Surat ul Hujraat

Surah: 49

Verse: 14

سورة الحجرات

قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّا ؕ قُلۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا وَ لٰکِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا وَ لَمَّا یَدۡخُلِ الۡاِیۡمَانُ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ ؕ وَ اِنۡ تُطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ لَا یَلِتۡکُمۡ مِّنۡ اَعۡمَالِکُمۡ شَیۡئًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۴﴾

The bedouins say, "We have believed." Say, "You have not [yet] believed; but say [instead], 'We have submitted,' for faith has not yet entered your hearts. And if you obey Allah and His Messenger, He will not deprive you from your deeds of anything. Indeed, Allah is Forgiving and Merciful."

دیہاتی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ۔ آپ کہہ دیجئے کہ درحقیقت تم ایمان نہیں لائے لیکن تم یوں کہو کہ ہم اسلام لائے ( مخالفت چھوڑ کر مطیع ہو گئے ) حالانکہ ابھی تک تمہارے دلوں میں ایمان داخل ہی نہیں ہوا تم اگر اللہ کی اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرنے لگو گے تو اللہ تمہارے اعمال میں سے کچھ بھی کم نہ کرے گا ۔ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

There is a Difference between a Believer and a Muslim Allah chastises the Bedouins who, when they embraced Islam, claimed for themselves the grade of faithful believers. However, Faith had not yet firmly entered their hearts, قَالَتِ الاْاَعْرَابُ امَنَّا قُل لَّمْ تُوْمِنُوا وَلَكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الاِْيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ ... The Bedouins say: "We believe." Say: "You do not believe, but say, `We have submitted,' for Faith has not yet entered your hearts..." This honorable Ayah provides proof that Faith is a higher grade than Islam, according to the scholars of the Ahl us-Sunnah wal-Jama`ah. This is also demonstrated in the Hadith of Jibril, peace be upon him, when he questioned the Prophet about Islam, then Iman then Ihsan. Thus moving the general matter to one more specific, then even more specific. Imam Ahmad recorded that `Amir bin Sa`d bin Abi Waqqas said, "The Messenger of Allah gave (something to) some men and did not give one of them. Sa`d said, `O Allah's Messenger, you gave to so-and-so and so-and-so. However, you gave nothing to so-and-so, even though he is a believer.' The Prophet said, أَوْ مُسْلِمٌ (Or say, a Muslim), Sa`d repeated his statement thrice each time the Prophet answered, أَوْ مُسْلِمٌ (Or say, a Muslim), إِنِّي لاَُعْطِي رِجَالاً وَأَدَعُ مَنْ هُوَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْهُمْ فَلَمْ أُعْطِهِ شَيْيًا مَخَافَةَ أَنْ يُكَبُّوا فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِم I might give some men and give nothing to others, even though the latter are dearer to me than the former. I do not give them things for fear that they might be thrown on their faces in the Fire." This Hadith is recorded in the Two Sahihs. Therefore, the Prophet made a distinction between the grade of believer and the grade of Muslim, indicating that Iman is a more exclusive grade than Islam. I mentioned this subject in detail supported by evidence, in the beginning of the explanation of the chapter on Iman in Sahih Al-Bukhari, all praise is due to Allah and all the favors are from Him. So this proves that the Bedouins whom the Ayah mentioned were not hypocrites, rather they were Muslims in whose hearts Faith was not yet firmly established. They claimed a higher grade for themselves than the grade that they earned, and they were taught a lesson as a consequence. This meaning agrees with the meaning given by Ibn Abbas, Ibrahim An-Nakha`i, Qatadah and that preferred by Ibn Jarir. These Bedouins were taught a lesson, ... لَّمْ تُوْمِنُوا وَلَكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الاِْيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ ... Say: "You do not believe, but say `We are Muslims,' for Faith has not yet entered your hearts..." meaning, `you have not yet achieved the reality of Faith.' Allah the Exalted said, ... وَإِن تُطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ لاَإ يَلِتْكُم مِّنْ أَعْمَالِكُمْ شَيْيًا ... But if you obey Allah and His Messenger, He will not decrease anything in reward for your deeds... `He will not decrease any of your rewards,' as Allah said; وَمَأ أَلَتْنَـهُمْ مِّنْ عَمَلِهِم مِّن شَىْءٍ We shall not decrease the reward of their deeds in anything. (52:21) Allah said: ... إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ Verily, Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful. (for those who repent and return to Him). Allah's statement,

ایمان کا دعویٰ کرنے والے اپنا جائزہ تو لیں کچھ اعرابی لوگ اسلام میں داخل ہوتے ہی اپنے ایمان کا بڑھا چڑھا کر دعویٰ کرنے لگتے تھے حالانکہ دراصل ان کے دل میں اب تک ایمان کی جڑیں مضبوط نہیں ہوئی تھیں ان کو اللہ تعالیٰ اس دعوے سے روکتا ہے یہ کہتے تھے ہم ایمان لائے ۔ اللہ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ ان کو کہئے اب تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا تم یوں نہ کہو کہ ہم ایمان لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم مسلمان ہوئے یعنی اسلام کے حلقہ بگوش ہوئے نبی کی اطاعت میں آئے ہیں اس آیت نے یہ فائدہ دیا کہ ایمان اسلام سے مخصوص چیز ہے جیسے کہ اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے جبرائیل علیہ السلام والی حدیث بھی اسی پر دلالت کرتی ہے جبکہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے میں پھر احسان کے بارے میں ۔ پس وہ زینہ بہ زینہ چڑھتے گئے عام سے خاص کی طرف آئے اور پھر خاص سے اخص کی طرف آئے ۔ مسند احمد میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چند لوگوں کو عطیہ اور انعام دیا اور ایک شخص کو کچھ بھی نہ دیا اس پر حضرت سعد نے فرمایا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے فلاں فلاں کو دیا اور فلاں کو بالکل چھوڑ دیا حالانکہ وہ مومن ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان ؟ تین مرتبہ یکے بعد دیگرے حضرت سعد نے یہی کہا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی جواب دیا پھر فرمایا اے سعد میں لوگوں کو دیتا ہوں اور جو ان میں مجھے بہت زیادہ محبوب ہوتا ہے اسے نہیں دیتا ہوں ، دیتا ہوں اس ڈر سے کہ کہیں وہ اوندھے منہ آگ میں نہ گر پڑیں ۔ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے پس اس حدیث میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن و مسلم میں فرق کیا اور معلوم ہو گیا کہ ایمان زیادہ خاص ہے بہ نسبت اسلام کے ۔ ہم نے اسے مع دلائل صحیح بخاری کی کتاب الایمان کی شرح میں ذکر کر دیا ہے فالحمد للہ ۔ اور اس حدیث میں اس بات پر بھی دلالت ہے کہ یہ شخص مسلمان تھے منافق نہ تھے اس لئے کہ آپ نے انہیں کوئی عطیہ عطا نہیں فرمایا اور اسے اس کے اسلام کے سپرد کر دیا ۔ پس معلوم ہوا کہ یہ اعراب جن کا ذکر اس آیت میں ہے منافق نہ تھے تھے تو مسلمان لیکن اب تک ان کے دلوں میں ایمان صحیح طور پر مستحکم نہ ہوا تھا اور انہوں نے اس بلند مقام تک اپنی رسائی ہو جانے کا ابھی سے دعویٰ کر دیا تھا اس لئے انہیں ادب سکھایا گیا ۔ حضرت ابن عباس اور ابراہیم نخعی اور قتادہ کے قول کا یہی مطلب ہے اور اسی کو امام ابن جریر نے اختیار کیا ہے ہمیں یہ سب یوں کہنا پڑا کہ حضرت امام بخاری فرماتے ہیں کہ یہ لوگ منافق تھے جو ایمان ظاہر کرتے تھے لیکن دراصل مومن نہ تھے ( یہ یاد رہے ایمان و اسلام میں فرق اس وقت ہے جبکہ اسلام اپنی حقیقت پر نہ ہو جب اسلام حقیقی ہو تو وہی اسلام ایمان ہے اور اسوقت ایمان اسلام میں کوئی فرق نہیں اس کے بہت سے قوی دلائل امام الائمہ حضرت امام بخاری نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں کتاب الایمان میں بیان فرمائے ہیں اور ان لوگوں کا منافق ہونا اس کا ثبوت بھی موجود ہے واللہ اعلم ۔ ( مترجم ) حضرت سعید بن جبیر ، حضرت مجاہد ، حضرت ابن زید فرماتے ہیں یہ جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بلکہ تم ( اسلمنا ) کہو اس سے مراد یہ ہے کہ ہم قتل اور قید بند ہونے سے بچنے کے لئے تابع ہو گئے ہیں ، حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ یہ آیت بنو اسد بن خزیمہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کے بارے میں اتری ہے جو ایمان لانے کا دعویٰ کرتے تھے حالانکہ اب تک وہاں پہنچے نہ تھے پس انہیں ادب سکھایا گیا اور بتایا گیا کہ یہ اب تک ایمان تک نہیں پہنچے اگر یہ منافق ہوتے تو انہیں ڈانٹ ڈپٹ کی جاتی اور ان کی رسوائی کی جاتی جیسے کہ سورہ برات میں منافقوں کا ذکر کیا گیا لیکن یہاں تو انہیں صرف ادب سکھایا گیا ۔ پھر فرماتا ہے اگر تم اللہ اور اسی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرماں بردار رہو گے تو تمہارے کسی عمل کا اجر مارا نہ جائے گا ۔ جیسے فرمایا آیت ( وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ ۭ كُلُّ امْرِی بِمَا كَسَبَ رَهِيْنٌ 21؀ ) 52- الطور:21 ) ہم نے ان کے اعمال میں سے کچھ بھی نہیں گھٹایا ۔ پھر فرمایا جو اللہ کی طرف رجوع کرے برائی سے لوٹ آئے اللہ اس کے گناہ معاف فرمانے والا اور اس کی طرف رحم بھری نگاہوں سے دیکھنے والا ہے پھر فرماتا ہے کہ کامل ایمان والے صرف وہ لوگ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر دل سے یقین رکھتے ہیں پھر نہ شک کرتے ہیں نہ کبھی ان کے دل میں کوئی نکما خیال پیدا ہوتا ہے بلکہ اسی خیال تصدیق پر اور کامل یقین پر جم جاتے ہیں اور جمے ہی رہتے ہیں اور اپنے نفس اور دل کی پسندیدہ دولت کو بلکہ اپنی جانوں کو بھی راہ اللہ کے جہاد میں خرچ کرتے ہیں ۔ یہ سچے لوگ ہیں یعنی یہ ہیں جو کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں یہ ان لوگوں کی طرح نہیں جو صرف زبان سے ہی ایمان کا دعویٰ کر کے رہ جاتے ہیں ۔ مسند احمد میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دنیا میں مومن کی تین قسمیں ہیں ( ١ ) وہ جو اللہ پر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے شک شبہ نہ کیا اور اپنی جان اور اپنے مال سے راہ اللہ میں جہاد کیا ( ٢ ) وہ جن سے لوگوں نے امن پا لیا نہ یہ کسی کا مال ماریں نہ کسی کی جان لیں ( ٣ ) وہ جو طمع کی طرف جب جھانکتے ہیں اللہ عزوجل کی یاد کرتے ہیں ۔ پھر فرماتا ہے کہ کیا تم اپنے دل کا یقین و دین اللہ کو دکھاتے ہو ؟ وہ تو ایسا ہے کہ زمین و آسمان کا کوئی ذرہ اس سے مخفی نہیں وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے ۔ پھر فرمایا جو اعراب اپنے اسلام لانے کا بار احسان تجھ پر رکھتے ہیں ان سے کہدو کہ مجھ پر اسلام لانے کا احسان نہ جتاؤ تم اگر اسلام قبول کرو گے میری فرماں برداری کرو گے میری مدد کرو گے تو اس کا نفع تمہیں کو ملے گا ۔ بلکہ دراصل ایمان کی دولت تمہیں دینا یہ اللہ ہی کا احسان ہے اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو ۔ ( اب غور فرمائیے کہ کیا اسلام لانے کا احسان پیغمبر اللہ پر جتانے والے سچے مسلمان تھے ؟ پس آیات کی ترتیب سے ظاہر ہے کہ ان کا اسلام حقیقت پر مبنی نہ تھا اور یہی الفاظ بھی ہیں کہ ایمان اب تک ان کے ذہن نشین نہیں ہوا اور جب تک اسلام حقیقت پر مبنی نہ ہو تب تک بیشک وہ ایمان نہیں لیکن جب وہ اپنی حقیقت پر صحیح معنی میں ہو تو پھر ایمان اسلام ایک ہی چیز ہے ۔ خود اس آیت کے الفاظ میں غور فرمائیے ارشاد ہے اپنے اسلام کا احسان تجھ پر رکھتے ہیں حالانکہ دراصل ایمان کی ہدایت اللہ کا خود ان پر احسان ہے ۔ پس وہاں احسان اسلام رکھنے کو بیان کر کے اپنا احسان ہدایت ایمان جتانا بھی ایمان و اسلام کے ایک ہونے پر باریک اشارہ ہے ، مزید دلائل صحیح بخاری شریف وغیرہ ملاحظہ ہوں مترجم ) پس اللہ تعالیٰ کا کسی کو ایمان کی راہ دکھانا اس پر احسان کرنا ہے جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین والے دن انصار سے فرمایا تھا میں نے تمہیں گمراہی کی حالت میں نہیں پایا تھا ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے تم میں اتفاق دیا تم مفلس تھے میری وجہ سے اللہ نے تمہیں مالدار کیا جب کبھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کچھ فرماتے وہ کہتے بیشک اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بھی زیادہ احسانوں والے ہیں بزار میں ہے کہ بنو اسد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم مسلمان ہوئے عرب آپ سے لڑتے رہے لیکن ہم آپ سے نہیں لڑے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان میں سمجھ بہت کم ہے شیطان ان کی زبانوں پر بول رہا ہے اور یہ آیت ( يَمُنُّوْنَ عَلَيْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا ۭ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَيَّ اِسْلَامَكُمْ ۚ بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِيْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ 17؀ ) 49- الحجرات:17 ) ، نازل ہوئی پھر دوبارہ اللہ رب العزت نے اپنے وسیع علم اور اپنی سچی باخبری اور مخلوق کے اعمال سے آگاہی کو بیان فرمایا کہ آسمان و زمین کے غیب اس پر ظاہر ہیں اور وہ تمہارے اعمال سے آگاہ ہے الحمد اللہ سورہ حجرات کی تفسیر ختم ہوئی اللہ کا شکر ہے ۔ توفیق اور ہمت اسی کے ہاتھ ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

