Surat ut Toor

Surah: 52

Verse: 5

سورة الطور

وَ السَّقۡفِ الۡمَرۡفُوۡعِ ۙ﴿۵﴾

And [by] the heaven raised high

اور اونچی چھت کی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And by the roof raised high. Sufyan Ath-Thawri, Shu`bah, and Abu Al-Ahwas, all narrated from Simak, from Khalid bin Ar`arah, from Ali bin Abi Talib: "Meaning the heaven." Sufyan added, "Then `Ali recited, وَجَعَلْنَا السَّمَأءَ سَقْفاً مَّحْفُوظاً وَهُمْ عَنْ ءَايَـتِهَا مُعْرِضُونَ And We have made the heaven a roof, safe and well-guarded. Yet they turn away from its signs. (21:32)" Similar was said by Mujahid, Qatadah, As-Suddi, Ibn Jurayj, Ibn Zayd and preferred by Ibn Jarir. The statement of Allah the Exalted, وَالْبَحْرِ الْمَسْجُورِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

5۔ 1 اس سے مراد آسمان ہے جو زمین کے لئے بمنزلہ چھت کے ہے۔ قرآن نے دوسرے مقام پر اسے ' محفوظ چھت ' کہا ہے، بعض نے اس سے عرش مراد لیا ہے جو تمام مخلوقات کے لئے چھت ہے۔ (وَجَعَلْنَا السَّمَاۗءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا) 21 ۔ الانبیاء :32) ۔ بعض نے اس سے عرش مراد لیا ہے جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤] اس سے مراد وہ نیلگوں آسمان ہے جو ہمیں اپنے سروں پر قبہ کی طرح چھایا ہوا نظر آتا ہے نیز اس سے پورے کا پورا عالم بالا بھی مراد لیا جاسکتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(والسقف المرفوع : اس سے مراد آسمان ہے جو زمین کے لئے چھت کی طرح ہے، جیسا کہ فرمایا :(وجعلنا السمآء سقفاً محفوظاً وھم عن ایتھا معرضون) (الانبیائ : ٣٢)” اور ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنا یا اور وہ اس کی نشانیوں سے منہ پھیرنے والے ہیں۔ “ جسے اللہ تعالیٰ نے اتنی بلندی پر کسی ستون کے بغیر محض اپنے حکم کے ساتھ تھام کر رکھا ہوا ہے، فرمایا :(اللہ الذی رفع السموت بغیر عمد ترونھا) (الرعد : ٢)” اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا بغیر ستونوں کے جنہیں تم دیکھتے ہو۔ “ اور فرمایا :(ویمسک السمآء ان تفع علی الارض الا باذنہ) (الحج : ٦٥) ” اور وہ آسمان کو تھام کر رکھتا ہے اس سے کہ زمین پر گرپڑے مگر اس کے اذن سے۔ “ پھر اسب لند چھت کو سورج، چاند اور ستاروں کیساتھ سجا رکھا ہے، فرمایا :(ولقد زینا السمآء الدنیا بمصابیح) (الملک : ٥)” اور بلا شبہ یقینا ہم نے قریب آسمان کو چراغوں کے ساتھ زینت بخشی۔ “ اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر آسمان کے پیدا کرنے کو انسان کی دوبارہ پیدائش کی دلیل کے طور پر ذکر فرمایا ہے، فرمایا :(ء انتم اشد خلقاً ام السمآء بنھا، رفع سمکھا فسوھا، واغطش لیلھا واخرج صحھا) (النازعات :28 تا 29)” کیا پیدا کرنے میں تم زیادہ مشکل ہو یا آسمان ؟ اس نے اسے بنایا۔ اس کی چھت کو بلند کیا، پھر اسے برابر کیا۔ اور اس کی رات کو تاریک کردیا اور اس کے دن کی روشنی کو ظاہر کردیا۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوْعِ۝ ٥ ۙ سقف سَقْفُ البیت، جمعه : سُقُفٌ ، وجعل السماء سقفا في قوله تعالی: وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوعِ [ الطور/ 5] ، وقال تعالی: وَجَعَلْنَا السَّماءَ سَقْفاً مَحْفُوظاً [ الأنبیاء/ 32] ، وقال : لِبُيُوتِهِمْ سُقُفاً مِنْ فِضَّةٍ [ الزخرف/ 33] ، والسَّقِيفَةُ : كلّ مکان له سقف، کالصّفّة، والبیت، والسَّقَفُ : طول في انحناء تشبيها بالسّقف ( س ق ف ) سقف البیت مکان کی چھت کر کہتے ہیں اس کی جمع سقف ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ لِبُيُوتِهِمْ سُقُفاً مِنْ فِضَّةٍ [ الزخرف/ 33]( ہم ) ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنادیتے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوعِ [ الطور/ 5] اور اونچی چھت کی ۃ قسم میں مراد آسمان ہے جیسا کہ آیت : ۔ وَجَعَلْنَا السَّماءَ سَقْفاً مَحْفُوظاً [ الأنبیاء/ 32] میں آسمان کو محفوظ چھت فرمایا ہے ۔ اور ہر وہ جگہ جو مسقف ہو اسے سقیفہ کہا جاتا ہے جیسے صفۃ ( چبوترہ ) مکان وغیرہ ۔ اور چھت کے ساتھ تشبیہ دے کر ہر اس لمبی چیز رفع الرَّفْعُ في الأجسام الموضوعة إذا أعلیتها عن مقرّها، نحو : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 93] ، قال تعالی: اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّماواتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2] ( ر ف ع ) الرفع ( ف ) کے معنی اٹھانے اور بلند کرنے کے ہیں یہ مادی چیز جو اپنی جگہ پر پڑی ہوئی ہو اسے اس کی جگہ سے اٹھا کر بلند کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ جیسے فرمایا : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 93] اور ہم نے طو ر پہاڑ کو تمہارے اوپر لاکر کھڑا کیا ۔ اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّماواتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2] وہ قادر مطلق ہے جس نے آسمان کو بدوں کسی سہارے کے اونچا بناکر کھڑا کیا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥{ وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوْعِ ۔ } ” اور قسم ہے اونچی چھت کی ۔ “ اس سے آسمان مراد ہے ۔ پچھلی آیت کے ساتھ ملا کر پڑھنے سے اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ یہ دنیا ایک گھر کی مانند ہے جس میں انسان آباد ہیں اور آسمان اس گھر کی چھت ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

