Surat Qaaf

Surah: 50

Verse: 32

سورة ق

ہٰذَا مَا تُوۡعَدُوۡنَ لِکُلِّ اَوَّابٍ حَفِیۡظٍ ﴿ۚ۳۲﴾

[It will be said], "This is what you were promised - for every returner [to Allah ] and keeper [of His covenant]

یہ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ہر اس شخص کے لئے جو رجوع کرنے والا اور پابندی کرنے والا ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

هَذَا مَا تُوعَدُونَ لِكُلِّ أَوَّابٍ ... This is what you were promised -- (it is) for those returning, means, who go back to Allah in sincere repentance intending not to repeat sin, ... حَفِيظٍ Hafiz, who preserve their covenant with Allah and do not break or betray it,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

32۔ 1 یعنی اہل ایمان جب جنت کا اور اس کی نعمتوں کا قریب سے مشاہدہ کریں گے تو کہا جائے گا کہ یہی وہ جنت ہے جس کا وعدہ ہر اواب اور حفیظ سے کیا گیا تھا اواب، بہت رجوع کرنے والا یعنی اللہ کی (طرف کثرت سے توبہ استغفار اور تسبیح و ذکر الٰہی کرنے والا خلوت میں اپنے گناہوں کو یاد کر کے ان سے توبہ کرنے والا، یا اللہ کے حقوق اور اس کی نعمتوں کو یاد رکھنے والا یا اللہ کے اوامر نواہی کو یاد رکھنے والا گیا تھا۔ فتح القدیر

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٧] یعنی ایسا شخص جس کا معمول ہی یہ بن گیا ہو کہ اپنے ہر قسم کے حالات میں اللہ ہی کی طرف رجوع کرے اور اللہ کی رضا کے مطابق ہی عمل کرے۔ [٣٨] اس میں ہر قسم کی حفاظت اور محافظت شامل ہے۔ یعنی اپنے عہد و پیمان کی محافظت کرنے والا خواہ یہ عہد اللہ سے ہو یا لوگوں سے۔ نیز اپنی نمازوں کی نگہداشت کرنے والا ہو۔ حدود اللہ کا دھیان رکھنے والا ہو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(ھذا ما توعدون لکل اواب حفیظ :” اواب “ ” اب یووب اوباً “ (ن) سے مبالغے کا صیغہ ہے بہت رجوع کرنے والا ، جو ہر معاملے میں اللہ کی طرف بہت رجوع کرے اور کوئی قدم اپنی خواہش کی بنا پر نہ اٹھائے، اسی طرح ہر لغزش کے بعد اللہ کی طرف رجوع کر کے توبہ و استغفار کرے۔ ” حفیظ “ جو اللہ کے احکامات کی خوب حفاظت اور پابندی کرنے والا ہو۔ یعنی جنتیوں سے کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ جنت جس کا تم سے ہر ایسے شخص کے لئے وعدہ کیا جاتا تھا جو اللہ کی طرف بہت رجوع کرنے والا، اس کے احکام کی خوب پابندی کرنے والا ہو۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Analysis of |"Awwab|" and &Hafiz& لِكُلِّ أَوَّابٍ حَفِيظٍ (|" This is what you were promised for everyone oft-returning to Allah, vigilant....50:32). That is to say, Paradise has been promised to every person who is awwab and hafiz. Awwab refers to the person who turns to Allah. Here it means who turns to Him in repentance against sins. Sayyidna ` Abdullah Ibn Masud, Sha` bi and Mujahid (رض) said that Awwab refers to a person who recalls his sins in loneliness, private and secret, and seeks Allah&s forgiveness. ` Ubaid Ibn ` Umair (رض) said that Awwab is one who seeks Allah&s forgiveness of his sins in every sitting. And he further said that we are advised to recite the following invocation: سُبحانَ اللہِ وَ بِحَمدِہٖ اللَّھُمَّ اِنِّی اَستغفِرُکَ مِمَّآ اَصَبتُ فِی مَجلِسِی ھٰذا |"Pure is Allah and praise be to Him. 0 Allah, I seek Your forgiveness of the evil that I might have committed in this sitting.|" In a Prophetic Tradition, we are advised to recite the following supplication when dispersing. Allah will forgive all the sins that might have been committed in that session: سُبحَانَکَ اللَّھُمَّ وَ بِحَمدِکَ لَٓا اِلٰہَ اِلَّا اَنتَ اَستغفِرُکَ وَ اَتُوبُ اِلَیکَ |"Pure are You, 0 Allah, and praise be to You. There is no god but You. I seek Your forgiveness and turn to You in penitence.|" Hafiz (حَفِيظٍ ), according to Sayyidna ` Abdullah Ibn ` Abbas (رض) ، is one who remembers his sins, so that he may return to Allah in penitence and make amends. Another report from him defines اَلحَفِظُ ھُوِ الحَافِظُ لِاَمرِ اللہِ haflz as one who remembers his covenant with Allah, and does not break or betray it. Sayyidna Abu Hurairah (رض) reports from the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) who said: |"Whoever performs four rak` at of Ishraq prayer early in the day is Awwab and Hafiz (Qurtubi).

