Surat ul Ehkaaf

Surah: 46

Verse: 32

سورة الأحقاف

وَ مَنۡ لَّا یُجِبۡ دَاعِیَ اللّٰہِ فَلَیۡسَ بِمُعۡجِزٍ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَیۡسَ لَہٗ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءُ ؕ اُولٰٓئِکَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۳۲﴾

But he who does not respond to the Caller of Allah will not cause failure [to Him] upon earth, and he will not have besides Him any protectors. Those are in manifest error."

اور جو شخص اللہ کے بلانے والے کا کہا نہ مانے گا پس وہ زمین میں کہیں ( بھاگ کر اللہ کو ) عاجز نہیں کر سکتا اور نہ اللہ کے سوا اور کوئی اس کے مددگار ہوں گے یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَمَن لاَّ يُجِبْ دَاعِيَ اللَّهِ فَلَيْسَ بِمُعْجِزٍ فِي الاَْرْضِ ... And whosoever does not respond to Allah's Caller, he cannot escape on earth, meaning, Allah's power encompasses him and surrounds him. ... وَلَيْسَ لَهُ مِن دُونِهِ أَولِيَاء ... and he will not have besides Allah any protectors. meaning, no one can protect him against Allah. ... أُوْلَيِكَ فِي ضَلَلٍ مُّبِينٍ Those are in manifest error. This is a threat and warning. Thus, those Jinns called their people with encouragement and warning. Because of this, many of the Jinns took heed and came to Allah's Messenger in successive delegations; and verily, Allah is worthy of all praise and gratitude, and Allah knows best.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

32۔ 1 یعنی ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ زمین کی وسعتوں میں اس طرح گم ہوجائے کہ اللہ کی گرفت میں نہ آسکے۔ ۔ 32۔ 1 جو اسے اللہ کے عذاب سے بچا لیں۔ مطلب یہ ہوا کہ نہ وہ خود اللہ کی گرفت سے بچنے پر قادر ہے اور نہ کسی دوسرے کی مدد سے ایسا ممکن ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٥] کیونکہ جن اب اوپر آسمان کی طرف تو جا نہیں سکتے اور اگر جائیں تو فرشتے انہیں مار بھگاتے ہیں۔ لہذا اب زمین ہی ان کی پناہ گاہ ہے۔ اب زمین سے بھاگ کر جائیں تو کہاں جائیں ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) ومن لایحب داعی اللہ …: بشارت کے بعد یہ نذارت ہے، جس میں اس کتاب پر ایمان نہ لانے والوں کو ڈرایا گیا ہے۔ یہ وہی بات ہے جو سورة جن میں ان الفاظ کے ساتھ بیان ہوئی ہے :(وانا ظننا ان لن نعجز اللہ فی الارض ولن نعجزہ ہرباً ) (الجن : ١٢)” اور یہ کہ ہم نے یقین کرلیا کہ بیشک ہم کبھی اللہ کو زمین میں عاجز نہیں کرسکیں گے اور نہ ہی بھاگ کر کبھی اسے عاجز کرسکیں گے۔ “ (٢) ولیس لہ من دونہ اولیآء : یعنی اللہ تعالیٰ کی دعوت قبول نہ کرنے والا نہ خود دنیا یا آخرت میں اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بھاگ کر کہیں جاسکتا ہے اور نہ ہی کسی طرح کے مددگار اس کی مدد کو پہنچ سکتے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَنْ لَّا يُجِبْ دَاعِيَ اللہِ فَلَيْسَ بِمُعْجِزٍ فِي الْاَرْضِ وَلَيْسَ لَہٗ مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِيَاۗءُ۝ ٠ ۭ اُولٰۗىِٕكَ فِيْ ضَلٰـلٍ مُّبِيْنٍ۝ ٣٢ عجز والعَجْزُ أصلُهُ التَّأَخُّرُ عن الشیء، وحصوله عند عَجُزِ الأمرِ ، أي : مؤخّره، كما ذکر في الدّبر، وصار في التّعارف اسما للقصور عن فعل الشیء، وهو ضدّ القدرة . قال : وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ [ التوبة/ 2] ، ( ع ج ز ) عجز الانسان عجز کے اصلی معنی کسی چیز سے پیچھے رہ جانا یا اس کے ایسے وقت میں حاصل ہونا کے ہیں جب کہ اسکا وقت نکل جا چکا ہو جیسا کہ لفظ کسی کام کے کرنے سے قاصر رہ جانے پر بولا جاتا ہے اور یہ القدرۃ کی ضد ہے ۔ قرآن میں ہے : وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ [ التوبة/ 2] اور جان رکھو کہ تم خدا کو عاجز نہیں کرسکو گے ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ دون يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم : هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ، ( د و ن ) الدون جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی مسلمان ) نہیں ہیں ۔ ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا ۔ مبینبَيَان والبَيَان : الکشف عن الشیء، وهو أعمّ من النطق، لأنّ النطق مختص بالإنسان، ويسمّى ما بيّن به بيانا . قال بعضهم : البیان يكون علی ضربین : أحدهما بالتسخیر، وهو الأشياء التي تدلّ علی حال من الأحوال من آثار الصنعة . والثاني بالاختبار، وذلک إما يكون نطقا، أو کتابة، أو إشارة . فممّا هو بيان بالحال قوله : وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] ، أي : كونه عدوّا بَيِّن في الحال . تُرِيدُونَ أَنْ تَصُدُّونا عَمَّا كانَ يَعْبُدُ آباؤُنا فَأْتُونا بِسُلْطانٍ مُبِينٍ [إبراهيم/ 10] . وما هو بيان بالاختبار فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] ، وسمّي الکلام بيانا لکشفه عن المعنی المقصود إظهاره نحو : هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] . وسمي ما يشرح به المجمل والمبهم من الکلام بيانا، نحو قوله : ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا بَيانَهُ [ القیامة/ 19] ، ويقال : بَيَّنْتُهُ وأَبَنْتُهُ : إذا جعلت له بيانا تکشفه، نحو : لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] ، وقال : نَذِيرٌ مُبِينٌ [ ص/ 70] ، وإِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] ، وَلا يَكادُ يُبِينُ [ الزخرف/ 52] ، أي : يبيّن، وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] . البیان کے معنی کسی چیز کو واضح کرنے کے ہیں اور یہ نطق سے عام ہے ۔ کیونکہ نطق انسان کے ساتھ مختس ہے اور کبھی جس چیز کے ذریعہ بیان کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی بیان کہہ دیتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ بیان ، ، دو قسم پر ہے ۔ ایک بیان بالتحبیر یعنی وہ اشیا جو اس کے آثار صنعت میں سے کسی حالت پر دال ہوں ، دوسرے بیان بالا ختیار اور یہ یا تو زبان کے ذریعہ ہوگا اور یا بذریعہ کتابت اور اشارہ کے چناچہ بیان حالت کے متعلق فرمایا ۔ وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] اور ( کہیں ) شیطان تم کو ( اس سے ) روک نہ دے وہ تو تمہارا علانیہ دشمن ہے ۔ یعنی اس کا دشمن ہونا اس کی حالت اور آثار سے ظاہر ہے ۔ اور بیان بالا ختیار کے متعلق فرمایا : ۔ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ اگر تم نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو ۔ اور ان پیغمروں ( کو ) دلیلیں اور کتابیں دے کر ( بھیجا تھا ۔ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] اور ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو ( ارشادات ) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ اور کلام کو بیان کہا جاتا ہے کیونکہ انسان اس کے ذریعہ اپنے مافی الضمیر کو ظاہر کرتا ہے جیسے فرمایا : ۔ هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] ( قرآن لوگوں کے لئے بیان صریح ہو ۔ اور مجمل مہیم کلام کی تشریح کو بھی بیان کہا جاتا ہے جیسے ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا بَيانَهُ [ القیامة/ 19] پھر اس ( کے معافی ) کا بیان بھی ہمارے ذمہ ہے ۔ بینہ وابنتہ کسی چیز کی شروع کرنا ۔ جیسے فرمایا : ۔ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] تاکہ جو ارشادت لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ ص/ 70] کھول کر ڈرانے والا ہوں ۔إِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] شیہ یہ صریح آزمائش تھی ۔ وَلا يَكادُ يُبِينُ [ الزخرف/ 52] اور صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا ۔ وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] . اور جهگڑے کے وقت بات نہ کرسکے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور جو آپ کا کہنا نہ مانے تو وہ عذاب الہی سے بچ نہیں سکتا اور اللہ کے علاوہ اس کے اقرباء اس کے کام نہیں آسکتے اور ایسے لوگ کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٢ { وَمَنْ لَّا یُجِبْ دَاعِیَ اللّٰہِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ } ” اور جو کوئی لبیک نہیں کہتا اللہ کی طرف پکارنے والے کی پکار پر تو وہ اللہ کو عاجز کرنے والا نہیں ہے زمین میں “ { وَلَیْسَ لَہٗ مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآئُط اُولٰٓئِکَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ } ” اور نہیں ہوں گے اس کے لیے اللہ کے مقابلے میں دوسرے مددگار۔ یہی لوگ کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ “ یہاں پر ” دَاعِیَ اللّٰہِ “ کے حوالے سے یہ نکتہ ذہن میں مستحضر رکھنے کی ضرورت ہے کہ جب تک دنیا میں نبوت کا سلسلہ جاری تھا انبیاء ورسل ہی ” اللہ کے داعی “ تھے۔ لیکن اب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے امتیوں کو ” دَاعِیَ اللّٰہِ “ کی حیثیت سے لوگوں کو قرآن کی طرف بلانا ہے ‘ انہیں اقامت دین کا بھولا ہوا سبق یاد دلانا ہے اور اس جدوجہد میں اپنا تن من دھن کھپانے کے لیے انہیں اس طرح آمادہ کرنا ہے کہ ہر بندہ مومن کی زندگی سورة الانعام کی اس آیت کی تصویر بن جائے : { اِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ } ” آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہیے : میری نماز ‘ میری قربانی ‘ میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ “ اس کام کے لیے اب چونکہ کوئی نبی نہیں آئے گا ‘ اس لیے ” دعوت الی اللہ “ کا یہ مقدس فریضہ اس امت کو سونپ دیا گیا ہے : { وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآئَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا } ( البقرۃ : ١٤٣) ” اور (اے مسلمانو ! ) اسی طرح ہم نے تمہیں ایک امت ِوسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہوجائو اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم پر گواہ ہو “۔ سورة آلِ عمران میں اس ذمہ داری کی مزید وضاحت اس طرح فرمائی گئی : { کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِِّ } (آیت ١١٠) ” تم وہ بہترین امت ہو جسے لوگوں کے لیے برپا کیا گیا ہے ‘ تم نیکی کا حکم کرتے ہو اور َبدی سے روکتے ہو اور تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

36 This sentence might also be a part of the saying of the jinns, or it might be an addition by Allah to their saying. In view of the context the second view seems to be more reasonable.

سورة الْاَحْقَاف حاشیہ نمبر :36 ہو سکتا ہے کہ یہ فقرہ بھی جنوں ہی کے قول کا حصہ ہو ، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ ان کے قول پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اضافہ ہو ۔ فحوائے کلام سے دوسری بات زیادہ قریب قیاس محسوس ہوتی ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(46:32) ومن : وائو عاطفہ من شرطیہ ہے۔ من لا یجب داعی اللہ جملہ شرط ہے ۔ اور فلیس بمعجز فی الارض۔ جواب شرط ہے۔ لا یحب مضارع منفی واحد مذکر غائب (مضارع مجزوم بوجہ عمل من شرطیہ ہے ) جو شخص اللہ کی طرف بلانے والے کی بات قبول نہ کرے گا۔ فلیس بمعجز۔ اس میں ف جواب شرط کا ہے لیس فعل ناقص واحد مذکر غائب۔ وہ نہیں ہے۔ معجز اسم فاعل واحد مذکر۔ اعجاز (افعال) مصدر۔ عاجز کرنے والا۔ تھکا دینے والا۔ تو وہ زمین پر خدا کو عاجز نہیں کرسکے گا۔ (کہ اگر اللہ تعالیٰ اس کو عذاب دینا چاہے اور وہ اس کی دسترس سے بچ نکلے۔ اولئک : یعنی جو لوگ اللہ کے داعی کے کہنے کو نہ مانیں گے۔ ضلل مبین : موصوف وصفت کھلی گمراہی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 یعنی اس سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتا۔ 10 جنوں کے متعلق جس واقعہ کا ان آیات میں ذکر کیا گیا ہے۔ صحیحین وغیرہ کی متعدد روایات سے معلمو ہوتا ہے کہ وہ بطن نخلہ میں پیش آیا جو مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان ایک وادی ہے۔ اس واقعہ کی تفصیل میں حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ آنحپرت کی بعث سے پہلے جنوں کو آسمان کی کچھ خبریں مل جایا کرتی تھیں مگر آنحضرت کی بعثت کے بعد یہ سلسلہ بند کردیا گیا اور جن خبریں حاصل کرنے کے لئے اوپر جاتے تو ان کو کثرت سے شہب کی مار پڑتی۔ اس پر انہیں خیال ہوا کہ زمین میں ضرور کوئی نیا واقعہ ہوا ہے جس کی وجہ سے آسمان پر سخت پہرے بٹھا دیئے گئے ہیں۔ اس جستجو میں جنوں کے مختلف گروہ مشرق و مغرب میں پھیل گئے۔ ادھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے چند صحابہ کے ساتھ سوق عکاظ جاتے ہوئے بطن نخلہ میں ٹھہرے ہوئے تھے وہاں آپ اپنے صحابہ کے ساتھ فجر کی نماز پڑھ رہے تھے کہ جنوں کی ایک جماعت وہاں آپہنچی اس کے بعد وہ واقعہ پیش آیا جس کا ان آیات میں ت ذکرہ ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بعثت سے کچھ بغد کا واقعہ ہے۔ بعض اصحاب سیرت نے اسے ہجرت سے کچھ پہلے کا واقعہ قرار دیا ہے جب آنحضرت طائف سے زخمی ہو کر بطن نخلہ میں قیام فرما تھے۔ علمائے تفسیر نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ حج کے دنوں کا واقعہ ہے جبکہ آنحضرت مکہ سے باہر صحابہ کے ساتھ صبح کین ماز ادا کر رہے تھے۔ جنوں کی پہلی آمد کے موقع پر آنحضرت نے نہ ان کو دیکھا اور نہ ان کی آمد کا آنحضرت کو پتا چلا حتی کہ سورة جن کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں اور وحی کے ذریعہ آپ کو مفصل حال معلوم ہوا۔ اس اواقعہ کے بعد بہت بڑی تعداد میں جن آنحضرت سے ملاقات کر کے ہدایت یاب ہوئے اور آپ نے ان کو احکام بھی سنائے ایک ملاقات کے موقعہ پر حضرت عبداللہ بن مسعود بھی آنحضرت کے ساتھ گئے تھے۔ (ابن کثیر) قرآن و حدیث سے جنوں کا وجودثابت ہے سلف صالح اور خلف جنوں کے وجود کو بالا جماع مانتے ہیں اس کے باوجود جو شخص ان کے وجود کا منجکر ہے اس کے کفر میں شبہ نہیں ہے۔ (سلفیہ)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ جنوں کے وفد کا اپنے ساتھیوں سے خطاب۔ جنوں کے وفد نے قرآن اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کے فوائد کا ذکر کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کو یہ بھی بتلایا کہ جس نے داعی الیٰ اللہ کی دعوت قبول نہ کی وہ اللہ تعالیٰ کو زمین میں عاجز اور بےبس نہیں کرسکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ اس کی گرفت کرنے پر آئے تو اس کی کوئی حمایت کرنے والا نہیں ہوگا۔ جنہوں نے داعی الیٰ اللہ کی دعوت قبول نہ کی وہ کھلی گمراہی میں مبتلا رہیں گے۔ جنوں کے وفدنے اپنے ساتھیوں کو دعوت دیتے ہوئے یہ بات بھی باور کروائی کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے مقابلے میں ہمیں زیادہ قوت عطا فرمائی ہے۔ لیکن ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ قوت والا ہے۔ اگر وہ ہمیں پکڑنا چاہے تو اسے کوئی بےبس اور عاجز نہیں کرسکتا اور نہ ہی ہمارا کوئی حمایتی اور مددگار ہوگا۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لاؤ گے تو اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں کمی اور نقص واقع نہیں ہوگا۔ جنوں نے اپنے ساتھیوں کو بین السطور یہ بات بھی سمجھادی کہ ہمارے ایمان لانے سے ہمیں ہی فائدہ ہوگا اور انکار کرنے پر ہمیں عذاب دیا جائے گا۔ لہٰذا ہمیں قرآن مجید پر ایمان لانا چاہیے یہی بات موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو سمجھائی تھی۔ (وَ قَالَ مُوْسٰٓی اِنْ تَکْفُرُوْٓا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا فَاِنَّ اللّٰہَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ) (ابراہیم : ٨) ” تم اور جو کوئی زمین میں ہے وہ اپنے کفر کا اعلان کردے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے غنی اور لائقِ تعریف ہے۔ “ (عَنْ أَبِی ذَرٍّ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فِیمَا رَوَی عَنِ اللَّہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی أَنَّہُ قَالَ یَا عِبَادِی إِنَّکُمْ لَنْ تَبْلُغُوا ضَرِّی فَتَضُرُّونِی وَلَنْ تَبْلُغُوا نَفْعِی فَتَنْفَعُونِی یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوا عَلَی أَتْقَی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْکُمْ مَا زَادَ ذَلِکَ فِی مُلْکِی شَیْءًا یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوا عَلَی أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِنْ مُلْکِی شَیْءًا یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ قَامُوا فِی صَعِیدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُونِی فَأَعْطَیْتُ کُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَہُ مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِمَّا عِنْدِی إِلاَّ کَمَا یَنْقُصُ الْمِخْیَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ ) (رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ و الآداب، باب تحریم الظلم) ” حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے میرے بندو ! تم مجھے نقصان اور نفع پہنچانے کی طاقت نہیں رکھتے۔ میرے بندو ! تمہارے تمام اگلے پچھلے جن وانس سب سے زیادہ متّقی انسان کے دل کی طرح ہوجائیں تو یہ میری سلطنت میں ذرّہ بھر اضافہ نہیں کرسکتے۔ میرے بندو ! تمہارے اگلے پچھلے جن وانس سب بدترین فاسق وفاجر انسان کے دل کی طرح ہوجائیں تو یہ میری حکومت میں کچھ نقص واقع نہیں کرسکتا۔ میرے بندو ! تمہارے اگلے پچھلے ‘ جن وانس اگر سب کھلے میدان میں اکٹھے ہوجائیں اور مجھ سے مانگنے لگیں اور میں ہر کسی کو اس کی منہ مانگی مرادیں دے دوں تو میرے خزانوں میں اتنی کمی بھی واقع نہیں کرسکتے جتنی سوئی کو سمندر میں ڈبونے سے ہوتی ہے۔ “ مسائل ١۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول کی بات قبول نہ کی وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کسی کی کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ ٣۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لاتے وہ کھلی گمراہی میں مبتلاہوتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن کھلی گمراہی میں مبتلا ہونے والے لوگ : ١۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے لوگ کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔ (آل عمران : ١٦٤، الجمعۃ : ٢) ٢۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا وہ واضح گمراہی میں مبتلا ہوگا۔ (الاحزاب : ٣٦) ٣۔ وہ شخص بہت بڑا ظالم ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ (الانعام : ٢١) ٤۔ کفار ” اللہ “ کے راستہ سے روکنے والے اور دور کی گمراہی میں ہیں۔ (النساء : ١٦٧) ٥۔ جس نے اللہ، رسول، ملائکہ، کتابوں اور دن آخرت کا انکار کیا وہ پرلے درجے کی گمراہی میں مبتلا ہوا۔ (النساء : ١٣٦) ٦۔ ” اللہ “ کے سوا غیروں کو پکارنے والے گمراہ ہیں۔ (الاحقاف : ٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ومن لا یحب داعی اللہ ۔۔۔۔۔ ضلل مبین (٤٦ : ٣٢) “ اور جو کوئی اللہ کے داعی کی بات نہ مانے وہ نہ زمین میں خود کوئی بل بوتا رکھتا ہے کہ اللہ کو زج کر دے اور نہ اس کے کوئی ایسے حامی اور سرپرست ہیں کہ اللہ سے اس کو بچا لیں۔ ایسے لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں ”۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان جنوں کے ڈراوے کا یہ ایک قدرتی حصہ ہے جو انہوں نے اپنی قوم کو دیا کیونکہ انہوں نے ان کو دعوت ایمان اور قبولیت حق دی۔ لہٰذا ڈراوے کا بعد قوی احتمال اس کا ہے کہ وہ اپنی قوم کو اس بات سے ڈرائیں کہ اگر انہوں نے اس بات کو قبول نہ کیا تو انجام کیا ہوگا۔ اور جو قبول نہ کرے گا وہ اللہ کو عاجز نہ کرسکے گا کہ اللہ اس پر سزا وجزاء کا نظام نافذ کرے ۔ اور اسے عذاب الیم دے۔ اور پھر قیامت میں ایسا شخص کوئی دوست و یار ایسا نہ پائے گا جو اس کی مدد کرسکے۔ اور یہ کہ نہ ماننے والے گمراہی کے راستے میں پھر بہت دور تک چلے جائیں گے۔ اسی طرح کی آیت میں بھی زیادہ احتمال یہ نظر آتا ہے کہ یہ بھی کلام جن ہے۔ یہ ان لوگوں پر تعجب ہے جو اللہ کی اس دعوت کو قبول نہیں کرتے۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ وہ قیامت سے بچ جائیں گے اور یہ کہ نہ قیامت ہے اور نہ جزاو سزا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿ وَ مَنْ لَّا يُجِبْ دَاعِيَ اللّٰهِ ﴾ (الآیۃ) یہ جنات کے کلام کا تتمہ ہے یا جملہ مستانفہ ہے دونوں صورتیں ہوسکتی ہیں اس میں یہ اعلان فرما دیا کہ جو کوئی شخص اللہ کے داعی کی بات نہ مانے یعنی ایمان نہ لائے تو وہ اپنا ہی نقصان کرے گا اور عذاب میں گرفتار ہوگا اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب گرفت ہوگی تو کہیں بھاگ کر نہیں جاسکے گا اور اللہ کے سوا کوئی مدد نہ کرسکے گا جس نے اللہ کے داعی کی نافرمانی کی وہ واضح گمراہی میں ہے۔ جو لوگ توحید کے منکر ہوتے ہیں وقوع قیامت کے بھی قائل نہیں ہوتے لہٰذا دعوت توحید کے بعد وقوع کا قیامت کا بھی تذکرہ فرمایا اور منکرین کا استبعاد دور کرتے ہوئے فرمایا کیا تم نے غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا فرمایا، اس کو تو تم مانتے ہو اتنی بڑی بڑی چیزوں کو پیدا فرمایا اور اسے ذرا بھی تھکن نہیں ہوئی جس نے ان کو پیدا فرما دیا کیا وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ وہ انسانوں کو اور دوسری چیزوں کو موت دے کر دوبارہ زندہ فرمائے ؟ تم تو غور ہی نہیں کرتے اور غور کرو گے تو یہ بات بآسانی سمجھ میں آجائے گی ﴿ بَلٰۤى﴾ وہ ضرور دوبارہ پیدا کرسکتا ہے مردوں کو زندہ کرسکتا ہے ﴿ اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ٠٠٣٣﴾ (بےشک وہ ہر چیز پر قادر ہے)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(32) اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والے کی بات نہ مانے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کو زمین میں کہیں بھاگ کر تھکا نہیں سکے گا اور نہ اللہ تعالیٰ کے سوا اس کا کوئی حمایتی اور مددگار ہوگا یہی وہ لوگ ہیں جو کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بھاگ کر زمین میں اوپر سے فرشتے مارتے ہیں تو زمین ہی کو تو بھاگتے ہیں۔ خلاصہ : یہ کہ زمین کے کسی حصے میں بھاگ کر خدا تعالیٰ کو عاجز کردے یہ نہیں ہوسکتا اور جس طرح یہ خدا تعالیٰ کی گرفت سے نہیں بچ سکتا اسی طرح اس کا کوئی حمایتی بھی نہیں ہوسکتا ایسے لوگ گمراہی میں مبتلا ہیں۔ یعنی داعی کے برحق ہونے پر دلائل قابم ہوجانے کے بعد پھر داعی کی بات نہ مانے تو اس سے بڑھ کر اور کون گمراہی میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ داعی اللہ سے مراد ہم نے جگہ جگہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اقدس لی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ داعی سے مراد قرآن ہو چونکہ کفار مکہ کے تکبر کا اوپر ذکر تھا اس لئے ان کے مقابلے میں جنات کا ذکر فرمایا کہ طبعاً ان میں تکبر اور بلندی کا مادہ زیادہ ہے لیکن جب وہ بھی قرآن کو سن کر اس کی جانب مائل ہوگئے تو اے کفار قریش تم تو انسان ہو تم کو داعی اللہ کی پکار پر ضروراجابت کرنی چاہیے۔ اب آگے بعثت اور دوبارہ زندہ ہونے پر اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے اس سورت کو ختم فرماتے ہیں۔