Surat ul Maeeda

Surah: 5

Verse: 73

سورة المائدة

لَقَدۡ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ ثَالِثُ ثَلٰثَۃٍ ۘ وَ مَا مِنۡ اِلٰہٍ اِلَّاۤ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ؕ وَ اِنۡ لَّمۡ یَنۡتَہُوۡا عَمَّا یَقُوۡلُوۡنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۷۳﴾

They have certainly disbelieved who say, " Allah is the third of three." And there is no god except one God. And if they do not desist from what they are saying, there will surely afflict the disbelievers among them a painful punishment.

وہ لوگ بھی قطعاً کافر ہوگئے جنہوں نے کہا ، اللہ تین میں سے تیسرا ہے دراصل اللہ تعالٰی کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ اگر یہ لوگ اپنے اس قول سے باز نہ رہے تو ان میں سے جو کفر پر رہیں گے ، انہیں المناک عذاب ضرور پہنچے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

لَّقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّ اللّهَ ثَالِثُ ثَلَثَةٍ ... Surely, they have disbelieved who say: "Allah is the third of three." Mujahid and several others said that; this Ayah was revealed about the Christians in particular. As-Suddi and others said that; this Ayah was revealed about taking `Isa and his mother as gods besides Allah, thus making Allah the third in a trinity. As-Suddi said, "This is similar to Allah's statement towards the end of the Surah, وَإِذْ قَالَ اللّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنتَ قُلتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَـهَيْنِ مِن دُونِ اللّهِ قَالَ سُبْحَانَكَ And (remember) when Allah will say: "O `Isa, son of Maryam! Did you say unto men: `Worship me and my mother as two gods besides Allah' He will say, "Glory be to You!" (5:116) Allah replied, ... وَمَا مِنْ إِلَـهٍ إِلاَّ إِلَـهٌ وَاحِدٌ ... But there is no god but One God. meaning there are not many worthy of worship but there is only One God without partners, and He is the Lord of all creation and all that exists. Allah said next, while threatening and admonishing them, ... وَإِن لَّمْ يَنتَهُواْ عَمَّا يَقُولُونَ ... And if they cease not from what they say, their lies and false claims, ... لَيَمَسَّنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِنْهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ verily, a painful torment will befall the disbelievers among them. in the Hereafter, shackled and tormented. Allah said next, أَفَلَ يَتُوبُونَ إِلَى اللّهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ وَاللّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

73۔ 1 یہ عیسائیوں کے دوسرے فرقے کا ذکر ہے جو تین خداؤں کا قائل ہے، جن کو وہ اقانیم ثلاثہ کہتے ہیں۔ ان کی تعبیر و تشریح میں اگرچہ خود ان کے مابین اختلاف ہے۔ تاہم صحیح بات یہی ہے کہ اللہ کے ساتھ، انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ حضرت مریم (علیہا السلام) کو بھی اللہ قرار دے لیا، جیسا کہ قرآن نے صراحت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھے گا۔ " ءانت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ " (کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو، اللہ کے سوا، معبود بنا لینا ؟ ) (المائدۃ 112) اس سے معلوم ہوا کہ عیسیٰ اور مریم (علیہما السلام) ان دونوں کو عیسائیوں نے اللہ بنایا، اور اللہ تیسرا اللہ ہوا، جو ثالث ثلاثہ (تین میں کا تیسرا) کہلایا پہلے عقیدے کی طرح اللہ تعالیٰ نے اسے بھی کفر سے تعبیر فرمایا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢٠] عقیدہ تثلیث اور اس کا رد :۔ متی، مرقس اور لوقا کی انجیلوں میں عیسیٰ (علیہ السلام) کے الٰہ ہونے کی گنجائش نہیں خود عیسیٰ (علیہ السلام) نے ہمیشہ اپنے آپ کو ایک انسان ہی کی حیثیت سے پیش کیا تھا۔ تثلیث اور الوہیت مسیح کا عقیدہ چوتھی صدی عیسوی میں رائج ہوا۔ اس عقیدہ کی بنیاد تو یونانی فلسفہ کے افکار و نظریات پر اٹھائی گئی تھی جیسا کہ آج کل بعض مسلمان بھی اسی فلسفہ کے مسئلہ عقول عشرہ پر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ کے نور کا حصہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایسے نظریات عموماً پیروں فقیروں میں فروغ پاتے ہیں۔ انبیاء کے متعلق ایسے نظریات عموماً ان کی عقیدت و محبت میں افراط کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں جو انسان کو اللہ کے مقام تک جا پہنچاتے ہیں یہ صریح شرک ہے اور اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو کہیں کافر فرمایا ہے اور کہیں مشرک۔ چناچہ رسول اللہ نے اپنی وفات سے پیشتر جو نہایت اہم وصیتیں اپنی امت کو کی تھیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ && مجھے ایسا نہ بڑھانا جیسے نصاریٰ نے عیسیٰ ابن مریم کو بڑھایا تھا۔ میں تو بس اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ && (بخاری۔ کتاب الانبیائ۔ باب قول اللہ واذکر فی الکتاب مریم )

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ کو تین میں سے تیسرا قرار دینے والے بھی کافر ہوگئے، جبکہ معبود تو ایک ہی ہے، اب خواہ وہ تین اقانیم، باپ، بیٹا اور روح القدس کو الگ الگ خدا قرار دیں یا کہیں کہ یہ تین الگ الگ نہیں بلکہ مل کر ایک ہی خدا ہیں، بہر حال یہ عقیدہ رکھنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے کافر قرار دیا۔ پھر نیکی کا لبادہ اوڑھ کر شرک پھیلانے والے وہ ظالم جو یہ کہیں کہ ہر چیز ہی خدا ہے اور اسے وحدت الوجود کا نام یا کوئی اور نام دیں، ان کے کافر ہونے میں بھی کیا شک ہے، بلکہ اس عقیدے سے تو قرآن و سنت اور اسلام کی ہر بات اور ہر حکم ہی باطل ٹھہرتا ہے کہ حکم دینے والا بھی وہی ہے اور جسے حکم دیا گیا وہ بھی وہی ہے، جنت و دوزخ بھی اور ان میں جانے والے بھی سب ایک ہی ہیں۔ غرض یہ عقیدہ اسلام کی جڑ اکھاڑ دینے کے لیے بنایا گیا ہے، پھر کیسی توحید اور کہاں کی نماز، غرض سب کچھ ایک ہے تو دین کی کون سی چیز باقی رہے گی۔ وَاِنْ لَّمْ يَنْتَھُوْا۔۔ : یعنی اگر وہ اللہ تعالیٰ کو تین میں سے تیسرا قرار دینے سے باز نہ آئیں اور خالص توحید اختیار نہ کریں، جس کی طرف انبیاء دعوت دیتے رہے ہیں تو ان کی سزا یہ ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary 1. The words: إِنَّ اللَّـهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ in verse 72, translated here literally as ` Allah is the third of the three,& refers to Sayyidna Masih (Jesus Christ), Ruhul-Quds (The Holy Spirit) and Allah, or to Masih, Maryam (Mary) and Allah - with all three taken as God (Refuge with Allah). Thus, Allah becomes a one-third partner with them, then all three of them become one, and that one is three. This unity in trinity, with three persons in one godhead, is the common belief of Christians. They explain this belief which is supported by neither reason nor revelation with a language that is kept circuitous and