Surat ul Ehkaaf

Surah: 46

Verse: 4

سورة الأحقاف

قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ مَّا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَرُوۡنِیۡ مَاذَا خَلَقُوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ اَمۡ لَہُمۡ شِرۡکٌ فِی السَّمٰوٰتِ ؕ اِیۡتُوۡنِیۡ بِکِتٰبٍ مِّنۡ قَبۡلِ ہٰذَاۤ اَوۡ اَثٰرَۃٍ مِّنۡ عِلۡمٍ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۴﴾

Say, [O Muhammad], "Have you considered that which you invoke besides Allah ? Show me what they have created of the earth; or did they have partnership in [creation of] the heavens? Bring me a scripture [revealed] before this or a [remaining] trace of knowledge, if you should be truthful."

آپ کہہ دیجئے! بھلا دیکھو تو جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو مجھے بھی تو دکھاؤ کہ انہوں نے زمین کا کون سا ٹکڑا بنایا ہے یا آسمانوں میں اِن کا کون سا حصہ ہے ؟ اگر تم سچے ہو تو اس سے پہلے ہی کی کوئی کتاب یا کوئی علم ہی ہے جو نقل کیا جاتا ہو میرے پاس لاؤ ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قُلْ ... Say, meaning, to these idolators who worship others besides Allah. ... أَرَأَيْتُم مَّا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ أَرُونِي مَاذَا خَلَقُوا مِنَ الاَْرْضِ ... Think you about all that you invoke besides Allah Show me what they have created of the earth? meaning, `show me the place that they have independently created from the earth.' ... أَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِي السَّمَاوَاتِ ... Or have they a share in the heavens? which means that they are not partners in anything in the heavens, nor on earth. They do not own even the thin membrane covering a date's pit. The dominion and control only belong to Allah, Exalted is He. `How then would you worship others or join them as partners with Him? Who guided you to that? Who called you to that? Did He command you to do it, or is it something that you suggested yourselves?' Thus, He says, ... اِيْتُونِي بِكِتَابٍ مِّن قَبْلِ هَذَا ... Bring me a scripture prior to this? meaning, `bring a book from among the Books of Allah that have been revealed to the Prophets, that commands you to worship these idols.' ... أَوْ أَثَارَةٍ مِّنْ عِلْمٍ ... or some trace of knowledge, meaning, `some clear evidence justifying this way you have chosen.' ... إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ if you are truthful! meaning, `you have absolutely no evidence for that -- neither textual (from revelation) nor rational.' For this reason, some recited it; أَوْ أَثَرَةٍ مِنْ عِلْمٍ "or something inherited from knowledge." meaning, `or true knowledge that you have inherited from anyone before you.' This is similar to Mujahid's statement when he said, أَوْ أَثَارَةٍ مِّنْ عِلْمٍ (or some trace of knowledge). "Or anyone who has inherited any knowledge." Allah then says, وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ مَن لاَّ يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَومِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَايِهِمْ غَافِلُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

4۔ 1 ارایتم یعنی اخبرونی یا ارونی یعنی اللہ کو چھوڑ کر جن بتوں یا شخصیات کی تم عبادت کرتے ہو مجھے بتلاؤ یا دکھلاؤ کہ انہوں نے زمین و آسمان کی پیدائش میں کیا حصہ لیا ہے مطلب یہ ہے کہ جب آسمان و زمین کی پیدائش میں بھی ان کا کوئی حصہ نہیں ہے بلکہ مکمل طور پر ان سب کا خالق صرف ایک اللہ ہے تو پھر تم ان غیر حق معبودوں کو اللہ کی عبادت میں کیوں شریک کرتے ہو۔ 4۔ 2 یعنی کسی نبی پر نازل شدہ میں یا کسی منقول روایت میں یہ بات لکھی ہو تو وہ لا کر دکھاؤ تاکہ تمہاری صداقت واضح ہو سکے۔ بعض نے اثارہ من علم کے معنی واضح علمی دلیل کے کئے ہیں اس صورت میں کتاب سے نقلی دلیل اور اثارہ من علم سے عقلی دلیل مراد ہوگی یعنی کوئی عقلی اور نقلی دلیل پیش کرو پہلے معنی اس کے اثر سے ماخوذ ہونے کی بنیاد پر روایت کے کیے گئے ہیں یا بقیۃ من علم پہلے انبیاء علیم السلام کی تعلیمات کا باقی ماندہ حصہ جو قابل اعتماد ذریعے سے نقل ہوتا آیا ہو اس میں یہ بات ہو۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤] مشرکین سے شرک پر عقلی دلیل کا مطالبہ : سابقہ آیات میں مشرکین مکہ کے انکار آخرت کا رد پیش کیا گیا ہے۔ اس آیت اور اس سے مابعد کی آیات میں ان کے شرک پر تنقید کی جارہی ہے۔ ان سے پوچھا یہ جارہا ہے کہ اللہ کے سوا جن کی تم پوجا کرتے ہو اس کی کوئی وجہ تو بتاؤ۔ عبادت کے لائق تو وہی ہستی ہوسکتی ہے جس کا کائنات کی پیدائش میں کچھ عمل دخل ہو۔ بتاؤ اس کائنات کی کون سی چیز انہوں نے پیدا کی ہے۔ یا زمین یا آسمانوں کا کون سا حصہ انہوں نے بنایا تھا ؟ اور اگر انہوں نے کوئی چیز پیدا ہی نہیں کی تو پھر وہ اس کی ملکیت کیسے بن گئی جس میں تصرف کے اختیارات انہیں حاصل ہوں۔ [٥] کتاب اللہ یا آثار سے نقلی دلیل کا مطالبہ :۔ ایک طرف تو تم یہ تسلیم کرتے ہو کہ کائنات کی تخلیق میں تمہارے معبودوں کا کوئی حصہ نہیں، کوئی شراکت نہیں۔ دوسری طرف یہ بھی رٹ لگائے جاتے ہو کہ ان کو کائنات میں تصرف کے اختیار حاصل ہیں۔ یہ ہماری بگڑی بنا بھی سکتے ہیں اور اگر ان کی گستاخی کی جائے تو یہ انتقام بھی لے سکتے ہیں۔ تو یہ بات عقلی لحاظ سے غلط ہے۔ پھر اگر عقلی دلیل پیش نہیں کرسکتے تو کوئی نقلی دلیل ہی پیش کردو۔ کہیں بھی اللہ کی کتاب میں کوئی ایسی بات لکھی ہوئی دکھا دو کہ اللہ کے سوا کائنات میں دوسروں کو بھی کچھ اختیارات حاصل ہیں۔ یا اللہ کے فلاں قسم کے اختیارات مثلاً رزق دینے کے فلاں بت یا دیوتا یا بزرگ کو تفویض کر رکھے ہیں اور فلاں قسم کے مثلاً زندگی بخشنے کے اختیارات فلاں کو سپرد کردیئے ہیں اور اگر کتاب الٰہی میں ایسی تحریر موجود نہ ہو تو کسی علمی اثر میں ہی دکھادو۔ خ آثار سے کیا مراد ہے ؟ علمی اثر سے مراد کتاب اللہ کی وہ تفاسیر و شروح ہیں جو مستند ہوں۔ (جیسے ہمارے پاس کتاب اللہ تو قرآن کریم ہے اور عملی اثر احادیث ہیں۔ جن میں سلسلہ اسناد بھی درج ہوتا ہے جس سے یہ تحقیق کی جاسکتی ہے کہ فلاں حدیث کس درجہ کی ہے اور آیا وہ مقبول ہے یا مردود) اور اگر تمہارے پاس نہ کوئی عقلی دلیل موجود ہو اور نہ نقلی تو پھر سمجھ لو کہ تمہارے عقائد محض ظن اور اوہام پر مبنی ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) قل ارء یتم ماتدعون من دون اللہ …: جیسا کہ پچھلی آیت کی تفسیر میں تفصیل سیب یان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اکیلے معبود ہونے کی اور اس کے سوا تمام معبودوں کے باطل ہونے کی سب سے بڑی اور واضح دلیل اس کا ئنات کو پیدا کرنا ہے۔ یہ عقلی دلیل ہے جسے کوئی صاحب عقل رد نہیں کرسکتا، کفار کی اس کے جواب سے بےبسی واضح کرنے کے لئے اسے مناظرانہ انداز میں پیش کرنے کا حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں کہ مجھے بتاؤ کہ اللہ کے سوا جن ہستیوں کو تم پکارتے ہو، ذرا مجھے دکھاؤ زمین کی وہ کون سی چیز ہے جو انہوں نے پیدا کی ہے، یا آسمانوں میں ان کا کوئی حصہ ہے تو وہ دکھاؤ ؟ ظاہر ہے وہ ایسی کوئی چیز دکھا ہی نہیں سکتے، تو پھر کسی اور معبود کی عبادت کیوں کرتے ہیں۔ یہاں ایک لمبی بات کو مختصر کردیا ہے، اصل یہ تھا کہ مجھے دکھاؤ کہ زمین و آسمان کی کون سی چیز ہے جو پوری کی پوری انہوں نے پیدا کی ہو، یا زمین و آسمان کی کوئی چیز دکھاؤ جو پوری نہ سہی اس کے بنانے یا چلانے میں ان کا کچھ حصہ ہی ہو۔ پہلے جملے میں سے صرف زھین کا ذکر فرمایا آسمان کو حذف کردیا، دوسرے جملے میں آسمانوں کا ذکر فرمایا زمین کو حذف کردیا۔ یہ بات خودبخود سمجھ میں آرہی ہے کہ دونوں جملوں میں دونوں مراد ہیں، اسے بلاغت کی اصطلاح میں احتباک کہتے ہیں۔ بعض مفسرین نے یہاں لکھا ہے کہ آیت میں زمین کی کسی چیز کو پیدا کرنے کی نفی اور آسمانوں کی چیز میں شرکت کی نفی اس لئے فرمائی ہے کہ بظاہر زمین کی بعض اشیاء میں ان کی شرکت ہے جو آسمانوں میں بظاہر بھی نہیں۔ مگر یہ درست نہیں، کیونکہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے صاف الفاظ میں زمین و آسمان دونوں کی کسی چیز میں ان کی شرکت کی نفی فرمائی ہے۔ اس لئے وہی تفسیر درست ہے جو اوپر کی گئی ہے۔ دیکھیے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :(قل ادعوا الذین زعمتم من دون اللہ ولا یملکون مثقال ذرۃ فی السموت ولا فی الارض وما لھم فیھما من شرک ومالہ منھم من ظہیر) (سبا : ٢٢) ” کہہ دے پکارو ان کو جنہیں تم نے اللہ کے سوا گمان کر رکھا ہے، وہ نہ آسمانوں میں ذرہ برابر کے مالک ہیں اور نہ زمین میں اور نہ ان کا ان دونوں میں کوئی حصہ ہے اور نہ ان میں سے کوئی اس کا مددگار ہے۔ “ (٢) ایتونی بکتب من قبل ھذا او اثرۃ من علم …:” اثرۃ “ اثر ، یاتر، ائرا و آثارۃ وانزہ “ (ض ، ن) الحدیث “ بات کو نقل کرنا۔ ” مانور “ بمعنی ” منقول۔ “۔” اثرۃ من علم “ نقل شدہ یا پہلے لوگوں کا باقی ماندہ علم۔ یہ شرک کی تردید کی نقلی دلیل ہے، یعنی شرک کی عقلی دلیل پیش نہیں کرسکتے تو کوئی معتبر نقلی دلیل ہی لے آؤ۔ قرآن سے پہلے کی کسی آسمانی کتاب مثلاً تورات یا انجیل وغیرہ سے شرک کا ثبوت لے آؤ، جو کسی قابل اعتماد طریقے سے ہم تک پہنچتی ہو، کیونکہ اس کے بغیر اس کا آسمانی کتاب ہونا ثابت ہی نہیں ہوتا۔ یا پہلے انبیاء کی احادیث میں سے منقول کوئی حدیث لے آؤ، جو محض ظن و تحمین سے مقنول نہ ہو بلکہ اس سے علم و یقین حاصل ہوتا ہو۔ اس طرح کہ وہ صحیح سند یا تواتر کے ساتھ نقل ہوئی ہو، کیونکہ وہم و گمان پر مبنی چیز کو علم نہیں کہا جاتا، جیسا کہ فرمایا :(وما لھم بہ من علم، ان یتبعون الا الظن ، وان الظن لایغنی من الحق شیئاً ) (النجم :28)” حالانکہ انہیں اس کے متعلق کوئی علم نہیں، وہ صرف گمان کے پیچھے چل رہے ہیں اور بیشک گمان حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آتا۔ “ مگر تمہیں ایسی کوئی معتبر قدیم آسمانی کتاب یا کسی نبی کی حدیث نہیں ملے گی جس میں شرک کا شائبہ تک موجود ہو، کیونکہ ہر رسول نے توحید ہی کی تعلیم دی، فرمایا :(ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولاً ان اعبدواللہ واجتنبوا الطاغوت) (النحل : ٣٦)” اور بلا شبہ یقناً ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔ “ اور فرمایا :(وما ارسلنا من قبلک من رسول ٍ الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون) (الانبیائ : ٢٥)” اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میری سوا کوئی مبعود نہیں، سو میری عبادت کرو۔ “ بعض اہل علم نے فرمایا کہ ” اگر یہاں کتاب سے مراد کتاب الٰہی اور بقیہ علم سے مراد انبیاء و صلحاء کا چھوڑا ہوا علم نہ بھی لیا جائے تو دنیا کی کسی علمی کتاب اور دینی یا دنیوی علوم کے کسی ماہر کی تحقیقات میں بھی آج تک اس امر کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے کہ زمین یا آسمان کی فلاں چیز کو خدا کے سوا فلاں بزر گیا دیوتا نے پیدا کیا ہے، یا انسان جن نعمتوں سے اس کائنات میں متمتع ہو رہا ہے ان میں سے فلاں نعمت خدا کے بجائے فلاں معبود کی آفریدہ ہے۔ “ مگر یہ بات کلی طور پر درست نہیں، کیونکہ کئی دہریہ سائنسدان اپنی تحقیق کے ذریعے سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کائنات خود بخود پیدا ہوئی اور خود بخود ہی چل رہی ہے۔ زمانے کو خلاق ومالک قرار دینے والے لوگ اپنی اس جہالت کو تحقیق ہی کہتے ہیں ۔ اس لئے کتاب سے مراد آسمانی کتاب ہی لینا چاہیے، کیونکہ دوسری آیت سے صاف ظاہر ہے کہ کتاب سے مراد اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب ہے، جیسا کہ فرمایا :(قل ارئیتم شرکآء کم الذین تدعون من دون اللہ اورنی ماذا خلقوا من الارض ام لھم شرک فی السموت ، ام اتینھم کتباً فھم علی بینت منہ ، بل ان یعدالظلمون بعضھم بعضاً الا غروراً ) (فاطر : ٣٠) ” کہہ دے کیا تم نے اپنے شریکوں کو دیکھا جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ؟ مجھے دکھاؤ زمین میں سے انہوں نے کون سی چیز پیدا کی ہے، یا آسمانوں میں ان کا کوئی حصہ ہے، یا ہم نے انھیں کوئی کتاب دی ہے کہ وہ اس کی کسی دلیل پر قائم ہیں ؟ بلکہ ظالم لوگ، ان کے بعض بعض کو دھوکے کے سوا کچھ وعدہ نہیں دیتے۔ “ ان آیات سے معلوم ہوا کہ دین میں دل یل کے طور پر آسمانی کتاب پیش کی جاسکتی ہے یا آسمانی وحی پر مشتمل احادیث، ان کے علاوہ کسی کی تصنیف کو یا اس کے اقوال کو بطور دلیل پیش نہیں کیا جاسکتا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary قُلْ أَرَ‌أَيْتُم مَّا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ (Say, |"Tell me about those whom you invoke instead of Allah,...46:4) In these verses, the claim of the polytheists about the existence of some other gods has been refuted by demanding a proof to substantiate this claim, because no claim can be accepted, neither rationally nor according to the religious principles, unless it is proved by concrete evidences to support it. Then dealing with all possible types of arguments, it has been proved that they do not have any evidence or proof in their favor, and that their insisting on such a baseless claim is nothing but deviation from the truth. The arguments have been classified by these verses in three types. One is a rational argument. Verse 4 negates any argument of this type in their favor by saying, أَرُ‌ونِي مَاذَا خَلَقُوا مِنَ الْأَرْ‌ضِ أَمْ لَهُمْ شِرْ‌كٌ فِي السَّمَاوَاتِ |"Show me what they have created of the earth; Or have they a share in (the creation of the heavens?|" (46:4) The second type of argument is that which refers to and relies on the statement of an authority. It is obvious that, in any matter concerning Allah, no one can be an authority except Allah Himself, and His statements can be proved either by the divine books, like Torah, Injil or Qur&an, or by the sayings of the prophets sent by Him. Negation of the first type of authority in their case is established by saying, ائْتُونِي بِكِتَابٍ مِّن قَبْلِ هَـٰذَا |"Bring to me a book (revealed) before this one, (46:4) |" meaning that if you have any proof of this type, then bring the book revealed before the Qur&an which allows idol-worship. And the second type of argument (that may be based on the saying of a prophet) has been negated by saying, أَوْ أَثَارَ‌ةٍ مِّنْ عِلْمٍ |"or a trace of knowledge,|" (46:4) meaning thereby that if you cannot bring any revealed book to prove the validity of idol-worship, then at least put forward any authentic saying of any prophet which proves your contention. And if you can do neither, then your words and deeds are totally misguided. The original word used in the text is &atharah& which is an infinitive in the sense of &reporting& and has been explained by ` Ikrimah and Muqatil to mean a dictum of a prophet. The explanation given above is taken from the Tafsir of Qurtubi, and this is the explanation accepted by most exegetes. There are some other views in the interpretation of this verse, but they are neither well-established, nor in full harmony with the textual structure. Therefore, they are not adopted by the majority of the exegetes. (Allah knows best)

معارف و مسائل (آیت) قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۔ ان آیات میں مشرکین کے دعوے شرک کو باطل کرنے کے لئے ان سے ان کے دعوے پر دلیل کا مطالبہ کیا گیا ہے کیونکہ کوئی دعویٰ بغیر شہادت و دلیل کے عقلاً یا شرعاً قابل عمل نہیں ہوتا۔ پھر اس میں جتنی قسمیں دلائل کی ہو سکتی ہیں سب کو جمع کردیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ تمہارے دعوے پر کسی قسم کی بھی دلیل و شہادت موجود نہیں اس لئے اس بےدلیل دعوے پر قائم رہنا گمراہی ہے۔ دلائل کی اس آیت میں تین قسمیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک عقلی دلیل جس کی نفی کے لئے فرمایا (آیت) اَرُوْنِيْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَــهُمْ شِرْكٌ فِي السَّمٰوٰتِ دوسری قسم دلیل نقلی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں دلیل نقلی وہ ہی معتبر ہو سکتی ہے جو خود حق تعالیٰ کی طرف سے آئی ہو جیسے آسمانی کتابیں تورات انجیل اور قرآن وغیرہ یا ان حضرات کے اقوال جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول و نبی منتخب کیا ہے۔ ان دونوں قمسوں میں سے پہلی قسم کی نفی تو اس سے فرمائی (آیت) اِيْتُوْنِيْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ ھٰذَا یعنی اگر تمہارے پاس بت پرستی کی کوئی دلیل نقلی موجود ہے تو کسی آسمانی کتاب کو پیش کرو جس میں بت پرستی اور شرک کی اجازت دی گئی ہو اور دوسری قسم یعنی اقوال انبیاء کی نفی کے لئے فرمایا اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ یعنی اگر اللہ کی کسی کتاب میں تم شرک و بت پرستی کی کوئی دلیل ہو شہادت نہیں دکھا سکتے تو کم از کم انبیاء میں سے کسی کا قول دکھلاؤ جو سند معتمد کے ساتھ ان سے ثابت ہو اور جب تم یہ بھی پیش نہیں کرسکتے تو تمہارا قول و عمل بجز گمراہی کے اور کیا ہوسکتا ہے۔ لفظ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ میں اثرہ مصدر ہے بروزن شجاعت سماحت وغیرہ جس کے معنے نقل و روایت کے ہیں اسی لئے حضرت عکرمہ اور مقاتل نے اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ کی تفسیر میں روایت عن الانبیاء فرمایا اور قرطبی نے اس کی تفسیر اسناد حسن کے ساتھ فرمائی ہے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ دلیل نقلی کی دو قسمیں معتبر ہیں، ایک آسمانی کتاب جو اللہ تعالیٰ نے کسی پیغمبر پر نازل فرمائی، دوسرے پیغمبر کا قول جو اسناد معتبر کے ساتھ پیغمبر سے ثابت ہو۔ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ کا یہی مفہوم ہے۔ یہ سب مضمون تفسیر قرطبی سے لیا گیا ہے اور یہی تفسیر مختار اور بےغبار ہے بعض حضرات سے اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ کی تفسیر میں دوسرے اقوال بھی منقول ہیں مگر وہ ثابت نہیں اور نظم قرآنی کے مناسب بھی نہیں اسلئے جمہور کے نزدیک مختار نہیں۔ واللہ اعلم

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ اَرُوْنِيْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَــہُمْ شِرْكٌ فِي السَّمٰوٰتِ۝ ٠ ۭ اِيْتُوْنِيْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ ھٰذَآ اَوْ اَثٰرَۃٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۝ ٤ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] أي : نعم شيئا يعظکم به، وقوله : فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] فقد أجيز أن يكون ما نكرة في قوله : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها [ البقرة/ 26] ، وقد أجيز أن يكون صلة، فما بعده يكون مفعولا . تقدیره : أن يضرب مثلا بعوضة «1» . الثالث : الاستفهام، ويسأل به عن جنس ذات الشیء، ونوعه، وعن جنس صفات الشیء، ونوعه، وقد يسأل به عن الأشخاص، والأعيان في غير الناطقین . وقال بعض النحويين : وقد يعبّر به عن الأشخاص الناطقین کقوله تعالی: إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] ، إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] وقال الخلیل : ما استفهام . أي : أيّ شيء تدعون من دون اللہ ؟ وإنما جعله كذلك، لأنّ «ما» هذه لا تدخل إلّا في المبتدإ والاستفهام الواقع آخرا . الرّابع : الجزاء نحو : ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ الآية [ فاطر/ 2] . ونحو : ما تضرب أضرب . الخامس : التّعجّب نحو : فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] . وأمّا الحروف : فالأوّل : أن يكون ما بعده بمنزلة المصدر كأن الناصبة للفعل المستقبَل . نحو : وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] فإنّ «ما» مع رَزَقَ في تقدیر الرِّزْق، والدّلالة علی أنه مثل «أن» أنه لا يعود إليه ضمیر لا ملفوظ به ولا مقدّر فيه، وعلی هذا حمل قوله : بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] ، وعلی هذا قولهم : أتاني القوم ما عدا زيدا، وعلی هذا إذا کان في تقدیر ظرف نحو : كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] ، كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] ، كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] . وأما قوله : فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] فيصحّ أن يكون مصدرا، وأن يكون بمعنی الذي «3» . واعلم أنّ «ما» إذا کان مع ما بعدها في تقدیر المصدر لم يكن إلّا حرفا، لأنه لو کان اسما لعاد إليه ضمیر، وکذلک قولک : أريد أن أخرج، فإنه لا عائد من الضمیر إلى أن، ولا ضمیر لهابعده . الثاني : للنّفي وأهل الحجاز يعملونه بشرط نحو : ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] «1» . الثالث : الکافّة، وهي الدّاخلة علی «أنّ» وأخواتها و «ربّ» ونحو ذلك، والفعل . نحو : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ، إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] ، كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] وعلی ذلك «ما» في قوله : رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] ، وعلی ذلك : قَلَّمَا وطَالَمَا فيما حكي . الرابع : المُسَلِّطَة، وهي التي تجعل اللفظ متسلِّطا بالعمل، بعد أن لم يكن عاملا . نحو : «ما» في إِذْمَا، وحَيْثُمَا، لأنّك تقول : إذما تفعل أفعل، وحیثما تقعد أقعد، فإذ وحیث لا يعملان بمجرَّدهما في الشّرط، ويعملان عند دخول «ما» عليهما . الخامس : الزائدة لتوکيد اللفظ في قولهم : إذا مَا فعلت کذا، وقولهم : إمّا تخرج أخرج . قال : فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] ، وقوله : إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما[ الإسراء/ 23] . ( ما ) یہ عربی زبان میں دو قسم پر ہے ۔ اسمی اور حر فی پھر ہر ایک پانچ قسم پر ہے لہذا کل دس قسمیں ہیں ( 1 ) ما اسمی ہو تو واحد اور تذکیر و تانیث کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے ۔ پھر لفظا مفرد ہونے کے لحاظ سے اس کی طرف ضمیر مفرد بھی لوٹ سکتی ہے ۔ اور معنی جمع ہونے کی صورت میں ضمیر جمع کا لانا بھی صحیح ہوتا ہے ۔ یہ ما کبھی بمعنی الذی ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] اور یہ ( لوگ ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پر ستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں ۔ تو یہاں ما کی طرف یضر ھم میں مفرد کی ضمیر لوٹ رہی ہے اس کے بعد معنی جمع کی مناسب سے هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] آگیا ہے اسی طرح آیت کریمہ : ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جوان کو آسمانوں اور زمین میں روزیدینے کا ذرہ بھی اختیار نہیں رکھتے میں بھی جمع کے معنی ملحوظ ہیں اور آیت کریمہ : ۔ بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] کہ تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے ۔ میں بھی جمع کے معنی مراد ہیں اور کبھی نکرہ ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] بہت خوب نصیحت کرتا ہے ۔ تو یہاں نعما بمعنی شیئا ہے نیز فرمایا : ۔ فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] تو وہ بھی خوب ہیں ایت کریمہ : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها[ البقرة/ 26] کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کیس چیز کی میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما نکرہ بمعنی شیاء ہو اور یہ بھی کہ ماصلہ ہو اور اس کا ما بعد یعنی بعوضۃ مفعول ہو اور نظم کلام دراصل یوں ہو أن يضرب مثلا بعوضة اور کبھی استفھا فیہ ہوتا ہے اس صورت میں کبھی کبھی چیز کی نوع یا جنس سے سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی کسی چیز کی صفات جنسیہ یا نوعیہ کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی غیر ذوی العقول اشخاص اور اعیان کے متعلق سوال کے لئے بھی آجاتا ہے ۔ بعض علمائے نحو کا قول ہے کہ کبھی اس کا اطلاق اشخاص ذوی العقول پر بھی ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] مگر ان ہی بیویوں یا ( کنیزوں سے ) جو ان کی ملک ہوتی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں خواہ وہ کچھ ہی ہو خدا اسے جانتا ہے ۔ میں خلیل نے کہا ہے کہ ماتدعون میں ما استفہامیہ ہے ای شئی تدعون من دون اللہ اور انہوں نے یہ تکلف اس لئے کیا ہے کہ یہ ہمیشہ ابتداء کلام میں واقع ہوتا ہے اور مابعد کے متعلق استفہام کے لئے آتا ہے ۔ جو آخر میں واقع ہوتا ہے جیسا کہ آیت : ۔ ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُالآية [ فاطر/ 2] خدا جو اپنی رحمت کا در وازہ کھول دے اور مثال ماتضرب اضرب میں ہے ۔ اور کبھی تعجب کے لئے ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] یہ ( آتش جہنم کیسی بر داشت کرنے والے ہیں ۔ ما حرفی ہونے کی صورت میں بھی پانچ قسم پر ہے اول یہ کہ اس کا بعد بمنزلہ مصدر کے ہو جیسا کہ فعل مستقبل پر ان ناصبہ داخل ہونے کی صورت میں ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ تو یہاں ما رزق بمعنی رزق مصدر کے ہے اور اس ما کے بمعنی ان مصدر یہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کی طرف کہیں بھی لفظا ما تقدیر اضمیر نہیں لوٹتی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] اور ان کے جھوٹ بولتے کے سبب ۔ میں بھی ما مصدر ری معنی پر محمول ہے ۔ اسی طرح اتانیالقوم ماعدا زیدا میں بھی ما مصدر یہ ہے اور تقدیر ظرف کی صورت میں بھی ما مصدر یہ ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] جب بجلی ( چمکتی اور ) ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں ۔ كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] یہ جب لڑائی کے لئے آگ جلاتے ہیں ۔ خدا اس کو بجھا دیتا ہے ۔ كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] جب ( اس کی آگ ) بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو ( عذاب دینے ) کے لئے اور بھڑ کا دیں گے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] پس جو حکم تم کو ( خدا کی طرف سے ملا ہے وہ ( لوگوں ) کو سنا دو ۔ میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما مصدر یہ ہوا اور یہ بھی کہ ما موصولہ بمعنی الذی ہو ۔ یاد رکھو کہ ما اپنے مابعد کے ساتھ مل کر مصدری معنی میں ہونے کی صورت میں ہمیشہ حرفی ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ اسی ہو تو اس کی طرف ضمیر کا لوٹنا ضروری ہے پس یہ ارید ان اخرک میں ان کی طرح ہوتا ہے جس طرح ان کے بعد ضمیر نہیں ہوتی جو اس کی طرف لوٹ سکے اسی طرح ما کے بعد بھی عائد ( ضمیر نہیں آتی ۔ دوم ما نافیہ ہے ۔ اہل حجاز اسے مشروط عمل دیتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] یہ آدمی نہیں ہے تیسرا ما کا فہ ہے جو ان واخواتھا اور ( رب کے ساتھ مل کر فعل پر داخل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] نہیں بلکہ ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں ۔ كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] گویا موت کی طرف دھکیلے جارہے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے ۔ میں بھی ما کافہ ہی ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ قلما اور لما میں بھی ما کافہ ہوتا ہے ۔ چہارم ما مسلمۃ یعنی وہ ما جو کسی غیر عامل کلمہ کو عامل بنا کر مابعد پر مسلط کردیتا ہے جیسا کہ اذا ما وحیتما کا ما ہے کہ ما کے ساتھ مرکب ہونے سے قبل یہ کلمات غیر عاملہ تھے لیکن ترکیب کے بعد اسمائے شرط کا سا عمل کرتے ہیں اور فعل مضارع کو جز م دیتے ہیں جیسے حیثما نقعد اقعد وغیرہ پانچواں مازائدہ ہے جو محض پہلے لفظ کی توکید کے لئے آتا ہے جیسے اذا مافعلت کذا ( جب تم ایسا کرو ماتخرج اخرج اگر تم باہر نکلو گے تو میں بھی نکلو نگا قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] اگر تم کسی آدمی کو دیکھوں ۔ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما [ الإسراء/ 23] اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھا پے کو پہنچ جائیں ۔ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں یعنی دعاء اور نداء ایک دوسرے کی جگہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ دون يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم : هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ، ( د و ن ) الدون جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی مسلمان ) نہیں ہیں ۔ ( ماذا) يستعمل علی وجهين : أحدهما . أن يكون ( ما) مع ( ذا) بمنزلة اسم واحد، والآخر : أن يكون ( ذا) بمنزلة ( الذي) ، فالأوّل نحو قولهم : عمّا ذا تسأل ؟ فلم تحذف الألف منه لمّا لم يكن ما بنفسه للاستفهام، بل کان مع ذا اسما واحدا، وعلی هذا قول الشاعر : دعي ماذا علمت سأتّقيه أي : دعي شيئا علمته . وقوله تعالی: وَيَسْئَلُونَكَ ماذا يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 219] ، فإنّ من قرأ : قُلِ الْعَفْوَ بالنّصب فإنّه جعل الاسمین بمنزلة اسم واحد، كأنّه قال : أيّ شيء ينفقون ؟ ومن قرأ : قُلِ الْعَفْوَ بالرّفع، فإنّ ( ذا) بمنزلة الذي، وما للاستفهام أي : ما الذي ينفقون ؟ وعلی هذا قوله تعالی: ماذا أَنْزَلَ رَبُّكُمْ ؟ قالُوا : أَساطِيرُ الْأَوَّلِينَ [ النحل/ 24] ، و (أساطیر) بالرّفع والنصب ( ماذا ) اور ماذا ، ، بھی دو طرح استعمال ہوتا ہے ۔ اول یہ کہ ، ، مازا کے ساتھ مل کر بمنزلہ ایک اسم کے ہو ۔ دوم یہ کہ ذا لذی کے ہو ( ما بمعنی اول یہ کہ ماذا ، ، کے ساتھ مل کر بمنزلہ ایک اسم کے ہو ۔ دوم یہ کہ ذا بمنزلہ الذی کے ہو ( ما بمعنی ای شئی کے ہو پہلی قسم کی مثال جیسے : عما ذا تسال کہ کسی چیز کے بارے میں سوال کرتے ہو اس صورت میں چونکہ ، ، ماذا اکیلا ، ، استفہام کے لئے نہیں ہے بلکہ ، ، ذا کے ساتھ مل کر ایک اسم بنتا ہے اس لئے ، ، ما ، ، کے الف کو حزف نہیں کیا گیا ۔ اسی معنی میں شاعر نے کہا ہے یعنی جو چیز تجھے معلوم ہے اسے چھوڑ دے میں اس سے بچنے کی کوشش کرونگا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَيَسْئَلُونَكَ ماذا يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 219] اور یہ بھی تم سے پوچھتے ہیں کہ کہ ( خدا کی راہ میں ) کونسا مال خرچ مال کریں ۔ میں جو لوگ کو منصوب پڑھتے ہیں ۔ وہ ماذا کو بمنزلہ ایک اسم کے مانتے ہیں کونسی چیز صرف کریں مگر جن کے نزدیک ہے اور ما استفہا میہ ہے یعنی وہ کونسی چیز ہے جسے خرچ کریں ۔ اس بنا پر آیت کریمہ : ۔ ماذا أَنْزَلَ رَبُّكُمْ ؟ قالُوا : أَساطِيرُ الْأَوَّلِينَ [ النحل/ 24] کہ تمہارے پروردگار نے کیا اتارا ہی تو کہتے ہیں کہ ( وہ تو ) پہلے لوگوں کی حکایتیں ہیں ۔ میں اساطیر رفع اور نصب دونوں جائز ہیں ۔ أَمْ»حرف إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه : أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ بل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ } ( سورة ص 63) ( یا) ہماری آنکھیں ان ( کی طرف ) سے پھر گئی ہیں ۔ شرك وشِرْكُ الإنسان في الدّين ضربان : أحدهما : الشِّرْكُ العظیم، وهو : إثبات شريك لله تعالی. يقال : أَشْرَكَ فلان بالله، وذلک أعظم کفر . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] ، والثاني : الشِّرْكُ الصّغير، وهو مراعاة غير اللہ معه في بعض الأمور، وهو الرّياء والنّفاق المشار إليه بقوله : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] ، ( ش ر ک ) الشرکۃ والمشارکۃ دین میں شریک دو قسم پر ہے ۔ شرک عظیم یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا اور اشراک فلان باللہ کے معنی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے ہیں اور یہ سب سے بڑا کفر ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے ۔ دوم شرک صغیر کو کسی کام میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو بھی جوش کرنے کی کوشش کرنا اسی کا دوسرا نام ریا اور نفاق ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] تو اس ( بچے ) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں جو وہ شرک کرتے ہیں ۔ خدا کا ( رتبہ ) اس سے بلند ہے ۔ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ «5» ، وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ «6» . والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ، وقوله تعالی: أَتى أَمْرُ اللَّهِ [ النحل/ 1] ، وقوله : فَأَتَى اللَّهُ بُنْيانَهُمْ مِنَ الْقَواعِدِ [ النحل/ 26] ، أي : بالأمر والتدبیر، نحو : وَجاءَ رَبُّكَ [ الفجر/ 22] ، وعلی هذا النحو قول الشاعر : 5- أتيت المروءة من بابها «7» فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقوله : لا يَأْتُونَ الصَّلاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسالی [ التوبة/ 54] ، أي : لا يتعاطون، وقوله : يَأْتِينَ الْفاحِشَةَ [ النساء/ 15] ، وفي قراءة عبد اللہ : ( تأتي الفاحشة) «1» فاستعمال الإتيان منها کاستعمال المجیء في قوله : لَقَدْ جِئْتِ شَيْئاً فَرِيًّا [ مریم/ 27] . يقال : أتيته وأتوته الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے بطور تشبیہ مسافر کو اتاوی کہہ دیتے ہیں ۔ الغرض اتیان کے معنی |" آنا |" ہیں خواہ کوئی بذاتہ آئے یا اس کا حکم پہنچے یا اس کا نظم ونسق وہاں جاری ہو یہ لفظ خیرو شر اور اعیان و اعراض سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : {إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ } [ الأنعام : 40] اگر تم پر خدا کا عذاب آجائے یا قیامت آموجود ہو { أَتَى أَمْرُ اللَّهِ } [ النحل : 1] خد اکا حکم ( یعنی عذاب گویا ) آہی پہنچا۔ اور آیت کریمہ { فَأَتَى اللَّهُ بُنْيَانَهُمْ مِنَ الْقَوَاعِدِ } [ النحل : 26] میں اللہ کے آنے سے اس کے حکم کا عملا نفوذ مراد ہے جس طرح کہ آیت { وَجَاءَ رَبُّكَ } [ الفجر : 22] میں ہے اور شاعر نے کہا ہے ۔ (5) |" اتیت المروءۃ من بابھا تو جو انمروی میں اس کے دروازہ سے داخل ہوا اور آیت کریمہ ۔ { وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَى } [ التوبة : 54] میں یاتون بمعنی یتعاطون ہے یعنی مشغول ہونا اور آیت کریمہ ۔ { يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ } [ النساء : 15] میں الفاحشہ ( بدکاری ) کے متعلق اتیان کا لفظ ایسے ہی استعمال ہوا ہے جس طرح کہ آیت کریمہ ۔ { لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا } [ مریم : 27] فری کے متعلق مجئی کا لفظ استعمال ہوا ہے ( یعنی دونوں جگہ ارتکاب کے معنی ہیں ) اور آیت ( مذکورہ ) میں ایک قرات تاتی الفاحشۃ دونوں طرح آتا ہے ۔ چناچہ ( دودھ کے ، مشکیزہ کو بلونے سے جو اس پر مکھن آجاتا ہے اسے اتوۃ کہا جاتا ہے لیکن اصل میں اتوۃ اس آنے والی چیز کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز سے حاصل ہوکر آئے لہذا یہ مصدر بمعنی فاعل ہے ۔ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] ، ويقال بإزاء هذا في المستبعد بالشخص أو بالمنزلة : ( ذَاكَ ) و ( ذلك) قال تعالی: الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] ، ذلِكَ مِنْ آياتِ اللَّهِ [ الكهف/ 17] ، ذلِكَ أَنْ لَمْ يَكُنْ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرى [ الأنعام/ 131] ، إلى غير ذلك . ( ذ ا ) ہاں ھذا میں ذا کا لفظ اسم اشارہ ہے جو محسوس اور معقول چیز کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے ۔ چناچہ کہا جاتا ہے ۔ ھذہ وھذی وھاتا ۔ ان میں سے سرف ھاتا کا تژنیہ ھاتان آتا ہے ۔ ھذہٰ اور ھٰذی کا تثنیہ استعمال نہیں ہوتا قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تونے مجھ پر فضیلت دی ہے ۔ هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] یہ وہ چیزیں ہیں جن کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ۔ هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] یہ وہی ہے جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے ۔ إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ۔ هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] یہی وہ جہنم ہے جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے ۔ هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] یہی وہ جہنم ہے جسے گنہگار لوگ جھٹلاتے تھے ۔ ھذا کے بالمقابل جو چیز اپنی ذات کے اعتبار سے دور ہو یا باعتبار مرتبہ بلند ہو ۔ اس کے لئے ذاک اور ذالک استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] یہ کتاب یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہے ۔ ذلِكَ مِنْ آياتِ اللَّهِ [ الكهف/ 17] یہ اس لئے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہلاک کردے ۔ أثر أَثَرُ الشیء : حصول ما يدلّ علی وجوده، يقال : أثر وأثّر، والجمع : الآثار . قال اللہ تعالی: ثُمَّ قَفَّيْنا عَلى آثارِهِمْ بِرُسُلِنا «1» [ الحدید/ 27] ، وَآثاراً فِي الْأَرْضِ [ غافر/ 21] ، وقوله : فَانْظُرْ إِلى آثارِ رَحْمَتِ اللَّهِ [ الروم/ 50] . ومن هذا يقال للطریق المستدل به علی من تقدّم : آثار، نحو قوله تعالی: فَهُمْ عَلى آثارِهِمْ يُهْرَعُونَ [ الصافات/ 70] ، وقوله : هُمْ أُولاءِ عَلى أَثَرِي [ طه/ 84] . ومنه : سمنت الإبل علی أثارةٍأي : علی أثر من شحم، وأَثَرْتُ البعیر : جعلت علی خفّه أُثْرَةً ، أي : علامة تؤثّر في الأرض ليستدل بها علی أثره، وتسمّى الحدیدة التي يعمل بها ذلک المئثرة . وأَثْرُ السیف : جو هره وأثر جودته، وهو الفرند، وسیف مأثور . وأَثَرْتُ العلم : رویته «3» ، آثُرُهُ أَثْراً وأَثَارَةً وأُثْرَةً ، وأصله : تتبعت أثره . أَوْ أَثارَةٍ مِنْ عِلْمٍ [ الأحقاف/ 4] ، وقرئ : (أثرة) «4» وهو ما يروی أو يكتب فيبقی له أثر . والمآثر : ما يروی من مکارم الإنسان، ويستعار الأثر للفضل ( ا ث ر ) اثرالشیئ ۔ ( بقیہ علامت ) کسی شی کا حاصل ہونا جو اصل شیئ کے وجود پر دال ہوا اس سے فعل اثر ( ض) واثر ( تفعیل ) ہے اثر کی جمع آثار آتی ہے قرآن میں ہے :۔ { ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلَى آثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا } [ الحدید : 27] پھر ہم نے ان کے پیھچے اور پیغمبر بھیجے { وَآثَارًا فِي الْأَرْضِ } [ غافر : 21] اور زمین میں نشانات بنانے کے لحاظ سے { فَانْظُرْ إِلَى آثَارِ رَحْمَتِ اللَّهِ } [ الروم : 50] تم رحمت الہی کے نشانات پر غور کرو اسی سے ان طریق کو آثار کہا جاتا ہے جس سے گذشتہ لوگوں ( کے اطوار وخصائل ) پر استدلال ہوسکے جیسے فرمایا { فَهُمْ عَلَى آثَارِهِمْ يُهْرَعُونَ } [ الصافات : 70] سو وہ انہیں کے نقش قدم پر دوڑتے چلے جاتے ہیں ۔ { هُمْ أُولَاءِ عَلَى أَثَرِي } [ طه : 84] وہ میرے طریقہ پر کار بند ہیں ۔ اسی سے مشہور محاورہ ہے سمنت الابل علی آثارۃ اثرمن شحم فربہ شدند شتراں پر بقیہ پیہ کہ پیش ازیں بود اثرت البعیر ۔ میں نے اونٹ کے تلوے پر نشان لگایا تاکہ ( گم ہوجانے کی صورت میں ) اس کا کھوج لگایا جا سکے ۔ اور جس لوہے سے اس قسم کا نشان بنایا جاتا ہے اسے المئثرۃ کہتے ہیں ۔ اثرالسیف ۔ تلوار کا جوہر اسکی عمدگی کا کا نشان ہوتا ہے ۔ سیف ماثور ۔ جوہر دار تلوار ۔ اثرت ( ن ) العلم آثرہ اثرا واثارۃ اثرۃ ۔ کے معنی ہیں علم کو روایت کرنا ۔ در اصل اس کے معنی نشانات علم تلاش کرنا ہوتے ہیں ۔ اور آیت ۔ { أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ } ( سورة الأَحقاف 4) میں اثارۃ سے مراد وہ علم ہے جس کے آثار ( تاحال ) روایت یا تحریر کی وجہ سے باقی ہوں ایک قراۃ میں اثرۃ سے یعنی اپنے مخصوص علم سے المآثر انسانی مکارم جو نسلا بعد نسل روایت ہوتے چلے آتے ہیں ۔ اسی سے بطور استعارہ اثر بمعنی فضیلت بھی آجاتا ہے ۔ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا صدق الصِّدْقُ والکذب أصلهما في القول، ماضیا کان أو مستقبلا، وعدا کان أو غيره، ولا يکونان بالقصد الأوّل إلّا في القول، ولا يکونان في القول إلّا في الخبر دون غيره من أصناف الکلام، ولذلک قال : وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ص دق) الصدق ۔ یہ ایک الکذب کی ضد ہے اصل میں یہ دونوں قول کے متعلق استعمال ہوتے ہیں خواہ اس کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہو یا مستقبل کے ۔ وعدہ کے قبیل سے ہو یا وعدہ کے قبیل سے نہ ہو ۔ الغرض بالذات یہ قول ہی کے متعلق استعمال ہوتے ہیں پھر قول میں بھی صرف خبر کے لئے آتے ہیں اور اس کے ماسوا دیگر اصناف کلام میں استعمال نہیں ہوتے اسی لئے ارشاد ہے ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ وہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

آپ ان مکہ والوں سے یہ تو پوچھیے کہ جن معبودوں کی تم پرستش کرتے ہو مجھے بتاؤ تو سہی کہ انہوں نے کونسی چیز پیدا کی ہے یا آسمانوں اور زمینوں کے بنانے میں انہوں نے کیا مدد کی ہے۔ یا قرآن کریم سے پہلے کی اپنے دعوی کی تصدیق کے لیے کوئی کتاب لاؤ یا علماء سے اس بارے میں کوئی معتبر چیز ہو یا کہ انبیاء کرام کے علم میں کوئی اس کا پیش خیمہ ہو اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤ { قُلْ اَرَئَ یْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ } ” (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) ان سیکہیے کہ کبھی تم نے غور بھی کیا کہ جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ‘ مجھے دکھائو تو سہی کہ انہوں نے کیا پیدا کیا ہے زمین میں ؟ “ { اَمْ لَہُمْ شِرْکٌ فِی السَّمٰوٰتِ } ” یا ان کی کوئی شراکت ہے آسمانوں میں ؟ “ { اِیْتُوْنِیْ بِکِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ ہٰذَآ اَوْ اَثٰرَۃٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ } ” لائو میرے پاس کوئی کتاب اس سے پہلے کی یا کوئی ایسی روایت جس کی بنیاد علم پر ہو اگر تم سچے ہو ! “ اپنے ان معبودوں کے بارے میں مجھ سے کسی الہامی ثبوت یا علمی اور منطقی دلیل سے بات کرو۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

4 As the addresses are a polytheistic people they are being told the reality of the irrational crced in which they persisted carelessly due to lack of the sense of responsibility. Along with acknowledging Allah as the Creator of the universe they had made many other beings their deities: they invoked them, regarded them as fulfillers of their needs and removers of hardships: prostrated themselves and made offerings before them, and thought they had the powers of making and unmaking of heir destinies. About the same beings, they are being asked: "On what basis have you made them your deities ?" Obviously, there can be only two bases for regarding someone as an associate in worship along with Allah: either man himself should know through some means of knowledge that his deity too has a share in making the earth and heavens, or Allah Himself may have stated that soand-so also is His associate in the functions of Godhead. Now, if a polytheist can neither make the claim that he possesses direct knowledge of his deity's being an associate of God, nor he can show in a Book sent by God that God Himself has appointed somebody as His associate, his creed would inevitably be baseless. In this verse, "a Book revealed before this" implies a Book sent by Allah before the Qur'an, and "some remnant" of knowledge implies some part of the teachings of the Prophets and righteous men of the ancient times, which may have reached the later generations reliably. There is no tinge of shirk in whatever man has received through these two means. All the heavenly Books unanimously present the same Tauhid to which the Qur'an invites the people, and no existing remnant of the ancient lore bears evidence to this that some Prophet or saint or righteous man might have taught the people to serve and worship any other than God. Even if we do not take a Book to mean a Divine Book and remnant of knowledge the knowledge bequeathed by the Prophets and righteous men, no authentic book or the research made by a scholar of religious or secular lore has pointed out that such and such a thing in the earth or the heavens has been created by such and such a saint or god, or a certain blessing of the-blessings of life which man 'is benefiting from in the universe has been created by such and such a deity instead of God.

