Surat ul Maeeda

Surah: 5

Verse: 106

سورة المائدة

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا شَہَادَۃُ بَیۡنِکُمۡ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الۡمَوۡتُ حِیۡنَ الۡوَصِیَّۃِ اثۡنٰنِ ذَوَا عَدۡلٍ مِّنۡکُمۡ اَوۡ اٰخَرٰنِ مِنۡ غَیۡرِکُمۡ اِنۡ اَنۡتُمۡ ضَرَبۡتُمۡ فِی الۡاَرۡضِ فَاَصَابَتۡکُمۡ مُّصِیۡبَۃُ الۡمَوۡتِ ؕ تَحۡبِسُوۡنَہُمَا مِنۡۢ بَعۡدِ الصَّلٰوۃِ فَیُقۡسِمٰنِ بِاللّٰہِ اِنِ ارۡتَبۡتُمۡ لَا نَشۡتَرِیۡ بِہٖ ثَمَنًا وَّ لَوۡ کَانَ ذَا قُرۡبٰی ۙ وَ لَا نَکۡتُمُ شَہَادَۃَ ۙ اللّٰہِ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الۡاٰثِمِیۡنَ ﴿۱۰۶﴾

O you who have believed, testimony [should be taken] among you when death approaches one of you at the time of bequest - [that of] two just men from among you or two others from outside if you are traveling through the land and the disaster of death should strike you. Detain them after the prayer and let them both swear by Allah if you doubt [their testimony, saying], "We will not exchange our oath for a price, even if he should be a near relative, and we will not withhold the testimony of Allah . Indeed, we would then be of the sinful."

اے ایمان والو! تمہارے آپس میں دو شخص کا گواہ ہونا مناسب ہے جبکہ تم میں سے کسی کو موت آنے لگے اور وصیت کرنے کا وقت ہو وہ دو شخص ایسے ہوں کہ دیندار ہوں خواہ تم میں سے ہوں یا غیر لوگوں میں سے دو شخص ہوں اگر تم کہیں سفر میں گئے ہو اور تمہیں موت آجائے اگر تم کو شبہ ہو تو ان دونوں کو بعد نماز روک لو پھر دونوں اللہ کی قسم کھائیں کہ ہم اس قسم کے عوض کوئی نفع نہیں لینا چاہتے اگرچہ کوئی قرابت دار بھی ہو اور اللہ تعالٰی کی بات کو ہم پوشیدہ نہ کریں گے ہم اس حالت میں سخت گناہ گار ہوں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Testimony of Two Just Witnesses for the Final Will and Testament This honorable Ayah contains a glorious ruling from Allah. Allah's statement, يِا أَيُّهَا الَّذِينَ امَنُواْ شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِينَ الْوَصِيَّةِ اثْنَانِ ... O you who believe! When death approaches any of you, and you make a bequest, then take the testimony of two... meaning that there should be two witnesses in such cases, ... ذَوَا عَدْلٍ ... just men... thus, describing them as just, ... مِّنكُمْ ... of your own folk, (Muslims). ... أَوْ اخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ ... or two others from outside, non-Muslims, meaning the People of the Book, according to Ibn Abbas as Ibn Abi Hatim recorded. Allah said next, ... إِنْ أَنتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الاَرْضِ ... if you are traveling through the land, (on a journey), ... فَأَصَابَتْكُم مُّصِيبَةُ الْمَوْتِ ... and the calamity of death befalls you. These are two conditions that permit using non-Muslims from among the Dhimmis for witnesses when there are no Muslims present: When one is traveling and needs to write a will, as Sharih Al-Qadi said. Ibn Jarir recorded that Sharih said, "The witness of the Jews and Christians is not allowed except while traveling, and even then only to witness the dictation of the will." Allah's statement, ... تَحْبِسُونَهُمَا مِن بَعْدِ الصَّلَةِ ... Detain them both after the Salah (the prayer), According to Al-Awfi who reported it from Ibn Abbas, refers to the `Asr prayer. This is the same explanation reported from Sa`id bin Jubayr, Ibrahim An-Nakhai, Qatadah, Ikrimah and Muhammad bin Sirin. As for Az-Zuhri, he said that; they are detained after Muslim prayer (i.e., in congregation). Therefore, these two witnesses will be detained after a congregational prayer, ... فَيُقْسِمَانِ بِاللّهِ إِنِ ارْتَبْتُمْ ... let them both swear by Allah if you are in doubt. meaning, if you are in doubt that they might have committed treachery or theft, then they should swear by Allah, ... لااَ نَشْتَرِي بِهِ ... We wish not in this, According to Muqatil bin Hayyan, in our vows. ... ثَمَنًا ... for any worldly gain, of this soon to end life. ... وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى ... even though he be our near relative. meaning, if the beneficiary be our near relative, we will still not compromise on the truth. ... وَلاَ نَكْتُمُ شَهَادَةَ اللّهِ ... We shall not hide the testimony of Allah, thus stating that the testimony is Allah's, as a way of respecting it and valuing its significance. ... إِنَّا إِذًا لَّمِنَ الاثِمِينَ for then indeed we should be of the sinful."

معتبر گواہی کی شرائط بعض لوگوں نے اس آیت کے عزیز حکم کو منسوخ کہا ہے لیکن اکثر حضرات اس کے خلاف ہیں اثنان خبر ہے ، اس کی تقدیر شھداۃ اثنین ہے مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ اس کے قائم مقام کر دیا گیا ہے یا دلالت کلام کی بنا پر فعل محذوف کر دیا گیا ہے یعنی ان یشھد اثنان ، ذواعدل صفت ہے ، منکم سے مراد مسلمانوں میں سے ہونا یا وصیت کرنے والے کے اہل میں سے ہونا ہے ، من غیر کم سے مراد اہل کتاب ہیں ، یہ بھی کہا گیا ہے کہ منکم سے مراد قبیلہ میں اور من غیر کم سے مراد اس کے قبیلے کے سوا ، شرطیں دو ہیں ایک مسافر کے سفر میں ہونے کی صورت میں موت کے وقت وصیت کے لیے غیر مسلم کی گواہی چل سکتی ہے ، حضرت شریح سے یہی مروی ہے ، امام احمد بھی یہی فرماتے ہیں اور تینوں امام خلاف ہیں ، امام ابو حنیفہ ذمی کافروں کی گواہی آپس میں ایک دوسرے پر جائز مانتے ہیں ، زہری کا قول ہے کہ سنت جاری ہو چکی ہے کہ کافر کی شہادت جائز نہیں نہ سفر میں نہ حضر میں ۔ ابن زید کہتے ہیں کہ یہ آیت اس شخص کے بارے میں اتری ہے جس کی موت کے وقت اس کے پاس کوئی مسلمان نہ تھا یہ ابتدائے اسلام کا وقت تھا جبکہ زمین کافروں سے بھری تھی اور وصیت سے ورثہ بٹتا تھا ، ورثے کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے ، پھر وصیت منسوخ ہو گئی ورثے کے احکام اترے اور لوگوں نے ان پر عمل درآمد شروع کر دیا ، پھر یہ بھی کہ ان دونوں غیر مسلموں کو وصی بنایا جائے گا یا گواہ؟ حضرت ابن مسعود کا قول ہے کہ یہ حکم اس شخص کے بارے میں ہے جو سفر میں ہو اور وہیں اجل آ جائے اور مال اس کے پاس ہو پس اگر دو مسلمان اسے مل جائیں تو انہیں اپنا مال سونپ دے اور دو گواہ مسلمان مقرر کر لے ، اس قول کے مطابق تو یہ دونوں وصی ہوئے ، دوسرا قول یہ ہے کہ یہ دونوں گواہ ہوں گے ، آیت کے الفاظ کا ظاہر مطلب بھی یہی معلوم ہوتا ہے ، ہاں جس صورت میں ان کے ساتھ اور گواہ نہ ہوں تو یہی وصی ہوں گے اور یہی گواہ بھی ہوں گے امام ابن جریر نے ایک مشکل اس میں یہ بیان کی ہے کہ شریعت کے کسی حکم میں گواہ پر قسم نہیں ۔ لیکن ہم کہتے ہیں یہ ایک حکم ہے جو مستقل طور پر بالکل علیحدہ صورت میں ہے اور احکام کا قیاس اس پر جاری نہیں ہے ، یہ ایک خاص شہادت خاص موقعہ کی ہے اس میں اور بھی بہت سی ایسی باتیں جو دوسرے احکام میں نہیں ۔ پس شک کے قرینے کے وقت اس آیت کے حکم کے مطابق ان گواہوں پر قسم لازم آتی ہے ، نماز کے بعد ٹھہرا لو سے مطلب نماز عصر کے بعد ہے ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ نماز سے مراد مسلمانوں کی نماز ہے ۔ تیسرا قول یہ ہے کہ ان کے مذہب کی نماز ، مقصود یہ ہے کہ انہیں نماز کے بعد لوگوں کی موجودگی میں کھڑا کیا جائے اور اگر خیانت کا شک ہو تو ان سے قسم اٹھوائی جائے وہ کہیں کہ اللہ کی قسم ہم اپنی قسموں کو کسی قیمت بیچنا نہیں چاہتے ۔ دنیوی مفاد کی بنا پر جھوٹی قسم نہیں کھاتے چاہے ہماری قسم سے کسی ہمارے قریبی رشتہ دار کو نقصان پہنچ جائے تو پہنچ جائے لیکن ہم جھوٹی قسم نہیں کھائیں گے اور نہ ہم سچی گواہی چھپائیں گے ، اس گواہی کی نسبت اللہ کی طرف اس کی عزت و عظمت کے اظہار کیلئے ہے بعض نے اسے قسم کی بنا پر مجرور پڑھا ہے لیکن مشہور قرأت پہلی ہی ہے وہ ساتھ ہی یہ بھی کہیں کہ اگر ہم شہادت کو بدلیں یا الٹ پلٹ کریں یا کچھ حصہ چھپالیں تو ہم بھی گنہگار ، پھر اگر یہ مشہور ہو یا ظاہر ہو جائے یا اطلاع مل جائے کہ ان دونوں نے مرنے والے کے مال میں سے کچھ چرا لیا یا کسی قسم کی خیانت کی ۔ اولیان کی دوسری قرأت اولان بھی ہے مطلب یہ ہے کہ جب کسی خبر صحیح سے پتہ چلے کہ ان دونوں نے کوئی خیانت کی ہے تو میت کے وارثوں میں سے جو میت کے زیادہ نزدیک ہوں وہ دو شخص کھڑے ہوں اور حلیفہ بیان دیں کہ ہماری شہادت ہے کہ انہوں نے چرایا اور یہی زیادہ حق زیادہ صحیح اور پوری سچی بات ہے ، ہم ان پر جھوٹ نہیں باندھتے اگر ہم ایسا کریں تو ہم ظالم ، یہ مسئلہ اور قسامت کا مسئلہ اس بارے میں بہت ملتا جلتا ہے ، اس میں بھی مقتول کے اولیاء قسمیں کھاتے ہیں ، تمیم داری سے منقول ہے کہ اور لوگ اس سے بری ہیں صرف میں اور عدی بن بداء اس سے متعلق ہیں ، یہ دونوں نصرانی تھے اسلام سے پہلے ملک شام میں بغرض تجارت آتے جاتے تھے ابن سہم کے مولی بدیل بن ابو مریم بھی مال تجارت لے کر شام کے ملک گئے ہوئے تھے ان کے ساتھ ایک چاندی کا جام تھا ، جسے وہ خاص بادشاہ کے ہاتھ فروخت کرنے کیلئے لے جا رہے تھے ۔ اتفاقاً وہ بیمار ہو گئے ان دونوں کو وصیت کی اور مال سونپ دیا کہ یہ میرے وارثوں کو دے دینا اس کے مرنے کے بعد ان دونوں نے وہ جام تو مال سے الگ کر دیا اور ایک ہزار درہم میں بیچ کر آدھوں آدھ بانٹ لئے باقی مال واپس لا کر بدیل کے رشتہ داروں کو دے دیا ، انہوں نے پوچھا کہ چاندی کا جام کیا ہوا ؟ دونوں نے جواب دیا ہمیں کیا خبر؟ ہمیں تو جو دیا تھا وہ ہم نے تمہیں دے دیا ۔ حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آئے اور اسلام نے مجھ پر اثر کیا ، میں مسلمان ہو گیا تو میرے دل میں خیال آیا کہ یہ انسانی حق مجھ پر رہ جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں میں پکڑا جاؤں گا تو میں بدیل کے وارثان کے پاس آیا اور اس سے کہا پانچ سو درہم جو تو نے لے لئے ہیں وہ بھی واپس کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس سے قسم لی جائے اس پر یہ آیت اتری اور عمرو بن عاص نے اور ان میں سے ایک اور شخص نے قسم کھائی عدی بن بداء کو پانچ سو درہم دینے پڑے ( ترمذی ) ایک روایت میں ہے کہ عدی جھوٹی قسم بھی کھا گیا تھا اور روایت میں ہے کہ اس وقت ارض شام کے اس حصے میں کوئی مسلمان نہ تھا ، یہ جام چاندی کا تھا اور سونے سے منڈھا ہوا تھا اور مکے میں سے جام خریدا گیا تھا جہاں سے ملا تھا انہوں نے بتایا تھا کہ ہم نے اسے تمیم اور عدی سے خریدا ہے ، اب میت کے دو وارث کھڑے ہوئے اور قسم کھائی ، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے ایک روایت میں ہے کہ قسم عصر کی نماز کے بعد اٹھائی تھی ابن جریر میں ہے کہ ایک مسلمان کی وفات کا موقعہ سفر میں آیا ، جہاں کوئی مسلمان اسے نہ ملا تو اس نے اپنی وصیت پر دو اہل کتاب گواہ رکھے ، ان دونوں نے کوفے میں آ کر حضرت ابو موسیٰ اشعری کے سامنے شہادت دی وصیت بیان کی اور ترکہ پیش کیا حضرت ابو موسیٰ اشعری نے فرمایا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ واقعہ پہلا ہے پس عصر کی نماز کے بعد ان سے قسم لی کہ نہ انہوں نے خیانت کی ہے ، نہ جھوٹ بولا ہے ، نہ بدلا ہے ، نہ چھپایا ہے ، نہ الٹ پلٹ کیا ہے بلکہ سچ وصیت اور پورا ترکہ انہوں نے پیش کر دیا ہے آپ نے ان کی شہادت کو مان لیا ، حضرت ابو موسیٰ کے فرمان کا مطلب یہی ہے کہ ایسا واقعہ حضور کے زمانے میں تمیم اور عدی کا ہوا تھا اور اب یہ دوسرا اس قسم کا واقع ہے ، حضرت تمیم بن داری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اسلام سنہ ۹ہجری کا ہے اور یہ آخری زمانہ ہے ۔ سدی فرماتے ہیں لازم ہے کہ موت کے وقت وصیت کرے اور دو گواہ رکھے اگر سفر میں ہے اور مسلمان نہیں ملتے تو خیر غیر مسلم ہی سہی ۔ انہیں وصیت کرے اپنا مال سونپ دے ، اگر میت کے وارثوں کو اطمینان ہو جائے تو خیر آئی گئی بات ہوئی ورنہ سلطان اسلام کے سامنے وہ مقدمہ پیش کر دیا جائے ، اوپر جو واقعہ بیان ہوا اس میں یہ بھی ہے کہ جب حضرت ابو موسیٰ نے ان سے عصر کے بعد قسم لینی چاہی تو آپ سے کہا گیا کہ انہیں عصر کے بعد کی کیا پرواہ؟ ان سے ان کی نماز کے وقت قسم لی جائے اور ان سے کہا جائے کہ اگر تم نے کچھ چھپا یا یا خیانت کی تو ہم تمہیں تمہاری قوم میں رسوا کر دیں گے اور تمہاری گواہی کبھی بھی قبول نہ کی جائے گی اور تمہیں سنگین سزا دی جائے گی ، بہت ممکن ہے کہ اس طرح ان کی زبان سے حق بات معلوم ہو جائے پھر بھی اگر شک شبہ رہ جائے اور کسی اور طریق سے ان کی خیانت معلوم ہو جائے تو مرحوم کے دو مسلمان وارث قسمیں کھائیں کہ ان کافروں کی شہادت غلط ہے تو ان کی شہادت غلط مان لی جائے گی اور ان سے ثبوت لے کر فیصلہ کر دیا جائے گا پھر بیان ہوتا ہے کہ اس صورت میں فائدہ یہ ہے کہ شہادت ٹھیک ٹھیک آ جائے گی ایک تو اللہ کی قسم کا لحاظ ہو گا دوسرے لوگوں میں رسوا ہونے کا ڈر رہے گا ، لوگو! اللہ تعالیٰ سے اپنے سب کاموں میں ڈرتے رہو اس کی باتیں سنتے رہو اور مانتے چلے جاؤ ، جو لوگ اس کے فرمان سے ہٹ جائیں اور اس کے احکام کے خلاف چلیں وہ راہ راست نہیں پاتے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

