہے جسے سورہ قدر میں لیلۃ القدر کہا گیا ہے ۔ وہاں فرمایا گیا کہ : اِنَّا اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیلَۃِ الْقَدْرِ ، اور یہاں فرمایا کہ : اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃٍ مُّبَارَکَۃٍ ۔ پھر یہ بات بھی قرآن مجید ہی میں بتادی گئی ہے کہ وہ ماہ رمضان کی ایک رات تھی : شَھْرُ رَمَضَا نَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُراٰن ( البقرہ ، 185 ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

1: اس سے مراد شب قدر ہے، کیونکہ اسی رات میں قرآن کریم لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا، اور پھر وہاں سے تھوڑا تھوڑا کر کے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوتا رہا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(44:3) انا انزلنہ فی لیلۃ مبارکۃ۔ یہ جواب قسم ہے یا یہ المقسم بہ کی صفت ہے اور جو اب قسم انا کنا منذرین ہے۔ انا : ان اور ضمیر جمع متکلم نا سے مرکب ہے۔ ان (تحقیق، بیشک، یقینا) حروف مشبہ بالفعل میں سے ہے۔ خبر کی تحقیق و تاکید مزید کے لئے آتا ہے۔ انا انزلنہ بیشک اس (کتاب) کو ہم نے ہی نازل کیا ہے نہ یہ انسانوں اور جنوں میں سے کسی فرد واحد کی تصنیف ہے اور نہ دانشوروں کے کسی بورڈ نے باہمی مشوروں سے اس کا مسودہ تیار کیا ہے۔ فی لیلۃ مبارکۃ یہ اس کی دوسری صفت ہے اول یہ کہ یہ کتاب یعنی قرآن حکیم ہماری طرف سے نازل شدہ ہے کسی اور کا اس میں نہ عمل و دخل ہے۔ دوم یہ کہ یہ قرآن مجید ایک برکت والی رات میں نازل کیا گیا ہے۔ یہ برکت والی رات کونسی ہے ۔ جمہور مفسرین کا قول یہ ہے کہ اس سے لیلۃ القدر مراد ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ انا انزلنہ فی لیلۃ القدر (97:1) تحقیق ہم نے اس کو (یعنی قرآن مجید کو) شب قدر میں نازل کیا اس رات کی برکتیں کچھ تو آگے اس سورة میں بیان کی گئی ہیں مثلا سورة القدر ساری کی ساری اس کی برکات پر مشتمل ہے اور کئی دیگر برکات اور جگہ قرآن مجید میں مذکور ہیں۔ انا کنا منذرین۔ جملہ مستانفہ ہے (نیا مضمون شروع ہوتا ہے) اس میں یہ حکمت بیان کی گئی ہے کہ ہم نے قرآن مجید کو کیوں نازل فرمایا۔ فرمایا ہماری شان یہ ہے کہ ہم ہر وقت خبردار کردیا کرتے ہیں (ترجمہ ضیاء القرآن) یعنی ہماری شان یہ ہے کہ ہم آنے والے مصائب و آلام سے ہر وقت آگاہ کردیا کرتے ہیں تاکہ جو ان سے بچنا چاہے وہ اپنا بچاؤ کرلے۔ وانذلنہ لان من شاننا الانذار والتحذیر من العقاب (الکشاف المدارک) ۔ منذرین جمع مذکر اسم فاعل حالت نصب بوجہ خبر کنا۔ انذار افعال۔ مصدر ڈرانے والے۔ خبردار کرنے والے۔ متنبہ کرنے والے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے انا انذرنکم عذابا قریبا (78:40) ہم نے تم کو عذاب سے جو عنقریب آنے والا ہے خبردار کردیا ہے۔ (اللہ تعالیٰ کا یہ انداز اس کی غائب شفقت و کرم سے ہمیشہ بندوں کی ہی مصلحت کے لئے ان کو عواقب امور سے مطلع اور متنبہ کرنے کے لئے ہوتا ہے) ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 برکت والی رات سے مراد لیلۃ القدر ہے جیسا کہ سورة قدر میں ہے اور سورة بقرہ میں ہے ( اشھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن) رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا۔ ( آیت 85) اس رات کو قرآن کے اترنے کا مطلب تو یہ ہے کہ اس میں اترنے کا سلسلہ شرع ہوا یا اس میں سارے کا سارا قرآن لوح محفوظ سے اتار کر پہلے آسمان میں بیت العزۃ میں رکھ دیا گیا اور پھر 23 برس تک تدریجا ً اترتا رہا۔ ( کذا فی ابن کثیر) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ یعنی ہم کو منظور ہوا کہ ان مضرتوں سے بچا لینے کے لئے خیر و شر کی اطلاع کردیں، یہ علت ہو تو تنزیل قرآن کی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قرآن مجید مبارک رات میں نازل کیا گیا، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے، اگلے پچھلے تمام لوگوں کا رب ہے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے قرآن حکیم کی قسم کھا کر فرمایا کہ ہم نے اس قرآن کو مبارک رات میں نازل کیا مبارک رات سے کون سی رات مراد ہے اس بارے میں محققین نے فرمایا ہے کہ اس سے شب قدر مراد ہے کیونکہ سورة بقرہ میں فرمایا ہے ﴿ شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ﴾ اور سورة قدر میں فرمایا ﴿اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِۚۖ٠٠١﴾ اور حضرت عکرمہ (رح) نے فرمایا جو حضرت ابن عباس (رض) کے شاگرد ہیں کہ اس سے شعبان کی پندرھویں شب مراد ہے جسے لیلۃ البرأۃ کہا جاتا ہے چونکہ بعض روایت حدیث میں شب برات کے بارے میں یہ آیا ہے کہ اس میں آئندہ سال کے ارزاق و آجال لکھ دئیے جاتے ہیں حدیث مرفوع صحیح نہیں ہے اس لیے بعض حضرات نے لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ کا مصداق شب برات یعنی شعبان کی پندرہ تاریخ کو بتادیا ہے لیکن کسی حدیث میں یہ وارد نہیں ہوا کہ قرآن مجید شب برات میں نازل کیا گیا اور شب برات میں ارزاق و آجال لکھے جانے کے بارے میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے۔ یہ جو سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن تو ٢٣ سال میں نجمًا یعنی تھوڑا تھوڑا کرکے نازل ہوا پھر رمضان میں اور شب قدر میں نازل ہونے کا کیا معنی ؟ اس کا ایک جواب تو بعض علماء نے یہ دیا ہے کہ قرآن مجید نازل ہونے کی ابتداء شب قدر میں ہوئی اور اکثر حضرات نے یہ فرمایا ہے کہ پورا قرآن مجید شب قدر میں لوح محفوظ سے سماء دنیا یعنی قریب والے آسمان میں نازل کیا گیا اس کے بعد ٢٣ سال میں وقتاً فوقتاً حسب احوال نازل ہوتا رہا کیونکہ شب قدر خیرات اور برکات والی رات ہوتی اس لیے اسے لیلۃ مبارکۃ سے تعبیر فرمایا ﴿ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِيْنَ ٠٠٣﴾ بلاشبہ ہم ڈرانے والے ہیں یعنی رسول اور قرآن کے ذریعے اپنے بندوں کو اعمال صالحہ کی جزا اور برے اعمال کی سزا سے آگاہ کرنے والے ہیں تاکہ خیر کو اختیار کریں اور شر سے بچیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

