Surat Qaaf

Surah: 50

Verse: 7

سورة ق

وَ الۡاَرۡضَ مَدَدۡنٰہَا وَ اَلۡقَیۡنَا فِیۡہَا رَوَاسِیَ وَ اَنۡۢبَتۡنَا فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ زَوۡجٍۭ بَہِیۡجٍ ۙ﴿۷﴾

And the earth - We spread it out and cast therein firmly set mountains and made grow therein [something] of every beautiful kind,

اور زمین کو ہم نے بچھا دیا ہے اور اس میں ہم نے پہاڑ ڈال دیئے ہیں اور اس میں ہم نے قسم قسم کی خوشنما چیزیں اگا دی ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَالاْاَرْضَ مَدَدْنَاهَا ... And the earth! We have spread it out, means, `We made it spacious and spread it out,' ... وَأَلْقَيْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ ... and set thereon Rawasi standing firm. which are the mountains to save the earth from shaking along with its inhabitants, ... وَأَنبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ and We planted in it every lovely (Bahij) pair. (every kind and species of plant, fruit and vegetation), وَمِن كُلِّ شَىْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ And of everything We have created pairs that you may reflect. (51:49) Allah's saying `Bahij', meaning a beautiful scene, تَبْصِرَةً وَذِكْرَى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيبٍ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

7۔ 1 اور بعض نے زوج کے معنی جوڑا کیا ہے یعنی ہر قسم کی نباتات اور اشیا کو جوڑا جوڑا (نر مادہ) بنایا ہے بھیج کے معنی خوش منظر شاداب اور حسین

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨] زمین کی تخلیق اور فوائد :۔ یہ دوسری دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو اتنا وسیع بنادیا اور پھیلا دیا کہ وہ قیامت تک پیدا ہونے والے جانوروں اور انسانوں کے لئے مسکن اور مستقر کا کام دے سکے اور وہ اتنی پیداوار اگا سکے جس سے تمام جانداروں اور انسانوں کو تاقیامت رزق مہیا ہوتا رہے۔ نیز ان جانوروں اور انسانوں کے مرنے کے بعد ان کے مدفن کا کام بھی دے سکے۔ [٩] پہاڑوں کی تخلیق اور فوائد :۔ اس آیت اور کئی دیگر آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی پیدائش الگ چیز ہے اور پہاڑوں کی پیدائش الگ چیز ہے۔ پہاڑ زمین کے ساتھ ہی نہیں بلکہ بعد میں پیدا کئے گئے اور پہاڑوں کی پیدائش کا سب سے بڑا فائدہ یہ بتایا گیا ہے کہ زمین جب پیدا کی گئی تو اپنی تیز رفتار کی وجہ سے ہلتی، ہچکولے کھاتی اور ڈولتی تھی۔ اور یہ اس قابل نہ تھی کہ اس پر انسان یا جانور زندہ رہ سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کے ایسے ایسے مقامات پر پہاڑوں کا سلسلہ بنایا اور اس توازن و تناسب کے ساتھ بنایا جس سے زمین کا ادھر ادھر جھکنا اور ہچکولے کھانا موقوف ہوگیا اور وہ جانداروں کی رہائش اور مستقر کے قابل بن گئی۔ یہ تو پہاڑوں کا بنیادی فائدہ ہے اس کے علاوہ پہاڑوں کے ضمنی فائدے بھی قرآن میں جابجا مذکور ہیں۔ یہ بات بھی اللہ کی قدرت کاملہ پر دلالت کر رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی یہ قدرت تو کافر بھی تسلیم کرتے ہیں۔ مگر اس قدرت سے انکار کرتے ہیں کہ وہ انسان کو دوبارہ پیدا کرسکے ؟ فیا للعجب ! [١٠] آب وہوا ایک جیسی & نباتات مختلف :۔ یعنی قطعہ زمین ایک ہی ہوتا ہے۔ پانی بھی ایک جیسا، آب و ہوا اور موسم بھی ایک ہی لیکن کہیں پودے اگ رہے ہیں جن میں سے کسی کا پھل میٹھا، کسی کا کڑوا اور کسی کا کسیلا ہوتا ہے۔ کہیں غلے اور فصلیں اگ رہی ہیں۔ کہیں درخت اگ رہے ہیں۔ جن میں بعض پھل دار ہیں اور بعض خار دار۔ اور کہیں رنگ برنگ کے خوشنما اور خوشبودار پھول اگ رہے ہیں۔ جب یہ چیزیں اپنے جوبن پر آتی ہیں تو عجب منظر اور عجب بہار پیش کرتی ہیں۔ کیا یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی حیران کن قدرت کاملہ کا ثبوت پیش نہیں کرتیں ؟ تو پھر کیا اللہ تعالیٰ میں اتنی قدرت بھی تسلیم نہیں کی جاسکتی کہ زمین سے تمہارے بکھرے ہوئے ذرات کو اکٹھا کرکے تمہیں دوبارہ زندہ کر دے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

والارض مددنھا…:” بھیج “” بھجۃ “ سے صفت کا صیغہ ہے، جوابی والی۔ اس آیت کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة حجر (١٩) ، نجل (١٥) طہ، (٥٣) ، نمل (٦٠-٦١) ، لقمان (١٠) ، زخرف (١٠ تا ١٤) اور سورة مرسلات (٢٥ تا ٢٧) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَالْاَرْضَ مَدَدْنٰہَا وَاَلْقَيْنَا فِيْہَا رَوَاسِيَ وَاَنْۢبَتْنَا فِيْہَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍؚبَہِيْجٍ۝ ٧ ۙ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ مد أصل المَدّ : الجرّ ، ومنه : المُدّة للوقت الممتدّ ، ومِدَّةُ الجرحِ ، ومَدَّ النّهرُ ، ومَدَّهُ نهرٌ آخر، ومَدَدْتُ عيني إلى كذا . قال تعالی: وَلا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ الآية [ طه/ 131] . ومَدَدْتُهُ في غيّه، ومَدَدْتُ الإبلَ : سقیتها المَدِيدَ ، وهو بزر ودقیق يخلطان بماء، وأَمْدَدْتُ الجیشَ بِمَدَدٍ ، والإنسانَ بطعامٍ. قال تعالی: أَلَمْ تَرَ إِلى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَ [ الفرقان/ 45] . وأكثر ما جاء الإمْدَادُ في المحبوب والمدُّ في المکروه نحو : وَأَمْدَدْناهُمْ بِفاكِهَةٍ وَلَحْمٍ مِمَّا يَشْتَهُونَ [ الطور/ 22] أَيَحْسَبُونَ أَنَّما نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مالٍ وَبَنِينَ [ المؤمنون/ 55] ، وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوالٍ وَبَنِينَ [ نوح/ 12] ، يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ آلافٍ الآية [ آل عمران/ 125] ، أَتُمِدُّونَنِ بِمالٍ [ النمل/ 36] ، وَنَمُدُّ لَهُ مِنَ الْعَذابِ مَدًّا[ مریم/ 79] ، وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيانِهِمْ يَعْمَهُونَ [ البقرة/ 15] ، وَإِخْوانُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ فِي الغَيِ [ الأعراف/ 202] ، وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ [ لقمان/ 27] فمن قولهم : مَدَّهُ نهرٌ آخرُ ، ولیس هو مما ذکرناه من الإمدادِ والمدِّ المحبوبِ والمکروهِ ، وإنما هو من قولهم : مَدَدْتُ الدّواةَ أَمُدُّهَا «1» ، وقوله : وَلَوْ جِئْنا بِمِثْلِهِ مَدَداً [ الكهف/ 109] والمُدُّ من المکاييل معروف . ( م د د ) المد کے اصل معنی ( لمبائی میں ) کهينچنا اور بڑھانے کے ہیں اسی سے عرصہ دراز کو مدۃ کہتے ہیں اور مدۃ الجرح کے معنی زخم کا گندہ مواد کے ہیں ۔ مد النھر در کا چڑھاؤ ۔ مدہ نھر اخر ۔ دوسرا دریا اس کا معاون بن گیا ۔ قرآن میں ہے : أَلَمْ تَرَ إِلى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَ [ الفرقان/ 45] تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارا رب سائے کو کس طرح دراز کرک پھیلا دیتا ہے ۔ مددت عینی الی کذا کسی کیطرف حریصانہ ۔۔ اور للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنا ۔ چناچہ قرآن میں ہے : وَلا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ الآية [ طه/ 131] تم ۔۔ للچائی نظروں سے نہ دیکھنا ۔ مددتہ فی غیہ ۔ گمراہی پر مہلت دینا اور فورا گرفت نہ کرنا ۔ مددت الابل اونٹ کو مدید پلایا ۔ اور مدید اس بیج اور آٹے کو کہتے ہیں جو پانی میں بھگو کر باہم ملا دیا گیا ہو امددت الجیش بمدد کا مددینا ۔ کمک بھیجنا۔ امددت الانسان بطعام کسی کی طعام ( غلہ ) سے مددکرنا قرآن پاک میں عموما امد ( افعال) اچھی چیز کے لئے اور مد ( ثلاثی مجرد ) بری چیز کے لئے ) استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا : وَأَمْدَدْناهُمْ بِفاكِهَةٍ وَلَحْمٍ مِمَّا يَشْتَهُونَ [ الطور/ 22] اور جس طرح کے میوے اور گوشت کو ان کا جی چاہے گا ہم ان کو عطا کریں گے ۔ أَيَحْسَبُونَ أَنَّما نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مالٍ وَبَنِينَ [ المؤمنون/ 55] کیا یہ لوگ خیا کرتے ہیں ک ہم جو دنیا میں ان کو مال اور بیٹوں سے مدد دیتے ہیں ۔ وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوالٍ وَبَنِينَ [ نوح/ 12] اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد فرمائے گا ۔ يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ آلافٍ الآية [ آل عمران/ 125] تمہارا پروردگار پانچ ہزار فرشتے تمہاری مدد کو بھیجے گا ۔ أَتُمِدُّونَنِ بِمالٍ [ النمل/ 36] کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو ۔ وَنَمُدُّ لَهُ مِنَ الْعَذابِ مَدًّا[ مریم/ 79] اور اس کے لئے آراستہ عذاب بڑھاتے جاتے ہیں ۔ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيانِهِمْ يَعْمَهُونَ [ البقرة/ 15] اور انہیں مہلت دیئے جاتا ہے کہ شرارت اور سرکشی میں پڑے بہک رہے ہیں ۔ وَإِخْوانُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ فِي الغَيِ [ الأعراف/ 202] اور ان ( کفار) کے بھائی انہیں گمراہی میں کھینچے جاتے ہیں لیکن آیت کریمہ : وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ [ لقمان/ 27] اور سمندر ( کا تمام پانی ) روشنائی ہو اور مہار ت سمندر اور ( روشنائی ہوجائیں ) میں یمددہ کا صیغہ مدہ نھرا اخر کے محاورہ سے ماخوذ ہے اور یہ امداد یا مد سے نہیں ہے جو کسی محبوب یا مکروہ وہ چیز کے متعلق استعمال ہوتے ہیں بلکہ یہ مددت الداواۃ امد ھا کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی دوات میں روشنائی ڈالنا کے ہیں اسی طرح آیت کریمہ : وَلَوْ جِئْنا بِمِثْلِهِ مَدَداً [ الكهف/ 109] اگرچہ ہم دیسا اور سمندر اس کی مددکو لائیں ۔ میں مداد یعنی روشنائی کے معنی مراد ہیں ۔ المد۔ غلہ ناپنے کا ایک مشہور پیمانہ ۔ ۔ لقی( افعال) والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] ، ( ل ق ی ) لقیہ ( س) الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا ۔ قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] تو جادو گروں نے کہا کہ موسیٰ یا تو تم جادو کی چیز ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں ۔ موسیٰ نے کہا تم ہی ڈالو۔ رسا يقال : رَسَا الشیء يَرْسُو : ثبت، وأَرْسَاهُ غيره، قال تعالی: وَقُدُورٍ راسِياتٍ [ سبأ/ 13] ، وقال : رَواسِيَ شامِخاتٍ [ المرسلات/ 27] ، أي : جبالا ثابتات، وَالْجِبالَ أَرْساها[ النازعات/ 32] ، ( ر س و ) رسا الشئی ۔ ( ن ) کے معنی کسی چیز کے کسی جگہ پر ٹھہرنے اور استوار ہونے کے ہیں اور ارسٰی کے معنی ٹھہرانے اور استوار کردینے کے ۔ قرآن میں ہے : وَقُدُورٍ راسِياتٍ [ سبأ/ 13] اور بڑی بھاری بھاری دیگیں جو ایک پر جمی رہیں ۔ رَواسِيَ شامِخاتٍ [ المرسلات/ 27] اور انچے انچے پہاڑ یہاں پہاڑوں کو بوجہ ان کے ثبات اور استواری کے رواسی کہا گیا ہے ۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : وَالْجِبالَ أَرْساها[ النازعات/ 32] اور پہاڑوں کو ( اس میں گاڑ کر ) پلادیا ۔ نبت النَّبْتُ والنَّبَاتُ : ما يخرج من الأرض من النَّامِيات، سواء کان له ساق کا لشجر، أو لم يكن له ساق کالنَّجْم، لکن اختَصَّ في التَّعارُف بما لا ساق له، بل قد اختصَّ عند العامَّة بما يأكله الحیوان، وعلی هذا قوله تعالی: لِنُخْرِجَ بِهِ حَبًّا وَنَباتاً [ النبأ/ 15] ومتی اعتبرت الحقائق فإنّه يستعمل في كلّ نام، نباتا کان، أو حيوانا، أو إنسانا، والإِنْبَاتُ يستعمل في كلّ ذلك . قال تعالی: فَأَنْبَتْنا فِيها حَبًّا وَعِنَباً وَقَضْباً وَزَيْتُوناً وَنَخْلًا وَحَدائِقَ غُلْباً وَفاكِهَةً وَأَبًّا[ عبس/ 27- 31] ( ن ب ت ) النبت والنبات ۔ ہر وہ چیز جو زمین سے اگتی ہے ۔ اسے نبت یا نبات کہا جاتا ہے ۔ خواہ وہ تنہ دار ہو جیسے درخت ۔ یا بےتنہ جیسے جڑی بوٹیاں لیکن عرف میں خاص کر نبات اسے کہتے ہیں ہیں جس کے تنہ نہ ہو ۔ بلکہ عوام تو جانوروں کے چاراہ پر ہی نبات کا لفظ بولتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ لِنُخْرِجَ بِهِ حَبًّا وَنَباتاً [ النبأ/ 15] تاکہ اس سے اناج اور سبزہ پیدا کریں ۔ میں نبات سے مراد چارہ ہی ہے ۔ لیکن یہ اپانے حقیقی معنی کے اعتبار سے ہر پڑھنے والی چیز کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور بناتات حیوانات اور انسان سب پر بولاجاتا ہے ۔ اور انبات ( افعال ) کا لفظ سب چیزوں کے متعلق اسستعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ فَأَنْبَتْنا فِيها حَبًّا وَعِنَباً وَقَضْباً وَزَيْتُوناً وَنَخْلًا وَحَدائِقَ غُلْباً وَفاكِهَةً وَأَبًّا[ عبس/ 27- 31] پھر ہم ہی نے اس میں اناج اگایا ور انگور اور ترکاری اور زیتون اور کھجوریں اور گھنے گھے باغ ور میوے ور چارہ ۔ زوج يقال لكلّ واحد من القرینین من الذّكر والأنثی في الحیوانات الْمُتَزَاوِجَةُ زَوْجٌ ، ولكلّ قرینین فيها وفي غيرها زوج، کالخفّ والنّعل، ولكلّ ما يقترن بآخر مماثلا له أو مضادّ زوج . قال تعالی: فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثى[ القیامة/ 39] ، وقال : وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ [ البقرة/ 35] ، وزَوْجَةٌ لغة رديئة، وجمعها زَوْجَاتٌ ، قال الشاعر : فبکا بناتي شجوهنّ وزوجتي وجمع الزّوج أَزْوَاجٌ. وقوله : هُمْ وَأَزْواجُهُمْ [يس/ 56] ، احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْواجَهُمْ [ الصافات/ 22] ، أي : أقرانهم المقتدین بهم في أفعالهم، وَلا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلى ما مَتَّعْنا بِهِ أَزْواجاً مِنْهُمْ [ الحجر/ 88] ، أي : أشباها وأقرانا . وقوله : سُبْحانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْواجَ [يس/ 36] ، وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنا زَوْجَيْنِ [ الذاریات/ 49] ، فتنبيه أنّ الأشياء کلّها مركّبة من جو هر وعرض، ومادّة وصورة، وأن لا شيء يتعرّى من تركيب يقتضي كونه مصنوعا، وأنه لا بدّ له من صانع تنبيها أنه تعالیٰ هو الفرد، وقوله : خَلَقْنا زَوْجَيْنِ [ الذاریات/ 49] ، فبيّن أنّ كلّ ما في العالم زوج من حيث إنّ له ضدّا، أو مثلا ما، أو تركيبا مّا، بل لا ينفكّ بوجه من تركيب، وإنما ذکر هاهنا زوجین تنبيها أنّ الشیء۔ وإن لم يكن له ضدّ ، ولا مثل۔ فإنه لا ينفكّ من تركيب جو هر وعرض، وذلک زوجان، وقوله : أَزْواجاً مِنْ نَباتٍ شَتَّى [ طه/ 53] ، أي : أنواعا متشابهة، وکذلک قوله : مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ [ لقمان/ 10] ، ثَمانِيَةَ أَزْواجٍ [ الأنعام/ 143] ، أي : أصناف . وقوله : وَكُنْتُمْ أَزْواجاً ثَلاثَةً [ الواقعة/ 7] ، أي : قرناء ثلاثا، وهم الذین فسّرهم بما بعد وقوله : وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ [ التکوير/ 7] ، فقد قيل : معناه : قرن کلّ شيعة بمن شایعهم في الجنّة والنار، نحو : احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْواجَهُمْ [ الصافات/ 22] ، وقیل : قرنت الأرواح بأجسادها حسبما نبّه عليه قوله في أحد التّفسیرین : يا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ راضِيَةً مَرْضِيَّةً [ الفجر/ 27- 28] ، أي : صاحبک . وقیل : قرنت النّفوس بأعمالها حسبما نبّه قوله : يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ ما عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَراً وَما عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ [ آل عمران/ 30] ، وقوله : وَزَوَّجْناهُمْ بِحُورٍ عِينٍ [ الدخان/ 54] ، أي : قرنّاهم بهنّ ، ولم يجئ في القرآن زوّجناهم حورا، كما يقال زوّجته امرأة، تنبيها أن ذلک لا يكون علی حسب المتعارف فيما بيننا من المناکحة . ( ز و ج ) الزوج جن حیوانات میں نر اور مادہ پایا جاتا ہے ان میں سے ہر ایک دوسرے کا زوج کہلاتا ہے یعنی نر اور مادہ دونوں میں سے ہر ایک پر اس کا اطلاق ہوتا ہے ۔ حیوانات کے علاوہ دوسری اشیاء میں جفت کو زوج کہا جاتا ہے جیسے موزے اور جوتے وغیرہ پھر اس چیز کو جو دوسری کی مماثل یا مقابل ہونے کی حثیت سے اس سے مقترن ہو وہ اس کا زوج کہلاتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثى [ القیامة/ 39] اور ( آخر کار ) اس کی دو قسمیں کیں ( یعنی ) مرد اور عورت ۔ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ [ البقرة/ 35] اور تیری بی بی جنت میں رہو ۔ اور بیوی کو زوجۃ ( تا کے ساتھ ) کہنا عامی لغت ہے اس کی جمع زوجات آتی ہے شاعر نے کہا ہے فبکا بناتي شجوهنّ وزوجتیتو میری بیوی اور بیٹیاں غم سے رونے لگیں ۔ اور زوج کی جمع ازواج آتی ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ هُمْ وَأَزْواجُهُمْ [يس/ 56] وہ اور ان کے جوڑے اور آیت : ۔ احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْواجَهُمْ [ الصافات/ 22] جو لوگ ( دنیا میں ) نا فرمانیاں کرتے رہے ہیں ان کو اور ان کے ساتھیوں کو ( ایک جگہ ) اکٹھا کرو ۔ میں ازواج سے ان کے وہ ساتھی مراد ہیں جو فعل میں ان کی اقتدا کیا کرتے تھے اور آیت کریمہ : ۔ إِلى ما مَتَّعْنا بِهِ أَزْواجاً مِنْهُمْ [ الحجر/ 88] اس کی طرف جو مختلف قسم کے لوگوں کو ہم نے ( دنیاوی سامان ) دے رکھے ہیں ۔ اشباہ و اقران یعنی ایک دوسرے سے ملتے جلتے لوگ مراد ہیں اور آیت : ۔ سُبْحانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْواجَ [يس/ 36] پاک ہے وہ ذات جس نے ( ہر قسم کی ) چیزیں پیدا کیں ۔ نیز : ۔ وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنا زَوْجَيْنِ [ الذاریات/ 49] اور تمام چیزیں ہم نے دو قسم کی بنائیں ۔ میں اس بات پر تنبیہ کی ہے ۔ کہ تمام چیزیں جوہر ہوں یا عرض مادہ و صورت سے مرکب ہیں اور ہر چیز اپنی ہیئت ترکیبی کے لحا ظ سے بتا رہی ہے کہ اسے کسی نے بنایا ہے اور اس کے لئے صائع ( بنانے والا ) کا ہونا ضروری ہے نیز تنبیہ کی ہے کہ ذات باری تعالیٰ ہی فرد مطلق ہے اور اس ( خلقنا زوجین ) لفظ سے واضح ہوتا ہے کہ روئے عالم کی تمام چیزیں زوج ہیں اس حیثیت سے کہ ان میں سے ہر ایک چیز کی ہم مثل یا مقابل پائی جاتی ہے یا یہ کہ اس میں ترکیب پائی جاتی ہے بلکہ نفس ترکیب سے تو کوئی چیز بھی منفک نہیں ہے ۔ پھر ہر چیز کو زوجین کہنے سے اس بات پر تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ اگر کسی چیز کی ضد یا مثل نہیں ہے تو وہ کم از کم جوہر اور عرض سے ضرور مرکب ہے لہذا ہر چیز اپنی اپنی جگہ پر زوجین ہے ۔ اور آیت أَزْواجاً مِنْ نَباتٍ شَتَّى [ طه/ 53] طرح طرح کی مختلف روئیدگیاں ۔ میں ازواج سے مختلف انواع مراد ہیں جو ایک دوسری سے ملتی جلتی ہوں اور یہی معنی آیت : ۔ مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ [ لقمان/ 10] ہر قسم کی عمدہ چیزیں ( اگائیں ) اور آیت کریمہ : ۔ ثَمانِيَةَ أَزْواجٍ [ الأنعام/ 143]( نر اور مادہ ) آٹھ قسم کے پیدا کئے ہیں ۔ میں مراد ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَكُنْتُمْ أَزْواجاً ثَلاثَةً [ الواقعة/ 7] میں ازواج کے معنی ہیں قرناء یعنی امثال ونظائر یعنی تم تین گروہ ہو جو ایک دوسرے کے قرین ہو چناچہ اس کے بعد اصحاب المیمنۃ سے اس کی تفصیل بیان فرمائی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ [ التکوير/ 7] اور جب لوگ باہم ملا دیئے جائیں گے ۔ میں بعض نے زوجت کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ ہر پیروکار کو اس پیشوا کے ساتھ جنت یا دوزخ میں اکٹھا کردیا جائیگا ۔ جیسا کہ آیت : ۔ احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْواجَهُمْ [ الصافات/ 22] میں مذکور ہوچکا ہے اور بعض نے آیت کے معنی یہ کئے ہیں کہ اس روز روحوں کو ان کے جسموں کے ساتھ ملا دیا جائیگا جیسا کہ آیت يا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ راضِيَةً مَرْضِيَّةً [ الفجر/ 27- 28] اے اطمینان پانے والی جان اپنے رب کی طرف لوٹ آ ۔ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی ۔ میں بعض نے ربک کے معنی صاحبک یعنی بدن ہی کئے ہیں اور بعض کے نزدیک زوجت سے مراد یہ ہے کہ نفوس کو ان کے اعمال کے ساتھ جمع کردیا جائیگا جیسا کہ آیت کریمہ : ۔ يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ ما عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَراً وَما عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ [ آل عمران/ 30] جب کہ ہر شخص اپنے اچھے اور برے عملوں کو اپنے سامنے حاضر اور موجود پائیگا ۔ میں بھی اس معنی کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَزَوَّجْناهُمْ بِحُورٍ عِينٍ [ الدخان/ 54] اور ہم انہیں حورعین کا ساتھی بنا دیں گے ۔ میں زوجنا کے معنی باہم ساتھی اور رفیق اور رفیق بنا دینا ہیں یہی وجہ ہے کہ قرآن نے جہاں بھی حور کے ساتھ اس فعل ( زوجنا ) کا ذکر کیا ہے وہاں اس کے بعد باء لائی گئی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ حوروں کے ساتھ محض رفاقت ہوگی جنسی میل جول اور ازواجی تعلقات نہیں ہوں گے کیونکہ اگر یہ مفہوم مراد ہوتا تو قرآن بحور کی بجائے زوجناھم حورا کہتا جیسا کہ زوجتہ امرءۃ کا محاورہ ہے یعنی میں نے اس عورت سے اس کا نکاح کردیا ۔ بهج البَهْجَة : حسن اللون وظهور السرور، وفيه قال عزّ وجل : حَدائِقَ ذاتَ بَهْجَةٍ [ النمل/ 60] ، وقد بَهُجَ فهو بَهِيج، قال : وَأَنْبَتْنا فِيها مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ [ ق/ 7] ، ويقال : بَهِجٍ ، کقول الشاعر : ذات خلق بهج ولا يجيء منه بهوج، وقد ابْتَهَجَ بکذا، أي : سرّ به سرورا بان أثره علی وجهه، وأَبْهَجَهُ كذا . ( ب ھ ج ) البھجۃ ۔ خوش نمائی ۔ فرحت و سرور کا ظہور ۔ قرآن میں ہے : ۔ حَدائِقَ ذاتَ بَهْجَةٍ [ النمل/ 60] سر سبز باغ ۔ ( ک ) خوشمنا اور تروتازہ ہونا ۔ اور خوشنما چیز کو بھیج کہا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَأَنْبَتْنا فِيها مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ [ ق/ 7] اور اس میں ہر طرح کی خوشنما چیزیں اگائیں ۔ اور بھیج بھی صیغہ صفت ہے شاعر نے کہا ہے ع ) اور اس سے بھوج بروزن فعول استعمال نہیں ہوتا ابتھج بکذا کسی چیز پر اس قدر خوش اور سرور ہونا کہ چہرہ پر خوشی کے آثار ظاہر ہوجائیں ۔ ابھجہ خوش کرنا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧۔ ٨) اور زمین کو ہم نے پانی پر بچھایا ہے اور زمین پر پہاڑوں کو جما دیا جو اس کی میخیں ہیں تاکہ زمین ان کو لے کر حرکت نہ کرنے لگے اور اس میں ہر قسم کی خوشنما چیزیں لگائیں تاکہ یہ دیکھیں اور نصیحت حاصل کریں یا یہ کہ جو غوروفکر اور نصیحت کا ذریعہ ہے ہر اس بندے کے لیے جو کہ اللہ تعالیٰ اور اس کی اطاعت کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧ { وَالْاَرْضَ مَدَدْنٰـہَا وَاَلْقَیْنَا فِیْہَا رَوَاسِیَ } ” اور زمین کو ہم نے پھیلا دیا ہے اور ہم نے اس میں لنگر ڈال دیے ہیں “ ماہرین طبقات الارض (Geologists) بھی اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ زمین کی گردش کے دوران اس کا توازن (isostacy) برقرار رکھنے میں پہاڑوں کا انتہائی اہم کردار ہے۔ { وَاَنْبَتْنَا فِیْہَا مِنْ کُلِّ زَوْجٍم بَہِیْجٍ ۔ } ” اور ہم نے اس میں ہر طرح کی بڑی ہی رونق والی چیزیں (جوڑوں کی شکل میں) پیدا کردیں۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

