Surat ut Toor

Surah: 52

Verse: 49

سورة الطور

وَ مِنَ الَّیۡلِ فَسَبِّحۡہُ وَ اِدۡبَارَ النُّجُوۡمِ ﴿۴۹﴾٪  4

And in a part of the night exalt Him and after [the setting of] the stars.

اور رات کو بھی اس کی تسبیح پڑھ اور ستاروں کے ڈوبتے وقت بھی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَمِنَ اللَّيْلِ فَسَبِّحْهُ ... And in the nighttime also glorify His praises, meaning remember and worship Allah by reciting the Qur'an and praying at night. Allah the Exalted said in another Ayah, وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَاماً مَّحْمُودًا And in some of the night, offer Tahajjud in it as an additional (prayer) for you. It may be that your Lord will raise you to Maqam Mahmud. (17:79) Allah said; ... وَإِدْبَارَ النُّجُومِ and at the setting of the stars. is in reference to the two voluntary Rak`ahs before the Dawn prayer, according to a Hadith from Ibn Abbas. These two Rak`ahs are an established Sunnah performed before the stars are about to set. It is confirmed in the Two Sahihs from A'ishah, may Allah be pleased with her, who said, "The Prophet was never more regular and particular in offering any voluntary prayer than the two (Sunnah) Rak`ahs of the Fajr prayer." In another narration collected by Muslim, the Prophet said, رَكْعَتَا الْفَجْرِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا Two (Sunnah) Rak`ahs before Fajr are better than this life and all that in it. This is the end of the Tafsir of Surah At-Tur, all praise and gratitude is due to Allah.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

49۔ 1 اس سے مراد قیام اللیل۔ یعنی نماز تہجد، جو عمر بھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معمول رہا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٣] رات سے مراد مغرب، عشا اور تہجد کی نمازیں بھی ہوسکتی ہیں اور ان کے علاوہ ذکر الٰہی بھی۔ اور ستاروں کے غروب ہونے سے سپیدہ صبح کے ظہور کا وقت ہے۔ جب سب ستاروں کی روشنی ماند پڑنے لگتی ہے پھر غائب ہوجاتے ہیں اور اس سے مراد نماز فجر ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) ومن الیل فسبحہ : اس سے مراد مغرب اور عشاء ہے۔ (٢) وادبار النجوم : اس سے مراد فجر کی فرض نماز ہے۔ بعض حضرات نے اس سے مراد فجر کی نماز سے پہلے کی دو رکعتیں لی ہیں، مگر امام طبری فرماتے ہیں کہ یہاں ” فسبحہ “ امر کا صیغہ ہے جو فرض کے لئے ہے، اس لئے اس سے مراد فرض رکعتیں ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ ان آیات میں پانچوں نمازوں کا حکم ہے، اس طرح کہ ” حین تقوم “ میں ظہر و عصر کا، ” من الیل “ میں مغرب و عشاء کا اور ” ادبار النجوم “ میں فجر کی نماز کا ذکر ہے۔ (واللہ اعلم)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَمِنَ اللَّيْلِ فَسَبِّحْهُ (And, in parts of night too, proclaim His purity, and at setting of the stars...52:49) &Proclaiming the purity of the Lord in parts of night& includes Maghrib and ` Isha& prayers, as well as the general tasbihat (proclamation of the purity of the Lord). The concluding part of this verse; |"...and at setting of the stars|" refers to the Fajr prayer and the tasbihat recited at that time. (Ibn Kathir) Alhamdu1i11ah The Commentary on Surah At-Tur Ends here

وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ ، یعنی رات میں تسبیح کیجئے اس میں نماز مغرب و عشاء بھی داخل ہے اور عام تسبیحات بھی، وَاِدْبَار النُّجُوْمِ ، یعنی ستاروں کے غائب ہونے کے بعد، مراد اس سے نماز فجر اور اس وقت کی تسبیحات ہیں ( ابن کثیر) تمت سورة الطور بحمد اللہ سبحانہ عصر یوم الاربعاء لثلٰث و عشرین من ربیع الاول س 1391 ھ واللہ المسؤل لاتمام الباقی بعونہ و حسن توفیقہ