معارف و مسائل اواب کون لوگ ہیں ؟ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِيْظٍ ، یعنی جنت کا وعدہ ہر اس شخص کے لئے ہے جو اواب اور حفیظ ہو، اواب کے معنی رجوع ہونے والے کے ہیں، مراد وہ شخص ہے جو معاصی سے اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔ حضرت عبداللہ بن مسعود اور شعبی اور مجاہد نے فرمایا کہ اواب وہ شخص ہے جو خلوت میں اپنے گناہوں کو یاد کرے اور ان سے استغفار کرے اور حضرت عبید بن عمیر نے فرمایا کہ اواب وہ شخص ہے جو اپنی ہر مجلس اور ہر نشست میں اللہ سے اپنے گناہوں کی مغفرت مانگے اور فرمایا کہ ہمیں یہ بتلایا گیا ہے کہ اواب اور حفیظ وہ شخص ہے جو اپنی ہر مجلس سے اٹھنے کے وقت یہ دعا پڑھے، سبحان اللہ وبحمدہ اللھم انی استغفرک مما اصبت فی مجلسی ھذا ( پاک ہے اللہ اور اسی کی حمد ہے، یا اللہ میں مغفرت مانگتا ہوں اس برائی سے جو میں نے اس مجلس میں کی ہو) اور حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جو شخص اپنی مجلس سے اٹھنے کے وقت یہ دعا پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے وہ سب گناہ معاف فرما دیں گے جو اس مجلس میں سرزد ہوئے، دعا یہ ہے سبحانک اللھم وبحمدک لآ الہ الا انت استغفرک واتوب الیک ( یعنی یا اللہ تو پاک ہے اور تیری حمد و ثنا ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے مغفرت مانگتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں اور حفیظ کے معنی حضرت ابن عباس نے یہ بتلائے کہ جو شخص اپنے گناہوں کو یاد رکھے تاکہ ان سے رجوع کر کے تلافی کرے اور ان سے ایک روایت میں حفیظ کے معنی ہوالحافظ لامر اللہ کے بھی منقول ہیں، یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کے احکام کو یاد رکھے اور حضرت ابوہریرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جو شخص شروع دن میں چار رکعتیں (اشراق کی) پڑھ لے وہ اواب اور حفیظ ہے (قرطبی )

