Surat ut Toor

Surah: 52

Verse: 36

سورة الطور

اَمۡ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ ۚ بَلۡ لَّا یُوۡقِنُوۡنَ ﴿ؕ۳۶﴾

Or did they create the heavens and the earth? Rather, they are not certain.

کیا انہوں نے ہی آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ، بلکہ یہ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Or did they create the heavens and the earth? Nay, but they have no firm belief. meaning, Allah is censuring the idolators for their idolatry, while asking them if they created the heavens and earth. They knew that Allah Alone is the Creator without partners with Him. However, they fell into idolatry because they had no firm belief,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

36۔ 1 بلکہ اللہ کے وعدوں اور وعیدوں کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٠] یعنی اگر اس کائنات کے خالق یہ ہیں تو پھر اس میں ان کا تصرف بھی چلنا چاہئے۔ اور آزادانہ زندگی بسر کرنے کے بھی مجاز ہوسکتے تھے۔ لیکن جب خود انہیں اس بات کا اعتراف ہے کہ کائنات کا خالق اللہ ہے تو پھر یہ اس کے آگے کیوں اکڑنے لگے ہیں ؟ اصل معاملہ یہ ہے کہ یہ لوگ زبانی تو اعتراف کرلیتے ہیں کہ ہر چیز کا خالق اللہ ہے۔ لیکن اس اعتراف کے تقاضوں کو اس لیے پورا نہیں کرتے کہ اپنے اس اعتراف پر خود بھی پورا یقین نہیں رکھتے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ۝ ٠ ۚ بَلْ لَّا يُوْقِنُوْنَ۝ ٣٦ ۭ سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ يقن اليَقِينُ من صفة العلم فوق المعرفة والدّراية وأخواتها، يقال : علم يَقِينٍ ، ولا يقال : معرفة يَقِينٍ ، وهو سکون الفهم مع ثبات الحکم، وقال : عِلْمَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 5] «2» ، وعَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 7] «3» وحَقُّ الْيَقِينِ [ الواقعة/ 95] وبینها فروق مذکورة في غير هذا الکتاب، يقال : اسْتَيْقَنَ وأَيْقَنَ ، قال تعالی: إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا وَما نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِينَ [ الجاثية/ 32] ، وَفِي الْأَرْضِ آياتٌ لِلْمُوقِنِينَ [ الذاریات/ 20] ، لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ [ البقرة/ 118] وقوله عزّ وجلّ : وَما قَتَلُوهُ يَقِيناً [ النساء/ 157] أي : ما قتلوه قتلا تَيَقَّنُوهُ ، بل إنما حکموا تخمینا ووهما . ( ی ق ن ) الیقین کے معنی کسی امر کو پوری طرح سمجھ لینے کے ساتھ اس کے پایہ ثبوت تک پہنچ جانے کے ہیں اسی لئے یہ صفات علم سے ہے اور معرفت اور وغیرہ سے اس کا در جہ اوپر ہے یہی وجہ ہے کہ کا محاورہ تو استعمال ہوات ہے لیکن معرفۃ الیقین نہیں بولتے اور قدر معنوی فرق پایا جاتا ہے جسے ہم اس کتاب کے بعد بیان کریں گے استیتن والقن یقین کرنا قرآن میں ہے : ۔ إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا وَما نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِينَ [ الجاثية/ 32] ہم اس کو محض ظن ہی خیال کرتے ہیں اور ہمیں یقین نہیں آتا ۔ وَفِي الْأَرْضِ آياتٌ لِلْمُوقِنِينَ [ الذاریات/ 20] اور یقین کرنے والوں کے لئے زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں ۔ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ [ البقرة/ 118] یقین کرنے والوں کیلئے اور آیت کریمہ : ۔ وَما قَتَلُوهُ يَقِيناً [ النساء/ 157] اور انہوں نے عیسیٰ کو یقینا نہیں کیا ۔ کے معنی یہ ہیں کہ انہیں ان کے قتل ہوجانے کا یقین نہیں ہے بلکہ ظن وتخمین سے ان کے قتل ہوجانے کا حکم لگاتے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٦{ اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ج بَلْ لَّا یُوْقِنُوْنَ ۔ } ” کیا آسمانوں اور زمین کو انہوں نے بنایا ہے ؟ بلکہ ( اصل بات یہ ہے کہ) یہ یقین نہیں رکھتے۔ “ چلو اپنی تخلیق کی بحث کو چھوڑو ‘ تم ذرا یہ بتائو کہ زمین و آسمان تم نے بنائے ہیں ؟ اگر تم تسلیم کرتے ہو کہ تم نے نہیں بنائے تو پھر مان کیوں نہیں لیتے کہ خود تمہارا خالق اور تمام مخلوق سمیت پوری کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ یہ وہ حقائق ہیں جو دو اور دو چار کی طرح مسلم ہیں ‘ لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ یقین سے محروم ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

28 The questions asked before this were meant to make the disbelievers of Makkah realize that whatever they were saying to belie the Prophet Muhammad's claim to prophet hood was highly irrational. Now in this verse the question put before them is: "What is that in the message of the Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace) which you find so embarrassing for yourselves? He just says that Allah is your Creator and you should only serve Him. Why are you annoyed at it? Are you your own creators? Or, has this vast Universe been created by you? If neither of these is true, and you admit that your Creator as well as the Creator of the Universe is Allah alone, why do you then feel angry with the person who tells you that Allah alone is worthy of your service and worship? What you should actually feel angry about is that you worship him who is not your Creator instead of Him Who is your real Creator. You admit with the tongue that Allah alone is your Creator as well as of the whole Universe, but if you really had faith in this, you would not have so maligned the person who was calling you to Allah's service . This was such a pungent and stinging question that it shook the polytheistic faith to the root. Bukhari and Muslim have related that after the Battle of Badr, Jubair bin Mut`im came to Madinah to negotiate release of the Quraish prisoners of war on behalf of the people of Makkah. The Holy Prophet at that time was leading the Maghrib Prayer, and he recited this Surah at-Tur in it. Mut`im himself has stated that when the Holy Prophet reached this place, his heart seemed to be leaving his breast. One main reason of his embracing Islam afterwards was that Islam had taken root in his heart on hearing these very verses on that day.

