Analysis of |"Awwab|" and &Hafiz& لِكُلِّ أَوَّابٍ حَفِيظٍ (|" This is what you were promised for everyone oft-returning to Allah, vigilant....50:32). That is to say, Paradise has been promised to every person who is awwab and hafiz. Awwab refers to the person who turns to Allah. Here it means who turns to Him in repentance against sins. Sayyidna ` Abdullah Ibn Masud, Sha` bi and Mujahid (رض) said that Awwab refers to a person who recalls his sins in loneliness, private and secret, and seeks Allah&s forgiveness. ` Ubaid Ibn ` Umair (رض) said that Awwab is one who seeks Allah&s forgiveness of his sins in every sitting. And he further said that we are advised to recite the following invocation: سُبحانَ اللہِ وَ بِحَمدِہٖ اللَّھُمَّ اِنِّی اَستغفِرُکَ مِمَّآ اَصَبتُ فِی مَجلِسِی ھٰذا |"Pure is Allah and praise be to Him. 0 Allah, I seek Your forgiveness of the evil that I might have committed in this sitting.|" In a Prophetic Tradition, we are advised to recite the following supplication when dispersing. Allah will forgive all the sins that might have been committed in that session: سُبحَانَکَ اللَّھُمَّ وَ بِحَمدِکَ لَٓا اِلٰہَ اِلَّا اَنتَ اَستغفِرُکَ وَ اَتُوبُ اِلَیکَ |"Pure are You, 0 Allah, and praise be to You. There is no god but You. I seek Your forgiveness and turn to You in penitence.|" Hafiz (حَفِيظٍ ), according to Sayyidna ` Abdullah Ibn ` Abbas (رض) ، is one who remembers his sins, so that he may return to Allah in penitence and make amends. Another report from him defines اَلحَفِظُ ھُوِ الحَافِظُ لِاَمرِ اللہِ haflz as one who remembers his covenant with Allah, and does not break or betray it. Sayyidna Abu Hurairah (رض) reports from the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) who said: |"Whoever performs four rak` at of Ishraq prayer early in the day is Awwab and Hafiz (Qurtubi).
معارف و مسائل اواب کون لوگ ہیں ؟ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِيْظٍ ، یعنی جنت کا وعدہ ہر اس شخص کے لئے ہے جو اواب اور حفیظ ہو، اواب کے معنی رجوع ہونے والے کے ہیں، مراد وہ شخص ہے جو معاصی سے اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔ حضرت عبداللہ بن مسعود اور شعبی اور مجاہد نے فرمایا کہ اواب وہ شخص ہے جو خلوت میں اپنے گناہوں کو یاد کرے اور ان سے استغفار کرے اور حضرت عبید بن عمیر نے فرمایا کہ اواب وہ شخص ہے جو اپنی ہر مجلس اور ہر نشست میں اللہ سے اپنے گناہوں کی مغفرت مانگے اور فرمایا کہ ہمیں یہ بتلایا گیا ہے کہ اواب اور حفیظ وہ شخص ہے جو اپنی ہر مجلس سے اٹھنے کے وقت یہ دعا پڑھے، سبحان اللہ وبحمدہ اللھم انی استغفرک مما اصبت فی مجلسی ھذا ( پاک ہے اللہ اور اسی کی حمد ہے، یا اللہ میں مغفرت مانگتا ہوں اس برائی سے جو میں نے اس مجلس میں کی ہو) اور حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جو شخص اپنی مجلس سے اٹھنے کے وقت یہ دعا پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے وہ سب گناہ معاف فرما دیں گے جو اس مجلس میں سرزد ہوئے، دعا یہ ہے سبحانک اللھم وبحمدک لآ الہ الا انت استغفرک واتوب الیک ( یعنی یا اللہ تو پاک ہے اور تیری حمد و ثنا ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے مغفرت مانگتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں اور حفیظ کے معنی حضرت ابن عباس نے یہ بتلائے کہ جو شخص اپنے گناہوں کو یاد رکھے تاکہ ان سے رجوع کر کے تلافی کرے اور ان سے ایک روایت میں حفیظ کے معنی ہوالحافظ لامر اللہ کے بھی منقول ہیں، یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کے احکام کو یاد رکھے اور حضرت ابوہریرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جو شخص شروع دن میں چار رکعتیں (اشراق کی) پڑھ لے وہ اواب اور حفیظ ہے (قرطبی )