Surat ul Maeeda

Surah: 5

Verse: 43

سورة المائدة

وَ کَیۡفَ یُحَکِّمُوۡنَکَ وَ عِنۡدَہُمُ التَّوۡرٰىۃُ فِیۡہَا حُکۡمُ اللّٰہِ ثُمَّ یَتَوَلَّوۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِکَ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿٪۴۳﴾  10

But how is it that they come to you for judgement while they have the Torah, in which is the judgement of Allah ? Then they turn away, [even] after that; but those are not [in fact] believers.

۔ ( تعجب کی بات ہے کہ ) وہ کیسے اپنے پاس تورات ہوتے ہوئے جس میں احکام الٰہی ہیں تم کو منصف بناتے ہیں پھر اس کے بعد بھی پھر جاتے ہیں ، دراصل یہ ایمان و یقین والے ہیں ہی نہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

But how do they come to you for decision while they have the Tawrah, in which is the decision of Allah; yet even after that they turn away. For they are not believers. Allah next praises the Tawrah that He sent down to His servant and Messenger Musa, son of Imran,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٩] یعنی ایک طرف تو آپ کو جھوٹا نبی سمجھتے ہیں اور پھر فیصلہ بھی آپ کے پاس لاتے ہیں۔ اور دوسری طرف تورات ہے جسے اللہ کی سچی کتاب سمجھتے تو ہیں لیکن حکم اس کا بھی نہیں مانتے اس سے بڑھ کر ان کے بےایمان ہونے کی کیا دلیل ہوسکتی ہے ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَكَيْفَ يُحَكِّمُوْنَكَ : یہاں ان کی جہالت و عناد کا بیان ہے، یعنی وہ جانتے ہیں کہ جو مقدمہ وہ آپ کے پاس لا رہے ہیں، اس کا فیصلہ تورات میں موجود ہے، تاہم آپ کے پاس اس لیے مقدمہ لاتے ہیں کہ شاید آپ کا فیصلہ تورات کی بہ نسبت کچھ ہلکا ہو، لیکن جب آپ کا فیصلہ بھی وہی ہوتا ہے جو تورات کا ہوتا ہے تو وہ اسے ماننے سے انکار کردیتے ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نہ تو وہ تورات پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ آپ پر۔ اصل میں یہ اپنی اغراض کے بندے ہیں اور ان کا مقصد حیات ہی دنیوی مصالح کا حاصل کرنا ہے۔ (کبیر) وَعِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِيْهَا حُكْمُ اللّہ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تورات میں موجود رجم کے فیصلے کو اللہ کا فیصلہ قرار دیا ہے، جو لوگ رجم کے منکر ہیں اگرچہ بہت سی صحیح احادیث بھی ان کا رد کرتی ہیں، مگر یہ آیت پختہ ترین مضبوط دلیل ہے کہ قرآن نے تورات میں موجود رجم کے حکم کو اللہ کا حکم قرار دیا ہے، پھر نہ اس کی تردید کی ہے نہ منسوخ کہا ہے، بلکہ اللہ کے اس حکم کو یہود اور مسلمان دونوں پر نافذ فرمایا۔ معلوم ہوا قرآن میں بھی رجم کا ذکر موجود ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَكَيْفَ يُحَكِّمُوْنَكَ وَعِنْدَہُمُ التَّوْرٰىۃُ فِيْہَا حُكْمُ اللہِ ثُمَّ يَتَوَلَّوْنَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ۝ ٠ۭ وَمَآ اُولٰۗىِٕكَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ۝ ٤٣ۧ كيف كَيْفَ : لفظ يسأل به عمّا يصحّ أن يقال فيه : شبيه وغیر شبيه، كالأبيض والأسود، والصحیح والسّقيم، ولهذا لا يصحّ أن يقال في اللہ عزّ وجلّ : كيف، وقد يعبّر بِكَيْفَ عن المسئول عنه كالأسود والأبيض، فإنّا نسمّيه كيف، وكلّ ما أخبر اللہ تعالیٰ بلفظة كَيْفَ عن نفسه فهو استخبار علی طریق التنبيه للمخاطب، أو توبیخا نحو : كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] ، كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] ، كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ [ التوبة/ 7] ، انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثالَ [ الإسراء/ 48] ، فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ [ العنکبوت/ 20] ، أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ [ العنکبوت/ 19] . ( ک ی ف ) کیف ( اسم استفہام ) اس چیز کی حالت در یافت کرنے کے لئے آتا ہے جس پر کہ شیبہ اور غیر شیبہ کا لفظ بولا جاسکتا ہو جیسے ابیض ( سفید اسود ( سیاہی ) صحیح ( تندرست ) سقیم ( بیمار ) وغیرہ ۔ لہذا اللہ تعالیٰ کے متعلق اس کا استعمال جائز نہیں ہے اور کبھی اس چیز پر بھی کیف کا اطلاق کردیتے ہیں جس کے متعلق سوال کر نا ہو مثلا کہا جاتا ہے کہ اسود اور ابیض مقولہ کیف سے ہیں اور جہاں کہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق کیف کا لفظ استعمال کیا ہے تو وہ تنبیہ یا قو بیخ کے طور پر مخاطب سے استخبار کے لئے لایا گیا ہے جیسے فرمایا : ۔ كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] کافرو تم خدا سے کیونکر منکر ہوسکتے ہو ۔ كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] خدا ایسے لوگوں کو کیونکر ہدایت دے ۔ كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ [ التوبة/ 7] بھلا مشرکوں کے لئے کیونکر قائم رہ سکتا ہے ۔ انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثالَ [ الإسراء/ 48] دیکھو انہوں نے کس کس طرح کی تمہارے بارے میں باتیں بنائیں ۔ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ [ العنکبوت/ 20] اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلقت کو پہلی مر تبہ پیدا کیا ۔ أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ [ العنکبوت/ 19] کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا کسی طرح خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا پھر کس طرح اس کو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے ۔ حَكَمُ : المتخصص بذلک، فهو أبلغ . قال اللہ تعالی: أَفَغَيْرَ اللَّهِ أَبْتَغِي حَكَماً [ الأنعام/ 114] ، وقال عزّ وجلّ : فَابْعَثُوا حَكَماً مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَماً مِنْ أَهْلِها [ النساء/ 35] ، وإنما قال : حَكَماً ولم يقل : حاکما، تنبيها أنّ من شرط الحکمين أن يتولیا الحکم عليهم ولهم حسب ما يستصوبانه من غير مراجعة إليهم في تفصیل ذلك، ويقال الحکم للواحد والجمع، وتحاکمنا إلى الحاکم . قال تعالی: يُرِيدُونَ أَنْ يَتَحاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ [ النساء/ 60] ، وحَكَّمْتُ فلان اور حکم ( منصف ) ماہر حاکم کو کہاجاتا ہے اس لئے اس میں لفظ حاکم سے زیادہ مبالغہ پایا جاتا ہے قرآن میں ہے ؛أَفَغَيْرَ اللَّهِ أَبْتَغِي حَكَماً [ الأنعام/ 114]( کبو ) کیا میں خدا کے سوا اور منعف تلاش کردں ۔ اور آیت کریمہ :۔ فَابْعَثُوا حَكَماً مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَماً مِنْ أَهْلِها [ النساء/ 35] تو ایک منصف مرد کے خاندان میں سے اور ایک منصف عورت کے خاندان میں سے مقرر کردو ۔ میں حاکما کی بجائے حکما کہنے سے اس امر پر تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ دو منصف مقرر کرنے کی شرط یہ ہے کہ وہ دونوں تفصیلات کی طرف مراجعت کئے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق فیصلہ کریں خواہ وہ فیصلہ فریقین کی مرضی کے موافق یا ہو مخالف اور حنم کا لفظ واحد جمع دونوں پر بولاجاتا ہے ۔ ہم حاکم کے پاس فیصلہ لے گئے قرآن میں ہے ۔ يُرِيدُونَ أَنْ يَتَحاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ [ النساء/ 60] اور چاہتے یہ ہیں کہ اپنا مقدمہ کے پاس لے جاکر فیصلہ کر آئیں ۔ حکمت فلان ۔ کسی کو منصف ان لینا ۔ قرآن میں سے : حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيما شَجَرَ بَيْنَهُمْ [ النساء/ 65] جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنایئں ۔ جب یہ کہا جاتا ہے حکم بالباطل تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اس نے باطل کو بطور حکم کے جاری کیا توراة التوراة التاء فيه مقلوب، وأصله من الوری، وبناؤها عند الکوفيين : ووراة، تفعلة «4» ، وقال بعضهم : هي تفعلة نحو تنفلة ولیس في کلامهم تفعلة اسما . وعند البصريين وورية، هي فوعلة نحو حوصلة . قال تعالی: إِنَّا أَنْزَلْنَا التَّوْراةَ فِيها هُدىً وَنُورٌ [ المائدة/ 44] ، ذلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْراةِ ، وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ [ الفتح/ 29] . ( ت و ر ) التوراۃ آسمانی کتاب جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کی گئی یہ وری سے مشتق ہے اور تاؤ واو سے مبدل سے علماء کوفہ کے نزدیک یہ وؤراۃ بروزن نفعلۃ ہے اور بعض کے نزدیک تفعل کے وزن پر ہے جیسے تنفل لیکن کلام عرب میں تفعل کے وزن پر اسم کا صیغہ نہیں آتا ۔ علماء بصرہ کے نزدیک یہ وؤری بروزن فوعل ہے جیسے قل قرآن میں ہے ؛۔ إِنَّا أَنْزَلْنَا التَّوْراةَ فِيها هُدىً وَنُورٌ [ المائدة/ 44] بیشک ہم نے تو رات نازل فرمائی جس میں ہدایت اور روشنی ہے ۔ ذلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْراةِ ، وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ [ الفتح/ 29] . ان کے اوصاف تو رات میں ( مرقوم ) ہیں اور یہی اوصاف انجیل میں ہیں ۔ ولي وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه . فمن الأوّل قوله : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] . ومن الثاني قوله : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ، ( و ل ی ) الولاء والتوالی اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] اور جو شخص تم میں ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر سے دوستی کرے گا ۔ اور تعدیہ بعن کے متعلق فرمایا : ۔ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] تو اگر یہ لوگ پھرجائیں تو خدا مفسدوں کو خوب جانتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٣) اور حیرت ہے کہ یہ آپ سے کیوں فیصلہ کراتے ہیں، جب کہ توریت میں رجم کا حکم موجود ہے، اور پھر توریت اور قرآن کریم کے حکم سے پھرجاتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٣ (وَکَیْفَ یُحَکِّمُوْنَکَ ) (وَعِنْدَہُمُ التَّوْرٰٹۃُ ) (فِیْہَا حُکْمُ اللّٰہِ ) یہاں اللہ تعالیٰ نے یہود کی بدنیتی کو بالکل بےنقاب کردیا ہے کہ اگر ان کی نیت درست ہو تو تورات سے راہنمائی حاصل کرلیں۔ (ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَ ط) (وَمَآ اُولٰٓءِکَ بالْمُؤْمِنِیْنَ ) اصل بات یہ ہے کہ یہ ایمان سے تہی دست ہیں ‘ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں۔ یہ ہے ان کا اصل ‘ روگ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