14۔ 1 بعض مفسرین کے نزدیک ان اعراب سے مراد بنو اسد اور خزیمہ کے منافقین ہیں جنہوں نے قحط سالی میں محض صدقات کی وصولی کے لیے یا قتل ہونے اور قیدی بننے کے اندیشے کے پیش نظر زبان سے اسلام کا اظہار کیا تھا ان کے دل ایمان اعتقاد صحیح اور خلوص نیت سے خالی تھے (فتح القدیر) لیکن امام ابن کثبر کے نزدیک ان سے وہ اعراب مراد ہیں جو نئے مسلمان ہوئے تھے اور ایمان ابھی ان کے اندر پوری طرح راسخ نہیں ہوا تھا لیکن دعوی انہوں نے اپنی اصل حثییت سے بڑھ کر ایمان کا کیا تھا جس پر انہیں یہ ادب سکھایا گیا کہ پہلے مرتبے پر ہی ایمان کا دعوی صحیح نہیں آہستہ آہستہ ترقی کے بعد تم ایمان کے مرتبے پر پہنچو گے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٣] بدوی منافق قبائل کا اسلام کیسا تھا ؟ یہ بدوی وہی لوگ تھے جو قبیلہ غفار، مزنیہ، جہینہ، اسلم اور اشجع سے تعلق رکھتے تھے اور اپنے نفاق کی وجہ سے غزوہ حدیبیہ میں شریک نہیں ہوئے۔ تھے اور جب آپ اس غزوہ سے واپس آئے تو حیلے بہانے تراش کر اپنے لئے استغفار کی التجا کر رہے تھے۔ ان کا ذکر سورة احزاب کی آیت نمبر ١١ تا ١٦ میں گزر چکا ہے۔ یہ لوگ کلمہ شہادتین پڑھ کر مسلمان تو ہوگئے تھے اور ارکان اسلام بھی بجا لاتے تھے۔ مگر ایمان ان کے دلوں میں راسخ نہیں ہوا تھا۔ انہیں آسان اور میٹھا میٹھا اسلام تو گوارا تھا لیکن وہ اس کے لئے کوئی مالی یا جانی قربانی پیش کرنے یا مشکلات برداشت کرنے کو تیار نہ تھے۔ خ اسلام اور ایمان میں فرق :۔ اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایمان اور چیز ہے اور اسلام اور چیز ہے۔ حدیث جبریل سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے۔ جب جبریل نے آپ سے پوچھا کہ ایمان کیا چیز ہے ؟ تو آپ نے جواب دیا کہ && ایمان یہ ہے کہ تو اللہ کا، اس کے فرشتوں کا، اس کی کتابوں اور رسولوں کا یقین رکھے اور اس بات کا بھی کہ مر کر دوبارہ زندہ ہونا ہے && اور جب جبریل نے پوچھا کہ اسلام کیا ہے && تو آپ نے فرمایا کہ : تو صرف اللہ کی عبادت کرے اور اس کا شریک نہ بنائے، نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے اور رمضان کے روزے رکھے && (بخاری۔ کتاب الایمان۔ باب سؤال جبریل النبی۔۔ ) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایمان کا تعلق دل کے افعال سے ہے اور اسلام کا ظاہری اعمال سے۔ یہ ان میں فرق کا پہلو ہے اور مماثلت کا پہلو یہ ہے کہ اگر ارکان اسلام کو باقاعدہ اور خلوص نیت سے ادا کیا جائے تو اس سے ایمان میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور ایمان میں اضافہ سے ظاہری اعمال میں حسن پیدا ہوتا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے ایمان اور اسلام ایک دوسرے کے مؤید اور لازم و ملزوم بن جاتے ہیں۔ منافقوں میں کمی یہ ہوتی ہے کہ ان کے اعمال میں نہ خلوص ہوتا ہے اور نہ حسن عمل لہذا ان کا ایمان شہادتین کے اقرار سے آگے بڑھتا ہی نہیں یعنی ایمان یا یقین ان کے دلوں میں راسخ نہیں ہوتا۔ اسی بات کو اللہ نے ایمان نہ لانے کے مترادف قرار دیا ہے۔ [٢٤] یعنی اب بھی اگر تم اپنا رویہ درست کرلو اور دل و جان سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے لگو تو اللہ تمہارے سابقہ اعمال کا اجر تمہیں دے دے گا۔ اس میں کچھ کمی نہ کرے گا۔ اور تمہاری سابقہ خطائیں بھی معاف فرما دے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) قالت الاعراب :” الاعراب “ کی تشریح کیلئے دیکھیں سورة توبہ (٩٧) کی تفسیر۔ یہاں ” الاعراب “ پر الف لام جنس کا نہیں عہد کا ہے اور اس سے مراد تمام اعراب نہیں، کیونکہ ان میں کئی مخلص مومن بھی تھے۔ (دیکھیے توبہ : ٩٩) بلکہ مراد وہ بعض اعراب ہیں جو مدینہ کے گرد رہتے تھے اور اسلام کی قوت کو دیکھ کر مسلمان ہوگئے تھے، دل میں تکذیب بھی نہیں تھی کہ انہیں منافق کہا جاسکے، مگر ابھی تک کچھ تردد باقی تھا اور ایمان و یقین پوری طرح دل میں داخل نہیں ہوا تھا، اس لئے یہ عمرہ حدیبیہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نہیں گئے۔ ان کا ذکر اس سے پہلے سورة فتح کی آیت (١١):(سیقول لک المخلقون من الاعراب) میں بھی گزرا ہے۔ (٢) امنا : سورت کی ابتدا میں ان اعراب کا ذکر ہے کہ نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اور ابھی تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آداب اور اسلام کے دوسرے احکام سے پوری طرح واقف نہیں تھے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان آداب و احکام کی تلقین فرمائی اور جاہلیت کے فخر و غرور اور اس سے پیدا ہونے والی قباحتوں سے منع فرمایا۔ اس سلسلے میں واضح فرمایا کہ آدمی کو دوسروں پر فخر کا حق ہی نہیں، کیونکہ وہ عزت جو دوسروں پر برتری دلاتی ہے وہ صرف تقویٰ سے حاصل ہتوی ہے، جس کا تعلق دل سے ہے اور دل کا حال صرف علیم وخبیر جانتا ہے۔ یہاں سے ان اعربا کے کچھ دعوے ذکر فرما کر، جن سے ان کے فخر کا اظہار ہوتا تھا۔ ان کی تردید فرمائی۔ سب سے پہلے ان کے اس دعوے کا ذکر فرما کر کہ ہم ایمان لے ائٓے ہیں، اس کی نفی فرمائی۔ (٣) قل لم یومنوا ولکن قولوا اسلمنا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان سے کہو کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم اسلام لے آئے۔ واضح رہے کہ قرآن و حدیث میں عام طور پر ایمان اور اسلام ایک ہی معنی میں استعمال ہوئے ہیں، جس میں دل کا یقین اور ظاہری فرماں برداری دونوں شامل ہیں، جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو عبدالقیس کو ایمان کی تشریح کرتے ہؤے بتایا کہ ایمان کلمہ شہادت ، نماز، روزے، زکوۃ، حج اور غنیمت میں سے خمس ادا کرنے کا نام ہے اور اللہ تعالیٰ نے ” ان الذین عند اللہ الاسلام “ کہہ کر اپنی جناب میں معتبر دین اسلام کو قرار دیا اور ظاہر ہے وہاں وہی دین معتبر ہے جو دل کے یقین سے ہو صرف ظاہری امال تو وہاں کچھ حیثیت نہیں رکھتے۔ بعض اوقات اسلام سے مراد ظاہری احکام کی پابندی اور ایم ان سے مراد قلبی یقین ہوتا ہے، جیسا کہ حدیث جبریل میں ہے۔ یہاں بیھ ایسا ہی ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیشہ ایمان سے مراد دلی یقین اور اسلام سے مراد ظاہری اعمال ہوتے ہیں، بلکہ بعض اوقات اسلام سے مراد دل سے مان لینا ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا (فمن یرد اللہ ان یھدیہ یشرح صدرہ للاسلام) (الانعام : ١٢٥)” تو وہ شخص جسے اللہ چاہتا ہے کہ اسے ہدیات دے، اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے۔ “ جس طرح بعض اوقات ایمان سے مراد صرف زبانی کلمہ پڑھنا ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا :(یایھا الذین امنوا امنوا باللہ و رسولہ) (النسائ : ١٣٦)” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! (یعنی جنہوں نے ایمان کا اقرار کیا ہے) ایمان لے آؤ (یعنی دل سے مان لو۔ ) “ یہاں فرمایا : ان سے کہو کہ تم ایمان نہیں لائے ہو ! (یعنی جنہوں نے ایمان کا اقرار کیا ہے) ایمان لے آؤ (یعنی دل سے مان لو۔ ) “ یہاں فرمایا، ان سے کہو کہ تم ایمان نہیں لائے، بلکہ یوں کہ وہ کہ ہم اسلام لے آئے ہیں۔ یعنی ہم کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوگئے ہیں اور اس کے ظاہری احکام پر عمل شروع کردیا ہے۔ یہاں الفاظ پر غور فرمائیں، اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ” قل لم یومنوا ولکن اسلمتم “ ” ان سے کہو کہ تم ایمان نہیں لائے، بلکہ تم مسلم ہوگئے ہو۔ “ بلکہ فرمایا :(لم تومنوا ولکن قولوا اسلمنا)” تم ایمان نہیں لائے، بلکہ یوں کہو کہ ہم اسلام لے آئے ہیں۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے مومن ہونے کی نفی کے بعد ان کے مسلم ہونے کو تسلیم نہیں کیا، بلکہ یہ فرمایا کہ تم مسلم ہونے کا دعویٰ کرسکتے ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مسلم وہی تسلیم ہوسکتا ہے جو مومن بھی ہو۔ اس کے ہاں اگر کسی کے دل میں یقین نہیں تو ظاہری اعماال کا بھی کچھ اعتبار نہیں۔ ہاں، ظاہری طور پر سالامی احکام کی پابندی کرنے والے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسلام کا دعویٰ کرنے کی اجازت ہے۔ (٤) ولما یدخل الایمان فی قلوبکم :” اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا، “ اس جملے سے ظاہر ہے کہ یہ لوگ اگرچہ پکے مومن نہیں تھے مگر منافق بھی تھے، کیونکہ وہ دل سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھوٹا نہیں جانتے تھے۔ ان کے شک کی وجہ سے ان کے ایمان کی نفی کی گئی اور اگلی آیت میں مومن ان لوگوں کو قرار دیا جو ایمان لائے پھر انہوں نے شک نہیں نہیں کیا۔ ” لما “ کے لفظ سے ظاہر ہے ہ اگرچہ وہ ابھی تک ایمان نہیں لائے تھے، مگر آئندہ ان کے دلوں کے اندر ایمان داخل ہونے کی امید تھی۔ (٥) وان تطیعوا اللہ و رسولہ لایلتکم…:” لایلث “ اصل میں ” لایلث “ تھا،” ان تطیعوا “ شرط کا جواب ہونے کی وجہ سے تاء پر جزم آگئی، تویاء اور تاء دو ساکن جمع ہونے کی وجہ سے یاء گرگئی۔ ” لاٹ یلیت “ کسی کے حق میں کمی کرنا۔ یعنی اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال میں کچھ کمی نہیں کرے گا۔ ظاہر ہے ان دونوں کی اطاعت کی شرط اول ان پر سچے دل سے ایمان و یقین رکھنا ہے۔ اس میں انہیں اخلاص و یقین کی ترغیب دلائی ہے، یعنی اسلام کے احکام پر ثواب کی امید بھی اس وقت ہوسکتی ہے جب ظاہر و باطن سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہو۔ یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے بعد اعمال کا پورا ثواب دینا اور اس میں کمی نہ کرنا صرف اللہ کا کام ہے، رسول کا نہیں۔ اس لئے ” لایلث “ واح کا صیغہ استعمال فرمایا۔ (٦) ان اللہ غفور رحیم : یعنی اطاعت کے بعد پہلی کوتاہیوں کو اللہ معاف کر دے گا، کیونکہ وہ گناہوں پر بےحد پردہ ڈالنے والا اور نہایت رحم والا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Sequence of Verses in the Surah In the preceding verses of the Surah it was stated that the basis of honour in the sight of Allah is righteousness which is an inner quality, and Allah alone knows it. It is improper for any man to claim self-sanctification. In the current set of verses, it is stated, on account of a particular incident, that the real basis of faith is the inner acceptance of the heart. Mere lip-service to faith does not count the person as a faithful believer. In the entire Surah, first the rights of the Prophet were set out and then the rules of how to respect and honour him. Next the individual and collective rights and rules of mannerism were set down to be applied in social life. Now at the conclusion of the Surah it is reiterated that in the Hereafter good deeds will be accepted and rewarded on the basis of faith, sincere belief of the heart and obedience to Allah and His Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Circumstances of Revelation According to Imam Baghawi, this verse was revealed in connection with the tribe of Banu Asad. A few members of that tribe came up to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in Madinah during a severe drought. These people were not sincere believers. They had expressed their Islam merely to demand financial help from the Muslim Sadaqat funds. As they were not believers in the real sense of the word, they were unaware of Islamic injunctions and manners. They spread filth and excrement on the streets of Madinah. In the marketplaces they increased the prices of necessary items. First they made a false claim of faith in the presence of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، second they wanted to deceive him; and third they regarded their Islam as a favour to him. They said: |"We embraced Islam without any conflict: we did not fight against you as did other tribes for a length of time and then they became Muslims; therefore you should value us.|" This was a sort of disrespect to the Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، because they considered their Islam as a favour to him. Their sole purpose was to derive financial aid from the Muslim Sadaqat funds, enrich themselves and eradicate their poverty. True and sincere faith is the most precious possession of a Muslim. By accepting Islam, he does no show a favour to anybody; on the contrary, it is a favour of Allah that he is guided to the Truth. On this occasion, the current set of verses was revealed in which their false claim is refuted and they have been taken to task for boasting of their so-called kindness and favour conferred upon the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . وَلَـٰكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا (&...Say, &We have surrendered&- 49:14). They had not achieved the reality of faith. Thus they were claiming falsely to be Muslims on the basis of their outward actions. The Qur&an first negates their false claim of faith: You cannot claim |"amanna|" [&We have come to believe&]; the most you can say is |"aslamna|" [&We have surrendered&], because the literal meaning of Islam is to recite the kalimah of Islam, enter the fold of the religion and surrender. Obviously, being devoid of the true spirit, this kind of Islam is mere superficial, not real and total. As far as faith is concerned, it is related to the real belief by heart. Therefore, mere verbal claim or lip-profession is meaningless, if it is not supported by the heart. Lexical and Technical Analysis of the Concepts |"Islam|" and |"’ Iman|" The foregoing discussion clarifies that the term |"Islam|" in this verse bears the literal meaning of outward submission and not the technical sense. Therefore, the verse does not show the technical difference between the terms |"Islam|" and |"’ Iman|". The two terms, technically, connote different senses. |"’ Iman|", in the technical sense of Shari’ ah, refers to the belief by heart and thus connotes a firm and unshakable belief in the Oneness of Allah and in His (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . |"Islam|", on the other hand, stands for complete surrender and obedience to Allah and His Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . However, |"Islam|" and |"Iman|" of a person need to complement each other. In Shari’ ah, the belief of the heart must manifest itself by performing deeds outwardly, the least degree of which is to proclaim the kalimah of Islam verbally. But the outward performance of deeds is not recognised by Shari’ ah unless the faith goes deep down into his heart. Otherwise it would be hypocrisy. Thus in the original and final analysis |"Islam|" and |"&Iman|" are different concepts. |"Iman|" is the inner quality of the heart and manifests outwardly whilst |"Islam|" starts out in outward actions and culminates in the inner sincere affirmation of the heart. But in terms of their goal, they are mutually necessary and complementary in that |"Iman|" without |"Islam|" is not possible, nor is |"Islam|" possible without |"man|". Hence, it is not true to say that |"Muslim|" and |"Mu&min|" are antonyms and mutually contradictory concepts. In Shari` ah, it is not possible for a person to be a |"Muslim|" but not a |"Mu&min|" or be a |"Mu&min|" but not a |"Muslim|". However, this is possible only lexically, as is the case of all hypocrites who used to be treated like Muslims, because of their outward obedience of Islamic injunctions, but their hearts were devoid of sincere faith, belief and affirmation. They were not believers. Allah, the Pure and Exalted, knows best. Alhamdulillah The Commentary on Surah Al-Hujurat Ends here