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْہُ وَاِدْبَارَ النُّجُوْمِ۝ ٤٩ ۧ ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/ 1] ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل ( کرنا شروع ) وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] اور رات اور دن کو تمہاری خاطر کام میں لگا دیا ۔ دبر ( پيٹھ) دُبُرُ الشّيء : خلاف القُبُل وكنّي بهما عن، العضوین المخصوصین، ويقال : دُبْرٌ ودُبُرٌ ، وجمعه أَدْبَار، قال تعالی: وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍدُبُرَهُ [ الأنفال/ 16] ، وقال : يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبارَهُمْ [ الأنفال/ 50] أي : قدّامهم وخلفهم، وقال : فَلا تُوَلُّوهُمُ الْأَدْبارَ [ الأنفال/ 15] ، وذلک نهي عن الانهزام، وقوله : وَأَدْبارَ السُّجُودِ [ ق/ 40] : أواخر الصلوات، وقرئ : وَإِدْبارَ النُّجُومِ ( وأَدْبَار النّجوم) فإدبار مصدر مجعول ظرفا، ( د ب ر ) دبر ۔ بشت ، مقعد یہ قبل کی ضد ہے اور یہ دونوں لفظ بطور کنایہ جائے مخصوص کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور اس میں دبر ا اور دبر دولغات ہیں اس کی جمع ادبار آتی ہے قرآن میں ہے :َ وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍدُبُرَهُ [ الأنفال/ 16] اور جو شخص جنگ کے روز ان سے پیٹھ پھیرے گا ۔ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبارَهُمْ [ الأنفال/ 50] ان کے مونہوں اور پیٹھوں پر ( کوڑے و ہیتھوڑے وغیرہ ) مارتے ہیں ۔ فَلا تُوَلُّوهُمُ الْأَدْبارَ [ الأنفال/ 15] تو ان سے پیٹھ نہ پھیرنا ۔ یعنی ہزیمت خوردہ ہوکر مت بھاگو ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ وَأَدْبارَ السُّجُودِ [ ق/ 40] اور نماز کے بعد ( بھی ) میں ادبار کے معنی نمازوں کے آخری حصے ( یا نمازوں کے بعد ) کے ہیں . وَإِدْبارَ النُّجُومِ«1»میں ایک قرات ادبارالنجوم بھی ہے ۔ اس صورت میں یہ مصدر بمعنی ظرف ہوگا یعنی ستاروں کے ڈوبنے کا وقت جیسا کہ مقدم الجام اور خفوق النجم میں ہے ۔ اور ادبار ( بفتح الحمزہ ) ہونے کی صورت میں جمع ہوگی ۔ نجم أصل النَّجْم : الكوكب الطالع، وجمعه : نُجُومٌ ، ونَجَمَ : طَلَعَ ، نُجُوماً ونَجْماً ، فصار النَّجْمُ مرّة اسما، ومرّة مصدرا، فَالنُّجُوم مرّة اسما کالقلُوب والجُيُوب، ومرّة مصدرا کالطُّلوع والغروب، ومنه شُبِّهَ به طلوعُ النّبات، والرّأي، فقیل : نَجَمَ النَّبْت والقَرْن، ونَجَمَ لي رأي نَجْما ونُجُوماً ، ونَجَمَ فلانٌ علی السّلطان : صار عاصیا، ونَجَّمْتُ المالَ عليه : إذا وَزَّعْتُهُ ، كأنّك فرضت أن يدفع عند طلوع کلّ نَجْمٍ نصیباً ، ثم صار متعارفا في تقدیر دفعه بأيّ شيء قَدَّرْتَ ذلك . قال تعالی: وَعَلاماتٍ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ [ النحل/ 16] ، وقال : فَنَظَرَ نَظْرَةً فِي النُّجُومِ [ الصافات/ 88] أي : في علم النُّجُوم، وقوله : وَالنَّجْمِ إِذا هَوى[ النجم/ 1] ، قيل : أراد به الكوكب، وإنما خصّ الهُوِيَّ دون الطّلوع، فإنّ لفظة النَّجْم تدلّ علی طلوعه، وقیل : أراد بِالنَّجْم الثُّرَيَّا، والعرب إذا أطلقتْ لفظَ النَّجم قصدتْ به الثُّرَيَّا . نحو : طلع النَّجْمُ غُدَيَّه ... وابْتَغَى الرَّاعِي شُكَيَّه «1» وقیل : أراد بذلک القرآن المُنَجَّم المنزَّل قَدْراً فَقَدْراً ، ويعني بقوله : هَوى نزولَهُ ، وعلی هذا قوله : فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] فقد فُسِّرَ علی الوجهين، والتَّنَجُّم : الحکم بالنّجوم، وقوله تعالی: وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدانِ [ الرحمن/ 6] فَالنَّجْمُ : ما لا ساق له من النّبات، وقیل : أراد الکواكبَ. ( ن ج م ) النجم اصل میں طلوع ہونے ولاے ستارے کو کہتے ہیں اس کی جمع نجوم آتی ہے ۔ اور نجم ( ن ) نجوما ونجاما کے معنی طلوع ہونے کے ہیں نجم کا لفظ کبھی اسم ہوتا ہے اور کبھی مصدر اسی طرح نجوم کا لفظ کبھی قلوب وجیوب کی طرح جمع ہوتا ہے اور کبھی طلوع و غروب کی طرح مصدر اور تشبیہ کے طور پر سبزہ کے اگنے اور کسی رائے کے ظاہر ہونے پر بھی نجم النبت والقرن ونجم لی رای نجما کا محاورہ استعمال ہوتا ہے ۔ نجم فلان علی السلطان بادشاہ سے لغایت کرنا نجمت المال علیہ اس کے اصل منعی تو ستاروں کے طلوع کے لحاظ سے قرض کی قسطیں مقرر کرنے کے ہیں ۔ مثلا فلاں ستارے کے طلوع پر مال کی اتنی قسط ادا کرتا رہوں گا ۔ مگر عرف میں لطلق اقساط مقرر کرنے پر بولا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ [ النحل/ 16] اور لوگ ستاروں سے بھی رستے معلوم کرتے ہیں ۔ فَنَظَرَ نَظْرَةً فِي النُّجُومِ [ الصافات/ 88] تب انہوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی ۔ یعنی علم نجوم سے حساب نکالا ۔ اور آیت کریمہ ؛ ۔ وَالنَّجْمِ إِذا هَوى[ النجم/ 1] تارے کی قسم جب غائب ہونے لگے ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ نجم سے مراد ستارہ ہے اور طلع کی بجائے ھوی کا لفظ لانے کی وجہ یہ ہے کہ طلوع کے معنی پر تو لفظ نجم ہی دلالت کر رہا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ جنم سے مراد ثریا یعنی پر دین ہے کیونکہ اہل عرب جب مطلق النجم کا لفظ بولتے ہیں تو پر دین ہی مراد ہے جیسا کہ مقولہ ہے طلع النجم غد یہ وابتغی الراعی سکیہ صبح کا ستارہ طلوع ہوا اور چر واہے نے اپنا مشکیزہ سنبھالا ۔ بعض نے کہا ہے کہ آیت مذکورہ میں النجم سے مراد نجوم القرآن ہیں ۔ کیونکہ وہ بھی تد ریجا معین مقدار میں نازل ہوتا رہا ہے اور ھوی سے اس کا نزول مراد ہے اسی طرح آیت کریمہ : ۔ فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم ۔ میں بھی مواقع النجوم کی دو طرح تفسیر بیان کی گئی ہے یعنی بعض نے مواقع النجوم سے مراد ستاروں کے منازل لئے ہیں اور بعض نے نجوم القرآن مراد لئے ہیں ۔ التنجم علم نجوم کے حساب سے کوئی پیش گوئی کرنا اور آیت کریمہ : ۔ وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدانِ [ الرحمن/ 6] اور بوٹیاں اور درخت سجدے کر رہے ہیں ۔ میں نجم سے بےتنہ نباتات یعنی جڑی بوٹیاں مراد ہیں اور بعض نے ستارے مراد لئے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٩{ وَمِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْہُ } ” اور رات کے ایک حصے میں بھی آپ اس کی تسبیح کریں “ گویا تہجد کے علاوہ بھی رات کے مختلف حصوں میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسبیح وتحمید کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔ ابتدائی دور کی ان سورتوں میں جن اوقات کو اللہ کے ذکر کے لیے مخصوص کرنے کے احکام دیے گئے ہیں ‘ بعد میں جب پانچ اوقات کی نماز فرض ہوئی تو وہی اوقات مختلف نمازوں کے اوقات قرار پائے۔ چناچہ اس حکم کے مطابق مغرب اور عشاء کی نمازیں فرض ہوئیں ‘ کیونکہ غروب آفتاب سے رات شروع ہوجاتی ہے اور عشاء کی نماز بھی رات کے ایک حصے میں ہی ادا کی جاتی ہے۔ { وَاِدْبَارَ النُّجُوْمِ ۔ } ” اور ستاروں کے پیٹھ موڑتے وقت بھی (آپ تسبیح کیجیے) ۔ “ جب ستاروں کا قافلہ کوچ کرتا ہے تو صبح کی آمد آمد ہوتی ہے۔ اس سے صبح صادق کا وقت مراد ہے اور بعد میں اس وقت پر نماز فجر فرض ہوئی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

