Surat ul Maeeda

Surah: 5

Verse: 50

سورة المائدة

اَفَحُکۡمَ الۡجَاہِلِیَّۃِ یَبۡغُوۡنَ ؕ وَ مَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰہِ حُکۡمًا لِّقَوۡمٍ یُّوۡقِنُوۡنَ ﴿۵۰﴾٪  11

Then is it the judgement of [the time of] ignorance they desire? But who is better than Allah in judgement for a people who are certain [in faith].

کیا یہ لوگ پھر سے جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں یقین رکھنے والے لوگوں کے لئے اللہ تعالٰی سے بہتر فیصلے اور حکم کرنے والا کون ہو سکتا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Do they then seek the judgment of (the days of) ignorance! And who is better in judgment than Allah for a people who have firm faith! Allah criticizes those who ignore Allah's commandments, which include every type of righteous good thing and prohibit every type of evil, but they refer instead to opinions, desires and customs that people themselves invented, all of which have no basis in Allah's religion. During the time of Jahiliyyah, the people used to abide by the misguidance and ignorance that they invented by sheer opinion and lusts. The Tatar (Mongols) abided by the law that they inherited from their king Genghis Khan who wrote Al-Yasiq, for them. This book contains some rulings that were derived from various religions, such as Judaism, Christianity and Islam. Many of these rulings were derived from his own opinion and desires. Later on, these rulings became the followed law among his children, preferring them to the Law of the Book of Allah and the Sunnah of His Messenger. Therefore, whoever does this, he is a disbeliever who deserves to be fought against, until he reverts to Allah's and His Messenger's decisions, so that no law, minor or major, is referred to except by His Law. Allah said, أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ... Do they then seek the judgment of (the days of) ignorance! meaning, they desire and want this and ignore Allah's judgment. ... وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللّهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ And who is better in judgment than Allah for a people who have firm faith. Who is more just in decision than Allah for those who comprehend Allah's Law, believe in Him, who are certain that Allah is the best among those who give decisions and that He is more merciful with His creation than the mother with her own child Allah has perfect knowledge of everything, is able to do all things, and He is just in all matters. Al-Hafiz Abu Al-Qasim At-Tabarani recorded that Ibn Abbas said that the Messenger of Allah said, أَبْغَضُ النَّاسِ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ يَبْتَغِي فِي الاِْسْلَمِ سُنَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَطَالِبُ دَمِ امْرِىءٍ بِغَيْرِ حَقَ لِيُرِيقَ دَمَه The most hated person to Allah is the Muslim who seeks the ways of the days of ignorance and he who seeks to shed the blood of a person without justification. Al-Bukhari recorded Abu Al-Yaman narrating a similar Hadith, with some addition.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

50۔ 1 اب قرآن اور اسلام کے سوا، سب جاہلیت ہے، کیا یہ اب بھی روشنی اور ہدایت (اسلام) کو چھوڑ کر جاہلیت ہی کے متلاشی اور اور طالب ہیں ؟ یہ استفہام، انکار اور توبیخ کے لئے ہے اور ' فا ' لفظ مقدر پر عطف ہے اور معنی ہیں ( یعرضون من حکمک بما انزل اللہ علیک ویتولون عنہ، یبتغون حکم الجاہلیۃ) تیرے اس فیصلے سے جو اللہ نے تجھ پر نازل کیا ہے یہ اعراض کرتے اور پیٹھ پھیرتے ہیں اور جاہلیت کے طریقوں کے متلاشی ہیں (فتح القدیر) 50۔ 2 حدیث میں آتا ہے نبی نے فرمایا ' اللہ کہ سب سے زیادہ ناپسندیدہ شخص وہ ہے جو اسلام میں جاہلیت کے طریقے کا متلاشی ہو اور ناحق کسی کا خون بہانے کا طالب ہو۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٢] اسلام اور جاہلیت کا تقابل :۔ جاہلیت کا لفظ اسلام کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے۔ اسلام سراسر روشنی ہے جبکہ جاہلیت اندھیرے ہی اندھیرے ہیں اسلام ایسی روشنی اور ایسا علم ہے جو دنیاوی زندگی کے ہر پہلو میں بھی رہنمائی کرتا ہے اور اخروی زندگی میں نجات کی راہیں بھی دکھاتا ہے جبکہ جاہلیت اس دنیا میں بھی انسان کو سرگرداں اور پریشان حال بنائے رکھتی ہے اور آخرت میں عذاب الیم سے دو چار کر دے گی اسلام سے پہلے کے دور کو دور جاہلیت کہا جاتا ہے اور اس کا اطلاق ان تمام رسوم و رواج پر ہوتا ہے جن کی وجہ سے کسی انسان کی جان و مال اور آبرو محفوظ نہ تھی۔ ہر انسان دوسرے کا دشمن اور خون کا پیاسا تھا۔ کفر و شرک عام تھا۔ انسان کی زندگی اس قدر اجیرن بن چکی تھی کہ ہر عقلمند انسان اس سے نکلنے کی فکر میں تھا مگر اسے کوئی راہ نہ ملتی تھی اور دور جاہلیت کے فیصلہ سے مراد ہر وہ فیصلہ ہے جو بےانصافی پر مبنی ہو۔ آج کے دور پر بھی دور جاہلیت کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ آج کی نئی روشنی اسی پرانے دور جاہلیت سے ملتی جلتی ہے جس قسم کی فحاشی و بدکرداری اور بےحیائی اس دور میں پائی جاتی تھی آج بھی پائی جاتی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُوْنَ ۭ۔۔ : کیا یہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی شریعت کے مطابق کیے ہوئے فیصلے کو چھوڑ کر کفر و جاہلیت کے زمانے کا فیصلہ پسند کرتے ہیں جس کی بنیاد ذاتی خواہشات پر ہوتی تھی اور جن میں کمزور کے مقابلے میں طاقت ور کی طرف داری کی جاتی تھی، اسی کا نام یہودیت ہے کہ وہ چھوٹے درجے کے آدمی کے مقابلے میں بڑے کی رعایت کرتے، کمزوروں پر حدود قائم کرتے اور مال دار طبقہ کی رعایت کرتے۔ (کبیر، قرطبی) افسوس بعض مسلم حکام کے زمانے کے علماء نے ایسے احکام اور حیلے ایجاد کیے کہ اللہ تعالیٰ کی حدود کا نفاذ تقریباً ناممکن ہوگیا، مثلاً انھوں نے شراب کی ایک دو قسمیں چھوڑ کر باقی نشہ آور چیزیں حلال کردیں۔ اجرت پر لائی ہوئی عورت کے ساتھ زنا پر حد ختم کردی۔ قصاص کو جیسا کہ اوپر گزرا تقریباً باطل کردیا۔ سود کی کئی صورتوں کو حلال کردیا۔ چور کو عدالت میں پیش ہونے کے بعد بھی صاحب مال کو معاف کرنے کا اختیار دے دیا۔ شواہد کے ساتھ چور کا جرم ثابت ہونے کے بعد چور کے صرف اس دعوے سے کہ یہ میرا مال تھا، اس کی حد معاف کردی، خواہ وہ اپنی ملکیت کا کوئی ثبوت پیش نہ کرسکے۔ اس امام (حاکم) کو جس سے اوپر کوئی امام نہ ہو ایک دو چیزوں کے سوا تمام حدود معاف کردیں اور جاہلیت کے ان احکام کو شرع اسلام قرار دے کر مسلمان ملکوں میں نافذ کردیا، تو کیا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : ” پھر کیا وہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں “ جس طرح یہود و نصاریٰ میں شریعت بدلنے والوں کے لیے تھا، اسی طرح ایسے مسلمانوں کے لیے نہیں ہوگا جو قرآن و حدیث کے صریح احکام کے مقابلے میں اپنے من گھڑت احکام نافذ کرنے کے خواہش مند ہیں۔ اس کا نتیجہ بھی دنیا پر غلبے سے محرومی اور کفار کی بدترین غلامی کی صورت میں سب کے سامنے ہے۔ اب بھی مسلمانوں کے اکثر حکام نے طرز حکومت اور ملکی قانون کفار کے طریقے کے مطابق بنایا ہوا ہے اور وہ ایسی علماء کونسلیں بناتے رہتے ہیں جو قدیم جاہلیت کے ساتھ ساتھ نئی سے نئی جاہلیت کے نفاذ کے لیے قانون بنائیں اور اس کا نام اسلامی کونسل رکھتے ہیں۔ [ إِنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَفَحُكْمَ الْجَاہِلِيَّۃِ يَبْغُوْنَ۝ ٠ۭ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللہِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ۝ ٥٠ۧ حكم والحُكْم بالشیء : أن تقضي بأنّه كذا، أو ليس بکذا، سواء ألزمت ذلک غيره أو لم تلزمه، قال تعالی: وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] ( ح ک م ) حکم الحکم کسی چیز کے متعلق فیصلہ کرنے کا نام حکم ہے یعنی وہ اس طرح ہے یا اس طرح نہیں ہے خواہ وہ فیصلہ دوسرے پر لازم کردیا جائے یا لازم نہ کیا جائے ۔ قرآں میں ہے :۔ وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو ۔ جهل الجهل علی ثلاثة أضرب : - الأول : وهو خلوّ النفس من العلم، هذا هو الأصل، وقد جعل ذلک بعض المتکلمین معنی مقتضیا للأفعال الخارجة عن النظام، كما جعل العلم معنی مقتضیا للأفعال الجارية علی النظام . - والثاني : اعتقاد الشیء بخلاف ما هو عليه . - والثالث : فعل الشیء بخلاف ما حقّه أن يفعل، سواء اعتقد فيه اعتقادا صحیحا أو فاسدا، كمن يترک الصلاة متعمدا، وعلی ذلک قوله تعالی: قالُوا : أَتَتَّخِذُنا هُزُواً ؟ قالَ : أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجاهِلِينَ [ البقرة/ 67] ( ج ھ ل ) الجھل ۔ ( جہالت ) نادانی جہالت تین قسم پر ہے ۔ ( 1) انسان کے ذہن کا علم سے خالی ہونا اور یہی اس کے اصل معنی ہیں اور بعض متکلمین نے کہا ہے کہ انسان کے وہ افعال جو نظام طبعی کے خلاف جاری ہوتے ہیں ان کا مقتضی بھی یہی معنی جہالت ہے ۔ ( 2) کسی چیز کے خلاف واقع یقین و اعتقاد قائم کرلینا ۔ ( 3) کسی کام کو جس طرح سر انجام دینا چاہئے اس کے خلاف سر انجام دنیا ہم ان سے کہ متعلق اعتقاد صحیح ہو یا غلط مثلا کوئی شخص دیا ۔ دانستہ نماز ترک کردے چناچہ اسی معنی کے اعتبار سے آیت : أَتَتَّخِذُنا هُزُواً ؟ قالَ : أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجاهِلِينَ [ البقرة/ 67] میں ھزوا کو جہالت قرار دیا گیا ہے ۔ بغي البَغْي : طلب تجاوز الاقتصاد فيما يتحرّى، والبَغْيُ علی ضربین : - أحدهما محمود، وهو تجاوز العدل إلى الإحسان، والفرض إلى التطوع . - والثاني مذموم، وهو تجاوز الحق إلى الباطل، أو تجاوزه إلى الشّبه، تعالی: إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ [ الشوری/ 42] ( ب غ ی ) البغی کے معنی کسی چیز کی طلب میں درمیانہ روی کی حد سے تجاوز کی خواہش کرنا کے ہیں ۔ بغی دو قسم پر ہے ۔ ( ١) محمود یعنی حد عدل و انصاف سے تجاوز کرکے مرتبہ احسان حاصل کرنا اور فرض سے تجاوز کرکے تطوع بجا لانا ۔ ( 2 ) مذموم ۔ یعنی حق سے تجاوز کرکے باطل یا شہاے ت میں واقع ہونا چونکہ بغی محمود بھی ہوتی ہے اور مذموم بھی اس لئے آیت کریمہ : ۔ { السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ } ( سورة الشوری 42) الزام تو ان لوگوں پر ہے ۔ جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ملک میں ناحق فساد پھیلاتے ہیں ۔ احسان الإحسان فوق العدل، وذاک أنّ العدل هو أن يعطي ما عليه، ويأخذ أقلّ مما له، والإحسان أن يعطي أكثر مما عليه، ويأخذ أقلّ ممّا له «3» . فالإحسان زائد علی العدل، فتحرّي العدل واجب، وتحرّي الإحسان ندب وتطوّع، وعلی هذا قوله تعالی: وَمَنْ أَحْسَنُ دِيناً مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ [ النساء/ 125] ، وقوله عزّ وجلّ : وَأَداءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 178] ، ولذلک عظّم اللہ تعالیٰ ثواب المحسنین، فقال تعالی: وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ [ العنکبوت/ 69] ، وقال تعالی:إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ [ البقرة/ 195] ، وقال تعالی: ما عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلٍ [ التوبة/ 91] ، لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هذِهِ الدُّنْيا حَسَنَةٌ [ النحل/ 30] . ( ح س ن ) الحسن الاحسان ( افعال ) احسان عدل سے بڑھ کر چیز ہے کیونکہ دوسرے کا حق پورا دا کرنا اور اپنا حق پورا لے لینے کا نام عدل ہے لیکن احسان یہ ہے کہ دوسروں کو ان کے حق سے زیادہ دیا جائے اور اپنے حق سے کم لیا جائے لہذا احسان کا درجہ عدل سے بڑھ کر ہے ۔ اور انسان پر عدل و انصاف سے کام لینا تو واجب اور فرض ہے مگر احسان مندوب ہے ۔ اسی بنا پر فرمایا :۔ وَمَنْ أَحْسَنُ دِيناً مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ [ النساء/ 125] اور اس شخص سے کس کا دین اچھا ہوسکتا ہے جس نے حکم خدا قبول کیا اور وہ نیکو کا ر بھی ہے ۔ اور فرمایا ؛ وَأَداءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 178] اور پسندیدہ طریق سے ( قرار داد کی ) پیروی ( یعنی مطالبہ خونہار ) کرنا ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محسنین کے لئے بہت بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا :۔ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ [ العنکبوت/ 69] اور خدا تو نیکو کاروں کے ساتھ ہے ۔ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ [ البقرة/ 195] بیشک خدا نیکی کرنیوالوں کو دوست رکھتا ہے ۔ ما عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلٍ [ التوبة/ 91] نیکو کاروں پر کسی طرح کا الزام نہیں ہے ۔ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هذِهِ الدُّنْيا حَسَنَةٌ [ النحل/ 30] جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ان کے لئے بھلائی ہے ۔ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] يقن اليَقِينُ من صفة العلم فوق المعرفة والدّراية وأخواتها، يقال : علم يَقِينٍ ، ولا يقال : معرفة يَقِينٍ ، وهو سکون الفهم مع ثبات الحکم، وقال : عِلْمَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 5] «2» ، وعَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 7] «3» وحَقُّ الْيَقِينِ [ الواقعة/ 95] وبینها فروق مذکورة في غير هذا الکتاب، يقال : اسْتَيْقَنَ وأَيْقَنَ ، قال تعالی: إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا وَما نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِينَ [ الجاثية/ 32] ، وَفِي الْأَرْضِ آياتٌ لِلْمُوقِنِينَ [ الذاریات/ 20] ، لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ [ البقرة/ 118] وقوله عزّ وجلّ : وَما قَتَلُوهُ يَقِيناً [ النساء/ 157] أي : ما قتلوه قتلا تَيَقَّنُوهُ ، بل إنما حکموا تخمینا ووهما . ( ی ق ن ) الیقین کے معنی کسی امر کو پوری طرح سمجھ لینے کے ساتھ اس کے پایہ ثبوت تک پہنچ جانے کے ہیں اسی لئے یہ صفات علم سے ہے اور معرفت اور وغیرہ سے اس کا در جہ اوپر ہے یہی وجہ ہے کہ کا محاورہ تو استعمال ہوات ہے لیکن معرفۃ الیقین نہیں بولتے اور قدر معنوی فرق پایا جاتا ہے جسے ہم اس کتاب کے بعد بیان کریں گے استیتن والقن یقین کرنا قرآن میں ہے : ۔ إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا وَما نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِينَ [ الجاثية/ 32] ہم اس کو محض ظن ہی خیال کرتے ہیں اور ہمیں یقین نہیں آتا ۔ وَفِي الْأَرْضِ آياتٌ لِلْمُوقِنِينَ [ الذاریات/ 20] اور یقین کرنے والوں کے لئے زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں ۔ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ [ البقرة/ 118] یقین کرنے والوں کیلئے اور آیت کریمہ : ۔ وَما قَتَلُوهُ يَقِيناً [ النساء/ 157] اور انہوں نے عیسیٰ کو یقینا نہیں کیا ۔ کے معنی یہ ہیں کہ انہیں ان کے قتل ہوجانے کا یقین نہیں ہے بلکہ ظن وتخمین سے ان کے قتل ہوجانے کا حکم لگاتے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے افحکم الجاھلیۃ یبغون تو پھر کیا جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں اس کی دو طرح تفسیر کی گئی ہے ۔ ایک تو یہ کہ اس میں یہود کو خطاب ہے اس لیے کہ ان کا طریق کار یہ تھا کہ جب کمزوروں پر کوئی فیصلہ واجب ہوتا تو اسے نافذکر دیتے اور جب امیروں پر کسی فیصلے کا اطلاق ہوتا تو اسے نافذ کرنے سے پہلوتہی کرلیتے۔ آیت میں ان سے یہ کہا گیا کہ تم اہل کتاب ہونے کے باوجود بت پرستوں کا فیصلہ چاہتے ہو ایک قول ہے کہ اس سے ہر وہ شخص مراد ہے جو اللہ کے فیصلے سے نکل کر جاہلیت کے فیصلے کا خواہش مند ہوتا ہے اور یہ بات اس کے ان اقدامات پر مشتمل ہوگی جو وہ جہالت اور بے علمی کے طور پر اٹھاتا ہے۔ قول باری ہے من احسن من اللہ حکما ً لقوم یوقنون حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ آیت میں یہ بتایا گیا کہ اللہ کے فیصلے حق و انصاف پر مبنی ہوتے ہیں اور ان میں جانبداری نہیں ہوتی۔ یہ بھی کہنا درست ہے کہ ایک فیصلہ بہ نسبت دوسرے فیصلے کے افضل اور احسن ہوتا ہے جس طرح کسی کو منصوص طریقے سے دو فیصلوں کے درمیان اختیار دے دیا جائے اور یہ معلوم ہو کہ ان میں سے ایک فیصلہ دوسرے سے افضل ہے تو جو افضل ہوگا وہ احسن ہوگا ۔ اسی طرح ایک مجتہد کبھی ایسا حکم لگاتا ہے جس کی یہ نسبت دوسرا حکم اولیٰ ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ یا تو مجتہد میں کوتاہ نظری ہوتی ہے یا وہ ایسے شخص کی تقلید کرلیتا ہے جس سے خود اس حکم میں کوتاہی سر زد ہوچکی ہو۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٠) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا قرآن کریم میں یہ آپ سے پھر جاہلیت کا فیصلہ مانگتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے جو قرآن حکیم پر یقین رکھتے ہیں، فیصلہ کرنے میں اللہ تعالیٰ سے کون اچھا ہوگا۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٠ (اَفَحُکْمَ الْجَاہِلِیَّۃِ یَبْغُوْنَ ط) جاہلیت سے مراد حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے کا دور ہے۔ یعنی کیا قانونِ الٰہی نازل ہوجانے کے بعد بھی یہ لوگ جاہلیت کے دستور ‘ اپنی روایات اور اپنی رسومات پر عمل کرنا چاہتے ہیں ؟ جیسا کہ ہندوستان میں مسلمان زمیندار انگریز کی عدالت میں کھڑے ہو کر کہہ دیتے تھے کہ ہمیں اپنی وراثت کے مقدمات میں شریعت کا فیصلہ نہیں چاہیے بلکہ رواج کا فیصلہ چاہیے۔ (وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ حُکْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ ) اللہ تعالیٰ ہمیں اس یقین اور ایمان حقیقی کی دولت سے سرفراز فرمائے۔ (آمین ! )

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

83. The word jahiliyah (literally 'ignorance') is used as an antonym to Islam. Islam is the way of 'ilm (true knowledge), since it is God Himself Who has shown this way, and His knowledge embraces everything. In contrast is the way that diverges from Islam - the path of Ignorance (jahiliyah). The pre-Islamic period in Arabia is designated as jahiliyah because this was the era when human beings derived their norms from either superstitious beliefs, conjectures and imagination or from their desires. Whenever such an attitude is adopted, it is bound to be designated as Ignorance. The appellation 'jahiliyah' will apply to every aspect of life which is developed in disregard of the knowledge made available by God, based only on man's partial knowledge blended with imagination, superstitious fancies, conjectures and desires.

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :83 جاہلیت کا لفظ اسلام کے مقابلہ میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ اسلام کا طریقہ سراسر علم ہے کیونکہ اس کی طرف خدا نے رہنمائی کی ہے جو تمام حقائق کا علم رکھتا ہے ۔ اور اس کے برعکس ہر وہ طریقہ جو اسلام سے مختلف ہے جاہلیت کا طریقہ ہے ۔ عرب کے زمانہ قبل اسلام کو جاہلیت کا دور اسی معنی میں کہا گیا ہے کہ اس زمانہ میں علم کے بغیر محض وہم یا قیاس و گمان یا خواہشات کی بنا پر انسانوں نے اپنے لیے زندگی کے طریقے مقرر کر لیے تھے ۔ یہ طرز عمل جہاں جس دور میں بھی انسان اختیار کریں اسے بہرحال جاہلیت ہی کا طرز عمل کہا جائے گا ۔ مدرسوں اور یونیورسٹیوں میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے وہ محض ایک جزوی علم ہے اور کسی معنی میں بھی انسان کی رہنمائی کے لیے کافی نہیں ہے ۔ لہٰذا خدا کے دیے ہوئے علم سے بے نیاز ہو کر جو نظام زندگی اس جزوی علم کے ساتھ ظنون و اوہام اور قیاسات و خواہشات کی آمیزش کر کے بنا لیے گئے ہیں وہ بھی اسی طرح”جاہلیت“ کی تعریف میں آتے ہیں جس طرح قدیم زمانے کے جاہلی طریقے اس تعریف میں آتے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