خلاصہ تفسیر یہ (بعضے) گنوار (بنی اسد وغیرہ کے آپ کے پاس آ کر جو ایمان لانے کے مدعی ہوتے ہیں یہ اس میں کئی گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں ایک تو کذب کہ بلا تصدیق قلب محض زبان سے) کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے، آپ فرما دیجئے کہ تم ایمان تو نہیں لائے (کیونکہ وہ موقوف ہے، تصدیق قلبی پر، اور وہ موجود نہیں جیسا عنقریب آتا ہے (آیت) ولما یدخل الایمان) لیکن (ہاں) یوں کہو کہ (ہم مخالفت چھوڑ کر) مطیع ہوگئے (اور اطاعت بمعنی ترک مخالفت محض ظاہری موافقت سے بھی متحقق ہوجاتی ہے) اور (باقی) ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ( اس لئے ایمان کا دعویٰ مت کرو) اور (گو اب تک تم ایمان نہیں لائے لیکن اب بھی) اگر تم اللہ و رسول کا (سب باتوں میں) کہنا مان لو (جس میں یہ بھی داخل ہے کہ دل سے ایمان لے آؤ) تو اللہ تمہارے اعمال میں سے ( جو کہ بعد ایمان کے ہوں گے محض اس وقت کے کفر و کذب کی وجہ سے جو کہ اس وقت کے اعتبار سے گزشتہ ہوگا) ذرا بھی کم نہ کرے گا (بلکہ سب کا پورا پورا ثواب دے گا کیونکہ) بیشک اللہ غفور رحیم ہے (اب ہم سے سنو کہ کامل مومن کون ہیں تاکہ اگر تم کو مومن بننا ہے تو ویسے بنو سو) پورے مومن وہ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر (ایمان پر مستمر بھی رہے یعنی عمر بھر کبھی) شک نہیں کیا اور اپنے مال اور جان سے خدا کے راستہ میں (یعنی دین کے لئے) محنت اٹھائی (جس میں جہاد وغیرہ سب آ گیا سو) یہ لوگ ہیں سچے (یعنی پورے سچے اور یوں اگر صرف تصدیق ہی ہو تب بھی نفس صدق ہوجائے گا، بخلاف تمہارے کہ ادنیٰ درجہ کا ایمان کہ تصدیق ہے وہ تک حاصل نہیں اور دعویٰ کرتے ہیں ایمان کامل کا، پس ایک امر قبیح تو ان سے یہ صادر ہوا یعنی کذب کماقال تعالیٰ (آیت) ومن الناس من یقول امنا الی قولہ ماھم بمومنین، اور دوسرا امر قبیح یہ ہے کہ یہ دھوکہ دیتے ہیں کماقال تعالیٰ (یخدعون اللہ سو) آپ (ان سے) فرما دیجئے کہ کیا خدا تعالیٰ کو اپنے دین (قبول کرنے) کی خبر دیتے ہو (یعنی اللہ تعالیٰ تو جانتے ہیں کہ تم نے ایمان قبول نہیں کیا باوجود اس کے جو تم دعوے قبول کرنے کا کرتے ہو تو لازم آتا ہے کہ خلاف علم خداوندی خدا تعالیٰ کو ایک بات بتلاتے ہو) حالانکہ (یہ محال ہے کیونکہ) اللہ کو تو سب آسمان اور زمین کی سب چیزوں کی (پوری) خبر ہے اور (علاوہ سمٰوٰت والارض کے) اللہ (اور بھی) سب چیزوں کو جانتا ہے (تو اس کو کوئی کیا بتلاوے گا اس سے معلوم ہوا کہ حق تعالیٰ کو جو تمہارے متعلق علم ہے کہ تم ایمان نہیں لائے وہی صحیح ہے اور تیسرا امر قبیح جس کے یہ مرتکب ہوتے ہیں یہ ہے کہ) یہ لوگ اپنے اسلام لانے کا آپ پر احسان رکھتے ہیں ( جو نہایت درجہ گستاخی ہے کہ دیکھئے ہم نے لڑے نہ بھڑے مسلمان ہوگئے اور دوسرے لوگ بہت پریشان کر کر کے مسلمان ہوئے ہیں سو) آپ کہہ دیجئے کہ مجھ پر اپنے اسلام لانے کا احسان نہ رکھو ( اس لئے کہ قطع نظر گستاخی کے تمہارے اسلام سے میرا کیا نفع ہوگیا اور اسلام نہ لانے سے میرا کیا ضرر ہوگیا اگر تم سچے ہوتے تو تمہاری ہی آخرت کا نفع تھا اور جھوٹے ہونے میں بھی تمہارا ہی دنیا کا نفع ہے کہ قتل و قید سے بچ گئے سو مجھ سے احسان رکھنا محض جہل ہے) بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تم کو ایمان کی ہدایت دی بشرطیکہ تم (اس دعویٰ ایمان میں) بچے ہو (کیونکہ ایمان بڑی نعمت ہے اور بدون تعلیم و توفیق حق تعالیٰ کے نصیب نہیں ہوتا تو اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے کہ ایسی بڑی نعمت عطا فرما دی، پس دھوکے اور احسان جتلانے سے باز آؤ اور یہ یاد رکھو کہ) اللہ تعالیٰ آسمان اور زمین کی سب مخفی باتوں کو جانتا ہے اور (اسی علم محیط کی وجہ سے) تمہارے سب اعمال کو بھی جانتا ہے ( اور ان ہی کے موافق تم کو جزا دے گا پھر اس کے سامنے باتیں بنانے سے کیا فائدہ) ۔ معارف ومسائل سابقہ آیات میں بتلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت و شرافت کا مدار تقویٰ پر ہے جو ایک باطنی چیز ہے اللہ تعالیٰ ہی اس کو جانتے ہیں کسی شخص کے لئے اپنے تقدس کا دعویٰ جائز نہیں، مذکور الصدر آیات میں ایک خاص واقعہ کی بنا پر یہ بتلایا گیا ہے کہ ایمان کا اصل مدار قلبی تصدیق پر ہے اس کے بغیر محض زبان سے اپنے کو مومن کہنا صحیح نہیں، اس پوری سورت میں اول نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حقوق تعظیم و تکریم کا پھر باہمی حقوق اور آداب معاشرت کا ذکر آیا ہے ختم سورت پر یہ بتلایا گیا کہ آخرت میں سب اعمال کی مقبولیت کا مدار ایمان اور تصدیق قلبی اور اللہ و رسول کی اطاعت پر ہے۔ شان نزول : واقعہ اس آیت کے نزول کا امام بغوی کی روایت کے مطابق یہ ہے کہ قبیلہ بنی اسد کے چند آدمی مدینہ طیبہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک قحط شدید کے زمانے میں حاضر ہوئے، یہ لوگ دل سے تو مومن تھے نہیں محض صدقات حاصل کرنے کے لئے اپنے اسلام لانے کا اظہار کیا اور چونکہ واقع میں مومن نہ تھے اسلامی احکام و آداب سے بیخبر اور غافل تھے انہوں نے مدینہ کے راستوں پر غلاظت و نجاست پھیلا دی اور بازاروں میں اشیاء ضرورت کی قیمت بڑھا دی اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ایک تو جھوٹا دعویٰ ایمان لانے کا کیا، دوسرے آپ کو دھوکا دینا چاہا، تیسرے آپ پر احسان جتلایا کہ دوسرے لوگ تو ایک زمانہ تک آپ سے بر سر پیکار رہے آپ کے خلاف جنگیں لڑیں پھر مسلمان ہوئے ہم بغیر کسی جنگ کے خود آپ کے پاس حاضر ہو کر مسلمان ہوگئے اس لئے ہماری قدر کرنی چاہئے جو شان رسالت میں ایک طرح کی گستاخی بھی تھی کہ اپنے مسلمان ہوجانے کا احسان آپ پر جتلایا اور مقصود اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ مسلمانوں کی صدقات سے اپنی مفلسی دور کریں اور اگر یہ واقعی اور سچے مسلمان ہی ہوجاتے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کیا احسان تھا خود اپنا ہی نفع تھا اس پر آیات مذکورہ نازل ہوئیں جن میں ان کے جھوٹے دعوے کی تکذیب اور احسان جتلانے پر مذمت کی گئی ہے۔ (آیت) وَلٰكِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا، چونکہ ان کے دلوں میں ایمان نہ تھا جھوٹا دعویٰ صرف ظاہری افعال کی بناء پر کر رہے تھے اس لئے قرآن نے ان کے ایمان کی نفی اور دعوائے ایمان کے غلط ہونے کو بیان کر کے یہ فرمایا کہ تمہارا آمنا کہنا تو جھوٹ ہے تم زیادہ سے زیادہ اسلمنا کہہ سکتے ہو کیونہ اسلام کے لفظی معنی ظاہری افعال میں اطاعت کرنے کے ہیں اور یہ لوگ اپنے دعوائے ایمان کو سچا ثابت کرنے کے لئے کچھ اعمال مسلمانوں جیسے کرنے لگے تھے اس لئے لفظی اعتبار سے ایک درجہ کی اطاعت ہوگئی اس لئے لغوی معنی کے اعتبار سے اسلمنا کہنا صحیح ہوسکتا ہے۔ اسلام و ایمان ایک ہیں یا کچھ فرق ہے ؟: اوپر کی تقریر سے معلوم ہوگیا کہ اس آیت میں اسلام کے لغوی معنی مراد ہیں اصطلاحی معنی مراد ہی نہیں اس لئے اس آیت سے اسلام اور ایمان میں اصطلاحی فرق پر کوئی استدلال نہیں ہوسکتا اور اصطلاحی ایمان اور اصطلاحی اسلام اگرچہ مفہوم و معنی کے اعتبار سے الگ الگ ہیں کہ ایمان اصطلاح شرع میں تصدیق قلبی کا نام ہے یعنی اپنے دل سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور رسول کی رسالت کو سچا ماننا اور اسلام نام ہے اعمال ظاہرہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے کا لیکن شریعت میں تصدیق قلبی اس وقت تک قابل اعتبار نہیں جب تک اس کا اثر جوارح کے اعمال و افعال تک نہ پہنچ جائے جس کا دانیٰ درجہ یہ ہے کہ زبان سے کلمہ اسلام کا اقرار کرے۔ اس طرح اسلام اگرچہ اعمال ظاہرہ کا نام ہے لیکن شریعت میں وہ اس وقت تک معتبر نہیں جب تک کہ دل میں تصدیق نہ آجائے ورنہ وہ نفاق ہے۔ اس طرح اسلام و ایمان مبدا اور منہتی کے اعتبار سے تو الگ الگ ہیں کہ ایمان باطن اور قلب سے شروع ہو کر ظاہر اعمال تک پہنچتا ہے اور اسلام افعال ظاہرہ سے شروع ہو کر باطن کی تصدیق تک پہنچتا ہے مگر مصداق کے اعتبار سے ان دونوں میں تلازم ہے کہ ایمان اسلام کے بغیر معتبر نہیں اور اسلام ایمان کے بغیر شرعاً معتبر نہیں، شریعت میں یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک شخص مسلم تو ہو مومن نہ ہو یا مومن ہو مسلم نہ ہو مگر یہ کلام اصطلاحی ایمان و اسلام میں ہے۔ لغوی معنی کے اعتبار سے ہوسکتا ہے کہ ایک شخص مسلم ہو مومن نہ ہو جیسے تمام منافقین کا یہی حال تھا کہ ظاہری اطاعت احکام کی بنا پر مسلم کہلاتے تھے مگر دل میں ایمان نہ ہونے کے سبب مومن نہ تھے واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ تمت بحمداللہ تعالیٰ وعونہ سورة الحجرات للثامن من شعبان 92 ھ 13 یوم الاحد وللہ الحمد و المنة