40 There can be several meanings of this and possibly alI may be First, "Whenever you rise from a meeting, you should rise glorifying and praising AIIah. " The Holy Prophet himself acted upon this as well as instructed the Muslims that they should glorify and praise AIlah when they rose from a meeting. Abu Da'ud, Tirmidhi, Nasa`i and Hakim have related, on the authority of Hadrat Abu Hurairah, that the Holy Prophet said: "If a person sat in a meeting in which much controversy took place, and he pronounced the following words before rising, Allah would forgive whatever passed in the meeting: subhanaka Allahumma wa bi-hamdika, ashhadu-al la-ilaha illa Anta, astaghfiruka wa utubu ilaika: ''O Allah, I glorify You with Your praises: I bear witness that there is no deity but You: I seek Your forgiveness and offer repentance before You. " The second meaning is: "When you get up from bed, glorify your Lord with His praise. " The Holy Prophet acted upon this himself and had also taught his Companions that they should pronounce the following words when they got up after sleep: l a ilaha ill-Allah wahda-hu la sharika lahu, lahul mulku wa lahul-hamdu wa haws ala kulli shai In Qadir. Subhan-Allah-i wal-hamdu-lillahi wa la ilaha ill-AIIah, wallahu Akbar, wa la hauls wa la quwwata-illa-billah. " (Musnad Ahmad, Bukhari, on the authority of `Ubadah bin as-Samit). Its third meaning is: "When you stand up for the Prayer, begin it with the praise and glorification of Allah. " Accordingly, the Holy Prophet (upon whom be peace) taught that the Prayer should be begun, after the first takbir, with the following words: Subhanak-Allahumma wa bi-hamdi-ka wa tabarak asmuka wa ta'aIa jadduka wa la ilaha ghairuka: "Glory be to You, O Allah, and I praise You. Blessed is Your name, and You are exalted. There is no god other than You." Its fourth meaning is: "When you rise to invite others to Allah, begin your invitation with the praise and glorification of Allah." That also was the Holy Prophet's constant practice, and he always began his addresses with the praise and glorification of AIlah Almighty. Commentator Ibn Jarir has given still another meaning of it, and it is this: When you get up after the midday nap, offer the Prayer and this implies the Zuhr Prayer." 41 This implies the Maghrib, the 'Isha' and the Tahajjud Prayers as well as the recital of the Qur'an and the remembrance of AIIah. 42 "Retreat of the stars" implies the early hours of the morning when the stars set and they lose their lustre on the appearance of dawn. This is the time of the Fajr Prayer.