9 For explanation, sec E.N.'s 12, 13, 14 of An-Nahl, E.N.'s 73, 74 of An-Naml, and E.N. 7 of Az-Zukhruf.

سورة قٓ حاشیہ نمبر :9 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم ، النحل ، حواشی 12 ۔ 13 ۔ 14 ۔ جلد سوم ، النمل ، حواشی 73 ۔ 74 ۔ جلد چہارم ، الزخرف ، حاشیہ 7 ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(50:7) والارض معطوف علی موضع السمائ۔ ای فلم یروا الارض اور (کیا) انہوں نے (اپنے نیچے) زمین کو نہیں دیکھا۔ (تفسیر حقانی، جلالین) مددنھا : مددنا : ماضی جمع متکلم مد (باب نصر) مصدر۔ لمبائی کے رخ کسی چیز کے کھینچنے یا بڑھانے کو کہتے ہیں ۔ اسی سے مدت دراز کو مدۃ کہتے ہیں ۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب الارض کی طرف راجع ہے۔ ہم نے اس کو پھیلا دیا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے الم ترالی ربک کیف مدالظل (25:45) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تیرا رب سائے کو کس طرح دراز کرکے پھیلا دیتا ہے۔ القینا : ماضی جمع متکلم القاء (افعال) سے اس کے معنی ہیں کسی چیز کو اس طرح ڈال دینا کہ وہ دوسرے کو سامنے نظر آئے۔ پھر عرف میں مطلق کسی چیز کو پھینک دینے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ القینا۔ ہم نے ڈالا۔ ہم نے رکھا۔ ہم نے رکھ دیا۔ فیہا : ای فی الارض۔ زمین پر۔ رواسی ر س و مادہ سے راسیۃ کی جمع ہے رسا الشیء رسو (باب نصر) مصدر بمعنی کسی چیز کے کسی جگہ پر ٹھہرنے اور استوار ہونے کے ہیں ۔ اور باب افعال سے بمعنی ٹھہرانے اور استوار کردینے کے ہیں۔ رواسی گڑے ہوئے پہاڑ۔ یہاں پہاڑوں کو بوجہ ان کے ثبات اور استواری کے رواسی کہا گیا ہے جیسا کہ دوسری جگہ قرآن مجید میں فرمایا والجبال ارسھا (79:32) اور پہاڑوں کو (اس میں بمعنی زمین میں گاڑ کر) پھیلا دیا۔ اسی طرح معنی ثبات کے اعتبار سے پہاڑوں کو اوتاد (وثد کی جمع بمعنی میخ) فرمایا ہے۔ جیسے والجبال اوتادا (78:5) اور (کیا ہم نے) پہاڑوں کو (اس کی یعنی زمین کی) میخیں (نہیں ٹھہرایا) ۔ انبتنا۔ ماضی جمع متکلم انبات (افعال) مصدر ۔ ہم نے اگایا۔ بناتات ، پودے ، سبزی اگی ہوئی بوٹیاں۔ من کل زوج۔ ہر قسم کا سبزہ۔ یہاں زوج کا معنی جوڑا نہیں بلکہ نوع ہے ای من کل نوع من النبات / من کل صنف من اصناف النبات۔ بھجۃ۔ رونق ۔ تازگی۔ خوبی۔ خوش رنگی۔ فرحت۔ مسرت کو کہتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ایسی ہی صفات زمین کے لئے استعمال ہوئی ہیں کیونکہ زمین بھی اس کائنات کی کتب کا ایک سور ہے۔ اور اسے ثبات اور کمال و جمال اور قرار حاصل ہے۔ زمین کو آسمانوں کے بالمقابل لایا گیا۔ والارض مددنھا ۔۔۔۔۔ کل زوج بھیج (٥٠ : ٧) ” اور زمین کو ہم نے بچھایا اور اس میں پہاڑ جمائے اور اس کے اندر ہر طرح کی خوش منظر نباتات اگادیں ”۔ زمین کا بچھایا ہوا ہونا ، پہاڑوں کا جما ہوا ہونا اور نباتات کا خوبصورت ہونا ، تمام صفات کمال و جمال دکھانے والی چیزیں ہیں اور بادی النظر میں یہ صفات نظر آتی ہیں۔ آسمان کی خوبصورت اور طویل و عریض تعمیر ، اور بچھی ہوئی زمین اور بلند وبالا پہاڑوں کے مناظر دکھا کر ان لوگوں کے دل و دماغ کو ایک نکتے کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا ﴾ (اور ہم نے زمین کو پھیلا دیا) ﴿ وَ اَلْقَيْنَا فِيْهَا رَوَاسِيَ ﴾ (اور ہم نے زمین میں بوجھل چیزیں یعنی پہاڑ ڈال دیئے) ۔ ﴿ وَ اَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِيْجٍۙ٠٠٧﴾ اور ہم نے زمین میں ہر قسم کے پودے اور درخت پیدا کردیئے جو دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(7) اور ہم نے زمین کو پھیلایا اور اس میں ہم نے بھاری بھاری پہاڑ ڈالے اور پہاڑوں کو جما دیا اور ہم نے اس زمین میں سے ہر قسم کی پررونق چیزیں اگائیں۔ یعنی قسم قسم کی نباتات ۔