ambiguous. When not un-derstood, they declare it to be reality beyond comprehension. (Shabbir Ahmad Usmani - Notes) 2. In verse 75, by saying: قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّ‌سُلُ (There have been messen¬gers before him), the assigning of godhood to Sayyidna Masih (علیہ السلام) has been refuted. Prophets came to this world. They completed their mission. Then, they were gone. They were not eternal which is the mark of godhood. Similarly, Sayyidna Masih, may peace be upon him (being human like them) was not eternal. So, he cannot be what God is. A little reflection will show that everyone who needs to eat and drink almost depends on everything in the world. We cannot say that the earth, the air, the water, the sun and the animals are what we do not need. Look into your own self. There is that grain of food outside you, then begins its journey from the entry into the stomach to the next destination of its digestion. Think of all those factors involved and things required directly and indirectly in this complex procedure. Then, there will be a chain of effects generated through eating and no one can tell precisely how far will they go. So, by pointing out that Sayyidna Masih and his pious mother used to eat, the Holy Qur&an has referred to the endless chain of needs it entails. The argument, thus runs that Masih and Maryam, may peace be upon them both, were not free of the need for eating and drinking which is proved by observation and authentic narrations (not denied by even Christians). And anyone who is not free from the need of eating and drinking cannot be free from anything in this world. How then, a human person, who like all human beings is not free of the need to depend on the chain of causa-tion for survival, could become God? This is a strong and clear proof which can be understood by the educated and the uneducated alike - that is, eating and drinking is contrary to godhood. Though, not eat¬ing too is not a proof in favour of godhood, otherwise all angels would become gods! (Refuge with Allah) (Tafsir Usmani) 3. Was Sayyidah Maryam a prophet or saint? This is a debated issue. In the present verse (75), the complimentary use of the word |"Siddiqah|" (truthful) obviously seems to indicate that she was a godly person, not a Nabiyy ( prophet) - because on a complimentary occasion, what is mentioned is the higher rank. If she had the station of pro¬phethood, the word used for her at this place would have been |"Nabiyyah|"- but, the word used here is |"Siddiqah|" which is the station of sainthood or godliness (abridged from Ruh al-Ma` ani). According to the majority of Muslim scholars, the station of Nu-buwwah (prophethood) has never appeared among women. This mis¬sion has been particular with men: وَمَا أَرْ‌سَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِ‌جَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَ‌ىٰ And We have not sent any (one) before you but men to whom We revealed from among the peoples of the towns - Surah Yu¬suf, 12 : 109. (Tafsir Usmani)

