Surat ud Dukhaan

Surah: 44

Verse: 51

سورة الدخان

اِنَّ الۡمُتَّقِیۡنَ فِیۡ مَقَامٍ اَمِیۡنٍ ﴿ۙ۵۱﴾

Indeed, the righteous will be in a secure place;

بیشک ( اللہ سے ) ڈرنے والے امن چین کی جگہ میں ہونگے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The State of Those Who have Taqwa and the Delights They will enjoy in Paradise When Allah describes the state of the doomed, He follows that with a description of the life of the blessed. For this reason the Qur'an is called Al-Mathani (i.e., oft-repeated). إِنَّ الْمُتَّقِينَ ... Verily, those who have Taqwa, i.e., those who fear Allah and are dutiful towards Him in this world, ... فِي مَقَامٍ أَمِينٍ will be in place of security. means, in the Hereafter, i.e., in Paradise, where they will be safe from death and the fear of leaving it, and from every kind of worry, grief, terror and exhaustion, and from the Shaytan and his wiles, and from all other troubles and disasters. فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ

جب موت کو ذبح کرایا جائے گا بدبختوں کا ذکر کر کے اب نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے ۔ اسی لئے قرآن کریم کو مثانی کہا گیا ہے اس دنیا میں جو اللہ تعالیٰ مالک و خالق و قادر سے ڈرتے دبتے رہے وہ قیامت کے دن جنت میں نہایت امن و امان سے ہوں گے ۔ موت سے وہاں سے نکلنے کے ، غم و رنج ، گھبراہٹ ، مشکلوں ، دکھ درد ، تکلیف ، مشقت ، شیطان اور اس کے مکر سے رب کی ناراضگی سے غرض تمام آفتوں اور مصیبتوں سے نڈر بےفکر مطمئن اور بے اندیشہ ہوں گے ۔ جہنمیوں کو تو زقوم کا درخت اور آگ جیسا گرم پانی ملے گا اور انہیں جنتیں اور نہریں ملیں گی مختلف قسم کے ریشمی پارچہ جات انہیں پہننے کو ملیں گے جن میں نرم باریک بھی ہو گا اور دبیز چمکیلا بھی ہو گا ۔ یہ تختوں پر بڑے طمطراق سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے اور کسی کی کسی کی طرف پیٹھ نہ ہوگی بلکہ سب ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے اس عطا کے ساتھ ہی انہیں حوریں دی جائیں گی جو گورے چٹے پنڈے کی بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی ہوں گی جن کے پاک جسم کو ان سے پہلے کسی نے چھوا بھی نہ ہو گا ۔ وہ یاقوت و مرجان کی طرح ہوں گی ۔ اور کیوں نہ ہو جب انہوں نے اللہ کا ڈر دل میں رکھا اور دنیا کی خواہشوں کی چیزوں سے محض فرمان اللہ کو مدنظر رکھ کر بچے رہے تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ یہ بہترین سلوک کیوں نہ کرتا ؟ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر ان حوروں میں سے کوئی کھاری سمندر میں تھوک دے تو اس کا سارا پانی میٹھا ہو جائے پھر وہاں یہ جس میوے کی طلب کریں گے موجود ہو گا جو مانگیں گے ملے گا ادھر ارادہ کیا ادھر موجود ہوا ، خواہش ہوئی اور حاضر ہوا پھر نہایت بےفکری سے کمی کا خوف نہیں ہو گا ختم ہو جانے کا کھٹکا نہیں ہو گا پھر فرمایا وہاں انہیں کبھی موت نہیں آئے گی ۔ پھر استثناء منقطع لا کر اس کی تاکید کر دی ۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ موت کو بھیڑیے کی صورت میں لا کر جنت دوزخ کے درمیان ذبح کر دیا جائے گا اور ندا کر دی جائے گی کہ جنتیو اب ہمیشگی ہے کبھی موت نہیں ۔ اور اے جہنمیو تمہارے لئے بھی ہمیشہ رہنا ہے کبھی موت نہ آئے گی ۔ سورہ مریم کی تفسیر میں بھی یہ حدیث گذر چکی ہے ۔ صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ جنتیوں سے کہہ دیا جائے گا کہ تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی مرو گے نہیں اور ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے کبھی کمی نہ ہو گی اور ہمیشہ جوان بنے رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے اور حدیث میں ہے جو اللہ سے ڈرتا رہے گا جنت میں جائے گا جہاں نعمتیں پائے گا کبھی محتاج نہ ہو گا جئے گا کبھی مرے گا نہیں جہاں کپڑے میلے نہ ہوں گے اور جوانی فنا نہ ہو گی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ کیا جنتی سوئیں گے بھی ؟ آپ نے فرمایا نیند موت کی بہن ہے جنتی سوئیں گے نہیں ہر وقت راحت و لذت میں مشغول رہیں گے ۔ یہ حدیث اور سندوں سے بھی مروی ہے اور اس سے پہلے سندوں کا خلاف گذر چکا ہے واللہ اعلم ۔ اس راحت و نعمت کے ساتھ یہ بھی بڑی نعمت ہے کہ انہیں پروردگار عالم نے عذاب جہنم سے نجات دے دی ہے ۔ تو مطلوب حاصل ہے اور خوف زائل ہے اسی لئے ساتھ ہی فرمایا کہ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا احسان و فضل ہے ۔ صحیح حدیث میں ہے تم ٹھیک ٹھاک رہو قریب قریب رہو اور یقین مانو کہ کسی کے اعمال اسے جنت میں نہیں لے جاسکتے لوگوں نے کہا کیا آپ کے اعمال بھی؟ فرمایا ہاں میرے اعمال بھی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اسکی رحمت میرے شامل حال ہو ہم نے اپنے نازل کردہ اس قرآن کریم کو بہت سہل بالکل آسان صاف ظاہر بہت واضح مدلل اور روشن کر کے تجھ پر تیری زبان میں نازل فرمایا ہے جو بہت فصیح و بلیغ بڑی شیریں اور پختہ ہے تاکہ لوگ بہ آسانی سمجھ لیں اور بخوشی عمل کریں ۔ باوجود اس کے بھی جو لوگ اسے جھٹلائیں نہ مانیں تو انہیں ہوشیار کر دے اور کہدے کہ اچھا اب تم بھی انتظار کرو میں بھی منتظر ہوں تم دیکھ لوگے کہ اللہ کی طرف سے تائید ہوتی ہے ؟ کس کا کلمہ بلند ہوتا ہے ؟ کسے دنیا اور آخرت ملتی ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم تسلی رکھو فتح و ظفر تمہیں ہو گی میری عادت ہے کہ اپنے نبیوں اور ان کے ماننے والوں کو اونچا کروں جیسے ارشاد ہے آیت ( كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21؀ ) 58- المجادلة:21 ) ، یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے اور آیت میں ہے ( اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51؀ۙ ) 40-غافر:51 ) ، یعنی یقینا ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیا میں بھی مدد کریں گے اور قیامت میں بھی جس دن گواہ قائم ہوں گے اور ظالموں کو ان کے عذر نفع نہ دیں گے ان پر لعنت ہو گی اور ان کے لئے برا گھر ہو گا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ان المتقین فی مقام امین : کفار کے برے انجام کے ذکر کے بعد متقین کے حسن انجام کا ذکر فرمایا۔ ” مقام امین “ (امن والی جگہ) سے مراد وہ جگہ جہاں نہ موت کا کھٹکا ہے نہ نکالے جانے کی فکر، نہ کوئی غم نہ پریشانی اور نہ محنت نہ مشقت۔ ابو سعید خدری اور ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(ینادی مناد ان لکم ان تصحوا فلاتسفموا ابداً و ان لکم ان تحیوا فلا تموتوا ابداً وان لکم ان تشبوا فلا تھرموا ابداً وان لکم ان تنعموا فلا تباً سوا ابداً ) (مسلم الجنۃ وصفۃ نعیمھا، باب فی دوام نعیم اھل الجنۃ…:2838)” اہل جنت کو) ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہ تمہیں یہ نعمت حاصل ہے کہ تم تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ ہوگے اور تمہیں یہ نعمت حاصل ہے کہ زندہ رہو گے کبھی نہیں مرو گے اور تمہیں یہ نعمت حاصل ہے کہ جو ان رہو گے کبھی بوڑھے نہیں ہوگے اور تمہیں یہ نعمت حاصل ہے کہ خوش حال رہو گے کبھی خستہ حال نہیں ہوگے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Reward of the Inmates of Paradise إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي مَقَامٍ أَمِينٍ (Indeed the God-fearing will be in a place free from fear, - 44:51). The current set of verses describes the eternal blessings of Paradise. Almost all sorts of blessings have been referred to in these verses, because the following are generally the human needs: (1) fine dwelling; (2) fine clothing; (3) the best life-partner; (4) the best food; (5) the satisfaction that these blessings will remain available; and (6) assurance of total security from grief and affliction. In these verses all the six kinds of blessings for the inmates of Paradise have been mentioned. Let us carefully analyze the six verses in this set. The dwelling of the inmates is described as &amin |"free from fear|". The best human dwelling, according to verse (51), is the one that is secure from all kinds of dangers.

