Surat Qaaf

Surah: 50

Verse: 8

سورة ق

تَبۡصِرَۃً وَّ ذِکۡرٰی لِکُلِّ عَبۡدٍ مُّنِیۡبٍ ﴿۸﴾

Giving insight and a reminder for every servant who turns [to Allah ].

تاکہ ہر رجوع کرنے والے بندے کے لئے بینائی اور دانائی کا ذریعہ ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

An insight and a Reminder for every servant who turns to Allah in repentance. Allah says that observing the creation of the heavens and earth and all the great things that He has placed in them provides insight, proof and a lesson for every penitent servant who submits in humbleness and repentance to Allah feeling fear, in awe of Him. Allah the Exalted said,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

8۔ 1 یعنی آسمان و زمین کی تخلیق اور دیگر اشیا کا مشاہدہ اور ان کی معرفت ہر اس شخص کے لئے بصیرت و دانائی اور عبرت و نصیحت کا باعث ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(تبصرۃ و ذکری …:” تبصرۃ “ اور ” ذکری “ یہ دونوں مفعول لہ ہیں، یعنی ہم نے یہ سب کچھ بنایا اور اس کا یہاں ذکر کیا ہے ہر اس آدمی کو دکھانے اور یاد دلانے کے لئے جو دھیان ہی نہ کرے اس کے لئے یہ سب کچھ بےفائدہ ہے۔ انہاں نوں بازار پھرایا، سارا شہر وکھایا آخر اتے آکھن لگا کجھ نہیں نظری آیا ” یعنی اندھے کو بازار دکھایا اور سارے شہر کی سیر کروائی، مگر اس نے آخر میں یہی کہا کہ مجھے کچھ دکھائی نہیں دیا۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

تَبْصِرَۃً وَّذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيْبٍ۝ ٨ ( بصر) مبصرۃ بَاصِرَة عبارة عن الجارحة الناظرة، يقال : رأيته لمحا باصرا، أي : نظرا بتحدیق، قال عزّ وجل : فَلَمَّا جاءَتْهُمْ آياتُنا مُبْصِرَةً [ النمل/ 13] ، وَجَعَلْنا آيَةَ النَّهارِ مُبْصِرَةً [ الإسراء/ 12] أي : مضيئة للأبصار وکذلک قوله عزّ وجلّ : وَآتَيْنا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً [ الإسراء/ 59] ، وقیل : معناه صار أهله بصراء نحو قولهم : رجل مخبث ومضعف، أي : أهله خبثاء وضعفاء، وَلَقَدْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ مِنْ بَعْدِ ما أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الْأُولی بَصائِرَ لِلنَّاسِ [ القصص/ 43] أي : جعلناها عبرة لهم، وقوله عزّ وجل : وَكانُوا مُسْتَبْصِرِينَ [ العنکبوت/ 38] أي : طالبین للبصیرة . ويصحّ أن يستعار الاسْتِبْصَار للإِبْصَار، نحو استعارة الاستجابة للإجابة، وقوله عزّوجلّ : وَأَنْبَتْنا فِيها مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ تَبْصِرَةً [ ق/ 7- 8] أي : تبصیرا وتبیانا . الباصرۃ کے معنی ظاہری آنکھ کے ہیں ۔ محاورہ ہے رائتہ لمحا باصرا میں نے اسے عیال طور پر دیکھا ۔ المبصرۃ روشن اور واضح دلیل ۔ قرآن میں ہے :۔ فَلَمَّا جاءَتْهُمْ آياتُنا مُبْصِرَةً [ النمل/ 13] جن ان کے پاس ہماری روشن نشانیاں پہنچیں یعنی ہم نے دن کی نشانیاں کو قطروں کی روشنی دینے والی بنایا ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ وَآتَيْنا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً [ الإسراء/ 59] اور ہم نے ثمود کی اونٹنی ( نبوت صالح) کی کھل نشانی دی میں مبصرۃ اسی معنی پر محمول ہے بعض نے کہا ہے کہ یہاں مبصرۃ کے معنی ہیں کہ ایسی نشانی جس سے ان کی آنکھ کھل گئی ۔ جیسا کہ رجل مخبث و مصعف اس آدمی کو کہتے ہیں جس کے اہل اور قریبی شت دار خبیث اور ضعیب ہوں اور آیت کریمہ ؛۔ وَلَقَدْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ مِنْ بَعْدِ ما أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الْأُولی بَصائِرَ لِلنَّاسِ [ القصص/ 43] میں بصائر بصیرۃ کی جمع ہے جس کے معنی عبرت کے ہیں یعنی ہم نے پہلی قوموں کی ہلاکت کو ان کے لئے تازہ یا عبرت بنادیا آیت کریمہ ؛۔ وَأَبْصِرْ فَسَوْفَ يُبْصِرُونَ [ الصافات/ 179] حالانکہ وہ دیکھنے والے تھے میں مستبصرین کے معنی طالب بصیرت کے ہیں ۔ اور یہ بھی ہوسکتہ ہے کہ بطور استعارہ استبصار ( استفعال ) بمعنی ابصار ( افعال ) ہو جیسا کہ استجابہ بمعنی اجابۃ کے آجاتا ہے اور آیت کریمہ ؛ وَكانُوا مُسْتَبْصِرِينَ [ العنکبوت/ 38] ذكر الذِّكْرُ : تارة يقال ويراد به هيئة للنّفس بها يمكن للإنسان أن يحفظ ما يقتنيه من المعرفة، وهو کالحفظ إلّا أنّ الحفظ يقال اعتبارا بإحرازه، والذِّكْرُ يقال اعتبارا باستحضاره، وتارة يقال لحضور الشیء القلب أو القول، ولذلک قيل : الذّكر ذکران : ذكر بالقلب . وذکر باللّسان . وكلّ واحد منهما ضربان : ذكر عن نسیان . وذکر لا عن نسیان بل عن إدامة الحفظ . وكلّ قول يقال له ذكر، فمن الذّكر باللّسان قوله تعالی: لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ، وقوله تعالی: وَهذا ذِكْرٌ مُبارَكٌ أَنْزَلْناهُ [ الأنبیاء/ 50] ، وقوله : هذا ذِكْرُ مَنْ مَعِيَ وَذِكْرُ مَنْ قَبْلِي [ الأنبیاء/ 24] ، وقوله : أَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنا [ ص/ 8] ، أي : القرآن، وقوله تعالی: ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ [ ص/ 1] ، وقوله : وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ [ الزخرف/ 44] ، أي : شرف لک ولقومک، وقوله : فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ [ النحل/ 43] ، أي : الکتب المتقدّمة . وقوله قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكُمْ ذِكْراً رَسُولًا [ الطلاق/ 10- 11] ، فقد قيل : الذکر هاهنا وصف للنبيّ صلّى اللہ عليه وسلم «2» ، كما أنّ الکلمة وصف لعیسی عليه السلام من حيث إنه بشّر به في الکتب المتقدّمة، فيكون قوله : ( رسولا) بدلا منه . وقیل : ( رسولا) منتصب بقوله ( ذکرا) «3» كأنه قال : قد أنزلنا إليكم کتابا ذکرا رسولا يتلو، نحو قوله : أَوْ إِطْعامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ يَتِيماً [ البلد/ 14- 15] ، ف (يتيما) نصب بقوله (إطعام) . ومن الذّكر عن النسیان قوله : فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَما أَنْسانِيهُ إِلَّا الشَّيْطانُ أَنْ أَذْكُرَهُ [ الكهف/ 63] ، ومن الذّكر بالقلب واللّسان معا قوله تعالی: فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آباءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْراً [ البقرة/ 200] ، وقوله : فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرامِ وَاذْكُرُوهُ كَما هَداكُمْ [ البقرة/ 198] ، وقوله : وَلَقَدْ كَتَبْنا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ [ الأنبیاء/ 105] ، أي : من بعد الکتاب المتقدم . وقوله هَلْ أَتى عَلَى الْإِنْسانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئاً مَذْكُوراً [ الدهر/ 1] ، أي : لم يكن شيئا موجودا بذاته، ( ذک ر ) الذکر ۔ یہ کبھی تو اس ہیت نفسانیہ پر بولا جاتا ہے جس کے ذریعہ سے انسان اپنے علم کو محفوظ رکھتا ہے ۔ یہ قریبا حفظ کے ہم معنی ہے مگر حفظ کا لفظ احراز کے لحاظ سے بولا جاتا ہے اور ذکر کا لفظ استحضار کے لحاظ سے اور کبھی ، ، ذکر، ، کا لفظ دل یاز بان پر کسی چیز کے حاضر ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ اس بنا پر بعض نے کہا ہے کہ ، ، ذکر ، ، دو قسم پر ہے ۔ ذکر قلبی اور ذکر لسانی ۔ پھر ان میں کسے ہر ایک دو قسم پر ہے لسیان کے بعد کسی چیز کو یاد کرنا یا بغیر نسیان کے کسی کو ہمیشہ یاد رکھنا اور ہر قول کو ذکر کر کہا جاتا ہے ۔ چناچہ ذکر لسانی کے بارے میں فرمایا۔ لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا تذکرہ ہے ۔ وَهذا ذِكْرٌ مُبارَكٌ أَنْزَلْناهُ [ الأنبیاء/ 50] اور یہ مبارک نصیحت ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے ؛هذا ذِكْرُ مَنْ مَعِيَ وَذِكْرُ مَنْ قَبْلِي [ الأنبیاء/ 24] یہ میری اور میرے ساتھ والوں کی کتاب ہے اور مجھ سے پہلے ( پیغمبر ) ہوئے ہیں ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ أَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنا [ ص/ 8] کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت ( کی کتاب ) اتری ہے ۔ میں ذکر سے مراد قرآن پاک ہے ۔ نیز فرمایا :۔ ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ [ ص/ 1] اور ایت کریمہ :۔ وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ [ الزخرف/ 44] اور یہ ( قرآن ) تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے ۔ میں ذکر بمعنی شرف ہے یعنی یہ قرآن تیرے اور تیرے قوم کیلئے باعث شرف ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ [ النحل/ 43] تو اہل کتاب سے پوچھ لو ۔ میں اہل ذکر سے اہل کتاب مراد ہیں ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكُمْ ذِكْراً رَسُولًا [ الطلاق/ 10- 11] خدا نے تمہارے پاس نصیحت ( کی کتاب ) اور اپنے پیغمبر ( بھی بھیجے ) ہیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہاں الذکر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وصف ہے ۔ جیسا کہ عیسیٰ کی وصف میں کلمۃ قسم ہے اس قرآن کی جو نصیحت دینے والا ہے ۔ کا لفظ وارد ہوا ہے ۔ اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو الذکر اس لحاظ سے کہا گیا ہے ۔ کہ کتب سابقہ میں آپ کے متعلق خوش خبردی پائی جاتی تھی ۔ اس قول کی بنا پر رسولا ذکرا سے بدل واقع ہوگا ۔ بعض کے نزدیک رسولا پر نصب ذکر کی وجہ سے ہے گویا آیت یوں ہے ۔ قد أنزلنا إليكم کتابا ذکرا رسولا يتلوجیسا کہ آیت کریمہ ؛ أَوْ إِطْعامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ يَتِيماً [ البلد/ 14- 15] میں کی وجہ سے منصوب ہے اور نسیان کے بعد ذکر کے متعلق فرمایا :َفَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَما أَنْسانِيهُ إِلَّا الشَّيْطانُ أَنْ أَذْكُرَهُ [ الكهف/ 63] قو میں مچھلی ( وہیں ) بھول گیا اور مجھے ( آپ سے ) اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا ۔ اور ذکر قلبی اور لسانی دونوں کے متعلق فرمایا :۔ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آباءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْراً [ البقرة/ 200] تو ( مبی میں ) خدا کو یاد کرو جسطرح اپنے پاب دادا کیا کرتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ ۔ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرامِ وَاذْكُرُوهُ كَما هَداكُمْ [ البقرة/ 198] تو مشعر حرام ( یعنی مزدلفہ ) میں خدا کا ذکر کرو اور اسطرح ذکر کرو جس طرح تم کو سکھایا ۔ اور آیت کریمہ :۔ لَقَدْ كَتَبْنا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ [ الأنبیاء/ 105] اور ہم نے نصیحت ( کی کتاب یعنی تورات ) کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا ۔ میں الذکر سے کتب سابقہ مراد ہیں ۔ اور آیت کریمہ ؛هَلْ أَتى عَلَى الْإِنْسانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئاً مَذْكُوراً [ الدهر/ 1] انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے کہ وہ کوئی چیز قابل ذکر نہ تھی ۔ عبد والعَبْدُ يقال علی أربعة أضرب : الأوّل : عَبْدٌ بحکم الشّرع، وهو الإنسان الذي يصحّ بيعه وابتیاعه، نحو : الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] ، وعَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] . الثاني : عَبْدٌ بالإيجاد، وذلک ليس إلّا لله، وإيّاه قصد بقوله : إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] . والثالث : عَبْدٌ بالعِبَادَةِ والخدمة، والناس في هذا ضربان : عبد لله مخلص، وهو المقصود بقوله : وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] ، إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] ، نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] ، عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] ، إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] ، كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] ، إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ، وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] ، وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] ، فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ، فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65] . وعَبْدٌ للدّنيا وأعراضها، وهو المعتکف علی خدمتها ومراعاتها، وإيّاه قصد النّبي عليه الصلاة والسلام بقوله : «تعس عَبْدُ الدّرهمِ ، تعس عَبْدُ الدّينار» وعلی هذا النحو يصحّ أن يقال : ليس كلّ إنسان عَبْداً لله، فإنّ العَبْدَ علی هذا بمعنی العَابِدِ ، لکن العَبْدَ أبلغ من العابِدِ ، والناس کلّهم عِبَادُ اللہ بل الأشياء کلّها كذلك، لکن بعضها بالتّسخیر وبعضها بالاختیار، وجمع العَبْدِ الذي هو مُسترَقٌّ: عَبِيدٌ ، وقیل : عِبِدَّى وجمع العَبْدِ الذي هو العَابِدُ عِبَادٌ ، فالعَبِيدُ إذا أضيف إلى اللہ أعمّ من العِبَادِ. ولهذا قال : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] ، فنبّه أنه لا يظلم من يختصّ بِعِبَادَتِهِ ومن انتسب إلى غيره من الّذين تسمّوا بِعَبْدِ الشمس وعَبْدِ اللّات ونحو ذلك . ويقال : طریق مُعَبَّدٌ ، أي : مذلّل بالوطء، وبعیر مُعَبَّدٌ: مذلّل بالقطران، وعَبَّدتُ فلاناً : إذا ذلّلته، وإذا اتّخذته عَبْداً. قال تعالی: أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] . العبد بمعنی غلام کا لفظ چار معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ ( 1 ) العبد بمعنی غلام یعنی وہ انسان جس کی خریدنا اور فروخت کرنا شرعا جائز ہو چناچہ آیات کریمہ : ۔ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] اور غلام کے بدلے غلام عَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] ایک غلام ہے جو بالکل دوسرے کے اختیار میں ہے ۔ میں عبد کا لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے ( 2 ) العبد بالایجاد یعنی وہ بندے جسے اللہ نے پیدا کیا ہے اس معنی میں عبودیۃ اللہ کے ساتھ مختص ہے کسی دوسرے کی طرف نسبت کرنا جائز نہیں ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] تمام شخص جو آسمان اور زمین میں ہیں خدا کے روبرو بندے ہوکر آئیں گے ۔ میں اسی معنی کی طرح اشارہ ہے ۔ ( 3 ) عبد وہ ہے جو عبارت اور خدمت کی بدولت عبودیت کا درجہ حاصل کرلیتا ہے اس لحاظ سے جن پر عبد کا لفظ بولا گیا ہے وہ دوقسم پر ہیں ایک وہ جو اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے بن جاتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا : ۔ وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو ۔ إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] بیشک نوح (علیہ السلام) ہمارے شکر گزار بندے تھے نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] جس نے اپنے بندے پر قرآن پاک میں نازل فرمایا : ۔ عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] جس نے اپنی بندے ( محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) پر یہ کتاب نازل کی ۔ إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] جو میرے مخلص بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں ۔ كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] کہ میری بندے ہوجاؤ ۔ إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ہاں ان میں جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔ وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] جس کا خدا نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے ۔ وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ہمارے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ ۔ فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65]( وہاں ) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا ۔ ( 2 ) دوسرے اس کی پر ستش میں لگے رہتے ہیں ۔ اور اسی کی طرف مائل رہتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق ہی آنحضرت نے فرمایا ہے تعس عبد الدرھم تعس عبد الدینا ر ) درہم دینار کا بندہ ہلاک ہو ) عبد کے ان معانی کے پیش نظر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہر انسان اللہ کا بندہ نہیں ہے یعنی بندہ مخلص نہیں ہے لہذا یہاں عبد کے معنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہیں لیکن عبد عابد سے زیادہ بلیغ ہے اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں : ۔ کہ تمام لوگ اللہ کے ہیں یعنی اللہ ہی نے سب کو پیدا کیا ہے بلکہ تمام اشیاء کا یہی حکم ہے ۔ بعض بعض عبد بالتسخیر ہیں اور بعض عبد بالا اختیار اور جب عبد کا لفظ غلام کے معنی میں استعمال ہو تو اس کی جمع عبید یا عبد آتی ہے اور جب عبد بمعنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہو تو اس کی جمع عباد آئے گی لہذا جب عبید کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو یہ عباد سے زیادہ عام ہوگا یہی وجہ ہے کہ آیت : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] اور ہم بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتے میں عبید سے ظلم کی نفی کر کے تنبیہ کی ہے وہ کسی بندے پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا خواہ وہ خدا کی پرستش کرتا ہو اور خواہ عبدالشمس یا عبد اللات ہونے کا مدعی ہو ۔ ہموار راستہ ہموار راستہ جس پر لوگ آسانی سے چل سکیں ۔ بعیر معبد جس پر تار کول مل کر اسے خوب بد صورت کردیا گیا ہو عبدت فلان میں نے اسے مطیع کرلیا محکوم بنالیا قرآن میں ہے : ۔ أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] کہ تم نے بنی اسرائیل کو محکوم بنا رکھا ہے ۔ نوب النَّوْب : رجوع الشیء مرّة بعد أخری. وَأَنِيبُوا إِلى رَبِّكُمْ [ الزمر/ 54] ، مُنِيبِينَ إِلَيْهِ [ الروم/ 31] ( ن و ب ) النوب ۔ کسی چیز کا بار بارلوٹ کر آنا ۔ یہ ناب ( ن ) نوبۃ ونوبا کا مصدر ہے، وَأَنِيبُوا إِلى رَبِّكُمْ [ الزمر/ 54] اپنے پروردگار کی طر ف رجوع کرو ۔ مُنِيبِينَ إِلَيْهِ [ الروم/ 31] ( مومنو) اس خدا کی طرف رجوع کئے رہو ۔ فلان ینتاب فلانا وہ اس کے پاس آتا جاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨ { تَـبْصِرَۃً وَّذِکْرٰی لِکُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ ۔ } ” (یہ اللہ کی نشانیاں ہیں) سجھانے اور یاد دہانی کرانے کو ہر اس بندے کے لیے جو رجوع رکھے ہوئے ہو۔ “ عَبْدِ مُنِیْب سے ایسا بندہ مراد ہے جس کی روح اور فطرت کا رخ اللہ کی طرف ہو ۔ مطلب یہ کہ اگر کسی انسان کی فطرت سلیم اور روح زندہ ہو تب ہی یہ ” بصائر “ اس کے لیے مفید ہوں گے۔ ایسی صورت میں اسے کائنات میں بکھری اللہ کی نشانیاں نظر بھی آئیں گی اور ان نشانیوں سے اس کے دل میں خالق حقیقی کی ” یاد “ بھی تازہ ہوتی رہے گی۔ لیکن اگر کسی انسان کی فطرت مسخ اور روح مردہ ہوچکی ہو تو اس کا ” دیکھنا “ اور ” سننا “ اس کے لیے ہرگز مفید نہیں ہوگا۔ سورة الغاشیہ کی ان آیات کا انداز بھی اس حوالے سے بہت بصیرت افروز ہے : { اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَی الْاِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ ۔ وَاِلَی السَّمَآئِ کَیْفَ رُفِعَتْ ۔ وَاِلَی الْجِبَالِ کَیْفَ نُصِبَتْ ۔ وَاِلَی الْاَرْضِ کَیْفَ سُطِحَتْ ۔ } ” کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں اونٹوں کو کہ کیسے پیدا کیے گئے ہیں ؟ اور آسمان کو کہ کیسے بلند کیا گیا ہے ؟ اور پہاڑوں کو کہ کیسے گاڑدیے گئے ہیں ؟ اور زمین کو کہ کیسے بچھا دی گئی ہے ؟ “ یعنی پوری کائنات میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں موجود ہیں ‘ جو انسان کو قدم قدم پر یاد دلاتی ہیں کہ ہرچیز کا خالق اور صورت گر وہی ہے : { ہُوَ اللّٰہُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَہُ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰیط } (الحشر : ٢٤) ” وہی ہے اللہ ‘ پیدا کرنے والا ‘ وجود بخشنے والا ‘ صورتیں بنانے والا ‘ تمام اچھے نام اسی کے ہیں۔ “ اقبال نے ” آیاتِ خداوندی “ کے مشاہدے کی دعوت ان الفاظ میں دی ہے : ؎ کھول آنکھ ‘ زمین دیکھ ‘ فلک دیکھ ‘ فضا دیکھ مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(50:8) تبصرۃ وذکری ہر دو مفعول لہ ہیں بصیرت کے لئے اور یاد دہانی کے لئے تبصرۃ۔ دکھلانا۔ سمجھانا۔ بروزن تفعلۃ باب تفعیل کا مصدر ہے۔ تبصیر اور تبصرۃ دونوں آتے ہیں ۔ جیسے تقدیم وتقدمۃ اور تذکیر وتذکرۃ۔ ذکری نصیحت کرنا۔ ذکر کرنا۔ یاد ۔ موعظت۔ پند، باب نصر سے مصدر ہے۔ کثرت ذکر کے لئے بولا جاتا ہے ۔ یہ ذکر سے زیادہ بلیغ ہے۔ لکل عبد منیب۔ لام حرف جار کل مجرور۔ مضاف۔ عبد منیب موصوف و صفت مل کر مضاف الیہ۔ کل لفظا واحد اور معنی کے لحاظ سے جمع ہے اس لئے اس کا استعمال دونوں طرح ہے تذکیر و تانیث اس میں برابر ہے۔ کل دو طرح کا ہوتا ہے۔ مجموعی اور افرادی۔ کل افرادی ہمیشہ نکرہ مفرد کی طرف مضاف ہوتا ہے جس کا ترجمہ ہوتا ہے ہر ایک ۔ جیسے آیت زیر مطالعہ میں لکل عبد منیب ہر اس بندے کے لئے جو بار بار اللہ کی طرف لوٹنے والا ہو۔ یا بکل شیء علیم۔ علی کل شیء قدیر۔ کل مجموعی مصرف باللام کی طرف مضاف ہوتا ہے یا اس ضمیر کی طرف مضاف ہوتا ہے جو معرف باللام کی طرف راجع ہوتی ہے اس وقت مجموعہ افراد پر دلالت کرتا ہے ۔ ترجمہ ہوتا ہے سب، پورا ۔ اول کی مثال کل القوم۔ پوری قوم۔ سب قوم۔ دوم کی مثال فسجد الملئکۃ کلہم (38:72) ۔ کبھی کل بمعنی بعض آتا ہے جیسے ثم اجعل علی کل جبل منھن جزء (2:260) بعض پہاڑوں پر ان کا ایک ایک حصہ رکھ دو ۔ کل کا مضاف ہونا ضروری ہے اگر مضاف الیہ مذکور نہ ہو تو محذوف مانا جائے گا جیسے کل فی فلک یسبحون ۔ (21:33) سب (یعنی سورج، چاند، ستارے) آسمان میں (اس طرح چلتے ہیں گویا) تیر رہے ہیں۔ منیب : اسم فاعل واحد مذکر ، مجرور۔ اللہ کی طرف خصوص سے رجوع کرنے والا۔ انابۃ (افعال) مصدر۔ نوب مادہ۔ (باب نصر) مصدر سے بمعنی بار بار لوٹنا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یعنی ہماری قدرت کی معرفت کا ذریعہ ہے۔ 4۔ یعنی ایسے شخص کے لئے جو اس غرض سے مصنوعات میں فکر کرنے کی طرف متوجہ ہو کہ وہ عین توجہ الی الصانع ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

تبصرۃ وذکری لکل عبد منیب (٥٠ : ٨) ” یہ ساری چیزیں آنکھیں کھولنے والی اور سبق دینے والی ہیں ہر اس بندے کے لئے جو (حق کی طرف ) رجوع کرنے والا ہو ”۔ یہ بصیرت عطا کرنے والی باتیں ہیں۔ بصارت دینے والی باتیں ہیں اور دلوں کو قبولیت حق کے لئے کھولنے والی باتیں ہیں۔ اس مطالعہ سے انسانی دل و دماغ اور انسانی روح اس کائنات کے ساتھ جڑ جاتی ہے اور اس حکمت ، تربیت اور کمال تخلیق کو پا لیتی ہے جو اس کے اندر موجود ہے اور پھر جن لوگوں کا دل اپنے معبود کی طرف مائل ہوتا ہے وہ اپنے رب کے کمالات کو دیکھ کر لوٹ جاتا ہے۔ یوں انسانی دل اور اس عظیم اور خوبصورت کائنات کے درمیان اتحادو اتصال پیدا ہوجاتا ہے۔ انسان کتاب کائنات کا مطالعہ کرتا ہے اور اس کائنات سے متعارف ہوتا ہے اور انسانی دل اور انسانی سوچ پر اس کا اثر ہوتا ہے۔ اور انسانی زندگی پر یہ تعلق اور رابطہ اثر انداز ہوتا ہے اور یہ وہ روابطہ ہے جو قرآن سائنس اور معرفت الٰہی کے درمیان پیدا کرتا ہے۔ یعنی اس معرفت کے درمیان جو انسان رکھتا ہے اور اس حقیقت کے درمیان جو سائنسی علم رکھتا ہے اور ہمارے دور میں علم کا جو سائنسی منہاج مروج ہے اس میں یہ حقیقت نہیں ہے۔ یہ رابطہ نہیں ہے۔ یوں اللہ نے انسانوں اور اس کائنات کے درمیان جس کے اندر وہ رہتے ہیں ایک تعلق پیدا کیا تھا اور جدید دور کے اہل علم اور سائنس دانوں نے یہ تعلق کاٹ دیا ہے۔ انسان اس کائنات کا حصہ ہے اور جب تک وہ اس کائنات کا ہمدم نہیں ہوگا اس وقت تک اس کی زندگی نہ مستحکم ہو سکتی ہے نہ مستقیم ۔ اور جب تک اس کے دل کی دھڑکن اور اس کائنات کی حرکت کے اندر ہم آہنگی نہ ہوگی ، وہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ستاروں اور سیارو ، آسمانوں اور فضاؤں ، نباتات اور حیوانات اس کائنات اور اس کی وسعتوں کے اندر انسان جس قدر بھی نئی دریافت کرے۔ وہ دریافت دل سے ہم آہنگ ہو۔ اور انسان اس نئی دریافت کردہ دنیا کا دوست ہو اور اس طرح وہ اس نتیجے تک پہنچے کہ انسان اور اس کائنات کا آخری خالق اور سبب اللہ تعالیٰ ہے۔ جب تک علم ، دریافت اور معرفت کی آخری منزل ، خالق کی منزل تک نہ پہنچ سکے اسے سمجھاجائے کہ وہ علم ناقص ہے۔ ایسی ہر تحقیق اور ایسی ہر تحقیق کے ہر نتیجہ بانجھ ہے ، بےمقصد ہے اور انسان کے لئے غیر مفید ہے۔ یہ کائنات سچائی کی کھلی کتاب ہے جسے ہر زبان میں پڑھا جانا ہے اور ہر ذریعہ سے اس کا ادراک کیا جاتا ہے۔ اسے ایک خیمے اور جھونپڑی کا باشندہ بھی پڑھ سکتا ہے اور نہایت ہی تعلیم یافتہ اور محلات میں رہنے والا بھی پڑھ سکتا ہے۔ ہر شخص اپنے قوت ادراک کے مطابق اسے پڑھتا ہے۔ ” ہر کسے از غن خود شد یاد من “ اسے اپنی صلاحیت کے مطابق اس کے اندر حق نظر آتا ہے۔ بشرطیکہ وہ اسے اس نیت سے پڑھ رہا ہو کہ وہ حق اور سچائی تک پہنچ جائے۔ یہ کتاب ہر حال میں قائم ہے اور ہر کسی کے سامنے کھلی ہے۔ تبصرۃ وذکری لکل عبد منیب (٥٠ : ٨) ” یہ ساری چیزیں آنکھیں کھولنے والی اور نصیحت دینے والی ہر اس شخص کے لئے جو سچائی کا متلاشی ہو ”۔ لیکن جدید سائنسی علوم کو اس طرح مرتب کیا گیا ہے کہ ان سے یہ تبصرہ اور آنکھیں کھول دینے کی صلاحیت کو ختم کردیا گیا ہے ۔ انسان کے دل اور اس کی روح کا تعلق اس کائنات سے کاٹ دیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ علم ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جن کے دل اندھے ہیں۔ اور ان کے سروں پر نام نہاد سائنسی انداز فکر سوار ہے۔ اور یہ سائنسی اندازیہ ہے کہ کائنات کا تعلق انسان کی روح سے کاٹ دیا جائے۔ لیکن کائنات کا ایمانی مطالعہ ان لوگوں کے نام نہاد سائنسی انداز میں بہرحال کوئی کمی نہیں کرتا بلکہ وہ اس پر یہ وظیفہ کرتا ہے کہ یہ کائناتی حقائق ایک دوسرے سے بھی مربوط ہیں اور پھر یہ حقائق ایک حقیقت کبریٰ سے بھی مربوط ہیں اور ان حقائق کو اس حقیقت کبریٰ سے مربوط کر کے پھر تمام حقائق کو انسانی ادراک اور انسانی شعور اور انسانی روح کے ساتھ یوں پیوست کرتا ہے کہ یہ انسان کو متاثر کریں۔ انسان کی زندگی کو متاثر کریں۔ یہ محض خشک معلومات ہی نہ ہوں جو ذہنوں میں دفن ہوں اور عملی زندگی میں ان کا کوئی مقصد نہ ہوگا بلکہ ان کو عملی زندگی پر ایمان کے راستے سے اثر انداز ہونا چاہئے اور ہماری تمام تحقیقات اور انکشافات کو ایمان کے راستے سے حقیقت کبریٰ سے جڑ کر انسان کی عملی زندگی پر اثر انداز ہونا چاہئے۔ اس طرح اس نکتے کی طرف توجہ مبذول کرانے کے بعد اب بحث اس کتاب کائنات کے اندر آگے بڑھتی ہے۔ پیش نظر یہی مضمون ہے کہ موت کے بعد حشر ونشر ہوگا اور حساب و کتاب ہوگا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿ تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيْبٍ ٠٠٨﴾ ہم نے ان سب چیزوں کو بصیرت اور نصیحت کا ذریعہ بنا دیا جو بھی بندہ اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو وہ اس کے مظاہر قدرت میں غور و فکر کر کے اللہ کی معرفت حاصل کرے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(8) تاکہ ہر اس بندے کے لئے یہ چیزیں موجب اور ذریعہ ہوں ہدایت اور نصیحت کا جو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے والا ہے۔ ہم نے مفعول لہ کی تقدیر پر تبصرہ کا ترجمہ کیا ہے یعنی فعلنا ذلک تبصیرامنا دوسرے بھی احتمال ہیں مثلاً خلقنا السمآء تبصرۃ اور خلقنا الارض ذکری اور بھی اس کے علاوہ احتمالات ہیں۔ خلاصہ : یہ کہ ہر عبد منیب کے لئے یہ چیزیں بینائی اور دانائی کا سبب اور موجب ہیں ان چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی معرفت کی راہ بھی ملتی ہے اور نصیحت بھی بشرطیکہ کوئی بندہ حضرت حق تعالیٰ کی جناب میں رجوع ہونے کے لئے آمادہ اور تیار ہو آگے اور دلائل توحید مذکور ہیں۔