Commentary لَّقَدْ رَضِيَ اللَّـهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ (Allah was pleased with the believers when they were pledging allegiance with you by placing their hands in your hands under the tree,...48:18). The reference in this verse is to the same pledge that was given at Hudaibiyah and which was referred to earlier in verse 10. Verse [ 18] reinforces verse [ 10.]. In verse [ 18] Allah announces that those sincere participants who took this solemn oath have obtained His pleasure. Therefore, the oath came to be known as bai` at-ur-Ridwan (that is, the pledge that earned Allah&s pleasure). The purpose of this is to compliment the participants of the allegiance and to emphasise the obligation of fulfilling the covenant. It is recorded in Bukhari and Muslim on the authority of Sayyidna Jabir (رض) that on the day of Hudaibiyah, the companions were 1400 people, and the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to them: اَنتُم خَیرُ اھلِ الارضِ |"You are the best of people living on the surface of the earth.|" It is recorded in Muslim on the authority of Umm Bishr (رض) that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has said, لا یدخل النَّارَ اَحَدُ مِمَّن بَایَعَ تَحتَ الشَّجرَۃِ |"None of those who swore fealty under the tree will enter the Fire|" (Mazhari). Therefore, the participants of this allegiance are like the participants of the battle of Badr. The Qur&an and Hadith give glad tidings of Allah&s pleasure and Paradise to the participants of the battle of Badr. Likewise the sources give glad tidings of Allah&s pleasure and Paradise to the participants of bai` at-ur-Ridwan. These tidings bear testimony to the fact that these sincere participants meet their end in the state of faith, righteousness, and with deeds that please Allah, because this announcement of Allah&s pleasure guarantees that. Vilification of, and Finding Fault with, the Noble Companions prohibited Tafsir Mazhari says that the noble Companions are among the best of the Prophet&s (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) followers, and as such Allah has announced forgiveness of their sins, shortcomings and slips - if they committed any. Therefore, it is against the declaration of this verse to investigate into those of their deeds that are not laudable, and to make it a subject of debate. It is also a crystal clear denunciation of the attitude of Rawafid, the Shiites, who reject the legitimacy of the caliphs Abu Bakr (رض) ، ` Umar (رض) and ` Uthman, and vilify them and other blessed Companions (رض) - condemning them as unbelievers and hypocrites. The Tree of Ridwan The tree that is mentioned in this verse refers to mimosa arabica or the gum-acacia tree. It is reported that after the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) some people used to take walk there and perform salah. Sayyidna ` Umar (رض) came to know about this and feared that the future generation lacking in knowledge might start worshipping the very tree, as it happened in the past generations. Therefore, he had the tree felled (cut down a tree). However, it is recorded in Bukhari and Muslim on the authority of Sayyidna Tariq Ibn ` Abdur-Rahman who reports: |"I once went for Hajj, and I passed by some people who had gathered in a place and were performing salah. I asked them: &Which mosque is this?