Surat ut Toor

Surah: 52

Verse: 37

سورة الطور

اَمۡ عِنۡدَہُمۡ خَزَآئِنُ رَبِّکَ اَمۡ ہُمُ الۡمُصَۜیۡطِرُوۡنَ ﴿ؕ۳۷﴾

Or have they the depositories [containing the provision] of your Lord? Or are they the controllers [of them]?

یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا ( ان خزانوں کے ) یہ دروغہ ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

أَمْ عِندَهُمْ خَزَايِنُ رَبِّكَ ... Or are with them the treasures of your Lord? meanings, do they have the authority to do whatever they will in His kingdom. Do they hold the keys to His treasures in their hands? ... أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ or are they the tyrants with the authority to do as they like? meanings, are they the tyrants who would hold the creation to account Never, Allah the Exalted and Most Honored is the Only King and Owner of the existence and He does what He wills. Allah the Exalted said,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

37۔ 1 کہ یہ جس کو چاہیں روزی دیں جس کو چاہیں نہ دیں یا جس کو چاہیں نبوت سے نوازیں۔ 37۔ 2 مصیطر یا مسیطر سَطْرً سے ہے، لکھنے والا، جو محافظ و نگران ہو، وہ چونکہ ساری تفیصلات لکھتا ہے، اس لئے یہ محافظ اور نگران کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ یعنی کیا اللہ کے خزانوں یا اس کی رحمتوں پر ان کا تسلط ہے کہ جس کو چاہیں دیں یا نہ دیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣١] یہ کافروں کے ایک اعتراض کا جواب ہے۔ وہ کہتے تھے کہ اگر اللہ نے کسی بشر کو رسول بنانا تھا تو کیا اسے یہی شخص اس کام کے لیے پسند آیا تھا۔ مکہ اور طائف کے سردار مرگئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ کیا اللہ کی رحمت کے خزانوں کے مالک یہ ہیں ؟ یا اللہ نے اپنے خزانوں کی تقسیم کا اختیار ان کو دے رکھا ہے کہ جونسی نعمت جسے چاہیں دے دیں ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) ام عندھم خزآئن ربک …: یہ کفار کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کو کیوں رسول بنایا گیا، مکہ اور طائف کے سرداروں میں سے کسی کو رسالت کے لئے کیوں نہ چنا گیا ؟ فرمایا، یہ فیصلہ کرنا کہ کس کو رسول بنا کر بھیجا اجئے مالک کا کام ہے۔ اب یہ لوگ اگر اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے رسول کا انکار کرتے ہیں تو اس کا مطلق یہ ہے کہ یا تو تیرے رب کے خزانوں کے مالک یہ ہیں، جسے چاہیں دیں جسے چاہیں نہ دیں، یا یہ کہ مالک تو اللہ تعالیٰ ہی ہے مگر اس پر حکم انہی کا چلتا ہے۔ اب یہ خود ہی بتائیں کہ ان دونوں میں سے ان کا دعویٰ کیا ہے ؟ مزید دیکھیے سورة ص (٨ تا ١٠) اور سورة زخرف (٣١، ٣٢) ، خلاصہ یہ کفار کے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت سے انکار کی کوئی عقلی دلیل نہیں۔ (٢) آیت کی تفسیر اس طرح بھی ہوسکتی ہے کہ یا یہ لوگ اس لئے اکیلے رب کی عبادت نہیں کرتے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رسول نہیں مانتے کہ تیرے رب کے خزانوں کے مالک ویہ ہیں، یا ان پر انھی کا حکم چلتا ہے، اس لئے وہ اپنی مرضی کے ملاک ہیں جو چاہیں کرتے پھریں ؟ ظاہر ہے ایسا بھی ہرگز نہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