(آیت) اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ مَقَامٍ اَمِيْنٍ ، ان آیات کے ذریعہ جنت کی سرمدی نعمتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور نعمت کی تقریباً تمام اصناف کو جمع کردیا گیا ہے۔ کیونکہ انسانی ضرورت کی چیزیں عموماً یہ ہوتی ہیں۔ عمدہ رہائش گاہ، عمدہ لباس، بہتر شریک زندگی، بہتر ماکولات، پھر ان سب نعمتوں کے باقی رہنے کی ضمانت اور رنج و تکلیف سے کلی طور پر مامون رہنے کا یقین یہاں ان چھ کی چھ باتوں کو اہل جنت کے لئے ثابت کردیا گیا ہے جیسا کہ ان چھ آیتوں پر غور کرنے سے صاف ظاہر ہے۔ یہاں اہل جنت کی قیام گاہ کو ” امین “ (پرامن) کہہ کر اس طرف بھی اشارہ فرما دیا گیا ہے کہ انسانی رہائش گاہ کی سب سے قابل تعریف صفت اس کا پر امن یعنی خطرات سے محفوظ ہونا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ مَقَامٍ اَمِيْنٍ۝ ٥١ ۙ تَّقْوَى والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، ثمّ يسمّى الخوف تارة تَقْوًى، والتَّقْوَى خوفاً حسب تسمية مقتضی الشیء بمقتضيه والمقتضي بمقتضاه، وصار التَّقْوَى في تعارف الشّرع حفظ النّفس عمّا يؤثم، وذلک بترک المحظور، ويتمّ ذلک بترک بعض المباحات لما روي : «الحلال بيّن، والحرام بيّن، ومن رتع حول الحمی فحقیق أن يقع فيه» قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] ، إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا [ النحل/ 128] ، وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَراً [ الزمر/ 73] ولجعل التَّقْوَى منازل قال : وَاتَّقُوا يَوْماً تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ [ البقرة/ 281] ، واتَّقُوا رَبَّكُمُ [ النساء/ 1] ، وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّقْهِ [ النور/ 52] ، وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسائَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحامَ [ النساء/ 1] ، اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقاتِهِ [ آل عمران/ 102] . و تخصیص کلّ واحد من هذه الألفاظ له ما بعد هذا الکتاب . ويقال : اتَّقَى فلانٌ بکذا : إذا جعله وِقَايَةً لنفسه، وقوله : أَفَمَنْ يَتَّقِي بِوَجْهِهِ سُوءَ الْعَذابِ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 24] تنبيه علی شدّة ما ينالهم، وأنّ أجدر شيء يَتَّقُونَ به من العذاب يوم القیامة هو وجوههم، فصار ذلک کقوله : وَتَغْشى وُجُوهَهُمُ النَّارُ [إبراهيم/ 50] ، يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلى وُجُوهِهِمْ [ القمر/ 48] . التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز سے بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ جس طرح کہ سبب بول کر مسبب اور مسبب بولکر سبب مراد لیا جاتا ہے اور اصطلاح شریعت میں نفس کو ہر اس چیز سے بچا نیکا نام تقوی ہے جو گناہوں کا موجب ہو ۔ اور یہ بات محظو رات شرعیہ کے ترک کرنے سے حاصل ہوجاتی ہے مگر اس میں درجہ کمال حاصل کرنے کے لئے بعض مباحات کو بھی ترک کرنا پڑتا ہے ۔ چناچہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے ۔ ( 149 ) الحلال بین واحرام بین ومن وقع حول الحمی فحقیق ان یقع فیہ کہ حلال بھی بین ہے اور حرام بھی بین ہے اور جو شخص چراگاہ کے اردگرد چرائے گا تو ہوسکتا ہے کہ وہ اس میں داخل ہوجائے ( یعنی مشتبہ چیزیں اگرچہ درجہ اباحت میں ہوتی ہیں لیکن ورع کا تقاضا یہ ہے کہ انہیں بھی چھوڑ دایا جائے ) قرآن پاک میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا[ النحل/ 128] کچھ شک نہیں کہ جو پرہیز گار ہیں اللہ ان کا مدد گار ہے ۔ وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَراً [ الزمر/ 73] اور جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کو گروہ بناکر بہشت کی طرف لے جائیں گے ۔ پھر تقویٰ کے چونکہ بہت سے مدارج ہیں اس لئے آیات وَاتَّقُوا يَوْماً تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ [ البقرة/ 281] اور اس دن سے ڈرو جب کہ تم خدا کے حضور میں لوٹ کر جاؤ گے ۔ واتَّقُوا رَبَّكُمُ [ النساء/ 1] اپنے پروردگار سے ڈرو ۔ اور اس سے ڈرے گا ۔ اور خدا سے جس کا نام کو تم اپنی حاجت برآری کا ذریعہ بناتے ہو ڈرو ۔ اور قطع مودت ارجام سے ۔ اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقاتِهِ [ آل عمران/ 102] خدا سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے ۔ میں ہر جگہ تقویٰ کا ایک خاص معنی مراد ہے جس کی تفصیل اس کتاب کے اور بعد بیان ہوگی ۔ اتقٰی فلان بکذا کے معنی کسی چیز کے ذریعہ بچاؤ حاصل کرنے کے ہیں ۔ اور آیت : ۔ أَفَمَنْ يَتَّقِي بِوَجْهِهِ سُوءَ الْعَذابِ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 24] بھلا جو شخص قیامت کے دن اپنے منہ سے برے عذاب کو روکتا ہوا ۔ میں اس عذاب شدید پر تنبیہ کی ہے جو قیامت کے دن ان پر نازل ہوگا اور یہ کہ سب سے بڑی چیز جس کے ذریعہ وہ و عذاب سے بچنے کی کوشش کریں گے وہ ان کے چہرے ہی ہوں گے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے دوسری جگہ فرمایا : وَتَغْشى وُجُوهَهُمُ النَّارُ [إبراهيم/ 50] اور ان کے مونہوں کو آگ لپٹ رہی ہوگی ۔ يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلى وُجُوهِهِمْ [ القمر/ 48] اس روز منہ کے بل دوزخ میں گھسٹیے جائیں گے ۔ مَقامُ والمَقامُ يكون مصدرا، واسم مکان القیام، وزمانه . نحو : إِنْ كانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَقامِي وَتَذْكِيرِي [يونس/ 71] ، ذلِكَ لِمَنْ خافَ مَقامِي وَخافَ وَعِيدِ [إبراهيم/ 14] ، وَلِمَنْ خافَ مَقامَ رَبِّهِ [ الرحمن/ 46] ، وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقامِ إِبْراهِيمَ مُصَلًّى [ البقرة/ 125] ، فِيهِ آياتٌ بَيِّناتٌ مَقامُ إِبْراهِيمَ [ آل عمران/ 97] ، وقوله : وَزُرُوعٍ وَمَقامٍ كَرِيمٍ [ الدخان/ 26] ، إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي مَقامٍ أَمِينٍ [ الدخان/ 51] ، خَيْرٌ مَقاماً وَأَحْسَنُ نَدِيًّا [ مریم/ 73] ، وقال : وَما مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقامٌ مَعْلُومٌ [ الصافات/ 164] ، وقال : أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ تَقُومَ مِنْ مَقامِكَ [ النمل/ 39] قال الأخفش : في قوله قَبْلَ أَنْ تَقُومَ مِنْ مَقامِكَ [ النمل/ 39] : إنّ المَقَامَ المقعد، فهذا إن أراد أنّ المقام والمقعد بالذّات شيء واحد، وإنما يختلفان بنسبته إلى الفاعل کالصّعود والحدور فصحیح، وإن أراد أنّ معنی المقام معنی المقعد فذلک بعید، فإنه يسمی