Surat Qaaf

Surah: 50

Verse: 23

سورة ق

وَ قَالَ قَرِیۡنُہٗ ہٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیۡدٌ ﴿ؕ۲۳﴾

And his companion, [the angel], will say, "This [record] is what is with me, prepared."

اس کا ہم نشین ( فرشتہ ) کہے گا یہ حاضر ہے جو کہ میرے پاس تھا

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Angel will bear Witness; Allah commands that the Disbeliever be thrown into the Fire Allah the Exalted says, وَقَالَ قَرِينُهُ ... And his companion (angel) will say: Allah the Exalted states that the scribe angel, who is entrusted with recording the deeds of mankind, will testify against him or her about the deeds he or she did on the Day of Resurrection. He will say, ... هَذَا مَا لَدَيَّ عَتِيدٌ "Here is (his record) ready with me!", here it is prepared and completed without addition or deletion. This is when Allah the Exalted will judge the creation with fairness, saying, أَلْقِيَا فِي جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيدٍ

ہمارے اعمال کے گواہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہو رہا ہے کہ جو فرشتہ ابن آدم کے اعمال پر مقرر ہے وہ اس کے اعمال کی شہادت دے گا اور کہے گا کہ یہ ہے میرے پاس تفصیل بلا کم و کاست حاضر ہے ۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں یہ اس فرشتے کا کلام ہو گا جسے سائق کہا گیا ہے جو اس کو محشر میں لے آیا تھا ۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں میرے نزدیک مختار قول یہ ہے کہ وہ اس فرشتے پر بھی اور گواہی دینے والے فرشتے دونوں پہ مشتمل ہے اب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے عدل و انصاف سے کرے گا ۔ ( القیا ) تثنیہ کا صیغہ ہے بعض نحوی کہتے ہیں کہ بعض عرب واحد کو ( تثنیہ ) کر دیا کرتے ہیں جیسے کہ حجاج کا مقولہ مشہور ہے کہ وہ اپنے جلاد سے کہتا تھا ( اضربا عنقہ ) تم دونوں اس کی گردن مار دو حالانکہ جلاد ایک ہی ہوتا تھا ۔ ابن جریر نے اسکی شہادت میں عربی کا ایک شعر بھی پیش کیا ہے بعض کہتے ہیں کہ دراصل یہ نون تاکید ہے جس کی تسہیل الف کی طرف کر لی ہے لیکن یہ بعید ہے اس لئے کہ ایسا تو وقف کی حالت میں ہوتا ہے بظاہر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطاب اوپر والے دونوں فرشتوں سے ہو گا لانے والے فرشتے نے اسے حساب کے لئے پیش کیا اور گواہی دینے والے نے گواہی دے دی تو اللہ تعالیٰ ان دونوں کو حکم دے گا کہ اسے جہنمی آگ میں ڈال دو جو بدترین جگہ ہے اللہ ہمیں محفوظ رکھے ۔ پھر فرماتا ہے کہ ہر کافر اور ہر حق کے مخالف اور ہر حق کے نہ ادا کرنے والے اور ہر نیکی صلہ رحمی اور بھلائی سے خالی رہنے والے اور ہر حد سے گذر جانے والے خواہ وہ مال کے خرچ میں اسراف کرتا ہو خواہ بولنے اور چلنے پھرنے میں اللہ کے احکام کی پرواہ نہ کرتا ہو اور ہر شک کرنے والے اور ہر اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے کے لئے یہی حکم ہے کہ اسے پکڑ کر سخت عذاب میں ڈال دو ۔ پہلے حدیث گذر چکی ہے کہ جہنم قیامت کے دن لوگوں کے سامنے اپنی گردن نکالے گی اور باآواز بلند پکار کر کہے گی جسے تمام محشر کا مجمع سنے گا کہ میں تین قسم کے لوگوں پر مقرر کی گئی ہوں ہر سرکش حق کے مخالف کے لئے اور ہر مشرک کے لئے اور ہر تصویر بنانے والے کے لئے پھر وہ ان سب سے لپٹ جائے گی ۔ مسند کی حدیث میں تیسری قسم کے لوگ وہ بتائے ہیں جو ظالمانہ قتل کرنے والے ہوں ۔ پھر فرمایا اس کا ساتھی کہے گا اس سے مراد شیطان ہے جو اس کے ساتھ موکل تھا یہ اس کافر کو دیکھ کر اپنی برات کرے گا اور کہے گا کہ میں نے اسے نہیں بہکایا بلکہ یہ تو خود گمراہ تھا باطل کو از خود قبول کر لیتا تھا حق کا اپنے آپ مخالف تھا جیسے دوسری آیت میں ہے کہ شیطان جب دیکھے گا کہ کام ختم ہوا تو کہے گا اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں تو وعدہ خلاف ہوں ہی میرا کوئی زور تو تم پر تھا ہی نہیں میں نے تم سے کہا تم نے فوراً مان لیا اب مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنی جانوں کو ملامت کرو نہ میں تمہیں کام دے سکوں گا نہ تم میرے کام آسکو تم جو مجھے شریک بنا رہے تھے تو میں پہلے ہی سے ان کا انکاری تھا ظالموں کے لئے المناک عذاب ہیں ۔ پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ انسان سے اور اس کے ساتھی شیطان سے فرمائے گا کہ میرے سامنے نہ جھگڑو کیونکہ انسان کہہ رہا ہو گا کہ اللہ اس نے مجھے جبکہ میرے پاس نصیحت آچکی گمراہ کر دیا اور شیطان سے کہے گا اللہ میں نے اسے گمراہ نہیں کیا تو اللہ انہیں تو تو میں میں سے روک دے گا اور فرمائے گا میں تو اپنی حجت ختم کر چکا رسولوں کی زبانی یہ سب باتیں تمہیں سنا چکا تھا تمہیں کتابیں بھیج دی تھیں اور ہر ہر طریقہ سے ہر طرح سے تمہیں سمجھا بھجا دیا تھا ۔ ہر شخص پر اتمام حجت ہو چکی اور ہر شخص اپنے گناہوں کا آپ ذمہ دار ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

