Surat Qaaf
Surah: 50
Verse: 10
سورة ق
وَ النَّخۡلَ بٰسِقٰتٍ لَّہَا طَلۡعٌ نَّضِیۡدٌ ﴿ۙ۱۰﴾
And lofty palm trees having fruit arranged in layers -
اور کھجوروں کے بلند و بالا درخت جن کے خوشے تہ بہ تہ ہیں ۔
وَ النَّخۡلَ بٰسِقٰتٍ لَّہَا طَلۡعٌ نَّضِیۡدٌ ﴿ۙ۱۰﴾
And lofty palm trees having fruit arranged in layers -
اور کھجوروں کے بلند و بالا درخت جن کے خوشے تہ بہ تہ ہیں ۔
وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ ... And date palms Basiqat, meaning, tall and high, according to the explanation reported from Ibn Abbas, Mujahid, Ikrimah, Al-Hasan, Qatadah and As-Suddi. Allah said, ... لَّهَا طَلْعٌ نَّضِيدٌ with arranged clusters. means, producing fruits arranged in clusters,
10۔ 1 باسقات کے معنی طوالاً شاھقات، بلند وبالا طلع کھجور کا وہ گدرا گدرا پھل، جو پہلے پہل نکلتا ہے۔ نضید کے معنی تہ بہ تہ۔ باغات میں کھجور کا پھل بھی آجاتا ہے۔ لیکن اسے الگ سے بطور خاص ذکر کیا، جس سے کھجور کی وہ اہمیت واضح ہے جو اسے عرب میں حاصل ہے۔
(١) والنحل بسقت :” النخل “ اسم جنس ہے جو کھجور کے درختوں پر بولا جاتا ہے، زیادہ ہوں یا ایک۔ اگر کھجور کا ایک درخت ہو تو اسے ” نحلۃ “ کہتے ہیں، جیسا کہ فرمایا :(فا جآء ھا المخاص الی جدع النجلۃ) (مریم ٢٣) ” پھر درد زہ اسے کھجور کے تنے کی طرف لے آیا۔” یسق یسق بسوقا “ (ن)” النحل “ کھجور کے درختوں کا لمبا اور بلند ہونا۔ چناچہ زمین پر پڑے ہوئے کھجور کے لمبے تنے کو ” باسق “ نہیں کہتے۔ (٢) لھا طلع نصید :” طلع “ کھجور کے پھل کا خوشہ جو شروع میں طلوع ہوتا ہے اور اس پر پردہ ہوتا ہے۔” نصید “ معنی ” منصود “ تہ بہ تہ۔ یعنی پردے کے اندر انار کے دانوں کی طرف کھجور کے دانوں کی ابتدا تہ بہ تہ قط اورں کی شکل میں ہوتی ہے، جب غلاف سے باہر نکل آئیں تو ” نصید “ نہیں رہتے، بلکہ الگ الگ ہوجاتے ہیں۔
وَالنَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّہَا طَلْعٌ نَّضِيْدٌ ١٠ ۙ نخل النَّخْلُ معروف، وقد يُستعمَل في الواحد والجمع . قال تعالی: كَأَنَّهُمْ أَعْجازُ نَخْلٍ مُنْقَعِرٍ [ القمر/ 20] وقال : كَأَنَّهُمْ أَعْجازُ نَخْلٍ خاوِيَةٍ [ الحاقة/ 7] ، وَنَخْلٍ طَلْعُها هَضِيمٌ [ الشعراء/ 148] ، وَالنَّخْلَ باسِقاتٍ لَها طَلْعٌ نَضِيدٌ [ ق/ 10] وجمعه : نَخِيلٌ ، قال : وَمِنْ ثَمَراتِ النَّخِيلِ [ النحل/ 67] والنَّخْلُ نَخْل الدّقيق بِالْمُنْخُل، وانْتَخَلْتُ الشیءَ : انتقیتُه فأخذْتُ خِيارَهُ. ( ن خ ل ) النخل ۔ کھجور کا درخت ۔ یہ واحد جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : كَأَنَّهُمْ أَعْجازُ نَخْلٍ خاوِيَةٍ [ الحاقة/ 7] جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے ۔ كَأَنَّهُمْ أَعْجازُ نَخْلٍ مُنْقَعِرٍ [ القمر/ 20] اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔ وَالنَّخْلَ باسِقاتٍ لَها طَلْعٌ نَضِيدٌ [ ق/ 10] اور لمبی لمبی کھجوریں جن کا گا بھاتہ بہ تہ ہوتا ہے اس کی جمع نخیل آتی ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَمِنْ ثَمَراتِ النَّخِيلِ [ النحل/ 67] اور کھجور کے میووں سے بھی ۔ النخل ( مصدر کے معنی چھلنی سے آٹا چھاننے کے ہیں اور انتخلت الشئی کے معنی عمدہ چیز منتخب کرلینے کے ؛ بسق قال اللہ عزّ وجل : وَالنَّخْلَ باسِقاتٍ لَها طَلْعٌ نَضِيدٌ [ ق/ 10] أي : طویلات، والباسق هو الذاهب طولا من جهة الارتفاع، ومنه : بَسَقَ فلان علی أصحابه : علاهم، وبَسَقَ وبصق أصله : بزق، وبَسَقَتِ الناقة : وقع في ضرعها لبأ قلیل کالبساق، ولیس من الأول . ( ب س ق ) قرآن میں ہے : وَالنَّخْلَ باسِقاتٍ لَها طَلْعٌ نَضِيدٌ [ ق/ 10] اور لمبی لمبی کھجوریں جن کا گابھا تہ بہ تہ ہوتا ہے ۔ الباسق کے معنی ہیں بلندی میں لمبا چلاجانے والا چناچہ اسی سے بسق فلان علی اصحابہ ہے جس کے معنی ہیں اپنے ساتھیوں پر فضیلت میں بازی نے جانا ۔ بسق وبصق جس کے معنی تھوکنا ہیں اصل میں بزق ہے بسقت الناقۃ اونٹنی کے تھنوں میں بغیر جفتی نر کے تھوک کیطرح معمولی سا دودھ اتر آیا ۔ طَلَعَ طَلَعَ الشمسُ طُلُوعاً ومَطْلَعاً. قال تعالی: وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ [ طه/ 130] ، حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ [ القدر/ 5] ، والمَطْلِعُ : موضعُ الطُّلُوعِ ، حَتَّى إِذا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَها تَطْلُعُ عَلى قَوْمٍ [ الكهف/ 90] ، وعنه استعیر : طَلَعَ علینا فلانٌ ، واطَّلَعَ. قال تعالی: هَلْ أَنْتُمْ مُطَّلِعُونَ [ الصافات/ 54] ، فَاطَّلَعَ [ الصافات/ 55] ، قال : فَأَطَّلِعَ إِلى إِلهِ مُوسی[ غافر/ 37] ، وقال : أَطَّلَعَ الْغَيْبَ [ مریم/ 78] ، لَعَلِّي أَطَّلِعُ إِلى إِلهِ مُوسی[ القصص/ 38] ، واسْتَطْلَعْتُ رأيَهُ ، وأَطْلَعْتُكَ علی كذا، وطَلَعْتُ عنه : غبت، والطِّلاعُ : ما طَلَعَتْ عليه الشمسُ والإنسان، وطَلِيعَةُ الجیشِ : أوّل من يَطْلُعُ ، وامرأةٌ طُلَعَةٌ قُبَعَةٌ «1» : تُظْهِرُ رأسَها مرّةً وتستر أخری، وتشبيها بالطُّلُوعِ قيل : طَلْعُ النَّخْلِ. لَها طَلْعٌ نَضِيدٌ [ ق/ 10] ، طَلْعُها كَأَنَّهُ رُؤُسُ الشَّياطِينِ [ الصافات/ 65] ، أي : ما طَلَعَ منها، وَنَخْلٍ طَلْعُها هَضِيمٌ [ الشعراء/ 148] ، وقد أَطْلَعَتِ النّخلُ ، وقوسٌ طِلَاعُ الكفِّ : ملءُ الكفِّ. ( ط ل ع ) طلع ( ن ) الشمس طلوعا ومطلعا کے معنی آفتاب طلوع ہونے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ [ طه/ 130] اور سورج کے نکلنے سے پہلے ۔۔۔۔۔ تسبیح وتحمید کیا کرو ۔ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ [ القدر/ 5] طلوع صبح تک ۔ اور مطلع کے معنی ہیں طلوع ہونیکی جگہ قرآن میں ہے : ۔ حَتَّى إِذا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَها تَطْلُعُ عَلى قَوْمٍ [ الكهف/ 90] یہاں تک کہ سورج کے طلوع ہونے کے مقام پر پہنچا تو دیکھا کہ وہ ایسے لوگوں پر طلوع کرتا ہے ۔۔۔۔۔ اسی سے استعارہ کے طور طلع علینا فلان واطلع کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی ہیں کسی کے سامنے ظاہر ہونا اور اوپر پہنچ کر نیچے کی طرف جھانکنا قرآن میں ہے : ۔ هَلْ أَنْتُمْ مُطَّلِعُونَ [ الصافات/ 54] بھلا تم اسے جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو اتنے میں وہ خود جھانکے گا ۔ فَاطَّلَعَ [ الصافات/ 55] پھر اوپر جاکر موسیٰ (علیہ السلام) کے خدا کو دیکھ لوں ۔ أَطَّلَعَ الْغَيْبَ [ مریم/ 78] کیا اس نے غیب کی خبر پالی ۔ لَعَلِّي أَطَّلِعُ إِلى إِلهِ مُوسی[ القصص/ 38] تاکہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کے خدا کی طرف چڑھ جاؤں ۔ استطعت ( میں نے اس کی رائے معلوم کی ۔ اطلعت علٰی کذا میں نے تمہیں فلان معاملہ سے آگاہ کردیا طلعت عنہ میں اس سے پنہاں ہوگیا ( اضداد الطلاع ہر وہ چیز جس پر سورج طلوع کرتا ہو یا ( 2 ) انسان اس پر اطلاع پائے طلعیۃ الجیش ہر اول دستہ امرء ۃ طلعۃ قبعۃ وہ عورت جو بار بار ظاہر اور پوشیدہ ہو اور طلوع آفتاب کی مناسبت سے طلع النخل کا محاورہ استعمال ہوتا ہے اور اس کے معنی درخت خرما کے غلاف کے ہیں جس کے اندر اس کا خوشہ ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ لَها طَلْعٌ نَضِيدٌ [ ق/ 10] جن کا گا بھاتہ بتہ ہوتا ہے طَلْعُها كَأَنَّهُ رُؤُسُ الشَّياطِينِ [ الصافات/ 65] ان کے شگوفے ایسے ہوں گے جیسے شیطانوں کے سر ۔ وَنَخْلٍ طَلْعُها هَضِيمٌ [ الشعراء/ 148] اور کھجوریں جن کے شگوفے لطیف ونازک ہوتے ہیں ۔ الطلعت النخل کھجور کا شگوفے دار ہونا ۔ قو س طلاع الکھف کمان جس سے مٹھی بھر جائے ۔ نضد يقال : نَضَدْتُ المتاعَ بعضه علی بعض : أَلْقَيْتُهُ ، فهو مَنْضُودٌ ونَضِيدٌ ، والنَّضَدُ : السَّريرُ الذي يُنَضِّدُ عليه المتاعُ ، ومنه اسْتُعِيرَ : طَلْعٌ نَضِيدٌ [ ق/ 10] ، وقال تعالی: وَطَلْحٍ مَنْضُودٍ [ الواقعة/ 29] ، وبه شُبِّهَ السَّحابُ المتراکم فقیل له : النَّضَدُ ، وأَنْضَادُ القومِ : جماعاتُهْم، ونَضَدُ الرَّجُلِ : مَنْ يَتَقَوَّى به من أَعْمامِهِ وأَخْوالِهِ. ( ن ض د ) نضد ت المتاع بعضہ علیٰ بعض کے منعی سامان کو قرضے سے اوپر نیچے رکھنے کے ہیں اور قرینے سے رکھے ہوئے سامان کو منضود یا نضید کہا جاتا ہے اور جس تخت پر سامان جوڑ کر رکھا جائے اسے بھی نضید کہتے ہیں ۔۔۔ ، اسی سے استعارہ فرمایا : ۔ طَلْعٌ نَضِيدٌ [ ق/ 10] اور دوسرے مقام پر فرمایا : وَطَلْحٍ مَنْضُودٍ [ الواقعة/ 29] اور تہ بہ تہ کیلوں ۔ اور مجازا گہرے بادل کو بھی نضد کہا جاتا ہے ۔ اور انضاد القوم کے معنی لوگوں کی مختلف آدمی کے اعمام واخوال کے ہیں جن کی مدد سے وہ مضبوط ہوتا ہے ۔
آیت ١٠ { وَالنَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّــہَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌ ۔ } ” اور کھجوروں کے بلند وبالا درخت جن کے خوشے ہیں تہ بر تہ۔ “
(50:10) والنخل۔ انبتنا کا مفعول سوم۔ اور کھجور کے درخت۔ بسقت۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث غائب۔ باسقۃ واحد بسوق (باب نصر) مصدر (درخت کا) لمبی تنے والا، اور لمبی شاخوں والا ہونا۔ النخل بسقت ای النخیل الطوال العالیات کھجوروں کے درخت جو لمبے اور اونچے چلے گئے ہوں۔ لہا طلع نضید : ھا ضمیر واحد مؤنث غائب النخل کے لئے ہے طلع طلع طلوع ومطلع (باب نصر) کے معنی آفتاب کے طلوع ہونے کے ہیں اور طلوع آفتاب کی مناسبت سے طلع النخل کا محاورہ استعمال ہوتا ہے اور اس کے معنی درخت خرما کے غلاف کے ہیں جس کے اندر اس کا خوشہ ہوتا ہے (راغب) طلع پھل ہے جب تک وہ اس کے گابھے میں رہے (کلمات القرآن) طلع کھجور کے درخت کا گابھا۔ شگوفہ (فیروز اللغات) طلع خوشہ، گابھا، گچھا ۔ درخت خرما کا پہلا شگوفہ جو باہر نکلتا ہے طلع کہلاتا ہے (لغات القرآن) یہ موصوف ہے اور اس کی صفت نضید ہے۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے بمعنی اسم مفعول نضید بمعنی منضود۔ نضد باب (ضرب) مصدر۔ سامان کو ترتیب سے رکھنا ۔ ڈھیر لگانا۔ ترتیب سے چننا۔ یہاں بمعنی تہ بر تہ ترتیب سے گندھا ہوا پھل۔ اس سے مراد پھلوں یا شگوفوں کی کثرت۔ صاحب ایسر التفاسیر لکھتے ہیں :۔ ای لہا طلع منضد متراکب بعضہ فوق بعض۔ گچھے ترتیب سے ایک دوسرے پر تہ درتہ چڑھے ہوئے۔ لھا طلع نضید یہ جملہ حال ہے النخل سے۔
آسمانوں سے جو پانی نازل ہوتا ہے وہ مردہ زمین کو زندہ کرنے سے بھی پہلے مردہ دلوں کو زندہ کرتا ہے اور اس کا نزول ہی دلوں پر بہت ہی اچھا اثر ڈالتا ہے ۔ نہ صرف یہ کہ چھوٹے بچے ہی بارش سے خوش ہوتے ہیں اور اس کے لئے دوڑتے ہیں اس میں اچھلتے کودتے ہیں بلکہ معمر ہوگ جن کے اندر احساس جمال ہو وہ بھی بارش کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور ان کے دل بھی بارش میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ بچے تو ہوتے ہیں چھوٹے ہیں۔ یہاں بارش کے پانی کو ماء مبارک کہا گیا ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مختلف قسم کے پھلوں کے باغات اور کٹنے والی کھیتیاں تیار فرماتا ہے اور اسی کے ذریعہ کھجوروں کے اونچے درخت اور ان کے پختہ پھلوں اور خوبصورت درختوں کو اگایا جاتا ہے۔ والنحل بسقت لھا طلع نضید (٥٠ : ١٠) ” بلند وبالا کھجور کے درخت پیدا کر دئیے ہیں جن پر پھلوں سے لدے ہوئے خوشے تہ بہ تہ لگتے ہیں “۔ خوشوں کے لئے تہ بہ تہ کی صفت لائی گئی ۔ اس سے بلند وبالا درخت کی خوبصورت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ جس کے اوپر تہ بہ تہ خوشے لگے ہوئے نظر آئیں۔ مضمون اور معنی کے اعتبار سے بھی یہ الفاظ مناسب ہیں کیونکہ بات حق و سچائی کی ہو رہی ہے۔ حق بلند وبالا بھی ہوتا ہے اور خوبصورت بھی اور اس کا بول بھی بالا ہونا چاہئے۔ اور انسان پر یہ مہربانیاں کر کے ، انسانی دل کے اندر ممنونیت پیدا کی جا رہی ہے کہ دیکھو یہ شفاف پانی ، یہ باغ و راغ ، یہ کھیت اور حیوانات اور یہ آسمانوں سے باتیں کرنے والے پھلوں سے لدے کھجور کے درخت ، یہ سب کچھ۔
﴿ وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِيْدٌۙ٠٠١٠ ﴾ اور ہم نے کھجور کے درخت اگائے جو لمبے ہیں اپنے تنے پر کھڑے ہیں۔ ان کھجوروں کے درختوں سے گچھے نکلتے ہیں جو ترتیب سے دیکھنے میں ساتھ ساتھ نظر آتے ہیں