4 "The elevated roof : the sky which seems to be spread over the earth like a vault; here this word has ban used for the entire Universe. (For explanation, sec E.N. 7 of Surah Qaf).

سورة الطُّوْر حاشیہ نمبر :4 اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جو زمین پر ایک قُبّے کی طرح چھایا ہوا نظر آتا ہے ۔ اور یہاں یہ لفظ پورے عالم بالا کے لیے استعمال ہوا ہے ( تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد پنجم ، تفسیر سورہ قٓ ، حاشیہ نمبر 7 ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(52:5) والسقف المرفوع : اس کی بھی وہی ترکیب ہے جو البیت المعمور کی ہے اور قسم کے بلند چھت کی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 اور بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد عرش ہے۔ واللہ اعلم (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

والسقف المرفوع (٢٥ : ٥) ” اور قسم ہے اونچی چھت کی “ اس سے مراد آسمان ہے۔ سفیاں ثوری کی یہی رائے ہے اور ابوالاحوص نے سماک ابن خالد ابن عرعرہ سے انہوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے یہی رائے نقل کی ہے۔ سفیان ثوری کہتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت علی (رض) نے یہ آیت پڑھی۔ وجعلنا ........ معرضون ” اور ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا اور یہ لوگ اس کی نشانیوں سے منہ پھیر رہے ہیں۔ “

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد فرمایا وَ السَّقْفِ الْمَرْفُوْعِۙ٠٠٥ یعنی بلند چھت کی قسم ہے۔ روح المعانی میں حضرت علی (رض) سے نقل کیا ہے کہ اس سے عرش الٰہی مراد ہے جو جنت کی چھت ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

3:۔ ” والسقف المرفوع “ یہ پہلی عقلی دلیل ہے اور سقف مرفوع سے آسمان بلند مراد ہے یعنی آسمان بلند جو تم سب کو محیط ہے، بھی گواہ ہے کہ تم احاطہ سے نکل کر بھاگ نہیں سکتے۔ تائید : ” یمعشر الجن والانس ان استطعتم ان تنفذوا من اقطار السموات والارض فانفذوا، لاتنفذوان الا بسلطان (رکوع 2) ۔ ” والبحر المسجور “ یہ دوسری عقلی دلیل ہے۔ ” المسجور “ پانی سے لبریز۔ قال قتادۃ البحر المسجور المملوء وھذا معروف من اللغۃ رجحہ الطبری (طبری، بحر) ۔ یہ پانی سے بھرا ہوا سمندر بھی گواہ ہے کہ جس طرح اس نے تم کو ہر طرف سے گھیرا ہوا ہے، اسی طرح قیامت کے دن اللہ کا عذاب تم کو ہر جانب سے گھیر لے گا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(5) اور اونچی اور بلند چھت کی۔