المکان الواحد مرّة مقاما إذا اعتبر بقیامه، ومقعدا إذا اعتبر بقعوده، وقیل : المَقَامَةُ : الجماعة، قال الشاعر : 379- وفيهم مَقَامَاتٌ حسان وجوههم «1» وإنما ذلک في الحقیقة اسم للمکان وإن جعل اسما لأصحابه . نحو قول الشاعر : 380- واستبّ بعدک يا كليب المجلس فسمّى المستبّين المجلس . المقام یہ قیام سے کبھی بطور مصدر میمی اور کبھی بطور ظرف مکان اور ظرف زمان کے استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنْ كانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَقامِي وَتَذْكِيرِي [يونس/ 71] اگر تم کو میرا رہنا اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نصیحت کرنا ناگوار ہو ۔ ذلِكَ لِمَنْ خافَ مَقامِي وَخافَ وَعِيدِ [إبراهيم/ 14] اس شخص کے لئے ہے جو قیامت کے روز میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرے ۔ وَلِمَنْ خافَ مَقامَ رَبِّهِ [ الرحمن/ 46] اور جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا ۔ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقامِ إِبْراهِيمَ مُصَلًّى [ البقرة/ 125] کی جگہ بنا لو ۔ فِيهِ آياتٌ بَيِّناتٌ مَقامُ إِبْراهِيمَ [ آل عمران/ 97] اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں جن میں سے ایک ابراھیم (علیہ السلام) کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے ۔ وَزُرُوعٍ وَمَقامٍ كَرِيمٍ [ الدخان/ 26] اور کھیتیاں اور نفیس مکان ۔ إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي مَقامٍ أَمِينٍ [ الدخان/ 51] بیشک پرہیزگار لوگ امن کے مقام میں ہوں گے ۔ خَيْرٌ مَقاماً وَأَحْسَنُ نَدِيًّا [ مریم/ 73] مکان کس کے اچھے اور مجلس کس کی بہتر ہیں ۔ وَما مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقامٌ مَعْلُومٌ [ الصافات/ 164] ہم میں سے ہر ایک کا ایک مقرر مقام ہے اور آیت کریمہ : ۔ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ تَقُومَ مِنْ مَقامِكَ [ النمل/ 39] قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس حاضر کرتا ہوں ۔ کی تفسیر میں اخفش نے کہا ہے کہ یہاں مقام بمعنی مقعد یعنی نشستگاہ کے ہیں اگر اخفش کا مقصد اس سے یہ ہے کہ مقام اور مقصد بالزات ایک ہی چیز کے دو نام ہیں صرف نسبت ( لی ) الفاعل کے لحاظ سے دونوں میں فرق پایا جاتا ( یعنی ایک ہی جگہ کو کسی شخص کے ہاں اور بیٹھنے کے اعتبار سے مقعد کہا جاتا ہے جس طرح کہ صعود اور حدور کے الفاظ ہیں ( کہ ایک ہی جگہ کو اوپر چڑھنے کے لحاظ سے صعود اور اس سے نیچے اترنے کے لحاظ سے حدود کہا جاتا ہے ) تو بجا ہے اور اگر ان کا مقصد یہ ہے کہ لغت میں مقام بمعنی نے المقامتہ کے معنی جماعت بھی کئے ہیں ۔ چناچہ شاعر نے کہا ہے ( الطویل ) ( 322 ) ونیھم مقامات حسان وجوھم اور ان میں خوڈ لوگوں کی جماعتیں ہیں مگر یہ بھی دراصل ظرف مکان ہے اگرچہ ( مجازا ) اصھاب مقام مراد ہیں جس طرح کہ ا ( الکامل ) ؎( 327 ) واستب بعدک یاکلیب المجلس اے کلیب تیرے بعد لوگ ایک دوسرے کو گالیاں دینے لگے ہیں ۔ میں مجلس سے اہل مجلس مراد ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور کفر و شرک اور برائیوں سے بچنے والے لوگ یعنی حضرت ابوبکر صدیق وہ امن کی جگہ میں ہوں گے کہ موت و عذاب اور زوال کا کوئی خدشہ نہیں ہوگا۔ باغوں میں دودھ، شہد، شراب اور پانی کی نہروں میں ہوں گے اور وہ باریک اور دبیز ریشم کا لباس پہنیں گے اور آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥١ { اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ اَمِیْنٍ ۔ } ” (اس کے برعکس) متقین بڑی امن والی جگہ میں ہوں گے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

