The tafseer of Surat un Najam, verse 22, from every tafseer on this site - read one or compare them with each other.
a division most unfair! meaning, it would be an unfair and unjust division. `How is it then that you make this division between you and Allah, even though this would be foolish and unjust, if you made it between yourselves and others?' Allah the Exalted refutes such innovated lies, falsehood and atheism they invented through worshipping the idols and calling them gods,
22۔ 1 ضِیْزیٰ ، حق و صواب سے ہٹی ہوئی۔
[١٣] گویا مشرکین عرب دوہرا ظلم ڈھاتے تھے۔ ایک تو اللہ کی اولاد قرار دیتے تھے اور انہیں اللہ کا شریک سمجھتے تھے۔ دوسرے شریک بھی ایسے جنہیں اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے جبکہ اپنے لیے وہ بیٹیوں کو قطعاً پسند نہ کرتے۔ بلکہ انہیں زندہ درگور کردیتے تھے۔
(تلک اذاً قسمۃ ضیزی :):” ضیزی “” ضاز یصیز صیزاً “ (ض) سے ” فعلی “ (فاء کے ضمہ کے ساتھ) کے وزن پر ہے جو ” افعل “ (اسم تفصیل) کی مونث ہے۔ اس کا معنی ” شدید الضیز “ (سخت ناانصافی والی ہے) ۔ ” ضاد “ کے ضمہ کو ” یائ “ کی موافقت کے لئے کسرہ سے بدل دیا گیا۔ یعنی ایک تو اللہ کے لئے اولاد بتانا، پھر اپنے لئے لڑکے اور اللہ تعالیٰ کے لئے لڑکیاں پسند کرنا ، یہ تو بہت ہی سخت ناانصافی کی تقسیم ہے۔
قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ (If so, it is a totally unjust division.... 53:22) |" Diza means to act or behave unjustly or to defraud one of one&s right or due. Therefore, Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) interprets the phrase as unjust or unfair division.
قِسْمَةٌ ضِيْزٰى، صنوز سے مشتق ہے، جس کے معنی ظلم کرنے اور حق تلفی کرنے کے ہیں، اسی لئے ابن عباس نے قِسْمَةٌ ضِيْزٰى کے معنی ظالمانہ تقسیم کے کئے ہیں۔
تِلْكَ اِذًا قِسْمَۃٌ ضِيْزٰى ٢٢ قسم تقسیم کرنا الْقَسْمُ : إفراز النّصيب، يقال : قَسَمْتُ كذا قَسْماً وقِسْمَةً ، وقِسْمَةُ المیراث، وقِسْمَةُ الغنیمة : تفریقهما علی أربابهما، قال : لِكُلِّ بابٍ مِنْهُمْ جُزْءٌ مَقْسُومٌ [ الحجر/ 44] ، وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْماءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ [ القمر/ 28] ( ق س م ) القسم والقسمہ ( ض ) کے معنی کسی چیز کے حصے کرنے اور بانٹ دینے کے ہیں مثلا قسمۃ المیراث تر کہ کو دا وارثوں کے در میان تقسیم کرنا قسمۃ الغنیمۃ مال غنیمت تقسیم کرنا قسمہ الغنیمۃ مال غنیمت تقسیم کرنا چناچہ قرآن میں ہے : ۔ لِكُلِّ بابٍ مِنْهُمْ جُزْءٌ مَقْسُومٌ [ الحجر/ 44] ہر ایک دروازے کے لئے ان میں سے جماعتیں تقسیم کردی گئیں ہیں ۔ وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْماءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ [ القمر/ 28] جاتی ہیں پھر مطلق کے معنی استعمال ہونے لگا ہے ۔ ضيز قال تعالی: تِلْكَ إِذاً قِسْمَةٌ ضِيزى[ النجم/ 22] ، أي : ناقصة . أصله : فُعْلَى، فکسرت الضّاد للیاء، وقیل : ليس في کلامهم فُعْلَى ( ض ی ز ) آیت کریمہ : تِلْكَ إِذاً قِسْمَةٌ ضِيزى[ النجم/ 22] میں ضیزیٰ کے معنی ناقص اور بےانصافی کے ہیں ۔ یہ اصل میں ضیزیٰ بروزن فعلٰی ہے ۔ یاء کی مناسبت سے ضاد کو مکسور کردیا گیا ہے ۔ ( کیونکہ ) بقول بعض کلام عرب میں فعلٰی کے وزن پر اسم صفت نہیں آتا ۔
آیت ٢٢{ تِلْکَ اِذًا قِسْمَۃٌ ضِیْزٰی ۔ } ” یہ تو بہت بھونڈی تقسیم ہے ! “
(53:22) تلک۔ یعنی یہ نر کا تمہارے لئے ہونا اور مادہ کا اللہ کے لئے ہونا۔ اذا۔ حرف جزاء ہے۔ بمعنی تب، اس وقت، اصل میں یہ اذن تھا۔ وقف کی صورت میں نون کو الف سے بدل لیتے ہیں۔ قسمۃ ضیزی : موصوف وصفت، بہت بھونڈی تقسیم، نہایت غیر منصفانہ تقسیم، بہت ناقص، ضیزی۔ ضاز یضیر (باب ضرب) کا مصدر بھی ہوسکتا ہے ۔ اجوف یائی ہے اور مہمو العین (باب فتح) سے بھی۔ ضاز یضاز کا مصدر ضیزی ہوگا۔ معنی دونوں کے قریب قریب ایک ہی ہیں۔ لہٰذا ضیزی ہر دو صورت میں مصدر بھی ہے اور صیغہ صفت بھی۔
تلک اذا قسمة ضیزی (٣٥ : ٢٢) ” یہ تو پھر بڑی دھاندلی کی تقسیم ہے “ جبکہ حقیقت پسند نظر سے دیکھا جائے تو اس تصور کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے۔ عقل و دانش کے زاویہ سے دیکھا جائے تو کوئی عقلی ونقلی دلیل اس پر نہیں ہے۔
ان لوگوں کی اس تجویز باطل کے بارے میں فرمایا ﴿ تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِيْزٰى٠٠٢٢﴾ کہ یہ تقسیم بڑی ظالمانہ ہے بھونڈی ہے باطل ہے خود غور کرنے اور سمجھنے کی بات ہے کہ جس چیز کو اپنے لیے ناپسند کرتے ہو اسے اللہ تعالیٰ کے لیے کیسے تجویز کیا۔
(22) اگر ایسا ہے تو پھر اس حالت میں تو یہ بہت ہی بھونڈی اور غیر منصفانہ تقسیم ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ جن بیٹیوں کو تم ناپسند کرتے ہو وہ ناپسندیدہ چیزتم خدا کی طرف منسوب کرتے ہو اور اپنے لئے بیٹے تجویز کرتے ہو اس قسم کی تقسیم تو بہت ہی غیر منصفانہ ہے۔