106۔ 1 تم میں سے ہوں کا مطلب بعض نے یہ بیان کیا ہے کہ مسلمانوں میں سے ہوں اور بعض نے کہا ہے (وصیت کرنے والے) کے قبیلے سے ہوں، اسی طرح (آخران من غيرکم) میں دو مفہوم ہونگے۔ یعنی من غیرکم سے مراد یا غیر مسلم اہل کتاب ہوں گے یا موصی کے قبیلے کے علاوہ کسی اور قبیلے سے۔ 106۔ 2 یعنی سفر میں کوئی ایسا شدید بیمار ہوجائے کہ جسے زندہ بچنے کی امید نہ ہو تو وہ سفر میں دو عادل گواہ بنا کر جو وصیت کرنا چاہے، کر دے۔ 106۔ 3 یعنی مرنے والے موصی کے ورثا کو شک پڑجائے کہ ان اوصیا نے مال میں خیانت یا تبدیلی کی ہے تو نماز کے بعد یعنی لوگوں کی موجودگی میں ان سے قسم لیں اور وہ قسم کھا کے کہیں ہم اپنی قسم کے عوض دنیا کا کوئی فائدہ حاصل نہیں کر رہے ہیں۔ یعنی جھوٹی قسم نہیں کھا رہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٥٤] سیدنا ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ بنو سہم کا ایک آدمی تمیم داری اور عدی کے ساتھ سفر پر نکلا اور یہ سہمی ایسی جگہ مرگیا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا۔ تمیم داری اور عدی اس کا ترکہ لے کر آئے تو سہمی کے وارثوں نے اس میں ایک پیالہ نہ پایا جو چاندی کا تھا اور سونے سے مرصع تھا۔ رسول اللہ نے تمیم اور عدی سے قسم کھانے کو کہا اور وہ قسم کھا گئے کہ (پیالہ ان کے پاس نہیں) پھر وہ پیالہ بازار مکہ سے مل گیا۔ اور انہوں نے کہا کہ ہم نے تمیم داری اور عدی سے خریدا ہے۔ اب سہمی کے وارثوں سے دو شخص کھڑے ہوئے اور اللہ کی قسم کھا کر گواہی دی کہ یہ پیالہ ہمارے ہی آدمی کا ہے اور یہ کہ ہماری گواہی ان دونوں سے زیادہ سچی ہے۔ یہ آیت اسی سلسلہ میں نازل ہوئی۔ (بخاری۔ کتاب الوصایا۔ باب قول اللہ تعالیٰ یٰاایہا الذین آمنوا شھادۃ۔۔ ) چوری کے پیالہ کا مقدمہ :۔ یہ واقعہ جو دور نبوی میں ہوا تھا اس کی کچھ تفصیل تو مندرجہ بالا حدیث میں آگئی ہے تاہم اختصار کی وجہ سے کئی پہلو تشنہ رہ گئے ہیں جو ہم یہاں بیان کریں گے تاکہ بات پوری طرح سمجھ میں آجائے۔ ہوا یہ تھا کہ بنو سہم کا ایک مسلمان، جس کا نام بدیل تھا۔ اپنے دو ساتھیوں تمیم اور عدی کے ساتھ، جو نصرانی تھے اور ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ شام کی طرف ایک تجارتی سفر پر روانہ ہوئے۔ بدیل وہاں شام جا کر بیمار پڑگیا جس سے اسے افاقہ ہوتا نظر نہیں آ رہا تھا۔ اس نے اپنا اثاثہ باندھا اور اپنے ان دونوں ساتھیوں کے حوالہ کردیا۔ اور تاکید کی کہ یہ سامان میرے وارثوں کے حوالہ کردیں۔ اس نے یہ عقلمندی کی کہ چپکے سے اپنے سامان کی ایک فہرست تیار کر کے سامان میں کسی محفوظ جگہ رکھ دی اور اپنے ساتھیوں کو اس کی خبر نہ کی۔ اس سامان میں ایک قیمتی پیالہ تھا جو چاندی کا تھا اور اس پر سونے کا پانی چڑھا ہوا اور نقش و نگار بنے ہوئے تھے۔ ان نصرانیوں نے اس کے مرنے کے بعد جب سامان دیکھا تو ان کی نیت میں فتور آگیا اور یہ پیالہ سامان میں سے چرا لیا۔ جب وہ واپس آئے تو سامان بدیل کے ورثاء کے حوالہ کردیا اور پیالہ بازار میں کسی سنار کے پاس فروخت کردیا۔ ورثاء نے جب سامان کھولا تو اس میں سامان کی فہرست بھی ملی۔ اس کے مطابق سامان چیک کیا تو وہ قیمتی پیالہ ندارد تھا۔ انہوں نے سامان لانے والے ساتھیوں سے پوچھا کہ مرنے والے نے اپنی کوئی چیز فروخت تو نہیں کی تھی ؟ ممکن ہے اسے بیماری کے علاج معالجہ کے لیے ضرورت پڑگئی ہو اور اس نے کچھ سامان بیچ ڈالا ہو ؟ انہوں نے اس کا جواب نفی میں دیا۔ یہ تسلی کرلینے کے بعد ورثاء نے یہ مقدمہ عدالت نبوی میں پیش کردیا۔ آپ نے تمیم اور عدی دونوں کو بلا کر بیان لیا تو وہ کہنے لگے کہ ہمیں اس پیالہ کا کچھ علم نہیں اور قسمیں کھا کر اپنے بیان کی توثیق کی۔ اب چونکہ اس بات کا امکان تھا کہ سامان کی فہرست تیار کرنے کے بعد میت نے وہ پیالہ اپنی ضرورت سے بیچ دیا ہو اور شرعی شہادات پوری نہیں ہو رہی تھیں لہذا آپ نے ان نصرانیوں کو بری قرار دے دیا۔ کچھ مدت بعد بدیل کے وارثوں نے وہی پیالہ ایک سنار کے پاس دیکھ لیا تو اس سے پوچھا کہ یہ پیالہ تم نے کہاں سے لیا ہے ؟ اس نے کہا میں نے یہ تمیم اور عدی سے خریدا ہے۔ چناچہ مدعی دوبارہ یہ مقدمہ آپ کی عدالت میں لے گئے۔ آپ نے پھر نصرانیوں کو بلایا اور ان کے سامنے وارثوں میں سے دو گواہوں نے قسم اٹھا کر گواہی دی کہ یہ پیالہ ہمارے ہی آدمی کا ہے نصرانی اپنی قسم میں جھوٹے ہیں اور ہم اللہ سے ڈرتے ہوئے بالکل صحیح اور سچی گواہی دے رہے ہیں۔ یہ گواہیاں میت کے نہایت قریبی وارثوں کی تھیں جو مسلمان تھے۔ نیز یہ گواہیاں نماز عصر کے بعد قسم کے بعد مسجد میں ہوئی تھیں لہذا آپ نے میت کے وارثوں کے حق میں فیصلہ دے دیا اور نصرانیوں سے اس پیالہ کی قیمت (ایک ہزار درہم) میت کے وارثوں کو دلائی گئی۔ اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں۔ پھر کچھ عرصہ بعد جب ان دونوں نصرانیوں میں سے تمیم نے اسلام قبول کرلیا تو اس نے اعتراف کیا کہ واقعی اس نے جھوٹی قسم کھائی تھی اور جو کچھ اس بارے میں رسول اللہ نے فیصلہ کیا تھا وہ درست تھا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ ۔۔ : ان آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے مسلمانو ! جب تم سفر کی حالت میں ہو اور تم پر موت کے آثار ظاہر ہونے لگیں اور تمہارے پاس کوئی مال یا اثاثہ ہو تو اللہ کا حکم یہ ہے کہ مسلمانوں یا غیر مسلموں میں سے دو عدل و صدق والے آدمیوں کو اس پر گواہ بنادو ۔ جو میت کے وارثوں کے پاس مرنے والے کا سامان پہنچا دیں، اگر ان دونوں گواہوں کے بارے میں میت کے ورثا کو شبہ ہوجائے کہ انھوں نے خیانت کی ہے اور میت کا کچھ مال چھپالیا ہے تو انھیں نماز کے بعد حلف اٹھانے کے لیے روک لیا جائے گا، پھر وہ اللہ کی قسم کھائیں گے اور کہیں گے کہ ہم مال کی وجہ سے اللہ کی جھوٹی قسم نہیں کھائیں گے، چاہے جسے فائدہ پہنچانے کے لیے ہم قسم کھا رہے ہیں وہ ہمارا رشتے دار ہی کیوں نہ ہو اور جس گواہی کا اللہ نے حکم دیا ہے اسے نہیں چھپائیں گے، اگر ہم ایسا کریں تو یقیناً گناہ گاروں میں سے ہوں گے۔ اگر ان دونوں کے قسم کھا لینے کے بعد پتا چل جائے کہ انھوں نے خیانت کی ہے تو میت کے رشتے داروں میں سے دو قریبی رشتے دار آگے بڑھیں گے اور حلف اٹھائیں گے کہ ہم دونوں کی گواہی کہ ان دونوں نے خیانت کی ہے اور جھوٹی قسم کھائی ہے، ان دونوں کی گواہی سے زیادہ قابل قبول ہے اور یہ کہ ہم نے ان پر خیانت کی جو شہادت دی ہے تو اس میں ہم نے ان پر زیادتی نہیں کی، اگر ہم نے زیادتی کی ہے تو یقیناً ہم ظالموں میں سے ہوں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس طرح حلف لینے کی حکمت و مصلحت بیان فرمائی کہ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ گواہ آخرت کے عذاب سے ڈرتے ہوئے امر واقع میں کوئی تبدیلی لائے بغیر گواہی دیں گے اور خیانت کی شکل میں دو قریبی رشتہ داروں سے حلف لینے کی حکمت یہ ہے کہ حالت سفر کے گواہ ڈریں گے کہ اگر ہم نے جھوٹی قسم اٹھائی تو وہ رد کردی جائے گی، کیونکہ قریبی رشتہ دار قسم کھائیں گے اور ہمارا جھوٹ لوگوں کے سامنے ظاہر ہوجائے گا۔ ان آیات کی شان نزول یہ ہے کہ عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ بنو سہم قبیلے کا ایک (مسلم) شخص تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ سفر کے لیے نکلا۔ ( یہ دونوں اس وقت نصرانی تھے) سہمی کو اس سر زمین پر موت آئی جہاں کوئی مسلمان نہ تھا جسے وہ وصیت کرتا، لہٰذا اس نے اپنا سامان تمیم داری اور عدی کے حوالے کردیا، پھر جب وہ دونوں اس کے ترکے کے ساتھ واپس آئے تو ورثا نے دیکھا کہ چاندی کا ایک جام، جس پر سونے کے نقش و نگار بنے ہوئے تھے، غائب ہے۔ (مقدمہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچ گیا) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمیم داری اور عدی سے قسم لی ( اور انھیں چھوڑ دیا) بعد میں وہ جام مکہ میں ملا، ان لوگوں نے ( جن کے پاس سے وہ جام ملا تھا) کہا کہ ہم نے اسے تمیم اور عدی بن بداء سے خریدا ہے، پھر اس سہمی کے ورثا میں سے دو آدمی کھڑے ہوئے اور انھوں نے گواہی دی کہ یقیناً یہ جام ہمارے قریبی رشتے دار، یعنی سہمی کا جام ہے، چناچہ یہ آیت انھی کے بارے میں نازل ہوئی : (يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِيْنَ الْوَصِيَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ ) [ المائدۃ : ١٠٦ ] [ بخاری، الوصایا، باب قول اللہ عزوجل : ( یایھا الذین اٰمنوا شھادۃ بینکم۔۔ ) : ٢٧٨ ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Sequence of Verses Prior to this, there were injunctions relevant to religious considera¬tions. Now some injunctions relevant to worldly considerations have been mentioned. The hint given is that the way Allah Ta` ala, in His mercy, helps His servants with better life in the Hereafter, He also takes care of better sustenance for them in the present world. (Bayan al-Qur&an) The Background of Revelation The event in the background of the revelation of the cited verses is that Budayl, a Muslim accompanied by Tamim and ` Adiyy, who were Christians at that time, travelled to Syria on a business visit. After reaching Syria, Budayl became sick. He made out a list of his things in writing and put it in his baggage. He did not inform his compan¬ions of the trip about it. When his sickness became serious, he called his Christian trip companions and made a will before them that they should deliver everything to his heirs. When they returned, they delivered everything to them. But, they took out a silver bowl which was polished with gold, or had gold inlay work on it, from the belongings. When the heirs found the list of things in the baggage left for them by the deceased, they asked the caretakers of the will if the deceased had sold something from the property, or was he very sick which may have compelled him to make unusual expenses. They answered their in¬quiry in the negative. Finally, the case came up for hearing before the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Since the heirs had no witnesses, the two Christians were put under oath. They declared that they had neither committed any breach of trust in what belonged to the deceased, nor had they hidden any of his things. In the end, based on the oath, the verdict was given in their favour. After the passage of some time, it was found that the two of them had sold that bowl to a goldsmith in Makkah. When asked, they said that they had bought it from the de-ceased. Since they had no witnesses at the time of purchase, they pleaded, they did not mention it earlier lest they be falsified. The heirs of the deceased appealed in the court of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) Now, contrary to the earlier situation, the executers of the will were claiming to have purchased the missing item while the heirs were denying it. In view of the absence of evidence, two persons closest of the deceased gave a sworn statement that the bowl was owned by the deceased and that the two Christians were liars in their oath. So, the amount of money for which they had sold it (1, 000 Dir¬hams) was made to be handed over to the heirs. Commentary &These verses are meant to give general instructions to the Muslims with regard to making will before death. The advice given is that the will should be evidenced by witnesses, so that they may prove the will in case of a dispute after the death of the testator. It has also been advised that two pious Muslims are chosen for witnessing the will. However, if the Muslim witnesses are not available, non-Muslim witnesses may also serve the purpose. The words &two witnesses from you|" signi¬fy the preference of Muslim witnesses, but the following words |"or of two others not from you|" point out to the permissibility of non-Muslim witnesses. Then, the words |"if you have some doubt|" refers to a situation where the legal heirs of the deceased have a claim against the execu¬tors of the will, as in the case of Budayl the heirs claimed that a bowl of silver was delivered by the deceased to the executors. Since, in this case the heirs are the plaintiffs, they should produce witnesses to prove their claim, but on their failure to do so, the defendants, i.e. the trustees are required to declare on oath that they did not commit any breach of trust. For that purpose, the Holy Qur&an advises the judge by saying, you shall detain them after the prayer, and they shall swear. Although it is not legally compulsory to take this oath in the mosque after a prayer, yet the Holy Qur&an has advised to take oath after a prayer, so that the sanctity of time and place may further per¬suade the people to give a truthful statement. In the next verse the Holy Qur&an says, |"Then, if it is discovered that the two had rendered themselves liable to a sin...|" It means that they had given a false evidence, as in the case of Budayl they themselves admitted that the bowl was purchased by them which implied that the property of Budayl contained a bowl and their earlier testimony was false. At this stage they claimed that they had purchased the bowl from Budayl. They should have substantiated this claim by witnesses, but they failed to do so, therefore, the oath was given to the legal heirs of Budayl that no such sale took place to the best of their knowledge. It is this oath of the heirs which has been mentioned in the verse by saying, |"then, in their place shall stand two others closest of those whose right has been taken away and they shall swear by Allah...|" Some Rulings 1. The person with whom the deceased leaves his or her property in trust with the request that it be given to someone is called Wasiyy (authorized guardian, executor, trustee, caretaker; plural: Awsiya& ). A Wasiyy can be one individual, or more. 2. That a Wasiyy should be Muslim and just, is better but not nec¬essary, no matter whether the will is being made in journey or at home. 3. In a dispute, the complainant is called the Mudda&i (plaintiff) while the other party is Mudda` a ` alayh (respondent). 4. Witnesses from the Plaintiff are taken first. If he presents them as recognized under the legal norms set by the Shari’ ah of Islam, the case is decided in his favour. If he cannot do that, the Respondent is put on oath and the case is decided in his favour. However, if he de¬nies it, the Plaintiff wins the case. 5. Taking oath at a particular time or place in order to make it more emphatic, as done in the cited verse, depends on the opinion of the judge - it is not required compulsorily. Its compulsory nature is not proved from this verse too, while the converse is proved from other verses and Hadith reports. The Witness of a Kafir is Acceptable in the case of another Kafir In the opening words of the verse (106): يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ translat¬ed as : ` when death draws near one of you, that is, at the time of mak¬ing a will, the evidence (recognized) between you shall be of two just witnesses from among you, or of two others not from you,& Muslims have been commanded that at the time death draws near one of them, they should appoint two good and just men from among them as their Wasiyy (executor of the will), and if they do not have such people from their own, then, they can have two others (that is, from disbelievers). It is from here that Imam Abu Hanifah has deduced the ruling that the witness given by disbelievers for each other is permissible. Since the witness of the disbelievers has been declared permissible in the case of Muslims in this verse, as obvious from: أَوْ آخَرَ‌انِ مِنْ غَيْرِ‌كُمْ (or of two others not from you), so the witness of disbelievers for each other is permissible as more suited. But, later on, the witness of the disbeliev¬ers for Muslims was abrogated under the authority of the verse: وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِن رِّ‌جَالِكُمْ (And have two witnesses from among your men - 2:282). But, the evidence of disbelievers for each other remains valid as it was. (Qurtubi & Al-Ahkam Al-Qur&an by Jassas) The support for the position of Imam Abu Hanifah (رح) also comes from what a Hadith says about a Jew who had committed Zina (adultery). His people smeared his face with black soot and produced him before the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Looking at his condition, he asked for the reason. They told him that the man had committed adultery (Zina). After hearing the testimony of the witnesses, he gave orders that he be stoned to death (Rajm). (Jassas) Two Words, Two Rules 1. The word, تَحْبِسُونَهُمَا (You shall detain them) in the context of this verse (106) tells us that a person who (genuinely) owes something to someone (having the right of return), the later can have him detained for the retrieval of his right, if and when needed. (Qurtubi) The word, |"Salah|" in: مِن بَعْدِ الصَّلَاةِ (after the prayer) means the Sa¬lah or prayer of عَصر ` Asr. That this time has been chosen is because the people of the Book held it in esteem. Telling a lie at this time was par¬ticularly prohibited among them. This tells us that the placing of the restriction of special time or place for taking a solemn and sacred oath (Taghliz) is permissible. (Qurtubi)