&. They replied: &This is the tree under which the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم took bai` at-ur-Ridwan.& After that I went up to Sayyidna Said Ibn Musayyab and narrated this incident to him. He said: &My father was one of those who participated in bai` at-ur-Ridwan. He said to me that when he went to Makkah the following year he looked for the tree, but could not find it.& Then Sayyidna Said Ibn Musayyab (رض) added: &Companions (رض) who participated in bai` at-ur-Ridwan at the hands of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) themselves are unaware of the location of the tree, but it is strange that you should know about it. Are you more knowledgeable than they are?&|" (Ruh-ul-Ma’ ani). This goes to show that later on people must have determined conjecturally - based on incomplete and doubtful evidence - about a particular tree that it was the tree under which the pledge was taken. As a result, they frequented the place and performed salah. Sayyidna ` Umar (رض) knew that it was not the real tree. Then he apprehended people&s involvement in shirk. Therefore, he had the tree felled. Conquest of Khaibar Khaibar is the name of a province which comprises many settlements, fortresses and gardens (Mazhari). Verse 18 refers to the victory of Khaibar by saying, وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا |"and rewarded them with a well-nigh victory,|". There is consensus of the scholars on that &well-nigh victory& in this verse means the victory of Khaibar which occurred after returning from Hudaibiyah. According to some versions, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) stayed in Madinah after returning from Hudaibiyah only for ten days, and according to other versions, he stayed for twenty days. Then he marched against Khaibar. According to Ibn Ishaq&s version, he returned to Madinah in the month of Dhulhijjah and set out for Khaibar in the month of Muharram in the 7th year of Hijrah. Khaibar was conquered in the month of Safar in the 7th year of Hijrah. This is reported by Waqidi&s Maghazi. According to Hafiz Ibn-Hajar, this is the preferred opinion. (Tafsir Mazhari) In any case, this shows that the conquest of Khaibar took place many days after the march to Hudaibiyah. According to consensus of scholarly opinion, Surah Al-Fath was revealed in the course of his return journey from Hudaibiya. However, there is a difference of opinion whether the Surah was revealed in its entirety or some of its verses were revealed later. If the first view is preferred, then the conquest of Khaibar is a prophecy that Muslims will definitely achieve and is described in past perfect tense to denote that it is as certain as an event that has already happened in the past. If the second view is preferred, it is possible that these verses were revealed after the conquest of Khaibar. Allah knows best!