3:۔ ” لیلۃ مبارکۃ “ جمہور کے نزدیک لیلہ مبارکہ (برکت والی رات) سے لیلۃ القدر (شب قدر) مراد ہے جو رمضان میں آتی ہے بقرینہ انا انزلناہ فی لیلۃ القدر (القدر) و شہر رمضان الذی انزل فیہ القران (اکبقرہ ع 23) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ لیلۃ البراءت یعنی شعبان کی پندرہویں رات مراد نہیں۔ قال ابوبکر بن العربی وجمعہور العلماء علی انھا لیلۃ القدر و منہم من قال انہا لیلۃ النصف من شعبان وھو باطل لان اللہ تعالیٰ قال فی کتابہ الصادق القاطع شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن (قرطبی ج 16 ص 127) ۔ ھی لیلۃ القدر علی ما روی عن ابن عباس وقتادۃ وابن جبیر و مجاھد وابن زید والحسن وعلیہ اکثر المفسرین والظواھر معہم (روح ج 25 ص 110) ۔ شب براءت کے بارے میں فضائل کی جو حدیثیں وارد ہیں ان میں سے بہت کم پایہ ثبوت کو پہنچتی ہیں اور باقی سب بےاصل ہیں بعض علماء نے تو سب ہی کو غیر ثابت قرار دیا ہے۔ ولیس فی لیلۃ النصف من شعبان حدیث یعول علیہ لا فی فضلہا ولا فی نسخ الاجال فیہا فلا تلتفتوا الیھا (قرطبی ج 16 ص 128) ۔ ” انا کنا منذرین “ اس کتاب کے انزال سے مقصود انذار ہے یعنی لوگوں کو پیغام توحید سنانا اور نہ ماننے والوں کو عذاب الٰہی سے خبردار کرنا۔ لیلۃ القدر امت محمدیہ کی خصوصیت ہے (موطا مالک، بحر، ابن کثیر) ۔ اور جمہور کے نزدیک یہ رات ہمیشہ رمضان ہی میں ہوتی ہے، پہلے یہ رات متعین تھی لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ نے اس کی تعیین اٹھا لی یعنی اب وہ رات ہمیشہ رمضان کی ایک متعین تاریخ کو نہیں ہوا کرے گی بلکہ رمضان کے عشرہ اخیر میں دائر رہے گی۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ لیلۃ القدر کو رمضان کی 21، 23، 25، 27 اور 29 میں تلاش کرو (ابن کثیر 4 ص 533) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(3) ہم نے اس کتاب کو ایک بڑی برکت والی رات میں نازل فرمایا کیونکہ ہم لوگوں کو کہہ سنانے والے اور آگاہ کرنے والے تھے۔ یعنی ہم نے اس کتاب کو لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر اتارا اور وہاں سے وقتاً فوقتاً تھوڑا تھوڑا حسب ضرورت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوتا رہا۔ برکت والی رات سے مراد لیلۃ القدر ہے اور لیلۃ القدر کو برکت والی رات فرمایا چونکہ اس رات کو دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر خاص توجہ فرماتا ہے فرشتوں کا نزول ہے آخر میں نزول قرآن کی علت فرمائی کہ ہماری شفقت و مہربانی کا تقاضا یہ تھا کہ ہم اپنے بندوں کو خیر اور شر سے آگاہ کردیں تاکہ وہ نقصان کی چیزوں سے بچیں اور نفع کی چیزوں پر عمل کریں۔ بعض حضرات نے برکت والی رات سے لیلۃ البرات مراد لی ہے یعنی شعبان کی پندرھویں شب کیونکہ اس رات میں سال بھر کے ہونے والے تمام امور طے کیے جاتے ہیں لیکن جمہور کا قول وہی ہے جو ہم نے اختیار کیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہمیشہ دستور رہا ہے رات برکت کی شب قدر ہے جیسے انا انزلنا میں فرمایا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ واقعات تو شب قدر میں لکھے جاتے ہیں لیکن شب برات میں دیئے جاتے ہیں اس طرح شاید دونوں قول جمع ہوسکتے ہیں کما قال ابن عباس (رض) بلا سند۔