Surat un Najam

Surah: 53

Verse: 29

سورة النجم

فَاَعۡرِضۡ عَنۡ مَّنۡ تَوَلّٰی ۬ ۙ عَنۡ ذِکۡرِنَا وَ لَمۡ یُرِدۡ اِلَّا الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا ﴿ؕ۲۹﴾

So turn away from whoever turns his back on Our message and desires not except the worldly life.

تو آپ اس سے منہ موڑ لیں جو ہماری یاد سے منہ موڑے اور جن کا ارادہ بجز زندگانی دنیا کے اور کچھ نہ ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَأَعْرِضْ عَن مَّن تَوَلَّى عَن ذِكْرِنَا ... Therefore withdraw from him who turns away from Our Reminder, means, stay away from those who turn away from the Truth and shun them, ... وَلَمْ يُرِدْ إِلاَّ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا and desires nothing but the life of this world. meaning, whose aim and knowledge are concentrated on this life; this is the goal of those who have no goodness in them,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٩] ذکر سے مراد قرآن کریم بھی ہوسکتا ہے اور معبود ان باطل کے مقابلہ میں خالص اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے دعوت حق اور وعظ و نصیحت بھی یعنی جو شخص میرا ذکر سننا گوارا ہی نہیں کرتا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے سمجھانے پر اپنا وقت ضائع نہ کیجئے۔ ایسے لوگوں کا منتہائے مقصود صرف دنیوی مفادات ہی ہوتے ہیں جبکہ یہ تعلیم اخروی فلاح کی طرف بلاتی ہے۔ جس پر نہ ان کا ایمان ہے اور نہ انہیں اس کی ضرورت ہے۔ لہذا وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باتوں کی طرف کیوں توجہ دیں گے ؟۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(فاعرض عن من تولی عن ذکرنا : یہاں یہ کہنے کے بجائے کہ ” فاغرض عنھم “ (سو ان سے منہ پھیر لے) یہ فرمایا :(فاعرض عن من تولی عن ذکرنا) (سو اس سے منہ پھیر لے جس نے ہماری نصیحت سے منہ موڑا) تاکہ ان مشرکین سے اعراض کی وجہ بھی سامنے آجائے کہ جو شخص ہماری وحی کے ذریعے سے آنے والی نصیحت کی طرف وتجہ دینے کے لئے تیار ہی نہیں، بلکہ جان بوجھ کر اس سے منہ موڑے ہوئے ہے اور دنیا کی زندگی کے سوا اس نے کچھ جاہا ہی نہیں ہے، آپ بھی اس کے پیچھے نہ پڑیں اور نہ ہی اس کی خاطر وقت ضائع کریں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Necessity of turning away from the Misguided People فَأَعْرِ‌ضْ عَن مَّن تَوَلَّىٰ عَن ذِكْرِ‌نَا وَلَمْ يُرِ‌دْ إِلَّا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا ذَٰلِكَ مَبْلَغُهُم مِّنَ الْعِلْمِ (So, turn away from him who turns away from Our advice, and seeks nothing but (pleasure of) the worldly life.... 53:29-30) A Special Warning The Qur&an here describes the condition of those unbelievers who denied the Hereafter and the Day of Judgment. Regretfully, nowadays the Muslims have characterized themselves by the same condition as a result of Western education and material needs and desires. All our attempts to make progress in the fields of various branches of knowledge, sciences and arts pivot on, or revolve around, economics. They do not think even by mistake about ma&adiyyat (matters relating to the Life Hereinafter). We believe in the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and hope for his intercession. But Allah commands the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to withdraw from the people of misguidance and shun them. We seek refuge in Allah from such misguidance!

