Surat uz Zaariyaat

Surah: 51

Verse: 7

سورة الذاريات

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الۡحُبُکِ ۙ﴿۷﴾

By the heaven containing pathways,

قسم ہے راہوں والے آسمان کی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

By the heaven full of Hubuk, Ibn Abbas said; "Full of beauty, grace, magnificence and perfection." Mujahid, Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Abu Malik, Abu Salih, As-Suddi, Qatadah, Atiyah Al-`Awfi, Ar-Rabi bin Anas and others said similarly. Ad-Dahhak, Al-Minhal bin `Amr and others said, "The meandering of the water, sand and plants when the wind passes over them; carving paths out of them, that is the Hubuk." All of these sayings return to the same meaning, that of beauty and complexity. The sky is high above us, clear yet thick, firmly structured, spacious and graceful, beautified with stars such as the sun and orbiting planets such as the moon and the planets of the solar system. The Differing Claims of the Idolators Allah the Exalted said, إِنَّكُمْ لَفِي قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

7۔ 1 دوسرا ترجمہ، حسن جمال اور زینت و رونق والا کیا گیا ہے چاند، سورج ستارے و سیارے، روشن ستارے، اس کی بلندی اور وسعت، یہ سب چیزیں آسمان کی رونق وزینت اور خوب صورتی کا باعث ہیں

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣] حَبَکَ کا لغوی معنی :۔ حبک (الثوب) بمعنی کپڑا بننا اور حباک بمعنی جولاہا اور حبک حابک الثوب بمعنی جولا ہے کا کپڑے کو کاریگری سے بننا۔ عمدہ بننا ہے (المنجد) اور کپڑا بنتے وقت ایک دھاگا طول کی طرف جاتا ہے اور دوسرا عرض کی طرف۔ پھر حبک کا معنی راستہ بھی ہے۔ (مفردات القرآن۔ منجد) اور اس کی جمع حُبُک ہے۔ گویا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اس آسمان کی قسم جس کے طول و عرض دونوں اطراف میں بیشمار راہیں ہیں جو ایک دوسرے کو کر اس کرتی اور چوک بناتی چلی جاتی ہیں۔ اسی لحاظ سے اس کا ترجمہ بعض مترجمین نے جال دار یا جالی دار آسمان بھی کیا ہے۔ یعنی اس آسمان کی قسم جو سیاروں اور فرشتوں کی لا تعداد گزر گاہوں اور راستوں کی وجہ سے جالی دار بن گیا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(والسمآء ذات الحبک :” حبک یحبک حبکا “ (ن، ض ) کسی چیز کو باندھنا، مضبوط بنانا، جو لا ہے کا کپڑے کو مضبوطی اور خوبصورتی کے ساتھ بننا۔” الحبک “ ” حبیکۃ “ کی جمع ہے۔ ” حبک الرمل والماء والشعر “ ٹھہرے ہوئے پانی یا ریت پر ہوا سے جو لہریں سی بن جاتی ہیں، گھونگھر یا لے بالوں کی لہریں۔ ” حبک السمآئ “ آسمان میں ستاروں کے راستے ۔ (قاموس)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْحُبُكِ إِنَّكُمْ لَفِي قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ (By the sky, having paths, you are (involved) in a contradictory statement - 51:7-8) Hubuk is the plural habikah and primarily denotes thin irregular lines or streaks on fabrics when woven. They resemble tracks and pathways; therefore pathways are also referred to as hubuk in Arabic. Most interpreters take this to be the meaning in this context. Some scholars say that the &tracks& refer to pathways used by the angels for entrance and exit. Others say that the tracks or paths of heaven are those orbits of planets and stars that are visible in the sky. As the streaks of the woven fabric is its beauty, some scholars tend to interpret the verse as &By the heaven full of beauty, grace, magnificence and perfection&. Differing Beliefs of the Pagans إِنَّكُمْ لَفِي قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ (you are [ involved ] in a contradictory statement... 51:8) Verse [ 7] was an oath and this verse is the statement for which oath is sworn. Apparently, the verse addresses the pagans of Makkah who assigned contradictory attributes to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، calling him at different times a madman, a sorcerer, a poet and other discordant names. According to another possible interpretation, the verse addresses the entire humankind - Muslims as well as non-believers. Thus &contradictory statement& would mean that a sector believed in the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and accepted him; and another sector rejected him and opposed him (Mazhari).

(آیت) وَالسَّمَاۗءِ ذَاتِ الْحُبُكِ ، اِنَّكُمْ لَفِيْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ ، حبک، حبیکہ کی جمع ہے، کپڑے کی بناوٹ میں جو دھاریاں ہوجاتی ہیں ان کو حبک کہا جاتا ہے، وہ چونکہ راستہ اور سڑک کے مشابہ ہوتی ہیں اس لئے راستوں کو بھی حبک کہہ دیا جاتا ہے، بہت سے حضرات مفسرین نے اس جگہ یہی معنی مراد لئے ہیں کہ قسم ہے آسمان کی جو راستوں والا ہے، راستوں سے وہ راستے بھی مراد ہو سکتے ہیں جن سے فرشتے آتے جاتے ہیں اور اس سے مراد ستاروں اور سیاروں کے راستے اور ان کے مدار بھی ہو سکتے ہیں جو دیکھنے والوں کو آسمان میں نظر آتے ہیں اور چونکہ یہ بناوٹ کی دھاریاں کپڑے کی زینت اور حسن بھی ہوتی ہیں، اس لئے بعض حضرات مفسرین نے یہاں حبک کے معنی زینت اور حسن کیلئے ہیں کہ قسم ہے آسمان کی جو حسن وزینت والا ہے، یہ قسم جس مضمون کے لئے آئی ہے وہ (اِنَّكُمْ لَفِيْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ ) میں مذکور ہے، بظاہر اس کے مخاطب مشرکین مکہ ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق مختلف اور متضاد باتیں کہا کرتے تھے، کبھی مجنون، کبھی جاو و گر، کبھی شاعر وغیرہ کے لغو خطابات دیتے تھے اور ایک احتمال یہ بھی ہے کہ اس کے مخاطب عام امت کے لوگ مسلم و کافر سب ہوں اور قول مختلف سے مراد یہ ہو کہ بعض تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لاتے اور تصدیق کرتے ہیں، بعض انکار و مخالفت سے پیش آتے ہیں (ذکرہ فی المظہری )

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَالسَّمَاۗءِ ذَاتِ الْحُبُكِ۝ ٧ ۙ سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ حبك قال تعالی: وَالسَّماءِ ذاتِ الْحُبُكِ [ الذاریات/ 7] ، هي ذات الطرائق فمن الناس من تصوّر منها الطرائق المحسوسة بالنجوم والمجرّة، ومنهم من اعتبر ذلک بما فيه من الطرائق المعقولة المدرکة بالبصیرة، وإلى ذلك أشار بقوله تعالی: الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِياماً وَقُعُوداً وَعَلى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنا ما خَلَقْتَ هذا باطِلًا سُبْحانَكَ فَقِنا عَذابَ النَّارِ [ آل عمران/ 191] . وأصله من قولهم : بعیر مَحْبُوک القرا أي : محكمه، والاحتباک : شدّ الإزار . ( ح ب ک ) ( الحبیکۃ والحباک کے معنی راستہ کے ہیں الحبک ) آیت کریمہ : وَالسَّماءِ ذاتِ الْحُبُكِ [ الذاریات/ 7] اور آسمان کی قسم جس میں رستے ہیں ۔ میں بعض نے الحبک سے ستاروں اور کہکشاں کے محسوس راستے مراد لئے ہیں اور بعض نے عقلی راستے مراد لئے ہیں ۔ جن کا تعلق بصیرت سے ہے چناچہ آیت کریمہ ؛۔ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِياماً وَقُعُوداً وَعَلى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنا ما خَلَقْتَ هذا باطِلًا سُبْحانَكَ فَقِنا عَذابَ النَّارِ [ آل عمران/ 191] میں بھی اسی معنی کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ۔ اصل میں یہ بعیر محبوک القویٰ ۔ کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی وہ اونٹ جس کے جوڑ بند نہایت مضبوط ہوں ۔ الاحتباک ( افتعال ) کس کر اور مضبوطی سے باندھنا۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور قسم ہے آسمان کی جو کہ حسن و جمال درستگی اور فرشتوں کے چلنے کے لیے رستوں والا ہے یا یہ کہ جو چاند و سورج اور ستاروں والا ہے یا یہ کہ وہ پانی کی طرح رستوں والا ہے جیسا کہ پانی میں ہوا کی وجہ سے رستے بن جاتے ہیں یا یہ کہ وہ ریت کے اڑنے کی طرح ہے جبکہ اسے ہوا اڑاتی ہے یا یہ کہ وہ گھنگریالے بالوں کی طرح ہے یا یہ کہ وزر ہوں کے خانوں کی طرح ہے یا ذات الحبک سے ساتواں آسمان مراد ہے غرض کہ یہ آخری قسم ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧{ وَالسَّمَآئِ ذَاتِ الْحُبُکِ ۔ } ” اور قسم ہے جالی دار آسمان کی ۔ “ یہ اس منظر کی طرف اشارہ ہے جو رات کے وقت تاروں بھرا آسمان پیش کرتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

5 The word hubuk in the original is also used for the paths and for the waves which are produced on the sand of the desert and the surface of stagnant water by the wind; it is also spoken for the curls in wavy hair. Here, the sky has been characterized by "hubuk" either because the sky is often overcast with clouds of different shapes, which go on changing because of the wind, and no shape lasts nor resembles any other, or because at night one sees the stars scattered in the sky in many different combinations and no combination resembles any other combination.

سورة الذّٰرِیٰت حاشیہ نمبر :5 اصل میں لفظ ذَاتِ الْحُبُکِ استعمال ہوا ہے ۔ حبُک راستوں کو بھی کہتے ہیں ۔ ان لہروں کو بھی کہتے ہیں جو ہوا کے چلنے سے ریگستان کی ریت اور ٹھرے ہوئے پانی میں پیدا ہو جاتی ہیں ۔ اور گھونگھر والے بالوں میں جو لٹیں سے بن جاتی ہیں ان کے لیے بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے ۔ یہاں آسمان کو حُبک والا یا تو اس لحاظ سے فرمایا گیا ہے کہ آسمان پر اکثر طرح طرح کی شکلوں والے بادل چھائے رہتے ہیں جن میں ہوا کے اثر سے بار بار تغیر ہوتا ہے اور کبھی کوئی شکل نہ خود قائم رہتی ہے ، نہ کسی دوسری شکل سے مشابہ ہوتی ہے ۔ یا اس بنا پر فرمایا گیا ہے کہ رات کے وقت آسمان پر جب تارے بکھرے ہوتے ہیں تو آدمی دیکھتا ہے کہ ان کی بہت سی مختلف شکلیں ہیں اور کوئی شکل دوسری شکل سے نہیں ملتی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

2: یہاں راستوں سے مراد بظاہر وہ راستے ہیں جو ہمیں نظر نہیں آتے، لیکن فرشتوں کی آمد و رفت ان راستوں سے ہوتی ہے، اور بعض حضرات نے یہ بھی فرمایا ہے کہ آسمان کا لفظ بعض اوقات ہر اوپر والی چیز کے لیے بھی بولا جاتا ہے، اور یہاں اوپر کی وہ فضا مراد ہے جس میں ستاروں کے متعین راستے بنے ہوئے ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(51:7) والسماء زات الحبک۔ وائو قسم کی ہے السماء منصوب بوجہ عمل وائو قسمیہ ہے۔ موصوف ذات الحبک مضاف مضاف الیہ مل کر صفت السماء کی۔ قسم ہے آسمان کی جس میں راستے ہیں : حبک جمع ہے حباک کی جیسے مثال کی جمع مثل ہے بمعنی ریت کے ٹیلے کا راستہ، یا حبیکۃ کی جیسے طریقۃ کی جمع طرق ہے بمعنی ستاروں کے درمیان کا راستہ ۔ بیضاوی نے اس کا مطلب لیا ہے۔ ذات الطرائق والمراد اما الطرائق المحسوسۃ التی بھی مسیر الکواکب او المعقولۃ التی یسلکھا النظار وتتوصل بھا الی المعارف۔ راہوں والا۔ راہوں سے مراد ہیں محسوس راستے، یعنی ستاروں کی گذر گاہ یا عقلی راستے جس پر اہل بصیرت چل کر معرفت کے مقام پر پہنچتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ آیات میں قیامت برپا ہونے کے دلائل دئیے گئے اب قیامت کے بارے میں لوگوں کے مختلف اقوال کی تردید کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے راستوں والے آسمان کی قسم اٹھا کر اس بات کی تردید کی ہے کہ جو لوگ قیامت کے قائم ہونے کے بارے میں مختلف قسم باتیں کرتے ہیں۔ وہ حقیقت میں تضاد فکری اور بےیقینی کا شکار ہیں اور اسی وجہ حق سے پھرئے ہوئے اور گمراہ ہیں۔ اپنی تضاد فکری کی وجہ سے مختلف قسم کی باتیں کرتے ہیں جو ان کے بیخبر اور برگشتہ ہونے کی دلیل ہے۔ قیامت کے بارے میں وہی شخص گمراہ ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ گمراہی کے لیے کھلا چھوڑ دیتا ہے۔ بےعلم اور قیامت کے منکر ہونے کے باوجود سوال کرتے ہیں کہ یہ کب آئے گی۔ حالانکہ اس دن وہ آگ میں پھینکے جائیں گے۔ اس میں چیخ و پکار کریں گے تو ملائکہ جھڑکیاں دیتے ہوئے کہیں گے کہ اب اپنی یا وہ گوئی کی سزا پاؤ کیونکہ تم اس کے بارے میں بےیقینی اور جلد بازی کا مظاہرہ کیا کرتے تھے۔ آسمان کے بارے میں ” ذَاتِ الْحُبُکِ “ کے لفظ استعمال فرمائے ہیں۔” حِباک “ کی جمع ” حُبُک “ ہے جس کا معنٰی راستے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان میں راستے اور دروازے بنائے ہیں۔ جن راستوں سے چل کر ملائکہ آسمان پر چڑھتے اور اترتے ہیں۔ جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں ان کی تضاد فکری اور بےیقینی کا عالم یہ ہے کہ وہ کسی ایک بات پر قائم رہنے کی بجائے مختلف قسم کی باتیں اور حجت بازیاں کرتے ہیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ قیامت ہرگز برپا نہیں ہوگی۔ کچھ کہتے ہیں کہ دنیاکا نظام اس طرح ہی چلتارہنا ہے۔ جو مرگیا وہ مٹی کے ساتھ جا ملا۔ اس نے نہ اٹھنا اور نہ اس نے حساب دینا ہے۔ انسان کو اس کے اچھے اور برے اعمال کی سزا دنیا میں ہی مل جاتی ہے کیونکہ دنیا میں مکافات عمل کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ بعض مذاہب میں آواگون کا عقیدہ ہے کہ مرنے کے بعد انسان کسی اور شکل میں دنیا میں پلٹ آتا ہے اگر اس کے اعمال اچھے ہوں تو وہ اچھے جانور یا پرندے کی شکل میں دنیا میں رہتا ہے۔ اگر اس کے اعمال برے ہوں تو وہ گدھے یا کسی درندے کی شکل میں زندگی گزارتا ہے۔ گویا کہ وہ کسی نہ کسی شکل میں دنیا میں رہتا ہے اس سے آگے کچھ نہیں ہے۔ مکہ میں ایسے لوگ بھی تھے جن کا دعوی تھا کہ بالفرض قیامت قائم ہوگئی تو ہم آخرت میں بھی مسلمانوں سے بہتر ہوں گے۔ قیامت کا انکار کرنے والے جنت اور جہنم کے بارے میں بھی مختلف قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ عجب بات یہ ہے کہ قیامت کا انکار کرنے کے باوجود یہ لوگ اس کے بارے میں جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ بات بھی ان کی تضاد فکری پر دلالت کرتی ہے کیونکہ جو آدمی کسی چیز کے وجود کا انکار کرتا ہے اس کے متعلق اسے نہ جلد بازی کرنا چاہیے اور نہ ہی اسے اس کے بارے میں قیل قال کرنے کا حق پہنچتا ہے۔ ایسے لوگ اپنی بےیقینی اور تضاد فکری میں مارے جائیں گے۔ قیامت تو ہر صورت برپا ہو کر رہے گی اس کا انکار کرنے والے ہمیشہ کے لیے جہنم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ تُفْتَحُ أَبْوَاب السَّمَاءِ فِی کُلِّ اثْنَیْنِ وَخَمِیسٍ فَیُغْفَرُ لِکُلِّ عَبْدٍ لاَ یُشْرِکُ باللَّہِ شَیْءًا إِلاَّ امْرَأً بَیْنَہُ وَبَیْنَ أَخِیہِ شَحْنَاءُ قَالَ فَیُقَالُ انْتَظِرْ ہَذَیْنِ حَتَّی یَصْطَلِحَا) (رواہ مسلم : باب النَّہْیِ عَنِ الشَّحْنَاءِ وَالتَّہَاجُرِ ) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آسمان کے دروازے ہر سوموار اور جمعرات کو کھولے جاتے ہیں اور ہر شخص کو معاف کردیا جاتا ہے جس نے اللہ کے ساتھ شرک نہ کیا ہو مگر اس شخص کو معاف نہیں کیا جاتا جو اپنے بھائی سے عداوت رکھتا ہو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ان کو چھوڑدو یہاں تک کہ یہ صلح نہ کرلیں۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان کی قسم اٹھا کر ارشاد فرمایا ہے کہ جو لوگ قیامت کے بارے میں مختلف قسم کی باتیں کرتے ہیں وہ تضادفکری اور گمراہی کا شکار ہیں۔ ٢۔ قیامت کا انکار کرنے والوں کو جہنم کی آگ میں پھینکا جائے گا۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے منکرین کی سزا : ١۔ قیامت کو جھٹلانے اور لوگوں کو اللہ کے راستہ سے روکنے والے کے لیے جلا دینے والا عذاب ہوگا۔ (الحج : ٩) ٢۔ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کرنے والے اور قیامت کو جھٹلانے والے عذاب میں مبتلا کیے جائیں گے۔ (الروم : ١٦) ٣۔ قیامت کو جھٹلانے والوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ (الفرقان : ١١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد آسمان کی قسم کھائی اور فرمایا ﴿ وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِۙ٠٠٧﴾ کہ قسم ہے آسمان کی جس میں (فرشتوں کے آنے جانے کے) راستے ہیں تم لوگ ایک ایسی گفتگو میں لگے ہوئے ہو جس میں اختلاف ہو رہا ہے کوئی قیامت کی تصدیق کرتا ہے اور کوئی جھٹلاتا ہے اس میں جو لوگ قول حق کے مخالف ہیں یعنی وقوع قیامت کی تکذیب کر رہے ہیں وہ اس قول سے ہٹائے جا رہے ہیں یعنی جس کو بالکل ہی خیر سے اور حق سے محروم ہونا ہے وہی اس قول حق سے ہٹتا اور بچتا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

3:۔ ” والسماء ذات الحبک “ زینت و آرائش یا ستارے (بیضاوی، مدارک) ۔ جواب قسم محذوف ہے۔ ای انکم لتحشرون۔ اس آسمان کی قسم جس پر ستاروں کی زینت و آرائش کا جال بچھا ہے تم ضرور مرنے کے بعد اٹھائے جاؤ گے۔ یہ حشر و نشر پر شاہد ہے یعنی جس طرح رات کو آسمان پر اچانک ستارے نمودار ہوجاتے ہیں اسی طرح تم بھی اچانک زمین سے نکل آؤ گے۔ یہاں تک دعوی ثبوت قیامت و جزا و سزا مکمل ہوگیا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(7) قسم ہے راستوں والے آسمان کی۔