قَالَ قَرِينُهُ هَـٰذَا مَا لَدَيَّ عَتِيدٌ (And his companion will say, |"This is what I have with me, ready (to be presented as his record of deeds)... 50:23]. The word qarin (translated above as &companion) refers to the recording angel that accompanies man all the time. Earlier we have learnt that there are two angels that record deeds. In the preceding verse they were referred to as Sa&iq and Shahid. The context indicates that, on the Day of Resurrection, the two scribes will be entrusted with two different tasks. One, named as Sa&iq, will drive the people to the gathering place, and the second, named as Shahid will carry the records of deeds and it is this angel who, after reaching the plane of Hashr, will say, هَـٰذَا مَا لَدَيَّ عَتِيدٌ |"This is what I have with me, ready (to be presented as his record of deeds).|" Ibn Jarir, in his tafsir, states that the word garin comprehends both the angels Sa&iq and Shahid.
(آیت) قَالَ قَرِيْنُهٗ ھٰذَا مَا لَدَيَّ عَتِيْدٌ، یہاں قرین سے مراد وہ فرشتہ ہے جو انسان کے ساتھ اس کے اعمال لکھنے کے لئے رہتا تھا اور پہلے معلوم ہوچکا ہے کہ کاتب اعمال دو فرشتے ہوتے ہیں، مگر قیامت میں انسان کی حاضری کے وقت ایک کو سائق دوسرے کو شہید اس سے پہلی آیت میں فرمایا ہے، اس لئے نسق کلام سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ کاتب اعمال دو فرشتوں کو میدان حشر میں اس کی حاضری کے وقت دو کام سپرد کردیئے گئے ہیں ایک کے ذمہ اس کے پیچھے رہ کر اس کو میدان حشر میں پہنچانا لگایا گیا، جس کو آیت میں سائق کا نام دیا گیا ہے دوسرے کے سپرد اس کے نامہ اعمال کردیئے گئے جس کو شہید کے نام سے تعبیر کیا گیا، تو میدان حشر میں پہنچنے کے بعد نامہ اعمال والا فرشتہ یعنی شہید یہ عرض کرے گا ھٰذَا مَا لَدَيَّ عَتِيْدٌ یعنی اس کے اعمال میرے پاس لکھے ہوئے موجود ہیں اور ابن جریر نے اپنی تفسیر میں فرمایا کہ یہاں لفظ ” قرین “ سائق اور شہید دونوں کو شامل ہے۔