{ 1} This is an answer to one of the objections frequently raised by the disbelievers of Makkah against the prophethood of the Holy Prophet . They used to ask why he was chosen for messenger-ship, and not one of the outstanding chiefs of the tribe. The answer given in this verse is that the selection of prophets is the exclusive prerogative of Allah. He has the treasures of knowledge, and it is He who decides to whom they should be given. The attitude of those who raise objections against His decision is tantamount to claiming that the disposal of these treasures should have been in their hands, and they should have the decisive power to select prophets. (Muhammad Taqi Usmani)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَمْ عِنْدَہُمْ خَزَاۗىِٕنُ رَبِّكَ اَمْ ہُمُ الْمُصَۜيْطِرُوْنَ۝ ٣٧ ۭ عند عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، ( عند ) ظرف عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا اور کبھی کسی شخص کی قرب ومنزلت کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہے ۔ خزن الخَزْنُ : حفظ الشیء في الخِزَانَة، ثمّ يعبّر به عن کلّ حفظ کحفظ السّرّ ونحوه، وقوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنا خَزائِنُهُ [ الحجر/ 21] ( خ زن ) الخزن کے معنی کسی چیز کو خزانے میں محفوظ کردینے کے ہیں ۔ پھر ہر چیز کی حفاظت کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے جیسے بھیدہ وغیرہ کی حفاظت کرنا اور آیت :۔ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنا خَزائِنُهُ [ الحجر/ 21] اور ہمارے ہاں ہر چیز کے خزانے ہیں ۔ صطر صَطَرَ وسَطَرَ واحدٌ. قال تعالی: أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ [ الطور/ 37] ، وهو مفیعل من السَّطْرِ ، والتَّسْطِيرُ أي : الکتابة، أي : أهم الذین تولّوا کتابة ما قدّر لهم قبل أن خلق، إشارة إلى قوله : إِنَّ ذلِكَ فِي كِتابٍ إِنَّ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ [ الحج/ 70] ، وقوله : فِي إِمامٍ مُبِينٍ [يس/ 12] ، وقوله : لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ [ الغاشية/ 22] ، أي : متولّ أن تکتب عليهم وتثبت ما يتولّونه، وسَيْطَرْتُ ، وبَيْطَرْتُ لا ثالث لهما في الأبنية، وقد تقدّم ذلک في السّين ( ص ط ر ) صطر وسطر ( ن ) کے ایک ہی معنی ہیں یعنی لکھنا ( سیدھی لائنوں میں اور آیت : ۔ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ [ الطور/ 37] یا یہ ( کہیں کہ ) داروغہ ہیں ۔ میں المصیطرون سطر سے مفعیل کے وزن پر ہے ۔ اور التسطیر جس کے معنی لکھنے کے ہیں اور آیت کے معنی یہ ہیں کہ کیا تخلیق سے قبل یہ اپنے نوشتہ تقدیر کے لکھنے پر مقرر تھے ( کہ انہیں ہر بات کا علم ہوچکا ہے یعنی نہیں ) اس میں آیت کریمہ : ۔ إِنَّ ذلِكَ فِي كِتابٍ إِنَّ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ [ الحج/ 70] یہ سب کچھ کتاب میں لکھا ہوا ہے بیشک یہ سب خدا کو آسان ہے ۔ اور آیت فِي إِمامٍ مُبِينٍ [يس/ 12] اور ہر چیز کو ہم نے کتاب روشن ( یعنی لوح محفوظ ) میں لکھ رکھا ہے ۔ کے معنی کی طرف اشارہ ہے اور آیت : لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ [ الغاشية/ 22] تم ان پر دراوغہ نہیں ہو ۔ کے معنی یہ ہیں کہ تم ان پر لکھنے کے لئے مقرر نہیں ہوا اور نہ ہی اس چیز کو ثابت کرنے کے ذمہ دار ہو جس کے یہ متولی بنتے ہیں اور عربی میں سیطرت و یبطرت کے علاوہ تیسرا لفظ اس وزن پر نہیں آتا تشریح کے لئے دیکھئے ( س ط ر)