23۔ 1 یعنی فرشتہ انسان کا سارا ریکارڈ سامنے رکھ دے گا اور کہے گا کہ یہ تیری فرد عمل ہے کو جو میرے پاس تھی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٧] اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک تو ترجمہ سے واضح ہے کہ گواہ فرشتہ مجرم کو پیش کرکے کہے گا کہ مجرم بھی حاضر ہے اور گواہی بھی حاضر ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہانکنے والا فرشتہ اللہ کے دربار میں حاضر ہو کر کہے گا کہ جو مجرم میری سپردگی میں تھا۔ پیشی کے لئے حاضر ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(وقال قرینہ ھذا مالدی عبید :” قرین “ ساتھی۔ یعنی وہ فرشتہ جو اسے ہانک کر محشر میں لانے پر مقرر تھا کہے گا، اے رب ! وہ مجرم جسے لانے پر تو نے مجھے مقرر فرمایا تھا یہ میرے پاس حاضری کے لئے تیار ہے اور وہ فرشتہ جو شہادت کے لئے ساتھ تھا کہے گا، اس کے متعلق جس جس شہادت کی ضرورت ہے وہ یہ ہے جو میرے پاس تیار ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

قَالَ قَرِ‌ينُهُ هَـٰذَا مَا لَدَيَّ عَتِيدٌ (And his companion will say, |"This is what I have with me, ready (to be presented as his record of deeds)... 50:23]. The word qarin (translated above as &companion) refers to the recording angel that accompanies man all the time. Earlier we have learnt that there are two angels that record deeds. In the preceding verse they were referred to as Sa&iq and Shahid. The context indicates that, on the Day of Resurrection, the two scribes will be entrusted with two different tasks. One, named as Sa&iq, will drive the people to the gathering place, and the second, named as Shahid will carry the records of deeds and it is this angel who, after reaching the plane of Hashr, will say, هَـٰذَا مَا لَدَيَّ عَتِيدٌ |"This is what I have with me, ready (to be presented as his record of deeds).|" Ibn Jarir, in his tafsir, states that the word garin comprehends both the angels Sa&iq and Shahid.