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا۝ ٠ ۭ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰكِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْاِيْمَانُ فِيْ قُلُوْبِكُمْ۝ ٠ ۭ وَاِنْ تُطِيْعُوا اللہَ وَرَسُوْلَہٗ لَا يَـلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَـيْـــــًٔا۝ ٠ ۭ اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝ ١٤ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ عرب ( اعرابي) العَرَبُ : وُلْدُ إسماعیلَ ، والأَعْرَابُ جمعه في الأصل، وصار ذلک اسما لسكّان البادية . قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا [ الحجرات/ 14] ، الْأَعْرابُ أَشَدُّ كُفْراً وَنِفاقاً [ التوبة/ 97] ، وَمِنَ الْأَعْرابِ مَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ [ التوبة/ 99] ، وقیل في جمع الأَعْرَابِ : أَعَارِيبُ ، قال الشاعر : أَعَارِيبُ ذو و فخر بإفك ... وألسنة لطاف في المقال والأَعْرَابِيُّ في التّعارف صار اسما للمنسوبین إلى سكّان البادية، والعَرَبِيُّ : المفصح، والإِعْرَابُ : البیانُ. يقال : أَعْرَبَ عن نفسه . وفي الحدیث : «الثّيّب تُعْرِبُ عن نفسها» «1» أي : تبيّن . وإِعْرَابُ الکلامِ : إيضاح فصاحته، وخصّ الإِعْرَابُ في تعارف النّحويّين بالحرکات والسّکنات المتعاقبة علی أواخر الکلم، ( ع ر ب ) العرب حضرت اسمعیل کی اولاد کو کہتے ہیں الاعراب دراصل یہ عرب کی جمع ہے مگر یہ لفظ بادیہ نشین لوگون کے ساتھ مختص ہوچکا ہے قرآن پاک میں ہے : ۔ قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا [ الحجرات/ 14] بادیہ نشین نے آکر کہا ہم ایمان لے آئے ۔ الْأَعْرابُ أَشَدُّ كُفْراً وَنِفاقاً [ التوبة/ 97] دیہاتی لوگ سخت کافر اور سخت منافق ہیں ۔ وَمِنَ الْأَعْرابِ مَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ [ التوبة/ 99] اور بعض نہ دیہاتی ایسے ہیں کہ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ اعراب کی جمع اعاریب آتی ہے کسی شاعر نے کہا ہے ( 3011 ) اعاریب ذو و فخر بافک والسنۃ لطاف فی المقابل اعرابی جو جھوٹے فخر کے مدعی ہیں اور گفتگو میں نرم زبان رکھتے ہیں ۔ الاعرابی : یہ اعراب کا مفرد ہے اور عرف میں بادیہ نشین پر بولا جاتا ہے العربی فصیح وضاحت سے بیان کرنے والا الاعراب کسی بات کو واضح کردینا ۔ اعرب عن نفسہ : اس نے بات کو وضاحت سے بیان کردیا حدیث میں ہے الثیب تعرب عن نفسھا : کہ شب اپنے دل کی بات صاف صاف بیان کرسکتی ہے ۔ اعراب الکلام کلام کی فصاحت کو واضح کرنا علمائے نحو کی اصطلاح میں اعراب کا لفظ ان حرکاتوسکنات پر بولا جاتا ہے جو کلموں کے آخر میں یکے بعد دیگرے ( حسب عوامل ) بدلتے رہتے ہیں ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ سلم والْإِسْلَامُ : الدّخول في السّلم، وهو أن يسلم کلّ واحد منهما أن يناله من ألم صاحبه، ومصدر أسلمت الشیء إلى فلان : إذا أخرجته إليه، ومنه : السَّلَمُ في البیع . والْإِسْلَامُ في الشّرع علی ضربین : أحدهما : دون الإيمان، وهو الاعتراف باللسان، وبه يحقن الدّم، حصل معه الاعتقاد أو لم يحصل، وإيّاه قصد بقوله : قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا[ الحجرات/ 14] . والثاني : فوق الإيمان، وهو أن يكون مع الاعتراف اعتقاد بالقلب، ووفاء بالفعل، واستسلام لله في جمیع ما قضی وقدّر، كما ذکر عن إبراهيم عليه السلام في قوله : إِذْ قالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ البقرة/ 131] ، ( س ل م ) السلم والسلامۃ الاسلام اس کے اصل معنی سلم ) صلح) میں داخل ہونے کے ہیں اور صلح کے معنی یہ ہیں کہ فریقین باہم ایک دوسرے کی طرف سے تکلیف پہنچنے سے بےخوف ہوجائیں ۔ اور یہ اسلمت الشئی الی ٰفلان ( باب افعال) کا مصدر ہے اور اسی سے بیع سلم ہے ۔ شرعا اسلام کی دوقسمیں ہیں کوئی انسان محض زبان سے اسلام کا اقرار کرے دل سے معتقد ہو یا نہ ہو اس سے انسان کا جان ومال اور عزت محفوظ ہوجاتی ہے مگر اس کا درجہ ایمان سے کم ہے اور آیت : ۔ قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا[ الحجرات/ 14] دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے کہدو کہ تم ایمان نہیں لائے ( بلکہ یوں ) کہو اسلام لائے ہیں ۔ میں اسلمنا سے یہی معنی مراد ہیں ۔ دوسرا درجہ اسلام کا وہ ہے جو ایمان سے بھی بڑھ کر ہے اور وہ یہ ہے کہ زبان کے اعتراف کے ساتھ ساتھ ولی اعتقاد بھی ہو اور عملا اس کے تقاضوں کو پورا کرے ۔ مزید پر آں کو ہر طرح سے قضا وقدر الہیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کردے ۔ جیسا کہ آیت : ۔ إِذْ قالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ البقرة/ 131] جب ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا ۔ کہ اسلام لے آؤ تو انہوں نے عرض کی کہ میں رب العالمین کے آگے سرا طاعت خم کرتا ہوں ۔ لَمَّا يستعمل علی وجهين : أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر . ( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔ اور کبھی یہ اسم ظرف ک طورپر استعمال ہوتا ہے ۔ اور یہ قرآن میں بکژت آیا ہے ۔ جیسے فرمایا : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] جب خوشخبری دینے والا آپہنچا۔ دخل الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] ( دخ ل ) الدخول ( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔ قلب قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، کقلب الثّوب، وقلب الإنسان، أي : صرفه عن طریقته . قال تعالی: وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] . ( ق ل ب ) قلب الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں جیسے قلب الثوب ( کپڑے کو الٹنا ) اور قلب الانسان کے معنی انسان کو اس کے راستہ سے پھیر دینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔ طوع الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا، وقد طَاعَ له يَطُوعُ ، وأَطَاعَهُ يُطِيعُهُ «5» . قال تعالی: وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] ، مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] ، وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] ، وقوله في صفة جبریل عليه السلام : مُطاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ [ التکوير/ 21] ، والتَّطَوُّعُ في الأصل : تكلُّفُ الطَّاعَةِ ، وهو في التّعارف التّبرّع بما لا يلزم کالتّنفّل، قال : فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ [ البقرة/ 184] ، وقرئ :( ومن يَطَّوَّعْ خيراً ) ( ط و ع ) الطوع کے معنی ( بطیب خاطر ) تابعدار ہوجانا کے ہیں اس کے بالمقابل کرھ ہے جس کے منعی ہیں کسی کام کو ناگواری اور دل کی کراہت سے سر انجام دینا ۔ قرآن میں ہے : ۔ ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] آسمان و زمین سے فرمایا دونوں آؤ دل کی خوشی سے یا ناگواري سے وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] حالانکہ سب اہل آسمان و زمین بطبیب خاطر یا دل کے جبر سے خدا کے فرمانبردار ہیں ۔ یہی معنی الطاعۃ کے ہیں لیکن عام طور طاعۃ کا لفظ کسی حکم کے بجا لانے پر آجاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] اور یہ لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم دل سے آپ کے فرمانبردار ہیں ۔ طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21]( خوب بات ) فرمانبردار ی اور پسندیدہ بات کہنا ہے ۔ کسی کی فرمانبرداری کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] اور اس کے رسول کی فر مانبردار ی کرو ۔ مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] جو شخص رسول کی فرمانبردار ی کرے گا بیشک اس نے خدا کی فرمانبرداری کی ۔ وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] اور کافروں کا کہا نہ مانو ۔ اور حضرت جبریل (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : ۔ مُطاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ [ التکوير/ 21] سردار اور امانتدار ہے ۔ التوطوع ( تفعل اس کے اصل معنی تو تکلیف اٹھاکر حکم بجالا نا کے ہیں ۔ مگر عرف میں نوافل کے بجا لانے کو تطوع کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ [ البقرة/ 184] اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اس کے حق میں زیادہ اچھا ہے ۔ ایک قرات میں ومن یطوع خیرا ہے رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ ليت يقال : لَاتَهُ عن کذا يَلِيتُهُ : صرفه عنه، ونقصه حقّا له، لَيْتاً. قال تعالی: لا يَلِتْكُمْ مِنْ أَعْمالِكُمْ شَيْئاً [ الحجرات/ 14] أي : لا ينقصکم من أعمالکم، لات وأَلَاتَ بمعنی نقص، وأصله : ردّ اللَّيْتِ ، أي : صفحة العنق . ولَيْتَ : طمع وتمنٍّ. قال تعالی: لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلاناً خَلِيلًا [ الفرقان/ 28] ، يَقُولُ الْكافِرُ يا لَيْتَنِي كُنْتُ تُراباً [ النبأ/ 40] ، يا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا [ الفرقان/ 27] ، وقول الشاعر : ولیلة ذات دجی سریت ... ولم يلتني عن سراها ليت «1» معناه : لم يصرفني عنه قولي : ليته کان کذا . وأعرب «ليت» هاهنا فجعله اسما، کقول الآخر :إنّ ليتا وإنّ لوّا عناء«2» وقیل : معناه : لم يلتني عن هواها لَائِتٌ. أي : صارف، فوضع المصدر موضع اسم الفاعل . ( ل ی ت ) لا تہ ( ض ) عن کذا لیتا ۔ کے معنی اسے کسی چیز سے پھیر دینا اور ہٹا دینا ہیں نیز لا تہ والا تہ کسی کا حق کم کرنا پوا را نہ دینا ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ لا يَلِتْكُمْ مِنْ أَعْمالِكُمْ شَيْئاً [ الحجرات/ 14] تو خدا تمہارے اعمال میں سے کچھ کم نہیں کرے گا ۔ اور اس کے اصلی معنی رد اللیت ۔ یعنی گر دن کے پہلو کو پھیر نے کے ہیں ۔ لیت یہ حرف طمع وتمنی ہے یعنی گذشتہ کوتاہی پر اظہار تاسف کے لئے آتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلاناً خَلِيلًا [ الفرقان/ 28] کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا يَقُولُ الْكافِرُ يا لَيْتَنِي كُنْتُ تُراباً [ النبأ/ 40] اور کافر کہے کا اے کاش میں مٹی ہوتا يا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا [ الفرقان/ 27] کہے گا اے کاش میں نے پیغمبر کے ساتھ رستہ اختیار کیا ہوتا ۔ شاعر نے کہا ہے ( 406 ) ولیلۃ ذات وجی سریت ولم یلتنی عن ھوا ھا لیت بہت سی تاریک راتوں میں میں نے سفر کئے لیکن مجھے کوئی پر خطر مر حلہ بھی محبوب کی محبت سے دل بر داشت نہ کرسکا ( کہ میں کہتا کاش میں نے محبت نہ کی ہوتی ۔ یہاں لیت اسم معرب اور لم یلت کا فاعل ہے اور یہ قول لیتہ کان کذا کی تاویل میں سے جیسا کہ دوسرے شاعر نے کہا ہے ( 403 ) ان لینا وان لوا عناء ۔ کہ لیت یا لو کہنا سرا سرباعث تکلف ہے بعض نے کہا ہے کہ پہلے شعر میں لیت صدر بمعنی لائت یعنی اس فاعلی ہے اور معنی یہ ہیں کہ مجھے اس کی محبت سے کوئی چیز نہ پھیر سکی ۔ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے شيء الشَّيْءُ قيل : هو الذي يصحّ أن يعلم ويخبر عنه، وعند کثير من المتکلّمين هو اسم مشترک المعنی إذ استعمل في اللہ وفي غيره، ويقع علی الموجود والمعدوم . ( ش ی ء ) الشئی بعض کے نزدیک شی وہ ہوتی ہے جس کا علم ہوسکے اور اس کے متعلق خبر دی جاسکے اور اس کے متعلق خبر دی جا سکے اور اکثر متکلمین کے نزدیک یہ اسم مشترکہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے ماسواپر بھی بولا جاتا ہے ۔ اور موجود ات اور معدہ سب کو شے کہہ دیتے ہیں ، غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے مغفرۃ یا غفران کے معنی ہوتے ہیں بندے کو عذاب سے بچالیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں ۔ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی، فتناسب معناهما تناسب لفظيهما . والرَّحْمَنُ والرَّحِيمُ ، نحو : ندمان وندیم، ولا يطلق الرَّحْمَنُ إلّا علی اللہ تعالیٰ من حيث إنّ معناه لا يصحّ إلّا له، إذ هو الذي وسع کلّ شيء رَحْمَةً ، والرَّحِيمُ يستعمل في غيره وهو الذي کثرت رحمته، قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] ، وقال في صفة النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] ، وقیل : إنّ اللہ تعالی: هو رحمن الدّنيا، ورحیم الآخرة، وذلک أنّ إحسانه في الدّنيا يعمّ المؤمنین والکافرین، وفي الآخرة يختصّ بالمؤمنین، وعلی هذا قال : وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ، تنبيها أنها في الدّنيا عامّة للمؤمنین والکافرین، وفي الآخرة مختصّة بالمؤمنین . ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، اس حدیث میں بھی معنی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں ۔ پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے احسان کو اپنے لئے خاص کرلیا ہے ۔ تو جس طرح لفظ رحم رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اسکا وہ معنی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ بھی اس معنی سے ماخوذ ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے : یہ دونوں فعلان و فعیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں جیسے ندمان و ندیم پھر رحمن کا اطلاق ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سما لیا ہو ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے اور رحیم بھی اسماء حسنیٰ سے ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر جائز نہیں ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :َ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ اور آنحضرت کے متعلق فرمایا ُ : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] لوگو ! تمہارے پاس تمہیں سے ایک رسول آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے ( اور ) ان کو تمہاری بہبود کا ہو کا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق ( اور ) مہربان ہیں ۔ بعض نے رحمن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے ۔ جو مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی ۔ جیسا کہ آیت :۔ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ہماری جو رحمت ہے وہ ( اہل ونا اہل ) سب چیزوں کو شامل ہے ۔ پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے ۔ جو پرہیزگاری اختیار کریں گے ۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الہی عام ہے اور مومن و کافروں دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مومنین کے ساتھ مختص ہوگی اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اگلی آیت بنی اسد کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو لوگ سخت فاقہ میں مبتلا ہوگئے تھے تو مع اپنے اہل و عیال سب کے سب اسلام لے آئے اور رسول اکرم کی خدمت میں آئے تاکہ آپ سے کچھ مال و متاع حاصل کرلیں، چناچہ ان لوگوں نے آکر مدینہ منورہ میں گرانی پھیلا دی اور اس کے رستوں کو گندگی سے بھر دیا، حقیقت میں یہ لوگ منافق تھے مگر ظاہرا کہتے تھے یا رسول اللہ ہمیں کہلایئے اور ہمارا احترام کیجیے، ہم مخلص ہیں اور اپنے ایمان میں سچے ہیں۔ مگر یہ منافق تھے اپنے قول میں جھوٹے تھے، حق تعالیٰ نے انہیں کے مقابلہ کو روایت کردیا کہ کچھ گنوار یعنی بنی اسد والے آپ کے پاس آکر بلا تصدیق لب محض زبان سے کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے۔ آپ ان سے فرما دیجیے کہ تم ایمان تو نہیں لائے ہاں یوں کہو کہ ہم مطیع ہوگئے تاکہ قید اور قتل سے محفوظ رہیں۔ باقی ابھی تک تصدیق ایمان اور حلاوت ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوئی۔ لیکن اب دل سے تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا کہا مان لو اور کفر و نفاق سے توبہ کرلو جیسا کہ زبان سے اس چیز کا اظہار کرتے ہو، تو پھر اللہ تعالیٰ تمہاری نیکیوں کے ثواب میں سے ذرا بھی کمی نہ کرے گا تائب اور توبہ پر مرنے والے کو اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا ہے اور اس پر رحمت فرمانے والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٤ { قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا } ” یہ بدو کہہ رہے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں۔ “ { قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰکِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا } ” (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے ) کہہ دیجیے : تم ہرگز ایمان نہیں لائے ہو ‘ بلکہ تم یوں کہو کہ ہم مسلمان (اطاعت گزار) ہوگئے ہیں “ ” لَمْ تُـؤْمِنُوْا “ میں نفی جحد بِلَمْ کا نہایت موکد اسلوب ہے ‘ یعنی یہاں مضارع سے پہلے لَمْ تاکیدی نفی کے لیے آیا ہے۔ چناچہ ” لَمْ تُؤْمِنُوْا “ میں جو خاص تاکید پائی جاتی ہے وہ ” مَـا آمَنْتُمْ “ جیسے الفاظ میں نہیں ۔ { وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ } ” اور ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ “ اس آیت میں جو نکتہ بیان ہوا ہے وہ اسلامی معاشرے کی رکنیت اور اسلامی ریاست کی شہریت کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔ ایمان دراصل ایک نظریے کا نام ہے جو دل کے اندر چھپا ہوتا ہے۔ دنیا میں کسی بھی طریقے یا ذریعے سے کسی شخص کے ایمان کی تصدیق یا تردید نہیں ہوسکتی۔ اس لیے اسلامی معاشرے کے افراد یا اسلامی ریاست کے شہریوں کی قانونی حیثیت کا تعین ” اسلام “ کی بنیاد پر ہوگا نہ کہ ” ایمان “ کی بنیاد پر۔ البتہ آخرت میں اللہ کے ہاں ہر شخص کے معاملات کا فیصلہ ایمان کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ چناچہ ہمارے ہاں مردم شماری کے فارم کے اندر مذہب کے خانے میں کسی کے لیے ” مسلم “ کا لفظ لکھ دینے سے متعلقہ شخص کو قانونی طور پر تو مسلمان تسلیم کرلیا جائے گا لیکن دنیا میں قانونی طور پر مسلمان بن جانے سے اللہ کے ہاں چھوٹ نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ تو ہر شخص کے دل میں ایمان کی کیفیت کو دیکھے اور پرکھے گا۔ جیسا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے : (اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَنْظُرُ اِلٰی صُوَرِکُمْ وَاَمْوَالِکُمْ وَلٰکِنْ یَـنْظُرُ اِلٰی قُلُوْبِکُمْ وَاَعْمَالِکُمْ ) (١) ” اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کو نہیں دیکھتا ‘ بلکہ وہ تو تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے “۔ چناچہ دنیوی قانون کے تقاضوں اور نجاتِ اُخروی کے حوالے سے ایمان اور اسلام کے فرق کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ { وَاِنْ تُطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ لَا یَلِتْکُمْ مِّنْ اَعْمَالِکُمْ شَیْئًا } ” لیکن اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو گے تو وہ تمہارے اعمال میں سے کوئی کمی نہیں کرے گا۔ “ { اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ} ” یقینا اللہ بہت بخشنے والا ‘ بہت مہربان ہے۔ “ اگرچہ اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق اعمال کا دارومدار ایمان پر ہے ‘ یعنی جب تک کسی کے دل میں ایمان نہیں اللہ کے ہاں اس کا کوئی عمل قابل قبول نہیں ‘ لیکن اللہ تعالیٰ غفورٌ رحیم ہے ‘ اس نے اپنی شان غفاری و رحیمی کے طفیل تم لوگوں کو خصوصی رعایت عطا کی ہے ‘ چناچہ اگرچہ تم نے ایمان کا ابھی صرف زبانی اقرار ہی کیا ہے اور یہ ایمان ابھی تمہارے دلوں میں راسخ نہیں ہوا ‘ پھر بھی اس اقرار کے بعد اگر تم لوگ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو شرف قبولیت بخشتا رہے گا۔ اس حوالے سے یہ اہم قانونی اور اصولی نکتہ ضرور مدنظر رہنا چاہیے کہ یہاں جس اطاعت کا ذکر ہے اس سے مراد کلی اطاعت ہے۔ کیونکہ { اُدْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃًص } ( البقرۃ : ٢٠٨) کے واضح حکم کے بعداسلام میں جزوی داخلہ اور اللہ تعالیٰ کی جزوی اطاعت قابل قبول ہی نہیں۔ آیت زیر مطالعہ اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس میں ایمان کو اسلام سے علیحدہ کردیا گیا ہے اور یہ قرآن مجید کا واحد مقام ہے جہاں مسلمانوں کے ایک گروہ کو واضح طور پر بتادیا گیا ہے کہ تا حال ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ اس سے بعض لوگوں کو یہ مغالطہ بھی ہوا کہ یہ آیت منافقین کے بارے میں ہے ‘ حالانکہ اس بارے میں سب کا اتفاق ہے کہ منافقین کا تو کوئی عمل بھی اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں ‘ جبکہ یہاں متعلقہ لوگوں کو یقین دہانی کرائی جا رہی ہے کہ اگر تم لوگ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرتے رہو گے تو تمہارے اعمال میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ چناچہ اس حکم کا درست مفہوم سمجھنے کے لیے ان حالات کے بارے میں جاننا ضروری ہے جن حالات میں یہ آیت نازل ہوئی۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جزیرۃ العرب میں غلبہ عطا فرما دیا تو کفار و مشرکین کے تمام قبائل پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ اب ان میں مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رہی۔ دوسری طرف سورة التوبہ کی ابتدائی آیات میں ان کے لیے یہ الٹی میٹم بھی نازل ہوچکا تھا : { فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْہُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْہُمْ وَخُذُوْہُمْ وَاحْصُرُوْہُمْ وَاقْعُدُوْا لَہُمْ کُلَّ مَرْصَدٍج } (آیت ٥) ” اور جب یہ محترم مہینے گزر جائیں تو قتل کرو ان مشرکین کو جہاں پائو ‘ اور پکڑو ان کو ‘ اور گھیرائو کرو ان کا ‘ اور ان کے لیے ہر جگہ گھات لگا کر بیٹھو “۔ ٩ ہجری کے حج کے موقع پر یہ الٹی میٹم ہر خاص و عام تک پہنچا بھی دیا گیا تھا۔ اس کے بعد متعلقہ لوگوں کے پاس صرف چار ماہ کا وقت تھا۔ ان حالات میں ان قبائل کے پاس اطاعت قبول کرنے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ بچا ہی نہیں تھا۔ چناچہ انہوں نے یہی راستہ اپنایا اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت قبول کرنے کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اپنے اپنے وفد بھیجنے شروع کردیے۔ اس طرح اس سال مدینہ میں وفود کا تانتا بندھ گیا۔ گویا ہر قبیلہ اسلامی حکومت کی اطاعت قبول کرنے اور اسلام میں داخل ہونے کے لیے دوسروں پر سبقت لے جانا چاہتا تھا۔ اس صورت حال کا نقشہ سورة النصر میں یوں دکھایا گیا ہے : { اِذَاجَآئَ نَصْرُاللّٰہِ وَالْفَتْحُ ۔ وَرَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا۔ اطاعت قبول کرنے والے ان لوگوں میں تین طرح کے افراد تھے۔ کچھ تو ظاہر ہے خلوص نیت سے ایمان لانے والے تھے اور کچھ منافق اور دھوکہ باز جو ہوا کا رخ دیکھ کر اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرنے پر مجبور تھے۔ لیکن ان دواقسام کے درمیان تیسری قسم کے کچھ لوگ بھی تھے ‘ جن کے دلوں میں نہ تو دھوکے کی نیت تھی اور نہ ہی ایمان لانے کا سچا جذبہ تھا۔ یعنی وہ مثبت اور منفی دو انتہائوں کے درمیان ” زیرو پوائنٹ “ پر کھڑے تھے۔ آیت زیر مطالعہ میں دراصل ان ہی لوگوں کا ذکر ہے۔ ان لوگوں کو نہ صرف اطمینان دلایا گیا کہ اگر تم لوگ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرتے رہو گے تو تمہارے اعمال میں کچھ کمی نہیں کی جائے گی ‘ بلکہ آگے آیت ١٧ میں انہیں خوشخبری بھی سنا دی گئی کہ اگر تم خلوص دل سے اطاعت کے اس راستے پر چلتے رہو گے تو تمہارے دلوں میں سچا اور حقیقی ایمان بھی پیدا ہوجائے گا۔ دراصل ایمانِ حقیقی اور عمل صالح باہم لازم و ملزوم ہیں۔ ایک طرف دل میں ایمانِ حقیقی کی موجودگی اگر اعمالِ صالحہ کے صدور کا باعث بنتی ہے تو دوسری طرف اعمالِ صالحہ کی مداومت بھی ایمان کی تقویت کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہے۔ لیکن واضح رہے کہ اس حوالے سے ٹھوس نتائج کے لیے دل میں مضبوط ارادے اور نیت کا موجود ہونا نا گزیر ہے۔ یعنی دل میں پختہ نیت ہو کہ مجھے ایک سچا اور پکا مومن بننا ہے ‘ مومن بن کر جینا ہے اور مومن کی حیثیت سے اس دنیا سے کوچ کرنا ہے۔ لیکن اس ضمن میں اس تلخ حقیقت کو بھی تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ آج کل کے ماحول میں اول تو ایسی نیت یا آرزو کا دل میں پیدا ہونا ہی مشکل ہے ‘ اور اگر کسی دل میں یہ آرزو پیدا ہو ہی جائے تو اس کا زندہ رہنا محال ہے۔ کیونکہ آج کا معاشرہ اور خارج کا موجودہ ماحول ایسی مثبت سوچ کو غذا فراہم نہیں کرتا اور ظاہر ہے جس ماحول میں آکسیجن نہیں ہوگی وہاں کوئی متنفس ّکیسے زندہ رہ سکے گا۔ اقبالؔ نے اس صورت حال کو اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا ہے : ؎ آرزو اول تو پیدا ہو نہیں سکتی کہیں ہو کہیں پیدا تو مرجاتی ہے یا رہتی ہے خام ! بلکہ ہمارا موجودہ معاشرہ تو اس حوالے سے منفی کردار کے لیے غیر معمولی طور پر حساس اور فعال ہے۔ ایسی کوئی آرزو کسی دل میں ابھی پوری طرح آنکھیں بھی نہیں کھولنے پاتی کہ ماحول کی تمام منفی قوتین اپنے اپنے ہتھیار سجا کر اس جانِ ناتواں کے محاصرے کے لیے پہنچ جاتی ہیں۔ اس میں سب سے موثر کردار ” اپنوں “ کی ایسی نصیحتوں کا ہوتا ہے کہ دیکھو اپنے گھر بار کی بھی کچھ فکر کرو ! کیوں تم اپنا بنا بنایا کیرئیر تباہ کرنے پر ُ تل گئے ہو ؟ کیا تمہیں اپنے مستقبل اور اپنے بیوی بچوں کا بھی خیال نہیں ؟ وغیرہ وغیرہ۔ اس دبائو کا فطری اور منطقی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ وہ ” نوزائیدہ آرزو “ لمحہ بہ لمحہ کمزور ہونے لگتی ہے اور بالآخر سسک سسک کر دم توڑ جاتی ہے ‘ اِلا یہ کہ کسی کے ارادے میں غیر معمولی خلوص و استقامت ہو اور اللہ کی خصوصی توفیق و نصرت بھی اس کے شامل حال ہو۔ بہر حال آیت زیر مطالعہ کے حوالے سے یہ بحث تو اسلام اور ایمان کے فرق سے متعلق تھی۔ لیکن اگر کوئی یہ جاننا چاہے کہ حقیقی مومن کسے کہتے ہیں تو وہ ” مومن “ کی اس تعریف (definition) کو اپنے پیش نظر رکھے جو اگلی آیت میں بیان کی گئی ہے ۔ (اس مضمون کی وضاحت قبل ازیں سورة الانفال کی آیات ٢ ‘ ٣ اور ٧٤ کے ضمن میں بھی کی جا چکی ہے۔ )