71. In this verse, God unmasks completely the dishonesty of these people. It shows how these so-called religious people who had cast the spell of their religious piety and knowledge of the Scriptures over the whole of Arabia had set aside a categorical injunction of the book which they themselves recognized to be the Book of God, and which they professed to believe in. They had referred that judicial case to the Prophet (peace be on him) for his decision even though they vehemently denied his prophethood. This made it quite clear that there was nothing to which they subscribed sincerely. Their true religion consisted merely of worshipping their interests and desires. They were ready to turn their backs upon the very book which they recognized as the Book of God merely because some of its injunctions were unpalatable to them, and in such cases they did not mind approaching one whom they regarded as an imposter (may God be our refuge from such a blasphemy) in the hope that they might be able to obtain a judgement to their liking.

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :71 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی بددیانتی کو بالکل بے نقاب کر دیا ہے ۔ یہ”مذہبی لوگ“ جنہوں نے تمام عرب پر اپنی دینداری اور اپنے علم کتاب کا سکہ جما رکھا تھا ، ان کی حالت یہ تھی کہ جس کتاب کو خود کتاب اللہ مانتے تھے اور جس پر ایمان رکھنے کے مدعی تھے اس کے حکم کو چھوڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا مقدمہ لائے تھے جن کے پیغمبر ہونے سے ان کو بشدت انکار تھا ۔ اس سے یہ راز بالکل فاش ہوگیا کہ یہ کسی چیز پر بھی صداقت کے ساتھ ایمان نہیں رکھتے ، دراصل ان کا ایمان اپنے نفس اور اس کی خواہشات پر ہے ، جسے کتاب اللہ مانتے ہیں اس سے صرف اس لیے منہ موڑتے ہیں کہ اس کا حکم ان کے نفس کو ناگوار ہے ، اور جسے معاذاللہ جھوٹا مدعی نبوت کہتے ہیں اس کے پاس صرف اس امید پر جاتے ہیں کہ شاید وہاں سے کوئی ایسا فیصلہ حاصل ہو جائے جو ان کے منشاء کے مطابق ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

38: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ تورات کے احکام سے منہ موڑلیتے ہیں، اور یہ بھی کہ حضور اقدسﷺ سے فیصلے کی درخواست کرنے کے باجود جب آپ فیصلہ سناتے ہیں تو اس سے منہ موڑلیتے ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(5:43) یحکمونک۔ تحکیم (تفعیل) مصدر وہ آپ کو منصف بناتے ہیں۔ وہ آپ سے فیصلہ کراتے ہیں۔ کیف یحکمونک۔ وہ کیسے آپ کو منصف بناتے ہیں جبکہ ۔۔ اس میں بھی اشارہ ہے مندرجہ بالا واقعۂ زناء کا۔ (5:41)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 اس میں یہود کو تنبیہہ ہے جو حد رجم (سنگساری) کا انکار کرتے تھے اور ان کو ترغیب دی ہے کہ وہ اپنے اسلاف۔ انبیا احبار اور علمائے ربانی کا مسلک اختیار کریں۔ (کبیر) بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کے بعد حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) تک سینگڑوں پیغمبر ایسے گزرے ہیں جن پر کوئی نئی کتاب نازل نہیں کی گئی اور وہ اپنے زمانے میں لوگوں کو تورات ہی پر عمل کرنے کی نصیحیت کرتے اور ان کے مابین اسی کے احکام کے مطابق فیصلے کرتے تھے خود حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کو کوئی نئی شریعت نہیں دی گئی بلکہ ان کی بعثت کا مقصد تورات ہی کی شریعت کو زندہ کرنا تھا۔ الذین ا اسلموا یہ صفت مدح ہے اور ان انبیا ( علیہ السلام) کے کے مسلمان ہونے کے یہ معنی ہیں کہ وہ دین ابراہیم کے تابع تھے یا للہ تعالیٰ کے فرمانبر دار تھے (قرطبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” نمبر ٤٣۔ ” اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے) یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ نہ کرے اور پھر بھی مومن ہو ‘ یا وہ اللہ کے قانون پر راضی نہ ہو اور پھر بھی یہ زعم رکھتا ہو کہ وہ مومن ہے ۔ یہ ہر گز ممکن نہیں ہے ۔ اگر کوئی ایمان لاتا ہے تو اسے اپنی پوری زندگی میں شریعت کا نفاذ کرنا ہوگا ۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اس کا دعوائے ایمان جھوٹا ہے اور اس کا موقف اس قطعی نص کی بالکل ضد ہے ۔ (آیت) ” وما اولئک بالمومنین “ (٥ : ٤٣) (یہ لوگ ایمان نہیں رکھتے) یہ معاملہ فقط اس حد تک نہیں ہے کہ حکام کی جانب سے اسلامی شریعت کانفاذ نہیں ہے بلکہ اگر محکوم لوگ بھی جن پر شریعت کا نفاذ ہوتا ہے ‘ شریعت کے نفاذ پر راضی نہیں تو بھی وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوں گے اگرچہ زبانی طور پر وہ ایمان کا دعوی کریں ۔ یہ آیت سورة نساء کی آیت کے عین مطابق ہے جس میں کہا گیا ہے ۔ (آیت) ” (فلا وربک لا یومنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم ثم لا یجدوا فی انفسھم حرجا مماقضیت ویسلموا تسلیما “ (٤ : ٦٥) ” خدا کی قسم یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک یہ اپنے تنازعات کا فیصلہ آپ سے نہ کرائیں ۔ پھر یہ اپنے دل میں آپ کے فیصلے پر کوئی تنگی بھی محسوس نہ کریں اور پوری طرح سرتسلیم خم نہ کردیں) ان دونوں آیات کا تعلق محکوم عوام الناس سے ہے ‘ حکام سے نہیں ہے جبکہ دونوں ایمان سے نکل جاتے ہیں ۔ جو لوگ اللہ اور رسول کے فیصلوں پر راضی نہیں ہوتے ان کے بارے میں یہ آیات کہتی ہیں کہ یہ مومن نہیں رہتے یا اگر رسول فیصلہ کریں اور یہ لوگ روگردانی کردیں اور تسلیم نہ کریں ۔ خلاصہ کلام یہ ہے جیسا کہ اس سبق کے آغاز میں ہم نے کہا تھا کہ یہ مسئلہ اللہ کی حاکمیت کے اقرار کا مسئلہ ہے ۔ اللہ کی حاکمیت ‘ اس کی قیومیت اور انسان پر اس کی نگرانی ونگہبانی کے اقرار کا مسئلہ ہے یا اس کے انکار کا مسئلہ ہے اور اللہ کی شریعت کو قبول کرنا اور اس کے مطابق فیصلے کرانا اللہ کی حاکمیت ‘ اس کی نگہبانی کے اقرار کا ایک مظہر اور ثبوت ہے اور شریعت پر فیصلے نہ کرانا اس کے انکار کا مظہر اور ثبوت ہے ۔ یہ تو فیصلہ ان لوگوں کے بارے میں تھا جو اللہ تعالیٰ کے فیصلے قبول نہیں کرتے ۔ اب اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو حکام اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے ان کے بارے میں فتوی کیا ہے اور یہ فتوی ان تمام ادیان کا ہے جو اللہ کی جانب سے نازل ہوتے ہیں سب سے پہلے تورات کا فتوی ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