سورة الطُّوْر حاشیہ نمبر :41 اس سے مراد مغرب و عشا اور تہجد کی نمازیں بھی ہیں ، اور تلاوت قرآن بھی ، اور اللہ کا ذکر بھی ۔ سورة الطُّوْر حاشیہ نمبر :42 ستاروں کے پلٹنے سے مراد رات کے آخری حصہ میں ان کا غروب ہونا اور سپیدیِ صبح کے نمودار ہونے پر ان کی روشنی کا ماند پڑ جانا ہے ۔ یہ نماز فجر کا وقت ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

17: اس سے مراد سحری کا وقت یا فجر کا وقت ہے جب ستارے غائب ہونے لگتے ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(52:49) ومن الیل فسبحہ وادبار النجوم : ای فسبحہ من الیل وادبار النجوم۔ اور اس کی تسبیح کیجئے رات کے کسی حصہ میں اور اس وقت بھی جب ستارے ڈوب رہے ہوں۔ من تبعیضیہ ہے۔ رات کا بعض حصہ۔ رات کو تسبیح سے مراد ہے کہ نماز پڑھو۔ مقاتل (رح) نے کہا اس سے مغرب اور عشاء کی نماز مراد ہے، میں کہتا ہوں بظاہر تہجد مراد لینا اچھا ہے آیت میں نماز شب کا خصوصی ذکر اس لئے کیا کہ رات کی عبادت نفس پر بڑی شاق گذرتی ہے اور دکھاوے کا شبہ نہیں ہوتا (تفسیر مظہری) ادبار النجوم : ادبار بروزن افعال مصدر ہے۔ پیٹھ پھیرنا۔ ای وقت ادبار النجوم من اخر الیل اخیر شب تاروں کے ڈھلنے کے وقت۔ غیب تھا بضوء الصبح صبح کی لو سے ستاروں کا مذند پڑجانا اور گم ہوجانا (روح المعانی) اذا غربت او خفیت جب ستارے ماند پڑجائیں یا غروب ہوجائیں (بیضاوی) ادبار النجوم کے وقت کی تسبیح سے مراد فجر کی نماز کی دو سنتیں ہیں۔ ای رکعتا الفجر فجر کی دو سنتیں (روح المعانی) اوصلاۃ الفجر (مدارک التنزیل) ادبار النجوم میں ادبار بوجہ ظرفیت منصوب ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 جمہور مفسرین کے قول یہ پوری سورة مکی ہے ایک روایت میں حضرت ابن عباس نے آیت الذین یجتنبون کیا براء الاثم و القواحش کو مدنی قرار دیا ہے۔ صحیحین میں حضرت ابن مسعود سے روایت ہے کہ سب سے پہلی سورة جس میں سجدہ تلاوت اترا، سورة نجم تھی۔ آنحضرت نے سجدہ کیا اور ایک شخص کے سوا سب نے سجدہ کیا۔ علماء نے تصریح کی ہے کہ سجدہ تلاوت مستحب ہے واجب نہیں ہے اور یہی صحیح معلوم ہوتا ہے۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ حاصل یہ کہ اپنے دل کو ادھر مشغول رکھیئے پھر فکر و غم کا غلبہ نہ ہوگا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کہا گیا : وانا ........ یوحیٰ ” اور میں نے آپ کو چن لیا ہے لہٰذا جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے اسے سنو “ اور یہ بھی کہا گیا تھا۔ والقیت ........ عینی ” اور میں نے اپنی طرف سے تم پر ایک محبت ڈال دی تاکہ تمہاری پرورش میری آنکھوں کے سامنے ہو۔ “ اور دوسری جگہ کہا گیا۔ واصطنعتک لنفسی ” میں نے تجھے اپنے لئے بنایا ہے “ یہ سب تعبیرات بتائی ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مرتبہ نہایت ہی بلند تھا لیکن اس کے مقابلے میں حضور اکرم کے لئے جو الفاظ استعمال ہوئے وہ یہ ہیں : فانک باعیننا (٢٥ : ٨٤) ” تم ہماری نگاہ میں ہو ” یہ ایک ایسا انداز ہے جس میں خصوصی اعزاز نظر آتا ہے۔ خصوصی محبت نظر آتی ہے۔ اس میں ایسے رنگ ہیں جو نہایت ہی لطیف اور حسین ہیں۔ انسان ایسی تعبیرات پیش کرنے سے عاجز ہے۔ ہمارے لئے یہ کافی ہے کہ ہم ان رنگوں میں زندگی بسر کریں اور صرف اس طرف اشارہ کردیں۔ اس محبت کے ساتھ دائمی ربط کا طریقہ بتایا جاتا ہے۔ وسبح ........ النجوم (٢٥ : ٩٤) ” تم جب اٹھو تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرو ، رات کو بھی اس کی تسبیح کیا کرو اور ستارے جب پلٹتے ہیں اس وقت بھی۔ “ رات دن ، سونے سے اٹھتے وقت ، رات کے وقت اور صبح کو جب ستارے ڈوب جاتے ہیں۔ یہ وہ اوقات ہیں جن میں اس محبت کے تعلق سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ اللہ کی تسبیح ایک زاد راہ ہے۔ محبت الٰہی ہے اور دلوں کی مناجات ہے پھر محبت کرنے والے دل سے ہو تو اس کے کیا کہنے ؟

