Surat ul Maeeda

Surah: 5

Verse: 31

سورة المائدة

فَبَعَثَ اللّٰہُ غُرَابًا یَّبۡحَثُ فِی الۡاَرۡضِ لِیُرِیَہٗ کَیۡفَ یُوَارِیۡ سَوۡءَۃَ اَخِیۡہِ ؕ قَالَ یٰوَیۡلَتٰۤی اَعَجَزۡتُ اَنۡ اَکُوۡنَ مِثۡلَ ہٰذَا الۡغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوۡءَۃَ اَخِیۡ ۚ فَاَصۡبَحَ مِنَ النّٰدِمِیۡنَ ﴿۳۱﴾ۚ ۛ ۙ

Then Allah sent a crow searching in the ground to show him how to hide the disgrace of his brother. He said, "O woe to me! Have I failed to be like this crow and hide the body of my brother?" And he became of the regretful.

پھر اللہ تعالٰی نے ایک کوے کو بھیجا جو زمین کھود رہا تھا تاکہ اسے دکھائے کہ وہ کس طرح اپنے بھائی کی نعش کو چھپا دے ، وہ کہنے لگا ہائے افسوس !کیا میں ایسا کرنے سے بھی گیا گزرا ہو گیا کہ اس کوے کی طرح اپنے بھائی کی لاش کو دفنا دیتا پھر تو ( بڑا ہی ) پشیمان اور شرمندہ ہو گیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Then Allah sent a crow who scratched the ground to show him how to hide the dead body of his brother. He (the murderer) said, "Woe to me! Am I not even able to be as this crow and to hide the dead body of my brother!" Then he became one of those who regretted. As-Suddi said that the Companions said, "When his brother died, Qabil left him on the bare ground and did not know how to bury him. Allah sent two crows, which fought with each other until one of them killed the other. So it dug a hole and threw sand over the dead corpse (which it placed in the hole). When Qabil saw that, he said, يَا وَيْلَتَا أَعَجَزْتُ أَنْ أَكُونَ مِثْلَ هَـذَا الْغُرَابِ فَأُوَارِيَ سَوْءةَ أَخِي ("Woe to me! Am I not even able to be as this crow and to hide the dead body of my brother!"). Ali bin Abi Talhah reported that Ibn Abbas said, "A crow came to the dead corpse of another crow and threw sand over it, until it hid it in the ground. He who killed his brother said, يَا وَيْلَتَا أَعَجَزْتُ أَنْ أَكُونَ مِثْلَ هَـذَا الْغُرَابِ فَأُوَارِيَ سَوْءةَ أَخِي (Woe to me! Am I not even able to be as this crow and to hide the dead body of my brother!)." Al-Hasan Al-Basri commented on the statement, فَأَصْبَحَ مِنَ النَّادِمِينَ (Then he became one of those who regretted). "Allah made him feel sorrow after the loss that he earned." The Swift Punishment for Transgression and Cutting the Relations of the Womb A Hadith states that the Prophet said, مَا مِنْ ذَنْبٍ أَجْدَرُ أَنْ يُعَجِّلَ اللهُ عُقُوبَتَهُ فِي الدُّنْيَا مَعَ مَا يَدَّخِرُ لِصَاحِبهِ فِي الاْاخِرَةِ مِنَ الْبَغْيِ وَقَطِيعَةِ الرَّحِم There is no sin that is more worthy of Allah hastening its punishment in this life, in addition to what He has in store for its offender in the Hereafter, more than transgression and cutting the relations of the womb. The act of Qabil included both of these. We are Allah's and to Him is our return.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٣] دنیا میں پہلا قتل اور وہ بھی ناحق :۔ قابیل نے اپنے نیک سیرت بھائی کو جب مار ڈالا تو تھوڑی دیر بعد لاش میں سڑانڈ اور بدبو پیدا ہونے لگی۔ اب اسے یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ اس لاش کو کیا کرے ؟ یہ تو امر واقع ہے کہ روئے زمین پر نوع انسانی میں یہ پہلا قتل تھا اور وہ بھی ناحق قتل تھا۔ اور غالب خیال یہ ہے کہ اس وقت تک کوئی انسان مرا بھی نہ تھا ورنہ اگر انسان کی لاش کو دفن کرنے کا طریقہ معلوم ہوتا تو قابیل تذبذب میں نہ پڑتا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے اس کی رہنمائی کے لیے دو کوے بھیجے جو آپس میں لڑ رہے تھے۔ ان میں سے ایک کوے نے دوسرے کو چونچیں مار کر ہلاک کر ڈالا۔ پھر اس نے اپنی چونچ سے زمین کو کریدنا شروع کردیا تاآنکہ اس میں اتنا گڑھا بن گیا جس میں مردہ کوے کی لاش کو چھپایا جاسکے۔ کوے نے مردہ کوے کی لاش کو اس گڑھے میں رکھ کر اوپر سے مٹی ڈال کر اسے زمین میں دفن کردیا۔ قابیل یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔ اس وقت وہ سوچنے لگا کہ مجھ میں اس کوے جتنی بھی عقل نہیں۔ خیر اس نے بھی اسی طرح زمین میں گڑھا کھود کر اپنے بھائی کی لاش کو زمین میں دبا دیا۔ جب دبا چکا تو اب اس کا نفس اسے ملامت کرنے لگا کہ ایک نیک سیرت اور شفیق بھائی اس سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوگیا اور اس بات پر بھی اسے ندامت ہوئی کہ اس نے اپنے بھائی کو قتل کر کے انتہائی وحشیانہ حرکت کا ارتکاب کیا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا يَّبْحَثُ فِي الْاَرْضِ : اور نقل میں یوں آیا ہے کہ ایک کوے نے زمین کھود کر دوسرے کوے کو دفن کیا، اس نے کوے کی خیر خواہی دوسرے کوے کے لیے دیکھی تو اپنے فعل پر پشیمان ہوا۔ (موضح) مگر یہ اسرائیلی روایات سے ماخوذ ہے، قرآن کے ظاہر الفاظ سے جو چیز معلوم ہوتی ہے وہ یہی ہے کہ اسے زمین کریدتے دیکھا تو اس نے سمجھ لیا کہ اسے دفن کردینا چاہیے۔ (قرطبی) فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِيْنَ : یعنی بھائی کے مرنے پر، پھر اسے ٹھکانے لگانے کی بات جلد سمجھ میں نہ آنے پر پشیمان ہوا، کیونکہ اگر وہ اپنے فعل پر پشیمان ہوتا اور توبہ کرتا تو گناہ معاف ہوجاتا اور دنیا میں جو قتل ہوتے ہیں ان کا گناہ اس پر نہ ہوتا۔ (قرطبی)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَبَعَثَ اللہُ غُرَابًا يَّبْحَثُ فِي الْاَرْضِ لِيُرِيَہٗ كَيْفَ يُوَارِيْ سَوْءَۃَ اَخِيْہِ۝ ٠ۭ قَالَ يٰوَيْلَــتٰٓى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ ہٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِيَ سَوْءَۃَ اَخِيْ۝ ٠ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِيْنَ۝ ٣١ۚۙۛ بعث أصل البَعْث : إثارة الشیء وتوجيهه، يقال : بَعَثْتُهُ فَانْبَعَثَ ، ويختلف البعث بحسب اختلاف ما علّق به، فَبَعَثْتُ البعیر : أثرته وسيّرته، وقوله عزّ وجل : وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/ 36] ، أي : يخرجهم ويسيرهم إلى القیامة، فالبعث ضربان : - بشريّ ، کبعث البعیر، وبعث الإنسان في حاجة . - وإلهي، وذلک ضربان : - أحدهما : إيجاد الأعيان والأجناس والأنواع لا عن ليس وذلک يختص به الباري تعالی، ولم يقدر عليه أحد . والثاني : إحياء الموتی، وقد خص بذلک بعض أولیائه، كعيسى صلّى اللہ عليه وسلم وأمثاله، ومنه قوله عزّ وجل : فَهذا يَوْمُ الْبَعْثِ [ الروم/ 56] ، يعني : يوم الحشر ( ب ع ث ) البعث ( ف ) اصل میں بعث کے معنی کسی چیز کو ابھارنے اور کسی طرف بیجھنا کے ہیں اور انبعث در اصل مطاوع ہے بعث کا مگر متعلقات کے لحاظ سے اس کے معنی مختلف ہوتے رہتے ہیں مثلا بعثت البعیر کے معنی اونٹ کو اٹھانے اور آزاد چھوڑ دینا کے ہیں اور مردوں کے متعلق استعمال ہو تو قبروں سے زندہ کرکے محشر کی طرف چلانا مراد ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/ 36] اور مردوں کو تو خدا ( قیامت ہی کو ) اٹھایا جائے گا پس بعث دو قمخ پر ہے بعث بشری یعنی جس کا فاعل انسان ہوتا ہے جیسے بعث البعیر ( یعنی اونٹ کو اٹھاکر چلانا ) کسی کو کسی کام کے لئے بھیجنا ) دوم بعث الہی یعنی جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو پھر اس کی بھی دوقسمیں ہیں اول یہ کہ اعیان ، اجناس اور فواع کو عدم سے وجود میں لانا ۔ یہ قسم اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے اور اس پر کبھی کسی دوسرے کو قدرت نہیں بخشی ۔ دوم مردوں کو زندہ کرنا ۔ اس صفت کے ساتھ کبھی کبھی اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو بھی سرفراز فرمادیتا ہے جیسا کہ حضرت عیسٰی (علیہ السلام) اور ان کے ہم مثل دوسری انبیاء کے متعلق مذکور ہے اور آیت کریمہ : ۔ فَهذا يَوْمُ الْبَعْثِ [ الروم/ 56] اور یہ قیامت ہی کا دن ہے ۔ بھی اسی قبیل سے ہے یعنی یہ حشر کا دن ہے غرب الْغَرْبُ : غيبوبة الشّمس، يقال : غَرَبَتْ تَغْرُبُ غَرْباً وغُرُوباً ، ومَغْرِبُ الشّمس ومُغَيْرِبَانُهَا . قال تعالی: رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ [ الشعراء/ 28] ، رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ [ الرحمن/ 17] ، بِرَبِّ الْمَشارِقِ وَالْمَغارِبِ [ المعارج/ 40] ، وقد تقدّم الکلام في ذكرهما مثنّيين ومجموعین «4» ، وقال : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] ، وقال : حَتَّى إِذا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَها تَغْرُبُ [ الكهف/ 86] ، وقیل لكلّ متباعد : غَرِيبٌ ، ولكلّ شيء فيما بين جنسه عدیم النّظير : غَرِيبٌ ، وعلی هذا قوله عليه الصلاة والسلام : «بدأ الإسلام غَرِيباً وسیعود کما بدأ» «5» وقیل : العلماء غُرَبَاءُ ، لقلّتهم فيما بين الجهّال، والغُرَابُ سمّي لکونه مبعدا في الذّهاب . قال تعالی: فَبَعَثَ اللَّهُ غُراباً يَبْحَثُ [ المائدة/ 31] ، وغَارِبُ السّنام لبعده عن المنال، وغَرْبُ السّيف لِغُرُوبِهِ في الضّريبة «6» ، وهو مصدر في معنی الفاعل، وشبّه به حدّ اللّسان کتشبيه اللّسان بالسّيف، فقیل : فلان غَرْبُ اللّسان، وسمّي الدّلو غَرْباً لتصوّر بعدها في البئر، وأَغْرَبَ الساقي : تناول الْغَرْبَ ، والْغَرْبُ : الذّهب «1» لکونه غَرِيباً فيما بين الجواهر الأرضيّة، ومنه : سهم غَرْبٌ: لا يدری من رماه . ومنه : نظر غَرْبٌ: ليس بقاصد، و، الْغَرَبُ : شجر لا يثمر لتباعده من الثّمرات، وعنقاء مُغْرِبٌ ، وصف بذلک لأنه يقال : کان طيرا تناول جارية فَأَغْرَبَ «2» بها . يقال عنقاء مُغْرِبٌ ، وعنقاء مُغْرِبٍ بالإضافة . والْغُرَابَانِ : نقرتان عند صلوي العجز تشبيها بِالْغُرَابِ في الهيئة، والْمُغْرِبُ : الأبيض الأشفار، كأنّما أَغْرَبَتْ عينُهُ في ذلک البیاض . وَغَرابِيبُ سُودٌ [ فاطر/ 27] ، قيل : جَمْعُ غِرْبِيبٍ ، وهو المُشْبِهُ لِلْغُرَابِ في السّواد کقولک : أسود کحلک الْغُرَابِ. ( غ رب ) الغرب ( ن ) سورج کا غائب ہوجانا غربت نغرب غربا وغروبا سورج غروب ہوگیا اور مغرب الشمس ومغیر بانھا ( مصغر ) کے معنی آفتاب غروب ہونے کی جگہ یا وقت کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ [ الشعراء/ 28] وہی ) مشرق اور مٖغرب کا مالک ہے ۔ رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ [ الرحمن/ 17] وہی دونوں مشرقوں اور مغربوں کا مالک ہے ۔ بِرَبِّ الْمَشارِقِ وَالْمَغارِبِ [ المعارج/ 40] مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم ۔ ان کے تثنیہ اور جمع لانے کے بحث پہلے گذر چکی ہے ۔ نیز فرمایا : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] کہ نہ مشرق کی طرف سے اور نہ مغرب کی طرف ۔ حَتَّى إِذا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَها تَغْرُبُ [ الكهف/ 86] یہاں تک کہ جب سورج کے غروب ہونے جگہ پہنچا ۔ اور ہر اجنبی کو غریب کہاجاتا ہے اور جو چیز اپنی ہم جنس چیزوں میں بےنظیر اور انوکھی ہوا سے بھی غریب کہہ دیتے ہیں ۔ اسی معنی میں آنحضرت نے فرمایا (58) الاسلام بدء غریبا وسعود کمابدء کہ اسلام ابتداء میں غریب تھا اور آخر زمانہ میں پھر پہلے کی طرح ہوجائے گا اور جہلا کی کثرت اور اہل علم کی قلت کی وجہ سے علماء کو غرباء کہا گیا ہے ۔ اور کوے کو غراب اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ بھی دور تک چلا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَبَعَثَ اللَّهُ غُراباً يَبْحَثُ [ المائدة/ 31] اب خدا نے ایک کو ابھیجا جو زمین کریدٹے لگا ۔ اور غارب السنام کے معنی کو ہاں کو بلندی کے ہیں کیونکہ ( بلندی کی وجہ سے ) اس تک پہنچنا مشکل ہوتا ہے اور غرب السیف کے معنی تلوار کی دھار کے ہیں کیونکہ تلوار بھی جسے ماری جائے اس میں چھپ جاتی ہے لہذا ی مصدر بمعنی فاعل ہے ۔ پھر جس طرح زبان کو تلوار کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے اسی طرح زبان کی تیزی کو بھی تلوار کی تیزی کے ساتھ تشبیہ دے کر فلان غرب اللسان ( فلاں تیز زبان ہے ) کہاجاتا ہے اور کنوئیں میں بعد مسافت کے معنی کا تصور کرکے ڈول کو بھی غرب کہہ دیا جاتا ہے اور اغرب الساقی کے معنی ہیں پانی پلانے والے ڈول پکڑا اور غرب کے معنی سونا بھی آتے ہیں کیونکہ یہ بھی دوسری معدنیات سے قیمتی ہوتا ہے اور اسی سے سھم غرب کا محاورہ ہے یعنی دہ تیر جس کے متعلق یہ معلوم نہ ہو کہ کدھر سے آیا ہے ۔ اور بلا ارادہ کسی طرف دیکھنے کو نظر غرب کہاجاتا ہے اور غرب کا لفظ بےپھل درخت پر بھی بولا جاتا ہے گویا وہ ثمرات سے دور ہے ۔ بیان کیا جاتا ہے کہ عنقاء جانور ایک لڑکی کو اٹھا کر دوردروازلے گیا تھا ۔ اس وقت سے اس کا نام عنقاء مغرب اوعنقاء مغرب ( اضافت کے ساتھ ) پڑگیا ۔ الغرابان سرینوں کے اوپر دونوں جانب کے گڑھے جو ہیت میں کوے کی طرح معلوم ہوتے ہیں ۔ المغرب گھوڑا جس کا کر انہ ، چشم سفید ہو کیونکہ اس کی آنکھ اس سفیدی میں عجیب و غریب نظر آتی ہے ۔ اور آ یت کریمہ : وَغَرابِيبُ سُودٌ [ فاطر/ 27] کہ غرابیب کا واحد غربیب ہے اور اس کے معنی کوئے کی طرح بہت زیادہ سیاہ کے ہیں جس طرح کہ اسود کحلک العراب کا محاورہ ہے ۔ ( یعنی صفت تاکیدی ہے اور اس میں قلب پایا جاتا ہے اصل میں سود غرابیب ہے ۔ بحث البَحْثُ : الکشف والطلب، يقال : بَحَثْتُ عن الأمر، وبحثت کذا، قال اللہ تعالی: فَبَعَثَ اللَّهُ غُراباً يَبْحَثُ فِي الْأَرْضِ [ المائدة/ 31] . وقیل : بَحِثَتِ الناقةُ الأرض برجلها في السیر : إذا شددت الوطء تشبيها بذلک . ( ب ح ث ( البحث ( ف) کے معنی کریدنا اور تلاش کرنا کے ہیں بحث عن الامر ویحثت کذا میں نے معاملہ کے متعلق کرید کی یا فلاں چیز کو تلاش کیا قرآن میں ہے : فَبَعَثَ اللَّهُ غُراباً يَبْحَثُ فِي الْأَرْضِ [ المائدة/ 31] . اب زیا نے ایک کوا بھیجا جو زمین کرید لگا ۔ اور جب اونٹنی چلتے وقت زمین پر سخت پاؤں رکھے د کہ مٹی اڑاتی ہوئی چلی جائے ) تو ایسے موقعہ پر بحثت الناقہ فی السیر کہا جاتا ہے ۔ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ كيف كَيْفَ : لفظ يسأل به عمّا يصحّ أن يقال فيه : شبيه وغیر شبيه، كالأبيض والأسود، والصحیح والسّقيم، ولهذا لا يصحّ أن يقال في اللہ عزّ وجلّ : كيف، وقد يعبّر بِكَيْفَ عن المسئول عنه كالأسود والأبيض، فإنّا نسمّيه كيف، وكلّ ما أخبر اللہ تعالیٰ بلفظة كَيْفَ عن نفسه فهو استخبار علی طریق التنبيه للمخاطب، أو توبیخا نحو : كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] ، كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] ، كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ [ التوبة/ 7] ، انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثالَ [ الإسراء/ 48] ، فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ [ العنکبوت/ 20] ، أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ [ العنکبوت/ 19] . ( ک ی ف ) کیف ( اسم استفہام ) اس چیز کی حالت در یافت کرنے کے لئے آتا ہے جس پر کہ شیبہ اور غیر شیبہ کا لفظ بولا جاسکتا ہو جیسے ابیض ( سفید اسود ( سیاہی ) صحیح ( تندرست ) سقیم ( بیمار ) وغیرہ ۔ لہذا اللہ تعالیٰ کے متعلق اس کا استعمال جائز نہیں ہے اور کبھی اس چیز پر بھی کیف کا اطلاق کردیتے ہیں جس کے متعلق سوال کر نا ہو مثلا کہا جاتا ہے کہ اسود اور ابیض مقولہ کیف سے ہیں اور جہاں کہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق کیف کا لفظ استعمال کیا ہے تو وہ تنبیہ یا قو بیخ کے طور پر مخاطب سے استخبار کے لئے لایا گیا ہے جیسے فرمایا : ۔ كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] کافرو تم خدا سے کیونکر منکر ہوسکتے ہو ۔ كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] خدا ایسے لوگوں کو کیونکر ہدایت دے ۔ كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ [ التوبة/ 7] بھلا مشرکوں کے لئے کیونکر قائم رہ سکتا ہے ۔ انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثالَ [ الإسراء/ 48] دیکھو انہوں نے کس کس طرح کی تمہارے بارے میں باتیں بنائیں ۔ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ [ العنکبوت/ 20] اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلقت کو پہلی مر تبہ پیدا کیا ۔ أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ [ العنکبوت/ 19] کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا کسی طرح خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا پھر کس طرح اس کو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے ۔ وری يقال : وَارَيْتُ كذا : إذا سترته . قال تعالی: قَدْ أَنْزَلْنا عَلَيْكُمْ لِباساً يُوارِي سَوْآتِكُمْ [ الأعراف/ 26] وتَوَارَى: استتر . قال تعالی: حَتَّى تَوارَتْ بِالْحِجابِ [ ص/ 32] وروي أن النبيّ عليه الصلاة والسلام «كان إذا أراد غزوا وَرَّى بِغَيْرِهِ» ، وذلک إذا ستر خبرا وأظهر غيره . ( و ر ی ) واریت کذا ۔ کے معنی کسی چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ قَدْ أَنْزَلْنا عَلَيْكُمْ لِباساً يُوارِي سَوْآتِكُمْ [ الأعراف/ 26] ہم نے تم پر پوشاک اتاری کہ تمہارا سر ڈھانکے ۔ تواری ( لازم ) چھپ جانا ۔ قرآن میں ہے : ۔ حَتَّى تَوارَتْ بِالْحِجابِ [ ص/ 32] یہانتک کہ ( افتاب ) پردے میں چھپ گیا ۔ وریالخبر کے معنی تو ریہ کرنے کے ہیں یعنی اصل بات کو چھپا کر اسے کسی اور طریقہ سے ظاہر کرنا اس طور پر کہ جھوٹ بھی نہ ہو ۔ اور اصل مقصد بھی ظاہر نہ ہونے پائے ) چناچہ حدیث میں ہے ۔ ( 143 ) «كان إذا أراد غزوا وَرَّى بِغَيْرِهِ»کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی غزوہ پر تشریف لے جاتے تو تو ریہ سے کام لیتے ۔ سوْأَةِ ( شرم گاه) وكنّي عن الْفَرْجِ بِالسَّوْأَةِ قال : كَيْفَ يُوارِي سَوْأَةَ أَخِيهِ [ المائدة/ 31] ، فَأُوارِيَ سَوْأَةَ أَخِي [ المائدة/ 31] ، يُوارِي سَوْآتِكُمْ [ الأعراف/ 26] ۔ اور کنایہ کے طور پر سوء کا لفظ عورت یا مرد کی شرمگاہ پر بھی بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : كَيْفَ يُوارِي سَوْأَةَ أَخِيهِ [ المائدة/ 31] اپنے بھائی کی لاش کو کیونکہ چھپائے ۔ فَأُوارِيَ سَوْأَةَ أَخِي [ المائدة/ 31] کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا ۔ يُوارِي سَوْآتِكُمْ [ الأعراف/ 26] کہ تمہار ستر ڈھانکے ، بَدَتْ لَهُما سَوْآتُهُما [ الأعراف/ 22] تو ان کے ستر کی چیزیں کھل گئیں ۔ لِيُبْدِيَ لَهُما ما وُورِيَ عَنْهُما مِنْ سَوْآتِهِما[ الأعراف/ 20] تاکہ ان کے ستر کی چیزیں جو ان سے پوشیدہ تھیں ۔ کھول دے ۔ عجز عَجُزُ الإنسانِ : مُؤَخَّرُهُ ، وبه شُبِّهَ مُؤَخَّرُ غيرِهِ. قال تعالی: كَأَنَّهُمْ أَعْجازُ نَخْلٍ مُنْقَعِرٍ [ القمر/ 20] ، والعَجْزُ أصلُهُ التَّأَخُّرُ عن الشیء، وحصوله عند عَجُزِ الأمرِ ، أي : مؤخّره، كما ذکر في الدّبر، وصار في التّعارف اسما للقصور عن فعل الشیء، وهو ضدّ القدرة . قال تعالی: أَعَجَزْتُ أَنْ أَكُونَ [ المائدة/ 31] ، وأَعْجَزْتُ فلاناً وعَجَّزْتُهُ وعَاجَزْتُهُ : جعلته عَاجِزاً. قال : وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ [ التوبة/ 2] ، وَما أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ فِي الْأَرْضِ [ الشوری/ 31] ، وَالَّذِينَ سَعَوْا فِي آياتِنا مُعاجِزِينَ [ الحج/ 51] ، وقرئ : معجزین فَمُعَاجِزِينَ قيل : معناه ظانّين ومقدّرين أنهم يُعْجِزُونَنَا، لأنهم حسبوا أن لا بعث ولا نشور فيكون ثواب و عقاب، وهذا في المعنی کقوله : أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئاتِ أَنْ يَسْبِقُونا [ العنکبوت/ 4] ، و «مُعَجِّزِينَ» : يَنسُبُون إلى العَجْزِ مَن تَبِعَ النبيَّ صلّى اللہ عليه وسلم، وذلک نحو : جهّلته وفسّقته، أي : نسبته إلى ذلك . وقیل معناه : مثبّطين، أي : يثبّطون الناس عن النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم کقوله : الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ [ الأعراف/ 45] ، وَالعَجُوزُ سمّيت لِعَجْزِهَا في كثير من الأمور . قال تعالی: إِلَّا عَجُوزاً فِي الْغابِرِينَ [ الصافات/ 135] ، وقال : أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ [هود/ 72] . ( ع ج ز ) عجز الانسان عجز الانسان ۔ انسان کا پچھلا حصہ تشبیہ کے طور ہر چیز کے پچھلے حصہ کو عجز کہہ دیا جاتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ كَأَنَّهُمْ أَعْجازُ نَخْلٍ مُنْقَعِرٍ [ القمر/ 20] جیسے کھجوروں کے کھو کھلے تنے ۔ عجز کے اصلی معنی کسی چیز سے پیچھے رہ جانا یا اس کے ایسے وقت میں حاصل ہونا کے ہیں جب کہ اسکا وقت نکل جا چکا ہو جیسا کہ لفظ کسی کام کے کرنے سے قاصر رہ جانے پر بولا جاتا ہے اور یہ القدرۃ کی ضد ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ أَعَجَزْتُ أَنْ أَكُونَ [ المائدة/ 31] اے ہے مجھ سے اتنا بھی نہ ہوسکا کہ میں ۔۔۔۔ ۔ اعجزت فلانا وعجزتہ وعاجزتہ کے معنی کسی کو عاجز کردینے کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ [ التوبة/ 2] اور جان رکھو کہ تم خدا کو عاجز نہیں کرسکو گے ۔ وَما أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ فِي الْأَرْضِ [ الشوری/ 31] اور تم زمین میں خدا کو عاجز نہیں کرسکتے ۔ وَالَّذِينَ سَعَوْا فِي آياتِنا مُعاجِزِينَ [ الحج/ 51] اور جہنوں نے ہماری آیتوں میں کوشش کی کہ ہمیں ہرادیں گے ۔ ایک قرات میں معجزین ہے معاجزین کی صورت میں اس کے معنی ہوں گے وہ یہ زعم کرتے ہیں کہ ہمیں بےبس کردیں گے کیونکہ وہ یہ گمان کرچکے ہیں کہ حشر ونشر نہیں ہے کہ اعمال پر جذا وسزا مر تب ہو لہذا یہ باعتبار معنی آیت کریمہ : أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئاتِ أَنْ يَسْبِقُونا [ العنکبوت/ 4] کیا وہ لوگ جو برے کام کرتے ہیں یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ ہمارے قابو سے نکل جائیں گے ۔ کے مترادف ہوگا اور اگر معجزین پڑھا جائے تو معنی یہ ہوں گے کہ وہ آنحضرت کے متبعین کیطرف عجز کی نسبت کرتے ہیں جیسے جھلتہ وفسقتہ کے معنی کسی کی طرف جہالت یا فسق کی نسبت کرنا کے ہوتے ہیں ۔ اور بعض کے نزدیک معجزین بمعنی مثبطین ہے یعنی لوگوں کو آنحضرت کی اتباع سے روکتے ہیں جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : ۔ الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ [ الأعراف/ 45] جو خدا کی راہ سے روکتے ( ہیں ) اور بڑھیا کو عجوز اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ بھی اکثر امور سے عاجز ہوجاتی ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ إِلَّا عَجُوزاً فِي الْغابِرِينَ [ الصافات/ 135] مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی ۔ أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ [هود/ 72] اے ہے میرے بچہ ہوگا اور میں تو بڑھیا ہوں ۔ ندم النَّدْمُ والنَّدَامَةُ : التَّحَسُّر من تغيُّر رأي في أمر فَائِتٍ. قال تعالی: فَأَصْبَحَ مِنَ النَّادِمِينَ [ المائدة/ 31] وقال : عَمَّا قَلِيلٍ لَيُصْبِحُنَّ نادِمِينَ [ المؤمنون/ 40] وأصله من مُنَادَمَةِ الحزن له . والنَّدِيمُ والنَّدْمَانُ والْمُنَادِمُ يَتَقَارَبُ. قال بعضهم : المُنْدَامَةُ والمُدَاوَمَةُ يتقاربان . وقال بعضهم : الشَّرِيبَانِ سُمِّيَا نَدِيمَيْنِ لما يتعقّبُ أحوالَهما من النَّدَامَةِ علی فعليهما . ( ن د م ) الندم واندامۃ کے معنی فوت شدہ امر پر حسرت کھانیکے ہیں ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ فَأَصْبَحَ مِنَ النَّادِمِينَ [ المائدة/ 31] پھر وہ پشیمان ہوا ۔ عَمَّا قَلِيلٍ لَيُصْبِحُنَّ نادِمِينَ [ المؤمنون/ 40] تھوڑے ہی عرصے میں پشیمان ہو کر رہ جائنیگے ۔ اس کے اصل معنی حزن کا ندیم جا نیکے ہیں اور ندیم ندمان اور منادم تینوں قریب المعنی ہیں بعض نے کہا ہے کہ مند نۃ اور مداومۃ دونوں قریب المعنی میں ۔ اور بقول بعض اہم پیالہ ( شراب نوش ) کو ندیمان اسلئے کہا جاتا ہے ۔ کہ انجام کا ر وہ اپنے فعل پر پشیمان ہوتے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

مردوں کی تدفین قول باری ہے (فبعث اللہ غرابا یبحث فی الارض لیریہ کیف یواری سواۃ اخیہ۔ پھر اللہ نے ایک کو آ بھیجا جو زمین کھودنے لگا تاکہ اسے بتائے کہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپائے) حضرت ابن عباس (رض) ، حضرت ابن مسعود (رض) ، مجاہد، معتدی، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ اس لاش کو کیسے ٹھکانے لگائے حتیٰ کہ ایک کوا نمودار ہوا جس نے زمین کھود کر ایک مردہ کوے کو دفنانا شروع کردیا۔ اس میں حسن بصری کے اس قول کے بطلان کی دلیل موجود ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے بیٹوں سے بنی اسرائیل کے دو افراد مراد ہیں۔ اس لئے کہ اگر یہ بات ایسی ہوتی تو مردے کو دفنانے کی بات اسے اس واقعہ سے پہلے معلوم ہوتی اس لئے کہ لوگوں میں یہ رسم اور عادت موجود تھی۔ مردوں کو دفنانے کا یہی طریقہ تھا۔ قول باری ہے (ثم اماتہ فاقبرہ۔ پھر اسے مار دیا اور قبر میں اتار دیا) یعنی دفنا دیا نیز قول باری ہے (الم نجعل الارض کفاتا احیاء و اموات۔ کیا ہم نے زمین کو زندہ دل اور مردوں کے جمع کرنے کی جگہ نہیں بنادی) ۔ قول باری (سواۃ اخیہ) کی دو تفسیریں کی گئی ہیں ایک ” اپنے بھائی کی لاش “ اس لئے کہ اگر وہ اس لاش کو اس طرح پڑی رہنے دیتا یہاں تک کہ اس میں تعفن پیدا ہوجاتا تو اس پر ” سواۃ “ کے لفظ کا اطلاق ہوتا۔ دوسری تفسیر ہے ” بھائی کی شرمگاہ “ یہاں دونوں مفہوم مراد لینا درست ہے اس لئے کہ لفظ میں دونوں کا احتمال ہے۔ سوء ۃ کے اصل معنی تکرہ یعنی ناپسندیدگی کے ہیں۔ اگر کوئی شخص ایسا کام کرے جو دوسرے کو ناپسند ہو اور اسے برا لگے تو اس موقعہ پر کہا جاتا ہے ” ساء ہ، یسوء ۃ، سوء اً “ اللہ تعالیٰ نے یہ واقعہ منصوص طور پر اس لئے بیان کیا کہ ہم اس سے عبرت حاصل کریں اور قاتل بھائی نے جو رویہ اختیار کیا تھا اس سے پرہیز کریں۔ حسن سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آپ کا یہ ارشاد منقول ہے (ان اللہ ضرب لکم ابنی آدم مثلاً فخذوا من خیرھما و دعواشرھما۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے آدم کے دو بیٹوں کی مثال بیان کی ہے اس لئے ان میں سے جو بھلا تھا اس کا طریقہ اختیار کرو اور برے کا طریقہ چھوڑ دو ۔ قول باری ہے (فاصبح من النار میں اس کے بعد وہ اپنے کئے پر بہت پچھتایا) ایک قول ہے کہ اسے قتل کے فعل پر ندامت ہوئی جو تقرب الٰہی کے سوا کسی اور مقصد کے تحت وقوع پذیر ہوا تھا۔ اسے اس کی سزا کا بھی خوف پیدا ہوگیا۔ اس کا پچھتاوا اس بنا پر تھا کہ جس مقصد کے تحت اس نے اس فعل کا ارتکاب کیا تھا وہ مقصد بھی اسے حاصل نہ ہوسکا اور اس کے ساتھ ساتھ اسے ماں باپ کی طرف سے نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ اگر وہ اپنے کئے پر اللہ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ندامت کا اظہار کرتا تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیتا اور اس کا یہ گناہ معاف کردیتا۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣١ (فَبَعَثَ اللّٰہُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ ) یہ پہلا خون تھا جو نسل آدم میں ہوا۔ قابیل نے ہابیل کو قتل تو کردیا لیکن اب اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ بھائی کی لاش کا کیا کرے ‘ اسے کیسے dispose off کرے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ایک کوّے کو بھیج دیا جو اس کے سامنے اپنی چونچ سے زمین کھودنے لگا۔ (لِیُرِیَہٗ کَیْفَ یُوَارِیْ سَوْءَ ‘ ۃَ اَخِیْہِ ط) ۔ کوّے کے زمین کھودنے کے عمل سے اسے سمجھ آجائے کہ زمین کھود کر لاش کو دفن کیا جاسکتا ہے ۔ (قَالَ یٰوَیْلَتٰٓی اَعَجَزْتُ اَنْ اَکُوْنَ مِثْلَ ہٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوْءَ ‘ ۃَ اَخِیْ ج) ۔ افسوس مجھ پر ! کیا میرے اندر اس کوّے جیسی عقل بھی نہ تھی کہ یہ طریقہ مجھے خود ہی سوجھ جاتا۔ (فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیْنَ ) ۔ اس احساس پر اس کے اندر بڑی شدید ندامت پیدا ہوئی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

51. In this way God made this errant son of Adam realize his ignorance and folly. Once his attention turned to self-appraisal, his regret was not confined to realizing that in his effort to hide his brother's corpse he proved to be even less efficient than the raven. He also began to feel how foolish he was to have killed his own brother. The later part of the sentence indicates this remorse. 52.The purpose of mentioning this particular incident is to reproach the Jews subtly for the plot they had hatched to assassinate the Prophet (peace be on him) and some of his illustrious Companions (see n. 30 above). The resemblance between the two incidents is evident. God honoured some of the illiterate people of Arabia and disregarded the ancient People of the Book because the former were pious while the latter were not. But rather than reflect upon the causes of their rejection by God, and do something to overcome the failings which had led to that rejection, the Israelites were seized by the same fit of arrogant ignorance and folly which had once seized the criminal son of Adam, and resolved to kill those whose good deeds had been accepted by God. It was obvious that such acts would contribute nothing towards their acceptance by God. They would rather earn them an even greater degree of God's disapproval.