خلاصہ تفسیر (جب اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ اور جَاۗءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰى سے مشرکین عرب کا معاند ہونا معلوم ہوگیا کہ باجود نزول قرآن اور ہدایت کے یہ اپنے گمان اور ہویٰ پر چلتے ہیں، اور معاند سے قبول حق کی امید نہیں ہوتی) تو آپ ایسے شخص سے اپنا خیال ہٹا لیجئے جو ہماری نصیحت کا خیال نہ کرے اور بجز دنیوی زندگی کے اس کو کوئی (اخروی مطلب) مقصود نہ ہو ( جس کی وجہ عدم ایمان بالآخرة ہے جو لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ سے اوپر مفہوم ہوا ہے اور) ان لوگوں کے فہم کی رسائی کی حد بس یہی (دنیوی زندگی) ہے ( جب ان کی بدفہمی اور بےفکری کی نوبت یہاں تک پہنچی ہے تو ان کی فکر نہ کیجئے، ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کیجئے بس) تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستہ سے بھٹکا ہوا ہے اور وہ ہی اس کو بھی خوب جانتا ہے جو راہ راست پر ہے ( اس سے تو اس کا علم ثابت ہوا) اور ( اس سے قدرت ثابت ہے کہ) جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے (جب وہ علم اور قدرت دونوں کا کامل ہے اور اس کے قانون اور احکام پر عمل کرنے کے اعتبار سے لوگوں کی دو قسمیں ہیں گمراہ اور ہدایت پر عمل کرنے والے تو) انجام کار یہ ہے کہ برا کام کرنے والوں کو ان کے (برے) کام کے عوض میں (خاص طور کی) جزاء دے گا اور نیک کام کرنے والوں کو ان کے نیک کاموں کے عوض میں (خاص طور کی) جزا دے گا ( اس کا مقتضا یہ ہے کہ اسی کے حوالہ کیجئے آگے ان لوگوں کا بیان ہے جو نیکوں کار محسنین ہیں) وہ لوگ ایسے ہیں کہ کبیرہ گناہوں سے اور ( ان میں) بےحیائی کی باتوں سے (بالخصوص زیادہ) بچتے ہیں مگر ہلکے ہلکے گناہ (کبھی کبھار ہوجائیں تو جس نیکو کاری کا یہاں ذکر ہے اس میں ان سے خلل نہیں آتا، مطلب استثناء کا یہ ہے کہ الذین احسنوا یعنی محسنین جن کی اس آیت میں مدح کی گئی ہے اور ان کے محبوب عنداللہ ہونے کا اظہار کیا گیا ہے اس کا مصداق بننے کے لئے کبیرہ گناہوں سے بچنا تو شرط ہے، لیکن صغائر کا کبھی کبھی صدور اس محبوبیت کے منافی نہیں، البتہ صغیرہ گناہوں میں بھی یہ شرط ہے کہ ان کی عادت نہ ڈال لے اور ان پر اصرار نہ کرے، کبھی اتفاقی طور پر ہوجائے ورنہ اصرار اور عادت سے صغیر گناہ بھی کبیرہ ہوجاتا ہے اور استثناء کا یہ مطلب نہیں کہ صغائر کی اجازت ہے اور کبائر سے اجتناب کی شرط کا یہ مطلب ہے کہ محسنین کو ان کے نیک عمل کی اچھی جزا ملنا کبائر سے اجتناب پر موقوف ہے، کیونکہ مرتکب کبائر بھی جو حسنہ کرے گا اس کی جزا پاوے گا، لقولہ تعالیٰ فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ ، جس پر عنوان احسنوا دلالت کرتا ہے خوب سمجھ لو اور اوپر جو بدکاروں کو سزا دینے کا بیان آیا اس سے گناہ گاروں کو ناامید کرنے کا وہم ہوسکتا ہے جس کا اثر یہ ہوتا کہ ایمان و توبہ سے ہمت ہار دیں اور محسنین کو جرائے حسنہ دینے کے وعدہ سے ان کے عجب و غرور میں مبتلا ہونے کا ایہام اور خطرہ تھا، آگے ان دونوں ایہاموں کو رد کیا گیا ہے) بلاشبہ آپ کے رب کی مغفرت بڑی وسیع ہے (گناہ گاروں کو تدارک گناہ سے ہمت نہ ہارنی چاہئے، وہ اگر چاہے تو بجز کفر و شرک کے اور سیئات کو محض فضل سے معاف کردیتا ہے تو تدارک سے کیوں معاف نہ کرے گا اور اسی طرح محسنین کو عجب اور فخر نہ کرنا چاہئے، کیونکہ حسنات میں بعض اوقات ایسے مخفی نقائص مل جاتے ہیں، جس کے سبب وہ قابل قبول نہیں رہتے اور عامل کو اس طرف التفات نہ ہونے سے ان کی اطلاع بھی نہیں ہوتی اور حق تعالیٰ کو تو علم ہوتا ہے جب وہ حسنہ مقبول نہیں تو ان کا کرنے والا محسن اور محبوب نہیں، پھر عجب و غرور کیسا، اور یہ بات کہ تمہاری کسی حالت کی خود تم کو اطلاع نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کو اطلاع ہو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے بلکہ ابتداء ہی سے اس کا وقوع ہو رہا ہے، چنانچہ) وہ تم کو (اور تمہارے احوال کو اس وقت سے) خوب جانتا ہے، جب تم کو (یعنی تمہارے جد امجد آدم (علیہ السلام) کو) زمین (کی خاک) سے پیدا کیا تھا (جن کے ضمن میں بواسطہ تم بھی مٹی سے مخلق ہوئے) اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے (اور ان دونوں حالتوں میں تم کو خود اپنا کوئی علم نہ تھا اور ہم کو علم تھا پس اسی طرح اب بھی تمہارا خود اپنے سے ناواقف ہونا اور ہمارا عالم و واقف ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں، جب یہ بات ہے) تو تم اپنے کو مقدس مت سمجھا کرو (کیونکہ) تقویٰ والوں کو وہی خوب جانتا ہے ( کہ فلاں متقی ہے فلاں نہیں، گو صورةً افعال تقویٰ کے دونوں سے صادر ہوتے ہوں) ۔ معارف و مسائل فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى ڏ عَنْ ذِكْرِنَا وَلَمْ يُرِدْ اِلَّا الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا۔ ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ ، یعنی آپ ایسے لوگوں سے اپنا خیال ہٹا لیجئے جو ہماری یاد سے رخ پھیر لیں اور دنیوی زندگی کے سوا ان کا کوئی مقصد نہ ہو، یہی ان کا انتہائی علم و ہنر ہے۔ ضروری تنبیہ : قرآن کریم نے یہ ان کفار کا حال بیان کیا ہے جو آخرت و قیامت کے منکر ہیں، افسوس ہے کہ انگریزوں کی تعلیم اور دنیا کی ہواؤ ہوس نے آج کل ہم مسلمانوں کا یہی حال بنادیا ہے کہ ہمارے سارے علوم و فنون اور علمی ترقی کی ساری کوششیں صرف معاشیات کے گرد گھومنے لگیں، معادیات (معاملات آخرت) کا بھول کر بھی دہیان نہیں آتا۔ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام لیتے ہیں، اور آپ کی شفاعت کی امید لگائے ہوئے ہیں، مگر حالت یہ ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایسی حالت والوں سے رخ پھیر لینے کی ہدایت کرتا ہے، نعوذ باللہ منہ۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى۝ ٠ۥۙ عَنْ ذِكْرِنَا وَلَمْ يُرِدْ اِلَّا الْحَيٰوۃَ الدُّنْيَا۝ ٢٩ ۭ اعرض وإذا قيل : أَعْرَضَ عنّي، فمعناه : ولّى مُبدیا عَرْضَهُ. قال : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] ، فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ ( ع ر ض ) العرض ولي وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه . فمن الأوّل قوله : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] . ومن الثاني قوله : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ، ( و ل ی ) الولاء والتوالی اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] اور جو شخص تم میں ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر سے دوستی کرے گا ۔ اور تعدیہ بعن کے متعلق فرمایا : ۔ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] تو اگر یہ لوگ پھرجائیں تو خدا مفسدوں کو خوب جانتا ہے ۔ رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی کا فیصلہ کر ہے یا تم پر اپنا فضل وکرم کرنا چاہئے ۔ حيى الحیاة تستعمل علی أوجه : الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] ، الثانية : للقوّة الحسّاسة، وبه سمّي الحیوان حيوانا، قال عزّ وجلّ : وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] ، الثالثة : للقوّة العاملة العاقلة، کقوله تعالی: أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] والرابعة : عبارة عن ارتفاع الغمّ ، وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، أي : هم متلذّذون، لما روي في الأخبار الکثيرة في أرواح الشّهداء والخامسة : الحیاة الأخرويّة الأبديّة، وذلک يتوصّل إليه بالحیاة التي هي العقل والعلم، قال اللہ تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] والسادسة : الحیاة التي يوصف بها الباري، فإنه إذا قيل فيه تعالی: هو حيّ ، فمعناه : لا يصحّ عليه الموت، ولیس ذلک إلّا لله عزّ وجلّ. ( ح ی ی ) الحیاۃ ) زندگی ، جینا یہ اصل میں حیی ( س ) یحییٰ کا مصدر ہے ) کا استعمال مختلف وجوہ پر ہوتا ہے ۔ ( 1) قوت نامیہ جو حیوانات اور نباتات دونوں میں پائی جاتی ہے ۔ اسی معنی کے لحاظ سے نوبت کو حیہ یعنی زندہ کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] جان رکھو کہ خدا ہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ ۔ ( 2 ) دوم حیاۃ کے معنی قوت احساس کے آتے ہیں اور اسی قوت کی بناء پر حیوان کو حیوان کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] اور زندے اور مردے برابر ہوسکتے ہیں ۔ ( 3 ) قوت عاملہ کا عطا کرنا مراد ہوتا ہے چنانچہ فرمایا : ۔ أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا ۔ ( 4 ) غم کا دور ہونا مراد ہوتا ہے ۔ اس معنی میں شاعر نے کہا ہے ( خفیف ) جو شخص مرکر راحت کی نیند سوگیا وہ درحقیقت مردہ نہیں ہے حقیقتا مردے بنے ہوئے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا وہ مرے ہوئے نہیں ہیں بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں ۔ میں شہداء کو اسی معنی میں احیاء یعنی زندے کہا ہے کیونکہ وہ لذت و راحت میں ہیں جیسا کہ ارواح شہداء کے متعلق بہت سی احادیث مروی ہیں ۔ ( 5 ) حیات سے آخرت کی دائمی زندگی مراد ہوتی ہے ۔ جو کہ علم کی زندگی کے ذریعے حاصل ہوسکتی ہے : قرآن میں ہے : ۔ اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جب کہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لئے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی ( جادواں ) بخشتا ہے۔ ( 6 ) وہ حیات جس سے صرف ذات باری تعالیٰ متصف ہوتی ہے ۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ کی صفت میں حی کہا جاتا ہے تو اس سے مراد وہ ذات اقدس ہوئی ہے جس کے متعلق موت کا تصور بھی نہیں ہوسکتا ۔ پھر دنیا اور آخرت کے لحاظ بھی زندگی دو قسم پر ہے یعنی حیات دنیا اور حیات آخرت چناچہ فرمایا : ۔ فَأَمَّا مَنْ طَغى وَآثَرَ الْحَياةَ الدُّنْيا [ النازعات/ 38] تو جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو مقدم سمجھنا ۔ دنا الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في المکان والزّمان والمنزلة . قال تعالی: وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] ، وقال تعالی: ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى [ النجم/ 8] ، هذا بالحکم . ويعبّر بالأدنی تارة عن الأصغر، فيقابل بالأكبر نحو : وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَ وعن الأوّل فيقابل بالآخر، نحو : خَسِرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةَ [ الحج/ 11] ، وقوله : وَآتَيْناهُ فِي الدُّنْيا حَسَنَةً وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ [ النحل/ 122] ، وتارة عن الأقرب، فيقابل بالأقصی نحو : إِذْ أَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْيا وَهُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوى [ الأنفال/ 42] ، وجمع الدّنيا الدّني، نحو الکبری والکبر، والصّغری والصّغر . وقوله تعالی: ذلِكَ أَدْنى أَنْ يَأْتُوا بِالشَّهادَةِ [ المائدة/ 108] ، أي : أقرب لنفوسهم أن تتحرّى العدالة في إقامة الشهادة، وعلی ذلک قوله تعالی: ذلِكَ أَدْنى أَنْ تَقَرَّ أَعْيُنُهُنَّ [ الأحزاب/ 51] ، وقوله تعالی: لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ [ البقرة/ 220] ، متناول للأحوال التي في النشأة الأولی، وما يكون في النشأة الآخرة، ويقال : دَانَيْتُ بين الأمرین، وأَدْنَيْتُ أحدهما من الآخر . قال تعالی: يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَ [ الأحزاب/ 59] ، وأَدْنَتِ الفرسُ : دنا نتاجها . وخصّ الدّنيء بالحقیر القدر، ويقابل به السّيّئ، يقال : دنیء بيّن الدّناءة . وما روي «إذا أکلتم فدنّوا» «2» من الدّون، أي : کلوا ممّا يليكم . دنا ( دن و ) الدنو ( ن) کے معنی قریب ہونے کے ہیں اور یہ قرب ذاتی ، حکمی ، مکانی ، زمانی اور قرب بلحاظ مرتبہ سب کو شامل ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] اور کھجور کے گابھے میں سے قریب جھکے ہوئے خوشے کو ۔ اور آیت کریمہ :۔ ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے ۔ میں قرب حکمی مراد ہے ۔ اور لفظ ادنیٰ کبھی معنی اصغر ( آنا ہے۔ اس صورت میں اکبر کے بالمقابل استعمال ہوتا ہ ۔ جیسے فرمایا :۔ وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَاور نہ اس سے کم نہ زیادہ ۔ اور کبھی ادنیٰ بمعنی ( ارذل استعمال ہوتا ہے اس وقت یہ خبر کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہو۔ اور کبھی بمعنی اول ( نشاۃ اولٰی ) استعمال ہوتا ہے اور الآخر ( نشاۃ ثانیہ) کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے جیسے فرمایا :۔ کہ اگر اس کے پاس ایک دینا بھی امانت رکھو ۔ خَسِرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةَ [ الحج/ 11] اس نے دنیا میں بھی نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی ۔ اور آیت کریمہ ؛وَآتَيْناهُ فِي الدُّنْيا حَسَنَةً وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ [ النحل/ 122] اور ہم نے ان کو دینا بھی خوبی دی تھی اور آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے ۔ اور کبھی ادنیٰ بمعنی اقرب آنا ہے اوراقصی کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ إِذْ أَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْيا وَهُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوى[ الأنفال/ 42] جس وقت تم ( مدینے کے ) قریب کے ناکے پر تھے اور کافر بعید کے ناکے پر ۔ الدنیا کی جمع الدنیٰ آتی ہے جیسے الکبریٰ کی جمع الکبر والصغریٰ کی جمع الصغر۔ اور آیت کریمہ ؛ذلِكَ أَدْنى أَنْ يَأْتُوا بِالشَّهادَةِ [ المائدة/ 108] اس طریق سے بہت قریب ہے کہ یہ لوگ صحیح صحیح شہادت ادا کریں ۔ میں ادنیٰ بمعنی اقرب ہے یعنی یہ اقرب ہے ۔ کہ شہادت ادا کرنے میں عدل و انصاف کو ملحوظ رکھیں ۔ اور آیت کریمہ : ذلِكَ أَدْنى أَنْ تَقَرَّ أَعْيُنُهُنَّ [ الأحزاب/ 51] یہ ( اجازت ) اس لئے ہے کہ ان کی آنکھیں ضدی ہیں ۔ بھی اسی معنی پر محمول ہے ۔ اور آیت کریمہ ؛ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ [ البقرة/ 220] تا کہ تم سوچو ( یعنی ) دنای اور آخرت کی باتوں ) میں غور کرو ) دنیا اور آخرت کے تمام احوال کی شامل ہے کہا جاتا ہے ادنیت بین الامرین وادنیت احدھما من الاخر ۔ یعنی دوچیزوں کو باہم قریب کرنا ۔ یا ایک چیز کو دوسری کے قریب کرتا ۔ قرآن میں ہے : يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَ [ الأحزاب/ 59] کہ باہر نکلاکریں تو اپنی چادریں اپنے اوپر ڈٖال لیا کریں َ ادنت الفرس ۔ گھوڑی کے وضع حمل کا وقت قریب آپہنچا ۔ الدنی خاص ک حقیر اور ذیل آدمی کو کہا جاتا ہے اور یہ سیئ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے کہا کاتا ہے :۔ ھودنی یعنی نہایت رزیل ہے ۔ اور حومروی ہے تو یہ دون سے ہیے یعنی جب کھانا کھاؤ تو اپنے سامنے سے کھاؤ ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اے محمد آپ ایسے شخص سے اپنی توجہ ہٹا لیجیے جو ہماری توحید اور ہماری کتاب کا خیال نہ کرے اور اپنی کوششوں سے سوائے دنیوی زندگی کے اسے کوئی مقصود نہ ہو، یعنی ابو جہل۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٩{ فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰی عَنْ ذِکْرِنَا وَلَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا ۔ } ” تو (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) آپ اعراض کر لیجیے ہر اس شخص سے جس نے روگردانی کی ہے ہمارے ذکر سے ‘ اور دنیا کی زندگی کے سوا جسے کچھ مطلوب نہیں ہے۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر ایسے شخص کو نظر انداز کردیں اور اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں جو صرف اور صرف دنیا کا طالب ہے اور اپنے اس مطلوب کی دھن میں اس نے ہماری یاد سے پیٹھ موڑ لی ہے۔ ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ اس حوالے سے اللہ تعالیٰ کا قانون اٹل ہے جس کی وضاحت سورة بنی اسرائیل کی ان آیات میں کردی گئی ہے : { مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَۃَ عَجَّلْنَا لَہٗ فِیْہَا مَا نَشَآئُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَہٗ جَہَنَّمَج یَصْلٰٹہَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا ۔ وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَۃَ وَسَعٰی لَہَا سَعْیَہَا وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ کَانَ سَعْیُہُمْ مَّشْکُوْرًا ۔ } ” جو کوئی عاجلہ (دنیا) کا طلب گار بنتا ہے ہم اس کو جلدی دے دیتے ہیں اس میں سے جو کچھ ہم چاہتے ہیں ‘ جس کے لیے چاہتے ہیں ‘ پھر ہم مقرر کردیتے ہیں اس کے لیے جہنم۔ وہ داخل ہوگا اس میں ملامت زدہ ‘ دھتکارا ہوا۔ اور جو کوئی آخرت کا طلب گار ہو ‘ اور اس کے لیے اس کے شایانِ شان کوشش کرے اور وہ مومن بھی ہو تو یہی لوگ ہوں گے جن کی کوشش کی قدر افزائی کی جائے گی۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