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

30 This does not imply alI the desert Arabs but only a few particular groups of the Bedouins who had become Muslims, seeing the increasing power of Islam, thinking that they would not only remain safe from any attack by the Muslims but would also gain materially from the Islamic conquests. These people had not embraced Islam sincerely but had professed faith only verbally in order to be counted among the Muslims, and their this inner state became exposed whenever they would come before the Holy Prophet with different sorts of demands and would enumerate and mention their rights as if they had done him a great favor by accepting Islam. Traditions mention several of such tribal groups, e.g. Muzainah, Juhainah, Aslam, Ashja', Ghifar, etc. About the Bani Asad bin Khuzaimah in particular, Ibn 'Abbas and Said bin Jubair have stated that once during a drought they came to Madinah and making a demand for financial help they said to the Holy Prophet again and again: "We became Muslims without any conflict: we did not fight against you as have such and such other tribes fought." By this they clearly meant to point out that their refraining from fighting against the Messenger of Allah and their accepting Islam was a favour for which they must be rewarded by the Messenger and the Muslims. It was this same attitude and conduct of the Bedouin group living around Madinah, which has been commented upon in these verses. One can understand this appraisal better if one reads it together with vv. 90-110 of At-Taubah and vv. 11-17 of AI-Fat-h. 31 Another translation of the words qulu aslamna can be; "Say: we have become Muslims. " From these words some people have concluded that in the language of the Qur'an, "Mu 'min" and "Muslim" are two opposite terms. A "Mu'min" is he who has believed sincerely and a "Muslim" he who might have accepted Islam only verbally without true faith. But, in fact, this is an absolutely wrong idea. No doubt the word iman here has been used for sincere affirmation by the heart and the word islam for only outward and external submission but to understand them as two independent and mutually contradictory terms of the Qur'an is not correct. A study of the Qur'anic verses in which the words Islam and Muslim have been used, shows that in the Qur'anic terminology "Islam " is the name of the the Faith, which Allah has sent down for mankind; it comprehends the faith and obedience both, and a °MuslIm " is he who believes with a sincere heart and obeys the Commands practically. This is borne out by the following verses: "Indeed, Islam is the only right way of life in the sight of Allah." (AI'Imran: 19) "And whoever adopts any other than this way of submission (Islam), that way shall not be accepted from him," (Al-'Imran: 85) And I have approved Islam as the way of life for you." (Al-Ma'idah: 3) `Whomever Allah wills to guide aright, He makes his breast wide open to Islam." (Al-An'am: 125) Obviously, in these verses Islam " does not imply obedience without the Faith. Here are some other verses: 'Say (O Prophet): I have been enjoined to be the first one to affirm (faith in) Islam. "(AI-An'am: 14) ' "If they have surrendered (to Islam), they are rightly guided." (AI-'Imran: 20) All the Prophets, who were Muslims, judged the cases according to the Torah." (AI-Ma'idah: 44) Here, and at scores of other places, acceptance of Islam cannot mean adopting obedience without the the faith. Likewise, here are a few verses in which the word "Muslim" has occurred signifying the meaning in which it has been used repeatedly in the Qur'an: "O you who have believed, fear Allah as He should truly be feared and see that you do not die save as true Muslim. " (AI-`Imran: 102) `Allah had called you "Muslims" before this and has called you (by the same name) in this Qur'an, too." (AI-Hajj: 78) "Abraham was neither a Jew nor a Christian, but he was a Muslim, sound in the faith." (AI-i-'Imran: 67) `And remember that when Abraham and Ishmael were raising the walls of this House, they prayed: ... Lord, make us Thy Muslims and also raise from our offspring a community which should be Muslim. " (AI-Baqarah: 128) (The Prophet Jacob's will for his children:) "O my children, AIIah has chosen the same way of life for you Hence remain Muslims up to your last breath. (AI-Baqarah: 132) After a study of these verses who can say that in these the word "Muslim" implies a person who does not believe sincerely but has accepted Islam only outwardly? Therefore, to make the claim that in the Qur'anic terminology "Islam" implies obedience without the faith and the "Muslim" in the language of the Qur'an is he who accepts Islam only outwardly is absolutely wrong. Likewise, this claim also is wrong that the words iman and mu'min have been used in the Qur'an necessarily in the sense of believing sincerely. No doubt, at most places these words have occurred to express the same meaning, but there are many places where these words have also been used for outward affirmation of the faith, and aII those who might have entered the Muslim Community with verbal profession have been addressed with. "O you who have believed", no matter whether they arc the true believers, or people with a weak faith, or mere hypocrites. For a few instances of this, sec Al-i-`Imran: 156, An-Nisa' :13t5, AI-Ma'idah: 54, Al-Anfal: 20-27, At-Taubah: 38, Al-Hadid: 28, As-Saff: 2.