سورة الطُّوْر حاشیہ نمبر :28 اس سے پہلے جو سوالات چھیڑے گئے تھے وہ کفار مکہ کو یہ احساس دلانے کے لیے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوائے رسالت کو جھٹلانے کے لیے جو باتیں وہ بنا رہے ہیں وہ کس قدر غیر معقول ہیں ۔ اب اس آیت میں ان کے سامنے یہ سوال رکھا گیا ہے کہ جو دعوت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیش کر رہے ہیں آخر اس میں وہ بات کیا ہے جس پر تم لوگ اس قدر بگڑ رہے ہو ۔ وہ یہی تو کہہ رہے ہیں کہ اللہ تمہارا خالق ہے اور اسی کی تم کو بندگی کرنی چاہیے ۔ اس پر تمہارے بگڑنے کی آخر کیا معقول وجہ ہے ؟ کیا تم خود بن گئے ہو ، کسی بنانے والے نے تمہیں نہیں بنایا ؟ یا اپنے بنانے والے تم خود ہو؟ یا یہ وسیع کائنات تمہاری بنائی ہوئی ہے ؟ اگر ان میں سے کوئی بات بھی صحیح نہیں ہے اور تم خود مانتے ہو کہ تمہارا خالق بھی اللہ ہی ہے اور اس کائنات کا خلاق بھی وہی ہے ، تو اس شخص پر تمہیں غصہ کیوں آتا ہے جو تم سے کہتا ہے کہ وہی اللہ تمہاری بندگی و پرستش کا مستحق ہے ؟ غصے کے لائق بات یہ ہے یا یہ کہ جو خالق نہیں ہیں ان کی بندگی کی جائے اور جو خالق ہے اس کی بندگی نہ کی جائے؟ تم زبان سے یہ اقرار تو ضرور کرتے ہو کہ اللہ ہی تمہارا اور کائنات کا خالق ہے ، لیکن اگر تمہیں واقعی اس بات کا یقین ہوتا تو اس کی بندگی کی طرف بلانے والے کے پیچھے اس طرح ہاتھ دھو کر نہ پڑ جاتے ۔ یہ ایسا زبردست چبھتا ہوا سوال تھا کہ اس نے مشرکین کے عقیدے کی چولیں ہلا دیں ۔ بخاری و مسلم کی روایت ہے کہ جبیر بن مطعم جنگ بدر کے بعد قریش کے قیدیوں کی رہائی پر بات چیت کرنے کے لیے کفار مکہ کی طرف سے مدینہ آئے ۔ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے اور اس میں سورہ طور زیر تلاوت تھی ۔ ان کا اپنا بیان یہ ہے کہ جب حضور اس مقام پر پہنچے تو میرا دل سینے سے اڑا جاتا تھا ۔ بعد میں ان کے مسلمان ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ اس روز یہ آیات سن کر اسلام ان کے دل میں جڑ پکڑ چکا تھا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(52:36) ام خلقوا السموت والارض۔ استفہام انکاری ہے کہ انہوں نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ؟ نہیں یہ بھی نہیں ہے۔ کیونکہ جب تم ان سے پوچھو کہ ان کو کس نے پیدا کیا ہے تو کہہ دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے۔ ولئن سئالتہم من خلقھم : لیقولن اللہ۔ (43:87) اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمان اور زمین کو کس نے پیدا کیا۔ تو کہہ دیں گے خدا نے (39:38) بل : اضراب کے لئے ہے یعنی ماقبل کے ابطال کے لئے اور مابعد کے اقرار کے لئے ۔ یعنی ان کا یہ کہنا باطل اور محض زبانی و کلامی ہے کہ ان کو اور آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کا اس پر کوئی یقین ہی نہیں۔ لایوقنون ۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ ایقان (افعال) مصدر۔ وہ یقین نہیں کرتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 14 یعنی نہیں وہ اپنے آپ کو زمین و آسمان کا خلاق نہیں سمجھتے لیکن اس کے باوجود محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات نہیں مان رہے اور کفر و شرکت میں ڈوبے ہوئے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی صفات پر یقین نہیں ہے محض ناقابل اعتبار قسم کا شک ہے۔ اگر یقین ہوتا تو ہرگز کفر و شرک میں مبتلا نہ رہتے بلکہ آنحضرت کی بات مان کر اللہ تعالیٰ پر اس طرح ایمان لاتے جو اس پر ایمان لانے کا حق ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کی بنیادی دعوت اللہ کی توحید پر سچے دل کے ساتھ ایمان لانا اور اس کے تقاضے پورے کرنا ہے۔ اہل مکہ کو اس دعوت کے ساتھ ترین اختلاف تھا جس بنا پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو الزام دیتے کہ اس نے اپنی طرف سے قرآن بنالیا ہے۔ اس موقعہ پر اہل مکہ سے اس کے جواب میں پندرہ سوال کیے گئے جن کا جواب دینے میں وہ ناکام رہے لیکن پھر بھی اپنے کفر و شرک پر قائم رہے۔ اہل مکہ کو قرآن اور صاحب قرآن کے ساتھ بنیادی اختلاف یہ تھا کہ ہمیں اپنے معبودوں کی عبادت سے کیوں روکتا ہے۔ اس لیے ان کا یہ مطالبہ تھا کہ اس قرآن کو تبدیل کردیا جائے۔ جب ان کا مطالبہ پورا نہ ہوا تو انہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کاہن، جادوگر اور شاعر کہنا شروع کردیا۔ قرآن مجید نے ان الزامات کے اور بھی جواب دیئے ہیں لیکن اس موقع پر یہ جواب دئیے۔ 1 ۔ کیا یہ لوگ کسی کے پیدا کیے بغیر پیدا ہوگئے ہیں یا خود اپنے آپ کو پیدا کرنے والے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ کسی سچائی پر یقین نہیں رکھتے۔ 2 ۔ کیا ان کے پاس آپ کے رب کے خزانے ہیں یا یہ ان پر چوکید ار بنائے گئے ہیں ؟ 3 ۔ کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی (LIFT) ہے جس کے ذریعے آسمان پر پہنچ کر قضا و قدر کے فیصلے سن لیتے ہیں ؟ اگر ان کے پاس اس بات کی کوئی واضح دلیل ہے تو اسے پیش کریں۔ اہل مکہ رسمی طور پر مانتے تھے کہ انہیں اور زمین و آسمانوں کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے لیکن حقیقی ایمان نہ ہونے کی وجہ سے وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس قسم کے اعتراض کرتے تھے جس سے ثابت ہوتا تھا کہ اللہ کے خالق ہونے پر ان کا ایمان نہیں ہے۔ اگر ان کا حقیقی طور پر ایمان ہوتا کہ اللہ تعالیٰ ہمارا اور زمین و آسمانوں کا خالق ہے تو وہ قرآن اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس قسم کے اعتراض نہ کرتے۔ خالق کا معنٰی ہے کہ بغیر کسی نمونے کے ہر چیز کو پیدا کرنے والا۔ جب اللہ تعالیٰ کو حقیقی طور پر خالق اور اپنے آپ کو مخلوق یعنی اس کا بندہ مان لیا تو اس قسم کے اعتراضات کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی کہ اللہ تعالیٰ نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کیوں قرآن نازل کیا ہے اور قرآن غیر اللہ کی عبادت سے کیوں منع کرتا ہے کسی کو نبی منتخب کرنا اللہ تعالیٰ کا اپنا انتخاب اور اختیار ہے لوگوں کی راہنمائی کے لیے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبی بنانا اللہ تعالیٰ کی بےپناہ رحمت کا مظہر ہے۔ اس لیے کفار سے یہ سوال کیا گیا۔ کیا وہ اللہ کے خزانوں کے مالک ہیں یا انہیں ان کا چوکیدار بنایا گیا ہے یا وہ آسمانوں پر چڑھ کر قضا و قدر کے فیصلے جان چکے ہیں ؟ کہ قرآن کس پر نازل ہونا چاہیے اور کس پر نازل نہیں ہونا چاہیے تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ان سوالات کے جواب میں کوئی دلیل نہیں رکھتے۔ جب ان کے پاس ان کے الزامات کا جواب نہیں ہے تو انہیں ہرزہ سرائی سے باز آکر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر ایمان لانا اور قرآن مجید کی دعوت پر یقین کرنا چاہیے۔ ان کی بےانصافی اور ہرزہ سرائی کا عالم یہ ہے کہ یہ اپنے لیے بیٹے پسند کرتے ہیں اور ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو بیٹا یا بیٹی نہیں بنایا کیونکہ وہ ان چیزوں سے پاک اور مبرّاہے۔ گویا کہ یہ اس قدر غیر ذمہ دار اور کذاب لوگ ہیں کہ ان کی کسی بات پر یقین کرنا تو درکنار ان کی بات پر کان بھی نہیں دھرنا چاہیے۔ مسائل ١۔ ” اللہ “ ہی نے انسان اور ہر چیزکو پیدا کیا ہے اس کے سوا کوئی کچھ پیدا نہیں کرسکتا۔ ٢۔ زمین و آسمانوں کو صرف ” اللہ “ ہی نے پیدا کیا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ اپنے خزانوں کا خود مالک ہے کوئی اس کے خزانوں پر اختیار نہیں رکھتا۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ کا نہ کوئی بیٹا ہے اور نہ بیٹی وہ اولاد اور ہر قسم کی محتاجی اور ضرورت سے بےنیاز ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ مشرکوں کے شرک سے پاک ہے : ١۔ ” اللہ “ بہت بلند ہے اس چیز سے جو لوگ شرک کرتے ہیں۔ (النحل : ٣) (النحل : ١) (النمل : ٦٣) (القصص : ٦٨) ( الزمر : ٦٧) (الطور : ٤٣) ( البقرۃ : ١١٦) (یونس : ١٨) (مریم : ٣٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ام خلقوا ........ یوقنون (٢٥ : ٦٣) ” یا زمین و آسمانوں کو انہوں نے پیدا کیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ یقین نہیں رکھتے “ یہ لوگ بھی اور ہر عقلمند شخص جو فطری انداز میں سوچتا ہو اس بات کا قائل نہیں ہوسکتا کہ زمین اور آسمانوں نے خود اپنے آپ کو پیدا کیا یا بغیر خالق کے پیدا ہوئے یا خود انہوں نے یعنی کسی انسان نے ان کو پیدا کیا ہے۔ یہ سوالات ہیں جن کا جواب ہر کسی کو دینا ہے اور ان کا حال تو یہ تھا کہ جب ان سے یہ سوال کیا جاتا تھا تو وہ کہتے تھے کہ اللہ نے پیدا کیا ہے لیکن یہ حقیقت ان کے ادراک میں اس قدر واضح نہ تھی کہ وہ ان کے دلوں اور ان کی سوچ اور ان کے طرز عمل میں کوئی تغیر پیدا کرے اور وہ کوئی واضح عقیدہ اپنائیں۔ بل لا یقنون (٢٥ : ٦٣) ” اصل بات یہ ہے کہ یہ یقین نہیں رکھتے “ اب تخلیق سے ذرا نیچے آکر ذرا کم درجے کا سوال کیا جاتا ہے چلو تم اپنے آپ کے اس کائنات کے خالق تو نہیں ہو تو کیا تم زمین کے خزانوں کے حوالدار ہو۔ کیا تم لوگوں کے معاملات کے اختیاری ہو۔ اللہ ہی ہے جو کسی کو تھوڑا ، کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ وہی مدبر اور متصرف ہے اور یہی تفسیر قابل عمل ہے اور دل لگتی ہے۔ اسی صورت حالات کی جو اس جہان میں چلتی ہے جب اللہ کے خزانوں کے مالک یہ نہیں اور زمین کے معاملات ان کے اختیار میں نہیں تو پھر اللہ کے سوا اور کون ہے ؟ اب ایک درجہ اور نیچے آکر ان سے بات کی جاتی ہے۔ کیا تم قرآن کو منجانب اللہ نہیں سمجھتے تو اللہ کے ہاں تمہاری رسائی کا کوئی ذریعہ ہے جس سے تمہیں معلوم ہوگیا کہ قرآن وہاں سے نہیں ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿ اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ ١ۚ﴾ (کیا ان لوگوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے) ۔ یہ استفہام انکاری ہے یعنی انہوں نے ان چیزوں کو پیدا نہیں کیا، ان چیزوں کو بھی اسی نے پیدا فرمایا جس نے ان لوگوں کو پیدا کیا، یہ سب باتیں ظاہر ہیں۔ ﴿ بَلْ لَّا يُوْقِنُوْنَؕ٠٠٣٦﴾ (بلکہ ان باتوں کو جانتے اور مانتے ہوئے یقین نہیں کرتے) کفر اور شرک میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(36) کیا انہوں نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا ہے نہیں بلکہ واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ یقین نہیں لاتے ۔ یعنی کیا یہ زمین و آسمان کے خالق ہیں نہیں یہ بات یعنی نہ یہ اپنے خالق اور نہ آسمان و زمین کے خالق سوائے اللہ تعالیٰ کے پھر یہ سوچتے سمجھتے نہیں کہ خالق کائنات کے لئے الوہیت اور توحید لازم ہے بلکہ واقعہ یہ ہے کہ یہ ایمان نہیں لاتے اور یقین نہیں کرتے آگے پھر رسالت کے متعلق ان کے چند مزعومات باطلہ کا ردفرماتے ہیں۔