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :51 اس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک کوے کے ذریعہ سے آدم کے اس غلط کار بیٹے کو اس کی جہالت و نادانی پر متنبہ کیا ، اور جب ایک مرتبہ اس کو اپنے نفس کی طرف توجہ کرنے کا موقع مل گیا تو اس کی ندامت صرف اسی بات تک محدود نہ رہی کہ وہ لاش چھپانے کی تدبیر نکالنے میں کوے سے پیچھے کیوں رہ گیا ، بلکہ اس کو یہ بھی احساس ہونے لگا کہ اس نے اپنے بھائی کو قتل کر کے کتنی بڑی جہالت کا ثبوت دیا ہے ۔ بعد کا فقرہ کہ وہ اپنے کیے پر پچھتایا ، اسی مطلب پر دلالت کر تا ہے ۔ سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :52 یہاں اس واقعہ کا ذکر کرنے سے مقصد یہودیوں کو ان کی اس سازش پر لطیف طریقہ سے ملامت کرنا ہے جو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابہ کو قتل کرنے کے لیے کی تھی ( ملاحظہ ہو اسی سورۃ کا حاشیہ نمبر ۳۰ ) ۔ دونوں واقعات میں مماثلت بالکل واضح ہے ۔ یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے عرب کے ان امیوں کو قبولیت کا درجہ عطا فرمایا اور ان پرانے اہل کتاب کو رد کر دیا ، سراسر اس بنیاد پر تھی کہ ایک طرف تقویٰ تھا اور دوسری طرف تقویٰ نہ تھا ۔ لیکن بجائے اس کے کہ وہ لوگ جنہیں رد کر دیا گیا تھا ، اپنے مردود ہونے کی وجہ پر غور کرتے اور اس قصور کی تلافی کرنے پر مائل ہوتے جس کی وجہ سے وہ رد کیے گئے تھے ، ان پر ٹھیک اسی جاہلیت کا دورہ پڑ گیا جس میں آدم علیہ السلام کا وہ غلط کار بیٹا مبتلا ہوا تھا ، اور اسی کی طرح وہ ان لوگوں کے قتل پر آمادہ ہو گئے جنہیں خدا نے قبولیت عطا فرمائی تھی ۔ حالانکہ ظاہر تھا کہ ایسی جاہلانہ حرکتوں سے وہ خدا کے مقبول نہ ہو سکتے تھے ، بلکہ یہ کرتوت انہیں اور زیادہ مردود بنا دینے والے تھے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

24: یہ چونکہ کسی کے مرنے کا پہلا واقعہ تھا جو قابیل نے دیکھا اس لئے اسے مردوں کو دفن کرنے کا طریقہ معلوم نہیں تھا۔ اﷲ تعالیٰ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کھود کر کسی مردے کو دفن کررہا تھا، اسے دیکھ کر قابیل کو نہ صرف دفن کرنے کا طریقہ معلوم ہوا بلکہ پشیمانی بھی ہوئی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(5:31) فبعث اللہ غرابا۔ پس بھیجا اللہ نے ایک کوا۔ ف اس فقرہ میں محذوف عبارت پر دلالت کرتا ہے۔ علماء نے مابعد کے فقرہ لیریہ کیف یواری سراۃ اخیہ (تاکہ وہ اسے دکھائے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کو مردار خور جانوروں درندوں پر ندوں سے کیسے محفوظ کرے۔ اسی الجھن میں وہ لاش کو کئی دن اٹھائے پھرتا رہا۔ تاآنکہ اللہ نے کووں کا ایک جوڑا بھیجا ایک کوے نے دوسرے کوے کو مار دیا اور پھر اپنی چونچ اور پنچوں سے زمین کو کھود کر اس گڑھے میں مردہ کو لے کر دفن کردیا۔ یبحث۔ مضارع واحد مذکر غائب بحث مصدر باب فتح سے بمعنی کریدنا۔ کھودنا۔ تلاش کرنا ۔ اسی سے بحث مشتق ہے کہ بحث میں بھی مختلف پہلوؤں کو لاکر اصلی نکتہ کو تلاش کیا جاتا ہے۔ لیریہ۔ (تاکہ اسے دکھائے) میں ہ ضمیر مفعول واحد مذکر تو صاف طور پر تاویل کی طرف راجع ہے لیکن ضمیر فاعل اللہ کی طرف یا کوے کی طرف راجع ہوسکتی ہے۔ یواری۔ مضارع واحد مزکر غائب واری یواری مواراء ۃ (مفاعلۃ) وہ چھپائے وہ چھپاتا ہے۔ تواری چھپ جانا۔ جیسے حتی توارت بالحجاب (38:32) یہاں تک کہ (آفتاب) پردے میں چھپ گیا۔ الوراء پیچھے۔ پچھلی جانب۔ خلف۔ جیسے ومن وراء اسحاق یعقوب (11:71) اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔ سوء ۃ۔ لاش۔ عیب۔ فضیحت۔ مردہ عورت کی شرمگاہ کو بھی کہتے ہیں۔ مادہ سوء السوء ہر وہ چیز جو انسان کو غم میں مبتلا کر دے اسے سوء کہا جاتا ہے۔ خواہ وہ امور دنیوی کے قبیل سے ہو یا اخروی کے۔ اور عام اس سے کہ اس کا تعلق احوال نفسانیہ سے ہو یا بدنیہ سے۔ یاویلتی مضاف مضاف الیہ اصل میں یاویلتی تھا ۔ ہائے بربادی۔ لیکن ندا کے وقت افسوس اور حسرت کی آواز کھینچنے کے لئے ی کو الف سے بدل دیا۔ اور اس کے ماقبل کو یعنی ت کو فتح دیدیا۔ اس طرح یویلتا ہوگیا لیکن ضمیر واحد متکلم کو ظاہر کرنے کے لئے ی کو بدستور رکھ کر الف کو اس کے اوپر لگا دیا۔ ویل۔ ہلاکت، بربادی، عذاب کی شدت۔ عذاب دوزخ کی ایک وادی۔ ویلۃ رسوائی ، تباہی، کلمہ حسرت و ندامت۔ اعجزت۔ میں عاجز رہا۔ میں قاصر رہا (میں تو اس سے بھی قاصر رہا کہ اس کوے کی مانند ہی ہوتا) اجل۔ مصدر ہے اجل کا۔ واسطے ۔ غرض۔ سبب۔ وجہ۔ من اجل ذلک۔ اسی وجہ سے۔ بایں سبب۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 یعنی اس کی دنیا بھی برباد ہوگئی اور آخرت میں بھی سخت ترین عذاب کا مستحق قرار پایا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دنیا میں کوئی شخص ظلم کی راہ سے قتل نہیں ہوتا مگر آدم ( علیہ السلام) کا پہلا بیٹا یعنی قابیل بھی اس کے وبال میں شریک ہوتا ہے کیونکہ اس نے سب سے پہلے قتل کی سنت جاری کی (بخاری مسلم)8 اور نقل میں یو آیا ہے کہ ایک کوے نے زمین کھود کر دوسرے کوے کو دفن کیا اس نے کوے کی خیر خواہی دوسرے کوے کے لیے دیکھی تو اپنے فعل پر پشمیان ہوا (از مو ضح) مگر یہ اسرائیلی روایات سے ماخوذ ہے۔ قرآن کے ظاہر الفاظ جو چیز معلوم ہوتی ہے ہو یہی ہے یہ اسے زمین کرید تے دیکھا ہے اس نے سمجھ لیا کہ اسے دفن کردینا چاہیے (قرطبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ آخر آیت میں جو اس کی ندامت مذکور ہے یہ ندامت بقول مفسرین قتل پر نہیں تاکہ توبہ کا شبہ ہو بلکہ قتل پر جو مضرتیں مرتب نظرآئیں ان پر ہوئی جیسے نعش کے دفن میں حیران ہونا اور بداحواس ہونا یا بعض مفسرین نے لکھا ہے بدن کا سیاہ ہوجانا اور آدم (علیہ السلام) کا ناراض ہوجانا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ دنیا میں سب سے پہلے قتل اور فوت ہونے والا شخص ہابیل تھا اس لیے قابیل کو معلوم نہ تھا کہ میت کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔ اس بات کے ساتھ اس کا دوسرا مفہوم بھی ذہن میں رکھنا چاہیے جو واقعہ کے ساتھ گہری نسبت رکھتا ہے جب قاتل کسی شخص کو قتل کرتا ہے تو وہ اپنا جرم چھپانے کے لیے لاش کو آگے پیچھے کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ممکن ہے قابیل اسی کشمکش میں مبتلا ہو گھبراہٹ اور بےقراری کے عالم میں اس کی عقل پر پردہ پڑگیا ہو۔ کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کو کہاں ٹھکانے لگائے جس کی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک کوّے کے ذریعے یہ کام کروایا۔ ایک کوّے نے دوسرے کوّے کو مار کر اس کی لاش زمین میں دفن کی جب قابیل نے یہ نقشہ دیکھا تو سخت پریشانی کے عالم میں پکار اٹھا ہائے افسوس میں تو کوّے سے بھی کم تر ثابت ہوا۔ بعد ازاں اس نے اپنے بھائی کو زمین میں دفن کیا اسی وقت سے لے کر فطری اور شرعی طریقہ یہی ہے۔ جلانے کی بجائے میّت کو عزت و احترام کے ساتھ دفنانا چاہیے۔ اسلام کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ نہ صرف میت کو دفنانے کا حکم دیتا ہے بلکہ اس کی تعلیم یہ ہے کہ اچھی طرح غسل دینے کے بعد صاف اور اجلا سفید رنگ کا کفن پہنا کر خوشبو لگائی جائے اور نہایت اخلاص کے ساتھ نماز جنازہ پڑھ کر، دفنانے کے بعد قبر پر کھڑے ہو کر دعا کی جائے اور میّت کے لیے ایصال ثواب کا اہتمام بھی کیا جانا چاہیے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) أَنَّ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْہُ عَمَلُہُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَۃٍ إِلَّا مِنْ صَدَقَۃٍ جَارِیَۃٍ أَوْ عِلْمٍ یُنْتَفَعُ بِہٖ أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ یَدْعُو لَہُ ) [ رواہ مسلم : کتاب الوصیہ، بَاب مَا یَلْحَقُ الْإِنْسَانَ مِنْ الثَّوَابِ بَعْدَ وَفَاتِہِ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں بلاشبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب انسان فوت ہوجاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع کردیے جاتے ہیں مگر صرف تین ذرائع سے اسے اجر ملتا رہتا ہے۔ (١) صدقہ جاریہ۔ (٢) ایسا علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں۔ (٣) نیک اولاد جو اس کے لیے دعائیں کرے۔ “ (عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ (رض) أَنَّہُ قَالَ یَا رَسُول اللّٰہِ إِنَّ أُمَّ سَعْدٍ مَاتَتْ فَأَیُّ الصَّدَقَۃِ أَفْضَلُ قَالَ الْمَاءُ قَالَ فَحَفَرَ بِءْرًا وَقَالَ ہَذِہِ لِأُمِّ سَعْدٍ )[ رواہ ابوداؤد : کتاب الزکاہ، بَاب فِی فَضْلِ سَقْیِ الْمَاءِ ] ” حضرت سعد بن عبادہ (رض) نے رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے استفسار کیا اے اللہ کے رسول ! ام سعد وفات پا گئی ہیں کون سا صدقہ سب سے افضل ہے آپ نے فرمایا پانی پلانا۔ حضرت سعد نے کنواں کھدوایا اور کہا یہ ام سعد کے لیے ہے۔ “ (عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِی وَقَّاصٍ (رض) قَالَ فِی مَرَضِہِ الَّذِی ہَلَکَ فیہِ الْحَدُوا لِی لَحْدًا وَانْصِبُوا عَلَیَّ اللَّبِنَ نَصْبًا کَمَا صُنِعَ بِرَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) [ رواہ مسلم : کتاب الجنائز، باب فی اللحد ونصب اللبن علی المیت ] ” عامر بن سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد (رض) نے اپنے مرض الموت کے وقت حکم دیا کہ میرے لیے لحد بنانا اور لحد کے اوپر کچی اینٹیں رکھنا جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے کیا گیا تھا۔ “ مسائل ١۔ میت کو دفنانا چاہیے۔ ٢۔ قاتل کف افسوس ملتا رہ جاتا ہے اور ندامت اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ تفسیر بالقرآن نادم ہونے والے لوگ : ١۔ آدم کا بیٹا کہنے لگا کاش میں اس کوے کی طرح ہوتا کہ اپنے بھائی کی لاش کو چھپا دیتا تو وہ نادم ہونے والوں میں سے ہوگیا۔ (المائدۃ : ٣١) ٢۔ قریب ہے اللہ فتح عطا کر دے یا اپنی طرف سے کوئی حکم نازل فرما دے پس یہ اپنے آپ پر نادم ہوں۔ (المائدۃ : ٥٢) ٣۔ اپنی غلطیوں پر نادم ہونے والے بہت ہی کم ہوتے ہیں۔ (المومنون : ٤٠) ٤۔ انھوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور وہ نادم ہونے والوں میں سے ہوگئے۔ (الشعراء : ١٥٧) ٥۔ اے ایمان والو ! فاسق کی خبر کی تحقیق کرلیا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں اپنے کیے پر نادم ہونا پڑے۔ (الحجرات : ٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” فَبَعَثَ اللّہُ غُرَاباً یَبْحَثُ فِیْ الأَرْضِ لِیُرِیَہُ کَیْْفَ یُوَارِیْ سَوْء ۃَ أَخِیْہِ قَالَ یَا وَیْْلَتَا أَعَجَزْتُ أَنْ أَکُونَ مِثْلَ ہَـذَا الْغُرَابِ فَأُوَارِیَ سَوْء ۃَ أَخِیْ فَأَصْبَحَ مِنَ النَّادِمِیْنَ (31) ” پھر اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کھودنے لگا تاکہ اسے بتائے کہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپائے ۔ یہ دیکھ کر وہ بولا ” افسوس مجھ پر ! میں اس کوے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپانے کی تدبیر نکال لیتا ، اس کے بعد وہ اپنے کئے پر بہت بچھتایا) روایات میں آتا ہے کہ ایک کوے نے دوسرے کو قتل کردیا یا اس نے دوسرے کوے کی لاش کو پایا ۔ یہ کوا زمین کھودنے لگا ۔ اس کے بعد اس نے گڑھے میں ڈال کر اس پر مٹی ڈالنا شروع کیا ، اس موقع پر اس قاتل نے افسوسناک انداز میں اپنی اس ندامت کا اظہار کیا اور پھر اپنے بھائی کی لاش کردیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قاتل نے اس سے قبل کسی کو دفن ہوتے نہ دیکھا تھا ۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ ضرور لاش کو دفن کردیتا اور یہ ممکن ہے کہ اس زمین پر یہ پہلی میت ہو یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ۔ یا یہ کہ یہ قاتل نوجوان تھا اور اس نے اس سے قبل کسی کو میتوں کو دفناتے نہ دیکھا تھا ۔ دونوں باتیں اپنی جگہ درست ہیں ۔ نیز یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اس قاتل کی ندامت نہ تھی ورنہ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیتے بلکہ وہ نادم اس بات پر ہوا کہ اس کو اس فعل کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور اس فعل کے بعد اس کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ‘ اس کی زندگی تلخ ہوگئی اور وہ نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا ۔ جس طرح کوے نے دوسرے کوے کی لاش کو دفن کیا ‘ اس طرح اس نے بھی دفن کیا ۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ کوے ایسا کرتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس قاتل کو سکھانے کے لئے ایک کوے کو بھیج دیا ہو اور یہ خارق عادت کام تھا جو اللہ نے کوے سے کروایا ۔ یہ دونوں باتیں اللہ کے لئے برابر ہیں جو ذات زندہ انسان میں کمالات ودیعت کرتی ہے ‘ وہ ذات اس پر بھی قادر ہے کہ وہ ان کمالات کا صدور کسی بھی زندہ چیز سے کرا دے ۔ یہ دونوں امور اس کی قدرت میں ہیں ۔ اس مسلسل قصے کو پڑھنے اور دیکھنے کے بعد ذہن انسانی پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں ‘ قرآن یہاں ان کو ریکارڈ پر لاتا ہے تاکہ ان کو ایک شعوری سوچ بنا دے اور اس سوچ کی اساس پر اگر کوئی شخص قتل کا ارتکاب کر بھی لے تو اس سے منصفانہ قصاص لیا جائے اور مجرم کو معلوم ہو کہ اگر اس نے جرم کیا تو قانون قصاص اس کے انتظار میں ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قابیل کو پریشانی کہ مقتول بھائی کی لاش کا کیا کرے ؟ قتل تو کردیا لیکن اس سے پہلے کوئی میت دیکھی نہ تھی کوئی مرجائے تو کیا کیا جائے اس کے بارے میں کچھ علم نہ تھا اب قابیل حیران تھا کہ بھائی کی اس لاش کو کیا کرے اسی حیرانی اور پریشانی میں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے دو کوے بھیجے دونوں آپس میں لڑے اور ایک نے دوسرے کو مار دیا پھر اسی مارنے والے کوے نے زمین کو کریدا اور مردہ کوے کی لاش کو دفن کردیا (فَبَعَثَ اللّٰہُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیَہٗ کَیْفَ یُوَارِیْ سَوْءَ ۃَ اَخِیْہِ ) (سو اللہ نے بھیج دیا ایک کوا جو کرید رہا تھا زمین کو تاکہ وہ اسے دکھائے کہ کیسے چھپائے اپنے بھائی کی لاش کو) جب قابیل نے یہ منظر دیکھ لیا تو زمین کھود کر اپنے بھائی کی لاش کو دفن کردیا اور یہ بھی کہا (یٰوَیْلَتٰٓی اََعَجَزْتُ اَنْ اَکُوْنَ مِثْلَ ھٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوْءَ ۃَ اَخِیْ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیْنَ ) (ہائے افسوس ! میری حالت پر ! کیا میں اس سے بھی عاجز ہوگیا کہ اس کوے کی طرح ہوجاؤں پھر اپنے بھائی کی لاش کو چھپا دوں۔ ) خسران یعنی نقصان عظیم کا تو مستحق ہوا ہی تھا ! اپنی ناسمجھی پر نادم بھی ہوا کہ میں کوے جیسا بھی نہ ہوسکا جو اپنے بھائی کی لاش کو اپنی سمجھ سے کہیں ٹھکانہ لگا دیتا۔ فوائد متعلقہ واقعہ ہابیل و قابیل (١) واقعہ مذکورہ سے معلوم ہوا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد میں شروع ہی سے توحید پھیلائی تھی اور جو احکام ان کے لئے مشروع کئے گئے تھے ان احکام پر عمل کرتے تھے اور اپنی اولاد کو بھی ان کے مطابق چلائے تھے اسی لئے تو یہ سوال پیدا ہوا کہ فلاں بطن کے لئے حرام ہے، پھر جب اختلاف ہوا تو دونوں لڑکوں نے بارگاہ خدا واندی میں قربانی پیش کی اور قربانی کے ذریعہ اختلاف کا فیصلہ کرنا چاہا کہ اللہ تعالیٰ جس کی قربانی قبول کرے گا وہ صحیح راہ پر ہوگا۔ انسان اپنے عہد اول سے توحید کا عقیدہ رکھنے کا پابند ہے اور اس پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرے جو اسے اس کے نبی کے ذریعہ پہنچے ہوں، حضرت آدم (علیہ السلام) سب سے پہلے انسان بھی تھے اور سب سے پہلے نبی بھی و قد جاء تصریح ذالک فی الحدیث کما فی المشکوٰۃ۔ (ص ٥١١ وص ٥١٢) (٢) جب دونوں بھائیوں نے اللہ کی بارگاہ میں نیاز پیش کی (ہابیل نے ایک مینڈھا پیش کیا اور قابیل نے کچھ بالیں پیش کیں) تو اللہ تعالیٰ نے ہابیل کی نیاز کو قبول فرما لیا، آسمان سے آگ آئی اور اس کو جلا دیا، قابیل نے جو کچھ پیش کیا تھا وہ یوں ہی رکھارہ گیا اس پر اسے غصہ آیا اول تو پہلے ہی سے ناراض تھا۔ اب مزید نفسانیت میں ابھار آیا۔ اس ابھار کا باعث یہ بھی ہے کہ لوگوں کو جب یہ معلوم ہوگا کہ اس کی نیاز قبول نہیں ہوئی تو ان کی نظروں میں خفیف ہوں گا، قابیل ہابیل سے کہنے لگا کہ میں تجھے قتل کردوں گا اس میں ہابیل کا کوئی قصور نہ تھا، جس لڑکی کے بارے میں جھگڑا ہو رہا تھا اس کے بارے میں ہابیل کی بات قانون خداوندی کے مطابق تھی اور جب نیاز قبول نہ ہوئی تو اس میں بھی ہابیل کا کوئی قصور نہ تھا، قابیل کو حسد ہوا کہنے لگا کہ میں تجھے قتل کردوں گا اس پر ہابیل نے اچھے انداز میں اس کو سمجھایا اور یہ کہہ دیا کہ (اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ ) (کہ اللہ تعالیٰ متقین ہی سے قبول فرماتا ہے) مطلب یہ تھا کہ اگر تو متقی ہوتا تو تیری نیاز قبول ہوتی، اول تو پہلے ہی حکم شرعی کی خلاف ورزی پر اصرار ہے اور اب مجھے قتل کرنے کا ارادہ کر رہا ہے ان سب باتوں کو چھوڑ کر تقویٰ اختیار کرنا چاہیے تاکہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اعمال قبول ہوں۔ تقویٰ کے عموم میں کفر شرک سے بچنا اور ہر طرح کے گناہوں سے بچنا سب آجاتا ہے اور کافر کا تو کوئی عمل قبول ہی نہیں ہے، کسی عمل کا اللہ کی بارگاہ میں قبول ہوجانا بہت بڑی نعمت ہے، عمل تو بہت کئے جاتے ہیں لیکن ثواب اسی عمل پر ملے گا جو اللہ کے یہاں قبول ہوجائے حضرت ابوالدردا (رض) نے فرمایا۔ لان استیقن ان اللہ تقبل لی صلوٰۃ وا حدۃ احب الیَّ من الد نیا و مافیھا، ان اللّہ یقول انما۔ یتقبل اللّٰہ من المتقین۔ (ابن کثیر) (اگر مجھے یہی یقین ہوجائے کہ میری ایک نماز مقبول ہوگئی تو ہی میرے لئے ساری دنیا اور اس میں جو کچھ ہے اس سب سے بہتر ہوگا) تو گویا ایک اچھے پیرائے میں ہابیل نے قابیل کو سمجھا دیا کہ تقویٰ اختیار کر چونکہ اس میں حسد کی آمیزش بھی تھی وہ بھی گناہ ہے اس لئے تقویٰ اختیار کرنے کی نصیحت میں حسد سے باز رہنے اور بچنے کی تنبیہ ہوگئی، حاسد یہ دیکھتا ہے کہ فلاں شخص کو ایسی ایسی نعمت مل گئی ہے تو خواہ مخواہ صاحب نعمت سے جلتا ہے حالانکہ صاحب نعمت کا اس میں کچھ بھی قصور نہیں ہوتا اس میں تو اللہ تعالیٰ سے ناراضگی ہے کہ فلاں کو کیوں دیا مجھے کیوں نہیں دیا، ہابیل نے جو قابیل کو نصیحت کی اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ صاحب نعمت کی نعمت کے زوال کی فکر میں پڑنے کی بجائے حاسد کو تقویٰ اختیار کرنا چاہیے۔ در حقیقت تقویٰ بہت بڑی چیز ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے اوصیک بتقوی اللہ فانہ ازین لا مرک کُلّہ (کہ میں تجھے اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ تیرے ہر کام کو زینت دینے والا ہے) ۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٤١٥) (٣) مفسرین لکھتے ہیں کہ ہابیل سب سے پہلا مقتول بھی تھا اور سب سے پہلا میت بھی تھا اس سے پہلے کسی انسان کی موت نہ ہوئی تھی لہٰذا قتل کرنے کے بعد قابیل کو پریشانی تھی کہ نعش کو کیا کرے لہٰذا بوری وغیرہ میں بند کر کے نعش کو کمر پر اٹھائے ہوئے پھرتا رہا۔ اول تو بوجھ اٹھا کر لئے پھرنے کی مصیبت ! دوسرے اس کے اردگرد مردہ خور جانوروں کی بھیڑ کہ یہ اسے پھینکے تو کھائیں دونوں وبال جان بنی ہوئی تھیں، جب ایک کوے نے دوسرے کوے کو قتل کر کے اور دفن کر کے دکھایا تو اپنے بھائی کی لاش کو دفن کیا، لاش کو ختم کرنے کے اور بھی طریقے تھے مثلاً آگ میں جلا دیا جائے یا سمندر میں پھینک دیا جائے لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمین میں دفن کرنے کا طریقہ بتایا گیا جو ایک طبعی اور فطری طریقہ ہے انسان مٹی سے پیدا ہوا ہے مٹی ہی میں مل جاتا ہے۔ گلے سڑے جو کچھ ہو مٹی کے اندر ہو اس کے بعد سے عموماً تمام انسان نعشوں کو دفن ہی کرتے ہیں سوائے ہندوستان کے مشرکوں کے وہ جلاتے ہیں اور سوائے پارسیوں کے کہ وہ اپنی نعشوں کو گدھوں کو کھلا دیتے ہیں انسان کا اکرام اسی میں ہے کہ موت کے بعد اسے دفن کردیا جائے، اور حضرات انبیاء کرام ( علیہ السلام) کا یہی طریقہ ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