سورة الْحُجُرٰت حاشیہ نمبر :30 اس سے مراد تمام بدوی نہیں ہیں بلکہ یہاں ذکر چند خاص بدوی گروہوں کا ہو رہا ہے جو اسلام میں بڑھتی ہوئی طاقت دیکھ کر محض اس خیال سے مسلمان ہو گئے تھے کہ وہ مسلمانوں کی ضرب سے محفوظ بھی رہیں گے اور اسلامی فتوحات کے قواعد سے متمتع بھی ہوں گے ۔ یہ لوگ حقیقت میں سچے دل سے ایمان نہیں لائے تھے ، محض زبانی اقرار ایمان کر کے انہوں نے مصلحۃً اپنے آپ کو مسلمانوں میں شمار کرا لیا تھا ۔ اور ان کی اس باطنی حالت کا راز اس وقت فاش ہو جاتا تھا جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر طرح طرح کے مطالبے کرتے تھے ، اور اپنا حق اس طرح جتاتے تھے کہ گویا انہوں نے اسلام قبول کر کے آپ پر بڑا احسان کیا ہے ۔ روایات میں متعدد قبائلی گروہوں کے اس رویے کا ذکر آیا ہے ۔ مثلاً مُزینہ ، جہینہ ، اسلم ، اشجع ، غِفار وغیرہ ۔ خاص طور پر بنی اَسد بن خزیمہ کے متعلق ابن عباس اور سعید بن جُبیر کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ خشک سالی کے زمانہ میں وہ مدینہ آئے اور مالی مدد کا مطالبہ کرتے ہوئے بار بار انہوں نے رسول اللہ صلی علیہ وسلم سے کہا کہ ہم بغیر لڑے بھڑے مسلمان ہوئے ہیں ، ہم نے آپ سے اس طرح جنگ نہیں کی جس طرح فلاں اور فلاں قبیلوں نے جنگ کی ہے اس سے ان کا صاف مطلب یہ تھا کہ اللہ کے رسول سے جنگ نہ کرنا اور اسلام قبول کر لینا ان کا ایک احسان ہے جس کا معاوضہ انہیں رسول اور اہل ایمان سے ملنا چاہیے ۔ اطراف مدینہ کے بدوی گروہوں کا یہی وہ طرز عمل ہے جس پر ان آیات میں بات زیادہ اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے ۔ سورة الْحُجُرٰت حاشیہ نمبر :31 اصل میں قُوْلُوْآ اَسْلَمْنَا کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن کا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کہو ہم مسلمان ہو گئے ہیں ان الفاظ سے بعض لوگوں نے یہ نتیجہ نکال لیا ہے کہ قرآن مجید کی زبان میں مومن اور مسلم دو متقابل اصطلاحیں ہیں ، مومن وہ ہے جو سچے دل سے ایمان لایا ہو اور مسلم وہ ہے جس نے ایمان کے بغیر محض ظاہر میں اسلام قبول کر لیا ہو ۔ لیکن در حقیقت یہ خیال بالکل غلط ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ اس جگہ ایمان کا لفظ قلبی تصدیق کے لیے اور اسلام کا لفظ محض ظاہر اطاعت کے لیے استعمال ہوا ہے ۔ مگر یہ سمجھ لینا صحیح نہیں ہے کہ یہ قرآن مجید کی دو مستقل اور باہم متقابل اصطلاحیں ہیں ۔ قرآن کی جن آیات میں اسلام اور مسلم کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان تتبعُّ کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن کی اصطلاح میں اسلام اس دین حق کا نام ہے جو اللہ نے نوع انسانی کے لیے نازل کیا ہے ، اس کے مفہوم میں ایمان اور اطاعت امر دونوں شامل ہیں ، اور مسلم وہ ہے جو سچے دل سے مانے اور عملاً اطاعت کرے ۔ مثال کے طور پر حسب ذیل آیات ملاحظہ ہوں: اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللہِ الْاِسْلَامُ ( آل عمران 19 ) یقیناً اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے ۔ وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْناً فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ ۔ ( آل عمران ۔ 85 ) اور جو اسلام کے سوا کوئی اور دین چاہے اس کا وہ دین ہرگز قبول نہ کیا جائے گا ۔ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْناً ( المائدہ ۔ 3 ) اور میں نے تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کیا ہے ۔ فَمَنْ یُّرِدِ اللہُ اَنْ یَّھْدِیَہ یَشْرَحْ صَدْرَہ لِلْاِسْلَامِ ۔ ( الانعام ۔ 125 ) اللہ جس کو ہدایت دینا چاہتا ہے اس کا سینا اسلام کے لیے کھول دیتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ ان آیات میں اسلام سے مراد اطاعت بلا ایمان نہیں ہے ۔ پھر دیکھیے جگہ جگہ اس مضمون کی آیات آتی ہیں: قُلْ اِنِّیْ اُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ ۔ ( الانعام ۔ 14 ) اے نبی کہو مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے اسلام لانے والا میں ہوں ۔ فَاِنْ اَسْلَمُوا فَقَدِ اھْتَدَوْا ( آل عمران ۔ 20 ) پھر اگر وہ اسلام لے آئیں تو انہوں نے ہدایت پالی ۔ یَحْکُمُ بِھَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا ( المائدہ ۔ 44 ) تمام انبیاء جو اسلام لائے تھے تورات کے مطابق فیصلے کرتے تھے ۔ کیا یہاں اور اس طرح کے بیسیوں دوسرے مقامات پر اسلام قبول کرنے یا اسلام لانے کا مطلب ایمان کے بغیر اطاعت اختیار کر لینا ہے؟ اسی طرح مسلم کا لفظ بار بار جس معنی میں استعمال ہوا ہے اس کے لیے نمونے کے طور پر حسب ذیل آیات ملاحظہ ہوں ۔ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا تَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقَاتِہ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ۔ ( آل عمرآن ۔ 102 ) اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو ۔ ھُوَ سَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ ھٰذا ( الحج ۔ 78 ) اس نے تمہارا نام پہلے بھی مسلم رکھا تھا اور اس کتاب میں بھی ۔ مَا کَانَ اِبْرَاھِیْمُ یَھُودِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰکِنْ کَانَ حَنِیْفاً مُّسْلِماً ۔ ( آل عمران ۔ 67 ) ابراہیم ( علیہ السلام ) نہ یہودی تھا نہ نصرانی ، بلکہ وہ یک سُو مسلم تھا ۔ رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَا اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ ۔ ( البقرہ ۔ 128 ) ( تعمیر کعبہ کے وقت حضرت ابراہیم و اسماعیل کی دعا ) اے ہمارے رب ، اور ہم دونوں کو اپنا مسلم بنا اور ہماری نسل سے ایک ایسی امت پیدا کر جو تیری مسلم ہو ۔ یٰبَنِیَّ اِنَّ اللہَ اصْطَفیٰ لَکُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ( البقرہ ۔ 132 ) ( حضرت یعقوب کی وصیت اپنی اولاد کو ) اے میرے بچو! اللہ نے تمہارے لءے یہی دین پسند کیا ہے پس تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو ۔ ان آیات کو پڑھ کر آخر کون یہ خیال کر سکتا ہے کہ ان میں مسلم سے مراد وہ شخص ہے جو دل سے نہ مانے ، بس ظاہری طور پر اسلام قبول کر لے؟ اس لیے یہ دعویٰ کرنا قطعی غلط ہے کہ قرآن کی اصطلاح میں اسلام سے مراد اطاعت بلا ایمان ہے ، اور مسلم قرآن کی زبان میں محض بظاہر اسلام قبول کر لینے والے کو کہتے ہیں ۔ اسی طرح یہ دعویٰ کرنا بھی غلط ہے کہ ایمان اور مومن کے الفاظ قرآن مجید میں لازماً سچے دل سے ماننے ہی کے معنی میں استعمال ہوئے ہیں ۔ بلا شبہ اکثر مقامات پر یہ الفاظ اسی مفہوم کے لیے آئے ہیں ، لیکن بکثرت مقامات ایسے بھی ہیں جہاں یہ الفاظ ظاہری اقرار ایمان کے لیے بھی استعمال کیے گئے ہیں ، اور یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ۔ کہہ کر ان سب لوگوں کو خطاب کیا گیا ہے جو زبانی اقرار کر کے مسلمانوں کے گروہ میں شامل ہوئے ہوں ، قطع نظر اس سے کہ وہ سچے مومن ہوں ، یا ضعیف الایمان ، یا محض منافق ۔ اس کی بہت سی مثالوں میں سے صرف چند کے لیے ملاحظہ ہو آل عمران ، آیت 156 ۔ النساء ، 136 ۔ المائدہ ، 54 ۔ الانفال ، 20 ۔ 27 ۔ التوبہ ، 38 الحدید ، 28 ۔ الصّف ، 2 ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