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٧۔ ٣٨) کیا ان کے پاس تمہارے رب کی نعمتوں اور رحمتوں یعنی بارش رزق نبوت کے خزانوں کی کنجیاں ہیں یا یہ لوگ اس محکمہ نبوت کے حاکم ہیں کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے کہ اس پر چڑھ کر آسمان کی باتیں سن لیا کرتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٧{ اَمْ عِنْدَہُمْ خَزَآئِنُ رَبِّکَ اَمْ ہُمُ الْمُصَیْطِرُوْنَ ۔ } ” کیا ان کے قبضہ قدرت میں آپ کے رب کے خزانے ہیں یا یہ داروغہ ہیں ؟ “ اس آیت کو پڑھتے ہوئے مشرکین مکہ کا وہ اعتراض بھی ذہن میں تازہ کرلیں جس کا ذکر سورة الزخرف کی آیت ٣١ میں ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اگر وحی بھیجنا تھی اور اپنا کلام دنیا میں نازل کرنا ہی تھا تو اس کے لیے اس کی نظر بنوہاشم کے ایک یتیم شخص ہی پر کیوں پڑی ‘ جو نہ تو سرمایہ دار ہے اور نہ ہی مکہ کے قبائلی نظام کے اعلیٰ عہدوں (hierarchy) میں سے کوئی عہدہ اس کے پاس ہے ! عرب کے قبائلی معاشرے میں کسی شخصیت کے ” بڑے “ ہونے کا ایک معیار یہ بھی تھا کہ وہ کسی بڑے عہدے پر فائز ہو۔ جیسے حضرت ابوبکر صدیق (رض) اس زمانے میں مقدماتِ قتل کے فیصلے کرنے پر مامور تھے۔ یہ قبائلی نظام کا بہت بڑا اور انتہائی حساس نوعیت کا عہدہ تھا جس پر حضرت ابوبکر (رض) اس زمانے میں فائز تھے۔ اس کے علاوہ آپ (رض) بہت بڑے تاجر اور سرمایہ دار بھی تھے۔ اس زمانے میں حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے سرمائے کی مالیت چالیس ہزار درہم کے لگ بھگ تھی۔ اس حوالے سے یہ حقیقت بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ ایمان لانے کے بعد آپ (رض) نے یہ سارا سرمایہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں لٹا دیا اور جب آپ (رض) ہجرت کے لیے مدینہ روانہ ہوئے تو پیچھے گھر والوں کے لیے کچھ بھی نہ تھا ۔ بہرحال مشرکین مکہ بار بار یہ اعتراض کرتے تھے کہ آخر اللہ تعالیٰ نے اس منصب کے لیے ان دو بڑے شہروں (مکہ اور طائف) میں سے کسی بڑی شخصیت کو کیوں منتخب نہیں کیا : { وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ ۔ } (الزخرف) ” اور کہنے لگے کہ کیوں نہیں اتارا گیا یہ قرآن ان دو بستیوں میں سے کسی عظیم شخص پر ؟ “ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا : { اَھُمْ یَـقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّکَط } (الزخرف : ٣٢) ” کیا آپ کے رب کی رحمت کو یہ لوگ تقسیم کریں گے ؟ “ آیت زیر مطالعہ میں بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف اسی نوعیت کے اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے خزانے کیا ان لوگوں کے قبضہ قدرت میں ہیں ؟ اور کیا اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے فیصلے کرنے میں ان لوگوں کی مرضی و منشا کا پابند ہے ؟

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

29 This is an answer to the objection of the disbelievers of Makkah who said: Why had Muhammad, son of `Abdullah (upon whom be peace), only been appointed a Messenger? The answer implies this: "Somebody in any case had to be appointed a Messenger in order to deliver the people from their error of serving others than AIIah. Now the question is: Who should decide whom AIIah should appoint His Messenger and whom He should not ? If these people refuse to accept the Messenger appointed by Allah, it means that either they regard themselves as the masters of the world or they presume that the world may belong to AIIah, but it should be ruled by them. "

سورة الطُّوْر حاشیہ نمبر :29 یہ کفار مکہ کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ آخر محمد بن عبداللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہی کیوں رسول بنائے گئے ۔ اس جواب کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو عبادت غیر اللہ کی گمراہی سے نکالنے کے لیے بہرحال کسی نہ کسی کو تو رسول مقرر کیا جانا ہی تھا ۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ فیصلہ کرنا کس کا کام ہے کہ خدا اپنا رسول کس کو بنائے اور کس کو نہ بنائے؟ اگر یہ لوگ خدا کے بنائے ہوئے رسول کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یا تو خدا کی خدائی کا مالک یہ اپنے آپ کو سمجھ بیٹھے ہیں ، یا پھر ان کا زعم یہ ہے کہ اپنی خدائی کا مالک تو خدا ہی ہو مگر اس میں حکم ان کا چلے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

9: مکہ مکرمہ کے کافر لوگ یہ کہا کرتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو پیغمبر بھیجنا ہی تھا تو مکہ مکرمہ یا طائف کے کسی بڑے سردار کو پیغمبر کیوں نہیں بنایا گیا ؟ (دیکھئے سورۂ زخرف ٤٣۔ ٣١) اللہ تعالیٰ فرمارہے ہیں کہ کیا اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے، جن میں کسی کو پیغمبر بنانے کا اختیار بھی شامل ہے، ان کی خواہشات کے تابع ہیں کہ وہ جسے چاہیں اسے پیغمبر بنادیا جائے؟۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(52:37) دونوں جگہ امد استفہام انکاری ہے۔ عندھم : عند مضاف ہم ضمیر جمع مذکر غائب مضاف الیہ۔ ان کے پاس، ان کے نزدیک ۔ جیسے واخراج اہلہ منہ اکبر عند اللہ (2:217) اور اہہل مسجد کو اس میں سے نکال دینا (جو یہ کفار کرتے ہیں) خدا کے نزدیک اس سے بھی زیادہ (گناہ) ہے ۔ المصیطرون : اسم فاعل جمع مذکر مصبطر واحد یہ لفظ اصل میں مسیطر تھا۔ س کو ص سے بدل دیا گیا ۔ جیسے سراط کو صراط کہا جاتا ہے سیطرۃ مصدر ہے۔ جس کے معنی ہیں کسی کام پر مقرر ہونا۔ ذمہ دار ہونا۔ اس لئے مسیطر یا مصیطر کا ترجمہ ہوا۔ ذہ دار نگران، سطر مادہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 15 ” کہ جسے چاہیں روزی دیں اور جسے چاہیں نہ دیں یا جسے چاہیں وہ خدا کا پیغمبر ہو اور جسے نہ چاہیں وہ نہ ہو ؟ “ 16 کہ دنیا میں ہر بات انہی کی مرضی کے مطابق ہوا کرے ؟

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا ﴿ اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآىِٕنُ رَبِّكَ ﴾ (کیا ان کے پاس آپ کے رب کے خزانے ہیں) اگر ان کے پاس رحمت الٰہیہ کے خزانے ہوتے تو جسے چاہتے نبوت دے دیتے۔ اس آیت میں مشرکین مکہ کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ اگر نبی اور رسول بنانا ہی تھا تو محمد بن عبداللہ کو کیوں بنایا مکہ معظمہ اور طائف میں بڑے بڑے مالدار اور سردار پڑے ہیں ان میں سے کسی کو نبوت ملنا چاہیے تھا بطور سوال ان کا جواب دے دیا (جواستفہام انکاری کے طور پر ہے) ۔ ﴿اَمْ هُمُ الْمُصَۜيْطِرُوْنَؕ٠٠٣٧﴾ کیا ان کے پاس حکومت اور طاقت اور ایسا غلبہ ہے کہ اپنے اختیار سے کسی کو نبوت دلا دیں جب یہ دونوں باتیں نہیں ہیں تو انہیں کیا مقام ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے رسول کی رسالت پر اعتراض کریں اور اس کی جگہ کسی دوسرے شخص کو نبوت ملنے کے لیے پیش کریں۔ سورة الانعام میں فرمایا ﴿اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ ١ؕ﴾ (اللہ خوب جانتا ہے جہاں چاہے کر دے اپنی رسالت کو) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

18:۔ ” ام عندھم “ کیا وہ اللہ کے خزانوں کے مالک ہیں۔ کیا اللہ کی رحمت، نبوت اور رزق وغیرہ ان کے ہاتھ میں ہے یا وہ خدائی خزانوں کے نگران اور تقسیم کنندگان ہیں کہ جسے چاہیں جو چیز چاہیں دیں اور جسے چاہیں نہ دیں۔ کیا وہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا اس لیے انکار کرتے ہیں کہ نبوت کی تقسیم ان کے ہاتھ میں ہے اور انہوں نے آپ کو نبوت نہیں دی ؟ نہیں انکار محض عنادًا ہے۔ ” ام لہم سلم الخ “ یہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موت کے منتظر ہیں اور انہوں نے سمجھ رکھا ہے کہ آپ کی وفات ان سے پہلے ہوگی۔ کیا انہوں نے آسمان میں سیڑھی لگا رکھی ہے اور وہ آسمان پر چڑھ کر فرشتوں کی باتیں اور ان پر اللہ کی طرف سے جو احکام نازل ہوتے ہیں وہاں سے سن لیتے ہیں اور انہیں اس طرح معلوم ہوچکا ہے کہ آپ کی وفات ان سے پہلے ہوگی ؟ (مدارک) ۔ اگر واقعی ایسا ہے تو ان میں سے جو وہاں سے سن کر آیا ہے وہ اس کا ثبوت پیش کرے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(37) کیا ان لوگوں کے پاس آپ کے پروردگار کے خزانے ہیں یا یہ کوئی داروغہ اور حکمراں ہیں یعنی یہ جو کہا کرتے ہیں کہ فلاں شخص کو نبوت دی جاتی یا فلاح شخص کو کو یں نہیں دی گئی اس کا جواب ہے کہ آپ کے پروردگار کے خزانے ان کے پاس ہیں یا یہ ان خزانوں پر حکمراں ہیں کہ فلاں کو دو فلاح کو نہ دو بلکہ ہم مالک ہیں اور اپنی مصلحت کے موافق جس کو چاہتے ہیں اپنی رحمت یعنی نبوت سے نوازتے ہیں۔