Surat uz Zaariyaat

The Winnowing Winds

Surah: 51

Verses: 60

Ruku: 3

Listen to Surah Recitation
Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة الذّٰرِیٰت نام : پہلے ہی لفظ وَالذّٰرِیَات سے ماخوذ ہے ۔ مراد یہ ہے کہ وہ سورۃ جس کی ابتدا لفظ الذاریات سے ہوتی ہے ۔ زمانۂ نزول : مضامین اور انداز بیان سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ سورۃ اس زمانے میں نازل ہوئی ہے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا مقابلہ تکذیب و استہزاء اور جھوٹے الزامات تو بڑے زور شور کے ساتھ ہو رہا تھا ، مگر ابھی ظلم و تشدد کی چکی چلنی شروع نہیں ہوئی تھی ۔ اس لیے یہ بھی اسی دور کی نازل شدہ معلوم ہوتی ہے جس میں سورہ ق نازل ہوئی ہے ۔ موضوع اور مباحث : اس کا بڑا حصہ آخرت کے موضوع پر ہے ، اور آخر میں توحید کی دعوت پیش کی گئی ہے ۔ اس کے ساتھ لوگوں کو اس بات پر بھی متنبہ کیا گیا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی بات نہ ماننا اور اپنے جاہلانہ تصورات پر اصرار کرنا خود انہی قوموں کے لیے تباہ کن ثابت ہوا ہے جنہوں نے یہ روش اختیار کی ہے ۔ آخرت کے متعلق جو بات اس سورہ کے چھوٹے چھوٹے مگر نہایت پر معنی فقروں میں بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ انسانی زندگی کے مآل و انجام کے بارے میں لوگوں کے مختلف اور متضاد عقیدے خود اس بات کا صریح ثبوت ہیں کہ ان میں سے کوئی عقیدہ بھی علم پر مبنی نہیں ہے بلکہ ہر ایک نے قیاسات دوڑا کر اپنی جگہ جو نظریہ قائم کر لیا اسی کو وہ اپنا عقیدہ بنا کر بیٹھ گیا ۔ کسی نے سمجھا کہ زندگی بعد موت نہیں ہوگی ۔ کسی نے اس کو مانا تو تناسخ کی شکل میں مانا ۔ کسی نے حیات اخروی اور جزا و سزا کو تسلیم کیا تو جزائے اعمال سے بچنے کے لءے طرح طرح کے ساہرے تجوزی کرلیے ۔ اتنے بڑے اور اہم ترین بنیادی مسئلے پر ، جس کے بارے میں آدمی کی رائے کا غلط ہو جانا اس کی پوری زندگی کو غلط کر کے رکھ دیتا ہے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کے مستقبل کو برباد کر ڈالتا ہے ، علم کے بغیر محض قیاسات کی بنا پر کوئی عقیدہ بنا لینا ایک تباہ کن حماقت ہے ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ آدمی ایک بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلا رہ کر ساری عمر جاہلانہ غفلت میں گزار دے اور مرنے کے بعد اچانک ایک ایسی صورت حال سے دو چار ہو جس کے لیے اس نے قطعاً کوئی تیاری نہ کی تھی ۔ ایسے مسئلے کے بارے میں صحیح رائے قائم کرنے کا بس ایک ہی راستہ ہے ، اور وہ یہ ہے کہ انسان کا آخرت کے متعلق جو علم خدا کی طرف سے اس کا نبی دے رہا ہے اس پر وہ سنجیدگی کے ساتھ غور کرے اور زمین و آسمان کے نظام اور خود اپنے وجود پر نگاہ ڈال کر کھلی آنکھوں سے دیکھے کہ کیا اس علم کے صحیح ہونے کی شہادت ہر طرف موجود نہیں ہے؟ اس سلسلے میں ہوا اور بارش کے انتظام کو ، زمین کی ساخت اور اس کی مخلوقات کو ، انسان کے اپنے نفس کو ، آسمان کی تخلیق کو ، اور دنیا کی تمام اشیاء کے جوڑوں کی شکل میں بنائے جانے کو آخرت کی شہادت کے طور پر پیش کیا گیا ہے ، اور انسانی تاریخ سے مثالیں دے کر بتایا گیا ہے کہ سلطنت کائنات کا مزاج کس طرح ایک قانون مکافات کا مقتضی نظر آ رہا ہے ۔ اس کے بعد بڑے مختصر انداز میں توحید کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ تمہارے خالق نے تم کو دوسروں کی بندگی کے لیے نہیں بلکہ اپنی بندگی کے لیے پیدا کیا ہے ۔ وہ تمہارے بناوٹی معبودوں کی طرح نہیں ہے جو تم سے رزق لیتے ہیں اور تمہاری مدد کے بغیر جن کی خدائی نہیں چل سکتی ۔ وہ ایسا معبود ہے جو سب کا رزاق ہے ، کسی سے رزق لینے کا محتاج نہیں ، اور جس کی خدائی خود اس کے اپنے بل بوتے پر چل رہی ہے ۔ اسی سلسلے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا مقابلہ جب بھی کیا گیا ہے کسی معقول بنیاد پر نہیں بلکہ اسی ضد اور ہٹ دھرمی اور جاہلانہ غرور کی بنیاد پر کیا گیا ہے جو آج محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ برتی جا رہی ہے ۔ اور اس کی محرک بجز سرکشی کے اور کوئی چیز نہیں ہے ۔ پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ ان سرکشوں کی طرف التفات نہ کریں اور اپنی دعوت و تذکیر کا کام کیے جائیں ، کیونکہ وہ ان لوگوں کے لیے چاہے نافع نہ ہو ، مگر ایمان لانے والوں کے لیے نافع ہے ۔ رہے وہ ظالم جو اپنی سرکشی پر مصر رہیں ، تو ان سے پہلے اسی روش پر چلنے والے اپنے حصے کا عذاب پا چکے ہیں اور ان کے حصے کا عذاب تیار ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

تعارف سورۃ ذاریات یہاں سے سورۂ حدید (سورت نمبر : ٤٧) تک تمام سورتیں مکی ہیں، اور ان سب کا بنیادی موضوع اسلام کے بنیادی عقائد کی تعلیم اور خاص طور پر آخرت کی زندگی، جنت اور دوزخ کے حالات اور پچھلی قوموں کے عبرت ناک انجام کا نہایت فصیح وبلیغ اور انتہائی مؤثر تذکرہ ہے، اس تاثیر کو کسی بھی ترجمے کے ذریعے کسی اور زبان میں منتقل کرنا ممکن نہیں ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اللہ تعالیٰ نے دنیا کی چار بڑی قوموں کا ذکر کیا۔ قوم نوح، قوم فرعون، قوم عاد اور قوم ثمود۔ یہ دنیا کی بہت بڑی اور دولتمند قومیں تھیں جب انہوں نے اللہ کی نافرمانیوں کی انتہا کردی تو ان پر اللہ کا ایسا عذاب آیا جس نے ان کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ ٭… اس سورة کی ابتداء گرد و غبار اڑانے والی، بادلوں کے بوجھ کو لے کر چلنے والی ہواؤں، نرم رفتار سے چلنے والی کشتیوں اور رزق تقسیم کرنے والے فرشتوں کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جس قیامت کے دن کا وعدہ کیا گیا ہے وہ واقع ہو کر رہے گا۔ اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ دراصل یہ ان منکروں کے جواب میں قسم کھائی گئی ہے جو یہ کہتے تھے کہ آخر وہ قیامت جس کا بار بار ذکر کیا جاتا ہے کب واقع ہوگی ؟ اللہ نے فرمایا کہ یہ قیامت تو ضرور آئے گی لیکن قیامت کا دن کافروں اور مشرکوں کے لئے بڑا بھاری دن ہوگا۔ اس دن مجرم آگے پرتپائے جائیں گیا ور ان سے کہا جائے گا کہ جس قیامت کی تم جلدی کیا کرتے تھے یہی وہ قیامت کا دن ہے۔ اب تم اپنے اعمال کی سزا بھگتو جو تم دنیا میں کیا کرتے تھے۔ ٭… لیکن یہ دن ان اہل ایمان لوگوں کیلئے جو پوری زندگی تقویٰ اور پرہیز گاری کے ساتھ زندگی گزارا کرتے تھے بےانتہا انعام و کرم کا دن ہوگا۔ ان کو جنت کے سرسبز و شاداب باغات، بہتے ہوئے پانی کے صاف شفاف چشمے اور ہر طرح کی نعمتیں عطا کی جائیں گی۔ یہ ان لوگوں کی نیکیوں کا بدلہ ہوگا جو راتوں کو اٹھ اٹھ کر اللہ کی عبادت و بندگی کرتے تھے جو راتوں کے اکثر حصے میں عبادت کرنے کے باوجود اللہ سے ڈرتے ہوئے استغفار کرتے تھے۔ ان کے اعمال کی بلندی کا یہ حال ہے کہ ان کے مال ہر اس شخص کیلئے وقف تھے جو ان سے سوال کرتے تھے یا سوال نہیں کرتے تھے۔ ٭… اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں وہ اگر اپنے وجود ہی میں غور کرلیں تو ان کو اس کا جواب مل جائے گا۔ ہر آدمی رات کو سوتا ہے اور اللہ کا یہی دستور ہے کہ جب قومیں نافرمانیوں کی انتہا پر پہنچ جاتی ہیں اور بار بار کہنے کے باوجود اپنی اصلاح نہیں کرتیں تو پھر ان پر اللہ کا فیصلہ آجاتا ہے اور پھر وہ قومیں طاقت و قوت کے باوجود اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتیں اور تباہ ہوجاتی ہیں۔ کفار و مشرکین کے اعتراضات، طعنے اور الزامات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی باتوں کی پرواہ نہ کیجیے صبر کیجیے کیونکہ جب بھی اللہ کے نبیوں اور رسولوں نے لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچایا تو انہوں نے ان کو اسی طرح ستایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو نصیحت کرتے رہیے جس کے مقدر میں یہ سعادت ہے وہ ضرور حاصل کر کے رہے گا۔ صبح کو اٹھ جاتا ہے۔ رات کو سونا گویا موت کا طاری ہونا ہے اور سو کر اٹھنا دوبارہ زندگی ہونا ہے۔ موت اور حیات تو اس پر روزانہ طاری ہوتی ہے۔ اسی طرح جو شخص مر گیا اس سے قبر میں چند سوالات کے بعد اس پر نیند طاری کردی جائے گی اور اب اس کی آنکھ میدان حشر میں کھلے گی جہاں زندگی بھر کے معاملات کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ٭… اس سورة میں حضرت ابراہیم کے اس واقعہ کو بیان فرمایا گیا جب اللہ نے کچھ فرشتوں کو انسانی شکل میں حضرت ابراہیم کے پاس بھیجا۔ انہوں نے حضرت ابراہیم کو ایک بیٹے کی خوش خبری سنائی اور قوم لوط پر ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے عذاب کا ذکر کیا۔ جب حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھا کہ اب ان کا کیا ارادہ ہے تو انہوں نے کہا کہ ہمیں اللہ کی طرف سے حکم ہے کہ قوم لوط پر بارش کی طرح پتھر برسا کر ان کو تباہ کردیا جائے۔ ٭… قوم فرعون، قوم عاد اور قوم ثمود کا ذکر فرمایا کہ جب انہوں نے اپنی نافرمانیوں کی انتہا کردی تب اللہ نے فرعون اور اس کی قوم کو پانی میں غرق کردیا۔ قوم عد کو طوفانی آندھی سے اور قوم ثمود کو ہوا اور زلزلوں کے جھٹکوں سے اور قوم نوح کو سمندری طوفان میں ڈبو کر ہلاک کیا گیا۔ گویا انہوں نے تو پہلے ہی قیامت کا منظر دیکھ لیا۔ اسی طرح ایک وقت آئے گا جب اس ساری کائنات کو اسی طرح ختم کردیا جائے گا اسی کو قیامت کہتے ہیں۔ ٭… فرمایا کہ اس کائنات میں جس اللہ نے آسمان کو چھت کی طرح تان دیا اور زمین کے فرش کو خوبصورتی سے بچھا دیا جس سے انسانی ضروریات پوری ہوتی ہیں وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت و بندگی کے لائق نہیں ہے۔ دنیا جب بھی کائنات کے مالک کے ساتھ کسی طرح کا بھی شرک کیا گیا تو ان کی اصلاح کے لئے پیغمبر بھیجے گئے جب کفار اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے تو ان پر اللہ کا عذاب نازل ہو کر رہا۔ ٭… کفار قریش نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو طعنے دیتے اور الزامات لگاتے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مجنون اور جادوگر کہا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ کوئی ایسی نئی بات نہیں ہے کہ جو کفار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کر رہے ہیں بلکہ اللہ کے جتنے بھی نبی اور رسول آئے ان کے ساتھ ان کی قوم نے یہی معاملہ کیا لہٰذا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان منکرین و مشرکین کی پرواہ نہ کیجیے کیونکہ یہ لوگ گمراہی میں بھٹک رہے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی باتوں پر صبر کیجیے اور ان کو نصیحت کرتے رہیے جن لوگوں کے دلوں میں خوف الٰہی ہے وہ ضرور ایک دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات مان کر نجات کا راستہ حاصل کرلیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے انسانوں اور جنات کو اپنی عبادت و بندگی کے لئے پیدا کیا ہے۔ لیکن یہ عبادت ان کے اپنے فائدے کے لئے ہے اللہ ہر ایک کی عبادت سے بےنیاز ہے۔ اگر ساری دنیا مل کر اس کی نافرمانی کرتی ہے تب اور فرمانبرداری کرتی ہے اس وقت نہ اس کی کائنات میں کوئی چیز کم ہوتی ہے اور نہ کوئی چیز بڑھتی ہے یہ تو انسان کی اپنی سعادت کی بات ہے۔ فرمایا کہ درحقیقت وہ بڑے ظالم ہیں جو اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت و بندگی کرتے ہیں۔ قیامت کے دن ان کو سخت سزا مل کر رہے گی۔ قیامت کا دن ان لوگوں کے لئے بڑا ہولناک دن ہوگا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

سورة الذاریات کا تعارف یہ سورت اپنے نام سے ہی شروع ہوتی ہے اس کے تین رکوع اور ساٹھ (٦٠) آیات ہیں۔ یہ مکہ معظمہ میں نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتدا میں ہواؤں کے متعلق چار قسمیں اٹھا کر ارشاد فرمایا ہے کہ لوگو تمہارے ساتھ جس قیامت کا وعدہ کیا جاتا ہے وہ ہر حال میں سچ ثابت ہوگا پھر آسمان کی قسم اٹھاکر ارشاد فرمایا کہ قیامت کا دن ہر صورت واقع ہو کر رہے گا اس کے باوجود تم اس کے بارے میں مختلف قسم کی باتیں کرتے ہو اس کا وہی انکار کرتا ہے جو حق بات سے پھرجاتا ہے۔ جو لوگ قیامت کے بارے میں غفلت میں پڑے ہوئے ہیں وہ مارے جائیں گے۔ غفلت میں مبتلا ہونے کے باوجود پوچھتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی ؟ انہیں بتلائیں قیامت اس دن آئے گی جس دن یہ لوگ آگ میں تپائے جائیں گے۔ اس وقت انہیں کہا جائے گا کہ اب ہمیشہ کے لیے اپنی گمراہی کا مزا چکھتے رہو۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ قیامت پر یقین رکھتے ہوئے رات کے وقت اپنے رب کے حضور استغفار کرتے رہے اور اپنے مال سے سائل اور محروم کو ان کا حق دیتے رہے انہیں چشموں والی جنت میں داخل کیا جائے گا وہ اپنے رب سے ہر قسم کی نعمتیں حاصل کرنے والے ہوں گے۔ پھر ارشاد فرمایا کہ لوگو قیامت پر یقین اور رب پر ایمان لانا چاہتے ہو تو اس کے لیے تمہارے نفسوں اور جس زمین پر تم رہتے ہو اس میں بیشمار دلائل موجود ہیں۔ اس کے بعد ارشاد ہوا کہ اے نبی کیا آپ کو ابراہیم کے معزز مہانوں کی بات پہنچی ہے ؟ جب وہ اس کے پاس آئے تو اسے سلام کہا ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب میں کہا کہ آپ لوگوں کو بھی سلام ہو اور سوچا کہ ناآشنا لوگ ہیں۔ پھر چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گئے، اور ایک موٹا تازہ بچھڑا بھون کر مہمانوں کے سامنے پیش کیا۔ فرمایا کہ تم کھاتے نہیں ؟ ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے خوف محسوس کیا انہوں (فرشتوں) نے کہا۔ ڈریے نہیں اور انہوں نے اسے ایک صاحب علم بیٹے کی خوشخبری سنائی۔ یہ سن کر اس کی بیوی چیختی ہوئی آگے بڑھی اور اس نے اپنے منہ پر ہاتھ مارا اور کہنے لگی، بوڑھی، بانجھ کو بیٹا ہوگا۔ فرشتوں نے کہا تیرے رب کا یہی فرمان ہے یقیناً وہ بڑا حکمت والا ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔ اس کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم اور فرعون کا انجام ذکر کیا گیا ہے لوط (علیہ السلام) کی قوم اور فرعون نے بھی اپنے انبیاء کو ٹھکرایا اور فرعون نے کہا کہ موسیٰ جادوگر ہے یا مجنوں۔ یہی حال قوم عاد، ثمود اور قوم نوح کا ہوا۔ الذاریات کے آخر میں جنوں اور انسانوں کو متوجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے تمہیں اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا اور ہم تم سے رزق نہیں مانگتے بلکہ روزی دینے والا تو اللہ ہے جو بڑی قوت والا اور زبردست ہے جو لوگ اللہ کی عبادت اور قیامت کے دن کا انکار کریں گے وہ ظالم ہوں گے اور ظالموں کے لیے بالاخر ہلاکت ہوگی۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سورة الذریت ایک نظر میں اس سورت کی ایک خاص فضا ہے ، اس کا آغاز کلام چار قوتوں کے ذکر سے ہوتا ہے۔ ان قوتوں کا تعلق امر الٰہی سے ہے۔ ان کا ذکر ایسے الفاظ میں کیا گیا ہے جن کا مفہوم مبہم ہے۔ پہلی ہی نظر میں انسان کے پردہ احساس پر یہ تاثر نمودار ہوتا ہے کہ کہ امور سری ہیں جن پر اللہ تعالیٰ قسم اٹھارہا ہے۔ والذریت……………الواقع (1:51 تا 6) ” قسم ہے ان ہوائوں کی جو گرداڑانے والی ہیں ، پھر پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھانے والی ہیں ، پھر سبک رفتاری سے چلنے والی کشتیوں کی قسم اور پھر ایک بڑے کام کی تقسیم کرنے والوں کی قسم ، حق یہ ہے کہ جس چیز کا تمہیں خوف دلایا جارہا ہے وہ سچی ہے اور جزائے اعمال ضروری پیش آنی ہے “۔ ذاریات ، حاملات ، جاریات اور مقسمات کے کوئی متعارف مفہم نہیں ہے۔ ان الفاظ کا مفہوم اشاراتی ہے اور ان مفہوم کے بارے میں سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ خود ان الفاظ سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اندر اجمال اور غموض ہے اور شاید اس سورة کی فضا کے ساتھ اس قسم کے الفاظ لانا مقصود تھا۔ اس پہلی قسم کے متصلا بعد دوسری قسم ہے۔ السماء …………الحبک (7:51) ” قسم ہے مختلف شکلوں والے آسمان کی اور اس قسم کا جواب یا مقسم علیہ یہ حقیقت ہے “۔ انکم……………مختلف (8:51) ؟ ؟ تمہاری بات ایک دوسرے سے مختلف ہے “۔ یعنی تمہاری باتیں نہ مستقل ہیں اور نہ باہم مربوط اور متناسب ہیں۔ یہ محض ظن وتخمین پر مبنی ہیں۔ علم اور یقین پر مبنی نہیں۔ لیکن اس مجمل اسلوب کے ساتھ آغاز کے بعد اس سورة ، اس پوری سورة کا ہدف اور مقصد ایک ہی ہے اور بالکل واضح ہے۔ یہ کہ انسانی قلب کو عالم بالا سے منسلک کردیا جائے اور انسان کا دل اس پوشیدہ امر سے مربوط ہوجائے جسے اللہ نے خفیہ رکھا ہے۔ غرض زمین کی الائشوں سے انسان کو پاک کرنا اور ان تمام بندشوں سے اسے آزاد کرنا جو اس کے سامنے اخلاص ، اللہ کی بندگی اور اللہ کی طرف مکمل فرار کے معاملے میں رکاوٹ بنتے ہیں اور اسے اس کے لئے پوری طرح تیار کرنا کہ وہ اس آیت پر لبیک کہے۔ ففروا الی اللہ (50:51) ” پس دوڑو اللہ کی طرف “ اس سورة کا ہدف ہے کہ تما لوگ اللہ کے بندے بن جائیں جس طرح کہا گیا ہے۔ وما خلقت……………لیعبدون (56:51) ” اور میں نے جن اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کے لئے نہیں پیدا کیا کہ وہ میری بندگی کریں “۔ انسان کے لئے اس دنیا میں سب سے بڑا مسئلہ اس کی معیشت کا ہے کہ اسے رزق تلاش کرنا ہوتا ہے اور قدرت نے ہر شخص کا رزق مقدر کرکے اس خفیہ رکھا ہے۔ اس سورة کا ایک مبہم مضمون یہ ہے کہ انسان کو فکر معاش کی غلامی سے آزاد کردیا جائے۔ اسے یہ یقین دلایا جائے کہ اللہ نے رزق کے سلسلے میں ہر کسی کے لئے جو حصہ مقرر کردیا ہے وہ ضرور اسے ملے گا۔ لہٰذا دل کو صرف تلاش معاش کا اسیر ہی نہ بنائو بلکہ عالم بالا سے تعلق پیدا کرو۔ اس نکتے کی طرف اس سورة میں بار بار اشارہ کیا گیا ہے۔ براہ راست یا بالواسطہ ، مثلاً ۔ وفی السمائ……………توعدون (22:51) ” آسمان ہی میں تمہارا رزق بھی ہے اور وہ چیز بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے “۔ ان اللہ……………المتین (58:51) ” اللہ تو خود ہی رزاق ہے ، بڑی قوت والا اور زبردست “ اور کبھی اشارہ کیا گیا ہے مثلاً اپنے بندوں کا حال بیان کرتے ہوئے کہا گیا۔ وفی اموالھم……………والمحروم (19:51) ” ان کے مالوں میں حق تھا سائل اور محروم کے لئے “۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی صفات بیان کرتے ہوئے یہ کہا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے مہمانوں کے لئے پورا بچھڑا بھون کر تیار کیا حالانکہ وہ تعداد میں کم تھے۔ مہمانوں کے پہنچتے ہی وہ جلدی سے تیار کر لائے حالانکہ ابھی محض علیک سلیک ہوا تھا۔ حال احوال بھی نہ پوچھا تھا۔ یوں دل کو زمین کی رکاوٹوں سے آزاد کرایا جاتا ہے اسے رزق کی پریشانی سے بھی آزاد کیا جاتا ہے اور اس کی توجہ کو عالم بالا کی طرف پھیرا جاتا ہے۔ اس کی دلچسپیاں عالم بالا کے ساتھ منسلک ہوجاتی ہیں اور وہ اپنے خالق کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس کے سامنے پھر کوئی زمینی رکاوٹ نہیں رہتی اور وہ دوڑ کر اللہ کی طرف چلا جاتا ہے۔ تمام موضوعات ومسائل کی غرض وغات یہی ہے جو اس سورة میں لئے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آغاز قدرے مجمل اور ناقابل فہم کلمات سے کیا گیا۔ اس لئے آسمان سے قسم کھائی گئی اور مجمل الفاظ میں بھی اشارہ آسمانی قوتوں کی طرف کیا گیا۔ سورة کے آغاز میں خدا سے تعلق رکھنے والے متقین کی تصویر کشی بھی کی گئی اور ان کے صفحات بھی گنوائی گئیں کہ وہ کس قسم کے لوگ ہیں جو قرآن کو مطلوب ہیں۔ ان المتقین……………والمحروم (15:51 تا 19) ” بیشک متقی لوگ اس روزباغوں اور چشموں میں ہیں گے جو کچھ ان کا رب انہیں دے اسے خوشی خوشی لے رہے ہوں گے ، وہ اس دن کے آنے سے پہلے نیکوکار تھے۔ راتوں کو کم ہی سوتے تھے۔ پھر وہ رات کے پچھلے پہروں میں معافی مانگتے تھے اور ان کے مالوں میں حق تھا سائل اور محروم کے لئے “۔ یہ اللہ کی طرف نظریں بلند رکھنے کی صورت ہے۔ اللہ کے لئے خالص ہونے کی تصویر ہے۔ رات کو اس کی عبادت میں مشغولیت نظر آتی ہے تو صبح کو ہونٹوں پر استغفر اللہ ہے اور رات اور دن مال کمانے کی بجائے وہ خرچ کرتے ہیں۔ سائل اور محروم کو اپنے ساتھ حصہ دار سمجھتے ہیں۔ یوں ان پر جمع مال کا کوئی دبائو نہیں ہے۔ اسی حوالے کے ساتھ متوجہ کیا جاتا ہے کہ زمین میں صرف رزق ہی تلاش نہ کرو ، آیات الٰہیہ کی تلاش بھی کرو۔ دل کو آسمانوں سے اٹکا دو کہ تمہارا رزق آسمانوں میں ہے۔ صرف زمین کے قریبی اسباب اس لئے تمہیں دھوکہ نہ دے دیں۔ وفی الارض…………توعدون (20:51 تا 22) ” زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں یقین لانے والوں کے لئے اور خود تمہارے اپنے وجود میں بھی ہیں۔ کیا تم کو سوجھتا نہیں ؟ آسمان ہی میں ہے تمہارا رزق اور وہ چیز بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے “۔ اسی غرض کے لئے یہاں اشارہ کیا گیا کہ اللہ نے آسمان کو بڑا وسیع بنایا ہے اور زمین کو بطور فرش بچھایا ہے اور اس کے اندر ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے گئے ہیں۔ یہ سب اللہ کی نشانیاں ہیں اس لئے اللہ کی طرف دوڑو۔ والسمائ……………نذیر مبین (47:51 تا 50) ” آسمانوں کو ہم نے اپنے زور سے بنایا اور ہم اس کی قدرت رکھتے ہیں۔ زمین کہ ہم نے بچھایا ہے اور ہم بڑے اچھے ہموار کرنے والے ہیں اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے بنائے ہیں۔ شاید کہ تم اس سے سبق لو۔ بس دوڑو اللہ کی طرف میں تمہارے لئے اس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنیوالا ہوں “۔ اور اس مقصد یعنی تعلق بالسماء کے لئے سورة کے آخر میں صاف صاف بتایا گیا کہ جنوں اور انسانوں کی تخلیق کا مقصد کیا ہے۔ وما خلقت……………المتین (58:51) ” میں نے جنوں اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کے لئے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری بندگی کریں۔ میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔ اللہ تو خود ہی رزاق ہے۔ بڑی قوت والا اور زبردست “ عرض قلب وخرد کی تاروں پر مسلسل ایک ہی ضرت ہے۔ ایک ہی مضراب ہے لیکن اس سے متعدد نغمات نکلتے ہیں اور ان کے اثرات اور ان کی آوازوں میں یہی صدا ہے کہ دوڑو ، دوڑو اللہ کی طرف جو آسمانوں میں ہے۔ اس سورة میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کے قصے کی بھی ایک جھلک موجود ہے۔ قصہ موسیٰ اور قصہ عاد اور قصہ ثمود اور قصہ نوح کی طرف بھی سرسری اشارات موجود ہیں۔ ابراہیم کے قصے میں بھی مال واولاد کی طرف اشارہ ہے اور بتایا گیا کہ رزق واولاد آسمانوں میں ہے۔ کسی طرح حضرت ابراہیم اور اس کی بیوی کو غیر متوقع طور پر اولاد دی گئی اور باقی حصص میں اس آنے والی عظیم حقیقت کی طرف اشارہ ہے جس پر آغاز سورة میں قسمیں کھائی گئیں۔ انما …………لصادق (5:51) ” تم سے جو وعدہ کیا جاہا ہے وہ یقینا سچا ہے “۔ اور سورة کے آخر میں بھی اس کی طرف دھمکی آمیز اشارہ ہے۔ فان للذین…………یستعجلون (59:51) ” پس جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے حصے کا بھی ویسا ہی عذاب تیار ہے جیسے لوگوں کو ان کے حصے کا مل چکا ہے۔ اس لئے یہ لوگ مجھ سے جلدی نہ مچائیں “۔ جیسا کہ اس سے قبل ان کو ایسی ہی دھمکی دی گئی کہ ان کارویہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سابقہ لوگوں کا رہا ہے ہمیشہ یہی بات سب کرتے رہے ہیں۔ کذلک…………طاغون (53:51) ” یونہی ہوتا رہا ہے ان سے پہلے قوموں کے پاس بھی کوئی رسول ایسا نہیں آیا جسے انہوں نے یہ نہ کہا ہو کہ یہ ساحر ہے یا مجنون ہے۔ کیا ان سب نے آپس میں اس پر کوئی سمجھوتہ کرلیا ہے ؟ نہیں بلکہ یہ سب سرکش لوگ ہیں “۔ یوں اس سورة کے تمام قصص سورة کے محور کے ساتھ مربوط ہیں یعنی اس مقصد کے لئے کہ دلوں کو اللہ کی بندگی کے لئے خالص کردیا جائے۔ اس راہ میں آنے والی تمام رکاوٹوں کو دور کردیا جائے اور اسے آسمان کے ساتھ جوڑ دیا جائے اور ایمان ویقین دل میں یوں بیٹھ جائے کہ تمام پردے دور ہوجائیں۔ تمام رکاوٹیں خود بخود راستے سے ہٹ جائیں۔ تمام دوسرے مسائل رکاوٹ نہ بنیں اور انسانی روح پھڑپھڑاتی ہوئی اس بلند افق کی طرف اڑ جائے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi