Surat ul Ehkaaf

Surah: 46

Verse: 3

سورة الأحقاف

مَا خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَاۤ اِلَّا بِالۡحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا عَمَّاۤ اُنۡذِرُوۡا مُعۡرِضُوۡنَ ﴿۳﴾

We did not create the heavens and earth and what is between them except in truth and [for] a specified term. But those who disbelieve, from that of which they are warned, are turning away.

ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی تمام چیزوں کو بہترین تدبیر کے ساتھ ہی ایک مدت معین کے لئے پیدا کیا ہے اور کافر لوگ جس چیز سے ڈرائے جاتے ہیں منہ موڑ لیتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

مَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالاْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلاَّ بِالْحَقِّ .... We created not the heavens and the earth and all that is between them except in truth, meaning, not in idle play and falsehood. .. وَأَجَلٍ مُّسَمًّى ... and for a specified term. meaning, for a fixed and specified duration that will not increase or decrease. Allah continues, ... وَالَّذِينَ كَفَرُوا عَمَّا أُنذِرُوا مُعْرِضُونَ But those who disbelieve, turn away from that of which they are warned. Meaning, the disbelievers are distracted from what is intended for them. Allah has indeed revealed to them a Book and sent to them a Messenger. Yet, they obstinately turn away from all of that. Therefore, they will soon realize the consequence of their behavior. Refuting the Idolators Allah then says,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

3۔ 1 یعنی آسمان اور زمین کی پیدائش کا ایک خاص مقصد بھی ہے اور وہ ہے انسانوں کی آزمائش۔ دوسرا اس کے لئے ایک وقت بھی مقرر ہے جب وہ وقت آجائے گا تو آسمان اور زمین کا موجودہ نظام سارا بکھر جائے گا۔ نہ آسمان، یہ آسمان ہوگا نہ زمین، یہ زمین ہوگی۔ یوم تبدل الارض غیر الارض والسموات " سورة ابراھیم۔ 3۔ 2 یعنی عدم ایمان کی صورت میں بعث حساب اور جزا سے جو انہیں ڈرایا جاتا ہے وہ اس کی پرواہی نہیں کرتے اس پر ایمان لاتے ہیں نہ عذاب اخروی سے بچنے کی تیاری کرتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢] اللہ کی حکمت سے معاد پر دلیل :۔ اس کارخانہ کائنات کے نتیجہ کے طور پر قیامت کے قائم ہونے پر عقلی دلیل جس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی حکمت سے ہے۔ اور اس کی تفسیر بھی پہلے کئی مقامات پر گزر چکی ہے۔ [٣] اللہ کی صفت عدل سے معاد پر دلیل :۔ قیامت کے قیام پر دوسری عقلی دلیل جس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی صفت عدل سے ہے۔ یعنی انسان کو اس دنیا میں ایسے نہیں پیدا کیا گیا کہ جو کچھ وہ چاہے کرتا رہے اور اس سے کچھ بھی محاسبہ نہ ہو۔ اور جب انہیں یہ بات سمجھائی جاتی ہے تو اسے سننا بھی گوارا نہیں کرتے اور منہ موڑ کر چل دیتے ہیں۔ اور اس کی وجہ محض ان کا تکبر ہے۔ وہ اپنی ذات پر اللہ تعالیٰ کی عائد کردہ پابندیاں گوارا نہیں کرتے اور اس بات کو اپنی شان سے فروتر سمجھتے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) ماخلقنا السموت والارض وما بینھمآ الا بالحق، قرآن مجید کے بنیادی مضامین میں سب سے اہم مضمون توحید اور آخرت ہیں۔ ان دونوں کو دلائل کے ساتھ ثابت کرنے کے لئے ” تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم “ کو بطور تمہید ذکر فرمایا۔ اس کے بعد ایک متفق علیہ بات کا ذکر فرمایا کہ یہ سب مانتے ہیں کہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ یہ تسلیم کرلینے کے بعد اس کا ئنات کے متعلق کوئی بھی بات اسی کی معتبر ہوگی جس نے اسے بنایا ہے۔ چناچہ اس کا فرمان ہے کہ ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو حق ہی کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ ان میں سے کوئی چیز باطل نہیں کہ اس میں کوئی خامی یا غلطی ہو یا وہ بےمقصد ہو یا محض کیھل کے لئے بنائی گئی ہو، بلکہ ان کے پیدا کرنے میں بہت سی حکمتیں ہیں۔ قرآن مجید نے آسمان و زمین کی پیدائش میں ملحوظ بہت سی حکمتیں بیان فرمائی۔ الا ھو الرحمٰن الرحیم ان فی خلق السموت والارض و اختلاف ال یل و النھار والفلک التی تجزی فی البحر و تصریف الریح والسحاب المسخربین السمآء والارض لایت لقوم یعقلون) (البقرہ : ١٦٣، ١٦٣)” اور تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، بےحد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔ بیشک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اور رات اور دن کے بدلنے میں اور ان کشتیوں میں جو سمندر میں وہ چیزیں لے کر چلتی ہیں جو لوگوں کو نفع دیتی ہیں اور اس پانی میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا، پھر اس کے ساتھ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کردیا اور اس میں ہرق سم کے جانور پھیلا دیئے اور ہواؤں کے بدلنے میں اور اس بادل میں جو آسمان و زمین کے درمیان مسخر کیا ہوا ہے، ان لوگوں کے لئے یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔ “ یعنی یہ حقیقت کہ معبود برحق اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے، عقل والوں کو زمین و آسمان کی پیدائش اور ان دونوں میں پائی جانے والی مذکورہ اشیاء پر غور کرنے سے معلوم ہوجاتی ہے۔ قرآن مجید نے یہ حقیقت بار بار دہرائی ہے کہ عبادت کا حق دار ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ اس بات پر ہوتا ہے کہ پیدا کرنے والا کون ہے ؟ جو پیدا کرنے والا ہے سچا معبود ہے، جو کچھ پیدا ہی نہیں کرسکتا وہ معبود بھی نہیں ہوسکتا۔ خلاق ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے اکیلے مستحق عبادت ہونے کی متعدد آیات میں سے چند آیات ملاحظہ فرمائیں، سورة بقرہ (٢١، ٢٢) ، اعراف (٩١) ، ہود (٧) رعد (١٦) ، سورنحل (٣ تا ٢٠) (ان آیات میں ” خلق “ کے بار بار دہرانے کو ملحوظ رکھیں) ، سورة حج (٧٣) ، فرقان (٢، ٣) اور سورة اعلیٰ (١، ٢) ۔ زمین و آسمان کی پیدائش میں ایک حکمت ان کی اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی قدرت کے کمال پر دلالت ہے۔ جیسا کہ فرمایا (اللہ الذی خلق سبع سموت ومن الارض مثلھن یتنزل الامر بینھن لتعلموا ان اللہ علی کل شیء قدیر، و ان اللہ قد احاط بکل شیء علماً ) (الطلاق : ١٢)” اللہ ہی جس نے سات آسمان پیدا کئے اور زمین سے بھی ان کی مانند۔ ان کے درمیان حکم نازل ہوتا ہے، تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے اور یہ کہ اللہ نے یقیناً ہر چیز کو علم سے گھیر رکھا ہے۔ “ سورة طلاق کی اس آیت میں ” لتعلموآئ “ (تاکہ تم جان لو) کا ” لام “ ” خلق سبع سموت “ کے متعلق ہے۔ آسمان و زمین کو حق کے ساتھ پیدا کرنے میں ایک حکمت مخلوق کی آزمائش ہے کہ ان میں سے عمل کے لحاظ سے بہتر کون ہے، جیسا کہ فرمایا :(وھو الذی خلق السموت والارض فی ستۃ ایام وکان عرشہ علی المآء لیبلوکم ایکم احسن عملاً (ھود : ٨) ” اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور اس کا عرش پانی پر تھا، تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کوئی عمل میں زیادہ اچھا ہے۔ “ یہی بات سورة کہف (٧) اور سورة ملک (٢، ٣) میں فرمائی۔ اسی کی وضاحت سورة ذاریات میں فرمائی :(وما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون ماارید منھم من رزق وما ارید ان یطمعون) (الذاریات :56، 58)” اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر اس لئے کہ وہ میری عبادت کریں۔ نہ میں ان سے کوئی رزق چاہتا ہوں اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔ “ حق کے ساتھ پیدا کرنے میں ایک حکمت ان کی اس حکمت ان کی اس بات پر دلالت ہے کہ ہر شخص کو اس کے عمل کی جزا ملے گی، جیسا کہ فرمایا :(وللہ ما فی السموت وما فی الارض لیجزی الذین اسمآء وابما عملوا ویجزی الذین احسنوا بالحسنی) (النجم : ٣)” اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اللہ ہی کا ہے ، تاکہ وہ ان لوگوں کو جنہوں نے برائی کی اس کا بدلا دے جو انہوں نے کیا اور ان لوگوں کو جنہوں نے بھلائی کی بھلائی کے ساتھ بدلا دے۔ “ اس کی وضاحت سورة یونس کی آیت (٤) سے بھی ہوتی ہے۔ کفار چونکہ سمجھتے تھے کہ آسمان و زمین کی پیدائش کا کوئی مقصد نہیں، نہ اللہ کی طرف سے ان پر کوئی ذمہ داری عائد ہوئی ہے، نہ حساب ہوگا اور نہ جزا و سزا کا کوئی م عاملہ ہے۔ ان کے مطابق تو زمین و آسمان کا یہ سلسلہ باطل اور بےمقصد ہو، اس لئے اللہ تعالیٰ نے کفار کی اس بات کی سخت تردید فرمائی، فرمایا :(وما خلقنا السمآء والارض وما بینھا باطلاً ذلک ظن الذین کفروا ، فویل للذین کفروا من النار) (ص : ٢٨) ” اور ہم نے آسمان و زمین کو اور ان دونوں کے درمیان کی چیزوں کو بےکار پیدا نہیں کیا۔ یہ ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا، سو ان لوگوں کے لئے جنہوں نے کفر کیا آگ کی صورت میں بڑی ہلاکت ہے۔ “ یہی بات سورة مومنون (١١٥، ١١٦) ، آل عمران (١٩٠، ١٩١) اور سورة دخان (٣٨، ٣٩) میں بیان ہوئی ہے۔ (٢) واجل مسمی : یعنی ہم نے کائنات کا یہ نظام دائمی اور ابدین ہیں بنایا، بلکہ اس کا ایک وقت مقرر ہے ، جس کے بعد ہر شخص کو اس کے عمل کا بدلا ملے گا۔ (٣) والذین کفروا عمآ انذروا معرضون :” انذاز “ کا معنی آگاہ کرنا ہے جس کے ساتھ ڈرانا بھی ہو۔ یعنی اگرچہ کفار کو آگاہ کردیا گیا کہ زمین و آسمان کی پیدائش بےمقصد نہیں، نہ یہ سل سلہ دائمی ہے بلکہ یہ تمہاری آزمائش کے لئے ہے اور ایک مقرر وقت پر تم سب اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کئے جاؤ گے، اس کے باوجود جس آخرت اور جس اخروی عذاب سے انھیں ڈرایا گیا وہ اس سے منہ پھیرنے والے ہیں، نہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور نہ اس سے بچنے کی تیاری کرتے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَہُمَآ اِلَّا بِالْحَـقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّى۝ ٠ ۭ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا عَمَّآ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ۝ ٣ ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] أي : نعم شيئا يعظکم به، وقوله : فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] فقد أجيز أن يكون ما نكرة في قوله : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها [ البقرة/ 26] ، وقد أجيز أن يكون صلة، فما بعده يكون مفعولا . تقدیره : أن يضرب مثلا بعوضة «1» . الثالث : الاستفهام، ويسأل به عن جنس ذات الشیء، ونوعه، وعن جنس صفات الشیء، ونوعه، وقد يسأل به عن الأشخاص، والأعيان في غير الناطقین . وقال بعض النحويين : وقد يعبّر به عن الأشخاص الناطقین کقوله تعالی: إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] ، إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] وقال الخلیل : ما استفهام . أي : أيّ شيء تدعون من دون اللہ ؟ وإنما جعله كذلك، لأنّ «ما» هذه لا تدخل إلّا في المبتدإ والاستفهام الواقع آخرا . الرّابع : الجزاء نحو : ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ الآية [ فاطر/ 2] . ونحو : ما تضرب أضرب . الخامس : التّعجّب نحو : فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] . وأمّا الحروف : فالأوّل : أن يكون ما بعده بمنزلة المصدر كأن الناصبة للفعل المستقبَل . نحو : وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] فإنّ «ما» مع رَزَقَ في تقدیر الرِّزْق، والدّلالة علی أنه مثل «أن» أنه لا يعود إليه ضمیر لا ملفوظ به ولا مقدّر فيه، وعلی هذا حمل قوله : بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] ، وعلی هذا قولهم : أتاني القوم ما عدا زيدا، وعلی هذا إذا کان في تقدیر ظرف نحو : كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] ، كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] ، كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] . وأما قوله : فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] فيصحّ أن يكون مصدرا، وأن يكون بمعنی الذي «3» . واعلم أنّ «ما» إذا کان مع ما بعدها في تقدیر المصدر لم يكن إلّا حرفا، لأنه لو کان اسما لعاد إليه ضمیر، وکذلک قولک : أريد أن أخرج، فإنه لا عائد من الضمیر إلى أن، ولا ضمیر لهابعده . الثاني : للنّفي وأهل الحجاز يعملونه بشرط نحو : ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] «1» . الثالث : الکافّة، وهي الدّاخلة علی «أنّ» وأخواتها و «ربّ» ونحو ذلك، والفعل . نحو : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ، إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] ، كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] وعلی ذلك «ما» في قوله : رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] ، وعلی ذلك : قَلَّمَا وطَالَمَا فيما حكي . الرابع : المُسَلِّطَة، وهي التي تجعل اللفظ متسلِّطا بالعمل، بعد أن لم يكن عاملا . نحو : «ما» في إِذْمَا، وحَيْثُمَا، لأنّك تقول : إذما تفعل أفعل، وحیثما تقعد أقعد، فإذ وحیث لا يعملان بمجرَّدهما في الشّرط، ويعملان عند دخول «ما» عليهما . الخامس : الزائدة لتوکيد اللفظ في قولهم : إذا مَا فعلت کذا، وقولهم : إمّا تخرج أخرج . قال : فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] ، وقوله : إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما[ الإسراء/ 23] . ( ما ) یہ عربی زبان میں دو قسم پر ہے ۔ اسمی اور حر فی پھر ہر ایک پانچ قسم پر ہے لہذا کل دس قسمیں ہیں ( 1 ) ما اسمی ہو تو واحد اور تذکیر و تانیث کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے ۔ پھر لفظا مفرد ہونے کے لحاظ سے اس کی طرف ضمیر مفرد بھی لوٹ سکتی ہے ۔ اور معنی جمع ہونے کی صورت میں ضمیر جمع کا لانا بھی صحیح ہوتا ہے ۔ یہ ما کبھی بمعنی الذی ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] اور یہ ( لوگ ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پر ستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں ۔ تو یہاں ما کی طرف یضر ھم میں مفرد کی ضمیر لوٹ رہی ہے اس کے بعد معنی جمع کی مناسب سے هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] آگیا ہے اسی طرح آیت کریمہ : ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جوان کو آسمانوں اور زمین میں روزیدینے کا ذرہ بھی اختیار نہیں رکھتے میں بھی جمع کے معنی ملحوظ ہیں اور آیت کریمہ : ۔ بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] کہ تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے ۔ میں بھی جمع کے معنی مراد ہیں اور کبھی نکرہ ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] بہت خوب نصیحت کرتا ہے ۔ تو یہاں نعما بمعنی شیئا ہے نیز فرمایا : ۔ فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] تو وہ بھی خوب ہیں ایت کریمہ : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها[ البقرة/ 26] کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کیس چیز کی میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما نکرہ بمعنی شیاء ہو اور یہ بھی کہ ماصلہ ہو اور اس کا ما بعد یعنی بعوضۃ مفعول ہو اور نظم کلام دراصل یوں ہو أن يضرب مثلا بعوضة اور کبھی استفھا فیہ ہوتا ہے اس صورت میں کبھی کبھی چیز کی نوع یا جنس سے سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی کسی چیز کی صفات جنسیہ یا نوعیہ کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی غیر ذوی العقول اشخاص اور اعیان کے متعلق سوال کے لئے بھی آجاتا ہے ۔ بعض علمائے نحو کا قول ہے کہ کبھی اس کا اطلاق اشخاص ذوی العقول پر بھی ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] مگر ان ہی بیویوں یا ( کنیزوں سے ) جو ان کی ملک ہوتی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں خواہ وہ کچھ ہی ہو خدا اسے جانتا ہے ۔ میں خلیل نے کہا ہے کہ ماتدعون میں ما استفہامیہ ہے ای شئی تدعون من دون اللہ اور انہوں نے یہ تکلف اس لئے کیا ہے کہ یہ ہمیشہ ابتداء کلام میں واقع ہوتا ہے اور مابعد کے متعلق استفہام کے لئے آتا ہے ۔ جو آخر میں واقع ہوتا ہے جیسا کہ آیت : ۔ ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُالآية [ فاطر/ 2] خدا جو اپنی رحمت کا در وازہ کھول دے اور مثال ماتضرب اضرب میں ہے ۔ اور کبھی تعجب کے لئے ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] یہ ( آتش جہنم کیسی بر داشت کرنے والے ہیں ۔ ما حرفی ہونے کی صورت میں بھی پانچ قسم پر ہے اول یہ کہ اس کا بعد بمنزلہ مصدر کے ہو جیسا کہ فعل مستقبل پر ان ناصبہ داخل ہونے کی صورت میں ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ تو یہاں ما رزق بمعنی رزق مصدر کے ہے اور اس ما کے بمعنی ان مصدر یہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کی طرف کہیں بھی لفظا ما تقدیر اضمیر نہیں لوٹتی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] اور ان کے جھوٹ بولتے کے سبب ۔ میں بھی ما مصدر ری معنی پر محمول ہے ۔ اسی طرح اتانیالقوم ماعدا زیدا میں بھی ما مصدر یہ ہے اور تقدیر ظرف کی صورت میں بھی ما مصدر یہ ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] جب بجلی ( چمکتی اور ) ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں ۔ كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] یہ جب لڑائی کے لئے آگ جلاتے ہیں ۔ خدا اس کو بجھا دیتا ہے ۔ كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] جب ( اس کی آگ ) بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو ( عذاب دینے ) کے لئے اور بھڑ کا دیں گے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] پس جو حکم تم کو ( خدا کی طرف سے ملا ہے وہ ( لوگوں ) کو سنا دو ۔ میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما مصدر یہ ہوا اور یہ بھی کہ ما موصولہ بمعنی الذی ہو ۔ یاد رکھو کہ ما اپنے مابعد کے ساتھ مل کر مصدری معنی میں ہونے کی صورت میں ہمیشہ حرفی ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ اسی ہو تو اس کی طرف ضمیر کا لوٹنا ضروری ہے پس یہ ارید ان اخرک میں ان کی طرح ہوتا ہے جس طرح ان کے بعد ضمیر نہیں ہوتی جو اس کی طرف لوٹ سکے اسی طرح ما کے بعد بھی عائد ( ضمیر نہیں آتی ۔ دوم ما نافیہ ہے ۔ اہل حجاز اسے مشروط عمل دیتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] یہ آدمی نہیں ہے تیسرا ما کا فہ ہے جو ان واخواتھا اور ( رب کے ساتھ مل کر فعل پر داخل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] نہیں بلکہ ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں ۔ كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] گویا موت کی طرف دھکیلے جارہے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے ۔ میں بھی ما کافہ ہی ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ قلما اور لما میں بھی ما کافہ ہوتا ہے ۔ چہارم ما مسلمۃ یعنی وہ ما جو کسی غیر عامل کلمہ کو عامل بنا کر مابعد پر مسلط کردیتا ہے جیسا کہ اذا ما وحیتما کا ما ہے کہ ما کے ساتھ مرکب ہونے سے قبل یہ کلمات غیر عاملہ تھے لیکن ترکیب کے بعد اسمائے شرط کا سا عمل کرتے ہیں اور فعل مضارع کو جز م دیتے ہیں جیسے حیثما نقعد اقعد وغیرہ پانچواں مازائدہ ہے جو محض پہلے لفظ کی توکید کے لئے آتا ہے جیسے اذا مافعلت کذا ( جب تم ایسا کرو ماتخرج اخرج اگر تم باہر نکلو گے تو میں بھی نکلو نگا قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] اگر تم کسی آدمی کو دیکھوں ۔ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما [ الإسراء/ 23] اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھا پے کو پہنچ جائیں ۔ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ بين بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر فيه معنی الانفصال والظهور استعمل في كلّ واحد منفردا، فقیل للبئر البعیدة القعر : بَيُون، لبعد ما بين الشفیر والقعر لانفصال حبلها من يد صاحبها . ( ب ی ن ) البین کے معنی دو چیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں : ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی ۔ محاورہ ہے بان کذا کسی چیز کا الگ ہوجانا اور جو کچھ اس کے تحت پوشیدہ ہو ، اس کا ظاہر ہوجانا ۔ چونکہ اس میں ظہور اور انفصال کے معنی ملحوظ ہیں اس لئے یہ کبھی ظہور اور کبھی انفصال کے معنی میں استعمال ہوتا ہے «أَلَا»«إِلَّا»هؤلاء «أَلَا» للاستفتاح، و «إِلَّا» للاستثناء، وأُولَاءِ في قوله تعالی: ها أَنْتُمْ أُولاءِ تُحِبُّونَهُمْ [ آل عمران/ 119] وقوله : أولئك : اسم مبهم موضوع للإشارة إلى جمع المذکر والمؤنث، ولا واحد له من لفظه، وقد يقصر نحو قول الأعشی: هؤلا ثم هؤلا کلّا أع طيت نوالا محذوّة بمثال الا) الا یہ حرف استفتاح ہے ( یعنی کلام کے ابتداء میں تنبیہ کے لئے آتا ہے ) ( الا) الا یہ حرف استثناء ہے اولاء ( اولا) یہ اسم مبہم ہے جو جمع مذکر و مؤنث کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس کا مفرد من لفظہ نہیں آتا ( کبھی اس کے شروع ۔ میں ھا تنبیہ بھی آجاتا ہے ) قرآن میں ہے :۔ { هَا أَنْتُمْ أُولَاءِ تُحِبُّونَهُمْ } ( سورة آل عمران 119) دیکھو ! تم ایسے لوگ ہو کچھ ان سے دوستی رکھتے ہواولائک علیٰ ھدی (2 ۔ 5) یہی لوگ ہدایت پر ہیں اور کبھی اس میں تصرف ( یعنی بحذف ہمزہ آخر ) بھی کرلیا جاتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ع (22) ھؤلا ثم ھؤلاء کلا اعطیتہ ت نوالا محذوۃ بمشال ( ان سب لوگوں کو میں نے بڑے بڑے گرانقدر عطیئے دیئے ہیں حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ أجل الأَجَل : المدّة المضروبة للشیء، قال تعالی: لِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى [ غافر/ 67] ، أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ [ القصص/ 28] . ( ا ج ل ) الاجل ۔ کے معنی کسی چیز کی مدت مقررہ کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ { وَلِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى } [ غافر : 67] اور تاکہ تم ( موت کے ) وقت مقررہ تک پہنچ جاؤ ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ نذر وَالإِنْذارُ : إخبارٌ فيه تخویف، كما أنّ التّبشیر إخبار فيه سرور . قال تعالی: فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14] والنَّذِيرُ : المنذر، ويقع علی كلّ شيء فيه إنذار، إنسانا کان أو غيره . إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ نوح/ 2] ( ن ذ ر ) النذر الا نذار کے معنی کسی خوفناک چیز سے آگاہ کرنے کے ہیں ۔ اور اس کے بالمقابل تبشیر کے معنی کسی اچھی بات کی خوشخبری سنا نیکے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14] سو میں نے تم کو بھڑکتی آگ سے متنبہ کردیا ۔ النذ یر کے معنی منذر یعنی ڈرانے والا ہیں ۔ اور اس کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جس میں خوف پایا جائے خواہ وہ انسان ہو یا کوئی اور چیز چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ [ الأحقاف/ 9] اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے ۔ اعرض وإذا قيل : أَعْرَضَ عنّي، فمعناه : ولّى مُبدیا عَرْضَهُ. قال : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] ، فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ ( ع ر ض ) العرض اعرض عنی اس نے مجھ سے روگردانی کی اعراض کیا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] تو وہ ان سے منہ پھیرے ۔ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ [ النساء/ 63] تم ان سے اعراض بر تو اور نصیحت کرتے رہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اس نے تمام مخلوقات اور عجائبات قدرت کو اظہار حق کے لیے پیدا کیا ہے اور ایک مقررہ مدت تک کے لیے پیدا کیا ہے اس کے بعد فنا ہوجائیں گے اور کفار مکہ رسول اکرم اور قرآن کریم کے ذریعہ سے ڈرایا گیا مگر یہ ان کو جھٹلاتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣ { مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَآ اِلَّا بِالْحَقِّ } ” اور ہم نے نہیں پید ا کیا آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے مگر حق کے ساتھ “ یہ ایک مستحکم نظام اور ایک با مقصد تخلیق ہے۔ ہم نے یہ سب کچھ بےمقصد پیدا نہیں کیا۔ سورة الدخان میں اس بارے میں یوں فرمایا گیا ہے : { وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا لٰعِبِیْنَ ۔ } ” اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے مابین ہے محض کھیل کے طور پر تو تخلیق نہیں فرمایا۔ “ { وَاَجَلٍ مُّسَمًّی } ” اور ایک اجل معین کے لیے “ { وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا عَمَّآ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ } ” اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ اعراض کر رہے ہیں اس سے جس سے انہیں خبردار کیا جا رہا ہے۔ “ اس جملے میں الفاظ کی ترتیب دراصل یوں ہے : وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا مُعْرِضُوْنَ عَمَّآ اُنْذِرُوْا۔ لیکن ایک مخصوص صوتی آہنگ (rhythm) برقرار رکھنے کے لیے یہاں الفاظ میں تقدیم و تاخیر کی گئی ہے۔ میں ” تعارفِ قرآن “ پر اپنے لیکچر زمین قرآن کے صوتی آہنگ پر گفتگو کرتے ہوئے یہ وضاحت کرچکا ہوں کہ ہم معروف معنوں میں جسے شاعری کہتے ہیں قرآن ویسی شاعری تو نہیں ہے لیکن ایک خاص آہنگ اور روانی کی وجہ سے قرآن کی آیات میں blank verse کا سا انداز پایا جاتا ہے اور جملوں میں الفاظ کی تقدیم و تاخیر ہوجاتی ہے۔ اور غالباً یہ قرآنی اسلوب ہی دنیا میں blank verse کے رواج کا باعث بنا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

2 For explanation, ace Al-An'am: 73, Yunus: 5-6, Ibrahim: 19, Al-Hijr: 85, An-Nahl: 3, AI-Anbiya,: 16-18. Al-Mu'minun: 115, AI-`Ankabut: 44, ArRum: 8 and the corresponding E.N.'s. 3 That is, "The actual fact is that this universe is not a purposeless plaything but a purposeful, wise system in which the decisions regarding the good and the bad, the oppressor and the oppressed, will necessarily be based on justice; and the present system of the universe is not permanent and eternal, but it has a fixed term appointed for it on the expiry of which it will inevitably come to an end. For the Court of Allah also there is a settled time and it will certainly be established when the time for it reaches its term. But the people who have refused to believe in Allah's Prophet and His Book, have an aversion to these truths. They are least mindful of this that a time has to come when they will have to render an account of their deeds. They think that the Messenger of Allah has done them a great wrong by warning them of these truths, whereas he has done them a great good by fore-warning them not only of the time when they will be subjected to accountability but also of what they will be questioned at that time so that they •may prepare themselves accordingly." To understand the following discourse it should be borne in mind that man's basic error is the one that he commits with regard to determining his belief about God. In this regard, the adoption of a creed carelessly on the basis of mere hearsay, without any serious and deep thought and investigation, is a stupendous folly, which vitiates man's whole attitude to life in the world and ruins his destiny for ever afterwards. But the reason why man becomes involved in this dangerous kind of heedlessness is that he regards himself as irresponsible and un-answerable and develops the misunderstanding that whatever creed he may adopt about God, it would make no difference, because either there is no life after death in which he might have to face accountability, or if there is any such life and he is also called to account, the beings of whom he is a devotee, will save him from any evil fate. This same lack of the sense of responsibility renders him frivolous in the selection of a religious creed, and on the basis of the same he fabricates all sorts of absurd creeds, from atheism to every form of polytheism, or adopts the creeds fabricated by others.