سورة الْاَحْقَاف حاشیہ نمبر :4 چونکہ مخاطب ایک مشرک قوم کے لوگ ہیں اس لیے ان کو بتایا جا رہا ہے کہ احساس ذمہ داری کے فقدان کی وجہ سے وہ کس طرح بے سوچے سمجھے ایک نہایت غیر معقول عقیدے سے چمٹے ہوئے ہیں ۔ وہ اللہ تعالیٰ کو خالق کائنات ماننے کے ساتھ بہت سی دوسری ہستیوں کو معبود بنائے ہوئے تھے ، ان سے دعائیں مانگتے تھے ، ان کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے تھے ، ان کے آگے ماتھے رگڑتے اور نذر و نیاز پیش کرتے تھے ، اور یہ خیال کرتے تھے کہ ہماری قسمتیں بنانے اور بگاڑنے کے اختیارات انہیں حاصل ہیں ۔ انہی ہستیوں کے متعلق ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ انہیں آخر کس بنیاد پر تم نے اپنا معبود مان رکھا ہے؟ ظاہر بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو معبودیت میں حصہ دار قرار دینے کے لیے دو ہی بنیادیں ہو سکتی ہیں ۔ یا تو آدمی کو خود کسی ذریعہ علم سے یہ معلوم ہو کہ زمین و آسمان کے بنانے میں واقعی اس کا بھی کوئی حصہ ہے ۔ یا اللہ تعالیٰ نے آپ سے یہ فرمایا ہو کہ فلاں صاحب بھی خدائی کے کام میں میرے شریک ہیں ۔ اب اگر کوئی مشرک نہ یہ دعویٰ کر سکتا ہو کہ اسے اپنے معبودوں کے شریک خدا ہونے کا براہ راست علم حاصل ہے ، اور نہ خدا کی طرف سے آئی ہوئی کسی کتاب میں یہ دکھا سکے کہ خدا نے خود کسی کو اپنا شریک قرار دیا ہے تو لا محالہ اس کا عقیدہ قطعی بے بنیاد ہی ہو گا ۔ اس آیت میں پہلے آئی ہوئی کتاب سے مراد کوئی ایسی کتاب ہے جو قرآن سے پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجی گئی ہو ۔ اور علم کے بقیہ سے مراد قدیم زمانے کے انبیاء اور صلحاء کی تعلیمات کا کوئی ایسا حصہ ہے جو بعد کی نسلوں کو کسی قابل اعتماد ذریعہ سے پہنچا ہو ۔ اور دونوں ذرائع سے جو کچھ بھی انسان کو ملا ہے اس میں کہیں شرک کا شائبہ تک موجود نہیں ہے ۔ تمام کتب آسمانی بالاتفاق وہی توحید پیش کرتی ہیں جس کی طرف قرآن دعوت دے رہا ہے ۔ اور علوم اولین کے جتنے نقوش بھی بچے کھچے موجود ہیں ان میں بھی کہیں اس امر کی شہادت نہیں ملتی کہ کسی نبی یا ولی یا مرد صالح نے کبھی لوگوں کو خدا کے سوا کسی اور کی بندگی و عبادت کرنے کی تعلیم دی ہو ۔ بلکہ اگر کتاب سے مراد کتاب الٰہی ، اور بقیہ علم سے مراد انبیاء و صلحاء کا چھوڑا ہوا علم نہ بھی لیا جائے ، تو دنیا کی کسی علمی کتاب اور دینی یا دنیوی علوم کے کسی ماہر کی تحقیقات میں بھی آج تک اس امر کی نشان دہی نہیں کی گئی ہے کہ زمین یا آسمان کی فلاں چیز کو خدا کے سوا فلاں بزرگ یا دیوتا نے پیدا کیا ہے ، یا انسان جن نعمتوں سے اس کائنات میں متمتع ہو رہا ہے ان میں سے فلاں نعمت خدا کے بجائے فلاں معبود کی آفریدہ ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

1: ان آیتوں میں یہ فرمایا گیا ہے کہ مشرکین کے پاس اپنے شرک والے عقیدوں کو ثابت کرنے کے لئے نہ کوئی عقلی دلیل ہے جو یہ ثابت کرسکے کہ جن معبودوں کو یہ پوجتے ہیں، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی خدائی میں کوئی حصہ لیا ہے، اور نہ کوئی نقلی دلیل ہے، نقلی دلیل دو قسم کی ہوسکتی ہے ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے کوئی ایسی کتاب نازل ہوئی ہو جس میں ان معبودوں کو اللہ تعالیٰ کی خدائی میں شریک قرار دیا گیا ہو، مشرکین سے کہا جارہا ہے کہ اگر ایسی کوئی کتاب ہے تو لاکر دکھاؤ، نقلی دلیل کی دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ کسی پیغمبر نے کوئی بات کہی ہو، اور اس بات پر کوئی علمی سند موجود ہو کہ واقعی انہوں نے ایسا کہا ہے، کوئی روایت جس کی بنیاد علم پر ہو سے مراد یہی ہے خلاصہ یہ کہ مشرکین کے پاس اپنے عقیدے کے ثبوت میں نہ کوئی آسمانی کتاب ہے اور نہ کسی پیغمبر کا کوئی قول جو مستند طریقہ پر ثابت ہو۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(46:4) قل : ای قل یا محمد۔ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ ارأیتم۔ ہمزہ استفہامیہ، تنبیہ کے طور پر آیا ہے۔ رأیتم ماضی جمع مذکر حاضر رؤیۃ (باب فتح) مصدر رای مادہ۔ کیا تم نے دیکھا۔ اخبرونی : یعنی مجھے بتائو تو سہی بھلا تم نے غور سے دیکھا۔ اسی طرح الم تر۔ کیا تو نے نہیں دیکھا۔ کیا تجھے نہیں معلوم، یا ھل تری۔ کیا تمہارا یہ خیال نہیں کہ :۔ ما تدعون من دون اللہ : ما موصولہ ہے تدعون جمع مذکر حاضر، دعاء (باب نصر) مصدر۔ تم پکارتے ہو۔ تم پوجا کرتے ہو۔ قل : فعل امر، کفار سے مندرجہ ذیل سوال پوچھنے کا ارشاد ہوا ہے۔ (1) ان سے پوچھئے : کیا جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (خدا سمجھ کر) بھلا تم نے کبھی ان کو (غور سے ) دیکھا ہے۔ (2) ان سے پوچھئے : جو انہوں نے زمین سے پیدا کیا ہے بھلا مجھے بھی تو دکھائو۔ ارونی اراء ۃ (افعال) مصدر سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر، ن وقایہ ۔ ی ضمیر متکلم۔ تم مجھے دکھائو۔ ما ذا۔ ما استفہامیہ ہے اور ذا موصول ۔ یا اگر کلمہ ما ذا واحد لیا جاوے تو ماذا استفہامیہ بمعنی جو ہوگا۔ (3) ان سے پوچھئے :۔ ام لہم شرک فی السموت کیا آسمانوں (کی تخلیق) میں ان کا کچھ حصہ ہے۔ (4) ان سے پوچھئے :۔ ایتونی بکتب من قبل ھذا۔ لائو میرے پاس کوئی کتاب جو اس سے پہلے (یعنی قرآن مجید سے قبل) اتری ہو (جس میں من دون اللہ کی پوجا کرنے یا اس کو خالق و معبود ٹھہرانے کی سند ہو) ۔ ایتونی تم میرے پاس لائو ۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اتیان مصدر (باب ضرب) بصلہ ب۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم۔ (5) ان سے پوچھئے ۔ او اثرۃ من علم۔ ای او ایتونی باثرۃ من علم یا لائو میرے پاس کوئی (دوسرا) علمی ثبوت۔ اثرۃ وہ روایت یا تحریر جس کا اثر باقی رہ گیا ہو ۔ ان کنتم صدقین : اگر تم سچے ہو۔ اوپر متذکرۃ الصدر عبارت جواب شرط اور جملہ ہذا شرط۔ شرط کو مؤخر اور جواب شرط کو مقدم لایا گیا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 ابن عباس نے اس کی تفسیر علمی روایت “ سے کی ہے۔ یعنی آنحضرت سے پہلے انبیاء و صلی کی تعلیمات کا کوئی ایسا باقیماندہ حصہ جو بعد کی نسلوں تک کسی قابل اعتماد ذریعہ سے پہنچا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ شرک پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ (ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یعنی ظاہر ہے کہ تم بھی ان کو خالق نہیں مانتے جو کہ دلیل ہوسکتی ہے استحقاق الوہیت کی، بلکہ مخلوق کہتے ہو استحقاق الوہیت کی منافی ہے، پس دلیل عقلی تو منفی ہوئی۔ 4۔ مطلب یہ کہ دلیل نقلی کے لئے یہ ضرور ہے کہ اصل منقول عنہ کا قابل تقلید ہونا ثابت ہو اور سند اس تک متواتر یا متصل موجود ہو، خواہ وہ منقول عنہ کسی نبی کی کتاب ہو یا ان کا زبانی قول ہو، ظاہر ہے کہ ایسی دلیل کوئی پیش نہیں کرسکتا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا فرمایا اور اس کی ایک مدت مقرر کی ہے۔ پوری مخلوق کے پیدا کرنے اور ان کی ایک مدت مقرر کرنے میں کسی کا ذرّہ برابر عمل دخل نہیں۔ لیکن اس کے باوجود لوگ حقیقی خالق اور مالک کو چھوڑ کر دوسروں کی بندگی اور غلامی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ٹھوس دلائل کے ساتھ باربار یہ حقیقت بتلائی اور سمجھائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اس کائنات کا کوئی خالق اور مالک نہیں۔ چاہے تو یہ کہ لوگ اپنے خالق اور مالک کی بندگی کریں اور اس کا حکم مانیں لیکن ” اللہ “ کو خالق اور مالک ماننے کے باوجود لوگ دوسروں کی بندگی اور غلامی کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے کان کھولنے کے لیے پھر ارشاد فرمایا ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ان لوگوں سے اس بات کا جواب طلب کریں کہ جن کو تم ” اللہ “ کے سوا پکارتے اور جن کی تم عبادت کرتے ہو بتاؤ ! انہوں نے زمین میں کون سی چیز پیدا کی ہے یا آسمانوں کی تخلیق اور ان کے معاملات میں وہ کس کام میں شریک ہوئے ؟ اگر تمہارے پاس کسی آسمانی کتاب کا کوئی ثبوت ہو یا کوئی علمی دلیل ہو تو اسے پیش کرو اگر تم اپنے کفر و شرک کے بارے میں سچے ہو۔ ظاہر بات ہے کہ ان کے پاس کسی آسمانی کتاب کا حوالہ اور کوئی عقلی اور علمی ثبوت نہیں۔ مگر پھر بھی ذات کبریا کے سوا دوسروں کے سامنے جھکتے اور انہیں پکارتے ہیں۔ ان کے باطل عقیدہ کی کلی کھولتے ہوئے یہ بات سمجھائی ہے کہ دین کی بنیاد کتاب اللہ، نبی کی سنت اور ٹھوس علمی ثبوت پر ہے۔ اس کے سوا کسی کی رائے دین کی تشریح میں معاون ہوسکتی ہے مگر دین کہلوانے کی حقدار نہیں ہوسکتی۔ جہاں تک کفار سے اس سوال کا تعلق ہے کہ جن کی یہ عبادت اور غلامی کرتے ہیں انہوں نے زمین و آسمان میں کیا پیدا کیا ہے تو ہر مشرک اور کافر اس کا اقرار کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ زمین و آسمان اور ہر چیز کو صرف اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ٤ تا ١٢ اللہ تعالیٰ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ تلقین فرماتا ہے کہ آپ اپنی قوم کے سامنے یہ کائناتی شہادت پیش کریں ۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے۔ اس کتاب میں تو بحث و مناظرہ نہیں کیا جاسکتا ، وہ سامنے موجود ہے۔ جو انسانی فطرت کو خطاب کرتی ہے۔ اس کی منطق اور اس کا انداز گفتگو بھی فطری ہے۔ اس کتاب کائنات اور فطرت انسانی کے درمیان گہرا ربط بھی موجود ہے۔ اس کو نہ دبایا جاسکتا ہے اور نہ اس میں کوئی کسی کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ یہ فطری سوال ہے۔ ارونی ما ذا خلقوا من الارض (٤٦ : ٤) “ ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ ” یہ ممکن نہ تھا اور نہ ہے کہ انسانوں کے خودساختہ ان معبودوں میں سے کسی نے خواہ وہ پتھر ہوں ، درخت ہوں ، جن ہوں یا فرشتے ، زمین میں سے کوئی حصہ یا کوئی چیز پیدا کی ہے۔ فطری سوچ ، حقیقت واقعہ ، اور ہر چیز بذات خود یہ پکار پکار کہتی ہے کہ کچھ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے تو کچھ بھی پیدا نہیں کیا۔ ام لھم شرک فی السموت (٤٦ : ٤) “ یا آسمانوں کی تخلیق و تدبیر میں ان کا کوئی حصہ ہے ” ۔ کوئی انسان یہ دعویٰ بھی نہیں کرسکتا کہ ان مذکورہ معبودوں کا آسمانوں میں کوئی حصہ یا شرکت ہے۔ آسمانوں کے اندر ایک سطحی نظر بھی بتا دیتی ہے کہ خالق کائنات کس قدر عظیم ہے اور پھر یہ کہ وہ واحد ہے۔ ایک ہی نظر میں ایک معقول انسان تمام گمراہیوں اور انسانوں کو جھٹک کر پھینک دیتا ہے۔ اللہ تو انسان کا خالق ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کائنات پر ایک گہری نظر ہی انسان کی کایا پلٹ دیتی ہے۔ اس لیے اللہ بار بار انسان کو متوجہ کرتا ہے۔ کائنات کی اس کھلی کتاب پر نگاہ تو ڈالو۔ اس کے نظام پر غور کرو ، اور تمہارے دل و دماغ پر اس کائنات سے جو سگنل آتے ہیں ، ان سے پوچھ لو کہ وہ کیا شہادت دیتے ہیں۔ اس کے بعد بعض نہایت ہی گمراہ درجے کے انسانوں کی راہ بند کرنے کے لئے اور ان پر حجت تمام کرنے کے لئے ایک سوال کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات زیادہ گمراہی میں آگے بڑھ کر کوئی یہ زعم بھی کرسکتا ہے کہ ہمارے پاس شرک کی نقلی دلیل ہے یا کوئی اور بہانہ کرسکتا ہے حالانکہ دراصل اس کے پاس کوئی حجت و دلیل نہیں ہے۔ اس لیے قرآن مجید ایسے لوگوں کا ناطقہ بند کرنے کے پہلے ہی مطالبہ کردیتا ہے کہ لاؤ اگر کوئی حجت و لیل تمہارے پاس ہے اور پھر قرآن مجید ان کو استدلال کا طریقہ بھی بتا دیتا ہے کہ کوئی فیصلہ کرنے کے لئے صحیح طریق کار کیا ہوا کرتا ہے۔ ایتونی بکتب ۔۔۔۔۔ کنتم صدقین (٤٦ : ٤) “ اس سے پہلے آئی ہوئی کتاب یا علم کا کوئی بقیہ تمہارے پاس ہو تو وہی لے آؤ اگر تم سچے ہو ”۔ یا تو اللہ کی کوئی سچی کتاب پیش کرو۔ یا کتب سماوی میں سے کوئی اثر تمہارے پاس باقی ہو اسے لے آؤ۔ قرآن سے قبل جس قدر کتب سماوی بھی نازل ہوئی ہیں وہ تو قرآن کی تائید میں شہادت دیتی ہیں کہ اللہ وحدہ خالق ہے اور وہی کائنات کا مدبر ہے اور اس میں تمام چیزوں کو ایک قدر اور انداز سے پیدا کرنے والا ہے۔ ان کتابوں میں سے کوئی ایک کتاب بھی متعدد الہہ کے خرافات کو تسلیم نہیں کرتی۔ یا یہ کہ زمین و آسمان میں سے کوئی چیز ان الہوں نے بنائی ہو یا وہ کسی چیز کے بنانے میں شریک ہوں کوئی علم یا اثر یا نص کتب سماوی میں نہیں ہے۔ قرآن کریم ان کے سامنے اس کائنات کی شہادت بھی پیش کرتا ہے۔ کائنات کی شہادت تو فیصلہ کن شہادت ہوتی ہے۔ یوں قرآن مجید ان کے عقائد کو حجت و دلیل سے محروم کردیتا ہے۔ اور ان کو یہ بھی سکھا دیتا ہے کہ بحث و دلیل کا صحیح اندازہ کیا ہوتا ہے اور یہ سب باتیں ایک ہی آیت میں سکھا دی جاتی ہیں جس کے الفاظ اگرچہ بہت تھوڑے ہیں لیکن زور دار اور فیصلہ کن ہیں۔ اس کے بعد قرآن کریم ان کے سامنے یہ نکتہ پیش کرتا ہے کہ جن چیزوں کو تم الٰہ بناتے ہو ، اور پھر پکارتے ہو ، ان کی تو کوئی حقیقت ہی نہیں ہے ، یہ تو تمہاری اس پکار کو سنتے ہی نہیں ، اس دنیا میں تم اگر ساری زندگی ان کو پکارتے رہو اور قیامت میں تو بھی وہ صاف صاف انکار کردیں گے۔ لہٰذا اپنی اس حرکت پر ذرا غور تو کرو۔ ومن اضل ممن یدعوا۔۔۔۔۔ غفلون (٤٦ : ٥) واذا حشر الناس ۔۔۔۔۔ کفرین (٤٦ : ٦) “ آخر اس شخص سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے بلکہ اس سے بھی بیخبر ہیں کہ پکارنے والے ان کو پکار رہے ہیں ، اور جب تمام انسان جمع کئے جائیں گے اس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر ہوں گے ”۔ بعض لوگ ایسے تھے جو بتوں کو بذات الٰہ مانتے تھے۔ اور بعض ان کو فرشتوں یا نیک لوگوں کی شبیہ سمجھتے ہوئے الٰہ مانتے تھے۔ بعض درختوں کو الٰہ مانتے تھے ، بعض فرشتوں اور شیطان کو الٰہ مانتے۔ ان میں سے کوئی بھی پکارنے والے کی پکار کا جواب نہ دے سکتا تھا ، یا اگر پکار سنتا تھا تو کوئی فائدہ نہ دے سکتا تھا ، پتھر اور درخت تو نہ کچھ سن سکتے تھے اور نہ جواب دے سکتے تھے۔ فرشتے بھی مشرکین کی اس حرکت پر کوئی جواب نہ دیتے تھے۔ شیاطین تو بہرحال ان کو مزید گمراہ کرنے کے لئے وسوسہ اندازیاں کرتے تھے۔ جب قیامت کا دن ہوگا اور لوگ اٹھائے جائیں گے تو یہ تمام الٰہ جو پوجے جاتے تھے ، یہ اپنے گمراہ عبادت گذاروں کی عبادت کا انکار کردیں گے۔ یہاں تک کہ شیطان جس کا کام ہی یہ ہے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے ، وہ یہ کہے گا۔ وقال الشیطن ۔۔۔۔۔ لھم عذاب الیم (١٤ : ٢٢) “ اور جب فیصلہ چکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا “ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کئے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کئے ان میں سے کوئی بھی پورا نہ کیا۔ میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں۔ میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تم کو دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا۔ اب مجھے ملامت نہ کرو ، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ یہاں نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں ، نہ تم میری۔ اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا ، میں اس سے بری الذمہ ہوں۔ ایسے ظالموں کے لئے تو دردناک سزا یقینی ہے ”۔ یوں قرآن مجید ان کو خود اپنے دعویٰ اور اپنے خیالات کے سامنے پیش کرتا ہے کہ ان دعوؤں کا انجام دنیا اور آخرت میں کیا ہونے والا ہے۔ جبکہ اس سے قبل ان کو کائنات کی نشانیاں بتائی گئیں کہ یہ شرک کے عقائد کا انکار کرتی ہیں۔ دونوں صورتوں میں جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کائنات کا الٰہ صرف ایک الٰہ العالمین ہے اور خود مشرکین کی دنیا اور آخرت کی بھلائی بھی اسی میں ہے کہ وہ اپنے ان خیالات پر نظر ثانی کریں۔ قرآن مجید یہاں ان بت پرستوں پر تنقید کرتا ہے جو ایسے بتوں کو پکار رہے تھے جو ان کو کوئی نفع یا نقصان نہ دے سکتے تھے۔ نزول قرآن کے وقت ایسے روایتی زندہ اور مردہ معبود موجود تھے۔ لیکن یہ آیت صرف ان بتوں تک محدود نہیں ہے ، جو ایک خاص زمان ومکان میں ایک خاص شکل میں پکارے جاتے تھے اور ان سے امیدیں وابستہ کی جاتی تھیں۔ آیت بہت وسیع ہے اور اس میں وہ سب معبود شامل ہیں جو اللہ کے سوا کسی بھی زمان و مکان میں پائے جائیں گے۔ جن کو عوام پکارتے ہیں اور جن سے امید وابستہ کرتے ہیں اور جو ان کو کوئی نفع و نقصان نہیں دے سکتے۔ کیونکہ نفع و نقصان پہنچانے والا تو اللہ ہی ہے۔ غرض شرک اس سادہ صورت اور شکل تک محدود نہیں ہے جو نزول قرآن کے وقت عربوں میں پائی جاتی تھی۔ کئی ایسے لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ اصحاب اقتدار کو شریک کرتے ہیں۔ افسران کو شریک کرتے ہیں ، بڑے بڑے سرمایہ داروں کو شریک کرتے ہیں ، ان سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں ، ان کو پکارتے ہیں ، لیکن یہ سب کے سب بہت ہی عاجز اور کمزور ہیں اور یہ کوئی فائدہ نہیں دے سکتے۔ وہ تو خود اپنے نفع و نقصان کے بھی مالک نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کو پکارنا شرک ہے ، ان سے امیدیں وابستہ کرنا بھی شرک ہے۔ ان سے ڈرنا بھی شرک ہے۔ لیکن یہ شرک ذرا شرک خفی ہے اور اکثر لوگ غیر شعوری طور پر اس میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ٭٭٭ اس کے بعد اس پر بحث ہوتی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سچی دعوت کے بارے میں ان کا موقف کیا ہے۔ شرک کے بارے میں ان کے خیالات کا جائزہ تو خوب لیا گیا ۔ اب بتایا جاتا ہے کہ وحی اور دعوت اسلامی کے بارے میں ان کا موقف کس قدر غلط اور غیر معقول ہے۔ واذا تتلی علیھم ۔۔۔۔۔ سحر مبین (٧) ام یقولون افترہ ۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم (٨) قل ما کنت بدعا ۔۔۔۔۔ نذیر مبین (٩) قل ارءیتم ان کان ۔۔۔۔۔ القوم الظلمین (١٠) وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔ افک قدیم (١١) ومن قبلہ کتب ۔۔۔۔ وبشری للمحسنین (١٢) (٤٦ : ٧ تا ١٢) “ ان لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سنائی جاتی ہیں اور حق ان کے سامنے آجاتا ہے تو یہ کافر لوگ اس کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔ کیا ان کا کہنا یہ ہے کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے خود گھڑ لیا ہے۔ ان سے کہو ، “ اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے ، تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے ، جو باتیں تم بناتے ہو ، اللہ ان کو خوب جانتا ہے ، میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے ، اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ ان سے کہو ، “ میں کوئی نرالا رسول تو نہیں ہوں ، میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا ، میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والے کے سوا اور کچھ نہیں ہوں ”۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے کہو ، “ کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کردیا (تو تمہارا کیا انجام ہوگا ؟ ) اور اس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے۔ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے۔ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا ”۔ جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جاسکتے تھے۔ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ۔ حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی زبان عربی میں آئی تا کہ ظالموں کو متنبہ کردے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔ بات کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی آیات اور اس کی دعوت ایسی ہے جس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔ بڑی واضح ، دل لگتی اور کھلی باتیں ہیں لیکن یہ لوگ اس قدر ذلیل اور ضدی اور کم بخت ہیں کہ یہ اس سچائی کے بارے میں یہ تبصرہ کرتے ہیں کہ : ھذا سحر مبین (٤٦ : ٧) “ یہ کھلا جادو ہے ”۔ حالانکہ دعوت اسلامی اور جادو کی نوعیت اور موضوع ہی مختلف ہے۔ ایک نبی اور جادوگر کے مقاصد ہی مختلف ہیں۔ یوں ان کے اس غلط موقف پر حملہ کیا جاتا ہے جس کے لئے نہ دلیل ہے اور نہ وجہ جواب ہے کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت بہت ہی واضح ہے اور آیات بینات پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد ان کے ایک دوسرے اعتراض کو لیا جاتا ہے جو وہ کیا کرتے تھے کہ یہ قرآن اپنی طرف سے گھڑا ہوا ہے اور اللہ کی طرف منسوب ہے اور ایک افترا ہے۔ اس شبی ہے کو قرآن استفہام اور سوالیہ انداز میں پیش کرتا ہے کہ یہ بھی کوئی سوال ہے یا کوئی معقول انسان ایسی بات سوچ سکتا ہے ؟ ام یقولون افترہ (٤٦ : ٨) “ کیا ان کا کہنا یہ ہے کہ رسول نے اسے خود گھڑ لیا ہے ”۔ یعنی کیا وہ اس قدر جری ہوگئے ہیں کہ ایسی بات بھی کرتے ہیں حالانکہ اس کا تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا جاتا ہے کہ اس سوال کا جواب اس طرح دیں جس طرح ایک پیغمبر کی شان ہوتی ہے۔ اس لیے کہ یہ سوال بہت ہی لا یعنی ہے۔ اس جواب سے اظہار ہو کہ آپ کو اپنے فرائض کا اچھی طرح شعور ہے ، آپ کو اپنے رب کا بھی اچھی طرح شعور ہے۔ آپ کو اس کائنات کی حقیقی قدروں اور حقیقی قوتوں کا پورا احساس ہے ۔ قل ان افتریتہ ۔۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم (٤٦ : ٨) “ ان سے کہو ، اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے جو باتیں تم بناتے ہو اللہ ان کو خوب جانتا ہے ۔ میرے اور تمہارے درمیان و ہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ ان سے کہہ دو میں کیوں افترا باندھوں ؟ کس کے مفاد کے لئے یہ افترا باندھوں ؟ کن مقاصد کے لئے ایسا کروں ؟ کیا اس لیے کہ تم مجھ پر ایمان لاؤ اور میری اطاعت کرو لیکن تم میری کیا مدد کرسکتے ہو ؟ قل ان افتریتہ فلا تملکون لی من اللہ شیئا (٤٦ : ٨) “ اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے ”۔ میرے افترا کی وجہ سے وہ لازماً میرا مواخذہ کرے گا۔ لہٰذا اگر تم میرے ساتھ ہو اور مجھ پر ایمان لاؤ تو اس میں مجھے کیا فائدہ ہوگا۔ افترا پر جب اللہ مجھ سے مواخذہ کرے گا تو تم اس وقت کیا کرسکتے ہو۔ تم تو بہت ہی عاجز اور کمزور ہو۔ میری کیا مدد کرو گے۔ یہ ایک ایسا جواب ہے جو نبی کے شایان شان ہے جو اللہ سے ہدایات لیتا ہے اور جسے اللہ کے سوا اس کائنات میں کچھ بھی نظر نہیں آتا ۔ اسے صرف اللہ ہی کی قوت نظر آتی ہے ۔ نیز یہ ایک منطقی اور معقول تردید بھی ہے۔ اگر کوئی ذرا اپنی عقل کو کام میں لائے ۔ ان کو جواب دے کر اس پر آپ یہ اضافہ بھی کردیتے ہیں۔ ھو اعلم بما تفیضون فیہ (٤٦ : ٨) “ جو باتیں تم بتاتے ہو اللہ ان کو خوب جانتا ہے ” ۔ یعنی جو تم کرتے اور کہتے ہو۔ اور جن باتوں کو اللہ جانتا ہے ان پر وہ ضرور تمہیں سزا دے گا۔ کفی بہ شھیدا بینی وبینکم (٤٦ : ٨) “ میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے ”۔ اللہ گواہی بھی دے گا اور فیصلہ بھی کر دے گا اور اللہ کی گواہی اور اس کا فیصلہ کافی ہے۔ وھو الغفور الرحیم (٤٦ : ٨) “ وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ وہ تم پر مہربان ہوتا ہے اور اپنی مہربانی سے تمہیں ہدایت دے دیتا ہے اور تم نے جو گمراہیاں کیں انہیں بخش دیتا ہے۔ کیونکہ ایمان کے بعد سابقہ اعمال معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ یہ ایسی تردید ہے جس میں ان کے لئے دھمکی اور ڈراوا بھی ہے ۔ ان کے لئے حوصلہ افزائی اور ایمان کا لالچ بھی ہے۔ غرض ہر طریقے سے اللہ کی کوشش ہے کہ انسانوں کے دل بدل جائیں۔ انسان کے جسم کی تار تار کو چھیڑا جاتا ہے کہ شاید نغمہ ایمان برآمد ہوجائے۔ سامعین کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ معاملہ بہت اہم ہے اور یہ لوگ جو احمقانہ باتیں کرتے ہیں یہ محض بچگانہ باتیں ہیں ، محض دعوے کرتے چلے جا رہے ہیں۔ داعی اعظم کے دل میں جو بات ہے اور جس کی وہ دعوت دے رہے ہیں وہ بہت ہی عظیم ہے۔ اس کی اہمیت اور عظمت کا ان کو کوئی شعور نہیں۔ وحی پر ان کے اعتراض کا ایک دوسرے زاویہ سے بھی جواب دیا جاتا ہے۔ یہ کہ وحی ایک ایسا واقعہ ہے جس کی مثالیں تاریخ میں موجود ہیں۔ لاکھوں افراد اسے مانتے ہیں۔ آخر اس میں عجوبے کی کیا چیز ہے کہ یہ اسے جادو یا افترا کہتے ہیں۔ یہ کوئی عجیب و غریب چیز تو نہیں ہے۔ قل ما کنت بدعا ۔۔۔۔۔۔ نذیر مبین (٤٦ : ٩) “ ان سے کہو میں تو نرالا رسول تو نہیں ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والا ہوں ”۔ حضرت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی پہلے رسول نہ تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے کئی رسول گزرے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معاملہ بھی انہی کی طرح ہے۔ انہوں نے کوئی ایسا دعویٰ نہ کیا تھا۔ پہلے بھی کئی انسانوں کو رسول بنا کر بھیجا گیا تھا ۔ اللہ کو معلوم ہوتا ہے کہ کون رسالت کے لئے اہل ہے۔ اس کو یہ منصب دے دیا جاتا ہے۔ اور وہ بےکم وکاست پھر تبلیغ شروع کردیتا ہے۔ یہی ہے رسالت کی حقیقت اور ماہیت ۔ رسول کا جب سرچشمہ رسالت سے مل جاتا ہے تو پھر اللہ سے رسالت کی کوئی دلیل طلب نہیں کرتا اور نہ اپنے لیے کوئی خصوصیت طلب کرتا ہے۔ پیغام ملتے ہی اپنا کام شروع کردیتا ہے۔ جو بات اس تک پہنچتی ہے اس کی تبلیغ شروع کردیتا ہے۔ وما ادری ما۔۔۔۔۔ یوحی الی (٤٦ : ٩) “ مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ کل میرے ساتھ کیا اور تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے ”۔ رسول رسالت کے کام کو اس لیے شروع نہیں کرتا کہ وہ غیب جانتا ہے یا وہ جانتا ہے کہ اس کا ، اس کی قوم کا اور اس کی دعوت کا انجام کیا ہوگا۔ وہ تو اللہ کے اشاروں اور ہدایات کے مطابق کام کرتا ہے۔ اسے اللہ پر بڑا بھروسہ ہوتا ہے ، وہ اللہ کے ارادوں کا تابع ہوتا ہے اور اللہ کی ہدایات کے مطابق کام کرتا ہے۔ اسے اللہ پر بڑا بھروسہ ہوتا ہے ، وہ اللہ کے ارادوں کا تابع ہوتا ہے اور اللہ کی ہدایات پر عمل کرتا ہے۔ ایک ایک قدم اللہ کے حکم سے اٹھاتا ہے لیکن مستقبل اسے معلوم نہیں ہوتا۔ تمام راز اللہ کے ہاں ہوتے ہیں اور رسول مستقبل کے راز معلوم کرنے کے لئے بےچین بھی نہیں ہوتا کیونکہ اس کا دل مطمئن ہوتا ہے اور بارگاہ رب العزت کے آداب میں سے یہ بات بھی ہے کہ وہ اسی علم پر اکتفا کرے جو اسے دے دیا گیا ہو اور مستقبل کے پردوں کے پیچھے جھانکنے کی کوشش نہ کرے۔ رسول تو ہمیشہ اپنے فرائض کی حدود پر کھڑا ہوتا ہے۔ وما انا الا نذیر مبین (٤٦ : ٩) “ میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والے کے سوا کچھ نہیں ” ۔ اللہ کے دربار میں پہنچنے والوں کے یہی آداب ہوتے ہیں اور عارف باللہ لوگوں کا یہی اطمینان ہوتا ہے۔ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اسوہ پر عمل کرتے ہیں اور دعوت دیتے چلے جاتے ہیں اس لیے نہیں کہ وہ دعوت کا انجام دیکھتے ہیں۔ اس لیے بھی نہیں کہ دعوت کا مستقبل روشن ہوتا ہے ، یا وہ اس کے نتیجے میں چھوٹی یا بڑی کامیابی پاتے ہیں۔ پس وہ اس کام کو اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ان کا فرض ہوتا ہے اور بس۔ وہ اپنے رب سے کوئی دلیل بھی نہیں مانگتے کیونکہ دلیل تو ان کے دل میں ہوتی ہے۔ وہ اللہ سے کچھ مراعات بھی نہیں مانگتے۔ اس سے بڑی رعایت یا اعزاز کیا ہو سکتا ہے کہ ان کو اس کام کے لئے چنا گیا۔ وہ اس باریک خط سے سوتر بھر آگے نہیں بڑھتے جو ان کے لئے کھینچ دیا گیا اور وہ انہی نقوش پر قدم رکھتے ہیں جو ان کے لئے کھینچ دیا گیا۔ اس کے بعد ایک قریبی شہادت کی طرف ان کو متوجہ کیا جاتا ہے۔ یہ شہادت اہل کتاب کی ہے ، جو نزول وحی سے اچھی طرح واقف ہیں۔ قل ارءیتم ان کان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ القوم الظلمین (٤٦ : ١٠) “ ان سے کہو ، کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کردیا (تو تمہارا کیا انجام ہوگا ؟ ) اور اس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے۔ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے۔ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا ” یہ ممکن ہے کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہو کہ بنی اسرائیل میں سے کسی شخص یا کسی گروہ نے قرآنی تعلیمات کو تورات اور دوسری کتابوں کے مماثل پاتے ہوئے ایمان لے آیا ہو ، کیونکہ کتب سماوی پر ایمان لانے والے لوگ جانتے تھے کہ یہ کتاب وہی بات کرتی ہے جو ان کتابوں میں ہے۔ بعض روایات میں تو آتا ہے کہ یہ آیت عبد اللہ ابن اسلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کی راہ میں یہ مانع ہے کہ وہ مدینہ میں مسلمان ہوئے تھے اور یہ سورت مکی ہے۔ ایسی روایات بھی ہیں کہ یہ آیت مدنی ہے کیونکہ یہ عبد اللہ ابن سلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے جبکہ ایسی روایات بھی ہیں کہ یہ مکی ہے اور اس کا عبد اللہ ابن سلام کے واقعہ سے تعلق نہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مکہ کے کسی واقعہ کی طرف اشارہ ہو ، مکہ میں اہل کتاب میں سے کوئی شخص ایمان لایا ہو اگرچہ یہاں اہل کتاب بہت ہی کم تھے اور مکی حالات میں ان کے ایمان لانے کی بہت سی اہمیت ہو کیونکہ مشرکین امی تھے اور ایسے معاشرے میں اہل کتاب کے ایمان لانے کی اہمیت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اہل کتاب کی شہادت کی طرف قرآن نے کئی مقامات میں اشارہ کیا ہے اور مشرکین کی تردید کے لئے اسے پیش کیا جو بغیر دلیل اور ثبوت کے اور بغیر علم و ہنر کے اور بغیر کسی کتاب اور سماوی روایات کے قرآن کی تکذیب کرتے تھے۔ لیکن سمجھنے کی بات یہاں یہ ہے کہ قرآن کریم نے یہاں احتمالی اسلوب استدلال پیش کیا ہے۔ “ تم نے بھی سوچا کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور ۔۔۔۔۔” اس طرز استدلال کی غرض یہ ہے کہ مشرکین کے اصرار کے اندر تزلزل پیدا کیا جائے۔ ان کے اصرار کی شدت کو کم کیا جائے۔ ان کے عناد کو ٹھنڈا کیا جائے۔ ان کے اندر ذرا خوف اور احتیاط پیدا کی جائے کہ اس تکذیب میں اتنا آگے نہ بڑھو۔ اور یہ استدلال کیا جائے کہ تم تو نہیں مانتے لیکن اگر سچ نکلے تو پھر۔۔۔۔ تو تمہارا انجام بہت ہی برا ہوگا۔ لہٰذا اس فرض اور احتمال ہی کو مد نظر رکھ کر احتیاط کرو کہ اگر یہ سچ نکلا تو تم پر وہ تمام عذاب آجائیں گے جن سے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں ڈراتے ہیں۔ لہٰذا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کرنے میں ذرا تامل کرو۔ اور اس دعوت پر غوروفکر کرو ، قبل اس کے کہ تم اس قدر خطرناک انجام سے دوچار ہوجاؤ یا احتمال پیدا ہوجائے ایسے انجام کا خصوصاً ایسے حالات میں کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص یا گروہ نے یہ شہادت بھی دے دی ہو کہ اس کتاب کی نوعیت کلام الٰہی جیسی ہے۔ اور اس طرح وہ ایمان لایا۔ اور جب یہ کتاب سب سے پہلے تمہارے لیے آئی ، تمہاری زبان میں آئی ، تمہارے آدمی کے ذریعہ آئی تو تم تکبر کرتے ہو اور انکار کرتے ہو ، یہ واضح ظلم ہے۔ واضح حق کو چھوڑ کر آگے بڑھ جانا ہے اور اس صورت میں تمہارے سب اعمال ضائع ہوں گے اور اللہ کا عذاب آجائے گا۔ ان اللہ لا یھدی القوم الظلمین (٤٦ : ١٠) “ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیتا ” ۔ غرض قرآن لوگوں کو سمجھانے کے لئے ہر طریقہ اختیار کرتا ہے۔ مختلف اسالیب کلام اختیار کرتا ہے تا کہ انسانوں کے دلوں کے شکوک دور کرے اور مختلف راستوں سے اپنی دعوت لوگوں کے دلوں تک پہنچانے کی سعی کرتا ہے۔ قرآن نے جو مختلف اسالیب اختیار کئے ہیں ، ان میں آنے والے داعیوں کے لئے سامان عبرت اور رہنمائی ہے۔ باوجود اس کے کہ خدا و رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دونوں کے ہاں یقیناً قرآن حق تھا ، اللہ کا کلام تھا اور اس میں شک اور احتمال کی کوئی بات نہ تھی۔ لیکن لوگوں کو سمجھانے کے لئے یہ اسلوب بھی اپنایا گیا کہ ممکن ہے اسی طرح شدت مخالفت کم ہوجائے۔ آگے مضمون جاری ہے کہ قرآن کے بارے میں اور دین اسلام اور اسلامی نظام کے بارے میں وہ جو کہتے تھے ان کا جائزہ۔ وہ اپنی تکذیب اور کفر کی ایک اور وجہ جواز بھی پیش کیا کرتے تھے۔ یہ متکبر اور بزعم خود اونچے درجے کے لوگوں کی بات ہے۔ وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔ افک قدیم (٤٦ : ١٢) “ جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جاسکتے تھے۔ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ”۔ آغاز اسلام میں ، اسلام کی طرف فقر اور غلام لپکے تھے۔ اس لئے کبرا اور مستکبرین اس کو اچھا نہ سمجھتے تھے۔ ان کی نظروں میں یہ بات کھٹکتی تھی اور وہ یہ کہتے تھے اگر یہ دین کوئی اچھا دین تھا تو یہ لوگ کیا ہم سے زیادہ جاننے والے اور ہشیار تھے اور نہ ہمارے مقابلہ میں یہ پہل کرسکتے تھے۔ کیونکہ ہم ان سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں ، زیادہ باشعور ہیں اور ان کے مقابلے میں نیک و بد کی زیادہ تمیز رکھتے ہیں۔ لیکن یہ معاملہ ایسا نہیں تھا۔ یہ کبراء جو اسلام کو قبول نہ کرتے تھے تو اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ اس میں شک کرتے تھے یا جاہل تھے اور ان کو خبر نہ تھی کہ قرآن مجید سچائی ہی سچائی ہے۔ یا یہ کہ اس میں خبر نہیں ہے بلکہ تکبر کی وجہ سے وہ ایسا کرتے تھے اور یہ لوگ قبولیت حق کو اپنے سے فروتر کام سمجھتے تھے۔ پھر وہ یہ سمجھتے تھے کہ موجودہ اجتماعی نظام میں ان کو سوسائٹی میں جو مقام حاصل ہے یہ نہ رہے گا ، جو مفادات ان کو حاصل ہیں وہ نہ رہیں گے۔ پھر یہ بھی ایک وجہ تھی کہ آباؤ اجداد کے طریق کار کے بارے میں وہ یہ خیال کرتے تھے کہ یہ ایک قابل فخر رویہ ہے لیکن جو لوگ اسلام کی طرف پہلی ہی آواز پر لپکے ان کی راہ میں یہ موائع نہ تھے جن کی وجہ سے کبراء رک گئے تھے۔ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ بڑے لوگ حق کو قبول نہیں کرتے۔ کبر اور غرور کی وجہ سے ان کے لئے حق کے سامنے جھکنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ فطرت کی آواز پر لبیک نہیں کہتے۔ اور وہ حجت کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ کبرو غرور ان کو ڈکٹیٹ کراتا ہے کہ ہٹ دھرمی کرو اور نہ مانو۔ جھوٹے عذرات تراشو۔ باطل سے باطل جھوٹا دعویٰ کرو ، یہ بڑے لوگ کبھی بھی ، اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے ۔ یہ لوگ اپنی ذات کی زندگی کا محور بنانے کی فکر میں ہوتے ہیں اور جس طرح وہ اپنے موجودہ معاشرے میں محور ہوتے ہیں اسے جاری رکھنا چاہتے ہیں ۔ واذ لم یھتدوا بہ فسیقولون ھذا افک قدیم (٤٦ : ١١) “ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے نہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ”۔ ہاں ، اگر “ ان ” لوگوں نے ہدایت قبول نہیں کی تو پھر لازماً سچائی میں کوئی نقص ہوگا ۔ کیونکہ بڑے لوگوں سے تو غلطی کا صدور ممکن نہیں ! لیکن یہ لوگ اپنی نظر میں اور جمہور عوام کی نظروں میں اپنے آپ کو وہ جو باور کراتے تھے کہ وہ ایک معصوم اور غلطی سے پاک قسم کی مخلوق ہیں۔ بہرحال وحی کے سلسلے میں یہ پیراگراف اور مطالعاتی سفر کتاب موسیٰ کی طرف ایک اشارے پر ختم ہوتا ہے کہ قرآن سابقہ کتب سماوی کے سلسلے ہی کی ایک کڑی ہے۔ خصوصاً تو رات اور قرآن کے درمیان گہری مماثلت ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مشن تو تورات ہی کا تکملہ تھا۔ اس سے پہلے بنی اسرائیل کے ایک گواہ کی طرف بھی اشارہ ہوچکا ہے۔ ومن قبلہ کتب موسیٰ ۔۔۔۔۔۔ للمحسنین (٤٦ : ١٢) “ حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی زبان عربی میں آئی ہے تا کہ ظالموں کو متنبہ کر دے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔ قرآن کریم نے سابقہ کتب سماوی کے ساتھ اپنے تعلق کی طرف بار بار اشارہ کیا ہے خصوصاً تورات کی طرف اس لیے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب تو اس کا تکملہ تھی اور ان کا مشن تورات ہی کا تسلسل تھا۔ اصل دستور قانون تو تورات ہی میں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے امام اور رحمت کا لقب دیا گیا جب کہ ہر رسالت اس زمین اور اہل زمین کے لئے رحمت ہوتی ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ وھذا کتب مصدق لسانا عربیا (٤٦ : ١٢) “ اور یہ کتاب تصدیق کرنے والی زبان عربی میں ہے ”۔ یہ تصدیق ان اصل کتابوں اور اصل تعلیمات کی کرتی ہے جن کے اوپر تمام ادیان سماوی قائم ہیں۔ یہ کتاب اس نظام کی تصدیق کرتی ہے جس کے مطابق تمام اہل دین چلتے رہے۔ اور یہ کتاب اس صراط مستقیم کی تصدیق کرتی ہے جو انسانوں کو اللہ تک پہنچاتا ہے۔ اور عربی کتاب جس طرح وہ تھی ، یہاں اس لیے کہا گیا کہ اہل عرب پر اس احسان کا اظہار کردیا جائے کہ ان کی زبان میں یہ کتاب اتری۔ اور ان کو یاد دلایا گیا کہ تم پر تو اللہ کا خصوصی کرم ہوا ہے۔ اور خاص مہربانی اور عنایت ہوئی ہے کہ تم کو اس دعوت کا حامل بنایا اور تمہاری زبان کو یہ اعزاز بخشا کہ اس میں قرآن عظیم نازل ہوا۔ مقصد صرف زبان نہ تھی بلکہ یہ تھا۔ لینذر الذین ظلموا وبشری للمحسنین (٤٦ : ١٢) “ تا کہ ظالموں کو متنبہ کر دے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔ اس پہلے سبق کے آخر میں محسنین کی جزا کی تصویر کھینچی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ قرآن کریم تمہارے لیے یہ خوشخبری لاتا ہے۔ بشرطیکہ وہ توحید مطلق اور ربوبیت کا اعلان کردیں اور پھر اس پر جم جائیں اور اس کے تقاضے پورے کریں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

4:۔ ” قل ارایتم۔ الایۃ “ اس آیت میں مشرکین سے دو قسم کی دلیلوں کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مشرکین ! تم اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہو کیا ان کی الوہیت اور پکار کے لائق ہونے پر تمہارے پاس کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہے تو پیش کرو۔ عقلی دلیل کا مطالبہ ” ارونی ماذا خلقوا الخ “ مجھے دکھاؤ تو سہی انہوں نے زمین کا کوئی حصہ پیدا کیا ہے یا آسمانوں کے پیدا کرنے میں ان کا کوئی عملی دخل ہے ؟ اگر وہ کسی ایک چیز کے بھی خالق نہیں تو پکارے جانے کے لائق بھی نہیں۔ نقلی دلیل از کتب سابقہ وانبیاء سابقین (علیہم السلام) کا مطالبہ : ” ایتونی بکتب الخ “ اگر دلیل عقلی نہیں تو کتب سابقہ میں سے کوئی ایک حوالہ ہی پیش کر دو یا اولین کے علوم میں سے کوئی عملی ثبوت ہی مہیا کردو جس سے غیر اللہ کو پکارنے کا جواز نکلتا ہو۔ والمراد نفی استحقاق الہتہم للعبودیۃ علی اتم وجہ (روح ج 26 ص 5) ای لا دلیل لکم لا نقل یا ولا عقل یا علی ذلک (ابن کثیر ج 4 ص 154) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(4) اے پیغمبر آپ ان سے فرمادیجئے بھلا دیکھو تو سہی جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہو اور جن کی تم عبادت کرتے ہو ذرا مجھ کو یہ تو دکھائو کہ انہوں نے زمین کا کون سا حصہ بنایا اور پیدا کیا ہے یا آسمانوں کے بنانے میں ان کی کوئی شرکت اور ساجھا ہے یا تو کوئی کتاب لائو جو اس قرآن سے پہلے کہو یا انبیائے سابقین کی کوئی معتبر روایت جو نقل ہوتی چلی آئی ہو وہ پیش کرو اگر تم سچے ہو۔ یعنی بطور احتجاج ان سے کہو کہ تمہارے ان معبودوں نے جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور پوجا کرتے ہو انہوں نے زمین کا کوئی حصہ بنایا ہو تو ان کی بنائی ہوئی زمین مجھ کو دکھائو آسمانوں کے پیدا کرنے میں کوئی شرکت اور ساجھا ہو تو مجھ کو بتائو۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی دلیل عقلی ہو تو وہ لائو دلیل عقلی تو ہے نہیں کیونکہ تم خود ان معبودان باطلہ کی خالقیت کے قائل نہیں اور الوہیت جو بلا شرکت غیر سے خالقیت کو مستلزم ہے اس کو بھی نہیں مانتے بلکہ شرک کرتے ہو تو اچھا کوئی نقلی دلیل لائو اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی کتاب لے آئو جو قرآن سے پہلے کی ہو کیونکہ قرآن تو خدا کے ہوا دوسرے کی خالقیت کی نفی کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے وحدہ لاشریک ہونے کا مدعی ہے اس میں تو یہ چیز مل نہیں سکتی لہٰذا کوئی دوسری کتاب جو اس سے پہلے کی ہو یا کوئی کتبہ ہو وہ لاکر دکھائو یا کوئی روایت ہی پہلے پیغمبروں کی نقل ہوتی چلی آتی ہو یا علوم اولین میں سے کوئی علم تو اتر کے ساتھ نقل ہوتا ہوا چلا آتا ہو جس میں ان معبودوں کے زمین یا آسمانوں کو پیدا کرنے کا ذکر ہو وہی مجھ کو دکھا دو یا بتادو۔ کہ ان غیر اللہ نے زمین کا کوئی حصہ بنایا ہے یا آسمانوں کے بنانے میں ان کی شرکت تھی اگر تم ان غیر اللہ کی پرستش کرنے میں سچے ہو تو ان کی خالقیت کا ثبوت پیش کرو۔