(آیت) قَالَ قَرِيْنُهٗ ھٰذَا مَا لَدَيَّ عَتِيْدٌ، یہاں قرین سے مراد وہ فرشتہ ہے جو انسان کے ساتھ اس کے اعمال لکھنے کے لئے رہتا تھا اور پہلے معلوم ہوچکا ہے کہ کاتب اعمال دو فرشتے ہوتے ہیں، مگر قیامت میں انسان کی حاضری کے وقت ایک کو سائق دوسرے کو شہید اس سے پہلی آیت میں فرمایا ہے، اس لئے نسق کلام سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ کاتب اعمال دو فرشتوں کو میدان حشر میں اس کی حاضری کے وقت دو کام سپرد کردیئے گئے ہیں ایک کے ذمہ اس کے پیچھے رہ کر اس کو میدان حشر میں پہنچانا لگایا گیا، جس کو آیت میں سائق کا نام دیا گیا ہے دوسرے کے سپرد اس کے نامہ اعمال کردیئے گئے جس کو شہید کے نام سے تعبیر کیا گیا، تو میدان حشر میں پہنچنے کے بعد نامہ اعمال والا فرشتہ یعنی شہید یہ عرض کرے گا ھٰذَا مَا لَدَيَّ عَتِيْدٌ یعنی اس کے اعمال میرے پاس لکھے ہوئے موجود ہیں اور ابن جریر نے اپنی تفسیر میں فرمایا کہ یہاں لفظ ” قرین “ سائق اور شہید دونوں کو شامل ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقَالَ قَرِيْنُہٗ ھٰذَا مَا لَدَيَّ عَتِيْدٌ۝ ٢٣ ۭ قرین الِاقْتِرَانُ کالازدواج في كونه اجتماع شيئين، أو أشياء في معنی من المعاني . قال تعالی: أَوْ جاءَ مَعَهُ الْمَلائِكَةُ مُقْتَرِنِينَ [ الزخرف/ 53] . يقال : قَرَنْتُ البعیر بالبعیر : جمعت بينهما، ويسمّى الحبل الذي يشدّ به قَرَناً ، وقَرَّنْتُهُ علی التّكثير قال : وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفادِ [ ص/ 38] وفلان قِرْنُ فلان في الولادة، وقَرِينُهُ وقِرْنُهُ في الجلادة «1» ، وفي القوّة، وفي غيرها من الأحوال . قال تعالی: إِنِّي كانَ لِي قَرِينٌ [ الصافات/ 51] ، وَقالَ قَرِينُهُ هذا ما لَدَيَّ [ ق/ 23] إشارة إلى شهيده . قالَ قَرِينُهُ رَبَّنا ما أَطْغَيْتُهُ [ ق/ 27] ، فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ [ الزخرف/ 36] وجمعه : قُرَنَاءُ. قال : وَقَيَّضْنا لَهُمْ قُرَناءَ [ فصلت/ 25] . ( ق ر ن ) الا قتران ازداواج کی طرح اقتران کے معنی بھی دو یا دو سے زیادہ چیزوں کے کسی معنی میں باہم مجتمع ہونے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَوْ جاءَ مَعَهُ الْمَلائِكَةُ مُقْتَرِنِينَ [ الزخرف/ 53] یا یہ ہوتا کہ فر شتے جمع کر اس کے ساتھ آتے دو اونٹوں کو ایک رسی کے ساتھ باندھ دینا اور جس رسی کے ساتھ ان کو باندھا جاتا ہے اسے قرن کہا جاتا ہے اور قرنتہ ( تفعیل ) میں مبالغہ کے معنی پائے جاتے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفادِ [ ص/ 38] اور اور روں کو بھی جو زنجروں میں جکڑ ی ہوئی تھے ۔ اور آدمی جو دوسرے کا ہم عمر ہو یا بہادری قوت اور دیگر اوصاف میں اس کا ہم پلہ ہوا سے اس کا قرن کہا جاتا ہے اور ہم پلہ یا ہم سر کون قرین بھی کہتے ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ فلان قرن فلان او قرینہ فلاں اس کا ہم عمر ہم سر ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنِّي كانَ لِي قَرِينٌ [ الصافات/ 51] کہ میرا ایک ہم نشین تھا ۔ وَقالَ قَرِينُهُ هذا ما لَدَيَّ [ ق/ 23] اور اس کا ہم نشین ( فرشتہ ) کہے گا یہ ( اعمال مانہ ) میرے پاس تیار ہے ۔ یہاں قرین سے مراد وہ فرشتہ ہے جسے دوسری جگہ شہید ( گواہ ) کہا ہے ۔ قالَ قَرِينُهُ رَبَّنا ما أَطْغَيْتُهُ [ ق/ 27] ، اس کا ساتھی ( شیطان ) کہے گا کہ اے ہمارے پروردگار میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا ۔ فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ [ الزخرف/ 36] تو وہ اس کا ساتھی ہوجا تا ہے ۔ قرین کی جمع قرنآء ہے قرآن میں ہے : ۔ وَقَيَّضْنا لَهُمْ قُرَناءَ [ فصلت/ 25] اور ہم نے شیبان کو ان کا ہم نشین مقرر کردیا ۔ عتد العَتَادُ : ادّخار الشیء قبل الحاجة إليه كالإعداد، والعَتِيدُ : المُعِدُّ والمُعَدُّ. قال تعالی: هذا ما لَدَيَّ عَتِيدٌ [ ق/ 23] ، رَقِيبٌ عَتِيدٌ [ ق/ 18] ، أي : مُعْتَدٌّ أعمالَ العباد، وقوله : أَعْتَدْنا لَهُمْ عَذاباً أَلِيماً [ النساء/ 18] ،. ( ع ت د ) العتاد ضرورت کی چیزوں کا پہلے سے ذخیرہ کرلینا اور یہی معنی اعداد کے ہیں عتید ( اسم فاعل ) تیار کرنے والا ( اسم مفعول ) تیار کی ہوئی چیز ۔ قرآن میں ہے : ۔ هذا ما لَدَيَّ عَتِيدٌ [ ق/ 23] یہ ( اعمال نامہ ) میرے سامنے حاضر ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ رَقِيبٌ عَتِيدٌ [ ق/ 18] میں عتید کے معنی ہیں وہ فرشتہ لوگوں کے اعمال لکھنے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ أَعْتَدْنا لَهُمْ عَذاباً أَلِيماً [ النساء/ 18] ان کے لئے درد انگیز عذاب تیار کر رکھا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٣{ وَقَالَ قَرِیْنُہٗ ہٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌ ۔ } ” اور اس کا ساتھی کہے گا : (پروردگار ! ) یہ جو میری تحویل میں تھا ‘ حاضر ہے ! “ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہاں ” ساتھی “ سے فرشتہ مراد ہے ‘ لیکن میں ان لوگوں سے متفق ہوں جو اس سے شیطان مراد لیتے ہیں۔ دراصل خیر اور شر کی قوتیں انسان کے اندر بھی موجود ہیں اور خارج میں بھی۔ اندر سے انسان کا نفس اسے برائی پر ابھارتا ہے ‘ جبکہ خارج میں ہر انسان کے ساتھ ایک شیطان بھی مامور ہے جو اس کے نفس میں ہر وقت وسوسہ اندازی کرتا رہتا ہے۔ اسی طرح ہر انسان کے اندر اس کی روح ” داعی ٔ خیر “ کے طور پر موجود ہے جبکہ خارج میں اس حوالے سے فرشتے اس کی مدد کرتے ہیں۔ سورة حٰمٓ السجدۃ کی آیات ٣٠ اور ٣١ میں ان فرشتوں کے بارے میں ہم پڑھ آئے ہیں جو نیکی کے کاموں میں انسان کی پشت پناہی کرتے ہیں : { نَحْنُ اَوْلِیٰٓــؤُکُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ ج }۔ فرشتوں کی معیت کے باعث ہی کوئی نیک کام کر کے ہمیں خوشی اور طمانیت محسوس ہوتی ہے ۔ ایسے مواقع پر فرشتے دراصل ہمیں بشارت اور شاباش دے رہے ہوتے ہیں جس کے اثرات ہماری روح پر طمانیت کی صورت میں مرتب ہوتے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