خلاصہ تفسیر تحقیق اللہ ان مسلمانوں سے (جو آپ کے ہم سفر ہیں) خوش ہوا جبکہ یہ لوگ آپ سے درخت کے نیچے (جہاں میں ثابت قدم رہنے پر) بیعت کر رہے تھے اور ان کے دلوں میں جو کچھ (اخلاص اور عہد کو پورا کرنے کا عزم) تھا اللہ کو وہ بھی معلوم تھا اور (اس وقت) اللہ تعالیٰ نے ان (کے قلب) میں اطمینان پیدا کردیا (جس سے ان کو خدا کا حکم ماننے میں ذرا پس و پیش یا تردد نہیں ہوا۔ یہ تو معنوی نعمتیں ہوئیں) اور (اس کے ساتھ کچھ محسوس نعمتیں بھی دی گئیں جن میں معنوی نعمتیں بھی شامل تھیں، چنانچہ) ان کو ایک لگتے ہاتھ فتح دے دی (مراد اس فتح سے فتح خیبر ہے) اور (اس فتح میں) بہت سی غنیمتیں بھی (دیں) جن کو یہ لوگ لے رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ بڑا زبردست (اور) بڑا حکمت والا ہے (کہ اپنی قدرت اور حکمت سے جس وقت جس کے لئے مناسب سمجھتا ہے فتح دے دیتا ہے اور کچھ اسی فتح خیبر پر بس نہیں بلکہ) اللہ تعالیٰ نے تم سے (اور بھی) بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کر رکھا ہے جن کو تم لو گے سو (ان میں سے) سردست تم کو یہ دے دی ہے اور (اس کے دینے کے لئے خیبر اور حلفاء خیبر کے) لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیئے (یعنی سب کے دلوں پر رعب ڈال دیا کہ ان کو زیادہ دراز دستی کی ہمت نہ ہوئی اور اس سے تمہارا دنیوی نفع بھی مقصود تھا تاکہ آرام اور فراغت ملے) اور (دینی نفع بھی تھا) تاکہ یہ (واقعہ) اہل ایمان کیلئے (دوسرے وعدوں کے سچے ہونے کا) ایک نمونہ ہوجائے (یعنی خدا کے وعدوں کے سچا ہونے پر اور زیادہ ایمان پختہ ہوجائے) اور تاکہ (اس نمونہ کے ذریعہ) تم کو (آئندہ کے لئے ہر کام میں) ایک سیدھے راستہ پر ڈال دے (مراد اس راستہ سے توکل اور اللہ پر بھروسہ ہے یعنی ہمیشہ کے لئے اس واقعہ کو سوچ کر اللہ پر اعتماد سے کام لیا کرو اس طرح دینی نفع دو ہوگئے ایک علمی اور اعتقادی جس کو ولتکون سے بیان فرمایا، دوسرا عملی و اخلاقی جس کو یھدیکم کے الفاظ سے ارشاد فرمایا) اور ایک فتح اور بھی (موعود) ہے جو ( اس وقت تک) تمہارے قابو میں نہیں آئی (مراد اس سے فتح مکہ ہے جو اب تک واقع نہیں ہوئی تھی مگر) خدا تعالیٰ اس کو احاطہ (قدرت) میں لئے ہوئے ہے (جب چاہے گا تم کو عطا کر دے گا) اور (اسی کی کیا تخصیص ہے) اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ معارف و مسائل (آیت) لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ، اس بیعت سے مراد بیعت حدیبیہ ہے جس کا ذکر اس سے پہلے بھی (آیت) ان الذین یبایعونک میں آ چکا ہے یہ آیت بھی اسی سے متعلق اور اس کی تاکید ہے اس آیت میں حق تعالیٰ نے اس بیعت کے شرکاء سے اپنی رضا کا اعلان فرمایا دیا ہے اسی لئے اس کو بیعت رضوان بھی کہا جاتا ہے اور مقصود اس سے ان شرکاء بیعت کی مدح اور ان کو اس عہد کے پورا کرنے کی تاکید ہے۔ صحیحین میں حضرت جابر کی روایت ہے کہ حدیبیہ کے دن ہماری تعداد چودہ سو نفر کی تھی ہم سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انتم خیر اھل الارض، یعنی تم لوگ تمام روئے زمین کے انسانوں سے بہتر ہو اور صحیح مسلم میں ام بشر سے مرفوعاً روایت ہے کہ لایدخل النار احد ممن بایع تحت الشجرة، یعنی جن لوگوں نے اس درخت کے نیچے بیعت کی ہے ان میں کوئی جہنم میں نہیں جائے گا (مظہری) اس لئے اس بیعت کے شرکاء کی مثال شرکاء غزوہ بدر کی سی ہے جیسا ان کے متعلق قرآن و حدیث میں رضائے الٰہی اور جنت کی بشارتیں ہیں اسی طرح شرکاء بیعت رضوان کے لئے بھی یہ بشارت آئی ہے۔ یہ بشارتیں اس پر شاہد ہیں کہ ان سب حضرات کا خاتمہ ایمان اور اعمال صالحہ مرضیہ پر ہوگا کیونکہ رضائے الٰہی کا یہ اعلان اس کی ضمانت دے رہا ہے۔ صحابہ کرام پر طعن وتشنیع اور ان کی لغزشوں میں غور و بحث اس آیت کیخلاف ہے : تفسیر مظہری میں فرمایا کہ جن خیار امت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے غفران و مغفرت کا یہ اعلان فرما دیا ہے، اگر ان سے کوئی لغزش یا گناہ ہوا بھی ہے تو یہ آیت اس کی معافی کا اعلان ہے۔ پھر ان کے ایسے معاملات کو جو مستحسن نہیں ہیں غور و فکر اور بحث و مباحثہ کا میدان بنانا بدبختی اور بظاہر اس آیت کی مخالفت ہے۔ یہ آیت روافض کے قول کی واضح تردید ہے جو ابوبکر و عمر اور دوسرے صحابہ پر کفر و نفاق کے الزام لگاتے ہیں شجرة رضوان : شجرہ، جس کا ذکر اس آیت میں آیا ہے ایک ببول کا درخت تھا اور مشہور یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد کچھ لوگ وہاں چل کر جاتے اور اس درخت کے نیچے نمازیں پڑھتے تھے۔ حضرت فاروق اعظم کو خطرہ ہوا کہ کہیں آئندہ آنے والے جہلاء اسی درخت کی پرستش نہ شروع کردیں جیسے پچھلی امتوں میں اس طرح کے واقعات ہوئے ہیں اس لئے اس درخت کو کٹوا دیا مگر صحیحین میں ہے کہ حضرت طارق بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حج کے لئے گیا تو راستے میں میرا گزر ایسے لوگوں پر ہوا جو ایک مقام پر جمع تھے اور نماز پڑھ رہے تھے میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کونسی مسجد ہے انہوں نے کہا کہ یہ وہ درخت ہے جس کے نیچے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیعت رضوان لی تھی، میں اس کے بعد حضرت سعید بن مسیب کے پاس حاضر ہوا اور اس واقعہ کی خبر ان کو دی، انہوں نے فرمایا کہ میرے والد ان لوگوں میں سے تھے جو اس بیعت رضوان میں شریک ہوئے انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ ہم جب اگلے سال مکہ مکرمہ حاضر ہوئے تو ہم نے وہ درخت تلاش کیا ہمیں بھول ہوگئی اس کا پتہ نہیں لگا۔ پھر سعید بن مسیب نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ جو خود اس بیعت میں شریک تھے ان کو تو پتہ نہیں لگا تمہیں وہ معلوم ہوگیا عجیب بات ہے کیا تم ان سے زیادہ واقف ہو (روح المعانی) اس سے معلوم ہوا کہ بعد میں لوگوں نے محض اپنے تخمینہ اور اندازہ سے کسی درخت کو متعین کرلیا اور اس کے نیچے حاضر ہونا اور نمازیں پڑھنا شروع کردیا، فاروق اعظم کو یہ بھی معلوم تھا کہ یہ وہ درخت نہیں پھر خطرہ ابتلائے شرک کا لاحق ہوگیا اس لئے اس کو قطع کرا دیا ہو۔ کیا بعید ہے۔ فتح خیبر : خیبر در حقیقت ایک صوبہ کا نام ہے جس میں بہت سی بستیاں اور قلعے اور باغات شامل ہیں (مظہری) (آیت) وَاَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيْبًا، اس فتح قریب سے مراد باتفاق فتح خیبر ہے جو حدیبیہ سے واپس آنے کے بعد واقع ہوئی ہے بعض روایات کے مطابق تو حدیبیہ سے واپسی کے بعد آپ کا قیام مدینہ منورہ میں صرف دس روز اور دوسری روایت کے مطابق بیس روز رہا اس کے بعد خیبر کے لئے روانہ ہوگئے اور ابن اسحاق کی روایت کے مطابق آپ ذی الحجہ میں مدینہ طیبہ واپس تشریف لائے اور محرم 7 ہجری میں آپ غزوہ خیبر کے لئے تشریف لے گئے اور ماہ صفر سن 7 ہجری میں خیبر فتح ہوا۔ واقدی کے مغازی میں یہی لکھا ہے اور حافظ ابن حجرنے فرمایا کہ یہی راحج ہے (تفسیر مظہری ) بہرحال یہ ثابت ہوا کہ یہ واقعہ فتح خیبر سفر حدیبیہ سے کافی دنوں کے بعد پیش آیا ہے اور سورة فتح کا سفر حدیبیہ کے دوران نازل ہونا سب کے نزدیک متفق علیہ ہے البتہ اس میں اختلاف ہے کہ پوری سورت اسی وقت نازل ہوئی یا کچھ آیتیں بعد میں آئیں۔ اگر پہلی صورت راجح ہو تو ان آیتوں میں واقعہ خیبر کا بیان بطور پیشگوئی کے ہو اور اس کو بصیغہ ماضی قطعی اور یقینی ہونے کی بناء پر تعبیر کیا گیا اور اگر دوسرا قول راحج ہو تو یہ ہوسکتا ہے کہ یہ آیتیں بعد وقوع فتح خیبر کے نازل ہوئی ہوں واللہ اعلم۔