Surat Muahammad

Surah: 47

Verse: 37

سورة محمد

اِنۡ یَّسۡئَلۡکُمُوۡہَا فَیُحۡفِکُمۡ تَبۡخَلُوۡا وَ یُخۡرِجۡ اَضۡغَانَکُمۡ ﴿۳۷﴾

If He should ask you for them and press you, you would withhold, and He would expose your unwillingness.

اگر وہ تم سے تمہارا مال مانگے اور زور دے کر مانگے تو تم اس سے بخیلی کرنے لگو گے اور وہ تمہارے کینے ظاہر کر دے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِن يَسْأَلْكُمُوهَا فَيُحْفِكُمْ تَبْخَلُوا ... If He would demand of you all of it and urge you, you would withhold. meaning, if He pressures you much, you would become stingy. ... وَيُخْرِجْ أَضْغَانَكُمْ And He will expose your (secret) ill-wills. Qatadah said, "Allah knows that extracting wealth (i.e., money from people) brings about ill-wills." Indeed, Qatadah has said the truth, because money is dear to the people, and they do not spend it except in things that are dearer to them than it. Allah then says,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

37۔ 1 یعنی ضرورت سے زائد کل مال کا مطالبہ کرے وہ بھی اصرار کے ساتھ اور زور دے کر تو یہ انسانی فطرت ہے کہ تم بخل بھی کرو گے اور اسلام کے خلاف اپنے بغض وعناد کا اظہار بھی اور اس صورت میں خود اسلام کے خلاف بھی تمہارے دلوں میں عناد پیدا ہوجاتا کہ یہ اچھا دین ہے جو ہماری محنت کی ساری کمائی اپنے دامن میں سمیٹ لینا چاہتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٢] یَحْفِکُمْ : حفا کا لغوی معنی کسی چیز کی طلب میں مبالغہ اور اصرار ہے پھر اسی مبالغہ اور اصرار سے بعض دفعہ تنگ کرنے کے معنی بھی پیدا ہوجاتے ہیں اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تم سے سارے ہی مال کا مطالبہ کرلیتا کیونکہ یہ مال اسی کا دیا ہوا تھا تو کتنے لوگ ایسے ہوسکتے ہیں جو فراخ دلی اور خندہ پیشانی سے اس حکم پر لبیک کہیں گے۔ اکثر ایسے ہی لوگ ہوں گے جو بخل اور تنگ دلی کا ثبوت دیں گے اور مال خرچ کرتے وقت ان کے دل کی کبیدگی اور گھٹن از خود ظاہر ہوجائے گی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ان یسئلکموھا فیحفکم تبغلوا…:” فیحفکم “” اخفی یحفی احفاء “ (افعال) کا معنی کسی چیز کو سمیٹ کر پوری کی پوری لے لینا، یا کسی چیز کا اصرار کے ساتھ مطالبہ کرنا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے سارے اموال مانگ لے تو یہ اس کا حق ہے، کیونکہ وہ سب اسی کے دیے ہوئے ہیں مگر یہ اس کا کرم ہے کہ وہ تم سے تمہارے اموال پورے کے پر وے نہیں مانگتا ، کیونکہ اگر وہ سب کے سب اصرار کے ساتھ مانگ لے تو بخل کرو گے اور تمہارا بخل تمہارے دل میں پیدا ہونے والے تمام تمام کینے ظاہر کر دے گا۔ جو سارا مال ماگننے کی وجہ سے تمہارے دل میں پیدا ہوں گے، کیونکہ مال تمہارا محبوب ہے اور جس کے محبوب کو اس سے مانگا جائے اس کے دل میں مانگنے والے کے خلاف کینہ پید ا ہوجاتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے تم سے مطالبہ ہی اتنا کیا ہے جس سے تم اتنی سخت آزمائش میں نہ پڑو اور اگر کسی دل میں نفاق یا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کینے کی کوئی بات ہو بھی تو اس پر پردہ پڑا رہے۔ آیات کا مقصد اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب اور یہ حوصلہ دلانا ہے کہ تم سے کوئی مشکل مطالبہ نہیں کیا جا رہا جو تم پورا نہ کرسکو، اس لئے خوش دلی کے ساتھ جہاد میں اپنے اموال خرچ کرو۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنْ يَّسْـَٔــلْكُمُوْہَا فَيُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَيُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ۝ ٣٧ حفی الإحفاء في السؤال : التّترّع في الإلحاح في المطالبة، أو في البحث عن تعرّف الحال، وعلی الوجه الأول يقال : أَحْفَيْتُ السؤال، وأَحْفَيْتُ فلانا في السؤال، قال اللہ تعالی: إِنْ يَسْئَلْكُمُوها فَيُحْفِكُمْ تَبْخَلُوا [ محمد/ 37] ، وأصل ذلک من : أَحْفَيْتُ الدابة : جعلتها حافیا، أي : منسحج الحافر، والبعیر : جعلته منسحج الخفّ من المشي حتی يرقّ ، وقد حَفِيَ حَفاً وحَفْوَة، ومنه : أَحْفَيْتُ الشّارب : أخذته أخذا متناهيا، والحَفِيُّ : البرّ اللطیف في قوله عزّ وجلّ : إِنَّهُ كانَ بِي حَفِيًّا [ مریم/ 47] ، ويقال : حَفَيْتُ بفلان وتَحَفَّيْتُ به : إذا عنیت بإکرامه، والحَفِيّ : العالم بالشیء . ( ح ف و ) الاحفاٰء کے معنی کسی چیز کے مانگنے میں اصرار کرنے یا کسی کی حالت دریافت کرنے لئے بحث اور کاوش میں لگے رہنے کے ہیں پہلے معنی کے لحاظ سے احفیت السوال واحفیت فلانا فی السوال دونوں طرح کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ إِنْ يَسْئَلْكُمُوها فَيُحْفِكُمْ تَبْخَلُوا [ محمد/ 37] اگر وہ تم سے مال طلب کرے اور تمہیں تنگ کرے تو تم بخل کرنے لگو ۔ اصل میں یہ احفیت الدابۃ ( اسے سادہ گردانیدم پائے ستور را ) سے ہے ۔ جس کے معنی گھوڑے یا اونٹ کو زیادہ چلا کر اس کے سم یا پاؤں کو گھسا ہوا کردینے کے ہیں اور حفی حفا وحفوۃ کے معنی زیادہ چلنے سے پاؤں گے چھل جانے کے ہیں ۔ اسی سے احفیت الشارب ( نیک برید بروت را) ہے جس کے مونچھوں کو اچھی طرح کاٹ کر صاف کردینے کے ہیں ۔ الحفی ۔ نکیو کار اور نہایت مہربان ۔ قرآن میں ہے ۔ إِنَّهُ كانَ بِي حَفِيًّا [ مریم/ 47] بیشک وہ مجھ پر نہایت مہربان ہے ۔ کہا جاتا ہے احفیت بفلان وتحفیت بہ میں نے اس کے اعزاز رکرام کے بجا لانے میں کوئی وقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا ۔ الحفی ( ایضا) کسی چیز کا اچھی طرح جاننے والا ۔ بخل البُخْلُ : إمساک المقتنیات عمّا لا يحق حبسها عنه، ويقابله الجود، يقال : بَخِلَ فهو بَاخِلٌ ، وأمّا البَخِيل فالذي يكثر منه البخل، کالرحیم من الراحم . والبُخْلُ ضربان : بخل بقنیات نفسه، وبخل بقنیات غيره، وهو أكثرها ذمّا، دلیلنا علی ذلک قوله تعالی: الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ [ النساء/ 37] . ( ب خ ل ) البخل ( دس ) اپنے جمع کردہ ذخائر کو ان جگہوں سے روک لینا جہاں پر خرچ کرنے سے اسے روکنا نہیں چاہیئے ۔ اس کے بالمقابل الجواد ہے بخل اس نے بخیل کیا باخل ۔ بخل کرنے والا ۔ البخیل ( صیغہ مبالغہ ) جو بہت زیادہ بخل سے کام لیتا ہو جیسا کہ الراحم ( مہربان ) سے الرحیم مبالغہ کے لئے آتا جاتا ہے ۔ البخیل ۔ دو قسم پر ہے ایک یہ ہے کہ انسان اپنی چیزوں کو خرچ کرنے سے روک لے اور دوم یہ کہ دوسروں کو بھی خرچ کرنے سے منع کرے یہ پہلی قسم سے بدتر ہے جیسے فرمایا : { الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ } ( سورة النساء 37) یعنی جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل کی تعلیم دیں ۔ ضغن الضِّغْنُ والضَّغْنُ : الحِقْدُ الشّديدُ ، وجمعه : أَضْغَانٌ. قال تعالی: أَنْ لَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ أَضْغانَهُمْ [ محمد/ 29] ، وبه شبّه الناقة، فقالوا : ذاتُ ضِغْنٍ وقناةٌ ضَغِنَةٌ: عوجاءُ والإِضْغَانُ : الاشتمالُ بالثّوب وبالسّلاح ونحوهما . ( ض غ ن ) الضغن والضغن ۔ سخت کینہ اور انتہائی بعض ۔ اس کی جمع اضغاث آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : أَنْ لَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ أَضْغانَهُمْ [ محمد/ 29] کہ خدا ان کے کینوں کو ظاہر نہیں کریگا ۔ پھر بطور تشبیہ اس اونٹنی کو جو بدوں مار پٹائی کے صحیح چال نہ چلے اسے ناقۃ ذات ضغن کہاجاتا ہے ۔ اسی طرح ٹیڑے نیزے کو قنادۃ ذات ضغن کہہ دیتے ہیں ۔ الاضغان ( افعال ) کپڑا یا اسلحہ وغیرہ پہن کر اس میں مستور ہوجانا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