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ھٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِيْظٍ۝ ٣٢ ۚ هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] ، ويقال بإزاء هذا في المستبعد بالشخص أو بالمنزلة : ( ذَاكَ ) و ( ذلك) قال تعالی: الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] ، ذلِكَ مِنْ آياتِ اللَّهِ [ الكهف/ 17] ، ذلِكَ أَنْ لَمْ يَكُنْ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرى [ الأنعام/ 131] ، إلى غير ذلك . ( ذ ا ) ہاں ھذا میں ذا کا لفظ اسم اشارہ ہے جو محسوس اور معقول چیز کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے ۔ چناچہ کہا جاتا ہے ۔ ھذہ وھذی وھاتا ۔ ان میں سے سرف ھاتا کا تژنیہ ھاتان آتا ہے ۔ ھذہٰ اور ھٰذی کا تثنیہ استعمال نہیں ہوتا قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تونے مجھ پر فضیلت دی ہے ۔ هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] یہ وہ چیزیں ہیں جن کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ۔ هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] یہ وہی ہے جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے ۔ إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ۔ هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] یہی وہ جہنم ہے جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے ۔ هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] یہی وہ جہنم ہے جسے گنہگار لوگ جھٹلاتے تھے ۔ ھذا کے بالمقابل جو چیز اپنی ذات کے اعتبار سے دور ہو یا باعتبار مرتبہ بلند ہو ۔ اس کے لئے ذاک اور ذالک استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] یہ کتاب یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہے ۔ ذلِكَ مِنْ آياتِ اللَّهِ [ الكهف/ 17] یہ اس لئے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہلاک کردے ۔ وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ، ( وع د ) الوعد ( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر ( یعنی دھمکی اور تہدید ) کے لئے بولا جاتا ہے ۔ اور اس معنی میں باب اوعد ( توقد استعمال ہوتا ہے ۔ اور واعدتہ مفاعلۃ ) وتوا عدنا ( تفاعل ) کے معنی باہم عہدو پیمان کر نا کے ہیں ( قرآن کریم میں ودع کا لفظ خيٰر و شر دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے ( چناچہ وعدہ خیر کے متعلق فرمایا إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] جو ودعے خدا نے تم سے کیا تھا وہ تو سچا تھا ۔ أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا ۔ أوَّاب کالتوّاب، وهو الراجع إلى اللہ تعالیٰ بترک المعاصي وفعل الطاعات، قال تعالی: أَوَّابٍ حَفِيظٍ [ ق/ 32] ، وقال : إِنَّهُ أَوَّابٌ [ ص/ 30] ومنه قيل للتوبة : أَوْبَة، والتأويب يقال في سير النهار وقیل : آبت يد الرّامي إلى السهم وذلک فعل الرامي في الحقیقة وإن کان منسوبا إلى الید، ولا ينقض ما قدّمناه من أنّ ذلک رجوع بإرادة واختیار، وکذا ناقة أَؤُوب : سریعة رجع الیدین . الاواب ۔ یہ تواب کی ( صیغہ مبالغہ ) ہے یعنی وہ شخص جو معاصی کے ترک اور فعل طاعت سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ { لِكُلِّ أَوَّابٍ حَفِيظٍ } ( سورة ق 32) ۔ یعنی ہر رجوع لانے اور حفاظت کرنے والے کے لئے (50 ۔ 320) ( سورة ص 17 - 44) بیشک وہ رجوع کرنے والے تھے ۔ اسی سے اوبۃ بمعنی توبہ بولا جاتا ہے حفظ الحِفْظ يقال تارة لهيئة النفس التي بها يثبت ما يؤدي إليه الفهم، وتارة لضبط الشیء في النفس، ويضادّه النسیان، وتارة لاستعمال تلک القوة، فيقال : حَفِظْتُ كذا حِفْظاً ، ثم يستعمل في كلّ تفقّد وتعهّد ورعاية، قال اللہ تعالی: وَإِنَّا لَهُ لَحافِظُونَ [يوسف/ 12] ( ح ف ظ ) الحفظ کا لفظ کبھی تو نفس کی اس ہیئت ( یعنی قوت حافظہ ) پر بولا جاتا ہے جس کے ذریعہ جو چیز سمجھ میں آئے وہ محفوظ رہتی ہے اور کبھی دل میں یاد ررکھنے کو حفظ کہا جاتا ہے ۔ اس کی ضد نسیان ہے ، اور کبھی قوت حافظہ کے استعمال پر یہ لفظ بولا جاتا ہے مثلا کہا جاتا ہے ۔ حفظت کذا حفظا یعنی میں نے فلاں بات یاد کرلی ۔ پھر ہر قسم کی جستجو نگہداشت اور نگرانی پر یہ لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَإِنَّا لَهُ لَحافِظُونَ [يوسف/ 12] اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٢۔ ٣٥) اور ان سے کہا جائے گا یہ فضیلت وہ ہے جس کا تم سے دنیا میں اس طرح وعدہ کیا جاتا تھا کہ یہ ہر ایسے شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی اطاع کی طرف رجوع ہونے والا ہو اور خلوت میں احکام خداوندی یا یہ کہ نمازوں کی پابندی کرنے والا ہو، غرض کہ جو شخص اللہ کی بغیر دیکھے عبادت کرتا ہوگا اور اللہ کے پاس خلوص والی عبادت اور توحید لے کر آئے گا ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جنت میں عذاب سے مامون و مطمئن ہو کر داخل ہوجاؤ۔ اور اہل جنت، جنت میں ہمیشہ رہیں گے ان کو جنت میں وہ سب کچھ ملے گا جس کی وہ خواہش کریں گے اور ان کو دیدار خداوندی بھی نصیب ہوگا یا یہ کہ ہر ایک دن اور ہر گھڑی پر ان کے ثواب اور فضیلت میں اضافہ ہوتا رہے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٢ { ہٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ } ” (ان سے کہا جائے گا) یہ ہے جس کا وعدہ تم لوگوں سے کیا جاتا تھا “ { لِکُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍ ۔ } ” ہر اس شخص کے لیے جو (اللہ کی طرف) رجوع کرنے والا اور حفاظت کرنے والا ہو۔ “ یعنی اس امانت کی حفاظت کرنے والا جو ہم نے اس کے سپرد کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انسان میں جو روح پھونکی ہے وہ اس کے پاس اللہ کی امانت ہے ‘ جیسا کہ سورة الاحزاب کی اس آیت سے واضح ہوتا ہے : { اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَہَا وَاَشْفَقْنَ مِنْہَا وَحَمَلَہَا الْاِنْسَانُط } (آیت ٧٢) ” ہم نے اس امانت کو پیش کیا آسمانوں پر اور زمین پر اور پہاڑوں پر تو ان سب نے انکار کردیا اس کو اٹھانے سے اور وہ اس سے ڈر گئے اور انسان نے اسے اٹھا لیا “۔ چناچہ ” حَفِیْظ “ سے ایسا شخص مراد ہے جس نے اس امانت کا حق ادا کیا اور اپنی روح کو گناہ کی آلودگی سے محفوظ رکھا۔ سورة الشعراء میں ایسی محفوظ اور پاکیزہ روح کو ” قلب سلیم “ کا نام دیا گیا ہے : { یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ ۔ اِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ۔ } ” جس دن نہ مال کام آئے گا اور نہ بیٹے۔ سوائے اس کے جو آئے اللہ کے پاس قلب ِسلیم لے کر “۔ اس مضمون کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو سورة الاحزاب کی آیت ٧٢ کی تشریح۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