76 وَ کَیْفَ یُحَکِّمُوْنَکَ الخ استفہام تعجب کے لیے (روح) یہاں یہود کے روئیے پر دوہرے تعجب کا اظہار فرمایا۔ تعجب ہے یہ لوگ اپنے معاملات کے مقدمے آپ کے پاس کیوں لاتے ہیں۔ حالانکہ ان کے پاس اللہ کی کتاب تورات موجود ہے اس میں ان کے مقدمات کے فیصلے بھی موجود ہیں پھر اس پر تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ اس کے باوجود جب آپ کے پاس اپنے مقدمات لے کر آتے ہیں پھر آپ کے فیصلوں اعراض کرتے ہیں وَ مَا اُولئِکَ بِالْمُؤمِنِیْنَ ۔ ان کا تو تورات پر بھی ایمان نہیں جس پر ایمان لانیکے وہ بڑے مدعی ہیں اگر تورات پر ان کا ایمان ہوتا تو اس کے احکام پر عمل کرتے اور قرآن پر بھی ایمان لے آتے جو تورات کے احکام کی تصدیق کرتا ہے وَ مَا اُولئِکَ بِالْمُوْمِنِیْنَ بِشَیْءٍ مِنْ کتاب اللہ تعالیٰ الا بالتوراۃ و الا لعلملوا بھا و اٰمنوا بما یصدقہ یوافقہ ولا بکتابک (مظھری ج 3 ص 122) ۔ 77 فِیْھَا حُکْمُ اللہِ ۔ حکم اللہ سے قتل اور قطع الطریق کا حکم یعنی قصاص وغیرہ مراد ہے جیسا کہ وَ کَتَبْنَا عَلَیْھِمْ فِیْھَا اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفسِ الخ اس پر شاہد ہے۔ فائدہ : اس سے پہلے یہود قطاع الطریق اور قتل و غارت گری سے زمین پر فساد برپا کرنے والوں کی سزاؤں کا ذکر تھا اس لیے اس مناسبت سے حکم اللہ سے یہاں تمام حدود مراد ہیں صرف زنا کی سزا ہی مراد نہیں اور ان آیتوں کے شان نزول کے طور پر یہودی مرد و زن کے زنا کا جو واقعہ بیان کیا جاتا ہے وہ بھی بلا شبہ اس آیت کے تحت داخل ہے لیکن آیت کا حل اس واقعہ پر موقوف نہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 اور عجب بات ہے یہ لوگ اپنے دینی معاملات میں آپ کو کیسے منصف بناتے ہیں اور آپ سے کس طرح فیصلے کراتے ہیں حالانکہ ان کے پاس توریت موجود ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا حکم مذکور ہے پھر تعجب ہے کہ آپ کے فیصلے کرنے کے بعد آپ کے فیصلے سے بھی پھرے جاتے ہیں اور واقعہ یہ ہے کہ یہ کسی پر اعتقاد رکھنے والے نہیں نہ توریت پر نہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ اول تو یہی بات عجیب ہے کہ توریت ہوتے ساتے جب کہ اس میں احکام الٰہی مذکور ہیں پھر یہ آپ کو کیسے منصف بناتے ہیں اور آپ کے پاس اپنے دینی معاملات کیسے لاتے ہیں یا آپ کا فتویٰ معلوم کرنے کی غرض سے اپنے جاسوسوں کو کیسے بھیجتے ہیں یعنی جس شخص پر ان کو ایمان کیسے لاتے ہیں یا آپ کا فتویٰ معلوم کرنے کی غرض سے اپنے جاسوسوں کو کیسے بھیجتے ہیں یعنی جس شخص پر ان کو ایمان اور اعتقاد ہی نہیں تو اس کو مفتی یا منصف کیسے قرار دیتے ۔ پھر تعجب یہ کہ جب آپ کی رائے اور آپ کا فیصلہ ان کو معلوم ہوجاتا ہے اور وہ فیصلہ آپ کا توریت کے موافق ہوتا ہے جیسا کہ زانی اور زانیہ کے رجم میں یا بنو نضیر اور بنو قریظہ کے خون کی مساوات میں تو آپ کا فیصلہ سننے کے بعد اس سے بھی پھرے جاتے ہیں اور ان کی اس معجتبانہ روش سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو کسی پر اعتقاد ہی نہیں نہ آپ پر ان کو اعتقاد ہے اور نہ اپنی کتاب پر آپ پر اعتقاد کا نہ ہونا تو ظاہر ہے لیکن جب آپ کا فتویٰ کیا یا آپ کو حکم تسلیم کر کے آپ کی خدمت میں مقدمہ لے آئے اور پھر آپ کے فتوے اور فیصلے کو نہ مانا تو اس سے یہ بات اور کھل گئی کہ صرف اپنے مطلب کو آپ کے پاس آتے ہیں ان کو آپ پر اعتقاد نہیں۔ اگرچہ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ ہم توریت کی صداقت پر ایمان رکھتے ہیں اور یوں بھی تقریر کی جاسکتی ہے کہ توری کے ہوتے ساتے آپ کے پاس فیصلہ کرانے آئے معلوم ہوا کہ تورات پر اعتقاد نہیں اور جب آپ کا فیصلہ نہ مانا تو معلوم ہوا کہ آپ پر بھی اعتقاد نہیں لہٰذا یہ ایسے لوگ ہیں کہ کسی پر بھی اعتقاد نہیں رکھتے ان کے سامنے صرف ان کا مطلب اور ان کی اپنی غرض ہے اوپر کی آیتوں میں یہود و نصاریٰ کے نقض عہد کا ذکر تھا پھر توریت و انجیل کا اجمالی ذکر تھا اب آگے ان کتابوں کی تعریف ہے اور یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ کتابیں سرچشمہ ہدایت نور تھیں اور اپنے اپنے زمانے میں یہ کتابیں واجب الاتباع تھیں لیکن ان لوگوں نے اپنی خواہشات نفسانی کے سامنے ان کتابوں کی ناقدری کی اور ان کو پس پشت ڈال دیا اگر یہ لوگ ان کتابوں کو صحیح طور پر مانتے ہوتے تو آج قرآن کریم کا انکار نہ کرتے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)