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿وَ مِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اِدْبَار النُّجُوْمِ (رح) ٠٠٤٩﴾ (اور رات کے حصہ میں اپنے رب کی تسبیح بیان کیجئے اور ستاروں کے چھپنے کے بعد) اس میں رات کے اوقات میں تسبیح بیان کرنے کا حکم فرمایا ہے اور ستاروں کے غروب ہوجانے کے بعد بھی بعض حضرات نے ﴿ وَ مِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ ﴾ سے مغرب اور عشاء کی نماز مراد لی ہے اور ادبار النجوم سے فجر کی دورکعتیں مراد لی ہیں اور بعض حضرات نے ومن الیل سے رات کو نفل پڑھنا مراد لیا ہے۔ وباللہ التوفیق وھو خیر عون و خیر رفیق

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(49) اور بعض اوقات شب میں بھی اور ستاروں کے غائب ہوئے پیچھے بھی اس کی تسبیح کیا کیجئے۔ حضرت حق تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو صبر کی تلقین فرمائی یعنی آپ انتقام میں جلدی نہ کیجئے اگرچہ آپ کی یہ جلدی اپنے نفس کے لئے نہیں ہوتی بلکہ اسلام کی برتری اور دین حق کی بلندی کے لئے ہوتی ہے کہ جس قدر جلد کفر کی شوکت پارہ پارہ ہوگی اس قدر جلدی اسلام بلند ہوگا پھر بھی اپنے رب کے حکم کا انتظار کرتے رہیے اور صبر کریں اور اپنے رب کے حکم کے منتظر رہیں اور اس کا فکر ن کریں کہ مہلت کے زمانے میں کفار آپ کو اذیت پہنچا سکیں گے کیونکہ آپ ہماری حفاظت میں ہیں اور ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ واصنع الفلک باعیننا حضرت نوح (علیہ السلام) کو فرمایا تھا لیکن فانک باعیننا میں اور واصنع الفلک باعیننا میں بڑا فرق ہے۔ بہرحال آپ تسبیح اور تحمید کرتے رہیں یعنی حمدوثنا کے ساتھ پاکی بیان کیا کریں جب آپ اٹھیں یعنی صبح کے وقت یا تہجد کے وقت نیند سے اٹھیں یا مجلس سے یہ نماز کو اٹھیں اور رات کے اوقات میں بھی اس سے عشاء کی اور مغرب کی نماز شاید مراد ہیں یا تہجد کی نماز مراد اور ستاروں کے غائب ہوئے پیچھے یعنی صبح صادق ہوجانے کے بعد یہی تاروں کے غائب ہونے کا وقت ہے اس وقت علی الترتیب تارے غائب ہونے شروع ہوجاتے ہیں یعنی صبح کی نماز پڑھا کیجئے یا فجر کی نماز سے پہلے دو رکعتیں مراد ہیں۔ مفسرین کے تسبیح کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں۔ سبحان اللہ وبحمدہ اور سبحانک اللھم وبحمدک اشھد ان لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک۔ یہ الفاظ مجلس سے اٹھتے وقت پڑھنا مسنون ہیں۔ بہرحال جو آسان ہو وہ اختیار کی جائے اور اوقات مذکورہ میں خاص اہتمام کیا جائے۔ تم تفسیر سورة الطور