40 The word awwab is very extensive in meaning. It implies the person who might have adopted the way of obedience and Allah's goodwill instead of the way of disobedience and the flesh, who gives up everything that is disapproved by AIIah and adopts everything that is approved by him, who gets alarmed as soon as he swerves a little from the path of worship and obedience and repents and returns to the path of worship and obedience, who remembers Allah much and turns to Him in all matters of life. 41 The word hafiz means the "one who guards. " This implies the person who takes care of the bounds and duties enjoined by Allah, who guards the trusts imposed by AIIah and avoids the things forbidden by him, who keeps watch over his time, energies and activities to see that none of these is being misemployed or misused, who offers repentance, remains steadfast and keeps it. strong and intact, who examines himself over and over again to see that he is not disobeying his Lord anywhere in word or deed.

سورة قٓ حاشیہ نمبر :40 اصل میں لفظ اَوّاب استعمال ہوا ہے جس کا مفہوم بہت وسیع ہے ۔ اس سے مراد ایسا شخص ہے جس نے نافرمانی اور خواہشات نفس کی پیروی کا راستہ چھوڑ کر طاعت اور اللہ کی رضا جوئی کا راستہ اختیار کر لیا ہو ، جو ہر اس چیز کو چھوڑ دے جو اللہ کو ناپسند ہے ، اور ہر اس چیز کو اختیار کر لے جو اللہ کو پسند ہے ، جو راہ بندگی سے ذرا قدم ہٹتے ہی گھبرا اٹھے اور توبہ کر کے بندگی کی راہ پر پلٹ آئے ، جو کثرت سے اللہ کو یاد کرنے والا اور اپنے تمام معاملات میں اس کی طرف رجوع کرنے والا ہو ۔ سورة قٓ حاشیہ نمبر :41 اصل میں لفظ حفیظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں حفاظت کرنے والا ۔ اس سے مراد ایسا شخص ہے جو اللہ کے حدود اور اسے کے فرائض اور اس کی حرمتوں اور اس کی سپرد کی ہوئی امانتوں کی حفاظت کرے ، جو ان حقوق کی نگہداشت کرے جو اللہ کی طرف سے اس پر عائد ہوتے ہیں ، جو اس عہد و پیمان کی نگہداشت کرے جو ایمان لا کر اس نے اپنے رب سے کیا ہے ، جو اپنے اوقات اور اپنی قوتوں اور محنتوں اور کوششوں کی پاسبانی کرے کہ ان میں سے کوئی چیز غلط کاموں میں ضائع نہ ہو ، جو توبہ کر کے اس کی حفاظت کرے اور اسے پھر نہ ٹوٹنے دے ، جو ہر وقت اپنا جائزہ لے کر دیکھتا رہے کہ کہیں میں اپنے قول یا فعل میں اپنے قول یا فعل میں اپنے رب کی نافرمانی تو نہیں کر رہا ہوں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