سورة الْاَحْقَاف حاشیہ نمبر :2 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد اول ، الانعام ، حاشیہ ٤٦ ، جل دوم ، یونس ، حاشیہ ۱۱ ، ابراہیم ، حاشیہ۲۳ ، الحجر ، حاشیہ٤۷ ، النحل ، حاشہ٦ ، جلد سوم ، الانبیاء ، حواشی ۱۵ تا ۱۷ ، المومنون ، حواشی ۱۰۲ ، العنکبوت ، حواشی۷۵ ۔ ۷٦ جلد چہارم ، تفسیر سورہ لقمان ، حاشیہ 51 ۔ الدخان ، حاشیہ 34 ۔ الجاثیہ ، حاشیہ 28 ۔ سورة الْاَحْقَاف حاشیہ نمبر :3 یعنی واقعی حقیقت تو یہ ہے کہ یہ نظام کائنات ایک بے مقصد کھلونا نہیں بلکہ ایک با مقصد حکیمانہ نظام ہے جس میں لازماً نیک و بد اور ظالم و مظلوم کا فیصلہ انصاف کے ساتھ ہونا ہے ، اور کائنات کا موجودہ نظام دائمی و ابدی نہیں ہے بلکہ اسکی ایک خاص عمر مقرر ہے جس کے خاتمے پر اسے لازماً درہم برہم ہو جانا ہے ، اور خدا کی عدالت کے لیے بھی ایک وقت طے شدہ ہے جس کے آنے پر وہ ضرور قائم ہونی ہے ، لیکن جن لوگوں نے خدا کے رسول اور اس کی کتاب کو ماننے سے انکار کر دیا ہے وہ ان حقائق سے منہ موڑے ہوئے ہیں ۔ انہیں اس بات کی کچھ فکر نہیں ہے کہ ایک وقت ایسا آنے والا ہے جب انہیں اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہو گی ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان حقیقتوں سے خبردار کر کے خدا کے رسول نے ان کے ساتھ کوئی برائی کی ہے ، حالانکہ یہ ان کے ساتھ بہت بڑی بھلائی ہے کہ اس نے محاسبے اور باز پرس کا وقت آنے سے پہلے ان کو نہ صرف یہ بتا دیا کہ وہ وقت آنے والا ہے ، بلکہ یہ بھی ساتھ ساتھ بتا دیا کہ اس وقت ان سے کن امور کی باز پرس ہو گی تاکہ وہ اس کے لیے تیاری کر سکیں ۔ آگے کی تقریر سمجھنے کے لیے یہ بات نگاہ میں رہنی چاہیے کہ انسان کی سب سے بڑی بنیادی غلطی وہ ہے جو وہ خدا کے متعلق اپنے عقیدے کے تعین میں کرتا ہے ۔ اس معاملہ میں سہل انگاری سے کام لے کر کسی گہرے اور سنجیدہ فکر و تحقیق کے بغیر ایک سرسری یا سنا سنایا عقیدہ بنا لینا ایسی عظیم حماقت ہے جو دنیا کی زندگی میں انسان کے پورے رویے کو ، اور ابدلآباد تک کے لیے اس کے انجام کو خراب کر کے رکھ دیتی ہے ۔ لیکن جس وجہ سے آدمی اس خطر ناک سہل انگاری میں مبتلا ہو جاتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو غیر ذمہ دار اور غیر جواب دہ سمجھ لیتا ہے اور اس غلط فہمی میں پڑ جاتا ہے کہ خدا کے بارے میں جو عقیدہ بھی میں اختیار کرلوں اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کیونکہ یا تو مرنے کے بعد سرے سے کوئی زندگی نہیں ہے جس میں مجھے کسی باز پرس سے سابقہ پیش آئے ، یا اگر ایسی کوئی زندگی ہو اور وہاں باز پرس بھی ہو تو جن ہستیوں کا دامن میں نے تھام رکھا ہے وہ مجھے انجام بد سے بچا لیں گی ۔ یہی احساس ذمہ داری کا فقدان آدمی کو مذہبی عقیدے کے انتخاب میں غیر سنجیدہ بنا دیتا ہے اور اسی بنا پر وہ بڑی بے فکری کے ساتھ دہریت سے لے کر شرک کی انتہائی نامعقول صورتوں تک طرح طرح کے لغو عقیدے خود گھڑتا ہے یا دوسروں کے گھڑے ہوئے عقیدے قبول کر لیتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(46:3) ماخلقنا : میں ما نافیہ ہے۔ الا بالحق۔ استثناء مفرغ۔ بالحق۔ حق کے ساتھ۔ حق پر ۔ مبنی پر حقیقت و حکمت ۔ واجل مسمی۔ موصوف وصفت ۔ معین وقت ۔ موصوف وصفت مل کر مضاف الیہ مضاف محذوف کا۔ ای بتقدیر اجل مسمی یعنی ایک معین وقت پر قرار پانا۔ اجل وقت مقررہ۔ مسمی اسم مفعول۔ واحد مذکر۔ تسمیۃ (تفعیل) مصدر سے مقرر کردہ۔ نامزدہ۔ نام لیا ہوا۔ (نام رکھنے سے چیز متعین ہوجاتی ہے اجل مسمی ایسا وقت جو مقرر ہوچکا۔ جس کی مدت متعین کی جا چکی ہو۔ اور احل مسمی معطوف ہے جس کا عطف الحق پر ہے۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو مبنی برحق و حکمت اور ایک معین مدت کے لئے پیدا کیا ہے۔ والذین۔ الآیۃ جملہ حالیہ ہے۔ عما۔ مرکب ہے۔ عن حرف جار۔ اور ما موصولہ سے انذروا۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ انذار (افعال) مصدر۔ وہ ڈرائے گئے۔ ان کو ڈر سنایا گیا۔ (جس چیز سے یا جس عذاب سے ان کو ڈرایا جاتا ہے وہ اسی سے اعراض کرتے ہیں۔ روگردانی کرتے ہیں ما مصدریہ بھی ہوسکتا ہے ای والذین کفروا معرضون عن الانذار۔ وہ جو کافر ہیں وہ عذاب کے ڈرا وے سے لاپرواہی برتتے ہیں۔ معرضون۔ اسم فاعل جمع مذکر اعراض (افعال) مصدر سے :

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 یعنی زمین و آسمانا کا یہ نظام کھلونا نہیں ہے بلکہ ایک بامقصد حکیمانہ نظام ہے اور نہ یہ دائمی اور ابدی چیز ہی ہے بلکہ اس کی ایک عمر مقرر ہے جب وہ پوری ہوجائیگی تو یہ لازماً درہم برہم ہوجائیگا اور قیامت آجائے گی۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ وہ حکمت دلالت علی التوحید والمجازاة ہے اور وہ میعاد قیامت ہے۔ 2۔ مثلا یہ کہ توحید کے انکار پر تم کو قیامت میں عذاب ہوگا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : ” اَلْحَکِیْمِ “ کی حکمت کا نتیجہ ہے کہ اس نے جو کچھ زمین و آسمانوں میں پیدا کیا ہے اس کا ایک مقصد ہے لیکن کافر اس مقصد کا انکار کرتے ہیں۔ ” اللہ “ کی ذات اور صفات کا انکار کرنے والوں میں بیشمار لوگ ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ کائنات کا نظام خود بخود معرض وجود میں آیا ہے اور یہ اس طرح ہی چلتا رہے گا۔ قرآن مجید نے متعدد مقامات پر کفار کی اس سوچ کی تردید کرتے ہوئے بتلایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں میں کوئی ایک چیز بھی بےمقصد پیدا نہیں کی ہر چیز کو پیدا کرنے کے مجموعی طور پر دو مقصد ہیں۔ پہلا مقصد یہ ہے کہ ہر چیز اپنے رب کو یاد کرے اور اس کے حکم کے مطابق کام کرے، دوسرا مقصدیہ ہے کہ وہ انسان کی خدمت کرتی رہے۔ یہی انسان کی زندگی کا مقصد ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت اور اطاعت کرنے کے ساتھ دوسرے لوگوں کی خدمت کرتا رہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کو لامحدود زندگی عطا نہیں کی بلکہ ذرّہ سے لے کرپہاڑتک، شمس و قمر اور زمین و آسمانوں میں ہر چیز کی ایک مدت مقرر کردی گئی ہے جب یہ مدت پوری ہوجائے گی تو اللہ تعالیٰ ہر چیزکوفنا کے گھاٹ اتار دے گا۔ پھر ایک مدت کے بعد حشر کا میدان قائم کرے گا وہاں 3 وانس کو ان کی زندگی کے مقصد کے بارے میں پوچھ گچھ کی جائے گی لیکن کفار اس دن کا انکار کرتے ہیں۔ جو قیامت کا انکار کرتے ہیں گویا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں، 3 اور انسانوں کو یوں ہی پیدا کردیا ہے۔ حالانکہ اس کا فرمان ہے کہ اس نے کوئی چیز بےمقصد پیدا نہیں کی۔ (اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنَاکُمْ عَبَثًا وَّاَنَّکُمْ اِِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ فَتَعٰلَی اللّٰہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ لَآ اِِلٰہَ اِِلَّا ہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ ) (المومنوں : ١١٥، ١١٦) ” کیا تم نے یہ سمجھ لیا کہ ہم نے تمہیں بےمقصد پیدا کیا اور تمہیں ہماری طرف کبھی پلٹ کر نہیں آنا۔ پس اللہ بلند وبالا اور حقیقی بادشاہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش کریم کا مالک ہے۔ “ (وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَہُمَا لٰعِبِیْنَ لَوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَہْوًا لَّا تَّخَذْنٰہُ مِنْ لَّدُنَّآ اِنْ کُنَّا فٰعِلِیْنَ ) (الانبیاء : ١٦، ١٧) ” ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان میں ہے کھیل کے طور پر نہیں بنایا ہے۔ اگر ہم کھیل تماشا کرنا چاہتے تو یہ تماشا اپنے ہاں کرتے۔ “ (الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰی جُنُوْبِہِمْ وَ یَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلًا سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَاب النَّارِ ) (آل عمران : ١٩١) ” جو لوگ اللہ کا ذکر کھڑے، بیٹھے اور اپنے پہلوؤں پر کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر غور کرتے اور کہتے ہیں اے پروردگار تو نے کوئی چیز بےفائدہ پیدا نہیں کی۔ تو پاک ہے پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں کوئی بھی چیز بےمقصد پیدا نہیں کی۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا وقت مقرر کر رکھا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن 3 و انس سے ان کے اعمال کے بارے میں سوال کرے گا۔ ٤۔ کافر قیامت کے دن اور اس کے حساب و کتاب کا انکار کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز بےمقصد پیدا نہیں کی : ١۔ کیا تم نے یہ سمجھ لیا تھا کہ ہم نے تمہیں بےمقصد پیدا کیا اور تمہیں ہماری طرف کبھی پلٹ کر نہیں آنا۔ (المومنون : ١١٥) ٢۔ عقل مند وہ ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار تو نے یہ سب کچھ بےفائدہ نہیں بنایا۔ تو پاک ہے پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ (آل عمران : ١٩١) ٣۔ بیشک دن اور رات کے مختلف ہونے میں اور جو کچھ ” اللہ “ نے زمین و آسمان میں پیدا کیا ہے، اس میں لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ (یونس : ٦) ٤۔ زمین کی ہر چیز انسان کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ (البقرۃ : ٢٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مشرکین کے باطل معبودوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا وہ جن کو پکارتے ہیں قیامت تک بھی جواب نہ دیں گے ! یہاں سے سورة احقاف شروع ہو رہی ہے اس سورت کے تیسرے رکوع میں احقاف کا ذکر ہے اس لیے یہ سورت اس نام سے موصوف اور مشہور ہوئی اوپر جن آیات کا ترجمہ کیا گیا اس میں تنزیل قرآن اور آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ ان سب کی تخلیق حکمت کے ساتھ ہے اور اجل مسمیٰ یعنی مقررہ وقت تک کے لیے ہے جب مقررہ معیاد پوری ہوجائے گی تو یہ چیزیں فنا ہوجائیں گی قال فی معالم التنزیل : یعنی یوم القیامة وھو الاجل الذی تنتھی الیہ السمٰوٰت والارض، وھو اشارة الی فنائھا (معالم التنزیل میں ہے ” یعنی قیامت کا دن ہی وہ مقررہ وقت ہے جس پر آسمان و زمین اپنی انتہاء کو پہنچ جائیں گے اور یہ ان کے فناء ہونے کا اشارہ ہے “ ) یہ سب کچھ تو توحید کے دلائل میں سے ہیں اس کے بعد مشرکین کی حماقت اور ضلالت بتائی کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر اس کی مخلوق میں سے ان چیزوں کو پکارتے ہیں جو قیامت تک ان کا جواب نہیں دے سکتیں بلکہ انہیں خبر بھی نہیں ہے کہ ہمیں کوئی پکار رہا ہے۔ جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہیں اور انہیں اپنی حاجات کے لیے پکارتے ہیں ان سے دریافت کیجیے کہ بتاؤ انہوں نے زمین میں کیا پیدا کیا ؟ کیا زمین کا کوئی حصہ انہوں نے پیدا کیا ہے یا زمین میں جو چیزیں ہیں ان میں سے کوئی چیز پیدا کی ہے۔ آپ ان سے یہ بھی دریافت کریں کیا ان کا آسمانوں میں کوئی ساجھا ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ نہ انہوں نے زمین میں کچھ پیدا کیا اور نہ آسمانوں میں ان کی شرکت ہے پھر وہ لائق عبادت کہاں سے ہوگئے ؟ ان میں سے کوئی خالق نہیں اس کو تو تم بھی مانتے ہو اور خالق تعالیٰ شانہٗ کو چھوڑ کر مخلوق کی عبادت کرنا بہت بڑی حماقت ہے اس کو تو تمہاری عقل بھی تسلیم کرے گی اگر اسے کام میں لاؤ گے، عقل کے علاوہ کسی بات کے ماننے کا دوسرا راستہ یہ ہے کہ تمہارے پاس کوئی کتاب ہو جو قرآن سے پہلے تمہارے پاس آئی ہو جس نے غیر اللہ کی عبادت کی تعلیم دی ہو یا تمہارے پاس کوئی بات اکابر و اسلاف سے نقل در نقل پہنچی ہو جس نے شرک کی تعلیم دی ہو ظاہر ہے کہ ان دونوں باتوں میں سے بھی کوئی بات نہیں ہے پھر شرک کرنا انتہاء درجہ کی گمراہی ہوئی یا نہیں۔ قولہ تعالیٰ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ فی معالم التنزیل ای بقیة من علم یوثر عن الاولین ای یسند الیھم قال مجاھد وعکرمة و مقاتل روایة عن الانبیاء وقال قتادة خاصة من علم واصل الکلمة من الاثر وھو الروایة (معالم التنزیل میں ہے ” یعنی باقی رہا ہوا علم جو پہلے لوگوں سے روایت کیا جائے یعنی جس کی سند اولین تک پہنچی ہو عکرمہ، مجاہد اور مقاتل نے کہا مراد ہے انبیاء کرام سے روایت، قتادۃ کہتے ہیں مخصوص علم اور اس کلمہ کی اصل اثر سے ہے جو کہ روایت ہی کو کہتے ہیں۔ ) اس کے بعد فرمایا ﴿ وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ ﴾ (الآیۃ) (اور جب قیامت کے دن لوگ جمع کیے جائیں گے تو یہ عبادت کرنے والے اپنے معبودوں کے دشمن ہوجائیں گے یہ مفہوم اس صورت میں ہے جبکہ ﴿ كَانُوْا ﴾ کی ضمیر مرفوع ﴿عَابِدِیْنَ﴾ کی طرف اور ﴿لَهُمْ ﴾ کی ضمیر معبودین کی طرف راجع ہو اور یہ بھی بعید نہیں ہے کہ اس کا عکس مراد ہو اور مطلب یہ کہ معبودین اپنے عابدوں کے دشمن ہوجائیں جیسا کہ سورة قصص میں ہے ﴿ تَبَرَّاْنَاۤ اِلَيْكَ ١ٞ مَا كَانُوْۤا اِيَّانَا يَعْبُدُوْنَ ٠٠٦٣﴾

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

3:۔ ” ما خلقنا السموات۔ یہ توحید پر عقلی دلیل ہے۔ زمین و آسمان اور ان کے درمیان ساری مخلوق کو ہم نے یونہی بیکار پیدا نہیں کیا ہر چیز کو اظہار حق (توحید) کیلئے پیدا کیا ہے، کیونکہ کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اس کی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور اس کی صفت کارسازی پر دلالت کرتا ہے۔ وفیہ من الدلالۃ علی وجود الصانع وصفات کمالہ وابتناء افعالہ علی حکم بالغۃ (روح ج 26 ص 4) ۔ اس کائنات کی ہر چیز کی ایک انتہاء ہے۔ یہ کائنات اظہار حق کے لیے سمجھانے اور عبرت دلانے کے لیے پیدا کی گئی ہے اور اس کے لیے آخر فنا ہے اسے ہمیش قائم رکھنے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا۔ اس میں یہود کے قول لولا عزیر لما خلقت السموات والارض اور نصاری کے قول لولا عیسیٰ لما خلقت السموات والارض کا بھی رد ہے۔ نیز شیعوں کی کود ساختہ حدیث لولا علی لما خلقت السموات، اور موضوع حدیث لولاک لما خلقت الافلاک، بھی اس آیت کے خلاف ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو اظہار حق کی خاطر پیدا فرمایا ہے۔ لولاک لما خلقت الافلاک کی اگر یہ توجیہہ کی جائے کہ اگر آپ کو خاتم النبیین بنا کر آپ پر آخری کتاب نازل کر کے آپ کے ذریعے توحید کی تکمیل اور تمام ادیان باطلہ پر دین حق کا اظہار مقصود نہ ہوتا تو میں کچھ بھی پیدا نہ کرتا۔ تو معنی درست ہوتا، لیکن یہ الفاظ بہر حال موضوع ہیں۔ قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ عن العارف الرومی قدس سرہ۔ ” والذین کفروا لخ “ یہ زجر ہے، لیکن کفار اس کائنات میں غور نہیں کرتے اور اس عالم کے فنا کے بعد آنے والی قیامت جس سے ان کو ڈرایا جاتا ہے اس سے اعراض کرتے ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(3) ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو چیزیں ان دونوں کے مابین ہیں ان سب کو نہیں بنایا مگر خاص مصلحت اور حکمت کے ساتھ بنایا ہے اور ایک میعاد مقررہ تک کے لئے بنایا ہے اور وہ لوگ جو دین حق کے منکر ہیں ان کو جس چیز میں ڈرایا جاتا ہے اور اس سے اعراض کرتے اور بےرخی اور بےالتفائی برتتے ہیں۔ یعنی عالم علوی ہو یا عالم سفلی جو کچھ بنایا ہے وہ سب مبنی برحکمت اور مبنی برحکمت اور مبنی بر مصلحت ہے نیز یہ کہ یہ سارا نظام شمسی ایک خاص وقت اور خاص میعاد تک کے لئے ہے معیاد آنے پر اور وقت پورا ہونے پر یہ تمام نظام درہم برہم کردیا جائے گا۔ منکروں کو جس چیز سے ڈرایا جاتا ہے یعنی قیامت کے واقعات سنا کر یا قرآن سنا کر جب ان کو ڈرایا جاتا ہے اور خود دلایا جاتا ہے تو یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور بےتوجہی کرتے ہیں۔