ربط آیات اوپر مصالح دینیہ کے متعلق احکام تھے، آگے مصالح دنیویہ کے متعلق بعض احکام کا ذکر کیا گیا ہے، اور اس میں اشارہ کردیا کہ حق تعالیٰ اپنی رحمت سے مثل اصلاح معاد کے اپنے بندوں کی معاش کی اصلاح بھی فرماتے ہیں (بیان القرآن) شان نزول آیات مذکورہ کے نزول کا واقعہ یہ ہے کہ ایک شخص ” بُدیل “ نامی جو مسلمان تھا دو شخصوں تمیم و عدی کے ساتھ جو اس وقت نصرانی تھے۔ بغرض تجارت ملک شام کی طرف گیا، شام پہنچ کر بدیل بیمار ہوگیا، اس نے اپنے مال کی فہرست لکھ کر اسباب میں رکھ دی، اور اپنے دونوں رفیقوں کو اطلاع نہ کی، مرض جب زیادہ بڑھا، تو اس نے دونوں نصرانی رفقاء کو وصیت کی کہ کل سامان میرے وارثوں کو پہنچا دینا۔ انہوں نے سب سامان لاکر وارثوں کے حوالہ کردیا، مگر چاندی کا ایک پیالہ جس پر سونے کا ملمع یا نقش ونگار تھا اس میں سے نکال لیا، وارثوں کو فہرست اسباب میں سے دستیاب ہوئی۔ انہوں نے اوصیا سے پوچھا کہ میّت نے کچھ مال فروخت کیا تھا یا کچھ زیادہ بیمار رہا کہ معالجہ وغیرہ میں خرچ ہوا ہو۔ ان دونوں نے اس کا جواب نفی میں دیا، آکر معاملہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عدالت میں پیش ہوا، چونکہ وارثوں کے پاس گواہ نہ تھے تو ان دونوں نصرانیوں سے قسم لی گئی کہ ہم نے میّت کے مال میں کسی طرح کی خیانت نہیں کی، نہ کوئی چیز اس کی چھپائی، آخر قسم پر فیصلہ ان کے حق میں کردیا گیا، کچھ مدت کے بعد ظاہر ہوا کہ وہ پیالہ ان دونوں نے مکہ میں کسی سنار کے ہاتھ فروخت کیا ہے، جب سوال ہوا تو کہنے لگے کہ ہم نے میّت سے خرید لیا تھا، چونکہ خریداری کے گواہ موجود نہ تھے اس لئے ہم نے پہلے اس کا ذکر نہیں کیا، مبادا ہماری تکذیب کردی جائے۔ میّت کے وارثوں نے پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف رجوع کیا، اب پہلی صورت کے برعکس اوصیا خریداری کے مدعی اور وارث منکر تھے، شہادت موجود نہ ہونے کی وجہ سے وارثوں میں سے دو شخصوں نے جو میّت سے قریب تر تھے قسم کھائی کہ پیالہ میّت کی ملک تھا، اور یہ دونوں نصرانی اپنی قسم میں جھوٹے ہیں۔ چناچہ جس قیمت پر انہوں نے فروخت کیا تھا (ایک ہزار درہم پر) وہ وارثوں کو دلائی گئی۔ خلاصہ تفسیر اے ایمان والو تمہارے آپس (کے معاملات) میں (مثلاً ورثا کو مال سپرد کرنے کے لئے) دو شخص وصی ہونا مناسب ہے (گو بالکل وصی نہ بنانا بھی جائز ہے) جب تم میں سے کسی کو موت آنے لگے (یعنی) جب وصیت کرنے کا وقت ہو (اور) وہ دو شخص ایسے ہوں کہ دیندار ہوں اور تم میں سے (یعنی مسلمانوں میں سے) ہوں یا غیر قوم کے دو شخص ہوں اگر (مسلمان نہ ملیں مثلاً ) تم کہیں سفر میں گئے ہو پھر تم پر واقعہ موت کا پڑجائے (اور یہ سب امور واجب نہیں، مگر مناسب اور بہتر ہیں، ورنہ جس طرح بالکل وصی نہ بنانا جائز ہے اسی طرح اگر ایک وصی ہو یا عادل نہ ہو یا حضر میں غیر مسلم کو بنا دے سب جائز ہے، پھر ان اوصیاء کا یہ حکم ہے کہ) اگر (کسی وجہ سے ان پر) تم کو (اے ورثاء) شبہ ہو تو (اے احکام مقدمہ اس طرح فیصل کرو کہ اول ورثاء سے چونکہ وہ مدعی ہیں اس امر پر گواہ طلب کرلو کہ انہوں نے فلاں چیز مثلاً جام لے لیا ہے، تو جھوٹی قسم کھانے والا کچھ نہ کچھ شرماتا ہے، نیز وقت بھی معظم ہے، کچھ اس کا بھی خیال ہوتا ہے، اور مقصود اس سے تغلیظ یمین کی ہے، زمان متبرک و مکان اجتماع خلق کے ساتھ) پھر دونوں (اس طرح) خدا کی قسم کھا دیں کہ (صیغہ حلف کے ساتھ یہ کہیں کہ) ہم اس قسم کے عوض کوئی (دنیا) کا نفع نہیں لینا چاہتے (کہ دنیا کا نفع حاصل کرنے کے لئے قسم میں سچ بولنے کو چھوڑ دیں) اگرچہ (اس واقعہ میں ہمارا) کوئی قرابت دار بھی (کیوں نہ) ہوتا (جس کی مصلحت کو اپنی مصلحت سمجھ کر ہم جھوٹی قسم کھاتے اور اب تو کوئی ایسا بھی نہیں، جب دوہری مصلحتوں کی وجہ سے بھی ہم جھوٹ نہ بولتے تو ایک مصلحت کے لئے تو ہم کیوں ہی جھوٹ بولیں گے) اور اللہ کی (طرف سے جس) بات (کہنے کا حکم ہے اس) کو ہم پوشیدہ نہ کریں گے (ورنہ) ہم (اگر ایسا کریں تو) اس حالت میں سخت گنہگار ہوں گے (یہ تغلیظ قولی ہے جس سے مقصود استحضار ہے وجوب صدق و حرمت کذب و عظمت الٓہیہ کا جو مانع ہو دروغ حلفی سے، اب ان دونوں تغلیظ کے بعد اگر حاکم کی رائے ہو تو بلا تغلیظ اصل مضمون کی قسم کھاویں، مثلاً ہم کو میّت نے پیالہ نہیں دیا، اور اس پر مقدمہ فیصل کردینا چاہئے، چناچہ اس آیت کے واقعہ میں ایسا ہی ہوا) پھر (اس کے بعد) اگر (کسی طریق سے ظاہراً ) اس کی اطلاع ہو کہ وہ دونوں وصی کسی گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں (مثلاً واقعہ آیت میں جس کو پہلے ذکر کردیا گیا ہے، جب پیالہ مکہ میں ملا اور دونوں وصیوں نے دریافت کرنے پر میّت سے خریدنے کا دعویٰ کیا جس سے میّت سے لے لینے کا اقرار لازم آتا ہے۔ اور وہ ان کے پہلے قول کا مخالف ہے، جس میں مطلقاً لینے ہی سے انکار کیا تھا، چونکہ اقرار بالمضر حجت ہے، اس لئے ظاہراً ان کا خائن اور کاذب ہونا معلوم ہوا) تو (ایسی صورت میں مقدمہ کا رخ بدل جائے گا، وصی جو کہ پہلے مدعا علیہ تھے اب خریدنے کے مدعی ہوگئے اور ورثاء جو کہ پہلے مدعی خیانت کے تھے اب مدعا علیہ ہوگئے، اس لئے اب فیصلہ کی یہ صورت ہوگئی کہ اول وصیوں سے گواہ خریدنے کے طلب کئے جائیں، اور جب وہ گواہ پیش نہ کرسکیں تو) ان (وارث) لوگوں میں سے جن کے مقابلہ میں (ان اوصیاء کی جانب سے) گناہ (مذکور) کا ارتکاب ہوا تھا اور (جو کہ شرعاً مستحق میراث ہوں مثلاً صورت واقعہ آیت میں) دو شخص (تھے) جو سب (ورثہ) میں باعتبار (استحقاق میراث) قریب تر ہیں جہاں (حلف کے لئے) وہ دونوں (اس طرح) خدا کی قسم کھاویں کہ (صیغہ حلف کے ساتھ یہ کہیں کہ) بالیقین ہماری یہ قسم (بوجہ اس کے کہ بالکل اشتباہ سے ظاہراً و حقیقتا پاک ہے) ان دونوں (اوصیاء) کی اس قسم سے زیادہ راست ہے (کیونکہ اس کی حقیقت کا گو ہم کو علم نہیں، لیکن ظاہراً تو وہ مشتبہ ہوگئی) اور ہم نے (حق سے) ذرا تجاوز نہیں کیا (ورنہ) ہم (اگر ایسا کریں تو) اس حالت میں سخت ظالم ہوں گے (کیونکہ پرایا مال جان بوجھ کر بلا اجازت لے لینا ظلم ہے، یہ بھی تغلیظ ہے، جو حاکم کی رائے پر ہے، پھر اصل مضمون پر قسم لی جائے، جس کا صیغہ بوجہ اس کے کہ فعل غیر پر ہے یہ ہوگا کہ خدا کی قسم ہمارے علم میں میّت نے ان مدعیوں کے ہاتھ جام فروخت نہیں کیا، اور چونکہ علم کی واقعیت و عدم واقعیت کی کوئی ظاہری سبیل نہیں ہوسکتی، اس لئے اس کی واقعیت پر زیادہ موکد قسم لی گئی، جیسا لفظ احق دال ہے، جس کا حاصل یہ ہوا کہ اس کا مدار چونکہ میرے ہی اوپر ہے اس لئے قسم کھاتا ہوں کہ جیسا اس میں کذب ظاہری کا ثبوت نہیں ہوسکتا اسی طرح حقیقت میں کذب بھی نہیں ہے، اور یہ قرینہ مفید ہے کہ یہاں حلف علم پر ہے، اور چونکہ اس کا کذب بلا اقرا کبھی ثابت نہیں ہوسکتا، اس لئے اس میں جو حق تلفی ہوگی وہ اشد درجہ کا ظلم ہوگا، عجب نہیں کہ یہاں ظالمین اس لئے کہا گیا ہو) یہ (قانون جو مجموعہ آیتین میں مذکور ہوا) بہت قریب ذریعہ ہے اس امر کا کہ وہ (اوصیاء) لوگ واقعہ کو ٹھیک طور پر ظاہر کریں (اگر سپردگی مال زائد کی نہیں ہوئی قسم کھالیں، اور اگر ہوئی ہے تو گناہ سے ڈر کر انکار کردیں، یہ حکمت تو تحلیف اوصیاء میں ہے) یا اس بات سے ڈر (کر قسم کھانے سے رک) جائیں کہ ان سے قسم لینے کے بعد (ورثا پر) قسمیں متوجہ کی جائیں گی (پھر ہم کو خفیف ہونا پڑے گا، یہ حکمت تحلیف ورثا میں ہے، اور ان سب شقوق میں حق دار کو اس کا حق پہنچایا ہے کہ جو مشروع و مطلوب ہے، کیونکہ اگر تخلیف اوصیاء مشروع نہ ہوتا اور اوصیاء مال کے سپرد کرنے میں سچے ہوتے تو ان کی تہمت رفع کرنے کا کوئی طریقہ نہ ہوتا۔ اور اگر وہ چھوٹے ہوتے تو ورثاء کے اثباتِ حق کا کوئی طریقہ نہ ہوتا۔ اور اب سچے ہونے کے وقت براءة کا حق ثابت ہوجاتا ہے، اور اگر تحلیف ورثاء مشروع نہ ہوتا اور شرعاً انکا حق ہوتا تو اثباتِ حق کی کوئی صورت نہ تھی۔ اور اگر شرعاً انکا حق نہ ہوتا تو اوصیاء کے اثباتِ حق کا کوئی طریقہ نہ تھا، اور اب ورثاء کا حق ہونے کے وقت ان کا اثباتِ حق ہوسکتا ہے، اور حق نہ ہونے کے وقت قسم کے انکار سے اوصیاء کا حق ثابت ہوجائے گا۔ پس دو شقیں تحلیف ورثاء کی حکمت میں ہیں، اور (آیت) یاتوا بالشھادة۔ دونوں کو شامل ہے اور دو شقیں تحلیف ورثاء کی حکمت میں ہیں، جن میں سے دوسری شق تو تحلیف اوصیاء کی پہلی شق میں متداخل ہے اور پہلی شق او یخافوا کی مدلول ہے، پس مجموعہ ہر دو تحلیف میں سب شقوق کی رعایت ہوگئی) اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو (اور معاملات و حقوق میں جھوٹ مت بولو) اور (ان کے احکام کو) سنو (یعنی مانو) اور (اگر خلاف کرو گے تو فاسق ہوجاؤ گے) اللہ تعالیٰ فاسق لوگوں کو (قیامت کے روز فرمانبرداروں کے درجات کی طرف) رہنمائی نہ کریں گے (بلکہ نجات پانے کے وقت بھی ان سے کم رہیں گے تو ایسا خسارہ کیوں گوارا کرتے ہو) ۔ معارف و مسائل مسئلہ ١: میّت جس شخص کو مال سپرد کرکے اس کے متعلق کسی کو دینے دلانے کیلئے کہہ جاوے وہ وصی ہے، اور وصی ایک شخص بھی ہوسکتا ہے، اور زیادہ بھی۔ مسئلہ ٢: وصی کا مسلمان اور عادل ہونا خواہ حالت سفر ہو یا حضر افضل ہے لازم نہیں۔ مسئلہ ٣: نزاع میں جو امر زائد کا مثبت ہو وہ مدعی اور دوسرا مدعا علیہ کہلاتا ہے۔ مسئلہ ٤: اوّل مدعی سے گواہ لئے جاتے ہیں، اگر موافق ضابطہ شرعی کے پیش کردے، مقدمہ وہ پاتا ہے، اور اگر پیش نہ کرسکے تو مدعا علیہ سے قسم لی جاتی ہے اور مقدمہ وہ پاتا ہے، البتہ اگر قسم سے انکار کر جائے تو پھر مدعی مقدمہ پالیتا ہے۔ مسئلہ ٥: قسم کی تغلیظ زمان یا مکان کے ساتھ جیسا کہ آیت مذکورہ میں کی گئی ہے، حاکم کی رائے پر ہے، لازم نہیں، اس آیت سے بھی لزوم ثابت نہیں ہوتا اور دوسری آیات و روایات سے اطلاق ثابت ہے۔ مسئلہ ٦: اگر مدعا علیہ کسی غیر کے فعل کے متعلق قسم کھاوے تو الفاظ یہ ہوتے ہیں کہ مجھ کو اس فعل کی اطلاع نہیں۔ مسئلہ ٧: اگر میراث کے مقدمہ میں وارث مدعا علیہ ہوں تو جن کو شرعاً میراث پہنچتی ہے ان پر قسم آوے گی خواہ وہ واحد ہو یا متعدد اور جو وارث نہیں ان پر قسم نہ ہوگی (بیان القرآن) ۔ ایک کافر کی شہادت دوسرے کافر کے معاملہ میں قابل قبول ہے (قولہ تعالیٰ ) يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ (الی قولہ) اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَيْرِكُمْ ، اس آیت میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت آنے لگے تو دو ایسے آدمیوں کو وصی بناؤ جو تم میں سے ہوں اور نیک ہوں اور اگر اپنی قوم کے آدمی نہیں ہیں تو غیر قوم (یعنی کافر) سے بناؤ۔ اس سے امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ نے یہ مسئلہ استنباط کیا ہے کہ کفار کی شہادت بعض کی بعض سے جائز ہے، کیونکہ اس آیت میں کفار کی شہادت مسلمانوں پر جائز قرار دی ہے، جیسا کہ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَيْرِكُمْ ، سے ظاہر ہے تو کفار کی شہادت بعض کی بعض پر بطرق اولیٰ جائز ہے، لیکن بعد میں (آیت) یایھا الذین امنوا اذا تداینتم بدین، سے کفار کی بعض کی بعض پر اسی طرح باقی ہے (قرطبی، احکام القرآن للجصّاص) ۔ امام صاحب کے مسلک کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ ایک یہودی نے زنا کرلیا تو اس کے لوگوں نے اس کا چہرہ سیاہ کرکے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دربار میں پیش کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی حالت دیکھ کر وجہ دریافت فرمائی تو انہوں نے کہا کہ اس نے زنا کیا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گواہوں کی شہادت کے بعد اس کو رجم کرنے کا حکم دیا (جصاص) جس شخص پر کسی کا حق ہو وہ اس کو قید کرا سکتا ہے (قولہ تعالیٰ ) تَحْبِسُوْنَهُمَا، اس آیت سے ایک اصول معلوم ہوا کہ جس آدمی پر کسی کا کوئی حق واجب ہو اس کو اس حق کی خاطر ضرورت کے وقت قید کیا جاسکتا ہے (قرطبی) (قولہ تعالیٰ ) مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوة (صلوٰة سے عصر کی نماز مراد ہے، اس وقت کو اختیار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت کی تعظیم اہل کتاب بہت کرتے تھے، جھوٹ بولنا ایسے وقت میں خصوصاً ان کے ہاں ممنوع تھا، اس سے معلوم ہوا کہ قسم میں کسی خاص وقت یا خاص مقام وغیرہ کی قید لگا کر تغلیظ کرنا جائز ہے (قرطبی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا شَہَادَۃُ بَيْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِيْنَ الْوَصِيَّۃِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَيْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِيْبَۃُ الْمَوْتِ۝ ٠ۭ تَحْبِسُوْنَہُمَا مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوۃِ فَيُقْسِمٰنِ بِاللہِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِيْ بِہٖ ثَـمَنًا وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى۝ ٠ۙ وَلَا نَكْتُمُ شَہَادَۃَ۝ ٠ۙ اللہِ اِنَّآ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِيْنَ۝ ١٠٦ شهد وشَهِدْتُ يقال علی ضربین : أحدهما جار مجری العلم، وبلفظه تقام الشّهادة، ويقال : أَشْهَدُ بکذا، ولا يرضی من الشّاهد أن يقول : أعلم، بل يحتاج أن يقول : أشهد . والثاني يجري مجری القسم، فيقول : أشهد بالله أنّ زيدا منطلق، فيكون قسما، ومنهم من يقول : إن قال : أشهد، ولم يقل : بالله يكون قسما، ( ش ھ د ) المشھود والشھادۃ شھدت کا لفظ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ ( 1) علم کی جگہ آتا ہے اور اسی سے شہادت ادا ہوتی ہے مگر اشھد بکذا کی بجائے اگر اعلم کہا جائے تو شہادت قبول ہوگی بلکہ اشھد ہی کہنا ضروری ہے ۔ ( 2) قسم کی جگہ پر آتا ہے چناچہ اشھد باللہ ان زید ا منطلق میں اشھد بمعنی اقسم ہے بين بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر فيه معنی الانفصال والظهور استعمل في كلّ واحد منفردا، فقیل للبئر البعیدة القعر : بَيُون، لبعد ما بين الشفیر والقعر لانفصال حبلها من يد صاحبها . ( ب ی ن ) البین کے معنی دو چیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں : ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی ۔ محاورہ ہے بان کذا کسی چیز کا الگ ہوجانا اور جو کچھ اس کے تحت پوشیدہ ہو ، اس کا ظاہر ہوجانا ۔ چونکہ اس میں ظہور اور انفصال کے معنی ملحوظ ہیں اس لئے یہ کبھی ظہور اور کبھی انفصال کے معنی میں استعمال ہوتا ہے حضر الحَضَر : خلاف البدو، والحَضَارة والحِضَارَة : السکون بالحضر، کالبداوة والبداوة، ثمّ جعل ذلک اسما لشهادة مکان أو إنسان أو غيره، فقال تعالی: كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ البقرة/ 180] ، نحو : حَتَّى إِذا جاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ الأنعام/ 61] ، وَإِذا حَضَرَ الْقِسْمَةَ [ النساء/ 8] ( ح ض ر ) الحضر یہ البدو کی ضد ہے اور الحضارۃ حاد کو فتحہ اور کسرہ دونوں کے ساتھ آتا ہے جیسا کہ بداوۃ وبداوۃ اس کے اصل شہر میں اقامت کے ہیں ۔ پھر کسی جگہ پر یا انسان وگیرہ کے پاس موجود ہونے پر حضارۃ کا لفظ بولاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ البقرة/ 180] تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت کا وقت آجائے ۔ وَإِذا حَضَرَ الْقِسْمَةَ [ النساء/ 8] اور جب تم میراث کی تقسیم کے وقت ۔۔۔ آمو جود ہوں ۔ موت أنواع الموت بحسب أنواع الحیاة : فالأوّل : ما هو بإزاء القوَّة النامية الموجودة في الإنسان والحیوانات والنّبات . نحو قوله تعالی: يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] ، وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] . الثاني : زوال القوّة الحاسَّة . قال : يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا [ مریم/ 23] ، أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] . الثالث : زوال القوَّة العاقلة، وهي الجهالة . نحو : أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] ، وإيّاه قصد بقوله : إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/ 80] . الرابع : الحزن المکدِّر للحیاة، وإيّاه قصد بقوله : وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكانٍ وَما هُوَ بِمَيِّتٍ [إبراهيم/ 17] . الخامس : المنامُ ، فقیل : النّوم مَوْتٌ خفیف، والموت نوم ثقیل، وعلی هذا النحو سمّاهما اللہ تعالیٰ توفِّيا . فقال : وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] ( م و ت ) الموت یہ حیات کی ضد ہے لہذا حیات کی طرح موت کی بھی کئی قسمیں ہیں ۔ اول قوت نامیہ ( جو کہ انسان حیوانات اور نباتات ( سب میں پائی جاتی ہے ) کے زوال کو موت کہتے ہیں جیسے فرمایا : ۔ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] اور اس پانی سے ہم نے شہر مردہ یعنی زمین افتادہ کو زندہ کیا ۔ دوم حس و شعور کے زائل ہوجانے کو موت کہتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا ۔ يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا[ مریم/ 23] کاش میں اس سے پہلے مر چکتی ۔ أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] کہ جب میں مرجاؤں گا تو کیا زندہ کر کے نکالا جاؤں گا ۔ سوم ۔ قوت عاقلہ کا زائل ہوجانا اور اسی کا نام جہالت ہے چناچہ فرمایا : ۔ أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/ 80] کچھ شک نہیں کہ تم مردوں کو بات نہیں سنا سکتے ۔ چہارم ۔ غم جو زندگی کے چشمہ صافی کو مکدر کردیتا ہے چنانچہ آیت کریمہ : ۔ وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكانٍ وَما هُوَبِمَيِّتٍ [إبراهيم/ 17] اور ہر طرف سے اسے موت آرہی ہوگی ۔ مگر وہ مرنے میں نہیں آئے گا ۔ میں موت سے یہی مینٍ مراد ہیں ۔ پنجم ۔ موت بمعنی نیند ہوتا ہے اسی لئے کسی نے کہا ہے کہ النوم موت خفیف والموت نوم ثقیل کہ نیند کا نام ہے اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو توفی سے تعبیر فرمایا ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] اور وہی تو ہے جو ارت کو تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے وصی الوَصِيَّةُ : التّقدّمُ إلى الغیر بما يعمل به مقترنا بوعظ من قولهم : أرض وَاصِيَةٌ: متّصلة النّبات، ويقال : أَوْصَاهُ ووَصَّاهُ. قال تعالی: وَوَصَّى بِها إِبْراهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ [ البقرة/ 132] وقرئ : وأَوْصَى ( و ص ی ) الوصیۃ : واقعہ پیش آنے سے قبل کسی کو ناصحانہ انداز میں ہدایت کرنے کے ہیں اور یہ ارض واصیۃ کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی پیوستہ گیا ہ یعنی باہم گھتی ہوئی گھاس والی زمین کے ہیں اور اوصاہ ووصا کے معنی کسی کو وصیت کرنے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَوَصَّى بِها إِبْراهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ [ البقرة/ 132] اور ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو اس بات کی وصیت کی اور یعقوب (علیہ السلام) نے بھی ۔ ایک قرات میں اوصی ہے ۔ ذو ذو علی وجهين : أحدهما : يتوصّل به إلى الوصف بأسماء الأجناس والأنواع، ويضاف إلى الظاهر دون المضمر، ويثنّى ويجمع، ويقال في المؤنّث : ذات، وفي التثنية : ذواتا، وفي الجمع : ذوات، ولا يستعمل شيء منها إلّا مضافا، قال : وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] ، وقال : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى [ النجم/ 6] ، وَذِي الْقُرْبى [ البقرة/ 83] ، وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ [هود/ 3] ، ذَوِي الْقُرْبى وَالْيَتامی [ البقرة/ 177] ، إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ [ الأنفال/ 43] ، وَنُقَلِّبُهُمْ ذاتَ الْيَمِينِ وَذاتَ الشِّمالِ [ الكهف/ 18] ، وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ [ الأنفال/ 7] ، وقال : ذَواتا أَفْنانٍ [ الرحمن/ 48] ، وقد استعار أصحاب المعاني الذّات، فجعلوها عبارة عن عين الشیء، جو هرا کان أو عرضا، واستعملوها مفردة ومضافة إلى المضمر بالألف واللام، وأجروها مجری النّفس والخاصّة، فقالوا : ذاته، ونفسه وخاصّته، ولیس ذلک من کلام العرب . والثاني في لفظ ذو : لغة لطيّئ، يستعملونه استعمال الذي، ويجعل في الرفع، والنصب والجرّ ، والجمع، والتأنيث علی لفظ واحد نحو : وبئري ذو حفرت وذو طویت ( ذ و ) ذو ( والا ۔ صاحب ) یہ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ( 1) اول یہ کہ اسماء اجناس وانوع کے ساتھ توصیف کے لئے اسے ذریعہ بنایا جاتا ہے ۔ اس صورت میں اسم ضمیر کیطرف مضاف نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ اسم ظاہر کی طرف مضاف ہوتا ہے اور اس کا تنثیہ جمع بھی آتا ہے ۔ اور مونث کے لئے ذات کا صیغہ استعمال ہوتا ہے اس کا تثنیہ ذواتا اور جمع ذوات آتی ہے ۔ اور یہ تمام الفاظ مضاف ہوکر استعمال ہوتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] لیکن خدا اہل عالم پر بڑا مہرابان ہے ۔ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى [ النجم/ 6] ( یعنی جبرئیل ) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے ۔ وَذِي الْقُرْبى [ البقرة/ 83] اور رشتہ داروں ۔ وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ [هود/ 3] اور ہر ساحب فضل کو اسکی بزرگی ( کی داو ) دیگا ۔ ذَوِي الْقُرْبى وَالْيَتامی [ البقرة/ 177] رشتہ داروں اور یتیموں ۔ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ [ الأنفال/ 43] تو دلوں تک کی باتوں سے آگاہ ہے ۔ وَنُقَلِّبُهُمْ ذاتَ الْيَمِينِ وَذاتَ الشِّمالِ [ الكهف/ 18] اور ہم ان کو دائیں اور بائیں کروٹ بدلاتے ہیں ۔ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ [ الأنفال/ 7] اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بےشان و شوکت ( یعنی بےہتھیار ) ہے وہ تمہارے ہاتھ آجائے ۔ ذَواتا أَفْنانٍ [ الرحمن/ 48] ان دونوں میں بہت سے شاخیں یعنی قسم قسم کے میووں کے درخت ہیں ۔ علمائے معانی ( منطق وفلسفہ ) ذات کے لفظ کو بطور استعارہ عین شے کے معنی میں استعمال کرتے ہیں اور یہ جو ہر اور عرض دونوں پر بولاجاتا ہے اور پھر کبھی یہ مفرد یعنی بدون اضافت کت استعمال ہوتا ہے ۔ اور کبھی اسم ضمیر کی طرف مضاف ہو کر اور کبھی معرف بلالم ہوکر ۔ اور یہ لفظ بمنزلہ نفس اور خاصہ کے بولا جاتا ہے ۔ اور نفسہ وخاصتہ کی طرح ذاتہ بھی کہاجاتا ہے ۔ مگر یہ عربی زبان کے محاورات سے نہیں ہے ( 2 ) دوم بنی طیی ذوبمعنی الذی استعمال کرتے ہیں اور یہ رفعی نصبی جری جمع اور تانیث کی صورت میں ایک ہی حالت پر رہتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ع ( الوافر ) یعنی کنواں جسے میں نے کھودا اور صاف کیا ہے ۔ عدل العَدَالَةُ والمُعَادَلَةُ : لفظٌ يقتضي معنی المساواة، ويستعمل باعتبار المضایفة، والعَدْلُ والعِدْلُ يتقاربان، لکن العَدْلُ يستعمل فيما يدرک بالبصیرة كالأحكام، وعلی ذلک قوله : أَوْ عَدْلُ ذلِكَ صِياماً [ المائدة/ 95] ، والعِدُل والعَدِيلُ فيما يدرک بالحاسّة، کالموزونات والمعدودات والمکيلات، فالعَدْلُ هو التّقسیط علی سواء، وعلی هذا روي : «بالعَدْلِ قامت السّموات والأرض» «5» تنبيها أنه لو کان رکن من الأركان الأربعة في العالم زائدا علی الآخر، أو ناقصا عنه علی مقتضی الحکمة لم يكن العالم منتظما . والعَدْلُ ضربان : مطلق : يقتضي العقل حسنه، ولا يكون في شيء من الأزمنة منسوخا، ولا يوصف بالاعتداء بوجه، نحو : الإحسان إلى من أحسن إليك، وكفّ الأذيّة عمّن كفّ أذاه عنك . وعَدْلٌ يُعرَف كونه عَدْلًا بالشّرع، ويمكن أن يكون منسوخا في بعض الأزمنة، کالقصاص وأروش الجنایات، وأصل مال المرتدّ. ولذلک قال : فَمَنِ اعْتَدى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ [ البقرة/ 194] ، وقال : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُها [ الشوری/ 40] ، فسمّي اعتداء وسيئة، وهذا النحو هو المعنيّ بقوله : إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسانِ [ النحل/ 90] ، فإنّ العَدْلَ هو المساواة في المکافأة إن خيرا فخیر، وإن شرّا فشرّ ، والإحسان أن يقابل الخیر بأكثر منه، والشرّ بأقلّ منه، ورجلٌ عَدْلٌ: عَادِلٌ ، ورجالٌ عَدْلٌ ، يقال في الواحد والجمع، قال الشاعر : 311- فهم رضا وهم عَدْلٌ«1» وأصله مصدر کقوله : وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ [ الطلاق/ 2] ، أي : عَدَالَةٍ. قال تعالی: وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ [ الشوری/ 15] ، وقوله : وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّساءِ [ النساء/ 129] ، فإشارة إلى ما عليه جبلّة النّاس من المیل، فالإنسان لا يقدر علی أن يسوّي بينهنّ في المحبّة، وقوله : فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَواحِدَةً [ النساء/ 3] ، فإشارة إلى العَدْلِ الذي هو القسم والنّفقة، وقال : لا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا[ المائدة/ 8] ، وقوله : أَوْ عَدْلُ ذلِكَ صِياماً [ المائدة/ 95] ، أي : ما يُعَادِلُ من الصّيام الطّعام، فيقال للغذاء : عَدْلٌ إذا اعتبر فيه معنی المساواة . وقولهم :«لا يقبل منه صرف ولا عَدْلٌ» «2» فالعَدْلُ قيل : هو كناية عن الفریضة، وحقیقته ما تقدّم، والصّرف : النّافلة، وهو الزّيادة علی ذلک فهما کالعَدْلِ والإحسان . ومعنی أنه لا يقبل منه أنه لا يكون له خير يقبل منه، وقوله : بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ [ الأنعام/ 1] ، أي : يجعلون له عَدِيلًا فصار کقوله : هُمْ بِهِ مُشْرِكُونَ [ النحل/ 100] ، وقیل : يَعْدِلُونَ بأفعاله عنه وينسبونها إلى غيره، وقیل : يَعْدِلُونَ بعبادتهم عنه تعالی، وقوله : بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ [ النمل/ 60] ، يصحّ أن يكون من قولهم : عَدَلَ عن الحقّ : إذا جار عُدُولًا، وأيّام مُعْتَدِلَاتٌ: طيّبات لِاعْتِدَالِهَا، وعَادَلَ بين الأمرین : إذا نظر أيّهما أرجح، وعَادَلَ الأمرَ : ارتبک فيه، فلا يميل برأيه إلى أحد طرفيه، وقولهم : ( وضع علی يدي عَدْلٍ ) فمثل مشهور «1» . ( ع د ل ) العدالۃ والمعادلۃ کے لفظ میں مساوات کے معنی پائے جاتے ہیں اور معنی اضافی کے اعتبار سے استعمال ہوتا ہے یعنی ایک دوسرے کے ہم وزن اور برابر ہوتا اور عدل عدل کے قریب قریب ایک ہی معنی ہیں لیکن عدل کا لفظ معنوی چیزوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے احکام شرعیہ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : ۔ أَوْ عَدْلُ ذلِكَ صِياماً [ المائدة/ 95] او عدل ذلک صیاما یا اس کے برابر روزے رکھنا اور عدل وعدیل کے الفاظ ان چیزوں کے لئے بولے جاتے ہیں جن کا اور اک حواس ظاہرہ سے ہوتا ہے جیسے وہ چیزیں جن کا تعلق ماپ تول یا وزن سے ہوتا ہے پس عدل کے معنی دو چیزوں کا برابر ہونا کے ہیں چناچہ اسی معنی میں مروی ہے بالعدل قامت السموت والاارض کہ عدل ہی سے آسمان و زمین قائم ہیں یعنی اگر عناصر اربعہ جن کائنات نے ترکیب پائی ہے میں سے ایک عنصر میں بھی اس کی معینہ مقدار سے کمی یا بیشی ہوجائے تو نظام کائنات قائم نہیں رہ سکتا ، العدل دو قسم پر ہے عدل مطلق جو عقلا مستحن ہوتا ہے یہ نہ تو کسی زمانہ میں منسوخ ہوا ہے اور نہ ہی کسی اعتبار سے تعدی کے ساتھ متصف ہوسکتا ہے مثلا کیسی کے احسان کے بدلہ میں اس پر احسان کرنا اور جو تمہیں تکلف نہ دے اسے ایزا رسانی باز رہنا قغیرہ ۔ دوم عدل شرعی جسے شریعت نے عدل کہا ہے اور یہ منسوخ بھی ہوسکتا ہے جیسے قصاص جنایات کی دیت اور مال مرتد کی اصل وغیرہ چناچہ آیات : ۔ فَمَنِ اعْتَدى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ [ البقرة/ 194] پس اگر کوئی تم پر زیادتی کرے تو جیسی زیادتی وہ تم پر کرے ۔ واپس ہی تم اس پر کرو ۔ وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُها [ الشوری/ 40] اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے ۔ میں زیادتی اور برائی کی سزا کا کام بھی زیادتی اور برائی ہی قرار دیا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسانِ [ النحل/ 90] خدا تم کو انصاف اور احسان کرنے کا حکم دیتا ہے ۔ میں عدل کے یہی معنی مراد کیونکہ کسی چیز کے برابر اس کا بدلہ دینے کا نام عدل یعنی نیکی کا بدلہ نیکی سے اور برائی کا بدلہ برائی سے اور نیکی کے مقابلہ میں زیادہ نیکی اور شر کے مقابلہ میں مسامحت سے کام لینے کا نام احسان ہے اور لفظ عدل واحد جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے رجل عدل عادل ورجال عدل شاعر نے کہا ہے ( الطویل ) ( 303 ) فھم رضا وھم عدل وہ راضی رہنے والے اور عدال ہیں ۔ دراصل عدل کا لفظ مصدر ہے چناچہ آیت : ۔ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ [ الطلاق/ 2] اور اپنے میں سے دو منصب مردوں کو گواہ بنالو میں عدل کے معنی عدالہ ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ [ الشوری/ 15] اور مجھے حکم ہوا کہ تم میں انصاف کروں لا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا[ المائدة/ 8] اور لوگوں کی دشمنی تم کو اس بات پر امادہ نہ کرے کہ انصاف چھوڑ دو ۔ انصاف کیا کرو ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّساءِ [ النساء/ 129] اور تم خواہ کتنا ہی چاہو عورتوں میں ہر گز برابری نہیں کرسکو گے ۔ میں انسان کے طبعی میلان کی طرف اشارہ ہے کہ تمام بیویوں سے برابر وجہ کی محبت اس کی قدرت سے باہر ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَواحِدَةً [ النساء/ 3] اگر اس بات کا اندیشہ ہو کہ سب عورتوں سے یکساں سلوک نہ کرسکو گے تو ایک عورت کانی ہے ۔ میں عدل سے نان ونفقہ اور ازواجی تعلقات میں برابر ی مرادی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ أَوْ عَدْلُ ذلِكَ صِياماً [ المائدة/ 95] اس کے برابر روزے رکھنا ۔ میں عدل سے مراد یہ ہے کہ وہ روزے طعام سے فدیہ کے برابر ہوں کیونکہ فدیہ میں مساوت کے معنی ملحوظ ہوں تو اسے بھی عدل کہہ دیا جاتا ہے اور ( 33 ) لایقبل منہ صرف ولا عدل میں بعض نے کہا ہے کہ عدل کا لفظ فریضہ سے کنایہ ہے مگر اس کے اصل معنی وہی ہیں جو ہم بیان کرچکے ہیں اور صرف کا لفظ نافلۃ سے اور یہ اصل فرض سے بڑھ کر کام کرنے کا نام ہے لہذا یہ باہم تقابل کے اعتبار سے عدل اور احسان کے ہم مثل ہیں اور لایقبل منہ کے معنی یہ ہیں کہ اسکے پاس کسی قسم کی نیکی ہوگی جو قبول کی جائے اور یہ آیت : ۔ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ [ الأنعام/ 1] کے معنی یہ ہیں کہ وہ دوسروں کو خدا کی مثل اور نظیر قرار دیتے ہیں ۔ لہذا یہ آیت : ۔ هُمْ بِهِ مُشْرِكُونَ [ النحل/ 100] کے ہم معنی ہوگی بعض نے اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ وہ افعال الہیہ کو دوسروں کی طرف منسوب کرتے ہیں بعض نے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے عدول کرنا مراد لیا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ [ النمل/ 60] بلکہ یہ لوگ رستے سے الگ ہورہے ہیں ۔ بھی اسی معنی پر محمول ہوسکتی ہے یعنی اس کے معنی یعدلون بہ کے ہیں ۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ عدل عن الحق سے مشتق ہو جس کے معنی حق سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ ایام معتد لات معتدل زمانہ یعنی جب رات دن برابر ہوتے ہیں ۔ عادل بین الامرین اس نے دو چیزوں کے درمیان موازنہ کیا عادل الامر کسی معاملہ میں پھنس گیا اور کسی ایک جانب فیصلہ نہ کرسکا اور جب کسی شخص کی زندگی سے مایوسی ہوجائے تو اس کے متعلق کہا جاتا ہے : ۔ یعنی اب وہ زندہ نہیں رہ سکتا ۔ غير أن تکون للنّفي المجرّد من غير إثبات معنی به، نحو : مررت برجل غير قائم . أي : لا قائم، قال : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] ، ( غ ی ر ) غیر اور محض نفی کے لئے یعنی اس سے کسی دوسرے معنی کا اثبات مقصود نہیں ہوتا جیسے مررت برجل غیر قائم یعنی میں ایسے آدمی کے پاس سے گزرا جو کھڑا نہیں تھا ۔ قرآن میں ہے : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے ضَّرْبُ ( چلنا) والضَّرْبُ في الأَرْضِ : الذّهاب فيها وضَرْبُهَا بالأرجلِ. قال تعالی: وَإِذا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ [ النساء/ 101] ، وَقالُوا لِإِخْوانِهِمْ إِذا ضَرَبُوا فِي الْأَرْضِ [ آل عمران/ 156] ، وقال : لا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْباً فِي الْأَرْضِ [ البقرة/ 273] ضرب فی الارض کے معنی سفر کرنے کے ہیں ۔ کیونکہ انسان پیدل چلتے وقت زمین پر پاؤں رکھتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَإِذا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ [ النساء/ 101] اور جب سفر کو جاؤ ۔ وَقالُوا لِإِخْوانِهِمْ إِذا ضَرَبُوا فِي الْأَرْضِ [ آل عمران/ 156] اور ان کے مسلمان بھائی جب خدا کی راہ میں سفر کریں ۔۔۔۔ تو ان کی نسبت کہتے ہیں ۔ لا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْباً فِي الْأَرْضِ [ البقرة/ 273] اور ملک میں کسی طرف جانے کی طاقت نہیں رکھتے ۔ اور یہی معنی آیت : فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِي الْبَحْرِ [ طه/ 77] کے ہیں یعنی انہیں سمندر میں ( خشک راستے سے لے جاؤ ۔ ( صاب) مُصِيبَةُ والمُصِيبَةُ أصلها في الرّمية، ثم اختصّت بالنّائبة نحو : أَوَلَمَّا أَصابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْها[ آل عمران/ 165] ، فَكَيْفَ إِذا أَصابَتْهُمْ مُصِيبَةٌالنساء/ 62] ، وَما أَصابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 166] ، وَما أَصابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِما كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ [ الشوری/ 30] ، وأصاب : جاء في الخیر والشّرّ. مصیبۃ اصل میں تو اس تیر کو کہتے ہیں جو ٹھیک نشانہ پر جا کر بیٹھ جائے اس کے بعد عرف میں ہر حادثہ اور واقعہ کے ساتھ یہ لفظ مخصوص ہوگیا ہے قرآن پاک میں ہے : ۔ أَوَلَمَّا أَصابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْها[ آل عمران/ 165]( بھلا یہ ) کیا بات ہے کہ ) جب ( احد کے دن کفار کے ہاتھ سے ) تم پر مصیبت واقع ہوئی حالانکہ ( جنگ بدر میں ) اس سے دو چند مصیبت تمہارے ہاتھ سے انہیں پہنچ چکی تھی ۔ فَكَيْفَ إِذا أَصابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ [ النساء/ 62] تو کیسی ( ندامت کی بات ہے کہ جب ان پر کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے ۔ وَما أَصابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 166] اور جو مصیبت تم پر دونوں جماعتوں کے مابین مقابلہ کے دن واقع ہوئی ۔ وَما أَصابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِما كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ [ الشوری/ 30] اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے سو تمہارے اپنے اعمال سے ۔ اور اصاب ( افعال ) کا لفظ خیرو شر دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ صلا أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ بالنار وبکذا، أي : بلي بها، واصْطَلَى بها، وصَلَيْتُ الشاةَ : شویتها، وهي مَصْلِيَّةٌ. قال تعالی: اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] والصَّلاةُ ، قال کثير من أهل اللّغة : هي الدّعاء، والتّبريك والتّمجید يقال : صَلَّيْتُ عليه، أي : دعوت له وزكّيت، وقال عليه السلام : «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] وصَلَاةُ اللهِ للمسلمین هو في التّحقیق : تزكيته إيّاهم . وقال : أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ [ البقرة/ 157] ، ومن الملائكة هي الدّعاء والاستغفار، كما هي من النّاس «3» . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِ [ الأحزاب/ 56] والصَّلَاةُ التي هي العبادة المخصوصة، أصلها : الدّعاء، وسمّيت هذه العبادة بها کتسمية الشیء باسم بعض ما يتضمّنه، والصَّلَاةُ من العبادات التي لم تنفکّ شریعة منها، وإن اختلفت صورها بحسب شرع فشرع . ولذلک قال : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] ( ص ل ی ) الصلیٰ ( س) کے اصل معنی آگ جلانے ہے ہیں صلی بالنار اس نے آگ کی تکلیف برداشت کی یا وہ آگ میں جلا صلی بکذا اسے فلاں چیز سے پالا پڑا ۔ صلیت الشاۃ میں نے بکری کو آگ پر بھون لیا اور بھونی ہوئی بکری کو مصلیۃ کہاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] آج اس میں داخل ہوجاؤ ۔ الصلوۃ بہت سے اہل لغت کا خیال ہے کہ صلاۃ کے معنی دعا دینے ۔ تحسین وتبریک اور تعظیم کرنے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے صلیت علیہ میں نے اسے دعادی نشوونمادی اور بڑھایا اور حدیث میں ہے (2) کہ «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، جب کسی کو کھانے پر بلا یا جائے تو اسے چاہیے کہ قبول کرلے اگر روزہ دار ہے تو وہ انکے لئے دعاکرکے واپس چلا آئے اور قرآن میں ہے وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو کہ تمہاری دعا ان کے لئے موجب تسکین ہے ۔ اور انسانوں کی طرح فرشتوں کی طرف سے بھی صلاۃ کے معنی دعا اور استغفار ہی آتے ہیں چناچہ فرمایا : إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِ [ الأحزاب/ 56] بیشک خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں ۔ اور الصلوۃ جو کہ ایک عبادت مخصوصہ کا نام ہے اس کی اصل بھی دعاہی ہے اور نماز چونکہ دعا پر مشتمل ہوتی ہے اسلئے اسے صلوۃ کہاجاتا ہے ۔ اور یہ تسمیۃ الشئی باسم الجزء کے قبیل سے ہے یعنی کسی چیز کو اس کے ضمنی مفہوم کے نام سے موسوم کرنا اور صلاۃ ( نماز) ان عبادت سے ہے جن کا وجود شریعت میں ملتا ہے گو اس کی صورتیں مختلف رہی ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] بیشک نماز مومنوں مقرر اوقات میں ادا کرنا فرض ہے ۔ قْسَمَ ( حلف) حلف، وأصله من الْقَسَامَةُ ، وهي أيمان تُقْسَمُ علی أولیاء المقتول، ثم صار اسما لكلّ حلف . قال : وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ الأنعام/ 109] ، أَهؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ [ الأعراف/ 49] ، وقال : لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ وَلا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ [ القیامة/ 1- 2] ، فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ وَالْمَغارِبِ [ المعارج/ 40] ، إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّها مُصْبِحِينَ [ القلم/ 17] ، فَيُقْسِمانِ بِاللَّهِ [ المائدة/ 106] اقسم ( افعال کے معنی حلف اٹھانے کے ہیں یہ دروصل قسامۃ سے مشتق ہے اور قسیا مۃ ان قسموں کو کہا جاتا ہے جو او لیائے مقتول پر تقسیم کی جاتی ہیں پھر مطلق کے معنی استعمال ہونے لگا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ الأنعام/ 109] اور یہ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں ۔ أَهؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ [ الأعراف/ 49] کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے مارے میں تم قسمیں کھایا کرتی تھے ۔ لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ وَلا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ [ القیامة/ 1- 2] ہم کو روز قیامت کی قسم اور نفس لوامہ کی ۔ فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ وَالْمَغارِبِ [ المعارج/ 40] ہمیں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم ۔ إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّها مُصْبِحِينَ [ القلم/ 17] جب انہوں نے قسمیں کھا کھا کر کہا کہ ہم صبح ہوتے اس کا میوہ توڑلیں گے ۔ فَيُقْسِمانِ بِاللَّهِ [ المائدة/ 106] اور دونوں خدا کی قسمیں کھائیں ۔ ماسمعتہ وتقاسما باہم قسمیں اٹھانا ۔ قرآن میں ہے : وَقاسَمَهُما إِنِّي لَكُما لَمِنَ النَّاصِحِينَ [ الأعراف/ 21] اور ان کی قسم کھاکر کہا کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں ۔ ارْتِيابُ والارْتِيابُ يجري مجری الْإِرَابَةِ ، قال : أَمِ ارْتابُوا أَمْ يَخافُونَ [ النور/ 50] ، وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ [ الحدید/ 14] ، ونفی من المؤمنین الِارْتِيَابَ فقال : وَلا يَرْتابَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتابَ وَالْمُؤْمِنُونَ [ المدثر/ 31] ، اور ارتیاب ( افتعال ) ارابہ کے ہم معنی ہے جس کے معنی شک و شبہ میں پڑنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ؛َ أَمِ ارْتابُوا أَمْ يَخافُونَ [ النور/ 50] یا شک میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اور اس بات سے ڈرتے ہیں ۔ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ [ الحدید/ 14] اور اس بات کے منتظر رہے ( کہ مسلمانوں پر کوئی آفت نازل ہو ) اور ( اسلام کی طرف سے ) شک میں پڑے رہے ۔ اور مؤمنین سے ارتیاب کی نفی کرتے ہوئے فرمایا ولا يَرْتابَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتابَ وَالْمُؤْمِنُونَ [ المدثر/ 31] اور اہل کتاب اور مسلمان ( ان باتوں میں کسی طرح کا ) شک و شبہ نہ لائیں شری الشِّرَاءُ والبیع يتلازمان، فَالْمُشْتَرِي دافع الثّمن، وآخذ المثمن، والبائع دافع المثمن، وآخذ الثّمن . هذا إذا کانت المبایعة والْمُشَارَاةُ بناضّ وسلعة، فأمّا إذا کانت بيع سلعة بسلعة صحّ أن يتصور کلّ واحد منهما مُشْتَرِياً وبائعا، ومن هذا الوجه صار لفظ البیع والشّراء يستعمل کلّ واحد منهما في موضع الآخر . وشَرَيْتُ بمعنی بعت أكثر، وابتعت بمعنی اشْتَرَيْتُ أكثر، قال اللہ تعالی: وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] ، أي : باعوه، ( ش ر ی ) شراء اور بیع دونوں لازم ملزوم ہیں ۔ کیونکہ مشتری کے معنی قیمت دے کر اس کے بدلے میں کوئی چیز لینے والے کے ہیں ۔ اور بائع اسے کہتے ہیں جو چیز دے کہ قیمت لے اور یہ اس وقت کہا جاتا ہے جب ایک طرف سے نقدی اور دوسری طرف سے سامان ہو لیکن جب خریدو فروخت جنس کے عوض جنس ہو ۔ تو دونوں میں سے ہر ایک کو بائع اور مشتری تصور کرسکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ بیع اور شراء کے الفاظ ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوتے ہیں اور عام طور پر شربت بمعنی بعت اور ابتعت بمعنی اشتریت آتا ہے قرآن میں ہے ۔ وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] اور اس کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ ڈالا ۔ ثمن قوله تعالی: وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] . الثَّمَنُ : اسم لما يأخذه البائع في مقابلة البیع، عينا کان أو سلعة . وکل ما يحصل عوضا عن شيء فهو ثمنه . قال تعالی: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمانِهِمْ ثَمَناً قَلِيلًا [ آل عمران/ 77] ، ( ث م ن ) الثمن اصل میں ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو فروخت کرنے والا اپنی چیز کے عوض خریدار سے وصول کرتا ہے خواہ وہ زر نقد ہو یا سامان ۔ قرآن میں ہے :۔ وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] اور اسے تھوڑی سی قیمت یعنی چند درہموں پر بیچ ڈالا ۔ قربی وفي النّسبة نحو : وَإِذا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُوا الْقُرْبى[ النساء/ 8] ، وقال : الْوالِدانِ وَالْأَقْرَبُونَ [ النساء/ 7] ، وقال : وَلَوْ كانَ ذا قُرْبى [ فاطر/ 18] ، وَلِذِي الْقُرْبى [ الأنفال/ 41] ، وَالْجارِ ذِي الْقُرْبى [ النساء/ 36] ، يَتِيماً ذا مَقْرَبَةٍ [ البلد/ 15] اور قرب نسبی کے متعلق فرمایا : وَإِذا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُوا الْقُرْبى[ النساء/ 8] اور جب میراث کی تقسیم کے وقت ( غیر وارث ) رشتے دار آجائیں ۔ الْوالِدانِ وَالْأَقْرَبُونَ [ النساء/ 7] ماں باپ اور رشتے دار ۔ وَلَوْ كانَ ذا قُرْبى [ فاطر/ 18] گوہ وہ تمہاری رشتے دار ہو ۔ وَلِذِي الْقُرْبى [ الأنفال/ 41] اور اہل قرابت کا ۔ وَالْجارِ ذِي الْقُرْبى [ النساء/ 36] اور رشتے در ہمسایوں يَتِيماً ذا مَقْرَبَةٍ [ البلد/ 15] یتیم رشتے دار کو اور قرب بمعنی کے اعتبار سے کسی کے قریب ہونا كتم الْكِتْمَانُ : ستر الحدیث، يقال : كَتَمْتُهُ كَتْماً وكِتْمَاناً. قال تعالی: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهادَةً عِنْدَهُ مِنَ اللَّهِ [ البقرة/ 140] ، ( ک ت م ) کتمہ ( ن ) کتما وکتما نا کے معنی کوئی بات چھپانا کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهادَةً عِنْدَهُ مِنَ اللَّهِ [ البقرة/ 140] اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو خدا کی شہادت کو جو اس کے پاس کتاب اللہ میں موجود ہے چھپائے إثم الإثم والأثام : اسم للأفعال المبطئة عن الثواب وجمعه آثام، ولتضمنه لمعنی البطء قال الشاعرجماليّةٍ تغتلي بالرّادفإذا کذّب الآثمات الهجير وقوله تعالی: فِيهِما إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنافِعُ لِلنَّاسِ [ البقرة/ 219] أي : في تناولهما إبطاء عن الخیرات . ( ا ث م ) الاثم والاثام ۔ وہ اعمال وافعال جو ثواب سے روکتے اور پیچھے رکھنے والے ہوں اس کی جمع آثام آتی ہے چونکہ اس لفظ میں تاخیر اور بطء ( دیرلگانا ) کا مفہوم پایا جاتا ہے اس لئے شاعر نے اونٹنی کے متعلق کہا ہے ۔ ( المتقارب ) (6) جمالیۃ تغتلی بالرادف اذا کذب الآثمات الھجیرا وہ اونٹ کی طرح مضبوط ہے جب سست رفتار اونٹنیاں دوپہر کے وقت چلنے سے عاجز ہوجاتی ہیں تو یہ ردیف کو لے کر تیز رفتاری کے ساتھ چلتی ہے اور آیت کریمہ { فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ } ( سورة البقرة 219) میں خمر اور میسر میں اثم کبیر کے یہ معنی ہیں کہ ان کا تناول ( اور ارتکاب ) انسان کو ہر قسم کے افعال خیر سے روک لیتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

