39 The word used for this wind is aqim, which is used for a barren woman, though literally it means dry. If the literal meaning is taken it would mean that it was such an intensely hot and dry wind that on whatever it blew it caused it to become absolutely dry; and if it is taken in the idiomatic sense it would mean that like a barren woman it was a wind without any benefit: neither it was pleasant, nor it brought rain, nor fertilized the trees, nor contained any other benefit for which the wind blows. At other places it has been stated that this wind was not only useless \and dry but it blew so violently that it swept the people off the ground and it continued to rage for eight days and seven nights continuously, till it laid the entire land of the `Ad waste. (For explanation, see E.N.'s 20, 21 of Surah Ha Mim As-Sajdah, and E.N.'s 25 to 28 of Al-Ahqaf).
سورة الذّٰرِیٰت حاشیہ نمبر :39
اس ہوا کے لیے لفظ عقیم استعمال ہوا ہے جو بانجھ عورت کے لیے بولا جاتا ہے ، اور لغت میں اس کے اصل معنی یابِس ( خشک ) کے ہیں ۔ اگر اسے لغوی معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ ایسی سخت گرم و خشک ہوا تھی کہ جس چیز پر سے وہ گزر گئی اسے سکھا کر رکھ دیا ۔ اور اگر اسے محاورے کے مفہوم میں لیا جائے تو اس کے معنی یہ ہونگے کہ بانجھ عورت کی طرح وہ ایسی ہوا تھی جو اپنے اندر کوئی نفع نہ رکھتی تھی ۔ نہ خوشگوار تھی ، نہ بارش لانے والی ، نہ درختوں کو بار آور کرنے والی ، اور نہ ان فائدوں میں سے کوئی فائدہ اس میں تھا جن کے لیے ہوا کا چلنا مطلوب ہوتا ہے ۔ دوسرے مقامات پر بتایا گیا ہے کہ یہ صرف بے خیر اور خشک ہی نہ تھی بلکہ نہایت شدید آندھی کی شکل میں آئی تھی جس نے لوگوں کو اٹھا اٹھا کر پٹخ دیا ، اور یہ مسلسل آٹھ دن اور سات راتوں تک چلتی رہی ، یہاں تک کہ قوم عاد کے پورے علاقے کو اس نے تہس نہس کر کے رکھ دیا ( تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد چہارم ، تفسیر سورہ حٰم السجدہ ، حواشی نمبر 20 ۔ 21 ۔ الاحقاف ، حواشی نمبر 25 تا 28 ) ۔