کیونکہ اگر وہ صدقہ میں تم سے انتہا درجہ تک تمہارے سب مال طلب کرنے لگے تو تم اللہ تعالیٰ کے راستہ میں صدقہ و خیرات کرنے سے کنجوسی کرنے لگو اور اس وقت حق تعالیٰ تمہارا بخل ظاہر کردے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٧{ اِنْ یَّسْئَلْکُمُوْہَا فَیُحْفِکُمْ تَـبْخَلُوْا وَیُخْرِجْ اَضْغَانَـکُمْ } ” اگر وہ تم سے ان (اموال) کے بارے میں مطالبہ کرے اور اس معاملے میں تم پر تنگی کرے تو تم بخل سے کام لو گے اور وہ ظاہر کر دے گا تمہارے (دلوں کے) کھوٹ کو۔ “ منافقین کے ساتھ عملی طور پر ایسا ہوتا بھی رہا کہ جب بھی کبھی مشکل حالات سے سابقہ پڑا ‘ ان کے دلوں کا کھوٹ فوراً ان کی زبانوں پر آگیا۔ جیسے غزوئہ احزاب کے موقع پر منافقین کے اندر کی خباثت ان الفاظ کے ساتھ ان کی زبانوں پر آگئی تھی : { مَّا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اِلَّا غُرُوْرًا۔ (الاحزاب : ١٢) کہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تو ہمیں دھوکہ دیا ہے اور مستقبل کے بارے میں اب تک ہمیں سبز باغ ہی دکھائے جاتے رہے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

44 That is; "He dces not put you to any severe trial that may bring out your weaknesses. "

سورة مُحَمَّد حاشیہ نمبر :44 یعنی اتنی بڑی آزمائش میں وہ تمہیں نہیں ڈالتا جس سے تمہاری کمزوریاں ابھر آئیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