سفر کے اندر وصیت پر گواہی قائم کرنے کا بیان قول باری ہے (یایھا الذین امنوا شھادۃ بینکم، اے ایمان لانے والو ! تمہارے درمیان شادت کا نصاب یہ ہے) اس آیت میں شہادت یعنی گواہی کے متعلق اختلاف رائے ہے۔ کچھ لوگوں کا قول ہے کہ ا س سے مراد سفر کے اندر وصیت پر گواہی قائم کرنا ہے ۔ اس بنا پر انہوں نے سفر کے اندر مسلمان کی وصیت پر اہل ذمہ کی گواہی کو جائز قرار دیا ہے۔ شعبی نے ابو موسیٰ سے روایت کی ہے کہ ایک مسلمان دقوقا کے مقام پر وفات پا گیا۔ جب موت کا وقت آگیا تو اسے اپنی وصیت پر گواہ بنانے کے لئے کوئی مسلمان نہیں ملا۔ اس نے دو اہل کتاب کو گواہ بنا لیا۔ حضرت ابو موسیٰ نے ان دونوں سے عصر کے بعد حلفاً یہ بیان لیا کہ نہ انہوں نے کذب بیانی کی۔ نہ بددیانتی کی، نہ کوئی رد و بدل کیا، نہ کوئی بات چھپائی اور نہ ہی کوئی ہیرا پھیری کی۔ نیز یہ کہ یہ اس شخص کی وصیت ہے اور یہ اس ترکہ ہے جب ان دونوں نے حلفاً یہ بیان دے دیا تو حضرت ابو موسیٰ نے ان کی گواہی تسلیم کرلی اور فرمایا :” یہ ایسی بات ہے جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں ایک دفعہ پیش آنے کے بعد ابھی تک پیش نہیں آئی تھی۔ “ کچھ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ (شھادۃ بینکم) سے ان دونوں شخصوں کا حاضر ہونا مراد ہے جنہیں گواہی دینے کی وصیت کی گئی تھی۔ آپ کہتے ہیں ” شھدتہ “ اس کے معنی ہیں ” میں اس کے پاس حاضر ہوا۔” چند حضرات کا قول ہے کہ یہاں شہادت سے مراد یہ ہے کہ جب ورثاء کو ان دونوں گواہوں کے متعلق شبہ پید اہو جائے اس وقت وصیت کے بارے میں اللہ کی قسمیں کھائی جائیں۔ یعنی شہادت سے گواہی مراد نہیں بلکہ قسمیں مراد ہیں۔ مجاہد کا یہی قول ہے حضرت ابو موسیٰ نے یہ مسلک اختیار کیا ہے کہ آیت میں مذکورہ شہادت سے مراد وہ گواہی ہے جو وصیت پر دی جائے اور جس کے ذریعے حکام کے نزدیک وصیت ثابت ہوجائے۔ نیز یہ کہ یہ حکم ثابت ہے منسوخ نہیں ہے۔ شریح سے بھی اسی قسم کی روایت ہے، سفیا ن ثوری، ابن ابی لیلی اور اوزاعی کا بھی یہی قول ہے۔ حضرت ابن عباس، سعید بن المسیب، سعید بن جبیر، ابن سیرین، عبیدہ، قاضی شریح اور شعبی سے قول باری (اواخران من غیر کم ، یا تمہارے غیروں میں سے دو گواہ) کے متعلق مروی ہے کہ ” غیر مسلموں میں سے دو گواہ “ حسن اور زہری سے مروی ہے کہ ” تمہارے غیر قبیلے میں سے دو گواہ۔ “ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جن حضرات نے شہادت سے قسم مراد لی ہے۔ گواہی مراد نہیں لی ہے جو حکام کے سامنے پیش کی جائے تو ان کا یہ قول زیادہ پسندیدہ نہیں ہے اگرچہ قسم کو بھی کبھی گواہی کے نام سے موسوم کردیا جاتا ہے۔ مثلاً یہ قول باری ہے (فشھادۃ احدھم اربع شھادات باللہ ، تو ان میں سے ایک کی گواہی چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دینا ہے۔ ) ہمارے درج بالا قول کی یہ ہے کہ شہادت کا جب علی الاطلاق ذکر ہوتا ہے تو اس سے متعارف گواہی مراد ہوتی ہے جس طرح درج ذیل آیات سے ظاہر ہے۔ ارشاد باری ہے (واقیموا الشھادۃ للہ، اللہ کے لئے گواہی قائم کرو) نیز فرمایا (واستشھا واشھیدین من رجالکم) اپنے مردوں میں سے دو گواہ بنا لو۔ ) نیز ارشاد ہوا (ولا یاب الشھداء اذا مادعوا ، جب گواہوں کو بلایا جائے تو وہ انکار نہ کریں ) نیز فرمایا (واشھدوا ذوی عدل منکم، اپنے دو عادل آدمیوں کو گواہ بنا لو) ان تمام آیات سے حقوق پر گواہی کا مفہوم سمجھ میں آتا ہے۔ قسموں کا مفہوم سمجھ میں نہیں آتا۔ اسی طرح یہ قول باری ہے (شھادۃ بینکم) اس سے بھی متعارف گواہی کا مفہوم سمجھ میں آتا ہے۔ اس پر یہ قول باری دلالت کرتا ہے (اذا حضر احدکم الموت، جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے) یہ مراد لینا بہت بعید ہے کہ جب موت کا وقت آ جائے تو تمہارے درمیان قسمیں یہ ہیں … اس لئے کہت کی حالت میں قس اٹھانے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ پھر یہ فرما کر اس بات کی اور وضاحت کردی (اثنان ذواعدل منکم اوخران من غیرکم) تم میں سے دو عادل آدمی یا غیر مسلموں میں سے دو آدمی) یعنی … واللہ اعلم …… جب تم میں سے دو عادل آدمی نہ میسر ہوں جبکہ یہ بات واضح ہے کہ دو عادل کی موجودگی اور عدم موجودگی سے قسم کے حکم میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ قول باری (ولا نکتم شھادۃ اللہ ، نہ خدا واسطے کی گواہی کو ہم چھپانے والے ہیں) بھی اس پر دلالت کرتا ہے اس لئے کہ قسم تو موجود اور ظاہر ہے ، پوشیدہ نہیں ہے پھر میت کے مال کے بارے میں ان دونوں شخصوں کے اختلاف کے بعد جنہیں گواہی کی وصیت کی گئیھی۔ ورثاء کی قسم کا ذکر فرمایا۔ وہ گواہی جو حقیقت میں قسم ہے اس کا ذکر اس قول باری میں کیا گیا ہے (لشھادتنا احق من شھادتھما ہماری شہادت ان کی شہادت سے زیادہ برحق ہے۔ ) پھر فرمایا (ذلک ادنیٰ ان یا توا بالشھادۃ علی وجھھا اس طریقے سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ ٹھیک ٹھیک گواہی دیں گے) یعنی وصیت پر ٹھیک ٹھیک گواہی۔ کیونکہ یہ کنا نا مناسب ہوگا کہ ٹھیک ٹھیک قسمیں کھائو۔ قول باری (اویخافو ا ان ترد ایمان بعد ایمانھم، یا کم از کم اس بات کا خوف کریں گے کہ ان کی قسموں کے بعد دوسری قسموں سے کہیں ان کی تردید نہ ہوجائے بھی اس پر دلالت کرتا ہے کہ پہلے جس چیز کا ذکر ہوا ہے وہ گواہی ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے گواہی اور قسم دونوںں کا ذکر ان کے حقیقی الفاظ کے تحت کیا ہے۔ جن لوگوں نے قول باری (او اخران من غیر کم) کی یہ تاویل کی ہ کہ دو آدمی تمہارے غیر قبیلے کے ہوں، ان کی یہ تاویل بےمعنی ہے۔ اس لئے کہ آیت کی دلالت اس کے خلاف ہے کیونکہ ان سے لفظ ایمان کے ساتھ خطاب کیا گیا ہے اس میں قبیلہ کا ذکر نہیں ہے جیسا کہ ارشاد ہے (یایھا الذین امنوا شھادۃ بینکم) پھر فرمایا (اواخران من غیرکم) یغنی غیر مسلم اس دوران قبیلہ کا کوئی ذکر نہیں آیا جس کی بنا پر کنایہ اس ذکر کی طرف راجع ہو سکے۔ یہ بات تو واضح ہے کہ کنایہ یا تو کسی ایسے لفظ کی طرف راجع ہوتا ہے۔ جو ظاہراً مذکور ہو یا دلالت حال کی بنا پر معلوم ہو۔ جب یہاں کوئی دلالت حال بھی نہیں ہے جس کی طرف کنایہ راجع ہوجائے تو اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ کنایہ اہل ایمان کی طرف راجع ہے جن کا ذکر خطاب کے اندر پہلے ہوچکا ہے اور یہ بات دسرت ہوگئی کہ غیر سے مراد غیر مسلم ہیں۔ اس طرح آیت سفر کے اندر مسلمان کی وصیت پر اہل ذمہ کی گواہی کے جواز کی مقتضی ہوگئی۔ آیت زیر بحث کی تاویل میں حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت ابو مسویٰ ، قاضی شریح، عکرمہ اور قتادہ سے مختلف روایات منقول ہیں۔ آیت کے مفہوم کی مناسب روایت وہ ہے جو ہمیں محمد بن بکر نے بیان کی، انہیں ابو دائود نے ، انہیں حسن بن علی نے، انہیں یحییٰ بن آدم نے ، انہیں ابن ابی زائدہ نے محمد بن ابی القاسم سے انہوں نے عبدالملک بن سعید بن جبیر سے، انہوں نے اپنے والد سعید بن جبیر سے، انہوں نے حضرت ابن عباس سے ، انہوں نے فرمایا کہ بنو سہم کا ایک شخص تمیم الداری اور عدی بن بدا کے ساتھ سفر پر نکلا۔ اس شخص کی وفات ایسی سر زمین میں ہوئی جہاں کوئی مسلمان نہیں رہتا تھا، جب یہ دونوں اس مرحوم کا ترکہ لے کر مدینہ پہنچے تو اس کے سامان میں چاندی کا ایک پیالہ جس پر سونے کے پترے چڑھے ہوئے تھے۔ گم پایا گیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں قسم لی، پھ ریہی پیالہ مکہ میں موجود پای اگیا۔ اور جن لوگوں کے پاس یہ تھا انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ پیالہ تمیم اور عدی سے خریدا تھا۔ اس مرحوم سہمی کے رشتہ داروں میں سے دو آدمیوں نے قسم کھا کر کہا کہ ہماری گواہی ان کی گواہی سے زیادہ برحق ہے اور یہ کہ پیالہ ان کے مرحوم رشتہ دار کا ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اس موقع پر ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمیم اور عدیے نئے سرے سے حلف اٹھوایا اس لئے کہ میت کے ورثاء نے ان دونوں پر پیالہ دبا لینے کی تہمت لگائی تھی۔ پھر جب ان دونوں نے یہ دعویٰ کیا کہ انہوں نے یہ پیالہ میت سے خرید لیا تھا تو آپ نے ورثاء سے حلف اٹھوایا اور ان کے حلف پر فیصلہ سنا دیا کہ میت نے یہ پیالہ فروخت نہیں کیا تھا۔ چناچہ انہوں نے یہ پیالہ اپنے قبضے میں کرلیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو موسیٰ نے سفر میں مسلمان کی وصیت پر دو ذمیوں کی گواہی قبول کرلینے کے متعلق جو کچھ کہا تھا نیز یہ کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زمانے سے لے کر آج تک ایسا نہیں ہوا تھا اس کا تعلق شاید اسی واقعہ کے ساتھ تھا جو حضرت ابن عباس کی اس روایت میں مذکور ہے۔ عکرمہ نے بھی تمیم الداری کے واقعہ کے متعلق حضرت ابن عباس کی روایت سے ملتی جلتی روایت کا ذکر کیا ہے۔ سفر کے اندر مسلمان کی وصیت پر اہل ذمہ کی گواہی کے جواز کا حکم باقی ہے یا منسوخ ہوچکا ہے اس بارے میں اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اور شریح کے قول کے مطابق یہ حکم ثابت ہے۔ منسوخ نہیں ہوا۔ حضرت ابن عباس اور وہ حضرات جن کے نزدیک قول باری (اوخران من غیر کم) سے مراد غیر مسلم ہیں۔ ان سب کا قول اس پر دلالت کرتا ہے کہ انہوں نے آیت کی تاویل سفر میں مسلمان کی وصیت پر اہل ذمہ کی گواہی کی کے جواز پر کی ہے۔ لیکن ان حضرات سے اس حکم کے بقایا منسوخت کے بارے میں کوئی روایت محفوظ نہیں ہے۔ زید بن اسلم سے قول باری (شھادۃ بینکم) کی تفسیر میں منقول ہے کہ یہ آیت اس شخص کے بارے میں تھی جس کی وفات کے وقت اس کے پاس کوئی مسلمان شخص موجود نہ ہوتا۔ یہ صورتحال اسلام کے ابتدائی زمانے میں پیش آتی تھی جبکہ ساری زمین دارالحرب تھی اور تمام لوگ کافر ہوتے۔ لیکن چونکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ میں تھے اس لئے لوگ مدینہ کے اندر وصیت کے ذریعے ایک دوسرے کے وارث بن جاتے تھے پھر وصیت کا حکم منسوخ ہوگیا اور ورثاء کے لئے فرائض یعنی حصے مقرر کردیئے گئے اور اس کے بعد مسلمانوں کا اسی پر عمل رہا۔ ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے اسے قول باری (واشھد و اذوی غدل منکم) نے منسوخ کردیا ہے۔ حضرت ضمرہ بن جندب اور عطیہ بن قیس سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے۔ (المائدۃ من آخرا لقران تزولا فاحلوا حلالھا و حرمواحرامھا سورة مائدہ کا نزول سب سے آخر میں ہوا ہے اس لئے اس میں حلال کردہ چیزوں کو حلال اور حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھو) جبیربن نفیر نے حضرت عائشہ سے روایت کی ہے کہ ” قرآن کی آخری صورت جو نازل ہوئی وہ سورة مائدہ ہے اس میں جو اشیاء تمہیں حلال ملیں انہیں حلال جانور جو حرام ملیں انہیں حرام سمجھو۔ “ ابو اسحاق نے ابو میسرہ سے روایت کی ہے کہ ” سورة مائدہ میں اٹھارہ فرائض ہیں اور کوئی فریضہ بھی منسوخ نہیں ہے۔ “ حسن کا قول ہے کہ سورة مائدہ کا کوئی حکم منسوخ نہیں ہوا۔ اس طرح ان حضرات کا مسلک یہ ہے کہ آیت زیر بحث کا حکم منسوخ نہیں ہوا۔ آیت جس امر کی مقتضی ہے وہ یہ ہے کہ سفر کے اندر مسلمان کی وصیت پر اہل ذمہ کی گواہی جائز ہے خواہ وصیت کسی خرید و فروخت کے بارے میں ہو یا کسی قرض کے اقرار کی صورت میں ہو یا کسی چیز کی وصیت یا ہبہ یا صدقہ کی شکل میں ہو۔ یہ تمام چیزیں لفظ وصیت کے تحت آ جاتی ہیں جب بیماری کے اندر کوئی شخص ان میں سے کسی چیز کے متعلق کوئی قدم اٹھا لے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے وصیت کے وقت اہل ذمہ میں سے دو آدمیوں کی گواہی کو جائز قرار دیا ہے تو اس نے اس جواز کے ساتھ صرف وصیت کی صورت کی تخصیص نہیں کی کہ درج بالا دوسری صورتیں اس سے خارج ہوجائیں۔ اس لئے کہ وصیت کے وقت جو بات کہی جائے گی وہ بعض دفعہ قرض کے اقرار کی صورت میں ہوسکتی ہے یا مال کی شکل میں خواہ وہ مال عین ہو یا غیر عین یعنی خواہ وہ مکیل و موزون کے تحت آنے والی چیز ہو یا نہ ہو۔ آیت نے ان صورتوں میں سے کسی صورت کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ دین کی آیت قرآن کے اندر سب سے آخر میں نازل ہوئی اگرچہ کچھ لوگوں کا قول ہے کہ سورة مائدہ سب سے آخر میں نازل ہوئی تھی۔ لیکن اس میں کوئی امتناع نہیں کہ جن حضرات نے یہ کہا کہ سورة مائدہ سب سے آخر میں نازل ہوئی ان کی اس سے وہ سورت مراد ہو جو فی الجملہ سب سے آخر میں نازل ہوئی ، یہ مراد نہ ہو کہ اس کی ہر آیت سب سے آخر میں نازل ہوئی ہے۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر آیت دین نے لا محالہ سفر میں مسلمان کی وصیت پر اہل ذمہ کی گواہی کے جواز کو منسوخ کردیا ہے کیونکہ قول باری ہے (اذا تداینتم بدین الی اجل مسمی) تا قول باری (واستشھدوا شھیدین من رجالکم) اس سے لامحالہ مسلمان مراد ہیں اس لئے کہ آیت میں ان سے ہی خطاب کیا گیا ہے اور اس کے لئے ایمان کا اسم استعمال کیا گیا ہے۔ آیت میں وصیت کی حالت کی تخصیص نہیں کی گئی ہے کہ باقی ماندہ حالتیں اس سے خارج سمجھی جائیں اس لئے آیت تمام صورتوں کے لئے عام ہے۔ پھر فرمایا (ممن ترضون من اشھداء ) اور ظاہر ہے کہ مسلمانوں پر گواہی دینے کے لئے اہل کفر کبھی پسندیدہ نہیں قرار دیئے جاسکتے۔ اس طرح آیت دین سفر نیز حضر اور وصیت وغیروصیت میں مسلمانوں کی وصیت پر اہل ذمہ کی گواہی کے جواز کی منسوخیت کو متضمن ہے جبکہ آیت زیر بحث مسلمان کی وصیت پر اہل ذمہ کی گواہی کے جواز پر مشتمل ہے۔ پھر یہ جس طرح حالت سفر میں مسلمان کی وصیت پر اہل ذمہ کی گواہی کے جواز پر دلال ہے اسی طرح یہ ذمی کی وصیت پر اہل ذمہ کی گواہی کے جواز پر بھی دال ہے۔ پھر آیت دین کی وجہ سے پہلی بات منسوخ ہوگئی یعنی مسلمان کی وصیت پر اہل ذمہ کی گواہی کا جواز منسوخ ہوگیا لیکن دوسری صورت باقی رہ گئی یعنی سفر یا غیر سفر کی حالت میں ذمی کی وصیت پر اہل ذمہ کی گواہی درست ہے۔ اس لئے کہ گواہیوں کے حکم کے لحاظ سے سفر اور حضر دونوں حالتیں یکساں ہوتی ہیں۔ اسی طرح میت کی وصیت کے سلسلے میں اگر دو افراد کو گواہی دینے کی وصیت کی گئی ہو تو ان کی گواہی کے جواز پر بھی آیت کا حکم باقی ہے۔ اس لئے کہ آیت کے نزول کے پس منظر اور تفسیر میں جو واقعہ بیان کیا گیا ہے اس میں یہ ہے کہ مرنے والے نے اپنے دونوں ہمسفروں کو گواہی دینے کی وصیت کی تھی اور ان دونوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے میت کی وصیت کے سلسلے میں گواہی بھی دی تھی۔ آیت اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ جس شخص کو گواہی دینے کی وصیت کی گئی ہو اس کے ہاتھ میں میت کی جو چیز ہو اس چیز کے متعلق اس گواہی دینے والے کا قول تسلیم کیا جائے گا البتہ اس سے قسم بھی لی جائے گی اس لئے کہ متعلقہ واقعہ میں ان دونوں افراد سے اس سلسلے میں حلف لیا گیا تھا۔ نیز آیت کی اس پر بھی دلالت ہے کہ ان دونوں کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے میت سے کوئی چیز خرید لی تھی ثبوت اور گواہی کے بغیر قابل قبول نہ ہوگا۔ نیز یہ کہ اس سلسلے میں اگر ورثاء قسم کھا کر یہ بیان دے دیں کہ میت نے ان کے ہاتھوں کوئی چیز فروخت نہیں کی ہے تو ان کی یہ بات تسلیم کرلی جائے گی۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠٦) حضر ہو یا سفر مرنے والے کی وصیت کے وقت تم میں سے دو آدمیوں کا وصی ہونا جو کہ آزاد ہوں اور تمہاری قوم میں سے ہوں یا غیر دین یا تمہاری قوم کے علاوہ ہوں یا مقیم نہ ہوں، بلکہ کہیں سفر میں ہوں۔ یہ آیت تین اشخاص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو شام کی طرف سامان تجارت لے کر جارہے تھے ان میں سے ایک بدیل بن ابی ماریہ مولی عمرو بن العاص مسلمان تھے، ان کا انتقال ہوگیا، انہوں نے اپنے ساتھیوں عدی بن بداء اور تمیم بن اوس جو کہ نصرانی تھے، اپنے انتقال کے وقت وصیت کی، مگر ان دونوں نے وصیت میں خیانت کی تو اللہ تعالیٰ میت کے وارثوں سے فرماتے ہیں کہ ان دونوں نصرانیوں کو عصر کی نماز کے بعد روک لو اور ان سے قسم لو، اگر تمہیں اس بات میں شک ہو کہ جتنا میت کا مال انہوں نے پہنچایا ہے مال اس سے زیادہ تھا۔ اور وہ دونوں یہ کہیں کہ ہم اس قسم کے عوض کوئی دنیاوی نفع نہیں لینا چاہتے، اگرچہ مرنے والا ہمارا قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوتا، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جس بات کی باز پرس پر گواہی دینے کا ہمیں حکم ہوا ہے ہم اس کو پوشیدہ رکھیں گے تو ہم گناہگار ہوں گے۔ شان نزول : (آیت) ” یایہا الذین امنو ا شہادۃ “۔ (الخ) امام ترمذی (رح) وغیرہ نے بواسطہ ابن عباس (رض) تمیم داری سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے، میرے علاوہ اور عدی بن بداء کے علاوہ سب نے اس سے جرأت ظاہر کی، یہ دونوں نصرانی تھے، اسلام سے پہلے ملک شام جایا کرتے تھے ، چناچہ اپنی تجارت کے لیے یہ شام گئے اور ان کے پاس بدیل بن ابی مریم مولی بنی سہم بھی آگئے اور ان کے ساتھ ایک چاندی کا جام تھا وہ بیمار ہوئے تو انہوں نے ان دونوں کو وصیت کی اور حکم دیا کہ ان کا ترکہ ان کے وارثوں تک پہنچا دینا تمیم بیان کرتے ہیں کہ ان کے انتقال کے بعد ہم نے اس جام کو لے لیا اور ایک ہزار درہم میں فروخت کرکے وہ قیمت میں نے اور عدی بن بداء نے آپس میں بانٹ لی۔ چناچہ جب ہم ان کے گھروالوں کے پاس آئے تو جو کچھ ان کا سامان ہمارے پاس تھا وہ ہم نے انکودے دیا تو انہوں نے اس جام کو دیکھ کر اس کے بارے میں ہم سے دریافت کیا، ہم نے کہا کہ اس کے علاوہ انہوں نے اور کوئی مال نہیں چھوڑا اور نہ ہمیں دیا ہے، جب میں مشرف باسلام ہوگیا تو مجھے اس کا خوف ہوا، چناچہ میں ان کے گھر والوں کے پاس گیا اور انھیں پورا واقعہ سنا کر پانچ سو درہم ان کو دے دیے اور ان کو بتادیا کہ اتنی اور رقم میرے ساتھی کے پاس بھی موجود ہے، چناچہ وہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے گواہوں کا مطالبہ کیا، وہ گواہ نہ پیش کرسکے، آپ نے انھیں قسم کھانے کا حکم دیا، چناچہ وہ اس کے لیے تیار ہوگئے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اے ایمان والو تمہارے آپس میں دو شخص وصی ہونا مناسب ہے۔ (الخ) ۔ چناچہ حضرت عمر و بن العاص اور ایک شخص نے کھڑے ہو کر قسم کھالی اور پانچ سو بقیہ درہم عدی بن بداء سے نکلوائے۔ فائدہ : حافظ ذہبی نے اس چیز پر اعتماد کیا ہے کہ جس تمیم کا اس روایت میں ذکر ہے وہ تمیم داری نہیں ہیں اور اس چیز کو انہوں مقاتل بن جان کی طرف منسوب کیا ہے اور حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ اس روایت میں داری کی تصریح کرنا اچھا نہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠٦ (یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَہَادَۃُ بَیْنِکُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّۃِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ ) یعنی موت سے قبل وصیت کے وقت اپنے لوگوں میں سے دو گواہ (مرد) مقرر کرلو۔ واضح رہے کہ وصیت کل ترکے کے ایک تہائی حصے سے زیادہ کی نہیں ہوسکتی۔ اگر جائیداد زیادہ ہے تو اس کا ایک تہائی حصہ بھی خاصا زیادہ ہوسکتا ہے۔ ُ (اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِکُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَاَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبَۃُ الْمَوْتِ ط) یا دوسرے دو آدمی تمہارے غیروں میں سے اگر تم زمین میں سفر پر (نکلے ہوئے) ہو اور (حالت سفر میں) تمہیں موت کی مصیبت پیش آجائے۔ یعنی حالت سفر میں اگر کسی کی موت کا وقت آپہنچے اور وہ وصیت کرنا چاہتا ہو تو ایسی صورت میں گواہان غیر قوم ‘ کسی دوسری بستی ‘ کسی دوسری برادری اور دوسرے قبیلے سے بھی مقرر کیے جاسکتے ہیں ‘ مگر عام حالات میں اپنی بستی ‘ اپنے خاندان میں رہتے ہوئے کوئی شخص انتقال کر رہا ہے تو اسے وصیّت کے وقت اپنے لوگوں ‘ رشتہ داروں اور قرابت داروں میں سے ہی دو معتبر آدمیوں کو گواہ بنانا چاہیے۔ (تَحْبِسُوْنَہُمَا مِنْم بَعْدِ الصَّلٰوۃِ ) یعنی جب وصیت کے بارے میں متعلقہ لوگ پوچھیں اور اس میں کچھ شک کا احتمال ہو تو نماز کے بعد ان دونوں گواہوں کو مسجد میں روک لیا جائے۔ (فَیُقْسِمٰنِ باللّٰہِ اِنِ ارْتَبْتُمْ ) اگر تمہیں ان کے بارے میں کوئی شک ہو کہ کہیں یہ وصیّت کو بدل نہ دیں ‘ کہیں ان سے غلطی نہ ہوجائے تو تم ان سے قسم اٹھوا لو۔ وہ نماز کے بعد مسجد میں حلف کی بنیاد پر شہادت دیں ‘ اور اس طرح کہیں : (لاَ نَشْتَرِیْ بِہٖ ثَمَنًا وَّلَوْ کَانَ ذَا قُرْبٰی) ہم اس کی کوئی قیمت وصول نہیں کریں گے ‘ اگرچہ کوئی قرابت دار ہی کیوں نہ ہو یعنی ہم اس شہادت سے نہ تو خود کوئی ناجائز فائدہ اٹھائیں گے ‘ نہ کسی کے حق میں کوئی ناانصافی کریں گے اور نہ ہی کسی رشتہ دار عزیز کو کوئی ناجائز فائدہ پہنچائیں گے۔ (وَلاَ نَکْتُمُ شَہَادَۃَ اللّٰہِ ) غور کریں گواہی اتنی عظیم شے ہے کہ اسے شَھَادَۃَ اللّٰہِ ‘ کہا گیا ہے ‘ یعنی اللہ کی گواہی ‘ اللہ کی طرف سے ‘ امانت۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

120. That is, pious, straightforward and trustworthy Muslims. That is, non-Muslims - Ed. 121. This shows that the testimony of non-Muslim witnesses in cases involving Muslims is appropriate only when no Muslim is available as a witness.

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :120 یعنی دیندار ، راست باز اور قابل اعتماد مسلمان ۔ سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :121 اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے معاملات میں غیر مسلم کو شاہد بنانا صرف اس حالت میں درست ہے جبکہ کوئی مسلمان گواہ بننے کے لیے میسر نہ آسکے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

73: یہ آیات ایک خاص واقعے کے پس منظر میں نازل ہوئی ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک مسلمان جس کا نام بُدیل تھا، تجارت کی غرض سے اپنے دو عیسائی ساتھیوں تمیم اور عدی کے ساتھ شام گیا۔ وہاں پہنچ کر وہ بیمار ہوگیا، اور اسے اندازہ ہوگیا کہ وہ بچ نہیں سکے گا۔ چنانچہ اس نے اپنے دوساتھیوں کو وصیت کی کہ میرا سارا سامان میرے وارثوں کو پہنچادینا۔ ساتھ ہی اس نے یہ ہوشیاری کی کہ سارے سامان کی ایک فہرست بناکر خفیہ طور سے اسی سامان کے اندر چھپادی۔ عیسائی ساتھیوں کو فہرست کا پتہ نہ چل سکا۔ انہوں نے سامان وارثوں کو پہنچایا، مگر اس میں ایک چاندی کا پیالہ تھا جس پر سونے کا ملمع چڑھا ہوا تھا، اور جس کی قیمت ایک ہزار درہم بتائی گئی ہے، وہ نکال کر اپنے پاس رکھ لیا۔ جب وارثوں کو بدیل کی بنائی ہوئی فہرست سامان میں سے ہاتھ لگی توان کو اس پیالے کا پتہ چلا، اور انہوں نے تمیم اور عدی سے مطالبہ کیا، انہوں نے صاف قسم کھالی کہ ہم نے سامان میں سے کوئی چیز نہ لی، نہ چھپائی ہے۔ لیکن کچھ عرصے کے بعد بدیل کے وارثوں کو پتہ چلا کہ وہ پیالہ انہوں نے مکہ مکرَّمہ میں ایک سنار کو فروخت کیا ہے۔ اس پر تمیم اور عدی نے اپنا موقف بدلا اور کہا کہ دراصل یہ پیالہ ہم نے بدیل سے خرید لیا تھا اور چونکہ خریداری کا کوئی گواہ ہمارے پاس نہیں تھا اس لئے ہم نے پہلے اس بات کا ذکر نہیں کیا تھا۔ اب چونکہ وہ خریداری کے مدعی تھے، اور مدعی پر لازم ہوتا ہے کہ وہ گواہ پیش کرے، اور یہ پیش نہ کرسکے توقاعدے کے مطابق وارثوں میں سے بدیل کے قریب ترین دو عزیزوں نے قسم کھائی کہ پیالہ بدیل کی ملکیت تھا اور یہ عیسائی جھوٹ بول رہے ہیں اس پر آنحضرتﷺ نے ان کے حق میں فیصلہ کردیا اور عیسائیوں کو پیالے کی قیمت دینی پڑی، یہ فیصلہ اسی آیتِ کریمہ کی روشنی میں ہوا جس میں اس قسم کی صورت حال کے لئے ایک عام حکم بھی بتادیا گیا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(106 ۔ 108) ۔ ترمذی، ابو داؤد، تفسیر ابن جریر وغیر میں امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ دو شخص نصرانی اور ایک شخص مسلمان ملک شام کی طرف تجارت کی غرض سے سفر کو گئے اور وہ مسلمان شخص بیمار ہو کر جب قریب المرگ ہوگیا تو اس نے اپنے مال کی ایک فہرست لکھ کر مال کی گٹھڑی میں رکھ دی اور وہ گٹھڑی ان دونوں نصرانیوں کو دے کر یہ وصیت کی کہ تم یہ گٹھڑی میرے وارثوں کو دے دینا اس مال میں ایک چاندی کا کٹورا سونے کے ملمع کا بھی تھا وہ کٹورا نصرانیوں نے اس مال میں سے نکال کر باقی کا مال اس مسلمانوں کے وارثوں کو دے دیا اس کٹورے کے نکالتے وقت ان نصرانیوں کی نظر اس فہرست پر نہیں پڑی اس مسلمانوں کے وارثوں نے جب مال کی گٹھڑی اچھی طرح کھولی تو وہ فہرست ان کی نظر پڑی اور فہرست کے موافق وہ کٹورا مال میں نظر نہ آیا۔ مسلمان شخص کے وارثوں نے اس کٹورے کا دعوی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روبروپیش کیا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان نصرانیوں کو قسم دی۔ انہوں نے قسم کھالی کہ جو مال اس مسلمان شخص نے مرتے وقت ہم کو دیا تھا ہم نے وہ سب مال اس کے وارثوں کے حوالہ کردیا پھر وہ کٹورا ایک سنار کے پاس سے نکلا اور اس مسلمان شخص کے وارثوں نے قسم کھائی کہ وہ کٹورا ان کے مورث کا تھا جس سے اس کٹورے کی قیمت ان نصرانیوں سے مسلمان کے وارثوں کو دلائی گئی اس قصہ پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اگرچہ ترمذی نے اس روایت کو حسن غریب کہا ہے ١ ؎ لیکن ابن جریر کی سند معتبر ہے ٢ ؎ علاوہ اس کے یہ روایت علی بن مدینی کے قول کے حوالہ سے صحیح بخاری میں بھی ہے ٣ ؎۔ علی بن مدینی نے جو یہ کہا ہے کہ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن ابی القاسم نامعلوم الحال ہے۔ یہ ابن ابی القاسم محمد بن ابی القاسم ہے جس کو یحییٰ بن معین اور ابو حاتم نے ثقہ کہا ہے ٤ ؎ جس سے ابن ابی القاسیم کے نامعلوم ہونے کا شبہ رفع ہوگیا۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ کوئی مسلمان قریب المرگ حالت سفر میں جب اپنے وارثوں سے دور ہو اور اس کے پاس کچھ مال بھی تو اس کو چاہیے کہ اس مال کو وارثوں تک پہنچانے کے لئے دو مسلمانوں کو وصی اور وصیت کا گواہ کر دیوے۔ اگر یہ سفر ایسی سرزمین کا ہو جہاں مسلمان وصی نہ ہو تو وصی کے لئے پھر اسلام کی شرط باقی نہ رہوے گی اس کے بعد وصی لوگوں کے بیان پر وارثوں کو کچھ اعتراض نہ ہوگا تو ان دونوں شخصوں کے بیان پر فیصلہ ہوجاوے گا کیونکہ دونوں شخص وصی بھی ہیں اور وصیت کے گواہ بھی ہیں اور اگر میت کے وارثوں کو وصیت کے گواہوں کے حق میں کچھ بد ظنی پیدا ہوجاوے تو ان وصیت کے گواہوں کو یہ حلف دیا جاوے گا کہ وصیت کی باب میں ان کا بیان صحیح ہے اس حلف کے بعد بھی میت کے وارث اگر اپنی حق تلفی بیان کریں گے تو ان وارثوں سے گواہان وصیت کے خلاف بیان کے ثبوت میں کچھ شہادت ہوگی تو وہ لیجاوے گی ورنہ گواہان وصیت کے خلاف بیان پر میں کے وارثوں سے حلف لیا جا کر اسی پر فیصلہ اخیر صادر ہوجاوے گا۔ جو علماء مدعی اور گواہوں سے قسم لینے کے مخالف ہیں انہوں نے وصی لوگوں سے قسم لینے میں طرح طرح شبہات کئے ہیں لیکن حقیقت میں یہ فریقین کا حلف اسی طرح کا ہے جس طرح لعان کے مسئلہ میں فریقین کو حلف دیا جاتا ہے۔ لعان مسئلہ کی تفصیل سورة النور میں آوے گی جس کا حاصل یہ ہے کہ اگر کوئی میاں اپنی بی بی پر بدکاری کی تہمت لگا دے اور گواہ نہ ہوں تو مرد پر ثبوت کی غرض سے اور عورت پر براءت کی غرض سے قسم آتی ہے من بعد الصلوٰۃ کی تفسیر جن علماء نے عصر کی نماز کے بعد لکھی ہے وہ صحیح معلوم ہوتی ہے کیونکہ صحیح بخاری وغیرہ میں ابوہریرہ (رض) کی حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کے بعد کی جھوٹی قسم کو خوفناک اور اللہ تعالیٰ کی نظر رحمت سے دور ہوجانے کا سبب فرمایا ہے ١ ؎۔ آگے فرمایا یہ وارثوں کی قسم کا حکم اس لئے ہے کہ وصیت کے گواہوں کو یہ خوف رہے کہ وارثوں کی قسم کے آگے ان کی قسم جھوٹی ٹھہرا کر ان کی رسوائی نہ ہو اور یہ بھی فرمایا کہ عام مسلمانوں کو جھوٹی قسم سے اور شریعت میں اور مناہی کی جو باتیں ہیں ان سے بچنا اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنا اور احکام الٰہی کو فرمانبرداری کی نیت سے سننا چاہیے اس نصیحت کے بعد بھی جو کوئی نافرمانی کرے گا تو اللہ تعالیٰ ایسے نافرمان لوگوں کو زبردستی راہ راست پر لانا نہیں چاہتا کس لئے کہ دنیا انتظام الٰہی کے موافق امتحان کی جگہ ہے زبر دستی کی جگہ نہیں ہے۔ معتبر سند سے ابو داؤد میں ابو موسیٰ اشعری (رض) کا ایک قصہ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ کوفہ کا رہنے والا ایک مسلمان شخص حالت سفر میں جب مرنے لگا تو اس نے اہل کتاب میں سے دو شخصوں کو وصیت کا گواہ قرار دیا۔ ابو موسیٰ اشعری (رض) کوفہ کے حاکم تھے اس لئے یہ مقدمہ ان کے روبرو پیش ہوا اور انہوں نے اس آیت کے موافق گواہوں سے قسم لے کر مقدمہ کا فیصلہ کردیا ٢ ؎۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض مفسروں نے اس آیت کو منسوخ العمل جو قرار دیا ہے یہ صحیح نہیں کیونکہ آیت اگر حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں منسوخ ہوجاتی تو پھر صحابہ کے زمانہ تک اس کا عمل کو منکر باقی رہتا۔ اور ابو موسیٰ اشعری (رض) کے فیصلہ کو سب صحابہ کیونکر تسیم کرتے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(5:106) شھادۃ بینکم ذواعدل منکم۔ آپس میں تمہاری گواہی تم میں سے دو معتبر اور صاحب عدل شخص ہیں۔ اواخران یا دو اور شخص من غیرکم غیروں میں سے ۔ غیر قبیلہ۔ غیر مسلم (جمہور) تحبسوبھما تم ان دونوں کو روک لو۔ ھبس یحبس (ضرب) روکے رکھنا مضارع جمع مذکر حاضر۔ ھما ضمیر تثنیہ مذکر غائب ان ارتبتم۔ اگر تم شک میں پڑے۔ اگر تمہیں شک پڑجائے۔ ارتاب (افتعال) ریب (مادہ) لا نشتری بہ ۔۔ لمن الاثمین۔ یہ الفاظ جن گواہان سے قسم لی جارہی ہے وہ کہیں گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 یعنی دو دیندار اور راست باو و قابل اعتماد شخصوں کی۔3 اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان کسی کافر کو اپنے معاملہ میں اسی وقت شاہد بنا سکتا ہے جب مسلمان گواہ بننے کے لیے میسر نہ ہوں بعض صحابہ اور تابعین کا یہی مسلک ہے اور امام ارازی فرماتے ہیں کہ او من غیر کم کی تفسیر غیرک مسلم سے کرنا سیاق آیت کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ (کبیر، شوکانی4 یا کسی بھی نماز کے بعد لیکن اکثر علما عصر کی نماز کے بعد ہی کے قائل ہیں کیونکہ اس وقت جھوٹی شہادت دینے والے پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہوتا ہے، (شوکانی)5 خلاصہ یہ کہ مسلمان کو چاہیے کہ مرتے وقت اپنی وصیت پر دو معتبر مسلمانوں کو گواہ بنائے لیکن سفر کی حالت میں مسلمان گواہ نہ مل سکیں تو کافروں کی بھی گواہ بناسکتا ہے پھر اگر ان کافروں کی گواہی کے متعلق شبہ پیدا ہوجائے تو عصر کی نماز کے بعد ان سے اس گواہی پر حلف لیا جاسکتا ہے اس کے بعد بھی اگر کسی طور معلوم ہوجائے کہ انہوں نے جھوٹی قسم کھائی ہے یا خیانت کا ارتکاب کیا ہے تو میت کے وارثو میں سے دو آدمی جو سب سے زیادہ قریبی عزیز ہوں ان کے خلاف حلف اٹھا کر اپنا حق وصول کرسکتے ہیں (فتح القدیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