معارف و مسائل (قولہ تعالیٰ ) اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ ، یعنی حضرت مسیح، روح القدس اور اللہ یا مسیح، مریم اور اللہ تینوں خدا ہیں (العیاذ باللہ) ان میں ایک حصہ دار اللہ ہوا، پھر وہ تینوں ایک اور وہ ایک تین ہیں، عیسائیوں کا عام عقیدہ یہ ہے، اور اس خلاف عقل و ہدایت عقیدہ کو گول مول اور پیچدار عبارتوں سے ادا کرتے ہیں، اور جب کسی کی سمجھ میں نہیں آتا تو اس کو ماوراء العقل حقیقت قرار دیتے ہیں (قوائد عثمانی رحمة اللہ علیہ) مسیح (علیہ السلام) کی الوہیت کی تردید (قولہ تعالیٰ ) قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ، یعنی جس طرح اور انبیاء دنیا میں آئے اور کچھ دن رہ کر چل بسے، ان کو دوام اور بقاء حاصل نہ تھا جو الوہیت کی شان ہے، اسی طرح حضرت مسیح (علیہ السلام) (جو انہی کی طرح ایک انسان ہیں) کو دوام اور بقاء حاصل نہیں، لہذا وہ الٓہ نہیں ہو سکتے۔ ذرا غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ جو شخص کھانے پینے کا محتاج ہے وہ تقریباً دنیا کی ہر چیز کا محتاج ہے۔ زمین، ہوا، پانی، سورج اور حیوانات سے اسے استغناء نہیں ہوسکتا۔ غلہ کے پیٹ میں پہنچنے اور ہضم ہونے تک خیال کرو بالواسطہ یا بلا واسطہ کتنی چیزوں کی ضرورت ہے۔ پھر کھانے سے جو اثرات و نتائج پیدا ہوں گے ان کا سلسلہ کہاں تک جاتا ہے۔ احتیاج و افتقار کے اس طویل الذیل سلسلہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہم الوہیت مسیح و مریم کے ابطال کو بشکل استدلال یوں بیان کرسکتے ہیں کہ مسیح و مریم اکل و شرب کی ضرورت سے مستغنی نہ تھے۔ جو مشاہدہ اور تواتر سے ثابت ہے اور جو اکل و شرب سے مستغنی نہ ہو وہ دنیا کی کسی چیز سے مستغنی نہیں ہوسکتا۔ پھر تم ہی کہو کہ جو ذات تمام انسانوں کی طرح اپنی بقاء میں عالم اسباب سے مستغنی نہ ہو وہ خدا کیونکر بن سکتی ہے۔ یہ ایسی قوی اور واضح دلیل ہے جسے عالم و جاہل یکساں طور پر سمجھ سکتے ہیں، یعنی کھانا پینا الوہیت کے منافی ہے۔ اگرچہ نہ کھانا بھی کوئی الوہیت کی دلیل نہیں ورنہ سارے فرشتے خدا بن جائیں (معاذ اللہ) (فوائد عثمانی) حضرت مریم بتول (علیہ السلام) نبی تھیں یا ولی ؟ حضرت مریم کی ولایت اور نبوت کے بارے میں اختلاف ہے۔ آیت مذکورہ میں مقام مدح میں لفظ ” صدیقہ “ سے بظاہر اشارہ اسی طرف معلوم ہوتا ہے کہ آپ ” ولی “ تھیں۔ نبی نہیں کیونکہ مقام مدح میں اعلیٰ درجہ کو ذکر کیا جاتا ہے۔ اگر آپ کو نبوت حاصل ہوتی تو یہاں ” نبیہ “ کہا جاتا۔ حالانکہ یہاں ” صدیقہ “ کہا گیا ہے، جو ولایت کا مقام ہے (روح ملخصاً ) جمہور امت کی تحقیق یہی ہے کہ خواتین میں نبوت نہیں آئی یہ منصب رجال ہی کے لئے مخصوص رہا ہے، (آیت) وما ارسلنا من اہل القری (یوسف، رکوع ٢١) (فوائد عثمانی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللہَ ثَالِثُ ثَلٰــثَۃٍ۝ ٠ۘ وَمَا مِنْ اِلٰہٍ اِلَّآ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ۝ ٠ۭ وَاِنْ لَّمْ يَنْتَھُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْہُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۝ ٧٣ إله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله»وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] الٰہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ انتهَاءُ والانتهَاءُ : الانزجار عمّا نهى عنه، قال تعالی: قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ يَنْتَهُوا يُغْفَرْ لَهُمْ ما قَدْ سَلَفَ [ الأنفال/ 38] الانتھاء کسی ممنوع کام سے رک جانا ۔ قرآن پاک میں ہے : قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ يَنْتَهُوا يُغْفَرْ لَهُمْ ما قَدْ سَلَفَ [ الأنفال/ 38]( اے پیغمبر ) کفار سے کہہ دو کہ اگر وہ اپنے افعال سے باز آجائیں تو جو ہوچکا وہ انہیں معاف کردیاجائے گا ۔ مسس المسّ کاللّمس لکن اللّمس قد يقال لطلب الشیء وإن لم يوجد والمسّ يقال في كلّ ما ينال الإنسان من أذى. نحو قوله : وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] ، ( م س س ) المس کے معنی چھونا کے ہیں اور لمس کے ہم معنی ہیں لیکن گاہے لمس کیس چیز کی تلاش کرنے کو بھی کہتے ہیں اور اس میں یہ ضروری نہیں کہ وہ چیز مل جل بھی جائے ۔ اور مس کا لفظ ہر اس تکلیف کے لئے بول دیا جاتا ہے جو انسان تو پہنچے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] اور کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں ۔۔ چھوہی نہیں سکے گی ألم الأَلَمُ الوجع الشدید، يقال : أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قال تعالی: فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَما تَأْلَمُونَ [ النساء/ 104] ، وقد آلمت فلانا، و عذاب أليم، أي : مؤلم . وقوله : لَمْ يَأْتِكُمْ [ الأنعام/ 130] فهو ألف الاستفهام، وقد دخل علی «لم» . ( ا ل م ) الالم کے معنی سخت درد کے ہیں کہا جاتا ہے الم یالم ( س) أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قرآن میں ہے :۔ { فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ } ( سورة النساء 104) تو جس طرح تم شدید درد پاتے ہو اسی طرح وہ بھی شدید درد پاتے ہیں ۔ اٰلمت فلانا میں نے فلاں کو سخت تکلیف پہنچائی ۔ اور آیت کریمہ :۔ { وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ } ( سورة البقرة 10 - 174) میں الیم بمعنی مؤلم ہے یعنی دردناک ۔ دکھ دینے والا ۔ اور آیت :۔ اَلَم یَاتِکُم (64 ۔ 5) کیا تم کو ۔۔ نہیں پہنچی ۔ میں الف استفہام کا ہے جو لم پر داخل ہوا ہے ( یعنی اس مادہ سے نہیں ہے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٣۔ ٧٤) اور مرتوسیہ فرقہ کہتا ہے کہ خدا تین میں کا ایک ہے، یعنی باپ، بیٹا، روح قدس، حالانکہ تمام آسمان و زمین والوں کے لیے بجز ایک معبود حقیقی کے اور کوئی معبود نہیں، جو وحدہ لاشریک ہے اور اگر یہود ونصاری اپنی خرافات سے توبہ نہیں کریں گے تو ان پر اللہ کی طرف سے ایسا درد ناک عذاب مسلط کیا جائے گا کہ اس کی شدت ان کے دلوں تک سرایت کرجائے گی اور جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور توبہ ہی پر مرجائے تو ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

49: یہ عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث کی طرف اشارہ ہے۔ اس عقیدے کا مطلب یہ ہے کہ خدا تین اقانیم (presons) کا مجموعہ ہے، ایک باپ (یعنی اللہ)، ایک بیٹا (یعنی حضرت مسیح علیہ السلام) ، اور ایک روح القدس۔ اور بعض فرقے اس بات کے بھی قائل تھے کہ تیسری حضرت مریم علیہا السلام ہیں اور ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ تینوں مل کر ایک ہیں۔ یہ تینوں مل کر ایک کس طرح ہیں؟ اس معمے کا کوئی معقول جواب کسی کے پاس نہیں ہے، اس لئے ان کے متکلمین (theologians) نے اس عقیدے کی مختلف تعبیریں اختیار کی ہیں۔ بعض نے تو یہ کہا کہ حضرت مسیح علیہ السلام صرف خدا تھے، اِنسان نہیں تھے۔ آیت نمبر ۷۲ میں ان کے عقیدے کو کفر قرار دیا گیا ہے۔ اور بعض لوگ یہ کہتے تھے کہ خدا جن تین اقانیم کا مجموعہ ہے، ان میں سے ایک باپ یعنی اللہ ہے، دوسرا بیٹا ہے جو اللہ کی ایک صفت تھی جو اِنسانی وجود میں حلول کرکے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شکل میں آگئی تھی، لہٰذا وہ اِنسان بھی تھے، اور اپنی اصل کے اعتبار سے خدا بھی تھے۔ آیت نمبر ۷۳ میں اس عقیدے کی تردید کی گئی ہے۔ عیسائیوں کے ان عقائد کی تفصیل اور ان کی تردید کے لئے دیکھئے راقم الحروف کی کتاب ’عیسائیت کیا ہے؟۔‘‘