13: اس بات کی نگرانی کہ میرا کوئی کام اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف نہ ہو۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(50:32) ھذا : اشارۃ الی الجنۃ۔ جنت کی طرف اشارہ ہے۔ ھذا صیغہ مذکر الجنۃ مؤنث کے لئے استعمال ہوا ہے جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے فلما رأی الشمس بازغۃ قال ھذا ربی (6:79) ما توعدون ما موصولہ توعدون صلہ۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب وعد (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی وعدہ کرنا ۔ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ اواب : بہت رجوع کرنے والا۔ فعال کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے اواب (باب نصر) مصدر۔ بمعنی لوٹنا۔ اب الی اللّٰہ : توبہ کرنا۔ سعید بن المسیب کہتے ہیں کہ :۔ اواب : ھو الذی یذنب ثم یتوب ثم یذنب ثم یتوب : اواب وہ ہے جو گناہ کرتا ہے پھر اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے پھر گناہ کرتا ہے پھر اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس اور عطاء نے اواب کا ترجمہ پاکی بیان کرنے والا کیا ہے جیسے کہ آیت یجبال اوبی (34:10) میں اوبی کا ترجمہ ہے تسبیح کر۔ یعنی اللہ کی پاکی بیان کر ضحاک نے اس کا معنی بکثرت توبہ کرنے والا کیا ہے۔ یہاں اپنے تمام اقوال و افعال میں حرکات و سکنات میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اور اس کا مطیع ہونا مراد ہے۔ حفیظ : نگہبان، حفاظت کرنے والا۔ حفیظ (باب سمع) مصدر سے بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے۔ قتادہ نے کہا ہے کہ اللہ نے اپنے جن حقوق کا اس کو امین بنایا ہے ان کی حفاظت کرنے والا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ھذا ما توعدون لکل اواب حفیظ (٥٠ : ٣٢) من خشی ۔۔۔۔۔ بقلب منیب (٥٠ : ٣٣) ” یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ ہر اس شخص کے لئے جو رجوع کرنے والا اور بڑی نگہداشت کرنے والا تھا ، جو بےدیکھے رحمٰن سے ڈرتا تھا اور جو دل گرویدہ لیے ہوئے آیا ہے “۔ تو عالم بالا سے ان کی یہ تعریف کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اللہ کے پیمانے کے مطابق یہ اس کی طرف رجوع کرنے والے ہیں اور اپنے نفس کی پوری طرح حفاظت کرتے ہیں ، یہ رحمان سے ڈرنے والے ہیں اور انہوں نے اسے کبھی دیکھا نہ تھا۔ اللہ کی طرف ان کے دل لگے ہوئے ہیں اور وہ اس کے مطیع فرمان ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(32) کہا جائے گا یہ وہ جنت ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ یہ ہراس شخص کے لئے ہوگی اور ہر اس شخص کو ملے گی جو رجوع ہونے والا اور حقوق الٰہی کی حفاظت کرنے والا ہو۔ یعی یہ بہشت جو قریب کردی گئی ہے یہ وہی بہشت ہے جس کا تم سے دنیا میں وعدہ کیا جاتا تھا کہ یہ جنت اس شخص کے لئے ہوگی جو دل سے رجوع ہوکر نیک اعمال کا پابند ہو اور احکام الٰہی کی حفاظت کرنے والا یعنی ان کو اپنے وقت پر بجا لانے والا ہو۔ غرض یہ بہشت ہرای سے شخص کیلئے ہوگی۔