آیت نمبر 106 تا 108 لغات القرآن : شھادۃ (گواہی) ۔ حضر (آیا۔ حاضر ہوا) ۔ الوصیۃ (وصیت کرنا) ۔ اثنین (دو ) ۔ ذوا عدل (دو انصاف والے) ۔ اخران (دوسرے دو ) ۔ من غیرکم (تمہارے سوا اوروں میں سے) ۔ ضربتم (تم چلے۔ تم نے سفر کیا) اصابت (پہنچ گئی) ۔ مصیبۃ (مصیبت) ۔ تحسبون (تم روک لو) ۔ یقسمن (وہ دونوں قسم کھائیں) ۔ ارتبتم (تمہیں شبہ ہوا) ۔ لانشتری (ہم نہیں خریدتے۔ نہیں لیتے) ۔ ثمن (قیمت۔ مال) ۔ ذاقربی (رشتہ دار) ۔ الاثمین (الاثم) ۔ گناہ گار عثر (مطلع ہوا۔ واقف ہوا) ۔ استحقا (حق دبا لیا) ۔ یقومن (دو کھڑے ہوں) ۔ مقام (جگہ) ۔ استحق (جس نے حق دبایا) ۔ الاولیین (قریبی رشتہ دار ہوں) ۔ احق (زیادہ حق دار ہے) ۔ ما اعتدینا (ہم نے زیادتی نہیں کی) ۔ ادنی (قریب ہے) ۔ ان یا توا (یہ کہ تم لے آؤ۔ (یہ کہ تم آؤ) ۔ ترد (رد کردی جائے گی) ۔ اسمعوا (تم سنو) ۔ تشریح : یہ آیات وصیت کے سلسلہ میں نازل کی گئی ہیں۔ غیر منقولہ جائداد ایک ٹھوس چیز ہے۔ وہاں میت سے وارثوں تک مال صحیح پہنچنے میں درمیانی لوگوں کی طرف سے خطرہ بہت کم ہوتا ہے۔ لیکن اشیائے منقولہ میں اس کا خطرہ زیادہ ہے خصوصاً جب کہ وصیت کرنے والا پردیس میں ہو۔ چونکہ ہر مرنے والے کے حالات یکساں نہیں ہوتے ممکن ہے کسی کو وصیت کا موقع نہ ملے۔ اس لئے ان آیات میں لازمی حکم نہیں دیا گیا بلکہ صرف بہترین تدبیر بتائی گئی ہے۔ مرنے والے کو اگر موقع ملے تو باضابطہ وصیت کرکے مرے۔ اس وصیت پر دو گواہیاں کے لے۔ دو مسلمان ہوں ورنہ ایک مسلم ایک کافر کی۔ اور یہ بھی نہ ہوسکے تو کفار کی گواہی لے لی جائے۔ چونکہ یہ خطرہ ہے کہ ان گواہوں کا اپنایا اپنے کسی دوست یا رشتہ دار کا مفاد اس وصیت سے وابستہ ہو اور مرنے والے کی موت کے بعد اس وصیت میں ترمیم کردیں۔ اس لئے جس وارث کو (ی اور ثا کو) حق تلفی کی شکایت پیدا ہوجائے۔ وہ مقدمہ قاضی کے پاس لائے۔ اگر کوئی ثبوت نہ ہو اور معاملہ کا فیصلہ سراسر شہادت پر ہو تو قاضی ان گواہوں سے ان جملوں کے ساتھ حلف لے سکتا ہے کہ اللہ کی قسم ہم اس قسم کے بدلے میں کوئی نفع نہیں لینا چاہتے اگرچہ وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں اور ہم گواہی کو ہرگز نہ چھپائیں گے اور اگر ہم ایسا کریں گے تو سخت گناہ گار ہوں گے۔ لیکن اگر کسی ثبوت سے پتہ لگ جائے کہ گواہوں نے جھوٹا حلف اٹھایا ہے تو انہیں برخاست کرکے ایسے دو آدمی مقرر کئے جائیں جو ان کے مقابلہ میں گواہی دینے کے زیادہ اہل ہوں ان لوگوں میں سے ہوں جن کی حق تلفی ہوئی ہو پھر ان سے حلف لیا جائے۔ بہتر تو یہ ہے کہ اگر یہ نئے گواہ حلف اٹھالیں تو قاضی ان کی بنیاد پر مقدمہ کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ یہ جو کہا ہے کہ ” نماز کے بعد دو گواہوں کو روک لو “ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ مسلمان ہوں گے تو نماز کے بعد اور وہ بھی مسجد میں اور وہ بھی اتنے لوگوں کے سامنے کیا جھوٹ بولیں گے اور بظاہر چھوٹا حلف اٹھانا ممکن نہیں ہے۔ اشارہ عصر کی نماز کے بعد کا ہے۔ اس وقت کی تعظیم اہل کتاب بھی کرتے تھے۔ یہاں حلف کی اہمیت ہے۔ جو گواہ یا جو فریق حلف نہ اٹھائے مقدمہ اس کے خلاف جاسکتا ہے۔ لیکن جو غیر ورثا ہیں یا غیر وصی ہیں حلف کی شرط ان پر نہیں۔ آیت 106 میں جو ” تحبسونھما “ آیا ہے تو چند فقہا کے نزدیک اس کے معنی یہ ہیں کہ گواہ یا گواہوں کو بھاگنے کا موقع نہ دیا جائے ضرورت پڑے تو پکڑ کر رکھا جائے یا پکڑوا کر بلایا جائے۔ یہ آیات ایک خاص مقدمہ کے سلسلہ میں نازل ہوئی تھیں۔ یہ مقدمہ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عدالت میں پیش ہوا تھا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں مخصوص حالات میں مسلمانوں کو اپنے آپ کی فکر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ جس میں بعض لوگوں سے فریضۂ تبلیغ سے کوتاہی کا اندیشہ ہوسکتا تھا۔ اسے دور کرنے کے لیے یہ حکم نازل ہوا کہ فریضۂ تبلیغ ایک شہادت ہے شہادت کی ایک قسم گواہی ہے۔ مشکل اور نازک وقت میں بھی اسے ٹھیک طور پر ادا کرنا چاہیے۔ آیت کا پس منظر مفسرین نے اس طرح ذکر کیا ہے جو بخاری کتاب الوصایا میں مختصر لیکن احادیث اور سیرت کی دوسری کتب میں تفصیل کے ساتھ آیا ہے حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ بنو سہم قبیلے کا ایک مسلمان جس کا نام بدیل تھا تمیم داری اور عدی کے ساتھ سفر میں تھا تمیم اور عدی اس وقت عیسائی تھے۔ حضرت بدیل راستے میں بیمار ہوئے اور فوت ہوگئے۔ انھوں نے فوت ہونے سے پہلے اپنے سامان کی ایک فہرست تیار کرکے چپکے سے اپنے سامان میں رکھ دی۔ اس سامان میں ایک قیمتی پیالہ تھا جسے سونے کی تار سے جوڑا گیا تھا۔ فوت ہونے والے نے وصیت کی کہ یہ سامان میرے ورثاء تک پہنچا دیا جائے۔ واپسی پر عدی اور تمیم داری نے یہ سامان مرحوم کے ورثاء کے حوالے کیا۔ سامان کھولنے پر جب فہرست ملیتو اس میں سے پیالہ غائب تھا جسے عدی اور تمیم داری نے مدینے کے ایک سنار کے ہاتھ بیچ ڈالا تھا مرحوم کے ورثاء نے ان دونوں سے پوچھا کہ فوت ہونے والے نے سامان سے اپنے علاج کے لیے کوئی چیز فروخت تو نہیں کی تھی ؟ انھوں نے نفی میں جواب دیا تب مرنے والے کے ورثاء نے سامان کی فہرست پیش کرتے ہوئے ان سے اس قیمتی پیالے کا مطالبہ کیا لیکن دونوں نے اس کا انکار کیا۔ بالآخر مقدمہ نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں پیش ہوا گواہی نہ ہونے کی وجہ سے عدی اور اس کا ساتھی بری قرار پائے۔ تھوڑے عرصہ کے بعد پیالہ سنار کے ہاں پایا گیا تب بدیل کے ورثاء نے دوبارہ اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے یہ بات رکھی آپ نے عدی اور تمیم کو بلایا اور ورثا نے آپ کی موجودگی میں ان دونوں کے سامنے قسم اٹھائی کہ ہم بالکل سچی قسم اٹھا رہے ہیں اور ان کی قسمیں جھوٹی ہیں۔ یہ حلف نماز عصر کے بعد دیا گیا تھا اور آپ کو یقین ہوگیا کہ بدیل کے ورثاء کی قسم سچی ہے جس بناء پر دونوں عیسائیوں سے پیالے کی قیمت ایک ہزار درہم وصول کرکے ورثاء کو دی گئی بعد ازاں عدی اور تمیم مسلمان ہوئے تو انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا واقعی ہم نے پیالہ چوری کیا تھا۔ اس وقت سے یہ قانون جاری ہوا کہ سفر کی حالت میں ایسا واقعہ پیش آجائے اور بیمار کو اپنی موت کا یقین ہونے لگے تو وہ اپنا سامان دوسرے کے حوالے کرتے ہوئے دو مسلمان گواہ بنائے۔ اگر مسلمان نہ ہوں تو غیر مسلموں میں بھی دو عادل گواہ مقرر کیے جاسکتے ہیں قسم اٹھانے والے نماز عصر کے بعد کھڑے ہو کر ان الفاظ کے ساتھ اللہ کی قسم اٹھائیں کہ ہم ذاتی مفاد اور کسی عزیز کی طرفداری کیے بغیر اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھتے ہوئے اور کوئی چیز چھپائے بغیر حلف دیتے ہیں کہ اگر جھوٹی قسم اٹھائیں گے تو ہم مجرم ہوں گے۔ اس موقع پر قرآن مجید کا یہ ارشاد سامنے رکھتے ہوئے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حلف دینے والے کو اس کے حلف سے پہلے اللہ تعالیٰ کا خوف دلایا کرتے تھے۔ لہٰذا حلف لینے والے کی ذمہ داری ٹھہری کہ وہ قسم لینے سے پہلے اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی وصیت کرے۔ (عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ہِلَالَ بْنَ أُمَیَّۃَ قَذَفَ امْرَأَتَہُ فَجَاءَ فَشَہِدَ وَالنَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُولُ إِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَکُمَاکَاذِبٌ فَہَلْ مِنْکُمَا تَاءِبٌ ثُمَّ قَامَتْ فَشَہِدَتْ )[ رواہ البخاری : کتاب الطلاق، باب یبدء الرجل بالتلاعن ] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہلال بن امیہ (رض) نے اپنی بیوی پر الزام لگایا تو وہ آئے اور گواہی دی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک جھوٹا ہے۔ کیا تم میں کوئی ہے جو تو بہ کرے ؟ پھر وہ عورت کھڑی ہوئی اور اس نے گواہی دی۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو (رض) عَنْ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ الْکَبَاءِرُ الْإِشْرَاک باللّٰہِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَیْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَالْیَمِینُ الْغَمُوسُ ) [ رواہ البخاری : کتاب الایمان والنذور، باب یمین الغموس ] ” عبداللہ بن عمرو (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی جان کو قتل کرنا اور جھو ٹی قسم اٹھا نا کبیرہ گناہوں میں سے ہیں۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَی یَمِینٍ یَقْتَطِعُ بِہَا مَالَ امْرِءٍ ، ہُوَ عَلَیْہَا فَاجِرٌ، لَقِیَ اللَّہَ وَہْوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی (إِنَّ الَّذِینَ یَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللَّہِ وَأَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیلاً ) الآیَۃَ )[ رواہ البخاری : باب الخصومۃ ] ” حضرت عبداللہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا جو آدمی کسی کا مال بٹورنے کے لیے قسم اٹھاتا ہے اور وہ اس میں جھوٹا ہے۔ وہ اللہ کو اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہوگا۔ اس وقت اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی (بےشک وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور قسموں کے عوض تھوڑی قیمت وصول کرتے ہیں ) “ مسائل ١۔ گناہ میں ملوث لوگوں کے بجائے دوسرے لوگ گواہی دیں۔ ٢۔ گواہی دینے والوں کو کسی پر زیادتی نہیں کرنی چاہیے۔ ٣۔ اگر مسلمان عادل گواہ نہ ملیں تو غیر مسلم کو بھی گواہ بنایا جاسکتا ہے۔ ٤۔ ذاتی مفاد اور رشتہ داری سے بالا تر ہو کر گواہی دینا چاہیے۔ ٥۔ گواہ پر شک ہو تو قسم بھی لی جاسکتی ہے اگرچہ وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ ٦۔ جھوٹی گواہی دینا ظلم اور کبیرہ گناہ ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کن لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا : ١۔ اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (البقرۃ : ٢٥٨) ٢۔ اللہ تعالیٰ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (البقرۃ : ٢٦٤) ٣۔ اللہ تعالیٰ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (المائدۃ : ١٠٨) ٤۔ آخرت پر دنیا کو ترجیح دینے والوں کو ہدایت نہیں ملتی۔ (النحل : ١٠٧) ٥۔ گمراہی کا راستہ اختیار کرنے والوں کو ہدایت نہیں ملتی۔ (النحل : ٣٧) ٦۔ اللہ تعالیٰ جھوٹے لوگوں کو ہدایت نصیب نہیں فرماتا۔ (الزمر : ٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” ١٠٦ تا ١٠٨۔ ان تین آیات میں جو حکم دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جو شخص یہ محسوس کرے کہ اس کی موت قریب ہے اور وہ اپنے اہل و عیال کے نام وصیت لکھنا چاہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ دو عادل گواہ اہل اسلام میں سے بلائے ۔ اگر وہ مقیم ہو اور ان کو وہ وصیت دے دے تو جو وہ اس کے ورثاء کے سامنے رکھیں گے اور اگر یہ سفر میں ہو اسے مسلمان گواہ نہ مل رہے ہوں تو پھر یہ بات جائز ہے کہ وہ غیر مسلم دو افراد کو شاہد مقرر کرے ۔ اگر اہل اسلام یا اہل میت ان دو افراد کی شہادت بابت وصیت میں شک کریں کہ انہوں نے وصیت کے بارے میں جو شہادت دی ہے وہ درست نہیں ہے ‘ اور وہ جس چیز پر مامور کئے گئے تھے وہ ٹھیک طور پر ادا نہیں کر رہے تو ان گواہوں کو نماز کی ادائیگی کے بعد یا ان کے مذہب کے مطابق عبادت کرنے کے بعد یہ حلف دیا جائے گا کہ وہ یہ شہادت اپنی یا کسی اور کے کسی مفاد کے لئے نہیں دے رہے اگرچہ کوئی رشتہ دار ہو اور یہ کہ انہوں نے کوئی امر مخفی نہیں رکھا ہے اور اگر وہ ایسا کریں گے تو یقینا گناہگار ہوں گے ۔ اس قسم کے حلف کے بعد ان کی شہادت ثابت اور نافذ تصور ہوگی ۔ اب اس حلف کے بعد اگر یہ ثابت ہوجائے کہ انہوں نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے اور جھوٹی شہادت دی ہے اور امانت میں خیانت کی ہے تو وارثان میں سے دو افراد یہ حلف اٹھائیں گے کہ ان کی شہادت پہلے دو گواہوں کی شہادت سے زیادہ سچی ہے اور یہ کہ وہ یہ حلف اٹھا کر زیادتی نہیں کر رہے ہیں ۔ اس ثبوت اور حلف کے بعد پہلے دو گواہوں کی شہادت ختم تصور ہوگی اور ان دوسرے گواہوں کی شہادت نافذ ہوگی ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان انتظامات کے ذریعے کسی امر کی اچھی طرح چھان بین ہو سکے گی اور لوگ شہادت دے سکیں گے اور نیز لوگوں کو یہ خوف نہ رہے گا کہ ان کی شہادت کے خلاف اور شہادت قائم ہوگی ۔ (آیت) ” ذَلِکَ أَدْنَی أَن یَأْتُواْ بِالشَّہَادَۃِ عَلَی وَجْہِہَا أَوْ یَخَافُواْ أَن تُرَدَّ أَیْْمَانٌ بَعْدَ أَیْْمَانِہِمْ ۔ (٥ : ١٠٨) ” اس طریقے سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ لوگ ٹھیک ٹھیک شہادت دیں گے یا کم از کم اس بات ہی کا خوف کریں گے کہ ان کی قسموں کے بعد دوسری قسموں سے کہیں ان کی تردید نہ ہوجائے ۔ “ آخر میں تمام لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ خدا ترسی کا رویہ اختیار کریں اور اس بات کا احساس کریں کہ اللہ دیکھ رہا ہے ۔ اس سے ڈریں اور اس کے حکام کی اطاعت کریں ۔ اس لئے کہ اللہ ان لوگوں کو راست نہیں دکھاتا جو اس کے نافرمان ہیں اور نہ ان کی راہنمائی بھلائی کی طرف کرتا ہے ۔ (آیت) ” وَاتَّقُوا اللّہَ وَاسْمَعُواْ وَاللّہُ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ (108) ” اللہ سے ڈرو اور سنو اللہ نافرمانی کرنے والوں کو اپنی رہنمائی سے محروم کردیتا ہے ۔ “ ان تین آیتوں کی شان نزول کے بارے میں امام قرطبی فرماتے ہیں : اس بارے میں کوئی اختلاف میرے علم کی حد تک نہیں ہے کہ یہ آیات تمیم داری اور عدی ابن بداء مکہ کے بارے میں نازل ہوئی ۔ بخاری اور دارقطنی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ تمیم داری اور عدی ابن بداء مکہ کو آتے جاتے تھے ۔ ان کے ساتھ ایک نوجوان جو بنی سہم قبیلے کا تھا سفر پر نکلا ۔ وہ ایسی سرزمین میں فوت ہوا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا ۔ اس نے ان دونوں کو وصیت کی اور انہوں نے اس کا ترکہ اس نوجوان کے وارثوں تک پہنچایا ۔ انہوں نے ایک چاندی کا جام روک لیا جسے سونے سے مزین کیا گیا تھا ان دونوں کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قسم دی کہ نہ تو انہوں نے اسے چھپایا ہے اور نہ اس کو اس کے بارے میں کوئی علم ہے ۔ اس کے بعد یہ جام مکہ میں پایا گیا تو جن لوگوں سے ملا انہوں نے کہا ہم نے تمیم اور عدی سے خریدا ہے ۔ اب سہمی متوفی نوجوان کے وارث آئے ۔ انہوں نے یہ حلف اٹھایا کہ یہی جام سہمی کی ملکیت تھا ۔ اور یہ کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے زیادہ معتبر ہے اور یہ کہ ہم کوئی زیادتی نہیں کر رہے ۔ اس کے بعد سہمیوں کو جام دے دیا گیا ۔ یہ آیات اسی بارے میں نازل ہوئیں ۔ (الفاظ دارقطنی کے ہیں) یہ بات ظاہر ہے کہ یہ آیات جس معاشرے کی اصلاح کے لئے نازل ہوئیں اس معاشرے کے حالات کی چھاپ ان تدابیر کے اندر موجود ہے اور ان انتظامات کی نوعیت بھی ایسی ہو سکتی ہے ۔ اس خاص انداز شہادت اور خاص طریقہ ثبوت پر لازما اس وقت کے معاشرتی حالات اثر انداز ہوئے ہیں ۔ خصوصا نماز کے بعد حلف دینا ۔ کیونکہ نماز کے بعد انسان کا دینی شعور اور وجدان تازہ ہوتا ہے ۔ انسان اس بات سے بھی ڈرتا ہے کہ وہ بعد نماز مجمع عام میں حالف لے رہا ہے اور اگر یہ بات جھوٹی نکل جائے تو اسے بہت ہی بڑی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ یہ سب باتیں بتاتی ہیں کہ ان انتظامات کے اندر عربوں کے معاشرتی حالات کی جھلک موجود ہے اور اس وقت ایسے ہی اقدامات کی ضرورت تھی ۔ آج کل کے جدید معاشروں میں اثبات کے جدید وسائل بھی موجود ہیں اور انتظامات ثبوت کی نئی شکلیں بھی موجود ہیں مثلا کتابت ‘ رجسٹری ‘ امانت اور لاکرز ۔ سوال یہ ہے کہ آیا آج کے جدید معاشروں میں یہ انتظامات قابل عمل نہیں رہے ؟ ہم بعض اوقات کسی متعین معاشرے کو ذہن میں رکھ کر بات کرتے ہیں اور یہ فیصلہ کرلیتے ہیں کہ فلاں فلاں انتظامات اب اس دور جدید میں قابل عمل نہیں رہے ہیں اب ان کی ضرورت نہیں ہے اور یہ ان معاشروں کے بقیہ آثار ہیں جن کا دور گزر گیا ہے کیونکہ دور جدید کے وسائل بہت ہی ترقی کر گئے ہیں ۔ اکثر لوگوں کو ایسا دھوکہ ہوتا ہے اور یہ اس لئے ہوتا ہے کہ ہم اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ یہ دین تمام انسانیت کے لئے آیا ہے ۔ ہر دور کے لئے آیا ہے اور آج کے اس جدید دور میں بھی انسانیت کی ایک بڑی تعداد اور آبادی بالکل ابتدائی اور پسماندہ حالت میں ہے ۔ وہ پسماندگی میں کانوں تک ڈوبی ہوئی ہے ۔ انسانیت کے اس بڑے حصے کو ایسے انتظامات بھی موجود ہیں جو ایسی پسماندہ سوسائٹیوں کے اندر بھی چل سکتے ہیں ۔ اور جوں جوں یہ سوسائٹیاں ترقی کرتی جاتی ہیں ‘ اسلام ان کی ترقی یافتہ ضروریات پوری کرتا ہے ۔ اسلامی شریعت کے اندر امانت اور ثبوت کے لئے ضوابط موجود ہیں اور اسلامی شریعت پھر ان کو مزید ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہے ۔ یہ اسلامی نظام حیات اور اسلامی شریعت کا ایک معجزانہ کمال ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے یہ شریعت من جانب اللہ ہے اور اسے اللہ جل شانہ ‘ نے انسانیت کے لئے نازل فرمایا ہے ۔ نیز ہم اس بات کے سمجھنے میں بھی دھوکہ کھاتے ہیں کہ ہر ترقی پذیر معاشرے کی ضروریات اسلامی نظام میں پوری ہوتی ہیں ۔ اسلامی نظام حیات ہر معاشرے کے لئے اس کے حسب حالات انتظامات کرتا ہے جس میں جامعیت بھی ہوتی ہے اور لوگوں کے لئے یسر اور سہولت بھی ہوتی ہے ۔ اس طرح یہ دین ہر معاشرے کے حالت کے مطابق وسائل اور طریقے اختیار کرتا ہے ۔ پسماندگی میں بھی اور ترقی یافتہ صحراء اور جنگل میں بھی ‘ اس لئے کہ یہ دین تمام انسانوں کا دین ہے ۔ یہ ہر علاقے اور ہر زمانے کا دین ہے اور یہ بات بھی اس دین کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہے ۔ اور ہماری سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ ہم انسان یہ سمجھتے ہیں کہ ہم رب الناس کے مقابلے میں بھی لوگوں کے مفادات کو زیادہ سمجھتے ہیں اور جب ہم عملی صورت حال سے دوچار ہوتے ہیں تو ہمیں سخت شرمندگی ہوتی ہے ۔ لیکن واقعات و حوادث سے دو چار ہونے سے پہلے ہی ہمارے لئے یہ سمجھنا اچھا نہیں ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم انسانوں کے خالق کا احترام کریں اور بارگاہ الہ میں ایک بندے اور ایک غلام کی طرح بات کریں ۔ کاش کہ ہم نصیحت حاصل کریں ۔ کاش کہ ہم اپنی کوتاہ دامنی کا اعتراف کریں۔ درس نمبر ٥٤ ایک نظر میں : یہ سبق اگرچہ نسبتا طویل ہے لیکن اس کا تعلق بھی نظریاتی اصلاح کے مضمون کے ساتھ ہے ۔ نصاری کے عقائد میں جو انحرافات پیدا ہوگئے تھے ان کی اصلاح مقصود ہے ۔ یہ انحرافات اس قدر دور رس تھے کہ ان کی وجہ سے نصاری اپنے بنیادی نظریات میں سماوی دین کے اصولوں سے منحرف ہوگئے تھے ۔ اور وہ اس عقیدہ توحید ہی سے نکل گئے تھے جس کی تعلیم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اور ان سے پہلے آنے والے رسولوں نے دی تھی ۔ انہوں نے شرک کے وہ رنگ ڈھنگ اختیار کر لئے تھے جن کا کوئی تعلق دین اسلام سے نہ تھا ۔ چناچہ اس سبق کا مقصد بھی یہی ہے کہ لوگوں کے دین میں اللہ کی الوہیت اور بندوں کی عبودیت کا صحیح مفہوم بٹھایا جائے یہ اصلاح اس طرح کی جاتی ہے کہ ایک عظیم جلسے میں جس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تمام رسول اور تمام انسان موجود ہیں ‘ اس میں خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اعلان کرتے ہیں کہ میں نے ہر گز یہ تعلیم نہ دی تھی کہ لوگ مجھے میری والدہ اور دوسرے لوگوں کو الہ تسلیم کریں اور یہ کہ عیسائیوں کے مزعومات میں سے کسی بات کی تعلیم انہوں نے نہیں دی ہے ۔ قرآن کریم اس منظر کی خوب تصویر کشی کرتا ہے ‘ ان مناظر قیامت میں سے ایک ہے جسے قرآن کریم زندہ وتابندہ انداز میں پیش کرتا ہے ۔ یہ نہایت ہی موثر چلتا پھرتا منظر ہے ۔ ‘ دلوں کی گہرائیوں تک اتر جانے والا ‘ جس کے اثرات کا عالم یہ ہے کہ انسان کا وجود کانپ اٹھتا ہے ۔ انسان اس طرح متحرک ہے ذرا قرآن کے الفاظ میں غور کیجئے ۔ (آیت) ” یَوْمَ یَجْمَعُ اللّہُ الرُّسُلَ فَیَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُواْ لاَ عِلْمَ لَنَا إِنَّکَ أَنتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ (109) ” جس روز اللہ سب رسولوں کو جمع کرکے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا تو وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ علم نہیں ‘ آپ ہی تمام پوشیدہ حقیقتوں کو جانتے ہیں ۔ “ اللہ تعالیٰ ان تمام رسولوں کو جمع کرے گا جو مختلف زمانوں میں مبعوث ہوئے تھے ، یکے بعد دیگرے آئے تھے ‘ یا ایک ہی دور میں تھے مگر ان کا دائرہ کا علیحدہ تھا ۔ ہر ایک اپنے زون میں کام کر رہا تھا ۔ یا ہر شخص کسی قوم کے لئے مبعوث ہوا تھا اور اپنی قوم ہی میں کام کر رہا تھا ۔ ان سب کی دعوت ایک ہی تھی ‘ اگرچہ زمان ‘ مکان اور اقوام علیحدہ تھیں ۔ یہاں تک کہ خاتم النبین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگئے ۔ انہوں نے تمام جہانوں کے لئے مکمل آخری دعوت دے دی جو ہر مکان ‘ ہر زمان اور ہر قوم اور ملت کے لئے ہے ‘ ہر رنگ ونسل کے لئے ہے ۔ یہ سب رسول ‘ جو مختلف اقوام وملل میں مبعوث ہوئے مختلف زمانوں میں آئے ‘ اب ان کا بھیجنے والا انہیں ایک ہی جگہ جمع کرکے ان تمام سے ایک ہی سوال کر رہا ہے ۔ یہ سب لوگ دنیا میں انسانیت کے نمائندے ہیں اور ہر ایک کو ایک زون کی رسالت دی گئی ہے ۔ مختلف ادوار اور مقامات کے لئے ۔ اب یہ نمائندے سب کے سب رب البشریت کے سامنے حاضر ہیں اور ایک عظیم اجتماع کا عظیم منظر ہے ۔ اور یہ منظر زندگی کے ساتھ ہر سو حرکت کرتا نظر آتا ہے ۔ (آیت) ” یَوْمَ یَجْمَعُ اللّہُ الرُّسُلَ فَیَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ ۔ (٥ : ١٠٩) ” جس روز اللہ سب رسولوں کو جمع کرکے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا ۔ “ سوال یہ تھا ماذا اجبتم (تمہیں کیا جواب دیا گیا) یہ رسول انسان اور بشر تھے ۔ ان کا علم حضوری تھا ۔ اور وہ پوشیدہ چیزوں کے بارے میں کچھ نہ جانتے تھے ۔ انہوں نے اپنی اقوام کو راہ ہدایت کی طرف بلایا ۔ ان میں سے جس نے دعوت کو قبول کیا ۔ جس نے منہ پھیرا ‘ پھیرلیا ۔ اگرچہ رسول منکرین کے جواب کے بارے میں جانتے تھے کہ انہوں نے انکار کیا ہے لیکن ماننے والوں کی حقیقت سے باخبر نہ تھے کہ انہوں نے دل سے مانا ہے یا نہیں ۔ وہ تو صرف ظاہری بات پہ حکم لگا سکتے ہیں ۔ رہی پوشیدہ بات تو اس کا علم انہیں نہیں ہے اور اب وہ جناب باری میں حاضر ہیں اور وہ سب جاننے والوں سے زیادہ جاننے والا ہے اور وہ اللہ سے اس قدر ڈرتے ہیں جس قدر کوئی کسی سے ڈر سکتا ہے ۔ نیز یہ رسل باری تعالیٰ کی معرفت میں بھی بہت ہی اونچا مقام رکھتے ہیں اور وہ اس بات سے حیا کرتے ہیں کہ باری تعالیٰ کے حضور کھڑے ہو کر اپنے علم کا اظہار کریں جو علم وخبیر ہے ۔ یہ ایک عظیم اجتماع میں ایک عظیم مسئولیت کا دن ہے ۔ عالم بالا کے دربار میں ‘ سب لوگوں کے سامنے کھلے دربار میں اور یہ ایک ایسی جواب طلبی ہے جس کا مقصد یہ بھی ہے کہ سب کے سامنے جواب طلب کیا جائے اور ان لوگوں کے سامنے یہ سوال و جواب ہو جو دنیا میں رسولوں کی تکذیب کرتے تھے تاکہ علی الاعلان یہ بات واضح ہوجائے کہ یہ رسول از خود نہ آئے تھے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اللہ کا دین لے کر آئے تھے ۔ یہ دکھانا بھی مطلوب تھا کہ یہ کام وہ ذمہ داری سے کرتے رہے تھے محض شوق کے طور پر نہ کرتے تھے ۔ اب دیکھئے وہ اپنی مسئولیت کے مطابق جواب دے رہے ہیں ۔ اپنی ڈیوٹی ‘ فریضہ رسالت ‘ اپنی قوم کی بابت جواب دے رہے تھے جنہوں نے ان کی تکذیب کی تھی ۔ رہے رسول تو وہ اعلان کر رہے ہیں کہ سچا علم صرف اللہ کے پاس ہے ۔ اس لئے ان کے پاس جو تھوڑی سی معلومات ہیں ان کا اظہار وہ علام الغیوب خدا کے سامنے نہیں کرنا چاہتے یہ عدم واقفیت کا اظہار وہ محض ادب اور حیاء کی وجہ سے کر رہے ہیں اور اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے ۔ (آیت) ” قَالُواْ لاَ عِلْمَ لَنَا إِنَّکَ أَنتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ (109) ” تو وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ علم نہیں آپ ہی تمام پوشیدہ حقیقتوں کو جانتے ہیں ۔ “ رہے تمام دوسرے رسول ‘ جن کو بعض لوگوں نے مانا اور بعض نے ان کی تکذیب کی ‘ ان کی جانب سے سوال کا اصولی جواب ہی قبول کرلیا گیا ۔ انہوں نے کہہ دیا کہ صحیح علم تو اللہ کے پاس ہے جو علام الغیوب ہے ۔ انہوں نے اپنا اور اپنی قوم کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیا ۔ اس منظر میں ان رسولوں سے مزید کوئی سوال نہیں پوچھا جاتا ۔ مزید ضمنی سوال صرف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے ہوتا ہے ۔ ان سے یہ مزید سوال اس لئے کیا جاتا ہے کہ ان کے بارے میں ‘ ان کے بعد ان کی قوم سخت فتنے میں پڑگئی ، ان کے بارے میں فضا کے اندر پیچیدگی پیدا ہوئی اور ان کی ذات کے بارے میں لوگ ادہام اور خرافات کا شکار ہوگئے ، ان کی ذات ‘ ان کی صفات ‘ ان کی ولادت اور ان کی پرورش کے بارے میں ان کی قوم نے عجیب و غریب نظریات گھڑ لیے ۔ اب ان سے ان لوگوں کے سامنے پوچھا جاتا ہے ‘ جو انہیں الہ سمجھتے تھے ۔ ان کی عبادت کرتے تھے اور ان کی ذات اور ان کی والدہ کے اردگرد انہوں نے غلط افکار کے ہالے قائم کئے تھے ، ان کو مخاطب کرکے کہا جاتا ہے کہ دیکھو تم پر اور تمہاری والدہ پر میں نے کس قدر انعامات اور اکرامات کئے ۔ یہ کہ تمہیں بہت سے معجزات عطا کئے کہ لوگ تم پر ایمان لے آئیں ۔ بعض لوگوں نے ان کی سخت تکذیب کی ۔ بعض لوگ ان آیات ومعجزات کو دیکھ کر سخت فتنے میں پڑگئے اور انہیں الہ بنا دیا ۔ حالانکہ یہ آیات ومعجزات تو اللہ کے عطا کردہ تھے اور جن باتوں کا ظہور ان کے ہاتھوں ہوا تھا وہ اللہ کی تائید ونصرت سے ہوا تھا ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حالت سفر میں اپنے مال کے بارے میں وصیت کرنا حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص جو قبیلہ بنی سہم میں سے تھا اس کو موت نے آگھیرا اس وقت وہاں کوئی مسلمان نہیں لہذا اس نے اپنے دونوں ساتھیوں یعنی تمیم داری اور عدی بن بداء کو اپنے مال کی حفاظت اور ورثاء تک پہنچانے کے لئے وصی بنا دیا (اس وقت یہ دونوں ساتھی نصرانی تھے) اس نے اپنے مال کی فہرست بنا کر سامان میں رکھ دی اور اپنے دونوں ساتھیوں سے کہا کہ میرا یہ مال میرے وارثوں کو پہنچا دینا۔ ان دونوں نے مال تو پہنچا دیا لیکن میت کے وارثوں نے جب فہرست سے سامان کا میلان کیا تو اس میں ایک چاندی کا جام غائب پایا اس جام پر سونے کا کام بھی تھا، انہوں نے اس جام کا تقاضا کیا اور معاملہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پیش ہوا۔ آپ نے تمیم اور عدی کو قسم دلائی ان دونوں نے قسم کھالی کہ جام کا نہ ہمیں پتہ ہے اور نہ ہم نے چھپایا ہے اس کے بعد وہ جام مکہ معظمہ میں کسی تاجر کے پاس مل گیا، تاجر سے پوچھا گیا کہ یہ جام تمہارے پاس کہاں سے آیا ؟ تاجر نے بتایا کہ کہ ہم نے تو تمیم اور عدی سے خریدا ہے، اس کے بعد قبیلہ بنی سہم والے آدمی کے دو اولیاء کھڑے ہوے اور انہوں نے قسم کھائی کہ اللہ کی قسم ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی کی بنسبت درست ہے۔ اور یہ جام ہمارے آدمی کا ہے۔ آیت بالا ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ (رواہ الترمذی فی تفسیر سورة المائدہ) بعض روایات میں یوں ہے کہ تمیم داری نے خود بیان کیا کہ وہ جام ہم دونوں نے ایک ہزار درہم میں بیچ دیا تھا۔ پھر ہم دونوں (تمیم اور عدی) نے رقم تقسیم کرلی۔ جب میں نے اسلام قبول کرلیا تو مجھے گناہگاری کا احساس ہوا، لہٰذا میں مرنے والے کے گھر والوں کے پاس گیا اور پوری صورت حال بیان کی اور پانچ سو درہم ان کو ادا کردیئے اور یہ بتادیا کہ پانچ سو درہم میرے ساتھی (عدی) کے پاس ہیں۔ وہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خدمت میں حاضر ہوئے اور اس شخص کو بھی ساتھ لائے جو تمیم داری کے ساتھ تھا (یعنی عدی بن بداء) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مرنے والے کے ورثاء سے گواہ طلب کئے ان کے پاس گواہ نہ تھے لہٰذا آپ نے ان لوگوں سے فرمایا کہ تم لوگ اس شخص سے قسم لے لو۔ اس سے قسم لی گئی تو قسم کھا گیا اس پر آیت نازل ہوئی۔ (در منثور ص ٣٤١ ج ٢) آیت بالا سے معلوم ہوا کہ جب کوئی شخص سفر میں ہو اور اس کو موت کے آثار دکھائی دینے لگیں تو وہ دو آدمیوں کو وصی بنا دے یہ دونوں مسلمان دیانت دار ہونے چاہیں۔ اگر مسلمان نہ ملیں تو دوسری قوم میں سے دو آدمیوں کو وصی بنا دے اور یہ دونوں جب واپس آئیں تو مرنے والے کے وارثوں کو اس کا مال پہنچا دیں۔ اگر میت کے وارثوں کو شک ہو کہ ان دونوں نے کچھ مال چھپالیا ہے تو ان دونوں کو نماز کے بعد روک لیں تاکہ وہ قسم کھالیں۔ قسم دلائی جائے کہ ہمارے پاس اور کوئی مال نہیں ہے۔ نماز کے بعد روک کر قسم کھلانا تغلیظ یمین (یعنی قسم میں مضبوطی اور تاکید کے لئے ہے نماز کے بعد روکنا کوئی واجب نہیں) یہ لوگ اپنی قسم میں کہیں کہ ہمیں اپنی قسم کے ذریعے کوئی دنیاوی نفع مطلوب نہیں اگر ہماری قسم سے کسی قریبی رشتہ دار کو یہ پتہ چل جائے کہ مرنے والے کا مال اور بھی تھا جو وارثوں تک نہیں پہنچا تو وارثوں میں سے دو شخص اس بات پر قسم کھائیں کہ ہمارا مال ابھی باقی ہے وہ مال ہمیں ملنا چاہئے اور یہ بیان دیں کہ ہماری گواہی ان دونوں کی بہ نسبت صحیح ہے۔ ہم نے اپنی جان میں کوئی زیادتی نہیں کی، اگر ہم زیادتی کریں گے اور حد سے آگے نکلیں گے تو ظالموں میں سے ہوجائیں گے۔ یہ دونوں شخص جو مرنے والے کے اولیاء میں ہوں میت سے رشتہ کے اعتبار سے قریب تر ہوں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