40 "A secure place" : A place safe from every kind of fear, grief, worry and danger, hardship and trouble. According to a Hadith, the Holy Prophet said: "It will be proclaimed to the dwellers of Paradise: You will remain in good health, will never fall ill; will live for ever: will never die; will ever remain happy and prosperous and will never meet with a misfortune; will ever remain youthful, will never become old. " (Muslim, on the authority of Abu Hurairah and Abu Sa id Khudri).

سورة الدُّخَان حاشیہ نمبر :40 امن کی جگہ سے مراد ایسی جگہ ہے جہاں کسی قسم کا کھٹکا نہ ہو ۔ کوئی پریشانی ، کوئی خطرہ اور اندیشہ ، کوئی مشقت اور تکلیف لاحق نہ ہو ۔ حدیث میں آتا ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اہل جنت سے کہہ دیا جائے گا کہ یہاں تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ ہوگے ، ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی نہ مرو گے ، ہمیشہ خوشحال رہو گے کبھی خستہ حال نہ ہو گے ، ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہوگے ( مسلم بروایت ابوہریرہ و ابو سعید خدری ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٥١۔ ٥٧۔ اس سے پہلے کی آیتوں میں خدا تعالیٰ جب بد لوگوں کا حال بیان فرما چکا تو اب نیک لوگوں کا حال بیان فرمایا کہ بیشک جو لوگ پرہیز گار ہیں اور خدا سے ڈر کر دنیا میں گناہوں سے بچتے اور نیک کام کرتے ہیں وہ آخرت میں امن والی جگہ میں ہوں گے مراد اس سے جنت ہے کہ نہ اس میں موت ہوگی اور نہ کسی طرح کی بیماری ہوگی چین سے بےخوف رہیں گے باغوں کے اندر ریشمی باریک اور کپڑے چمک دارپہنیں گے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے ایک کی دوسرے کی طرف پیٹھ نہ ہوگی باہم ان کے محبت و سرور زیادہ ہوگا ‘ کذلک اس کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح کا اچھا معاملہ کرتے ہیں ہم پرہیز گاروں کے ساتھ ‘ پھر فرمایا بیاہ دیا ہم نے ان کو گورے رنگ کی بڑی آنکھوں والی عورتوں سے اور فصل بےفصل کے جس طرح کے میووں کو ان کا جی چاہے گا وہ ان کو وہاں ملیں گے اور جس طرح دنیا کے میووں سے کبھی بیماری کا خوف ہوتا ہے یہ بات وہاں نہ ہوگی سوا دنیا کے ایک دفعہ کی موت کے پھر کبھی ان کو موت نہ آئے گی اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو دوزخ کے عذاب سے بچائے گا ‘ آخر کو فرمایا یہی بڑی مراد ہے جس کے لئے ان لوگوں نے دنیا میں نیک عمل کئے اور برے کاموں سے بچے تھے ‘ صحیح بخاری ١ ؎ و مسلم میں انس (رض) بن مالک سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جنت کی عورتوں کے دوپٹے کی قیمت تمام دنیا کے مال و متاع سے بڑھ کر ہوگی۔ صحیح ٢ ؎ مسلم میں ابوسعید (رض) خدری اور ابوہریرہ (رض) سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جنت میں جنتی لوگ ہمیشہ زندہ رہیں گے کبھی ان کو موت نہ آئے گی ہمیشہ تندرست رہیں گے کبھی کوئی بیمار نہ ہوگا جوان رہیں گے کبھی بوڑھے نہ ہوں گے۔ صحیح بخاری و مسلم ٣ ؎ کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی روایت سے حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو نعمتیں جنت میں پیدا کی گئی ہیں وہ نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنی نہ کسی کے دل پر اس کا خیال گزر سکتا ہے۔ صحیح بخاری ٤ ؎ و مسلم کے حوالہ سے عبد (رض) اللہ بن عمر کی حدیث بھی ایک جگہ گزر چکی ہے کہ بعض گناہ گار لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے رو برو جب اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا جس طرح دنیا میں تمہارے ان گناہوں کو ظاہر کرکے تم کو رسوا نہیں کیا گیا اسی طرح آج بھی تمہارے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں آیتوں میں جنت کے آرام اور چین کی جگہ ہونے کا دوزخ کے عذاب سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بچنے کا جنت میں داخل ہونے سے بڑی مراد کے ملنے کا جو ذکر ہے یہ حدیثیں گویا اس کی تفسیر ہے۔ (١ ؎ صحیح بخاری باب صفۃ الجنۃ والنار ص ٩٧٢ ج ٣۔ ) (٢ ؎ صحیح مسلم کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا ص ٣٨٠ ج ٢۔ ) (٣ ؎ صحیح مسلم کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا ص ٣٧٨ ج ٢۔ ) (٤ ؎ بخاری شریف باب ستر المومن علیٰ نفسہ ص ٨٩٦ ج ٢ و صحیح مسلم باب قبول توبۃ القاتل الخ ص ٣٦ ج ٢۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(44:51) المتقین : اسم فاعل جمع مذکر۔ اتقاء (افتعال) مصدر۔ پرہیزگار لوگ۔ مقام امین موصوف وصفت۔ امن والی جگہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 امن کی جگہ سے مراد ایسی جگہ ہے جہاں نہ کوئی موت کا کھٹکا ہوگا نہ غم اور پریشانی اور نہ محنت و مشقت۔ حدیث میں ہے کہ اہل جنت سے کہ دیا جائے گا کہ یہاں تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ ہو گے ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی نہ مرو گے ہمیشہ خوشحال رہو گے کبھی خستہ حال نہ ہو گے ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے۔ (ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

متقیوں کے انعامات، باغ اور چشمے، لباس اور ازواج، ہر قسم کے پھل اور حیات ابدی دوزخیوں کے عذاب بتانے کے بعد اہل جنت کے بعض انعامات ذکر فرمائے۔ اولاً تو یہ فرمایا کہ متقی لوگ امن وامان کی جگہ میں ہوں گے یعنی جنت ایسی جگہ ہے کہ جہاں کسی قسم کا خوف و ہراس، بےاطمینانی، بےچینی نہیں ہوگی اور ہمیشہ اسی حالت میں رہیں گے انہیں کبھی خوف یا غم نہ ہوگا نہ وہاں سے نکالے جانے کا خطرہ ہوگا۔ ثانیاً فرمایا کہ یہ متقی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ ثالثاً یہ فرمایا کہ سندس اور استبرق کا لباس پہنیں گے سندس باریک ریشم کو اور استبرق موٹے ریشم کو کہتے ہیں۔ رابعاً یہ فرمایا کہ آپس میں مقابل ہوکر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے گے مفسرین نے اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا لا یریٰ بعضھم قفا بعضٍ یعنی اس ترتیب سے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے کہ کسی کی پشت کسی کی طرف نہ ہوگی۔ خامساً یہ فرمایا کہ ہم حورعین سے ان کا نکاح کردیں گے لفظ حور حوراء کی جمع ہے (اگرچہ اردو استعمال میں حور کو مفرد سمجھا جاتا ہے) حوراء گورے رنگ کی عورت کو کہتے ہیں جس کا رنگ خوب آنکھوں میں جچ رہا ہو اور اچھا لگ رہا ہو اور عین عیناء کی جمع ہے اس کا معنی ہے بڑی آنکھوں والی عورت، اللہ تعالیٰ حورعین کو اہل جنت کے نکاح میں دے دیں گے۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جنت کی عورتوں میں سے اگر کوئی عورت زمین کی طرف جھانک لے تو آسمان اور زمین کو روشن کردے اور ان دونوں کے درمیان کو خوشبوؤں سے بھر دے اور فرمایا کہ یہ واقعی بات ہے کہ اس کے سر کا دوپٹہ دنیا سے اور دنیا میں جو کچھ ہے اس سب سے بہتر ہے۔ (رواہ البخاری) اور حضرت ابو سعید خدری (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان نقل کیا ہے کہ ہر جنتی کی (كم از کم ( ) دو بیویاں ہوں گی ان میں سے ہر ایک ستر جوڑے پہنے ہوئے ہوگی اس کی پنڈلی کا گودا باہر سے نظر آئے گا۔ (رواہ الترمذی) سادساً یہ فرمایا کہ اہل جنت ہر قسم کے میوے طلب کریں گے۔ سابعاً فرمایا کہ وہاں انہیں کبھی بھی موت نہیں آئے گی دنیا میں جو موت آگئی تھی اس کے بعد اور کسی موت کا خطرہ نہ ہوگا۔ ثامناً یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ انہیں عذاب دوزخ سے بچالے گا عذاب دوزخ سے بچانا اور جنت میں داخل فرمانا یہ سب محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہوگا (اللہ تعالیٰ کے ذمہ کسی کا کچھ واجب نہیں ہے یہ اس کا فضل ہے کہ اس نے ایمان پر اور اعمال صالحہ پر جنت دینے کا اور دوزخ سے محفوظ فرمانے کا وعدہ فرمالیا ہے۔ ) آخر میں فرمایا ہے ﴿ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ ٠٠٥٧﴾ (یہ جو کچھ مذکور ہوا بڑی کامیابی ہے اس میں اہل دنیا کو تنبیہ ہے کہ تم جس چیز کو کامیابی سمجھ رہے ہو وہ فانی چیزیں ہیں جنت کی طرف رخ کرو اور اس کے اعمال میں لگو وہاں جو ملے گا وہ بڑی کامیابی ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

26:۔ ” ان المتقین “ تا ” ذلک ھو الفوز العظیم “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ ” فی جنت و عیون “ مقام امین سے بدل ہے متقی اور پرہیز گار لوگ اور شرک سے بچنے والے قیامت کے دن پر امن مقام یعنی باغات جنت اور چشموں میں ہوں گے جہاں وہ ہر قسم کے خوف و ہراس اور تکلیف و عذاب سے محفوظ و مامون ہوں گے اور انہیں زندگی کی ہر راحت و آسائش میسر ہوگی۔ یلبسون من سندس الخ، وہاں وہ باریک اور موٹے ریشم کے کپڑے پہنیں گے یعنی جس قسم کا لباس چاہیں گے انہیں ملے گا۔ سندس، باریک ریشم۔ استبرق، موٹا ریشم۔ سندس مارق من الدیباج و استبرق ما غلظ منہ (مدارک ج 4 ص 100) ۔ وہ جنت میں محبت و الفت اور مسر و شادمانی کے اظہار کے لیے ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھیں گے۔ متقابلین فی مجالسہم لیتانس بعضہم ببعض (روح ج 25 ص 135) ۔ ایسی ہی بیشمار نعمتیں ان کو ملیں گی اور موٹی آنکھوں والی خوبصورت حوریں جنت میں ان کی رفیق حیات ہوں گی۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(51) بلا شبہ جو لوگ متقی اور خدا سے ڈرنے والے ہیں وہ پرامن اور باامن مقام میں ہوں گے۔ وہاں ایسی جگہ میں ہوں گے جہاں کسی قسم کی بےچینی اور خطرہ نہ ہوگا آگے اس پرامن مقام کا بیان ہے۔