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(5:73) ثالث ثلاثۃ۔ تین (خداؤں) میں سے تیسرا (خدا) ہے۔ تین خدا ۔ اللہ ۔ دوسرا مسیح۔ تیسرا۔ حضرت مریم یا روح القدس۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 یعنی باپ بیٹا اور روح القدس تثلیث کا ہر پہلو ذکر کر کے ان کی ضلالت کو واضح فرمایا ہے (دیکھئے آیت 17)5 اور خالص توحید نہ کریں گے جس کی طرف انبیا دعوت دیتے رہے ہیں (وحیدی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : عیسائیوں کے باطل عقیدہ کی تردید اور انہیں اس عقیدہ سے توبہ کی تلقین کی گئی ہے۔ آدمی جب حقائق دیکھنے سے اندھا اور دلائل سننے سے بہرہ ہوجائے تو وہ کفر کی وادیوں میں آگے ہی بڑھتا جاتا ہے عیسائی اس جرم کے مرتکب ہوئے تو حقائق جاننے کے باوجود عیسیٰ (علیہ السلام) کی محبت میں اندھے ہو کر یہ کہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کے مرتکب ہوئے کہ اللہ، عیسیٰ اور مریم ایک دوسرے سے ہیں اور اللہ اس مثلث میں سے ایک ہے۔ توحید کا خلاصہ یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک نہ سمجھے شرک تمام گناہوں کا منبع، آخری درجے کا ظلم اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ غداری کرنے کے مترادف ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی توحید سے آگاہ فرماتے ہوئے انسانی رشتوں کے درجہ بدرجہ احترام کا حکم دیا ہے لیکن کوئی انسان کس قدر نیک، صالح اور دین و دنیا کے لحاظ سے کتنا ہی بلندوبالا کیوں نہ ہو وہ بالآخر انسان ہی رہتا ہے لہٰذا انسان کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کا بندہ ہونے کے سوا کوئی رشتہ نہیں رکھتا۔ سورۃ اخلاص میں اس عقیدہ کو نہایت سادہ لیکن مکمل انشراح کے ساتھ بیان کردیا گیا ہے کہ اللہ وہ ہے جو نہ کسی سے پیدا ہوا ہے نہ اس سے کوئی چیز نکلی اور پیدا ہوئی ہے اور نہ اس کی کوئی برابری کرنے والا ہے۔ وہ ہر اعتبار سے ایک ہے اور بےمثال ہے لیکن افسوس مشرک اس بات کو سمجھنے اور ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ سب سے پہلے یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیا۔ عیسائی دو قدم آگے بڑھتے ہوئے عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا اور مریم [ کو اللہ کی بیوی قرار دیتے ہیں اور اس عقیدہ کا نام تثلیث رکھا۔ افسوس امت مسلمہ کی اکثریت شرک کی تمام اقسام کا ارتکاب کر رہی ہے جبکہ ہر نبی اپنی امت کو اور عیسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو صرف اور صرف ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہی ایک معبود حقیقی ہے لہٰذا انسان کو ایک اللہ ہی کو اپنا معبود، مشکل کشا، حاجت روا اور خالق ومالک سمجھ کر اس کی عبادت کرنی چاہیے جو لوگ عقیدہ تثلیث اور شرک سے باز نہیں آئیں گے اللہ تعالیٰ انہیں درد ناک عذاب میں مبتلا کرے گا۔ البتہ جنھوں نے شرک سے توبہ کی اور اللہ کے حضور معافی کے خواستگار ہوئے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرمائے گا کیونکہ وہ نہایت ہی معاف کرنے والا بڑا مہربان ہے۔ (عن ابی وائل (رض) قالَ سَمِعْتُ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُولُ یُجَاء بالرَّجُلِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُلْقٰی فِی النَّارِ فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُہُ فِی النَّارِ فَیَدُورُ کَمَا یَدُورُ الْحِمَارُ بِرَحَاہُ فَیَجْتَمِعُ أَہْلُ النَّارِ عَلَیْہِ فَیَقُولُونَ أَیْ فُلَانُ مَا شَأْنُکَ أَلَیْسَ کُنْتَ تَأْمُرُنَا بالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَانَا عَنِ الْمُنْکَرِ قَالَ کُنْتُ آمُرُکُمْ بالْمَعْرُوفِ وَلَا آتِیہِ وَأَنْہَاکُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَآتِیہِ )[ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب صفۃ النار ] ” حضرت ابو وائل (رض) بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن ایک آدمی کو جہنم میں پھینکا جائے۔ وہ آگ میں اپنی انتڑیوں کے گرد چکر لگائے گا جس طرح گدھا کنویں کے گرد چکر لگاتا ہے جہنم کے لوگ اکٹھے ہو کر اسے کہیں گے تمہیں کیا ہوگیا ہے کیا تم ہمیں نیکی کی ترغیب اور برے کا موں سے روکتے نہیں تھے وہ کہے گا میں تم لوگوں کو تو نیکی کا حکم دیتا تھا مگر خود نہیں کیا کرتا تھا۔ تمہیں برائی سے منع کرتا تھا اور خود اس کا مر تکب ہوا کرتا تھا۔ “ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) أَنَّ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ اَ للّٰہُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَۃِ عَبْدِہٖ مِنْ أَحَدِکُمْ إِذَا اسْتَیْقَظَ عَلَی بَعِیرِہِ قَدْ أَضَلَّہُ بِأَرْضِ فَلَاۃٍ )[ رواہ مسلم : کِتَاب التَّوْبَۃِ ، بَاب فِی الْحَضِّ عَلَی التَّوْبَۃِ وَالْفَرَحِ بِہَا ] حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ اپنے بندوں کے توبہ کرنے سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جس کو اس کا اونٹ بےآب وگیاہ علاقے میں چھوڑ کر دوبارہ ملے۔ “ (لَّقَدْ کَفَرَ الَّذِینَ قَالُواْ إِنَّ اللّٰہَ ثَالِثُ ثَلاَثَۃٍ وَمَا مِنْ إِلَہٍ إِلاَّ إِلَہٌ وَاحِدٌ وَإِن لَّمْ یَنتَہُواْ عَمَّا یَقُولُونَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِینَ کَفَرُواْ مِنْہُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ)[ المائدۃ : ٧٣] ” بلاشبہ وہ لوگ کافر ہوچکے جنھوں نے کہا کہ اللہ تین میں سے تیسرا ہے حالانکہ اِلٰہ تو صرف وہی اکیلا ہے اگر یہ لوگ اپنی باتوں سے باز نہ آئے تو ان میں سے جو انکار کرتے رہے انھیں المناک عذاب ہوگا۔ “ مسائل ١۔ تین الٰہ کا عقیدہ رکھنے والے کافر ہیں۔ ٢۔ ا لٰہ ایک ہی ہے۔ ٣۔ شرکیہ عقائد سے باز نہ آنے والوں کے لیے درد ناک عذاب ہوگا۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی کا طلب گار رہنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ ہی ایک الٰہ ہے : ١۔ اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور پھر آسمان سے پانی اتار کر باغات اگائے کیا اس کے ساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : ٦٠) ٢۔ اللہ نے زمین کو جائے قرار بنایا اس میں پہاڑ اور دو سمندروں کے درمیان پردہ بنایا کیا اس کے ساتھ اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : ٦١) ٣۔ کون ہے جو لاچار کی فریاد رسی کرتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کرتا ہے کیا کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : ٦٢) ٤۔ خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں اللہ کے سواکون رہنمائی کرتا ہے کیا کوئی اور بھی اس کے ساتھ الٰہ ہے۔ (النمل : ٦٣) ٥۔ پہلے اور دوبارہ پیدا کرنا اور زمین و آسمان سے تمہارے لیے روزی کا بندوبست کرنے والا اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ ہے ؟ (النمل : ٦٤) ٦۔ آپ فرما دیں سوائے ایک الٰہ کے آسمان وز میں کے غیب کو کوئی نہیں جانتا۔ (النمل : ٦٥) ٧۔ کیا کوئی ہے اس الٰہ کے سوا ہے جو رات ختم کرکے دن لائے ؟ (القصص : ٧١) ٨۔ کیا کوئی ہے اس الٰہ کے علاوہ کوئی اور الٰہ ہے جو دن ختم کرکے رات لائے ؟ (القصص : ٧٢) ٩۔ بس اس ایک الٰہ کے سوا کوئی دوسرے الٰہ کو نہ پکارو۔ (القصص : ٨٨) ١٠۔ تمہارا الٰہ ایک ہی وہ رحمن، رحیم ہے۔ (البقرۃ : ١٦٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” لَّقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُواْ إِنَّ اللّہَ ثَالِثُ ثَلاَثَۃٍ وَمَا مِنْ إِلَـہٍ إِلاَّ إِلَـہٌ وَاحِدٌ(٥ : ٧٣) یقینا کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا ایک ہے حالانکہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں ہے “۔ اور ان تمام باطل عقائد کی تردید کر کے یہ بتا دیتا ہے کہ تمام رسول جو عقیدہ لے کر آئے ہی وہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں ہے اور اگر عیسائی اپنے ان معقولات سے باز نہ آئے اور ذات باری اور ذات مسیح کے بارے میں ایسی ہی کفریہ باتیں کہتے رہے تو بعید نہیں کہ ان پر دردناک عذاب آجائے اور قیامت کا دن دور نہیں ہے ۔ (آیت) ” وَإِن لَّمْ یَنتَہُواْ عَمَّا یَقُولُونَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ مِنْہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ(73) ” اگر یہ لوگ ان باتوں سے باز نہ آئے تو ان میں سے جس جس نے کفر کیا ہے اس کو درد ناک سزا دی جائے گی “۔ اور اللہ کی اس تنبیہ کے باوجود کافروں نے ان معقولات سے توبہ نہ کی ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کن انداز میں کہہ دیا تھا کہ یہ کافر ہوگئے ہیں تو اس ترہیب کے ساتھ ساتھ اللہ ان کو ترغیب بھی دیتے ہیں کہ اللہ معاف کرنے والا ہے اگر اب بھی یہ لوگ باز آجائیں ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

نصاریٰ کی ایک جماعت کا یہ کہنا تھا کہ تین معبود ہیں ان میں سے ایک معبود اللہ تعالیٰ ہے اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ مریم بنت عمران علیہما الرحمتہ بھی معبود ہیں، اللہ جل شانہ نے ان کا قول نقل فرما کر اور تو ان کی تردید فرمائی ( وَ مَا مِنْ اِلٰہٍ اِلَّآ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ) (اور ایک معبود کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے) اور پھر فرمایا (وَ اِنْ لَّمْ یَنْتَھُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ) (اگر یہ لوگ اپنے قول سے باز نہ آئے تو ان میں سے جو لوگ کفر پر جمے رہیں گے ان کے لئے عذاب ہے (جو لوگ توبہ کرلیں گے ایمان لے آئیں گے وہ عذب سے مستثنیٰ ہیں)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

31 یہ تیسرا حکم ہے جو بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ میں داخل ہے۔ بعض نصاریٰ حضرت مسیح کے علاوہ ان کی والدہ کی الوہیت کے بھی قائل تھے۔ ان کے نزدیک الٰہ یعنی معبودوں کی تعداد تین ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح اور حضرت مریم صدیقہ (علیہما السلام) جیسا کہ سورة مائدہ کے آخری رکوع میں آرہا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت مسیح (علیہ السلام) سے فرمائے گا۔ ء َ اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰھَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللہِ ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان عیسائیوں کو بھی کافر فرمایا جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تین معبودوں میں سے ایک ہے۔ 132 حالانکہ معبود اور پکار کے لائق صرف ایک ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہے یہی تمام انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیم تھی اور خود حضرت مسیح (علیہم السلام) نے بھی بنی اسرائیل کو یہی تعلیم دی تھی وَ اِنْ لَّمْ یَنْتَھُوْا اگر یہ لوگ اپنے مشرکانہ اقوال و افعال سے باز نہ آئے بلکہ ان پر اصرار کیا تو انہیں دردناک عذاب دیا جائے گا۔ یہ مشرکین نصاریٰ کے لیے تخویف اخروی ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi