Surat uz Zaariyaat
Surah: 51
Verse: 8
سورة الذاريات
اِنَّکُمۡ لَفِیۡ قَوۡلٍ مُّخۡتَلِفٍ ۙ﴿۸﴾
Indeed, you are in differing speech.
یقیناً تم مختلف بات میں پڑے ہوئے ہو ۔
اِنَّکُمۡ لَفِیۡ قَوۡلٍ مُّخۡتَلِفٍ ۙ﴿۸﴾
Indeed, you are in differing speech.
یقیناً تم مختلف بات میں پڑے ہوئے ہو ۔
Certainly, you have different ideas. Allah says, `you disbelievers who deny the Messengers have different and confused opinions that do not connect or conform to each other.' Qatadah commented on the Ayah, "You have different ideas about the Qur'an. Some of you agree that it is true while some others deny this fact." Allah said, يُوْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ
8۔ 1 یعنی اے اہل مکہ ! تمہارا کسی بات میں آپس میں اتفاق نہیں ہے۔ ہمارے پیغمبر کو تم میں سے کوئی جادو گر، کوئی شاعر، کوئی کاہن اور کوئی جھوٹا کہتا ہے۔ اسی طرح کوئی قیامت کی بالکل نفی کرتا ہے، کوئی شک کا اظہار، علاوہ ازیں ایک طرف اللہ کے خالق اور رازق ہونے کا اعتراف کرتے ہو، دوسری طرف دوسروں کو بھی معبود بنا رکھا ہے۔
انکم لفی قول مختلف : یعنی یہ آسمان جو نہایت مضبوط و مسحتکم اور بےحد خوبصورت ہے، جس میں ستاروں کے راستے میں اور جو بادلوں کی لہروں سے آراستہ ہے، شاہد ہے کہ تم ایسی بات میں پڑے ہوئے ہو جس میں تمہارا بہت اختلاف ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ اس میں آسمان کی شہادت کیسے ہے اور یہ کہنے سے حاصل کیا ہے کہ تم ایسی بات میں پڑے ہوئے ہو جس میں بہت اختلاف ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اتنا مستحکم و مضبوط ، بلند و بالا، خوبصورت اور مزین آسمان شاہد ہے کہ اس کے بنانے والے کے لئے قیامت برپا کرنا اور تمہیں دوبارہ زندہ کرنا کچھ مشکل نہیں، جیسا کہ فرمایا :(ء انتم اشد خلقاً ام السمآء بنھا) (النازعات : ٢٨)” کیا پیدا کرنے میں تم زیادہ مشکل ہو یا آسمان ؟ اس نے اسے بنایا۔ “ رہا یہ سوال کہ جواب قسم ” انکم لفی قول مختلف “ کی مناسبت قسم کے ساتھ کیا ہے ؟ تو جواب اس کا یہ ہے کہ دراصل یہاں بات مختصر کی گئی ہے، تفصیل اس کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مضبوط و مسحتکم آسمان کی قسم کھا کر فمایا ہ اے گروہ کفار ! اس آسمان کی قسم یعہ کہ قیامت کے متعلق اللہ کا قول حق اور تمہارا قول باطل ہے، کیونکہ تم ایسے قول میں پڑے ہوئے ہو جو باہم مختلف اور متناقض ہے، جب کہ حق میں اختلاف نہیں ہوتا، جیسا کہ فرمایا :(ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافاً کثیراً (النسائ : ٨٢)” اور اگر وہ غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔ “ چناچہ تم میں سے کوئی تو کہتا ہے کہ یہ دنیا ایسے ہی چلی آئی ہے، کچھ لوگ مرتے ہیں اور دوسرے پیدا ہوتے ہیں، نہ آج تک کوئی دوبارہ آیا نہ کوئی دوبارہ زندگی ہے۔ کوئی تناسخ کا قائل ہے اور کہتا ہے کہ اچھے اور برے اعمال کا بدلا تو لازم ہے مگر اس کیلئے کوئی دن مقرر نہیں، بلکہ انسان دنیا میں بار بار اچھی یا بری مخلوق کی صورت میں جنم لیتا رہتا ہے۔ کوئی آخرت کو تو مانتا ہے مگر کچھ ہستیوں کے متعلق یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ وہ ایسی زور آور ہیں کہ اپنی شفاعت کے ساتھ اس دن اپنے نام لیواؤں کو زبردستی چھڑا لیں گی۔ یہ اختلاف دلیل ہے کہ قیامت کے متعلق تمہارا قول باطل ہے ۔ قیامت کے متعلق کفار کے اختلاف کا ذکر سورة نبا کے شرع میں بھی فرمایا :” عم یتسآء لون، عن النبا العظیم ، الذی ھم فیہ مختلفون ) (النبیا : ١ تا ٣) ” کس چیز کے بارے میں وہ آپ س میں سوال کر رہے ہیں ؟ (کیا) اس بڑی خبر کے بارے میں ؟ وہ کہ جس میں وہ اختلاف کرنے والے ہیں۔ “
اِنَّكُمْ لَفِيْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ ٨ ۙ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ الاختلافُ والمخالفة والاختلافُ والمخالفة : أن يأخذ کلّ واحد طریقا غير طریق الآخر في حاله أو قوله، والخِلَاف أعمّ من الضّدّ ، لأنّ كلّ ضدّين مختلفان، ولیس کلّ مختلفین ضدّين، ولمّا کان الاختلاف بين النّاس في القول قد يقتضي التّنازع استعیر ذلک للمنازعة والمجادلة، قال : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] ( خ ل ف ) الاختلاف والمخالفۃ الاختلاف والمخالفۃ کے معنی کسی حالت یا قول میں ایک دوسرے کے خلاف کا لفظ ان دونوں سے اعم ہے کیونکہ ضدین کا مختلف ہونا تو ضروری ہوتا ہے مگر مختلفین کا ضدین ہونا ضروری نہیں ہوتا ۔ پھر لوگوں کا باہم کسی بات میں اختلاف کرنا عموما نزاع کا سبب بنتا ہے ۔ اس لئے استعارۃ اختلاف کا لفظ نزاع اور جدال کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] پھر کتنے فرقے پھٹ گئے ۔
(٨۔ ٩) قسم کھانے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مکہ والو تم رسول اکرم اور قرآن کریم کے بارے میں مختلف باتیں کرتے ہو کہ تم میں سے بعض تصدیق کرتے ہیں اور بعض تکذیب۔ رسولا کرم اور قرآن سے وہی پھرتا ہے جسے حق و ہدایت ہی سے پھرنا ہوتا ہے۔
آیت ٨{ اِنَّـکُمْ لَـفِیْ قَـوْلٍ مُّخْتَلِفٍ ۔ } ” یقینا تم لوگ ایک جھگڑے کی بات میں پڑگئے ہو۔ “ یعنی آخرت کے بارے میں تم ایک اختلاف میں پڑگئے ہو اور تمہاری بات ایک دوسرے سے مختلف ہے۔
6 The oath has been sworn by the sky of various appearances on this difference of views because of the similarity. That is, just as the clouds and the clusters of stars in the sky have different appearances and there is uniformity among them, so are also your views about the Hereafter, each different from the other. Some one says that this world is eternal and no Resurrection can take place. Another say s that this system is not eternal and can come to an end in the course of time, but whatever becomes extinct, including man, cannot possibly be resurrected. Another one regards resurrection as possible but, holds the belief that man in order to be requited for his good and evil deeds is born and reborn again and again in this very world. Some one believes in Hell and Heaven but combines the transmigration of the souls also with it. He thinks that the sinner goes to Hell to suffer the punishment as well as is born and reborn in this world for the sake of the punishment. Some one says that the life in the world is in itself an agony; as long as man's self remains attached to physical life, he goes on dying and taking birth again and again in this very world, and his real salvation is that he should attain annihilation. Some one believes in the Hereafter and Hell and Heaven, but says that God by giving death to His only son on the cross had atoned for the original sin of man, and man will escape the evil consequences of his evil acts by believing in the son. Some other people generally believe in the Hereafter and the meting out of the rewards and punishments but at the same time regard certain holy men as the intercessors, who are such favorites of Allah, or wield such influence with Him, that any one who attaches himself to them as a disciple, can escape the punishment whatever he may do in the world. About these holy men also there is no agreement among their devotees; every group of them has its own separate intercessor. This difference of the views itself is a proof that whenever man has formed an opinion about his own and the world's end, independent of Revelation and Prophet hood, he has formed it without knowledge; otherwise if man in this regard really had some direct means of knowledge there would not have arisen so many different and contradictory beliefs.
سورة الذّٰرِیٰت حاشیہ نمبر :6 اس اختلاف اقوال پر متفرق شکلوں والے آسمان کی قسم تشبیہ کے طور پر کھائی گئی ہے ۔ یعنی جس طرح آسمان کے بادلوں اور تاروں کے جھرمٹوں کی شکلیں مختلف ہیں اور ان میں کوئی مطابقت نہیں پائی جاتی اسی طرح آخرت کے متعلق تم لوگ بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے ہو اور ہر ایک بات دوسرے سے مختلف ہے ۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ دنیا ازلی و ابدی ہے اور کوئی قیامت برپا نہیں ہو سکتی ۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ نظام حادث ہے اور ایک وقت میں یہ جا کر ختم بھی ہو سکتا ہے ، مگر انسان سمیت جو چیز بھی فنا ہو گئی ، پھر اس کا اعادہ ممکن نہیں ہے ۔ کوئی اعادے کو ممکن مانتا ہے ، مگر اس کا عقیدہ یہ ہے کہ انسان اپنے اعمال کے اچھے اور برے نتائج بھگتنے کے لیے بار بار اسی دنیا میں جنم لیتا ہے ۔ کوئی جنت اور جہنم کا بھی قائل ہے ، مگر اس کے ساتھ تناسُخ کو بھی ملاتا رہتا ہے ، یعنی اس کا خیال یہ ہے کہ گناہ گار جہنم میں بھی جا کر سزا بھگتتا ہے اور پھر اس دنیا میں بھی سزا پانے کے لیے جنم لیتا رہتا ہے ۔ کوئی کہتا ہے کہ دنیا کی زندگی خود ایک عذاب ہے جب تک انسان کے نفس کو مادی زندگی سے لگاؤ باقی رہتا ہے اس وقت تک وہ اس دنیا میں مر مر کر پھر جنم لیتا رہتا ہے ، اور اس کی حقیقی نجات ( نِروان ) یہ ہے کہ وہ بالکل فنا ہو جائے ۔ کوئی آخرت اور جنت و جہنم کا قائل ہے ، مگر کہتا ہے کہ خدا نے اپنے اکلوتے بیٹے کو صلیب پر موت دے کر انسان کے ازلی گناہ کا کفارہ ادا کر دیا ہے ، اور اس بیٹے پر ایمان لا کر آدمی اپنے اعمال بد کے برے نتائج سے بچ جائے گا ۔ کچھ دوسرے لوگ آخرت اور جزا و سزا ، ہر چیز کو مان کر بعض ایسے بزرگوں کو شفیع تجویز کر لیتے ہیں جو اللہ کے ایسے پیارے ہیں ، یا اللہ کے ہاں ایسا زور رکھتے ہیں کہ جو ان کا دامن گرفتہ ہو وہ دنیا میں سب کچھ کر کے بھی سزا سے بچ سکتا ہے ۔ ان بزرگ ہستیوں کے بارے میں بھی اس عقیدے کے ماننے والوں میں اتفاق نہیں ہے ، بلکہ ہر ایک گروہ نے اپنے الگ الگ شفیع بنا رکھے ہیں ۔ یہ اختلاف اقوال خود ہی اس امر کا ثبوت ہے وحی و رسالت سے بے نیاز ہو کر انسان نے اپنے اور اس دنیا کے انجام پر جب بھی کوئی رائے قائم کی ہے ، علم کے بغیر قائم کی ہے ۔ ورنہ اگر انسان کے پاس اس معاملہ میں فی الواقع براہ راست علم کا کوئی ذریعہ ہوتا تو اتنے مختلف اور متضاد عقیدے پیدا نہ ہوتے ۔
3: یعنی ایک طرف اللہ تعالیٰ کو اس کائنات کا خالق مانتے ہو، اور دوسری طرف اس کی یہ قدرت تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہو کہ وہ مرنے کے بعد انسانوں کو دوبارہ زندگی دے سکتا ہے۔
(51:8) انکم کفار مکہ کو خطاب ہے۔ لفی قول مختلف : لام تحقیق کے لئے۔ فی حرف جار قول مختلف موصوف وصفت مل کر مجرور ۔ تحقیق تم قیامت کے بارے میں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں یا قرآن کے بارے میں مختلف اقوال رکھتے ہو۔ کوئی قیامت کے آنے میں شک کرتا ہے کوئی اس کو محال خیال کرتا ہے کوئی اسے بالکل انکار کرتا ہے ، کوئی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شاعر کہتا ہے کوئی جادو گر کہتا ہے اور کوئی دیوانہ خیال کرتا ہے۔ اور کوئی قرآن مجید کو داستان پارنیہ بتاتا ہے کوئی اسے خود ساختہ بتاتا ہے۔
ف 6 یعنی کبھی آنحضرت کو شاعر بناتے ہیں کبھی کاہن کبھی مجنون اور کبھی ساحر اور کبھی سحر زدہ یا کبھی آخرت سے انکار کرتے ہو اور کبھی شک میں پڑجاتے ہو۔ یا اللہ تعالیٰ کے خالق ومالک ہونے کا اقرار کرتے ہوئے مگر بندگی دوسروں کی کرتے ہو۔
4:۔ ” انکم لفی “ یہ زجر ہے کافروں کے لیے جو ایسے واضح نمونے دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے یہ لوگ ایک مختلف بات پر قائم ہیں کو حشر و نشر میں شک کرتا ہے اور کوئی اس کا انکار کرتا ہے وہ خود کسی ایک متفق علیہ اور باہم موافق بات پر قائم نہیں ہیں۔ ہر وق شخص جس کو اللہ نے حق سے پھیر دیا ہے وہ قیامت پر ایمان لانے سے بھی پھیر دیا گیا ہے۔ انہم فی قول مختلف فو وقوعہ فمنہم شاک و منہم جاحد ثم قال یؤفک عن الاقرار بامر القیامۃ من ھو المافوک (مدارک ج 4 ص 139) ۔