27 Some commentators say that "the companion" implies the angel who has been referred to as "a witness" in verse 21. He will say: "I have this person's record ready with me here" . Some other commentators say that "the companion" implies the satan who was attached to the person in the world. He will say: "This person whom I was controlling and preparing for Hell, is now presented before You. " But the commentary that is more relevant to the context is the one that has been reported from Qatadah and Ibn Zaid. They say that the companion implies the angel who drove and brought the person to Allah's Court He will say, °Here is the person who had been given in my charge"

سورة قٓ حاشیہ نمبر :27 بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ساتھی سے مراد وہ فرشتہ ہے جسے آیت نمبر 21 میں گواہی دینے والا فرمایا گیا ہے ۔ وہ کہے گا کہ یہ اس شخص کا نامۂ اعمال میرے پاس تیار ہے ۔ کچھ دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ ساتھی سے مراد وہ شیطان ہے جو دنیا میں اس شخص کے ساتھ لگا ہوا تھا ۔ وہ عرض کرے گا کہ یہ شخص جس کو میں نے اپنے قابو میں کر کے جہنم کے لیے تیار کیا تھا اب آپ کی خدمت میں حاضر ہے ۔ مگر سیاق و سباق سے زیادہ مناسبت رکھنے والی تفسیر وہ ہے جو قتادہ اور ابن زید سے منقول ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ساتھی سے مراد ہانک کر لانے والا فرشتہ ہے اور وہی عدالت الٰہی میں پہنچ کر عرض کرے گا کہ یہ شخص جو میری سپردگی میں تھا سرکار کی پیشی میں حاضر ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

8: ساتھی سے مراد وہی فرشتہ ہے جو ہر وقت اِنسان کے ساتھ رہ کر اُس کے اعمال کو لکھا کرتا تھا، اور قبر سے اُس کے ساتھ گواہ بن کر آیا تھا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٣۔ ٢٩۔ اوپر جن دو فرشتوں کا ذکر تھا کہ ایک اللہ کے رو برو لے جانے والا اور دوسرا عملوں کی گواہی دینے والا ‘ ہر شخص کے ساتھ یہ دو فرشتے ہوں گے۔ ان آیتوں میں ساتھ والا ان ہی دونوں کو فرمایا ہے ان میں سے ایک تو اللہ تعالیٰ سے یہ عرض کرے گا کہ جس انسان پر میں تعینات تھا وہ حاضر ہے۔ دوسرا یہ عرض کرے گا کہ یہ اس انسان کا عمل حاضر ہے۔ اللہ تعالیٰ ان فرشتوں کے جواب میں دو زخمیوں کے اوصاف بیان فرما کر حکم دے گا کہ ان اوصاف کے لوگوں کو جہنم میں ڈال دو ۔ کفار کے معنی بڑا کفر کرنے والا عنید کے معنی حق بات سے عناد رکھنے والا مناع للخیر کے معنی نیک کام سے روکنے اور ممانعت کرنے والا معتدی بری کاموں میں حد سے بڑھنے والا مریب کے معنی توحید میں شک کرنے والا۔ صحیح ١ ؎ مسلم میں انس بن مالک سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے لوگو دوزخ کے عذاب کا جو حال میں نے دیکھا ہے اگر وہ حال تم کو نظر آجائے تو تم کو ہنسی بہت کم آئے اور روانا بہت۔ عذاب شدید کی یہ حدیث گویا ایک مختصر تفسیر ہے سورة سبا میں گزر چکا ہے کہ شیاطین الجن و الانس جو لوگوں کو بہکاتے ہیں ان کا اور بہکنے والے لوگوں کا حساب کے وقت جھگڑا ہوگا۔ اسی جھگڑے کا مختصر ذکر ان آیتوں میں ہے کہ جو شیاطین انسان کو دنیا میں بہکاتے ہیں جب قیامت کے دن بہکنے والے لوگوں کی طرف سے خدا تعالیٰ کے رو برو ان شیاطینوں کے بہکانے کی شکایت پیش ہوگی تو وہ شیاطین صاف کہہ دیں گے کہ یا اللہ پورا بہکانا ہمارے اختیار میں نہیں تھا۔ ہم نے فقط برے کاموں کی طرف رغبت ان لوگوں کو دلائی تھی ان کے دل میں پہلے سے برائی بسی ہوئی تھی۔ یہ ہمارے کہنے میں آگئے اللہ تعالیٰ نے فرما دے گا۔ آج میرے رو برو جھگڑنے کا دن نہیں ہے۔ رسولوں کی معرفت پہلے ہی میں نے حکم بھیج دیا تھا کہ جو کوئی شیطان کی پیروی کرے گا وہ جہنم میں جائے گا اور جو شرک کرے گا اس پر سخت عذاب ہوگا۔ اس لئے آج جو حکم دیا گیا ہے وہ انصاف کی بناء پر ہے ظلم کی بناء پر نہیں ہے۔ (١ ؎ صحیح مسلم باب الامرتجسین الصلوٰۃ واتما مھاص ١٨٠ ج ١۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(50:23) وقال قرینہ واؤ عاطفہ ہے قرینہ مضاف مضاف الیہ ۔ اس کا ساتھی۔ ہ ضمیر واحد مذکر کا مرجع وہ شخص ہے جس سے لقد کنت فی غفلۃ میں خطاب ہے۔ قرین : ق ر ن مادہ۔ باب افتعال سے الاقتران کے معنی دو یا دو سے زیادہ چیزوں کے کسی معنی میں باہم مجتمع ہونے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے اوجاء معہ الملئکۃ مقترنین (43:53) یا یہ ہوتا کہ فرشتے جمع ہو کر اس کے ساتھ آتے۔ وہ آدمی جو دوسرے کا ہم پلہ ہو بہادری۔ قوت اور دیگر اوصاف میں اسے اس کا قرن کہا جاتا ہے اور ہم پلہ یا ہمسر کو قرین بھی کہتے ہیں چناچہ محاورہ ہے فلان قرن فلان او قرینہ فلاں اس کا ہم عمر یا ہمسر ہے۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے انی کان لی قرین (37: 51) کہ میرا ایک ہم نشین تھا۔ آیت ہذا میں بھی قرین بمعنی ساتھی ہے اس ساتھی سے کون مراد ہے۔ بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ساتھی سے مراد وہ فرشتہ ہے جسے آیت نمبر 21 میں بطور گواہ فرمایا گیا ہے وہ کہے گا کہ اس شخص کا اعمال نامہ میرے پاس تیار ہے کچھ دوسرے مفسرین نے لکھا ہے کہ ساتھی سے مراد وہ شیطان ہے جو دنیا میں اس شخص کے ساتھ لگا ہوا تھا وہ عرض کرے گا کہ یہ شخص جس کو میں نے اپنے قابو میں کرکے جہنم کے لئے تیار کر رکھا تھا۔ اب آپ کی خدمت میں حاضر ہے مگر سیاق وسباق سے زیادہ مناسبت رکھنے والی تفسیر وہی ہے جو قتادہ اور ابن زید سے منقول ہے کہ ساتھی سے مراد ہانک کر لانے والا فرشتہ ہے اور وہی عدالت الٰہی میں پہنچ کر عرض کرے گا کہ یہ شخص جو میری سپردگی میں تھا سرکار کی پیشی میں حاضر ہے۔ (تفہیم القرآن) ھذا ما لدی عتید : ھذا کا اشارہ یا تو شخص کی طرف ہے یا اعمال نامہ کی طرف ما موصوفہ بمعنی شے ہے لدی مضاف مضاف الیہ مل کر ما کی صفت (میرے پاس) عتید ما موصوفہ کی صفت بمعنی تیار ہے، حاضر ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ یہ جو میری سپردگی میں تھا حاضر ہے