58 لِیُرِیَہٗ الخ اس میں لام تعلیلیہ نہیں بلکہ یہ لام عاقبت ہے یعنی ایک کوا اڑتا ہوا آیا اور قابیل کے سامنے زمین کریدنے لگاجس کا نتیجہ اور انجام یہ ہوا کہ اسے اپنے مقتول بھائی کی نعش چھپانے کی ترکیب سوجھ گئی ورنہ کوا غیب دان نہیں تھا کہ ہابیل کے قتل کا اسے علم تھا اور نہ قابیل کو دفن کرنے کا طریقہ سکھانے آیا تھا لام عاقبت کے لیے قرآن مجید میں عام مستعمل ہے جیسا کہ قصص ع 1 میں ہے فَالْتَقَطَہٗ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَکُوْنَ لَھُمْ عَدُوَّا وَّ حَزَناً یہاں لِیَکُوْنَ میں لام عاقبت کے لیے ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 آخر کار قابیل کو اس کے نفس نے اپنے بھائی کا قتل آسان کردیا اور اس کو خوشنما اور خوش منظر دکھایا اور قابیل کو اس کے جی نے اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کردیا اور اس قابیل نے اس کو یعنی ہابیل کو قتل کر ڈالا لہٰذا وہ قابیل سخت نقصان اٹھانے والوں میں شامل ہوگیا پھر لالہ تعالیٰ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کھودنے لگاتا کہ وہ کوا قابیل کو یہ بتادے اور یہ سکھا دے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کو کس طرح چھپائے قابیل کوے کی اس فراست کو دیکھ کر کہنے لگا ہائے افسوس میرے حال پر کہ میں اس قابل بھی نہ ہوسکا اور میں ا سے بھی گیا گذار ہوگیا کہ اس کوے ہی کے برابر ہوتا اور اس کوے ہی جیسا ہوتا اور اپنے بھائی کی لاش کو تو چھپا دیتا پھر قابیل اپنی اس زبوں حالی اور بدحالی پر شرمندہ ہوا اور پچھتانے لگا۔ (تیسیر) طوعت ، طاوعت کے معنی مفسرین نے آمادہ کردیا آسان کردیا، آراستہ کردیا اور قتل کا قصور کرا دیا وغیرہ بیان کئے ہیں ہم نے تیسیر میں سب کی رعایت سے خلاصہ کیا ہے بحث کھودنا، کریدنا کسی آلہ سے یا چونچ اور پنجوں سے غراب کوا سوئۃ جسم کا وہ حصہ جس کے کھولنے کا حکم نہیں۔ شرمگاہ ، لاش، عیب آیت کا مطلب یہ ہے کہ قابیل نے بھائی کے قتل کا اظہار تو پہلے ہی کردیا تھا آخر کار اس کے نفس نے اس کو قتل پر آمادہ ہی کردیا اور اس کے فوائد سمجھا دیئے کہ ہابیل کا کانٹا راستہ سے ہٹ جائے گا تو سب کام آسان ہوجائیں گے اس کا مار ڈالنا بہت اچھا ہوگا اور اس کا مارنا ہی کیا یہ تو مقابلہ کرے ہی گا نہیں جس طرح چاہے مار ڈالو۔ بہرحال ! جب اس کے نفس نے آمادہ کردیا تو وہ اس فعل شنیع کو کر گذارا۔ کہتے ہیں چھری سے مارا یا وہ سوتا تھا ایک بڑا پتھر اس کے سرپر دے مارا یا ایک پتھر نیچے رکھا اور ایک پتھر اوپر سے مارا جس سے اس کا سر کچلا کچلا ہوگیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قتل کا طریقہ شیطان نے سکھایا اور ایک جانور کا سر پتھر سے کچل کر دکھلایا اور ہوسکتا ہے کہ درندے ک طرح قابیل نے دانتوں سے کاٹ کاٹ کر اور پھاڑ کر مارا ہو۔ (واللہ اعلم) شیطان نے اس قتل کی خبر حضرت حوا کو دی اور ان کو سمجھایا کہ مرنا ایسا ہوتا ہے وہ رونے لگیں حضرت حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ نقصان اٹھانیوالوں میں شامل ہوگیا یعنی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی نقصان اٹھانے والا ہوا دنیا کا نقصان تو یہ ہوا کہ ہابیل کو قتل کرنے کے بعد اس کا دماغ بیکار ہوگیا اور پاگل ہوگیا اور آخرت کا نقصان یہ کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ قیامت تک دنیا میں جس قدر ناحق قتل ہوتے رہیں گے ان میں سے ہر ایک قتل کا گناہ علاوہ قاتل کے قابیل کے ذمہ بھی لکھا جاتا رہے گا کیونکہ قابیل دنیا میں قتل کا پہلا بانی اور موسس ہے بہرحال ! قتل کرنے کو تو قتل کردیا اب فکر لاحق ہوئی کہ لاش کو کہاں چھپائے سب سے پہلا واقعہ لاش کو لئے لئے پھرتا رہا آخر اللہ تعالیٰ نے ایک کوے کو بھجیا جس نے زمین کو کھود کر ایک گڑھا سا کرلیا اور اس میں دور سے کوے کو جو مرا ہوا تھا یا دونوں کو ئوں نے لڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو مارا تھا اس مرے ہوئے کوے کو گڑھے میں ڈال کر اس کو مٹی میں دبادیا تب قابیل نے سمجھا کہ لاش کو چھپانے کا طریقہ یہ ہے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صرف کوے کے زمین کھونے سے قابیل نے سمجھ لیا ہو تب اس نے افسوس کے لہجے میں کہا کہ ہائے میں تو اس کوے سے بھی گیا گذرا ہوگیا کہ اپنے بھائی کی لاش کو چھپا دیتا۔ بہرحال ! اپنی حالت پر نادم اور شرمندہ ہوا اور ہوسکتا ہے کہ اس قتل پر نادم ہوا ہو لیکن یہ ندامت توبہ نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ ندامت محض ان پریشانیوں کی وجہ سے تھی جو قتل کے بعد پیش آئیں نہ یہ کہ معصیت پر نادم ہوا۔ مفسرین نے ان واقعات کو مختلف الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے ہم نے تمام اقوال کا خلاصہ بیان کردیا ہے ہوسکتا ہے کہ قتل کے بعد قابیل کا تمام جسم سیاہ پڑگیا ہو درختوں میں کاٹنے نکل آئے ہوں پھل کھٹے ہونے لگے ہوں یہ باتیں سب کچھ مستبعد نہیں اگر روایات صحیحہ سے ثابت ہوں لیکن ہمیں افسوس ہے کہ اس بارے میں اکثر روایات ضعیفہ بلکہ موضوعہ کا استعمال کیا گیا ہے۔ (واللہ اعلم) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اس سے پہلے کوئی انسان مرا نہ تھا کہ معلوم ہو کہ مردے کا بدن کیا کرے قابیل ہابیل کو مار کر ڈرا کہ اس کا بدن پڑا رہے گا تو لوگ دیکھ کر مجھ کو پکڑیں گے اس کو پوٹ باندھ کر لئے پھرا کئی روز آخر اللہ تعالیٰ نے ایک کوا بھیجا اس نے زمین کو کریدا اس کو دکھا کر یہ سمجھایا کہ اس کے بدن کو دفن کر نا چاہئے اور نقل میں یوں آیا ہے کہ ایک کوئے نے زمین کو کرید کر دوسرے کوئے مردے کو دفن کیا اس نے دفن بھی دیکھا اور بھائی کی خیر خواہی دوسرے بھائی کے حق میں دیکھی اور اپنے فعل سے پشیمان ہوا۔ (موضح القرآن) ہم ابھی عرض کرچکے ہیں کہ پچتانا اگر فعل قتل پر ہوا اگرچہ اس کی صراحت نہیں تب بھی وہی پچتانا مفید ہوسکتا ہے جسکے گناہ پر معذرت ہو آئندہ کے لئے اجتناب ہو اور تدارک کا فکر ہو ورنہ پچتانا گناہ کی معافی کے لئے کافی نہیں اور یہاں تو پچتانا بھی بظاہر اپنی بدحالی پر تھا گناہ پر نہ تھا اس لئے یہ ندامت محض طبعی تھی کوئی شرعی ندامت نہ تھی۔ (واللہ اعلم) قابیل کے کفر کے متعلق کوئی صحیح چیز نظر سے نہیں گذری، بعض محققین نے اس کے مومن عاصی ہونے کا قول کیا ہے۔ صاحب تفسیر مظہری نے بیان کیا ہے کہ قابیل اپنی بہن اقلیمہ کو لے کر عدن کی طرف چلا گیا اور وہاں آتش پرستی کرنے لگا اور اس کی اولاد نے آلات لہو اور گانے کی چیزیں ایجاد کیں اور یہ سب لوگ نوح کے طوفان سے غرق ہوئے۔ (واللہ اعلم) اس قصے کا ایک پہلو تو یہ تھا کہ بنی اسرائیل کو اس امر پر تنبیہہ تھیک ہ گناہ کے مواخذہ پر اور معاصی کی گرفت پر نسب کا کوئی اثر نہیں پڑتا جیسا کہ قابیل کو اس کا نسب کام نہ آیا دوسرا پہلو یہ ہے کہ قتل بہت بڑی چیز ہے دیکھو ! قابیل قتل کی وجہ سے کس قدر نقصان میں پڑا۔ چنانچہ آگے قتل کرنے اور خون گرانے کے انجام کا بیان ہے اور اس کے حرام ہونے کا اعلان ہے۔ چناچہ ارشادہوتا ہے۔ (تسہیل)