ابو داؤد اور نسائی اور ابن حبان اور حاکم نے عبید بن موسیٰ سے اور ابن جریر نے حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے اس حکم جاہلیت کے چاہنے کا قصہ اور ان آیات کی شان نزول جو بیان کیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مدینہ کے گردونواح میں یہود کے دو قبیلے رہتے تھے ایک کا نام بنی نضیر تھا اور دوسرے کا نام بنی قریظہ بنی نضیر بہ نسبت بنی قریظہ کے زیادہ عزت دار اور شریف کہلاتے تھے اور ان دونوں قبیلوں نے آپس میں یہ قرارداد ٹھیرا رکھی تھی کہ بنی قریظہ میں کسی شخص کے ہاتھ سے کوئی آدمی بنی نضیر کا مارا جاوے تو بوجہ اپنی خاندانی شرافت کے دو گناہ خون بہا لیتے تھے اور اگر ان میں سے کسی شخص کے ہاتھ سے بنی قریظہ کا کوئی آدمی مارا جاتا تو اکہرا خون بہا دیتے۔ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں تشریف لائے تو دونوں قبیلے کے لوگ ایک مقتول کا قصہ آنحضرت کے پاس لائے اس پر اللہ تعالیٰ نے { وَاِنْ حَکَمْتَ فَا حْکُمْ بَیْنَہُمْ بِالْقِسْطِ } سے یہاں تک کی آیات نازل فرمائیں ١ ؎ اور آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ دونوں قبیلے کے انسان قصاص اور خون بہا میں برابر ہیں۔ اور بنی نضیر کے لوگوں سے کہا کہ تمہارے دوگنے خون بہا کی قرار داد تورات کے مخالف ایک زمانہ جاہلیت کی قرار داد ہے یہ سن کر بنی نضیر قبیلہ کے لوگ بہت خفاء ہوئے اور کہنے لگے آپ ہمارے دشمن ہیں اور ہمارے خاندان کو بنی قریظہ کے خاندان کے برابر کر کے ہمارے خاندان کی ہتک چاہتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ ٹکڑا آیت کا نازل فرما کر بنی نضیر کو دھمکایا کہ خود تو انہوں نے تورات کے احکام کو بدل ڈالا ہے۔ اب کیا ہمارے رسول سے بھی جاہلیت کے زمانے کا فیصلہ چاہتے ہیں۔ جاہلیت کے زمانے کے فیصلوں کی بنا کسی شرع کے حکم پر نہیں ہوا کرتی تھی اس لئے فرمایا کہ یہ جاہلیت کے زمانے کے فیصلے شرع الٰہی کے فیصلوں سے کسی ایمان دار شخص کے حق میں کسی طرح بہتر نہیں ہوسکتے۔ جاہلیت کا زمانہ اس زمانہ کو کہتے ہیں جس زمانہ میں کوئی نبی روئے زمین پر نہ ہو۔ سیاست ملکی کے لئے چنگیز خاں نے احکام شرعی اور عقلی کو ملا کر ایک قانون کی کتاب جو بنائی تھی اس کو علماء مفسرین نے احکام زمانہ جاہلیت کے مثل لکھا ہے اور خلاف شرع قانون کی کتابوں کو اسی حکم میں داخل کیا ہے اور احکام شریعت کو چھوڑ کر اس طرح کے احکام قانونی پر فیصلے کرنے سے بڑی سختی کے ساتھ منع کیا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 یعنی کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی شریعت کے مطابق کئے ہوئے فیصلہ کو چھوڑ کر کفر وجا ہلیت کے زمانہ کا فیصلہ پسند کرتے ہیں جس کا بنیاد سراسر ذاتی خوہشات پر ہوتی تھی اس جن میں کمزور کا مقابلے میں طاقتور کی طر فداری کی جاتی تھی اسی کا نام یہودیت ہے کہ وہ وضیع کے مقابلہ میں شریعت کی رعایت کرتے کمزور پر حدود قائم کرتے ہیں اور مالدار کی رعایت کرتے (کبیر، قرطبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ اوپر یہود و نصاری کے قبائح مذکور ہوئے بعض منافقین جو کہ ظاہر اسلام کے مدعی تھی ان سے بعض وہمی مصلحتوں کی بنا پر دوستی رکھتے تھے اس لیے آگے اہل ایمان کو ان کے ساتھ دوستی کرنے بطور تفریع مضمون مذکور کے منع فرماتے ہیں کہ جب ان لوگوں کے یہ حالات ہیں تو ان کا مقتضا تو یہی ہے کہ ان سے ان منافقوں کی طرح ہرگز دوستی مت کرو پھر اہل ایمان کو منع کرنے کے بعد ان منافقین کی مذمت اور ان مصلحتوں کا ابطال اور انجام کار ان کا ندامت اٹھانا بطور پیشن گوئی کے مذکور ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : یہود و نصاریٰ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پریشان اور پھسلانے کے لیے آئے دن کوئی نہ کوئی شرارت اور سازش کیا کرتے تھے ان کی خواہش اور کوشش تھی کہ اللہ کے پیغمبر سے کوئی ایسا کام کروائیں جس سے اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہوں اور آپ کے دامن پاک پر کوئی ایسا دھبہ لگ جائے کہ لوگ آپ سے بد ظن ہوجائیں۔ اسی کے پیش نظر یہودیوں کے مذہبی رہنما آپ کی خدمت میں ایک مقدمہ پیش کرتے ہوئے کہنے لگے کہ اگر آپ اس کا فیصلہ ہماری مرضی کے مطابق کردیں تو نہ صرف ہم مسلمان ہونے کے لیے تیار ہیں بلکہ ہمارے ہزاروں متبعین مشرف بہ اسلام ہوجائیں گے۔ اس موقعہ پر یہ حکم نازل ہوا کہ اے نبی ! آپ ان کی خواہشات کا خیال رکھنے اور ان کی سازشوں سے خوفزدہ ہونے کی بجائے انھیں ان کی حالت پر چھوڑ دیں۔ آپ صرف اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حکم کو نافذ فرمائیں اگر یہ لوگ اللہ کے حکم سے انحراف کریں گے تو یہ انحراف ان کے گناہوں کا سبب اور سزا ہوگی۔ جو اللہ تعالیٰ کی منشا کے مطابق سمجھنی چاہیے۔ یقین جانیں کہ لوگوں کی اکثریت نافر مانوں پر مشتمل ہوا کرتی ہے۔ نبی اور اس کے سچے متبعین کو ایسی اکثریت کی تابعداری نہیں کرنی چاہیے کیا جو لوگ جاہلیت کا قانون پسند کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کا حکم اور قانون دنیا اور آخرت کے نتائج کے اعتبار سے ہر قانون سے بہتر ہے لیکن اسے وہی لوگ تسلیم کرتے ہیں جنھیں یقین و ایمان کی دولت نصیب ہوتی ہے جہالت سے مراد ہر وہ کام اور مسئلہ ہوتا ہے جو وحی الٰہی کے خلاف ہو اور اس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پائی جائے۔ مسائل ١۔ ہر فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق ہونا چاہیے اور کسی کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔ ٢۔ بعض لوگ کتاب اللہ سے منحرف کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ٣۔ لوگوں کی اکثریت نافرمان ہوتی ہے۔ ٤۔ گمراہ لوگ جاہلیت کے فیصلے چاہتے ہیں۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ کے قانون سے بہتر کوئی قانون نہیں ہے۔ تفسیر بالقرآن اکثریت کا حال : ١۔ اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے لیکن لوگوں کی اکثریت شکر گزار نہیں ہوتی۔ (البقرۃ : ٢٤٣) ٢۔ اللہ تعالیٰ سب کو جانتا ہے اکثریت اس حقیقت کو نہیں جانتی۔ (الاعراف : ١٨٧) ٣۔ قرآن آپ کے رب کی طرف سے حق ہے۔ لیکن لوگوں کی اکثریت نہیں جانتی۔ (ھود : ١٧) ٤۔ اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ نافذ کرنے پر قادر ہے لیکن لوگوں کی اکثریت نہیں جانتی۔ (یوسف : ٢١) ٥۔ لوگوں کی اکثریت شکر گزار نہیں ہوتی۔ (یوسف : ٣٨) ٦۔ لوگوں کی اکثریت بےعقل ہوتی ہے۔ (المائدۃ : ١٠٣) ٧۔ لوگوں کی اکثریت ایمان نہیں لاتی۔ (الرعد : ١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” افحکم الجاھلیۃ یبغون ، ومن احسن من اللہ حکما لقوم یوقنون “۔ (٥ : ٥٠) (اگر یہ خدا کے قانون سے منہ موڑتے ہیں تو کیا پھر جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں ؟ حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے) یہاں یہ آیت جاہلیت کے مفہوم اور مدلوں کو متعین کردیتی ہے ۔ یہ اللہ کا قرآن ہے جو جاہلیت کے مفہوم کو متعین کردیتا ہے اور اس کے مطابق جاہلیت یہ ہے کہ مملکت میں انسان کی حکومت انسان پر چلے ۔ یہ دراصل انسانوں کی جانب سے انسانوں کی غلامی ہے ۔ اللہ کی حاکمیت کا انکار ہے اور اللہ کی حاکمیت کے نظریہ کو ترک کرنا ہے ۔ یہ انکار اور ترک اصل انسانوں کی حاکمیت کا اقرار ہے اور انسانوں کی بندگی اور پرستش ہے ۔ اس آیت کی روشنی میں جاہلیت کا تعلق زمان ومکان سے نہیں ہے بلکہ جاہلیت ایک صورت حال کا نام ہے جو کل بھی تھی ‘ آج بھی ہے اور کل بھی ہوگی ۔ لہذا جس چیز کی ممانعت ہے وہ یہ ہے کہ اسلامی نظام کے مطابلے میں جاہلی صورت حال نہ اختیار کی جائے جو اسلام سے متصادم ہے ۔ لوگوں کے مختلف حالات ہو سکتے ہیں اور ہر دور میں ‘ یا تو وہ اللہ کی شریعت کے مطابق عمل کریں گے ‘ ماسوائے اس کے کہ وہ اس کے کچھ اجزاء کو ترک کردیں یا پھر نظام شریعت کو مکمل طور پر تسلیم ورضا کے ساتھ قبول کریں گے ۔ ایسی صورت میں لوگ اللہ کے دین میں متصور ہوں گے ۔ یا وہ اپنے فیصلے کسی ایسے قانون کے مطابق کر رہے ہوں جو انسانوں کا بنایا ہوا ہوتا ہے ‘ چاہے اس کی جو شکل و صورت بھی ہو ‘ اور وہ اسے قبول کریں گے لہذا یہ لوگ ان لوگوں کے دین کے اندر متصور ہوں گے ‘ جن کے قانون کو یہ لوگ مانتے ہیں ۔ ایسے حالات میں یہ لوگ ہر گز دین اسلام میں داخل نہ ہوں گے ۔ جو شخص اللہ کے حکم کے مطابق فیصلے نہیں کراتا وہ دراصل جاہلیت کے مطابق فیصلے کراتا ہے اور جو شخص اللہ کی شریعت کا انکار کرتا ہے ‘ وہ دراصل جاہلیت کی شریعت چاہتا ہے اور جاہلیت میں بستا ہے ۔ یہ ہے ایک دوراہہ جس پر اللہ تعالیٰ کو لا کر کھڑا کردیتا ہے اور اس کے بعد لوگوں کو اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ جس راہ پر جانا چاہیں اس راہ کو اختیار کرلیں ۔ اس کے بعد ذرا درشت نظروں کے ساتھ دیکھ کر پوچھا جاتا ہے ان لوگوں سے جو جاہلیت کے مطابق فیصلے کرانا چاہتے ہیں ۔ یہ استفہام انکاری ہے لیکن سوالیہ انداز میں احکام الہی کی برتری کا فیصلہ کردیا جاتا ہے ۔ (آیت) ” ومن احسن من اللہ حکما لقوم یوقنون “۔ (٥ : ٥٠) (حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے ؟ ) ۔۔۔۔۔ ہاں یہ بالکل درست ہے کہ اللہ کے قانون اور احکام کے علاوہ اور کوئی قانون اور حکم نہیں ہے کون ہے جو یہ دعوی کرسکتا ہے کہ وہ لوگوں کا قانون ساز ہے ۔ یا وہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں زیادہ اچھا قانون بنا سکتا ہے ۔ وہ اس عظیم دعوے کے حق میں کیا دلیل رکھتا ہے ۔ کیا کوئی یہ دعوی کرسکتا ہے کہ وہ لوگوں کے خالق کے مقابلے میں لوگوں کے بارے میں زیادہ جاننے والا ہے کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ ہو لوگوں کے رب کے مقابلے میں ان کا زیادہ ہمدرد ہے اور کوئی ہے جو یہ کہہ سکتا ہو کہ وہ الہ العالمین کے مقابلے میں لوگوں کی مصلحتوں سے زیادہ باخبر ہے ؟ کیا کوئی یہ کہنے کی جرات کرسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو لوگوں کے لئے آخری شریعت بنا رہا تھا ‘ جو اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خاتم النبین بنا رہا تھا ‘ جو انکی رسالت کو خاتم الرسالات بنا رہا تھا اور ان کی شریعت کو شریعت ابدی بنا رہا تھا کیا اللہ قیامت تک آنے والے حالات میں سے کسی حال سے بیخبر تھا کہ ایسا حال بھی آئے گا ۔ کیا وہ اس سے بیخبر تھا کہ لوگوں کی نئی نئی ضروریات پیدا ہوں گی ‘ نئے حالات پیدا ہوں گے اور اللہ نے اس قانوں سازی میں ان کا کوئی خیال نہ رکھا ۔ مطلب پھر یہ ہوگا کہ اللہ کو ان حالات کا علم نہ تھا اور یہ علم اب آخری زمانے میں لوگوں پر منکشف ہوا۔ اس سوال کا وہ شخص جواب دے جو زندگی کے دھارے سے اسلامی شریعت کو نکالنا چاہتا ہے ۔ اس کی جگہ جاہلیت کی شریعت نافذ کرنا چاہتا ہے ۔ وہ اپنی خواہشات کو قانون میں بدلنا چاہتا ہے ‘ یا کسی قوم کی خواہشات کو قانون سمجھتا ہے یا کسی نسل کی خواہشات کو اللہ کے حکم اور اللہ کے قانون سے اونچا سمجھتا ہے ۔ میں پوچھتا ہوں کہ ایسا شخص درج بالا سوالات کا جواب کیا دیتا ہے اور خصوصا اگر یہ شخص اپنے بارے میں یہ زعم بھی رکھتا ہے کہ وہ مسلمان ہے ۔ حالات ماحول ‘ لوگوں کا دلچسپی نہ لینا ‘ دشمنوں کا خوف وغیرہ کیا یہ تمام امور اللہ کے علم میں نہ تھے ؟ خصوصا اس وقت جب اللہ مسلمانوں کو یہ حکم دے رہا تھا کہ وہ اپنے معاشرے میں معاشرے میں شریعت نافذ کریں ‘ اسلامی نظام کے مطابق زندگی بسر کریں اور اللہ تعالیٰ نے جو احکام نازل کئے ہیں ان میں سے کسی ایک کو بھی نہ چھوڑیں ۔ کیا یہ بات اللہ کے علم میں نہ تھی ۔ نئے نئے حالات پیدا ہوں گے اور ان میں کوئی شرعی حکم نہ ہوگا ۔ نئی نئی عادات پیدا ہوں گی اور انسان کو حالات مجبور کریں گے ۔ یہ سب باتیں اللہ کے علم میں تھیں جب اللہ بڑی سختی سے یہ حکم دے رہے تھے کہ شریعت کو نافذ کرو اور اگر وہ نافذ نہ کریں تو انہیں اس قدر سخت نتائج سے ڈرا رہا تھا ۔ ایک غیر مسلم تو جو چاہے کہہ سکتا ہے لیکن مسلمان ‘ جو اسلام کے داعی ہیں ‘ وہ ان سوالات کا کیا جواب دیں گے ۔ کیا وہ اسلام پر قائم رہ سکتے ہیں یا ان کے پاس اسلام سے کوئی چیز رہ سکتی ہے اگر وہ یہی سوچیں اور یہی کہیں ؟ لاریب یہ ایک فیصلہ کن اور دو ٹوک معاملہ ہے ‘ انسان دورا ہے پر کھڑا ہے ۔ کوئی اور راہ نہیں ہے اور اس میں کوئی بحث و تکرار ممکن نہیں ۔ اور نہ کوئی حجت بازی کام کرسکتی ہے یا ایک راہ ہے اور یا دوسری راہ ہے ۔۔۔۔۔ یا اسلام ہے اور یا جاہلیت ہے یا ایمان ہے اور یا کفر ہے ‘ یا اللہ کا حکم ہوگا اور یا جاہلیت کی حکمرانی ہوگی ۔ اور جو لوگ اللہ کے احکام کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہ کافر ‘ ظالم اور فاسق ہوں گے ۔ اور محکوموں میں سے جو لوگ اللہ کے احکام کو قبول نہیں کرتے وہ مومن نہیں رہتے ۔ ایک مومن کے دل اور فکر میں یہ مسئلہ نہایت ہی واضح اور دو ٹوک ہونا چاہئے ۔ اسے چاہئے کہ وہ نفاذ شریعت میں کسی زمان ومکان کے اثر کو قبول نہ کرے ، نہ تردد کرے اور وہ اس معاملے میں دوست اور دشمن کا کوئی لحاظ نہ کرے ۔ جب تک اس مسئلے میں اہل اسلام اپنے ضمیروں میں دو ٹوک فیصلہ نہیں کرتے تو ان کے حالات درست نہیں ہو سکتے نہ ان کا کوئی ایک معیار اور میزان ہوگا نہ ان کا نظام واضح ہوگا نہ ان کے ضمیر کے اندر حق اور باطل کی کوئی تمیز ہوگی اور نہ وہ اسلام کی شاہراہ پر ایک قدم بھی آگے بڑھ سکیں گے اگر یہ اجازت دی جاتی ہے کہ یہ مسئلہ جماہیر کے ذہنوں میں واضح نہ ہو مجمل ہی رہے ‘ اور لوگوں اور عوام الناس کے ہاں یونہی ڈھیل رہے جس طرح کہ ہے ۔ اور لیکن جو لوگ صحیح طرح مسلمان بننا چاہتے ہیں ان کے ذہن تو صاف ہونے چاہئیں ۔ ان کو تو چاہئے کہ وہ اپنے اندر یہ صفت پیدا کریں ۔ درس نمبر ٥٠ ایک نظر میں : اس سورة کے زمانہ نزول کے بارے میں ‘ مقدمہ میں ہم نے جو کچھ کہا تھا ‘ اس سبق کی آیات اس کی تصدیق کرتی ہیں ‘ یعنی یہ کہ یہ سورة تمام سورة فتح کے بعد نازل نہیں ہوئی ‘ جو صلح حدیبیہ کے بعد چھٹی صدی ہجری میں نازل ہوئی تھی ۔ اس سورة کے کئی ٹکڑے ہیں جو اس سے پہلے نازل ہوچکے ہوں گے ۔ یعنی کم از کم بنی قریظہ کی جلا وطنی سے پہلے جو چار ہجری میں ہوئی ‘ یعنی عام الاحزاب میں اگرچہ اس سے مزید پہلے یعنی بنی نضیر کی جلاوطنی (بعد جنگ احد) اور بنی قینقاع کی جلاوطنی (بعد جنگ بدر) کے دور تک ہم اسے قدیم نہ کہہ سکیں ۔ بہرحال یہ آیات کچھ واقعات کی طرف اشارہ کر رہی ہیں اور جماعت مسلمہ کے اندر پیش آنے والے بعض واقعات کی طرف ان میں اشارہ ہے ۔ ان میں وہ حالات لئے گئے ہیں جو مدینہ میں منافقین اور یہودیوں کے حوالے سے موجود تھے اور یہ حالات اس وقت ہر گز نہیں رہ سکتے تھے جب کہ یہودیوں کی قوت اور شوکت کو توڑدیا گیا تھا اور ان پر آخری وار واقعہ بنی قریظہ کی صورت میں ٤ ہجری میں ہوچکا تھا ۔ یہ ممانعت کہ یہود ونصاری کو دوست نہ بناؤ اور یہ ڈراوا بلکہ یہ دھمکی کہ وہ لوگ ان کو دوست بنائیں گے وہ انہی میں سے ہوں گے ‘ اور یہ اشارہ کہ جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے ‘ وہ ان کے ساتھ دوستی کرتے ہیں اور وہ اس پر اپنی یہ مجبوری بیان کرتے ہیں کہ وہ مصیبتوں سے ڈرتے ہیں اور یہ مسلمانون کو نفرت دلانا کہ ان لوگوں سے اس لئے دوستی نہ کرو کہ یہ تمہارے دین کو لہو ولعب سمجھتے ہیں اور یہ اشارہ کہ یہ لوگ اقامت صلوۃ کے ساتھ مذاق کرتے ہیں ۔ یہ سب واقعات ممکن ہی تب ہو سکتے ہیں کہ مدینہ میں یہودیوں کو پوری قوت اور شوکت حاصل ہو ۔ اگر یہ قوت نہ ہوتی تو اس قسم کے حالات کا مدینہ میں مدینہ میں پیش آنا ممکن ہی نہ تھا ۔ نہ ایسے واقعات پیش آسکتے تھے ‘ اور نہ اس قدر شدید دھمکی اور ڈراوے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی ۔ اور اس مررسہ کرر مخالفت کی ضرورت نہ ہوتی ‘ نیز یہودیوں کی جبلت کو بیان نہ کیا جاتا اور انکی اس طرح تشہیر نہ ہوتی اور نہ ہی ان پر اس قدر تنقید ہوتی ۔ نہ ان کے مکر و فریب کا پردہ چاک کرنے کی ضرورت ہوتی ۔ نہ ان کے حالات کو اس قدر دہرایا جاتا یا اس قدر روشنی ڈالی جاتی ۔ بعض روایات ایسی بھی ہیں ‘ جن میں سے بعض حالات وواقعات کا تعلق واقعہ بنی قینقاع سے بتایا گیا ہے ‘ حالانکہ یہ واقعہ غزوہ بدر کے بعد پیش آیا تھا ۔ ان کے بارے میں عبداللہ ابن ابی ابن السلول کا موقف اور اس کا یہ کہنا کہ یہودی اس کے دوست ہیں اور یہ کہ وہ یہودیوں کے ساتھ تعلق رکھتا ہے ، مثلا اس کا یہ کہنا کہ میں ایک آدمی ہوں کہ میں برے حالات سے ڈرتا ہوں اس لئے میں اپنے حلیفوں کی حمایت نہیں چھوڑ سکتا ۔ یہ روایات اگر نہ بھی ہوں تب بھی سورة کے موضوع اور مضامین سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے موضوعات اس کے اندر بیان کردہ واقعات ‘ سیرت النبی کے واقعات اور مدینہ طیبہ میں اس کے مراحل ‘ ادوار سب کے سب اسی بات کو ترجیح دیتے ہیں جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا نیز سورة کے مقدمہ میں بھی یہی موقف اختیار کیا۔ اس سبق کی تمام آیات سے وہ اسلوب معلوم ہوتا ہے جس کے مطابق قرآنی منہاج تربیت نے جماعت مسلمہ کو اس رول کے ادا کرنے کے لئے تیار کیا جو اس نے من جانب اللہ اس دنیا میں ادا کرنا تھا ۔ نیز ان آیات سے وہ بنیادی عناصر بھی معلوم ہوتے ہیں جن کا ایک نفس مسلم اور ایک جماعت مسلمہ کی فکر اور سوچ کے اندر ہونا ضروری تھا ۔ یہ بنیادی عناصر ہر دور کے لئے وہی ہیں ۔ یہ مستقل عناصر ہیں اور مستقل اصول ہیں اور یہ کسی دوریا کسی نسل کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں یہی وہ اصول ہیں جن کے اوپر ایک فرد کی تعمیر ہوتی ہے ۔ نیز ایک جماعت کی تنظیم بھی انہیں اصولوں پر ہوتی ہے ۔ قرآن کریم ہر مسلم فرد کی تعمیر اس اساس پر کرتا ہے کہ اس کی تمام ہمدردیاں پورے خلوص کے ساتھ اللہ ‘ رسول ‘ نظریہ اور اس پر قائم ہونے والی جماعت کے ساتھ ہوں ۔ ایک مسلم فرد اور جماعت اور اس فرد اور جماعت کے درمیان مکمل بائیکاٹ ہونا چاہئے جو اسلامی صفوں کے بالمقابل کھڑی ہے اور اس جس نے اسلام کے مخالف جھنڈے اٹھا رکھے ہیں یعنی جو جماعت حضرت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قیادت کو تسلیم نہیں کرتی اور اس جماعت میں ضم نہیں ہوتی جو حزب اللہ کے مقام پر کھڑی ہے ۔ قرآن کریم انسان کو یہ شعور دیتا ہے کہ وہ خوش قسمت ہے کہ اسے اللہ نے اپنے کام کے لئے چنا ہے اور وہ پردہ تقدیر الہی ہے اور اس کے ذریعے اللہ کی تقدیریں پردے سے ظاہر ہوتی ہیں ‘ ان تاریخی واقعات کی صورت میں جو پیش آتے ہیں اور یہ اللہ کا وہ کرم عظیم ہے کہ جس کے حصے میں آگیا سو آگیا ۔ الا یہ کہ اسلامی جماعت کے سوا تمام دوسری جماعتوں کے ساتھ دوستی گانٹھنا دین اسلام سے ارتداد کے مترادف ہے اور اس مقام کو ترک کردینا ہے جو اللہ نے ان کو عطا کیا اور اس خلعت فضیلت کو اتار پھینکنا ہے جو اللہ نے اسے پہنائی تھی ۔ یہ ہدایات اس سبق کی آیات میں بہت ہی واضح طور پر دی گئی ہیں مثلا اے ایمان والو ! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بناؤ یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں ۔ اور اگر تم میں سے کوئی ان کو رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انہی میں ہے ‘ یقینا اللہ ظالموں کو اپنی راہنمائی سے محروم کردیتا ہے ۔ ‘ ‘ ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ‘ اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے ۔ (تو پھر جائے) اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا جو مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہوں گے ‘ جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے ۔ یہ اللہ کا فضل ہے ‘ جسے چاہے عطا کرتا ہے ۔ اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے ۔ “ ” تمہارے رفیق تو حقیقت میں صرف اللہ اور اللہ کا رسول اور وہ اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں ‘ زکوۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کو اپنا رفیق بنا لے اسے معلوم ہو کہ اللہ کی جماعت ہی غالب ہونے والی ہے ۔ “ اس کے بعد قرآن کریم ایک مسلم کے شعور میں اس کے دشمنوں کی حقیقت بھی بٹھاتا ہے ‘ اور اس کشمکش کی حقیقت سے بھی انہیں آگاہ کرتا ہے جو ان کے اور مسلمانوں کے درمیان برپا ہے ۔ یہ کشمکش نظریاتی کشمکش ہے ۔ عقیدہ اور نظریہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ایک مسلمان اور اس کے دشمنوں کے درمیان ہر وقت برپا رہتا ہے ۔ مسلمانوں کی دشمنی تمام دوسری چیزوں سے پہلے اپنے عقیدے اور دین کے لئے ہوتی ہے ۔ اہل کفر مسلمانوں کے ساتھ یہ دشمنی اس لئے رکھتے ہیں کہ انہوں نے اس دین کی نافرمانی کی ٹھانی ہوئی ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جو شخص بھی اس دین پر سیدھا چل رہا ہو وہ اسے سخت ناپسند کرتے ہیں ۔ ” ان سے کہو اے اہل کتاب ‘ تم جس بات پر ہم سے بگڑے ہو ‘ وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ ہم اللہ پر اور دین کی اس تعلیم پر ایمان لے آئے ہیں جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور ہم سے پہلے بھی نازل ہوئی تھی ‘ اور تم میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں ۔ “ یہ ہے نظریہ اور یہ ہے نظریاتی اختلاف اور یہ ہیں اختلافی محرکات ۔ اس نظام تربیت اور اس میں دی جانے والی ہدایات کی اہمیت بہت ہی بڑی ہے ۔ اس لئے کہ اللہ کی ساتھ محبت اور رسول اور اس کے دین کے ساتھ والہانہ لگاؤ اور اس کی اساس پر قائم ہونے والی جماعت کے ساتھ لگاؤ اور محبت اور اس دین اور اس کے دشمنوں کے درمیان قائم ہونے والی کشمکش کی اصل نوعیت کو سمجھنا اور اس کے دشمنوں کو اچھی طرح جان لینا ہی اصل دین ہے ۔ یہ ایسے امور ہیں کہ جن کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ انکی اہمیت اس لحاظ سے بھی ہے کہ ان کے بغیر ایمان کی ضروری شرائط پوری نہیں ہوتیں ‘ ایک مسلمان کی ذاتی تربیت بھی نہیں ہوتی اور اس دین کے لئے کسی محرک جماعت کی تشکیل بھی ممکن نہیں ہے ۔ جو لوگ اس دین کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں وہ اس وقت تک پکے مسلمان نہیں ہو سکتے ‘ اس وقت وہ ٹھوس شخصیت کے مالک نہیں ہو سکتے اور اس وقت تک وہ اس کرہ ارض پر کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے جب تک ان کے دلوں کے اندر ان تمام لوگوں کے مقابلے میں دوری نہیں پیدا ہوجاتی جو اس اسلامی محاذ کے خلاف جھنڈے اٹھائے ہوئے ہیں۔ جب تک اہل ایمان کی محبت اور دوستی اللہ ‘ رسول اور اہل ایمان کے لئے مختص نہیں ہوجاتی اور جب تک وہ اس کشمکش کی اصل حقیقت کو پا نہیں لیتے اس وقت تک دین کے تقاضے پورے نہیں ہو سکتے ۔ اور جب تک ان کو یہ یقین نہیں ہوتا ہے کہ وہ محض اس غرض کے لئے جمع ہوئے ہیں ‘ اور یہ کہ ہمارے دشمن سب کے سب اسلامی جماعت اور اسلامی عقائدے کے خلاف متحد ومتفق ہیں۔ ان آیات میں اس پر اکتفاء نہیں کیا گیا کہ مسلمانوں کو وہ اسباب بتا دیئے جائیں جن کی وجہ سے دشمنان دین اسلام کے خلاف جنگ برپا کئے ہوئے ہیں بلکہ ان آیات میں دشمنوں کی نشاندہی بھی کردی گئی ہے ۔ ان کے فسق وفجور کی مقدار کی وضاحت بھی کردی گئی ہے اور یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ وہ دین سے کس قدر منحرف ہوگئے ہیں تاکہ مسلمانوں کو معلوم ہوجائے کہ ان کو کیسے دشمنوں سے واسطہ پڑا ہے اور اس کا ضمیر بھی مطمئن ہوجائے کہ وہ اس معرکے میں حق بجانب ہیں۔ اس جنگ کی سخت ضرورت ہے ۔ اور اس سے کوئی مفر نہیں ہے ۔ ” اے ایمان والو ! یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست نہ بناؤ یہ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ “ ۔ ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو تمہارے اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے تمہارے دین کو مذاق اور تفریح کا سامان بنایا ہے انہیں اور دوسرے کافروں کو اپنا دوست نہ بناؤ ۔ اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو ۔ جب تم نماز کے لئے منادی کرتے ہو تو وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور اس سے کھیلتے ہیں ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عقل نہیں رکھتے ۔ “ ” جب یہ تم لوگوں کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ‘ حالانکہ کفر لئے ہوئے آئے تھے اور کفر ہی لئے واپس گئے اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں تم دیکھتے ہو کہ ان میں سے بکثرت لوگ گناہ اور ظلم و زیادتی کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں اور حرام کے مال کھاتے ہیں بہت ہی بری حرکات ہیں جو یہ کر رہے ہیں “۔ ” یہودی کہتے ہیں اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ‘ باندھے گئے ان کے ہاتھ ۔ اور لعنت پڑی ان پر اس بکواس کے بدولت جو یہ کرتے ہیں ۔ اللہ کے ہاتھ تو کشادہ ہیں ‘ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے ۔ “ ۔ اس وجہ سے کہ ان کی یہ صفات ہیں اور اس وجہ سے کہ جماعت مسلمہ کے ساتھ ان کا یہ رویہ ہے ‘ اور اس وجہ سے کہ یہ جماعت مسلمہ کے خلاف سب اکھٹے ہوچکے ہیں ‘ اور اس وجہ سے کہ وہ مسلمانوں کے دین اور خصوصا نماز کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں ‘ ایک صحیح مسلمان کے لئے اور کوئی چارہ کار بھی نہیں ہے کہ وہ پوری سنجیدگی اور پورے اطمینان کے ساتھ ‘ ان لوگوں کی مدافعت کرے ۔ ان تصوص کے اندر اس معرکے کے انجام کا ذکر بھی کردیا گیا ہے اور اس کا پورا نتیجہ بھی یہاں دے دیا ہے ۔ یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ آخرت سے بھی پہلے خود اس دنیا میں اسلام کیا رنگ لاتا ہے : ” اور جو اللہ اور رسول اور اہل ایمان کو اپنا رفیق بنا لے اسے معلوم ہو کہ اللہ کی جماعت ہی غالب رہنے والی ہے ۔ “ ۔۔۔۔۔ اگر یہ اہل کتاب ایمان لے آتے ‘ اور خدا ترسی کی روش اختیار کرتے ‘ تو ہم انکی برائیاں ان سے دور کردیتے ۔ اور ان کی نعمت بھری جنتوں میں پہنچاتے ۔ کاش انہوں نے تورات اور انجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم کیا ہوتا جو ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس بھیجی گئی تھیں ‘ ایسا کرتے تو ان کے لئے اوپر سے رزق برستا اور نیچے سے ابلتا ۔ “ نیز ان آیات میں ایسے مسلمانوں کی صفات کا بھی تذکرہ ہے جن کو اللہ اپنے دین کی خدمت کے لئے چن لیتا ہے اور ان کو یہ فضل عظیم عطا کرتا ہے کہ انہیں اس عظیم کردار کے لئے اس نے چن لیا ۔ ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ‘ اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے ۔ (تو پھر جائے) اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا جو مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہوں گے ‘ جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے ۔ یہ اللہ کا فضل ہے ‘ جسے چاہے عطا کرتا ہے ۔ اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے ۔ “ یہ تمام فیصلے اور قرار دایدیں اسلامی نظام کے قیام کے لئے اقدامات ہیں اور ان سے مقصود یہ ہے کہ ایک مسلم فرد اور مسلم جماعت کی ٹھوس بنیادوں پر تربیت کی جائے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