10: دیہات کے کچھ لوگ دل سے ایمان لائے بغیر ظاہری طور پر کلمہ پڑھ کر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کررہے تھے، جس کا مقصد مسلمانوں جیسے حقوق حاصل کرنا تھا، مدینہ منورہ میں آکر انہوں نے راستوں پر گندگی بھی پھیلائی تھی، ان آیات میں ان کی حقیقت واضح فرمائی گئی ہے، اور یہ واضح کردیا گیا ہے کہ سچا مسلمان ہونے کے لئے صرف کلمہ پڑھ لینا کافی نہیں ہے، بلکہ دل سے اسلامی عقائد کو ماننا اور اپنے آپ کو اسلامی احکام کا پابند سمجھنا ضروری ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٤۔ ایمان اور اسلام کے ایک ہونے اور نہ ہونے میں بڑا اختلاف قدیم سے ہے۔ امام احمد علیہ الرحمۃ اور امام شافعی علیہ الرحمۃ کا مناظرہ اس باب میں مشہور ہے امام بخاری ٢ ؎ نے صحیح بخاری میں چند آیتوں اور حدیثوں سے یہی ثابت کیا ہے کہ حقیقت میں ایمان اور اسلام ایک ہی چیز ہے لیکن مجازی طور پر کبھی مسلمان ایسے شخص کو بھی کہا جاتا ہے جو ظاہری نماز روزہ کرتا ہو اور دین کی باتوں کا پورا یقین اس کے دل میں نہ ہو اور اپنے اس قول کے ثبوت میں امام بخاری نے یہی آیت پیش کی ٣ ؎ ہے حضرت عبد اللہ (رض) بن عباس اور سلف اس (٣ ؎ صحیح بخاری باب اذالم یکن الاسلام علی الحقیقتۃ الخ ص ٨ ج ١۔ ) بات کے مخالف ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ آیت منافقوں کی شان میں نہیں ہے یہ آیت تو بنی اسد کی شان میں اتری ٤ ؎ ہے۔ یہ لوگ منافق نہیں تھے۔ بلکہ نو مسلم اور قدیم مسلمانوں کی (٤۔ تفسیر الدر المنثور ص ١٠٠ ج ٦۔ ) برابری کا دعویٰ کرتے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ نصیحت فرمائی جس کا ذکر اس آیت میں ہے اور جب یہ آیت منافقوں کی شان میں نہ رہے گی تو اس آیت سے ایمان اور اسلام میں فرق آجائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان گنوار لوگوں کو مسلمان فرمایا ایمان دار نہیں فرمایا مگر ان سب آیتوں کو ملایا جائے تو ان آیتوں کے مضمون سے امام بخاری کے قول کی تائید نکلتی ہے کس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک فرقہ کی پہلے مذمت فرمائی اور پھر دوسرے فرقہ کی تعریف فرمائی ہے اور تعریف والے فرقے کے ذکر میں یہ بھی فرمایا ہے کہ ان لوگوں کو دین کی باتوں میں کچھ شک و شبہ نہیں ہے اس سے معلوم ہوا کہ مذمت والے فرقے کے دل میں دین کی باتوں کی طرف سے کچھ شک و شبہ ہے اس لئے وہ فرقہ منافق لوگوں کا تھا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ سلف میں کے جو علما آیت کو بنی اسد کی شان میں بتاتے ہیں ان کے نزدیک معنی آیت کے یہ ہیں کہ یہ دیہاتی نو مسلم لوگ قدیمی مسلمانوں کی طرح جو اپنے آپ کو پکا ایماندار کہتے ہیں اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ قدیمی مسلمانوں کی تو طرح طرح کی جانچ ہوچکی ہے جس میں وہ ثابت قدم رہے تم لوگ تو ابھی دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ہو مسلمانوں کے ساتھ فقط نماز روزہ میں شریک ہوجاتے ہو تمہارے دلی اعتقاد کی مضبوطی کی جانچ ابھی کچھ نہیں ہوئی آئندہ جانچ کے وقت اگر تم لوگ بھی اللہ اور اس کے رول کے حکم پر چلو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے عملوں کے بدلے میں کچھ کمی نہ کرے گا کیونکہ وہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے اس لئے بندوں کے نیک عملوں میں کچھ قصور رہ جائے تو وہ اپنی رحمت سے اس کو معاف کردیتا ہے سلف میں کے جو علما آیت کو قبیلہ جہنیہ مزینہ کے منافقوں کی شان میں بتاتے ہیں ان کے نزدیک معنی آیت کے یہ ہیں کہ یہ لوگ حدیبیہ کے سفر کی جانچ کے وقت جان بچا کر گھروں میں رہ گئے اس واسطے ابھی تو ان کی ایمانداری کا دعویٰ جھوٹا ہے آئندہ خالص دل سے یہ کچھ کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے نیک عملوں کے اجر میں کچھ کمی نہ کرے گا۔ صحیح بخاری ١ ؎ و مسلم میں انس (رض) بن مالک سے روایت ہے جس میں اللہ (١ ؎ صحیح بخاری باب حلاوۃ الایمان ص ٧ ج ١۔ ) کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پکے ایماندار نافرمانی کی باتوں سے ایسے گھبراتے ہیں جس طرح کوئی آگ میں ڈالے جانے سے گھبراتا ہے اس حدیث کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ یہ دیہاتی لوگ جب تک یہ مرتبہ نہ حاصل کرلیں کہ جانچ کے وقت نافرمانی کی بات کے اختیار کرنے کو آگ میں گرنے کے برابر سمجھنے لگیں اس وقت تک یہ لوگ قدیمی مسلمانوں کی برابری نہیں کرسکتے۔ (١ ؎ صحیح بخاری باب من کان یومن باللہ والیوم الاخر فلا یوذ جارہ ص ٨٨٩ ج ١۔ ) (٢ ؎ صحیح مسلم باب تحریم ص ٣٢٢ ج ٢۔ ) (١ ؎ جامع ترمذی باب ماجاء من تکلم بالکلمۃ لیضحد الناس ص ٦٧ ج ٢۔ ) (٢ ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی حرمۃ الصلوۃ ص ١٠٠ ج ٢۔ ) (٣ ؎ صحیح بخاری باب حفظ اللسان الخ ص ٩٥٩ ج ٢۔ ) (٤ ؎ مشکوٰۃ شریف باب المزاح ص ٤١٦۔ ) (٥ ؎ مشکوٰۃ شریف باب المزاح ص ٤١٦۔ ) (١ ؎ صحیح مسلم باب تحریم الظلم ص ٣٢٠ ج ٢۔ ) (٢ ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص ٢٥٩۔ ) (٣ ؎ صحیح مسلم باب تحریم ظلم المسلم الخ ص ٣١٧ ج ٢۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(49:14) الاعراب : گنوار، بدو۔ اعراب وہ ہیں جو کہ صحراؤں میں سکونت گزیں ہوں۔ اس کے برخلاف لفظ عرب کے مفہوم میں وسعت ہے کیونکہ اس کا استعمال ان تمام انسانوں کے لئے عام ہے جو ریگستان عرب میں رہتے ہوں خواہ وہ صحراؤں میں بستے ہوں یا آبادیوں کے باشندے ہوں۔ اہل لغت کا بیان یہی ہے اور اسی پر سیبویہ نے کہا ہے کہ اعراب صیغہ جمع تو ہے مگر لفظ عرب کی جمع کا صیغہ نہیں ہے۔ لم تؤمنوا : مضارع نفی ھضد بلم۔ تم ایمان نہیں لائے۔ اسلمنا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم مسلمان ہوئے۔ اسلام (افعال) مصدر۔ لما۔ حرف جازم ہے۔ لم کی طرح فعل مضارع پر داخل ہوکر جزم دیتا ہے اور مضارع کو ماضی منفی کے معنی میں کردیتا ہے۔ ولما یدخل الایمان فی قلوبکم۔ اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ نیز ملاحظہ ہو (2:214) اس جملہ کا عطف لم تؤمنوا پر ہے۔ وان تطیعوا اللّٰہ ورسولہ۔ جملہ شرط ہے۔ تطیعوا : مضارع مجزوم بوجہ عمل ان صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اطاعۃ (افعال) مصدر۔ اللّٰہ ورسولہ دونوں مفعول ہیں تطیعوا کے۔ رسولہ مضاف ۔ مضاف الیہ۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب اللہ کی طرف راجع ہے۔ یایلتکم من اعمالکم شیئا۔ جملہ جواب شرط ہے۔ لایلت مضارع منفی مجزوم بوجہ جواب شرط۔ صیغہ واحد مذکر غائب۔ الت (باب ضرب) مصدر بمعنی حق کم کرکے دینا۔ کام کے ثواب یا اجر میں کمی کرنا۔ ا ل ت مادہ۔ شیئا : مفعول فعل لایلتکم کا۔ وہ تم کو کم نہ دیگا۔ وہ تمہارے حق میں کمی نہ کرے گا۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں آیا ہے وما التنھم من عملہم من شیء (52:21) اور ہم ان کے اعمال میں سے کچھ کم نہ کریں گے۔ یعنی ثواب میں کمی نہ کریں گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 12 ابن عباس سے روایت ہے کہ بنو اسد ایک مرتبہ قحط سالی کے زمانہ میں مدینہ آئے اور انہوں نے مالی امداد کا مطالبہ کرتے ہوئے بار بار آنحضرت سے یہی کہا ہم جنگ کئے بغیر مسلمان ہوئے ہیں اور ہم نے فلاں قبیلے کی طرح جنگ نہیں کی تو ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (قرطبی) 1 اس سے معلوم ہوا کہ اسلام اور ایمان میں فرق ہے۔ ایمان کے لئے قلبی ایفان بھی شرط ہے مگر اسلام کا لفظ ظاہری اطاعت پر بھی بولا جاتا ہے۔ گویا ایمان کو اسلام کی بہ نست خصوصیت حاصل ہے اور یہی بات اس حدیث سے معلوم ہوتی ہے جس میں جبریل نے آنحضرت سے پہلے سلام کے بارے میں سوال کیا اور پھر ایمان کے بارے میں صحیحین میں حضرت سعد سے روایت ہے کہ ایک غزوہ میں آنحضرت نے بعض لوگوں کو دیا تو ایک آدمی کو کچھ نہ دیا۔ حضرت سعید کہتے ہیں میں نے عرض کیا ” اے اللہ کے رسول آپ نے اس شخص کو کچھ نہیں دیا حالانکہ وہ مومن ہے۔ “ فرمایا ” یا مسلم ہے یہاں تک کہ میں تین مرتبہ یہ بات دہرائی اور آپ نے ہر مرتبہ یہی جواب دیا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ظاہری طور پر فرمانبردار کو مسلمان تو کہہ سکتے ہیں مگر یقین کیساتھ مومن نہیں کہہ سکتے۔ (ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 14 تا 18 : اسلمنا ( ہم نے ما ن لیا) لایلت (نہ گھٹائے گا) ‘ لم یرتابوا ( انہوں نے شک نہیں کیا) ‘ جاھدوا ( انہوں نے جہاد کیا) ‘ الصدقون) سچ بولنے والے) ‘ اتعلمون ( کیا تم جتاتے ہو۔ سکھاتے ہو) ‘ یمنون ( وہ احسان جتاتے ہیں) یمن (وہ احسان کرتا ہے) ‘ ان ھدا ( یہ کہ اس نے راستہ سمجھایا) ۔ تشریح : آیت نمبر 14 تا 18 : سورۃ الحجرات کی ان آخری آیات کے سلسلہ میں علماء مفسرین نے اس واقعہ کا ذکر کیا ہے کہ ایک مرتبہ شدید قحط پڑگیا۔ اس دوران قبیلہ بنو اسد کے کچھ لوگوں نے مدینہ منورہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر بظاہر ایمان قبول کرلیا۔ کہتے ہیں کہ ایمان لانے کا سبب یہ تھا کہ صدقات وغیرہ حاصل کئے جائیں۔ ان لوگوں نے اسلام قبول کرتے ہی طرح طرح کے مطالبے شروع کردیئے اور ان کا انداز ایسا تھا جیسے انہوں نے اسلام قبول کر کے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کوئی بڑا احسان کیا ہے۔ حالانکہ اس بات پر انہیں اللہ اور اس کے رسول کا احسان مند ہونا چاہیے تھا کہ اللہ کی توفیق سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی غلامی کا شرف حاصل ہوگیا ہے کیونکہ جب تک اللہ کی توفیق نہ ہو اس وقت تک ایمان اور عمل صالح کی توفیق نصیب نہیں ہوتی اور پھر جو شخص اللہ کے لئے کوئی نیک عمل کرتا ہے اس کو جتانے کی بھی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس کے بتائے بغیر اللہ اس کو دیکھ رہا ہے اور اسے ایک ایک عمل اور ایک ایک لمحہ کی خبر ہے ۔ چونکہ ان دیہاتیوں نے ظاہری طور پر ایمان قبول کیا تھا اور ابھی ایمان ان کے دلوں کی گہرائیوں تک نہ پہنچا تھا لہٰذا انہوں نے اپنی ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مدینہ کے راستوں میں غلاظت اور گندگی پھیلا دی اور بازاروں میں چیزوں کی قیمتیں بڑھا دیں۔ مدینہ منورہ پہنچ کر انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ احسان رکھا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ دیکھئے کہ اور لوگ تو آپ سے ایک طویل عرصہ تک جنگ کرتے اور مخالفت کرتے رہے ہیں اور آپ کی مخالفت میں انہوں نے اپنی ساری طاقتیں لگا دی تھیں لیکن ہم نے تو اس طرح ایمان قبول کیا ہے کہ آپ کو جنگ کی زحمت بھی گوارانہ کرا پڑی اس لئے ہم سب سے زیادہ ہر طرح کے فوائد کے زیادہ حق دار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم یہ تو کہہ سکتے ہو کہ ہم نے اطاعت قبول کرلی ہے اور کچھ اعمال بھی کرنے لگے ہیں لیکن ابھی تک ایمان دلوں کی گہرائیوں تک نہیں پہنچا اس لئے ایمان کا دعویٰ بڑی چیز ہے کیونکہ ابھی تو تم نے صرف اسلام قبول کیا ہے لہٰذا تم اپنے ایمان لانے کا احسان نہ جتائو۔ اس جگہ ” مومن اور مسلم “ کی بحث کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اس آیت میں اسلام کے لغوی معنی مراد لئے گئے ہیں اصطلاحی معنی نہیں کیونکہ اسلام ظاہری اعمال میں فرماں برداری کا اور مخالفت ترک کرنے کا اظہار ہے۔ جب کہ ایمان دل کی گہرائیوں سے تصدیق کرنے اور زبان سے اقرار کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ دیہات کے رہنے والے کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔ اے نبی آپ فرمادیجئے کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ تمہیں یہ کہنا چاہیے کہ ہم نے اطاعت قبول کرلی کیونکہ ابھی تک ایمان تو تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا۔ اگر تم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت (پوری طرح) قبول کرلی تو اللہ تمہارے اعمال میں ذرہ برابر بھی کمی نہ کرے گا۔ بلاشبہ اللہ مغفرت کرنے والا مہربان ہے۔ مومن تو وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے۔ پھر ہر طرح کے شک و شبہ سے دور رہے اور اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کے راستے میں جہاد کیا یہ لوگ اپنے (ایمان کے ) دعوے میں سچے ہیں۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم اللہ کو اپنا دین (طریقہ ) سکھا رہے ؟ حالانکہ اللہ تو آسمانوں اور زمین کی ہر بات سے واقف ہے۔ اور درحقیقت وہی ہر بات کا جاننے والا ہے۔ (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ لوگ آپ پر اسلام لانے کا احسان جتا رہے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ تم مجھ پر اپنے اسلام لانے کا احسان نہ چتائو بلکہ تم پر اللہ کا یہ احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی طرف ہدایت نصیب کی۔ اگر تم سچے ہو تو ( اس حقیقت کا انکار نہیں کرسکتے) ۔ بیشک اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے سارے رازوں سے واقف ہے اور تم جو کچھ کرتے ہو اسے وہ دیکھ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچے ایمان کی توفیق عطا فرمائے اور اللہ کے اس احسان کو ماننے کی سمجھ عطا فرمائے کہ اگر اس کی توفیق نہ ہوتی تو ہمیں ایمان ہی نصیب نہ ہوتا۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یہاں اسلام سے مراد اسلام لغوی ہے شرعی نہیں، پس اس آیت سے ایمان و اسلام کے تغایر پر استدلال کرنا غیر صحیح ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ علیم اور خبیر ہے پچھلی آیات کے حوالے سے وہ جانتا ہے کہ کچھ لوگ صرف زبان سے ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ اس آیت میں یہ اشارہ موجود ہے کہ دوسروں کا مذاق اٹھانا اور عیب جوئی کرنا جہالت کا کام ہے ایسے لوگوں کو انتباہ کے طور پر بتلایا گیا ہے۔ نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں مدینہ کے مضافات میں رہنے والے ایسے لوگ بھی تھے جو آپ کی خدمت میں آکر ایسا انداز اختیار کرتے جس سے صاف معلوم ہوتا کہ یہ لوگ اپنے ایمان لانے کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں پر احسان سمجھتے ہیں۔ اس بنا پر وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسے مطالبات کرتے ہیں جن کا انہیں حق نہیں تھا۔ اس صورتحال میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد ہوا کہ آپ انہیں فرمائیں کہ تم نے ابھی تک اسلام کا اقرار کیا ہے۔ حقیقت میں ایمان نہیں لائے کیونکہ تمہارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا۔ اگر تم رسمی کی بجائے حقیقی ایمان کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے کچھ کم نہیں کرے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے۔ حقیقت میں مومن وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائیں پھر انہیں اپنے ایمان کے بارے میں کوئی شک نہ رہے۔ اس ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ اللہ کے راستے میں اپنے مال اور اپنی جان کے ساتھ جہاد کریں۔ یہی لوگ دعویٰ ایمان میں سچے ہیں۔ جہاد کا جامع مفہوم یہ ہے کہ مسلمان ہر محاذ پر اسلام اور مسلمانوں کی سربلندی کے لیے جدوجہد کرتے رہیں۔ اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے رسمی اور حقیقی ایمان کا فرق بیان کیا ہے۔ رسمی اور نسلی ایمان یہ ہے کہ آدمی فائدے کے وقت اسلام پر عمل کرے اور مشکل کے وقت اسلام پر عمل کرنا چھوڑ دے۔ اس طرح کا ایمان انسان میں کوئی تبدیلی واقع نہیں کرتا۔ سچے ایمان اور حقیقی اسلام کا فائدہ یہ ہے کہ انسان اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہوئے کسی پر احسان نہیں جتلاتا۔ وہ مسجد میں خرچ کرتا ہے تو اس کا کسی نمازی اور خطیب پر احسان نہیں ہوتا۔ وہ دینی مدرسہ کے ساتھ تعاون کرتا ہے تو طلبہ اور اس کی انتظامیہ پر احسان نہیں جتلاتا۔ کسی غریب کی مدد کرتا ہے تو اس سے کسی خدمت کی توقع نہیں رکھتا۔ قتال فی سبیل اللہ میں حصہ لیتا ہے تو اس میں اس کا کوئی دنیاوی مفاد نہیں ہوتا۔ اس کی نیت و عمل میں یہ اخلاص اور جذبہ اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ اس کے دل میں ایمان راسخ ہوچکا ہوتا ہے۔ حقیقی ایمان کی یہی نشانی ہے کہ وہ مسلمان کے فکر و عمل میں انقلاب پیدا کرتا ہے جس بنا پر ایماندار شخص اپنے کسی عمل کا کسی پر احسان نہیں جتلاتا۔ اللہ تعالیٰ نہ صرف ایسے لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں کرے گا بلکہ اپنی مہربانی سے ان کی بشری کمزوریوں اور غلطیوں کو بھی معاف فرما دے گا۔ کیونکہ وہ معاف کرنے والا اور انتہائی رحیم و شفیق ہے۔ رسمی اور حقیقی ایمان کے درمیان فرق یہ ہے کہ رسمی طور پر ایمان لانے والے رسماً اسلام پر عمل کرتے ہیں اور حقیقی طور پر ایمان لانے والے صرف اپنے رب کی رضا کے لیے عمل کرتے ہیں یہی لوگ اپنے ایمان میں سچے ہیں۔ مومن اور مسلمان میں فرق : (عَنْ عَلِیٍّ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَأْتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌلَایَبْقٰی مِنَ الْاِسْلَامِ اِلَّاإِسْمُہٗ وَلَا یَبْقٰی مِنَ الْقُرْاٰنِ إِلَّا رَسْمُہٗ مَسَاجِدُھُمْ عَامِرَۃٌ وَھِیَ خَرَابٌ مِنَ الْھُدٰی عُلَمَاءُ ھُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ أَدِیْمِ السَّمَآءِ مِنْ عِنْدِ ھِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَۃُ وَفِیْھِمْ تَعُوْدُ ) (مشکوٰۃ : کتاب العلم، قال یحییٰ بن معین لیس بشی ءٍ ، حکمہ ضعیف) ” حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں پر ایک ایسا دور آئے گا کہ اسلام کا صرف نام رہ جائے گا، قرآن کی تلاوت عادت کے طور پر کی جائے گی، ان کی مساجد آباد ہوں گی لیکن ہدایت سے خالی ہوں گی، ان کے علماء آسمان کی چھت تلے شریر ترین لوگ ہوں گے، انہی سے فتنہ ظہور پذیر ہوگا اور انہی کی طرف لوٹ جائے گا۔ “ (عَنْ عَاءِشَۃَ (رض) قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُولُ فِی بَعْضِ صَلاَتِہِ اللَّہُمَّ حَاسِبْنِی حِسَاباً یَسِیرًا فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ یَا نَبِیَّ اللَّہِ مَا الْحِسَابُ الْیَسِیرُ قَالَ أَنْ یَنْظُرَ فِی کِتَابِہِ فَیَتَجَاوَزَ عَنْہُ إِنَّہُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ یَوْمَءِذٍ یَا عَاءِشَۃُ ہَلَکَ وَکُلُّ مَا یُصِیبُ الْمُؤْمِنَ یُکَفِّرُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ بِہِ عَنْہُ حَتَّی الشَّوْکَۃُ تَشُوکُہُ ) (روہ احمد : مسند عائشہ صدیقہ (رض) ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بعض نمازوں میں یہ دعا مانگتے سنا آپ دعا کرتے۔ اے بار الٰہا ! میرا حساب آسان فرماناجب آپ نماز سے فارٖغ ہوئے تو میں نے عرض کی اللہ کے پیغمبر آسان حساب کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ انسان کے نامہ اعمال کی طرف دیکھ کر اسے چھوڑ دیا جائے۔ اس دن جس سے حساب و کتاب میں پوچھ گچھ ہوگئی وہ ہلاک ہوگیا اور ہر تکلیف جو مومن کو پہنچتی ہے اللہ عزوجل اس کے عوض اس کے گناہ مٹا دیتا ہے حتٰی کہ کانٹا چبھنے سے بھی گناہ مٹ جاتے ہیں۔ “ مسائل ١۔ کچھ لوگ بظاہر مسلمان ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کے دلوں میں ایمان نہیں ہوتا۔ ٢۔ جو شخص اخلاص کے ساتھ ایمان لائے، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اللہ تعالیٰ اس کے اجر میں کوئی کمی نہیں کرے گا۔ ٣۔ جو شخص اخلاص کے ساتھ ایمان کے تقاضے پورے کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی بشری کمزوریوں کو معاف کردیتا ہے کیونکہ وہ معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے۔ ٤۔ حقیقی ایمان کا یہ تقاضا ہے کہ ایمان لانے کے بعد آدمی کو اپنے ایمان کے بارے میں کسی قسم کا شک اور تردد نہیں ہونا چاہیے۔ ٥۔ حقیقی ایمان رکھنے والے لوگ ” اللہ “ کی راہ میں اپنے مال اور جان کے ساتھ جہاد کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن حقیقی ایمان کے تقاضے : ١۔ غیب پر ایمان لانا۔ (البقرۃ : ١) ٢۔ قرآن مجید اور پہلی آسمانی کتابوں پر ایمان لانا۔ (البقرۃ : ٤) ٣۔ اللہ اور کتب سماوی پر ایمان لانا۔ (البقرۃ : ١٣٦) ٤۔ آخرت پر یقین رکھنا۔ (البقرۃ : ٤) ٥۔ انبیاء پر ایمان لانا اور ان میں فرق نہ کرنا۔ (آل عمران : ٨٤) ٦۔ اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کے درمیان فرق نہ کرنا۔ (النساء : ١٥١) ٧۔ ایمان کی تفصیل۔ (البقرۃ : ٢٨٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اب اس سورت کے آخر میں ایمان کی حقیقت اور اس کی اہمیت بیان کی جاتی ہے اور یہ ان اعراب کی تردید میں بیان کی جاتی ہے جو ایمان کا دعویٰ کرتے تھے۔ یہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر احسان جتلاتے تھے کہ ہم مسلمان ہوئے ہیں اور اس احسان کے بارے میں نہ سوچتے تھے کہ اللہ نے دعوت ایمان بھیج کر لوگوں پر کس قدر احسان کیا۔ یہ آیات بنو اسد کے دیہاتی مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم “ ایمان لائے ” ہیں۔ یہ انہوں نے اس وقت کہا جب وہ اسلام میں داخل ہو رہے تھے۔ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ بات بھی کہی کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نے تو اسلام قبول کرلیا لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہم کبھی نہیں لڑے جبکہ دوسرے عربوں نے آپ کے ساتھ لڑائیاں لڑیں تو اللہ نے ان کو بتایا کہ تمہارے ذہنوں کے اندر جو بات بیٹھی ہوئی ہے ، وہ غلط ہے کہ تم نے اسلام قبول کرلیا۔ اسلامی حکومت کے سامنے سر تسلیم خم کردیا ہے ، لیکن ابھی تمہارے دل مرتبہ ایمان تک نہیں پہنچے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حقیقت ایمان ابھی ان کے دلوں میں نہیں بیٹھی تھی۔ اور ان کی ارواح نے ابھی جام ایمان نوش نہیں کیا تھا۔ قل لم تؤمنوا ولکن ۔۔۔۔۔۔ فی قلوبکم (٤٩ : ١٤) “ ان سے کہو ، تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم مطیع ہوگئے۔ ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے ”۔ لیکن اس کے باوجود اللہ نے فرمایا کہ تمہارے اعمال پر تمہیں پوری پوری جزاء دی جائے گی اور تمہارے اعمال کا کوئی حصہ ضائع نہ ہوگا۔ یہ اسلام ابھی تک دلوں کے اندر داخل ہو کر قلوب کے اندر نہیں پہنچا کہ وہ پختہ اور قابل اطمینان ایمان بن جائے ، یہ اس بات کے لئے کافی ہے کہ ان اچھے اعمال پر انہیں جزائے خیروی جائے اور وہ کفار کے اعمال کی طرح ضائع نہ ہوں۔ اور اللہ کے ہاں ایسے مسلمانوں کے اجر میں کمی نہ ہوگی جب تک وہ مطیع فرمان اور سر تسلیم خم کرنے والے رہتے ہیں۔ وان تطیعوا اللہ ورسولہ لا یلتکم من اعمالکم شیئا (٤٩ : ١٤) “ اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی فرمان برداری اختیار کرلو تو وہ تمہارے اعمال کے اجر میں کوئی کمی نہ کرے ”۔ کیونکہ اللہ بہت ہی رحیم و کریم ہے۔ وہ اپنے بندوں سے اسلام اور ایمان کی راہ میں پہلا قدم ہی قبول کرتا ہے۔ اطاعت اور تسلیم ہی سے راضی ہوجاتا ہے اور اس کے بعد دل میں خود بخود ایمان اور اطمینان آجاتا ہے۔ ان اللہ غفور رحیم (٤٩ : ١٤) “ بیشک اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ اس کے بعد حقیقی ایمان بتا دیا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