15: اطاعت کا اصل تقاضا تو یہ تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں یہ حکم دیں کہ اپنا سارا مال اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کردو تو تم اس پر بھی خوشی سے راضی رہو، لیکن اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ تم اس حکم کو برداشت نہیں کرسکو گے۔ اور اس سے تمہارے دلوں میں ناپسندیدگی پیدا ہوگی، اس لیے اللہ تعالیٰ ایسا حکم نہیں دیتے۔ البتہ تمہارے مال کا کچھ حصہ وہ خود تمہارے فائدے کے لیے جہاد میں خرچ کرنے کو کہہ رہا ہے، اپنے فائدے کے لیے نہیں۔ چنانچہ اس سے تمہیں بخل نہیں کرنا چاہئے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٧۔ ٣٨۔ دنیا کی زندگی پر گرویدہ ہو کر دین کی لڑائی اور دین کے کاموں سے جی چرانے والوں کو ان آیتوں میں یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ دنیا کی زندگی ناپائیدار اور چند روز کا کھیل تماشہ ہے جس سے کچھ حاصل نہیں ہاں دنیا کے اندر اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیز گاری اختیار کرو تو تم کو خدا اس کا اجر دے گا جس میں ہمیشہ کی راحت ہے تھوڑے دنوں کے کھیل تماشے کے پیچھے ہمیشہ کی راحت کو ہاتھ سے دینا کسی سمجھ دار کا کام نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے صدقہ خیرات کی تاکید جو کی ہے اور زکوٰۃ جو فرض کی ہے وہ اسی فائدہ کے لئے کہ دنیا میں غریبوں کا کام چلے اور ایمانداری اور پرہیز گاری سے جو شخص کچھ خرچ کرے عقبیٰ میں ایک کے دس سے لے کر سات سو تک اور زیادہ نیک نیتی کی صورت میں اس سے بھی بڑھ کر اس کو اجر دیا جائے ورنہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے مال کے مانگنے کی کچھ ضرورت نہیں دنیا میں جو کچھ ہے وہ اس کا پیدا کیا ہوا ہے اس لئے جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ اس کا ہے اللہ کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں اس کو خوب معلوم ہے کہ انسان کے دل میں مال کی الفت بہت ہے اگر تنگ کرکے سارامال خرچ کرنے کا حکم دیا جائے گا تو تم بخیلی کرنے لگو گے اور غیروں کو جو کچھ دو گے وہ طرح طرح کی خفگی جتلا کر دو گے اس واسطے زکوٰۃ کی مقدار اس نے برس روز میں چالیسواں حصہ ٹھہرائی ہے اور نفلی صدقہ خیرات کی مقدار ہر شخص کی ہمت پر منحصر رکھی ہے اس حکم کی تعمیل میں جو شخص بخیلی کرے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا کیونکہ آدمی کے پاس جو کچھ مال متاع ہے وہ دنیا کا دنیا میں رہے گا اور آدمی مرجائے گا ایسی ساتھ چھوڑ دینے والی چیز کو ساتھ لے جانے کا طریقہ تو یہی ہے کہ جس طرح مال کے خرچ کرنے کا حکم شریعت میں ہے عقبیٰ کے اجر کی نیت سے اس حکم کے موافق مال خرچ کیا جائے اور اللہ سے اس کے اجر کی توقع رکھی جائے۔ چناچہ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ (رض) کی اسی مضمون کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے آخر کو فرمایا اگر موجودہ لوگ اللہ کے حکم کی تعمیل نہ کریں گے تو ان کی جگہ اللہ تعالیٰ کسی اور فرمانبردار مخلوقات کو بدل دے گا ‘ اس فرمانبردار قوم کی تفسیر بعض سلف نے فارس کو قرار دیا ہے ١ ؎ اور بعضوں نے اہل یمن کو مگر مجاہد نے اس کو اللہ تعالیٰ کے علم پر سونپا ہے صحیح مسلم ٢ ؎ کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قسم کھا کر فرمایا کہ اگر لوگ گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کی جگہ اور گناہ اور توبہ کرنے والی قوم کو پیدا کر تاکہ اس نئی قوم کے لوگ گناہ کرکے توبہ کرتے اور اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرتا اور اس حدیث کو آخری آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ جس طرح سارے موجودہ لوگوں کے بےگناہ نہ ہوجانے سے کوئی مخلوق پیدا نہیں ہوئی اسی طرح اس زمانہ کے موجودہ تو گو صحابہ اور اول درجہ کے فرمانبردار تھے اس لئے یہی تفسیر صحیح اور موجودہ صحابہ کی شان کے موافق معلوم ہوتی ہے کہ ان کی جگہ کسی نئی فرمانبردار قوم کو پیدا کرنے کی ضرورت نہیں پڑی اگر ضرورت پڑتی تو اللہ تعالیٰ اپنے علم غیب کے موافق کسی نئی فرمانبردار قوم کو بدل دیتا یہ تفسیر مجاہد کے قول کے موافق ہے ‘” سورة محمد ختم ہوئی۔ “ (١ ؎ تفسیر الدر المنثور ص ٦٧ ج ٨۔ ) (٢ ؎ صحیح مسلم باب قبول التوبۃ من الذنوب ص ٣٥٧ ج ٢۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(47:37) ان یسئلکموھا۔ جملہ شرط ہے ان شرطیہ یسئل مضارع مجزوم بوجہ عمل ان ، واحد مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر وائو اشباع کا ہے ھا ضمیر مفعول ثانی واحد مؤنث غائب جو اموال کی طرف راجع ہے اگر وہ تم سے اسے (یعنی مال کو) طلب کرے۔ فیحفکم : ف عاطفہ ہے یحف مضارع مجزوم بوجہ عمل ان مقدرہ۔ واحد مذکر غائب احفاء (افعال ) مصدر۔ ح ف و مادہ۔ یحف اصل میں یخفی تھا۔ ان کے عمل سے ف ساکن ہوگیا۔ ی اجتماع ساکنین سے گرگئی۔ ی کی رعایت سے ف کو کسرہ دیا گیا۔ یحف ہوگیا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ پھر تم کو مانگنے پر تنگ کرے۔ تم سے مانگنے پر اصرار کرے۔ تم سے مانگنے میں زیادتی کرے۔ احقائ۔ کسی کام میں زیادتی کرنا۔ مثلاً احفی شاربہ۔ اس نے اپنی لبوں کے بال بہت زیادہ تراشے۔ اور احفی السوال اس نے بار بار سوال کیا۔ امام راغب لکھتے ہیں :۔ اصل میں یہ (یعنی اجفاء ) احفیت الدابۃ سے ہے جس کے معنی گھوڑے یا اونٹ کو زیادہ چلا کر اس کے سم یا پائوں کو گھسا ہوا کردینے کے ہیں۔ الحفی۔ نیکوکار۔ نہایت مہربان ۔ قرآن مجید میں ہے۔ انہ کان بی حفیا (19:7) بیشک وہ مجھ پر نہایت مہربان ہے۔ اور الحفی بمعنی کسی چیز کا اچھی طرح جاننے والا بھی ہے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے۔ یسئلونک کانک حفی عنھا (7:187) یہ تم سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا تم اس سے بخوبی واقف ہو “۔ تبخلوا جواب شرط ہے ان یسئلکموھا جملہ شرطیہ ہے مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اصل میں تبخلون تھا نون عامل کی وجہ سے حذف ہوگیا۔ تم بخل کرنے لگو۔ تم کنجوسی کرنے لگو گے۔ مال ومتاع کو اس جگہ خرچ کرنے سے روک رکھنا جہاں خرچ کرنا چاہیے اس کا نام بخل ہے یہ جود کے بالمقابل ہے۔ بخل کی دو قسمیں ہیں۔ ایک یہ کہ خود مناسب جگہ خرچ نہ کرنا اور دوسرے غیر کو بھی خرچ کرنے سے روک دینا یہ اور بھی قابل مذمت ہے۔ قرآن مجید میں ہے :۔ الذین یبخلون ویامرون الناس بالبخل (4:37) جو لوگ کہ خود بھی بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بخل کا حکم دیتے ہیں۔ (اس میں دونوں قسم کا بخل مذکور ہے) ۔ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ اگر وہ تم سے تمہارے (سارے) مال طلب کرے اور اس پر سختی سے اصرار کرے تو تم بخل کرنے لگو۔ تم کنجوسی کرو گے : ویخرج اضغانکم وائو عاطفہ، یخرج کی ضمیر فاعل اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے وہ نکال دیتا ہے۔ وہ ظاہر کردیتا ہے یا کر دے گا۔ یخرج مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ اضغانکم۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول یخرج کا۔ اور (یوں) وہ ظاہر کر دے۔ تمہاری نا گواریوں کو۔ اضغان جمع ضغن کی ہے۔ صاحب تاج العروس اس کی تحقیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔ قد ضغن الیہ مال واشتاق وحقد۔ اس لفظ کے تین معنی ہیں۔ کسی چیز کی طرف مائل ہونا۔ کسی چیز کا شوق دل میں پیدا ہونا۔ اور کینہ وبغض “۔ اس آیت میں اگر روئے سخن منافقین کی طرف ہو تو پھر اس کا معنی ہوگا کہ تمہارے دلوں میں اسلام کے بارے میں جو بغض و عناد ہے جسے تم بڑی مہارت سے چھپائے ہوئے ہو وہ ظاہر ہوجائے گا۔ اور اگر اس سے مراد اہل ایمان ہیں تو پھر اس سے مراد محبت ہوگی کیونکہ ہر شخص صدیق اکبر نہیں ہوا کرتا کہ اپنے محبوب کریم کے اشارہ ابروپر اپنے گھر کا سارا اثاثہ اٹھا کرلے آئے اور اس کے قدموں پر ڈھیر کر دے ۔ بعض لوگوں کو مال سے محبت ہوتی ہے۔ وہ کسی حد تک قربانی کے لئے آمادہ ہوتے ہیں لیکن اگر انہیں سارا مال خرچ کرنے کا حکم دیا جائے اور اس پر اصرار کیا جائے تو بعض لوگ دولت سے اپنے اس لگائو کو چھپا نہیں سکتے۔ ضغن کے یہ متعدد معانی ہیں، محل اور موقع کی مناسبت سے اس کا معنی متعین کیا جائے گا۔ (ضیاء القرآن)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 یعنی اگر وہ زبردستی تم سے تمہارے اموال مانگے تو تم بخل کرو گے اور تمہارے دلوں کی خفگیاں کھل کر سامنے آجائیں گی۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ان یسئلکموھا فیحفکم تبخلوا ویخرج اصغانکم (٤٧ : ٣٧) ” اگر کہیں وہ تمہارے مال تم سے مانگ لے اور سب کے سب تم سے طلب کرلے تو تم بخل کرو گے اور وہ تمہارے کھوٹ ابھار لائے گا “۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ اللہ کے احکام کس قدر حکیمانہ ہیں ، جس طرح اس سے اللہ کی رحمت اور مہربانیوں کا اظہار ہوتا ہے کہ دین اسلام میں جو فرائض و واجبات مقرر کئے گئے ہیں وہ فطرت کے عین مطابق ہیں اور اس میں انسانوں کی بشری کمزوریوں اور انسانی استعداد کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ اس لیے کہ اسلام ایک ربانی نظام زندگی ہے۔ اور یہ انسانوں کے لئے ایک ربانی نظام تجویز کرتا ہے۔ یہ نظام ایک ربانی نظام اس زاویہ سے ہے کہ اس کے قواعد اللہ نے بنائے ہیں اور یہ انسانی اس لحاظ سے ہے۔ کہ اس میں انسان کی استعداد ، قوت اور ماحول کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ اللہ ہی ہے جس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اور اللہ ہی ہے جو ان کے لئے نظام تجویز کرتا ہے کیونکہ وہ اپنی مخلوق سے اچھی طرح واقف ہے اور وہ لطیف وخبیر ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿اِنْ يَّسْـَٔلْكُمُوْهَا فَيُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ يُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ ٠٠٣٧﴾ (اگر وہ تم سے تمہارے مال طلب کرے اور انتہاء درجہ تک طلب فرمائے تو تم بخل کرو گے اور اللہ تعالیٰ تمہاری ناگواری کو ظاہر فرما دے گا) یعنی تم اس صورت میں مال خرچ نہ کرو گے اور خرچ کرنے کا حکم ہوتے ہوئے خرچ نہ کرنے کی ظاہری بےعملی سے تمہارے اندر کی ناگواری ظاہر ہوجائے گی اور یہ بات ظاہر ہوجائے گی کہ حکم کے مطابق عمل کرنے پر دل سے راضی نہیں ہو مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے طور پر ١/٤٠ خرچ کرنے کا حکم ہوا ہے اسے خرچ کرنے سے بھی جان چراتے ہیں دینداری کے دعویدار بھی پورا حساب کرکے پوری زکوٰۃ دینے کو تیار نہیں اگر پورے اموال کا خرچ کرنے کا حکم ہوتا تو کیا حال ہوتا خوب سمجھ لیا جائے

