Surat ut Toor
Surah: 52
Verse: 4
سورة الطور
وَّ الۡبَیۡتِ الۡمَعۡمُوۡرِ ۙ﴿۴﴾
And [by] the frequented House
وہ آباد گھر کی ۔
وَّ الۡبَیۡتِ الۡمَعۡمُوۡرِ ۙ﴿۴﴾
And [by] the frequented House
وہ آباد گھر کی ۔
In parchment unrolled. And by Al-Bayt Al-Ma`mur. In the Two Sahihs it is confirmed that the Messenger of Allah said in the Hadith about Al-Isra', after ascending to the seventh heaven: ثُمَّ رُفِعَ بِي إِلَى الْبَيْتِ الْمَعْمُورِ وَإِذَا هُوَ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفًا لاَ يَعُودُونَ إِلَيْهِ اخِرَ مَا عَلَيْهِم Then, I was taken to Al-Bayt Al-Ma`mur. It is visited every day by seventy thousand angels who will not come back to visit it again. The angels worship Allah in Al-Bayt Al-Ma`mur and perform Tawafaround it just as the people of the earth perform Tawaf around the Ka`bah. Al-Bayt Al-Ma`mur is the Ka`bah of those who reside in the seventh heaven. During the Isra' journey, the Prophet saw Ibrahim Al-Khalil, who was reclining with his back on Al-Bayt Al-Ma`mur. It was Ibrahim who built the Ka`bah on earth, and surely, the reward is compatible with the action. Al-Bayt Al-Ma`mur is parallel to the Ka`bah; every heaven has its own house of worship, which is also the direction of prayer for its residents. The house that is located in the lower heaven, is called Bayt Al-`Izzah. And Allah knows best. The statement of Allah the Exalted, وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوعِ
4۔ 1 یہ بیت معمور، ساتویں آسمان پر وہ عبادت خانہ ہے جس میں فرشتے عبادت کرتے ہیں، یہ عبادت خانہ فرشتوں سے اس طرح بھرا ہوتا ہے کہ روزانہ اس میں ستر ہزار فرشتے عبادت کے لئے آتے ہیں جن کی پھر دوبارہ قیامت تک باری نہیں آتی۔ جیسا کہ احادیث معراج میں بیان کیا گیا۔ بعض بیت معمور سے خانہ کعبہ مراد لیتے ہیں۔ جو عبادت کے لیے آنے والے انسانوں سے ہر وقت بھرا رہتا ہے معمور کے معنی ہی آباد اور بھرے ہوئے کے ہیں۔
[٣] بیت المعمور کونسا گھر ہے ؟ یعنی ہر وقت آباد رہنے والا گھر۔ اس سے مراد خانہ کعبہ ہے۔ جو ہر وقت حج وعمرہ اور طواف اور عبادت کرنے والوں سے بھرا رہتا ہے اور کبھی خالی نہیں ہوتا۔ نیز اس سے مراد ساتویں آسمان پر فرشتوں کی وہ عبادت گاہ بھی ہے جو خانہ کعبہ کے عین سیدھ میں واقع ہے۔ رسول اللہ کو شب معراج میں جب آسمانوں کی سیر کرائی گئی تو آپ نے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو اسی گھر کی دیوار سے ٹیک لگائے دیکھا تھا۔
(والبیت المعمور : آباد گھر۔ اس کے متعلق بھی مفسرین کے مختلف اقوال ہیں بعض نے فرمایا، اس سے مراد حدیث میں مذکور ساتویں آسمان پر موجود ایک مکان ہے۔ انس (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معراج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :(ثم عرج بنا الی السماء السابعۃ فاستفتح جبریل فقیل من ھذا ؟ قابل جبریل، قبل و من معک ؟ قال محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، قیل وقد بعث الیہ ؟ قال قد بعث الیہ، فتح لنا فاذا انا ابراہیم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسنداً ظھرہ الی البیت المعمور واذا ھو یدخلہ کل یوم سبعون الف ملک لایعودون الیہ) (مسلم، الایمان، باب الاسراء برسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الی السموات…: ١٦٢)” پھر ہمارے ساتھ ساتویں آسمان کی طرف چڑھے تو جبریل نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا، کہا گیا :” کون ہے ؟ “ کہا :” جبریل ہوں۔ “ کہا گیا :’ اور آپ کیساتھ کون ہے ؟ “ کہا :” محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ “ کہا گیا :” کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے ؟ “ کہا :” ہاں، پیغام بھیجا گیا ہے۔ “ تو ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا تو میں نے ابراہیم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ وہ اپنی پیٹھ کی ٹیک بیت المعمور (آباد گھر) کے ساتھ لگا کر بیٹھے ہوئے تھے اور اس گھر میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں، (اور جو ایک دفعہ داخل ہوجاتے ہیں وہ) پھر دوبارہ کبھی اس میں داخل نہیں ہوتے۔ “ بعض مفسرین نے فرمایا اس سے مراد کعبہ ہے جو ہر وقت عمرہ، حج ، قیام اور طواف کرنے والوں کے ساتھ آباد رہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ” البیت المعمور “ کے لفظ میں ان دونوں عظیم الشان گھروں کے علاوہ ہر آباد گھر بھی شامل ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی زبردست قدرت کا کھلا نشان ہے کہ اس نے زمین کے ہر حصے کو آباد کردیا ہے۔ شہروں، بستیوں ، میدانوں، صحراؤں، پہاڑوں، سمندروں غرض زمین کے جس حصے کو دیکھو وہیں آباد نظر آئے گی۔ حتی کہ قطب شمالی، جہاں ہر طرف برف ہی برف ہے، وہاں بھی آباید ملے گی۔ یعنی یہ آباد گھر (زمین) شاہد ہے کہ جس نے ابتداء اتنی آبادی پھیلا دی ہے جب کچھ بھی نہیں تھا، تو وہ انہیں دوبارہ زندہ کر کے مجرموں کو عذاب دے سکتا ہے اور یقیناً دے گا، کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کرے تو انسان کو پیدا کرنا بےمقصد ٹھہرتا ہے، جبکہ ایسا نہیں، فرمایا :(ایحسب الانسان انی ترک سدی) (القیامۃ : ٣٦)” کیا انسان گمان کرتا ہے کہ اسے بغیر پوچھے ہی چھوڑ دیا جائے گا ؟ “
Al-Bait-ul-Ma` mur وَالْبَيْتِ الْمَعْمُورِ (and by the Populated House [ AI-Bait-ul-Ma` mur ],...52:4) Al-Bait-ul-Ma` mur is the Ka&bah in the heaven meant for the angels& service and is parallel to the Ka&bah on earth. According to a Tradition in Sahihain that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said about his Ascension to the seventh heaven: |"Then, I was taken to Al-Bait-ul-Ma` mur. It is visited every day by seventy thousand angels who will not come back to visit it again|" because every day other new angels take their turn to visit it. (Ibn Kathir) Al-Bait-ul-Ma` mur is the Ka&bah of the angels who reside in the seventh heaven. When the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) reached the seventh heaven on the Night of Ascension, he saw Holy Prophet Ibrahim (علیہ السلام) reclining with his back on Al-Bait-ul-Ma` mur. It was Holy Prophet Ibrahim (علیہ السلام) who built the Ka&bah on earth, and thus the reward is compatible with his action in that Allah Ta’ ala has blessed him with a special connection with Al-Bait-ul-Ma` mur (IbnKathir).
آسمانی کعبہ بیت معمور : وَّالْبَيْتِ الْمَعْمُوْرِ ، بیت معمور آسمان میں فرشتوں کا کعبہ ہے، دنیا کے کعبہ کے بالمقابل ہے، صحیحین کی احادیث میں ثابت ہے کہ شب معراج رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب ساتویں آسمان پر پہنچے تو آپ کو بیت معمور کی طرف لے جایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت کے لئے داخل ہوتے ہیں، پھر کبھی ان کو دوبارہ یہاں پہنچنے کی نوبت نہیں آتی ( کیونکہ ہر روز دوسرے نئے فرشتوں کا نمبر ہوتا ہے) ابن کثیر بیت معمور ساتویں آسمان کے رہنے والے فرشتوں کا کعبہ ہے، اسی لئے شب معراج میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بیت معمور پر پہنچے تو دیکھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) اس کی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے ہیں چونکہ وہ دنیا کے کعبہ کے بانی تھے، اللہ تعالیٰ نے اس کی جزا میں آسمان کے کعبہ سے بھی ان کا خاص تعلق قائم کردیا (ابن کثیر)
وَّالْبَيْتِ الْمَعْمُوْرِ ٤ ۙ بيت أصل البیت : مأوى الإنسان باللیل، قال عزّ وجلّ : فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خاوِيَةً بِما ظَلَمُوا [ النمل/ 52] ، ( ب ی ت ) البیت اصل میں بیت کے معنی انسان کے رات کے ٹھکانہ کے ہیں ۔ کیونکہ بات کا لفظ رات کو کسی جگہ اقامت کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خاوِيَةً بِما ظَلَمُوا [ النمل/ 52] یہ ان کے گھر ان کے ظلم کے سبب خالی پڑے ہیں ۔ عمر العِمَارَةُ : نقیض الخراب : يقال : عَمَرَ أرضَهُ : يَعْمُرُهَا عِمَارَةً. قال تعالی: وَعِمارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ [ التوبة/ 19] . يقال : عَمَّرْتُهُ فَعَمَرَ فهو مَعْمُورٌ. قال : وَعَمَرُوها أَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوها [ الروم/ 9] ، وَالْبَيْتِ الْمَعْمُورِ [ الطور/ 4] ، وأَعْمَرْتُهُ الأرضَ واسْتَعْمَرْتُهُ : إذا فوّضت إليه العِمَارَةُ ، قال : وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيها[هود/ 61] . ( ع م ر ) العمارۃ یہ خراب کی ضد ہے عمر ارضہ یعمرھا عمارۃ اس نے اپنی زمین آباد کی ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَعِمارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ [ التوبة/ 19] اور مسجد محترم ( یعنی خانہ کعبہ ) کو آباد کرنا ۔ کہا جاتا ہے ۔ عمرتہ میں نے اسے آباد کیا ۔ معمر چناچہ وہ آباد ہوگئی اور آباد کی ہوئی جگہ کو معمور کہا جاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَعَمَرُوها أَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوها [ الروم/ 9] اور اس کو اس سے زیادہ آباد کیا تھا جو انہوں نے کیا ۔ وَالْبَيْتِ الْمَعْمُورِ [ الطور/ 4] اور آباد کئے ہوئے گھر کی ۔ اعمر تہ الارض واستعمرتہ میں نے اسے آباد کرنے کے لئے زمین دی ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيها[هود/ 61] اور اس نے آباد کیا ۔
(٤۔ ٥) اور قسم ہے بیت المعمور کی وہ ساتویں آسمان پر بیت اللہ کے محاذ میں فرشتوں کی عبادت گاہ اور ان کا حرم ہے اس کے اور بیت اللہ کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جیسا کہ ساتویں زمین کی تہہ تک اور اس میں ستر ہزار فرشتے یومیہ داخل ہوتے ہیں اور جو ایک بار داخل ہوچکے ان کی پھر کبھی باری نہیں آئے گی اور یہ وہ گھر ہے جس کی حضرت آدم نے تعمیر فرمائی تھی اور پھر طوفان کے ذریعے ساتویں آسمان کی طرف اسے اٹھالیا گیا تھا اور اسے صراح بھی کہتے ہیں اور قسم ہے آسمان کی جو کہ ہر چیز سے بلند ہے۔
آیت ٤{ وَّالْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِ ۔ } ” اور قسم ہے آباد گھر کی ۔ “ ” البَیْتِ الْمَعْمُوْر “ سے بعض مفسرین بیت اللہ مراد لیتے ہیں کہ اس میں طواف اور عبادت کے لیے ہر وقت لوگ موجود رہتے ہیں۔ بعض دوسرے مفسرین کی رائے میں اس سے مراد خانہ کعبہ کے عین اوپر ساتویں آسمان میں فرشتوں کا کعبہ ہے جو ہر وقت ” معمور “ رہتا ہے ‘ جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے۔ اس کے علاوہ بعض مفسرین کی رائے میں اس سے دنیا مراد ہے جو طرح طرح کی مخلوق سے معمور ہے اور مجھے ذاتی طور پر اس رائے سے اتفاق ہے۔ اس لیے کہ بعد والی قسم اسی مفہوم سے مناسبت رکھتی ہے۔
3 According to Hadrat Hasan Basri, "the inhabited House" implies the House of Allah, the Ka`bah, which is never without its visitors and pilgrims at any time of the day and night. However, Hadrat `Ali, Ibn `Abbas, `Ikrimah, Mujahid, Qatadah, Dahhak, Ibn Zaid and other commentators have stated that it implies the Bait-al-ma 'mur (the inhabited House) which the Holy Prophet referred to in connection with his Mi'raj (Ascension), against the wall of which he had seen the Prophet Abraham reclining. Mujahid, Qatadah and Ibn Zaid say that just as the Ka`bah is the centre and place of refuge for all God-worshippers, so is there in every heaven a similar Ka`bah for its dwellers which occupies a similar central position for the worshippers of Allah there. One of these Ka`bahs was the one against the wall of which the Holy Prophet had seen the Prophet Abraham reclining on the occasion of the Mi'raj; and with it the Prophet Abraham had a natural affinity, for he himself was the founder of the Ka`bah of the earth. In view of this explanation, this second commentary does not go against the commentary given by Hadrat Hasan Basri, but if both are read together, we can understand that here the oath has not been sworn only by the Ka'bah of the earth, but it also includes an oath by all the Ka'bahs that are there in the entire Universe.