محض زبانی اسلام کا دعویٰ کرنے والوں کو تنبیہ معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ آیت کریمہ ﴿ قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا ١ؕ﴾ قبیلہ بنی اسد کے چند لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی یہ لوگ مدینہ منورہ میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے یہ خشک سالی کا زمانہ تھا ان لوگوں نے ظاہر کیا کہ ہم نے اسلام قبول کرلیا حالانکہ دل سے مومن نہ تھے انہوں نے مدینہ منورہ کے راستوں میں گندگیاں ڈال کر خراب کردیا اور مالوں کے بھاؤ بھی مہنگے کردئیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں صبح شام جاتے تھے اور کہتے تھے کہ آپ کے پاس عرب کے لوگ اپنی جانوں کو لے کر آگئے اور ہم اپنا سارا سامان اور بال بچوں کو لے کر آگئے اور ہم نے آپ سے جنگ نہ کی جیسا کہ فلاں فلاں قبیلہ نے آپ سے جنگ کی یہ باتیں کہہ کر آپ پر احسان رکھتے تھے اور صدقات کے اموال آپ سے طلب کرتے تھے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آیت نازل فرمائی ﴿ قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا ١ؕ﴾ دیہات کے لوگوں نے کہا کہ ہم ایمان لائے یعنی دل سے ہم نے آپ کی تصدیق کرلی اور آپ کے دین کو مان لیا ﴿ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا ﴾ آپ فرما دیجیے کہ تم ایمان نہیں لائے (یہ تمہارا زبانی دعویٰ ہے) ﴿ وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا ﴾ (لیکن تم یہ کہہ سکتے ہو کہ ہم نے ظاہری طور پر بات مان لی ہے اور فرمانبرداری کا اعلان کردیا ہے) ﴿ وَ لَمَّا يَدْخُلِ الْاِيْمَانُ فِيْ قُلُوْبِكُمْ ﴾ (اور تمہارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا) محض زبانی اقرار اور ظاہری طور پر اعمال اسلام اپنا لینے سے بندہ مومن نہیں ہوتا اسلام تصدیق قلبی کا نام ہے منافقین کے بارے میں ارشاد ہے ﴿ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ اٰمَنَّا باللّٰهِ وَ بالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِيْنَۘ٠٠٨﴾ (اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں) بات یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کے رسول کو دل سے سچا جاننے اور ماننے سے مومن ہوتا ہے اگر یقین نہ ہو یا یقین تو ہو لیکن تسلیم نہ ہو یعنی مانتا نہ ہو تو مومن نہیں ہوتا جیسا کہ فرعون کی قوم کے بارے میں فرمایا ﴿ وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَيْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا ﴾ (اور انہوں نے ان آیات کا انکار کیا حالانکہ انہیں ان کے سچا ہونے کا یقین تھا اور ان کا انکار ظلم اور تکبر کی وجہ سے تھا۔ ) بہت سے لوگ دنیاوی اغراض کے لیے یہ ظاہر کردیتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں لیکن اندر سے تصدیق نہیں کرتے مسلمان انہیں ظاہری دعویٰ کی وجہ سے مسلمان سمجھ لیتے ہیں لیکن اللہ کے نزدیک مومن نہیں ہوتے۔ پھر فرمایا ﴿ وَ اِنْ تُطِيْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَا يَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَيْـًٔا ﴾ اور اگر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے دل و جان سے ظاہر سے بھی باطن سے بھی لوگوں کے سامنے بھی تنہائیوں میں بھی تو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے کوئی کمی نہ فرمائے گا یعنی تمہارے اعمال کا پورا پورا ثواب دے گا بلکہ کم از کم دس گنا بڑھا کر دے گا اس میں یہ بات بتادی کہ ایمان اعمال صالحہ پر آمادہ کرتا ہے ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ بھی آخرت میں کام آئیں گے طلب دنیا کے لیے یہ کہنا کہ ہم مومن ہیں اور ظاہری طور پر ایمان قبول کرلینا آخرت میں مفید نہیں ہے وہاں کی نجات اور اجر وثواب ایمان حقیقی پر موقوف ہے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ٠٠١٤﴾ (بےشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے) اگر سچے دل سے ایمان قبول کرلو گے تو اس سے پہلے جو کیا ہے اس سب کی معافی ہوجائے گی۔ قولہ تعالیٰ : لَا يَلِتْكُمْ قرأ ابو عمر ویالتکم بالالف کقولہ تعالیٰ : وما التناھم والآخرون بغیر الف وھما لغتان و معنا ھما لا ینقصکم یقال : الت یالت التاً ولات یلیت لیتاً اذا نقص (ذكرہ فی معالم التنزیل) (معالم التنزیل میں ہے لَايَلِتْكُمْ اسے ابوعمرو نے لاَ یَالِتْكم پڑھا ہے، الف کے ساتھ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿وَمَا اَلَتْنَاھُمْ﴾ اور دوسروں نے بغیر الف کے پڑھا ہے، اور دونوں صورتوں میں معنی ہے، تمہیں نقصان نہیں پہنچے گا کہا جاتا ہے الت یالت التًا ولاَت یَلیْتَ لیتًا جب نقصان ہوجائے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

13:۔ ” قالت الاعراب۔ الایۃ “ یہ ان اعراب پر شکوی ہے جو اپنے ایمان کے اظہار سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ممنون کرنا چاہتے تھے۔ فرمایا تم لوگ ایمان کامل کا دعوی نہ کرو، البتہ یوں کہو کہ ہم اسلام لے آئے ہیں کیونکہ تم نے ابھی صرف ظاہری طور پر ہی اسلام وانقیاد کا اعتراف کیا ہے اور ابھی تک ایمان ویقین تمہارے دل کی گہرائیوں میں نہیں اترا۔ یہ آیت بنی اسد بن خزیمہ کی ایک جماعت کے حق میں نازل ہوئی جو قحط سے متاثر ہو کر مدینہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام کا اظہار کیا، لیکن ان کے دل دولت ایمان سے خالی تھے۔ انہوں نے اموال غنیمت اور دنیوی منافع کی خاطر اسلام کا اظہار کیا تھا اور آپ پر احسان دھرنے کیلئے کہنے لگے کہ عرب کے تمام قبائل نے آپ سے لڑائی کی ہے مگر صرف ہم ہی ایسے لوگ ہیں جنہوں نے جدا و قتال کے بغیر ہی آپ کی اطاعت کو اور دین اسلام کو قبول کرلیا ہے (روح، ابن کثیر، خازن، معالم) ۔ ” وان تطیعوا۔ الایۃ “ اگر تم اپنے دلوں کو نفاق اور دنیوی اغراض سے پاک کر کے پورے اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو گے تو تمہیں اپنے عملوں کا پورا پورا اجر وثواب ملے گا اور اس سے پہلے تم سے جو کو تاہیاں اور نافرمانیاں ہوئی ہیں اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو گے تو تمہیں اپنے عملوں کا پورا پورا اجر وثواب ملے گا اور اس سے پہلے تم سے جو کو تاہیاں اور نافرمانیاں ہوئی ہیں ان سے اللہ تعالیٰ درگذر فرمائیگا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(14) یہ دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے آپ ان سے کہہ دیجئے کہ تم ایمان تو نہیں لائے ہاں یوں کہو کہ ہم فرماں بردارہوگئے یعنی ہم نے مخالفت ترک کردی ہے اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا اور اگر تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی صحیح اطاعت کرو۔ تو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کے اجروثواب میں ذرا بھی کمی نہیں کرے گا بیشک اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربانی کرنے والا ہے عرب کے اکثر دیہاتیوں نے صدق دل سے ایمان قبول کیا تھا لیکن یہ بنی اسد کے لوگ قحط کے زمانے میں غلہ وغیرہ حاصل کرنے مدینے میں آئے تو کہنے لگے ہم ایمان لے آئے اس پر تنبیہہ کی کہ ایمان صرف زبان سے کہنے سے نہیں ہوتا بلکہ دل سے اس کی نیت بھی کرو۔ یعنی جب تک تصدیق قلبی میسر نہ ہو صرف قول سے مومن نہیں ہوتا ہاں زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہو کہ ہم صلح میں داخل ہوکر آپ کے مطیع ہوگئے ہیں اور ہم نے مخالفت ترک کردی ہے اور ابھی ایمان تمہارے قلب میں داخل نہیں ہوا یعنی تصدیق قلبی حاصل نہیں ہوئی اور اگر تم لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو جس میں تصدیق قلبی بھی آگئی یعنی دل سے بھی ایمان لے آئو اور زبان اور قلب میں مطابقت پیدا کرلو تو اللہ تعالیٰ تمہارے ان اعمال کے اجر میں جو ایمان لانے کے بعدتم کرو گے اس وقت کے کفر وشرک کی وجہ سے کچھ کمی نہیں کرے گا۔ یعنی ایمان لانے کے بعد جو عمل کرو گے اس کا پورا پورا ثواب ملے گا اور تمہاری موجودہکافرانہ روش کی وجہ سے ایمان لے آنے کے بعد کے اعمال میں سے کچھ کم نہ کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ بڑی بخشش کرنے والا اور بڑی مہربانی کرنے والا ہے اور دل سے ایمان لانے اور زبان سے اقرار کرنے اور ارکان اسلامی پر عمل کرنے کے بعد پہلے اعمال کفریہ کو ساقط کردیا کرتا ہے اور ان اعمال کفریہ پر کوئی محاسبہ نہیں کرتا جو ایمان سے پہلے ہوچکے ۔