171 یہ مبتداء ہے اور اِثنٰنِ اس کی خبر ہے۔ خبر سے پہلے شَھَادَۃُ مضاف محذوف ہے اصل میں شَھَادَۃُ اثنَیْنِ مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ کو اسی کا اعراب دے کر اس کے قائم مقام کردیا گیا۔ مِنْ بَعْدِ الصَّلٰوۃِ یہ قید اتفاقی ہے کیونکہ نماز میں مسلمان جمع ہوتے ہیں اس لیے شہادت کے سامنے ہو تو بہتر ہے۔ شرک فعلی کی نفی کے بعد شہادت (گواہی) کے مضمون کا ذکر بظاہر بےربط سا معلوم ہوتا ہے لیکن ایسا نہیں ہے اللہ کا کلام اس عیب سے پاک ہے۔ حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ تحریمات اللہ، تحریمات غیر اللہ نذور اللہ اور نذور غیر اللہ کے مذکورہ بالا بیان سے واضح ہوگیا کہ غیب دان اور کارساز صرف اللہ تعالیٰ ہے اس کے سوا نہ کوئی غیب دان ہے نہ متصرف و کارساز اس لیے قسم بھی اللہ کے نام ہی کی کھانی چاہئے۔ یہاں تک کہ غیر مسلموں سے بھی غیر اللہ کی قسم نہ لی جائے کیونکہ غیب دان اور کارساز صرف اللہ ہے اور کوئی نہیں اور جس کے نام کی قسم کھائی جائے اس کا غیب دان اور کارساز ہونا ضروری ہے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں ایک واقعہ پیش آیا دو عیسائی اور ایک مسلمان اکٹھے تجارتی سفر پر روانہ ہوئے۔ مسلمان بیمار ہوگیا اس نے ایک کاغذ پر اپنے سامان کی فہرست تیار کی اور اسے سامان میں چھپا دیا اور ان کو وصیت کی کہ وہ اس کا سامان اس کے وارثوں کو دیدیں۔ وہ فوت ہوگیا تو اس کے ساتھیوں نے اس کے سامان سے ایک نہایت قیمتی جام نکال لیا اور باقی سامان اس کے وارثوں کو دیدیا۔ جب وارثوں نے سامان میں رکھی ہوئی فہرست میں جام کا ذکر دیکھا لیکن سامان میں اسے نہ پایا تو ان دونوں سے اس کا مطالبہ کیا انہوں نے کہا ہمیں اس کا علم نہیں۔ چناچہ میت کے وارثوں نے یہ مقدمہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش کردیا آپ نے وارثوں سے گواہ طلب کیے ان کے پاس گواہ نہیں تھے اس لیے آپ نے وارثوں سے کہا کہ وہ ان سے کسی ایسی چیز کی قسم لیں جو ان کے دین میں بڑی سمجھی جاتی ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ قسم خواہ غیر مسلم سے لی جائے وہ صرف اللہ کے نام کی ہونی چاہئے نہ کہ غیر اللہ کی۔ یہ روایت ترمذی کی ہے، کے الفاظ یہ ہیں۔ فسالہم البینۃ فلم یجدوا فامرھم ان یستحلفوہ بما یعظم علی اھل دینہ فحلف فانزل اللہ یا ایہا الذین اٰمنوا شہادۃ بینکم الخ (خازن ج 3 ص 86) اس آیت میں فَیُقْسِمَان باللہِ مقصودی جملہ ہے یعنی اگر کوئی ایسی صورت پیش آجائے اور اس میں غیر مسلم سے قسم لینے کی ضرورت پڑجائے تو اس سے بھی اللہ کے نام کی قسم لینی چاہئے جیسا کہ کتب فقہ میں لکھا ہے کہ یہودی سے اس طرح قسم لی جائے واللہ الذی انزل التوراۃ علی موسیٰ علہ السلام اور عیسائی سے واللہ الذی انزل الانجیل علی عیسیٰ (علیہ السلام) اور آتش پرست سے واللہ الذی خلق النار (ہدایہ وغیرہ)

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

106 اے اہل ایمان جب تم میں سے کوئی مرنے لگے اور کسی کی موت سامنے آ کھڑی ہو اور وہ شخص وصیت کرنی چاہئے تو وصیت کے وقت آپس کی گواہی کے لئے تم میں سے دو ایسے شخص جو معتبر، امانت دار اور حق و انصاف والے ہوں ان دونوں کو گواہ یا وصی مقرر کرنا مناسب ہے اور اگر تم سفر میں ہو اور تم کو موت کا حادثہ پیش آجائے تو ان دونوں گواہوں یا وصیوں کا تمہارے غیروں میں سے ہونے کا بھی مضائقہ نہیں یعنی حضر میں ہو تب تو وہ دونوں گواہ یا وصی علی اختلاف الروایات مسلمان ہونے چاہئیں بلکہ اہل قرابت میں سے ہوں تو اور زیادہ بہتر ہے اور اگر سفر میں ہو جیسا کہ ایک صحابی کو یہ واقعہ پیش آیا تھا تب وصی یا گواہ غیر مسلموں کو بنا لینے کا بھی کچھ مضائقہ نہیں پھر اے وارثو ! اگر تم کو ان دونوں مقررہ اشخاص کی صداقت کے بارے میں کچھ شبہ اور شک ہوجائے تو حاکم وقت ان کو نماز کے بعد روک لے اور ان سے اللہ کی قسم کھلوا کر بیان لے یعنی یہ حلفیہ بیان عصر کی نماز کے بعد لیا جائے اور اگر وہ دونوں غیر مسلم ہوں تو جو وقت ان کی عبادت کا ہو اور وہ اس کا احترام کرتے ہوں اس وقت ان کا بیان لیا جائے اور وہ یوں کہیں کہ ہم اپنی اس قسم کے بدلے میں کوئی دنیوی نفع حاصل نہیں کرنا چاہتے خواہ ہمارے کسی قرابت دار ہی کا معاملہ کیوں نہ ہو اور نہ ہم اللہ تعالیٰ کی اس گواہی کو جس کے دینے کا ہم کو حکم ہے پوشیدہ رکھیں گے اور نہ کچھ چاہیں گے اگر ہم ایسا کریں تو یقینا ہم گناہگار ہوں گے یعنی ہم اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم بالکل صحیح بیان دیں گے۔