سورة الطُّوْر حاشیہ نمبر :3 آباد گھر سے مراد حضرت حسن بصری کے نزدیک بیت اللہ ، یعنی خانہ کعبہ ہے جو کبھی حج اور عمرہ اور طواف و زیارت کرنے والوں سے خالی نہیں رہتا ۔ اور حضرت علی ، ابن عباس ، عِکرِمہ ، مجاہد ، قَتَادہ ، ضحّاک ، ابن زَید اور دوسرے مفسرین اس سے مراد وہ بیتِ معمور لیتے ہیں جس کا ذکر معراج کے سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ، جس کی دیوار سے آپ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ٹک لگائے دیکھا تھا ۔ مجاہد ، قتادہ اور ابن زید کہتے ہیں کہ جس طرح خانہ کعبہ اہل زمین کے لیے خدا پرستوں کا مرکز و مرجع ہے ، اسی طرح ہر آسمان میں اس کے باشندوں کے لیے ایسا ہی ایک کعبہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کے لیے ایسی ہی مرکزیت رکھتا ہے ۔ ان ہی میں سے ایک کعبہ وہ تھا جس کی دیوار سے ٹیک لگائے حضرت ابراہیم علیہ السلام معراج میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر آئے تھے ، اور اس سے حضرت ابراہیم کی مناسبت فطری تھی کیونکہ آپ ہی زمین والے کعبہ کے بانی ہیں ۔ اس تشریح کو نگاہ میں رکھا جائے تو یہ دوسری تفسیر حضرت حسن بصری کی تفسیر کے خلاف نہیں پڑتی ، بلکہ دونوں کو ملا کر ہم یوں سمجھ سکتے ہیں کہ یہاں قَسم صرف زمین ہی کے کعبہ کی نہیں کھائی گئی ہے بلکہ اس میں ان تمام کعبوں کی قَسم بھی شامل ہے جو ساری کائنات میں موجود ہیں ۔
(52:4) والبیت المعمور : واؤ عاطفہ ہے البیت المعمور موصوف وصفت، اس کا عطف والطور پر ہے اور قسم ہے بیت معمور کی۔ المعمور اسم مفعول واحد مذکر عمر و عمارۃ (باب نصر) مصدر۔ آباد کیا ہوا۔ البیت المعمور آباد گھر۔ اس سے مراد خانہ کعبہ ہے۔ بعض کے نزدیک اس سے مراد آسمانی کعبہ ہے جو معراج کی رات رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دکھایا گیا تھا اور جو ہمارے کعبہ کے عین مقابل جہت میں واقع ہے المعمور کی صفت دونوں گھروں پر صادق آئی ہے آسمانی کعبہ اگر فرشتوں اور ان کی عبادت سے آباد ہے اور پرنور ہے۔ تو بیت الحرام بھی طائفین اور راکعین و ساجدین سے مزین اور معمور ہے۔ اور قسم ہے بیت معمور کی۔
ف 3 یعنی اس مسجد کی جو ساتویں آسمان پر ہے اور فرشتوں سے آباد ہے۔ صحیحین کی ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت نے فرمایا :” معراج کے موقع پر) پھر ساتواں آسمان پار کرلینے کے بعد مجھے ” البیت المعمود “ کی طرف لے جایا گیا۔ اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جو قیامت تک دوبارہ اس میں داخل نہیں ہوں گے۔ (شوکانی)
والبیت العمور (آباد گھر کی قسم) اس سے مراد کعبة اللہ بھی ہوسکتا ہے واضح یہ ہے کہ مراد وہ بیت المعمور ہے جو فرشتوں کی عبادت کی جگہ ہے کیونکہ صحیح احادیث میں اور حدیث اسرا میں آتا ہے ” اس کے بعد مجھے بیت المعمور کی طرف اٹھایا گیا۔ اس میں ہر دن ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی واپس نہیں ہوتا۔ “ یعنی یہ فرشتے وہاں اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور وہ اسی کا اسی طرح طواف کرتے ہیں جس طرح اہل زمین ، زمین کے کعبہ کا طواف کرتے ہیں۔