آخر میں فرمایا (اَفَحُکْمَ الْجَاھِلِیَّۃِ یَبْغُوْنَ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ حُکْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ ) (کیا یہ لوگ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں اور فیصلہ کرنے کے اعتبار سے ان لوگوں کے لئے اللہ سے اچھا کون ہے جو یقین رکھتے ہیں) ۔ جو لوگ اللہ کے حکم کے خلاف دوسرا حکم تلاش کرتے ہیں ان کی توبیخ کے لئے سوال کے پیرایہ میں ارشاد فرمایا کیا یہ لوگ جاہلیت کے فیصلے کو چاہتے ہیں ؟ اللہ کا فیصلہ سامنے ہوتے ہوئے جو اللہ کی کتاب بتارہی ہے اور جو اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سنایا ہے، اس سے اعراض کر رہے ہیں اور ہٹ رہے جب اللہ کا فیصلہ ماننے سے انکار ہے تو اب کونسا فیصلہ چاہتے ہیں۔ اللہ کے فیصلے کے خلاف تو جاہلیت کا ہی فیصلہ ہے اللہ کے فیصلے کو چھوڑنا اور جاہلیت کے فیصلے کو اختیار کرنا کس لئے ہے ؟ کیا جاہلیت کا فیصلہ اللہ کے فیصلے سے اچھا ہے ؟ ایساہر گز نہیں ! اللہ سے بڑھ کر اچھا فیصلہ دینے والا کوئی نہیں لیکن اس بات کو یقین والے بندے جانتے اور مانتے ہیں، جن کی کفر ہی پر جمے رہنے کی نیت ہے وہ اللہ کے فیصلہ پر راضی نہیں، جاہلیت کا فیصلہ ہی انہیں مطلوب اور محبوب ہے۔ یہ عجیب احمقانہ بات ہے اور نہایت درجہ منکر قبیح اور شنیع ہے۔ دور حاضر کے نام نہاد مسلمان بھی جاہلیت کے فیصلوں پر راضی ہیں گزشتہ آیات میں یہودیوں کی حکم عدولی اور گمراہی کا تذکرہ ہے ان لوگوں نے رجم کے سلسلہ میں توریت کے حکم کو چھوڑ کر زانی اور زانیہ کی سزا اپنے طور پر تجویز کرلی تھی اور قصاص کے حکم کو بھی بدل دیا تھا اللہ کے فیصلے کی بجائے اپنے تجویز کردہ فیصلوں کو بطور قانون کے نافذ کردیا تھا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیصلہ معلوم کرنے کے لئے اپنے نمائندے بھیجے تو ان سے کہہ دیا کہ تمہارے موافق ہو تو فیصلہ قبول کرلینا اور تمہارے موافق نہ ہو تو اس سے گریز کرنا۔ آج یہی حال ان لوگوں کا ہے جو مسلمان ہونے کے مدعی ہیں اور حکومتیں لئے بیٹھے ہیں اور نہ صرف وہ لوگ جنہیں حکومت مل جاتی ہے بلکہ عوام بھی قرآن کریم کے فیصلوں سے راضی نہیں ہیں۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلوں کو ماننے سے انکاری ہیں جب ان سے کہا جاتا ہے کہ قرآنی نظام نافذ کرو تو کانوں پر ہاتھ دھرتے ہیں ان میں سے بہت لوگ نمازی بھی ہیں اور اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت کے دعویدار بھی ہیں لیکن یہ لوگ بھی قرآنی نظام نافذ کرنے اور نافذ کروانے کے حق میں نہیں ہیں۔ یورپین اقوام نے جو قوانین بتائے ہیں ان ہی کے باقی رکھنے کے حق میں ہیں ان پر آیت شریفہ کا مضمون (اَفَحُکْمَ الْجَاھِلِیَّۃِ یَبْغُوْنَ ) پوری طرح صادق آرہا ہے۔ مقدمہ لڑاتے ہیں برسوں کیس چلتا ہے۔ دونوں طرف کے وکیل فیس کھاتے رہتے ہیں مال بھی خرچ ہوتا ہے اور وقت بھی ضائع، معمولی سا حق حاصل کرنے کے لئے کئی کئی گنا مال خرچ کرنا پڑتا ہے پھر بھی جاہلانہ نظام پر راضی ہیں اور اس بات پر راضی نہیں کہ قاضی اسلام کے پاس جائیں گواہ یا قسم کی بنیاد پر قرآن و حدیث کے موافق فیصلہ ہوجائے۔ جاہلانہ قانون کا سہار لے کر دوسروں کی جائیدادیں دبا لیتے ہیں مرحوم باپ کی میراث سے ماں اور بہنوں کو محروم کردیتے ہیں اور طرح طرح سے ضعفاء اور فقراء کے حقوق مار لیتے ہیں۔ یہی ظالمانہ منافع تو قانون اسلام کے نافذ کرنے کی حمایت نہیں کرنے دیتے۔ کافرانہ نظام کا سہارا لیکر اگر دنیا میں کسی کا حق مار لیا تو جب مالک یوم الدین جل جلالہ کی بارگاہ میں پیشی ہوگی اس وقت چھٹکارہ کیسے ہوگا ؟ نام کے مسلمان لوگوں نے کیا طریقہ نکالا ہے کہ مسلمان بھی ہیں اور اسلام گوارا بھی نہیں، اور عجیب بات ہے کہ جو لوگ قرآن کو مانتے ہی نہیں ان کو راضی رکھنا بھی مقصود ہے چونکہ ان کی رائے اسلامی نظام کے حق میں نہیں اس لئے قرآن ماننے والے بھی نظام قرآن نافذ کرنے کے حق میں نہیں۔ (اِنا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

92 یہود قطاع الطریق قتل و رہزنی کرتے تھے اور قتل کے بدلے فدیہ دے کر قصاص سے جان بچالیتے تھے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بھی ان کی یہی کوشش تھی کہ مال دے کر قتل سے بچ جائیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تو بالکل وہی جاہلیت کا فیصلہ ہے کیا یہ لوگ آخر الزمان پیغمبر کے سامنے بھی وہی جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں۔ فائدہ : قال اشیخ قدس سرہ اگر غور سے دیکھا جائے تو ابتدائے سورت سے لے کر یہاں تک یہود قطاع الطریق کے متعلق آیات تھیں۔ ابتدا میں کہا گیا اگر تم نے قدیم بغض کی بنا پر نئے مسلمانوں کی معاونت اور امداد نہ کی اور ان قطاع الطریق کو ان سے نہ روکا تو یہ معاونت علی الظلم شمار ہوگی اب ان آیتوں میں بھی ان قطاع الطریق ہی کا ذکر ہے۔ 93 لِقَوْمٍ میں لام بمعنی عِنْدَ ہے۔ جو فیصلہ یہود چاہتے ہیں وہ سراسر جاہلیت کا فیصلہ ہے اور جو فیصلہ خدا کا پیغمبر صادر کرتا ہے وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے اور جو لوگ اللہ پر، اللہ کے رسول پر، اللہ کی کتاب پر اور آخرت کے دن پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے فیصلے سے جو اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعے صادر ہوتا ہے، بہتر کوئی فیصلہ نہیں ہوسکتا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 3 کیا اے پیغمبر یہ آپ کے حکم سے روگردانی کر کے دور جاہلیت کے کافرانہ احکام کے متلاشی ہیں اور بھلا اللہ تعالیٰ سے بہتر اس قوم کے لئے جو یقین کرنے والی ہے کون فیصلہ کرنے والا ہوسکتا ہے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ جب یہ حق بات کو جو آپ کا حکم ہے نہیں مانتے اور اس سے روگردانی کرتے ہیں تو پھر کیا اس زمانہ کی باتوں کو تلاش کرتے ہی جب نہ کوئی دین کی روشنی تھی نہ کوئی باضابطہ اور قابل اعتماد آسمانی کتاب بھی نہ تھی اب نبی آخر الزماں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دور ہے اور خدا تعالیٰ کی آخری کتاب کے احکام کو اجرا ہوچکا جب حق ظاہر ہوچکا تو اس روشنی کے زمانے میں دور جاہلیت کی باتوں کو تلاش کرتے پھرنا اس سے بڑھ کر بھی کوئی حماقت ہوسکتی ہے ان کو ایسا نہیں کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ سے بہتر با اعتبار فیصلہ کرنے کے کون ہوسکتا ہے ان لوگوں کے نزدیک جو یقین سے بہرہ ور ہیں ان لوگوں کا اس سے بڑھ کر اور جہل کیا ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کو نظر انداز کرتے ہوئے تاریک زمانے کے انسانوں کی راہیں تلاش کریں یقین والوں کو اس لئے فرمایا کہ ان ہی میں غور و فکر اور تامل و تدبر کا سلیقہ ہے کہتے ہیں کہ ابن صوریا کے ساتھ اس سازش میں عبداللہ بن ابی منافق بھی شریک تھا۔ (تسہیل)