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(37) اگر تم تمہارے کل مال طلب کرنے لگے اور اس طلب کرنے میں میں مبالغہ کرے تو تم بخل کرنے لگو اور اللہ تعالیٰ تمہارے بخل اور باطنی ناگواری کو ظاہر کردے۔ یعنی اگر تم سے زیادہ مال کا مطالبہ کیا جائے اور اس میں سختی سے کام لیا جائے تو سب نہ سہی اکثر بخل کرنے لگیں اور مال کی محبت میں جو کمزوریاں ہوتی ہیں ان کو اللہ تعالیٰ ظاہر کردے تو ایسا نہیں۔ بعض حضرات نے یوں تفسیر کی کہ مال خرچ کرنے میں جو تاکید سنتے ہو تو یہ مطلب نہیں کہ اللہ اور اس کا رسول تم سے اپنے لئے مانگتے ہیں بلکہ مانگتے ہیں تم سے فقراء کے لئے اور راہ دین کے قائم کرنے کے لئے اس مال میں کہ تنگ نہیں کرتے تم کو اور نہ بہت مانگتے ہیں تم سے۔ بہرحال خلاصہ یہ ہے کہ وسعت سیزیادہ کسی کو تکلیف نہیں دی جاتی اگر ایسا ہوتا تو لوگوں کو بہت شاق ہوتا اور بہت سے حضرات سے کمزوریاں ظاہر ہوتیں اب عام طور سے لوگوں کی حالت پر تبصرہ فرمایا۔