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وقال قرینۃ ھذا ما لدی عتید (٥٠ : ٢٣) ” اس کے ساتھی نے عرض کیا ، یہ جو میری سپردگی میں تھا حاضر ہے تیار “۔ عتید کے معنی ہیں حاضر ، تیار۔ یعنی اب کوئی نئی چیز تیار نہیں کرتی ہے پہلے سے تیار ہے۔ یہاں اب اس ریکارڈ کو پڑھا نہیں جاتا ہے پس عدالت سے جلدی کے ساتھ ڈگری صادر ہوتی ہے اور نافذ ہوتی ہے۔ فوراً بارگاہ رب العزت سے اس سابق اور شہید کو حکم دیا جاتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿وَ قَالَ قَرِيْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَيَّ عَتِيْدٌؕ٠٠٢٣﴾ (اور اس کا ساتھی کہے گا کہ یہ وہ ہے جو میرے پاس تیار ہے) قرین یعنی ساتھی سے کون مراد ہے ؟ اس کے بارے میں حضرت حسن (بصری) نے تو یہ فرمایا کہ اس سے اس کی برائیوں کا لکھنے والا کاتب مراد ہے وہ اپنے لکھے ہوئے صحیفہ کی طرف اشارہ کر کرے کہے گا کہ یہ اس کے اعمال ناموں کا کتابچہ ہے جو میرے پاس لکھا ہوا تیار ہے اور حضرت مجاہد نے فرمایا کہ اس سے وہ شیطان مراد ہے جو ہر انسان کے ساتھ لگا دیا گیا ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ تم میں سے کوئی بھی شخص ایسا نہیں جس کا ایک ساتھی جنات میں اور ایک ساتھی فرشتوں میں سے مقرر نہ کیا گیا ہو۔ صحابہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے آپ نے فرمایا ہاں میرے ساتھ بھی اسی طرح تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلے میں میری مدد فرمائی چناچہ وہ مسلمان ہوگیا اب وہ مجھے صرف خیر کا حکم کرتا ہے۔ اس قول کی تائید سورة ٴ حم سجدہ کی آیت شریفہ ﴿ وَ قَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَيَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ ﴾ سے بھی ہوتی ہے اور آئندہ آیت بھی اس کی موید ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

13:۔ ” وقال قرینۃ۔ الایۃ “ قرین سے مراد فرشتہ ہے جو آدمی کے اعمال پر مؤکل ہے وہ کافر کا اعمالنامہ پیش کر کے عرض کرے گا کہ میرے پاس تو یہی اس کے اعمال ہیں جو کمی بیشی کے بغیر حاضر ہیں۔ ” القیا فی جہنم “ بعض کے نزدیک القیا صیغہ واحد ہے اور الف نون ثقیلہ سے مبدل ہے۔ اور بعض کے نزدیک تثنیہ تکرار کے لیے ہے برائے افادہ تاکید (روح) اور بعض کے نزدیک صیغہ تثنیہ ہے لیکن خطاب واحد کو ہے کیونکہ عرب عام طور پر واحد کو صیغہ تثنیہ سے خطاب کرتے ہیں (ابن کثیر) ۔ امام ابن جریر اور دیگر حضرات کے نزدیک خطاب تثنیہ سائق اور شہید سے ہے (ابن جریر) ۔ اور حضرت الشیخ قدس سرہ فرماتے ہیں تثنیہ حقیقت پر محمول ہے اور اس سے تکرار وغیرہ مراد نہیں بلکہ اس سے وہ دونوں فرشتے مراد ہیں جو سر اور پاؤں سے پکڑ کر اسے دوزخ میں پھینکیں گے جیسا کہ ارشاد ہے۔ یعرف المجرمون بسیماھم فیؤخذ بالنواصی والاقدام (الرحمن رکوع 2) ، للہ در الشیخ (رح) افاد فادجاد۔ ” عنید “ سرکشی۔ ” مناع للخیر “ اسلام سے شدت کے ساتھ روکنے والا۔ ” معتد “ بےانصاف حدود حق سے تجاوز کرنے والا اور توحید کا منکر۔ ” مریب، اللہ کی وحدانیت اور حشر و نشر میں شک کرنے والا اور دوسروں کو شبہات میں ڈالنے والا (ابن کثیر، بیضاوی، مظہری، خازن) ۔ ان دونوں فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ان بھیڑوں کو جہنم کے سخت ترین عذاب میں ڈال دو ۔ یہ ان تمام برائیوں سے بڑھ کر خدا کے ساتھ شرک بھی کیا کرتے تھے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(23) اور اس کا ساتھی کہے گا اس کے اعمال کا وہ دفتر جو میرے پاس تھا یہ حاضر ہے قرین یہ شاید وہی فرشتہ ہے جس کو اوپر شہید کہا گیا ہے یہ نامہ اعمال پیش کرتے ہوئے عرض کرے گا ھذا مالدی عتید کہ جو اس کی مسل اور روزنامچہ اور نامہ اعمال میرے پاس تھا وہ یہ حاضر ہے حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں وہ فرشتہ اعمال حاضر کرے گا۔ خلاصہ : یہ کہ وہ دو فرشتے جو ساتھ ہوں گے ایک سائق اور ایک شہید وہی پیش کریں گے اور اسی وقت فیصلہ کردیا جائے گا حضرت مجاہد نے اس قرین سے وہ شیطان مراد لیا ہے جس کا ذکر سورة زخرف میں گزرچکا ہے وہ یہ کہے گا کہ میں اس پر متعین تھا یہی وہ شخص ہے اس کو میں حاضر کررہا ہوں چونکہ یہ قبول مرجوع تھا اس لئے اس کو ہم نے چھوڑ دیا جمہور کا قول یہی ہے کہ وہ فرشتہ کاتب اعمال ہوگا جو اس کا نامہ اعمال پیش کرتے ہوئے کہے گا، ھذا مالدی عتید