24 Dhikr here may imply the Qur'an as well as mere admonition; it may also mean that he does not like that even God be mentioned before him. 25 That is, "You should not waste your time in making him understand the truth, for such a person will never be inclined to accept any invitation which is based on God-worship, which calls to objects and values higher than the material benefits of the world, and according to which the real aim of life may be the eternal success and well-being of the Hereafter. Instead of expending your time and energy on such a materialistic and ungodly person, you should devote attention to the people who arc inclined to heed the remembrance of Allah and arc not involved in the worship of the world. "

سورة النَّجْم حاشیہ نمبر :24 ذکر کا لفظ یہاں کئی معنی دے رہا ہے اس سے مراد قرآن بھی ہو سکتا ہے ، محض نصیحت بھی مراد ہوسکتی ہے اور اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خدا کا ذکر سننا ہی جسے گوارا نہیں ہے ۔ سورة النَّجْم حاشیہ نمبر :25 یعنی اس کے پیچھے نہ پڑو اور اسے سمجھانے پر اپنا وقت ضائع نہ کرو ۔ کیونکہ ایسا شخص کسی ایسی دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہو گا جس کی بنیاد خدا پرستی پر ہو ، جو دنیا کے مادی فائدوں سے بلند تر مقاصد اور اقدار کی طرف بلاتی ہو ، اور جس میں اصل مطلوب آخرت کی ابدی فلاح و کامرانی کو قرار دیا جا رہا ہو ۔ اس قسم کے مادہ پرست اور خدا بیزار انسان پر اپنی محنت صرف کرنے کے بجائے توجہ ان لوگوں کی طرف کرو جو خدا کا ذکر سننے کے لیے تیار ہوں اور دنیا پرستی کے مرض میں مبتلا نہ ہوں ۔ سورة النَّجْم حاشیہ نمبر :26 یہ جملہ معترضہ ہے جو سلسلہ کلام کو بیچ میں توڑ کر پچھلی بات کی تشریح کے طور پر ارشاد فرمایا گیا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(53:29) فاعرض : میں ف عاطفہ ہے جب ان مشرکوں کی جہالت و خفت دانش معلوم ہوگئی اور یہ معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ہدایت پر چلنے کی بنائے وہ اپنے بےاصل خیالات پر چل رہے ہیں تو آپ بھی ان کی طرف سے روگردانی کرلیجئے۔ کیونکہ ایسوں کو سمجھانا اور حق کی دعوت دینا بےکار ہے۔ اعرض فعل امر واحد مذکر حاضر۔ اعراض (افعال) مصدر۔ تو منہ پھیرلے تو کنارہ کرلے۔ من تولی : من موصولہ ہے تولی ماضٰ واحد مذکر غائب تولی (تفعل) مصدر ۔ اس نے منہ موڑا۔ اس نے پیٹھ پھیر دی۔ عن ذکرنا۔ یہاں ذکر سے مراد قرآن ، یا ایمان یا اللہ کی یاد ہے۔ ولم یرد : واؤ عاطفہ، لم یرد فعل مضارع نفی جحد بلم صیغہ واحد مذکر غائب ہے اور نہیں خواہش رکھتا وہ۔ الا الحیوۃ الدنیا : الا حرف استثناء الحیوۃ الدنیا موصوف صفت۔ مل کر مستثنیٰ ۔ منصوب بوجہ مستثنیٰ منقطع کے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 یعنی اس کے پیچھے نہ پڑیئے اور اسے سمجھانے میں وقت ضائع نہ کیجیے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 29 تا 32 مبلغ پہنچنے کی جگہ۔ اسآء و انہوں نے برے کام کئے۔ یجتنبون جو بچتے ہیں ۔ کبائر الاثم بڑے بڑے گناہ۔ الواحش بےحیائیاں۔ اللمم تھوڑا سا گناہ، خطا ۔ انشا اس نے پیدا کیا۔ اجنۃ (جنین) ماں کے پیٹ میں بچے لاتزکوا پاکباز نہ بننے پھرو۔ تشریح : آیت نمبر 29 تا 32 نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ان لوگوں کی اصلاح کی جدوجہد کرتے رہے جن کا مقصد زندگی اللہ کو راضی کرنا ہے اور ان کا ہر قدم اللہ و رسول کی رضا و خوشنودی کے لئے اٹھتا ہے لیکن وہ لوگ جن کا مقصد دنیا کی زندگی کا آرام و سکون، راحت اور عیش و عشرت حاصل کرنا ہے ان کی عقل ان کا فہم اس سے آگے بڑھتا ہی نہیں۔ ان کے نزدیک جو کچھ ہے وہ بس یہی دنیا ہے جس کے چکر میں وہ دن رات دیوانگی کی حد تک لگے رہتے ہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ایسے دنیا پرستوں کی پرواہ نہ کیجییا ور ان سے اپنا رخ موڑ کر اہل ایمان کی طرف کر لیجیے۔ اللہ اچھی طرح جانتا ہے کہ کون اس کے رساتے اور ہدایت پر ہے اور کون اس سے بھٹک کر دور جا پڑا ہے۔ یہ ساری کائنات اور زمین و آسمان کی ہر چیز کا مالک وہی ہے ۔ وہی گمراہوں کو ان کے برے انجام تک پہنچائے گا اور جن لوگوں نے تقویٰ ، پرہیز گاری اور نیکی کے ساتھ زنگدی گذاری ہوگی ان کو بہترین بدلہ اور اجر عطا فرمائے گا۔ یہ نیک لوگ وہ ہیں جو بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے بچ کر چلنے کے عادی ہیں اور اگر بشری کمزوریوں کی وجہ سے ان سے کسی طرح کی کوتاہی ، غفلت یا چھوٹا موٹا گناہ سرزد ہوگیا ہوگا تو وہ اس پر ضد اور اصرار کرنے کے بجائے فوراً اللہ سے سچے دل سے توبہ کرلیتے ہیں تو یقینا وہ لوگ اپنے پروردگار کی رحمت و مغفرت کے دامن کو بہت وسیع پائیں گے۔ وہ اللہ جس نے انسان کو زمین سے پیدا کیا ہے وہ انسانی فطرت اور مزاج کو بہت اچھی طرح جانتا ہ۔ آدمی کو غرور وتکبر کرنے اور اپنی پاکیزگی پر فخر نہیں کرنا چاہئے کیونکہ دنیا جانتی ہو یا نہ جانتی ہو وہ اللہ تو اس کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ کون متقی پرہیز گار ہے اور کون گلے گلے تک گناہوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ (1) اللہ کا دین پہنچانے کے سلسلے میں ہر شخص پر محنت کرنے کی ضرورت ہے لیکن جو لوگ دامن مصطفیٰ سے وابستہ ہوچکے ہوں ان کا خیال رکھنے کی زیادہ ضرورت ہے۔ جیسے موجودہ دور میں اہل ایمان کی تعداد ساری دنیا میں ہر قوم سے زیادہ ہے۔ اللہ نے سارے خزانے اور وسائل مسلمانوں کے قدموں میں ڈال دیئے ہیں۔ غیر مسلموں کو دین اسلام کی طرف رغبت دلاتے رہنا چاہئے لیکن صرف اسی طرف لگا رہنے میں اتنا فائدہ نہیں ہے جتنا اس بات میں فائدہ ہے کہ مسلمانوں کو صحیح معنی میں مسلمان بنایا جائے۔ آج اگر صرف مسلمان ہی دین اسلام پر پوری طرح عمل کرنے والے بن جائیں تو ہمیں صرف غیر مسلموں کو مسلمان بنانے کی فکر نہیں پڑے گی۔ اگر آج سارے مسلمان عالمی غنڈہ گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک ہوجائیں تو یہی غیر مسلم مسلمانوں کے قدموں کی دھول بن کر رہ جائیں گے۔ اس آیت میں اسی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ آج اگر صرف مسلمان ہی دین اسلام پر پوری عمل کرنے والے بن جائیں تو ہمیں صرف غیر مسلموں کو مسلمان بنانے کی فکر نہیں پڑے گی۔ آج سارے مسلمان عالمی غنڈہ گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک ہوجائیں تو یہی غیر مسلم مسلمانوں کے قدموں کی دھول بن کر رہ جائیں گے۔ اس آیت میں اسی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ (2) کبیرہ گناہ ویسے تو کبیرہ گناہوں کی فہرست بہت طویل ہے ان میں سے چند کبیرہ گناہوں سے بچنے کی بہت ضرورت ہے جیسے زنا کاری اور بد کاری، لواطت (قوم لوط کا عمل) ، چوری، ڈاکہ ، قتل و غارت گری، سود، جواء ، شراب نوشی اور نشہ پیدا کرنے والی چیزوں کا استعمال، والدین کی نافرمانی، پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا، رشوت ، مردار جانور اور خنزیر کا گوشت کھانا، کسی شخص یا یتیم کے مال پر زبردستی قبضہ کرلینا، جادو سیکھنا سکھانا، ماپ تول میں کمی کرنا، غیب چغل خوری، جھوٹی قسم، جھوٹی گواہی، قطع رحمی اور صغیرہ گناہوں کو معمولی سمجھ کر مسلسل کرتے رہنا یہ بھی کبیرہ گناہ بن جاتا ہے۔ اسی طرح ناچ گانا وغیرہ یہ سب کے سب کبیرہ گناہ ہیں۔ اگر کسی نے بڑے بڑے گناہوں سے توبہ نہ کی اور جس کا حق ہے اس کو اس کا حق ادا نہ کیا تو آخرت میں وہ زبردست خسارہ میں رہے گا۔ وہاں جا کر ایسا پچھتاوا ہوگا جس کا اس دنیا میں رہ کر تصور تک نہیں کیا جاسکتا۔ صغیرہ گناہ … وہ ہیں جن کے لئے دنیا میں تو سزا مقرر نہیں ہے اور نہ آخرت میں عذاب دینے کی وعید ہے یعنی وہ گناہ جو انسانوں سے اتفاقیہ طور پر بغیر کسی ارادے کے سر زد ہوجائیں لیکن صغیرہ گناہوں سے بچنا بھی بہت ضروری ہے۔ صغیرہ گناہوں کو جان بوجھ کر مسلسل کرتے رہنا ان کو گناہ کبیرہ بنا دیتا ہے۔ (3) فلانز کو انفسکم … یعنی اپنے آپ کو مقدس و محترم، گناہوں سے پاک سمجھنا اور خود اپنے منہ سے اپنی تعریفیں کرنا، ڈینگیں مارنا یہ اللہ کے نزدیک سخت ناپسندیدہ باتیں ہیں کیونکہ یہ بھی تکبر اور غرور کا ایک انداز ہے جسمیں آدمی اپنے آپ کو تو ہر عیب سے پاک سمجھتا ہے اور دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے۔ اصل میں خود پسندی انسان کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیتی ہے کیونکہ جب وہ اپنی حماقتوں پر بھی تقدس کے پردے ڈالے رکھے گا تو نہ وہ کسی سے کھچ سیکھے گا اور نہ اس میں کسی اچھی بات کے اختیار کرنے کا جذبہ ہوگا اس طرح وہ دنیا اور آخرت کی ہر سعادت سے محروم رہے گا۔ اس لئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جب کسی نے دوسرے کی تعریف کی تو آپ نے اس سے من فرما دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کسی کی تعریف کرنی ہو تو ان لافاظ سے کرو کہ ” میرے علم میں یہ شخص متقی ہے ” میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ کے نزدیک وہ ایسا ہی پاک صاف ہے جیسا کہ میں سمجھ رہا ہوں۔ (الحدیث) (4) مبلغ علم ۔ اس سیم راد انسان کے عقل و فہم کی پہنچ ہے ینی یہ لوگ بس اتنا ہی سوچ اور سمجھ سکتے ہیں جو انہوں نے دنیا میں دیکھا ان کا علم اور سمجھ آخرت تک پہنچا ہی نہیں۔ فرمایا کہ آپ ایسے لوگوں کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیجیے کیونکہ ایسی محدود سوچ رکھنے والوں سے اللہ خواب اچھی طرح واقف ہے وہی تو ان کا خلاق ہے۔ وہ ہر انسان کی فہم و فکر، عقل و سمجھ اور محنت کے نتائج سے اچھی طرح واقف ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فاعرض ............ بمن التقی (٢٣) ک (٣٥ : ٩٢ تا ٢٣) ” پس اے نبی جو شخص ہمارے ذکر سے منہ پھیرتا ہے اور دنیا کی زندگی کے سوا جسے کچھ مطلوب نہیں ہے اسے اس کے حال پر چھوڑ دو ۔ ان لوگوں کا مبلغ علم بس یہی کچھ ہے۔ یہ بات تیرا رب ہی زیادہ جانتا ہے کہ اس کے راستے سے کون بھٹک گیا ہے اور کون سیدھے راستے پر ہے اور زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا مالک اللہ ہی ہے۔ تاکہ اللہ برائی کرنے والوں کو ان کے عمل کا بدلہ دے اور ان لوگوں کو اچھی جزا سے نوازے جنہوں نے نیک رویہ اختیار کیا ہے جو بڑے بڑے گناہوں اور کھلے کھلے قبیح افعال سے پرہیز کرتے ہیں۔ الایہ کہ کچھ قصور ان سے سرزد ہوجائے۔ بلاشبہ تیرے رب کا دامن مغفرت بہت وسیع ہے۔ وہ تمہیں اس وقت سے خوب جانتا ہے جب اس نے زمین سے تمہیں پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں ابھی جنین ہی تھے ۔ پس اپنے نفس کی پاکی کے دعوے نہ کرو۔ وہی بہتر جانتا ہے کہ واقعی متقی کون ہے “۔ اعراض اور روگردانی کرنے کا حکم ان لورگوں کے لئے دیا گیا ہے جو اللہ کی یاد سے اعراض و روگردانی کرتے ہیں۔ آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور صرف حیات دنیا چاہتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا جاتا ہے کہ ان مشرکین کو چھوڑ دیں جن کے عقائد اور رویہ کا بیان اس سورة کے ابتدا میں ہوا اور جن کے اوہام و خرافات پر مبنی عقائد کا رد کیا گیا۔ رسول اللہ کے بعد یہ خطاب ہر مسلم داعی کو ہے جس کو اس قسم کے لوگوں سے واسطہ ہو جو اللہ کی یاد سے غافل ہوں جو اللہ اور آخرت پر ایمان نہ لاتے ہوں اور جن کا نقطہ نظر محض سیکولر ہو۔ دنیا سے آگے وہ دیکھنے والے ہی نہ ہوں۔ آخرت کا حساب و کتاب ان کی نظروں میں نہ ہو اور وہ دیکھتے ہوں کہ بس ان کا مقصد وجود صرف اس دنیا کی زندگی ہے۔” بابر بعیش کوش کہ عالم دوبارہ نسبت “ اور وہ اس ۔۔۔۔ اپنی زندگی کو اسی انداز پر استوار کرتے ہوں وہ انسان کے شعور کو اس بات سے الگ کردیتے ہیں کہ ایک ایسا الہ بھی ہے جو لوگوں کے امور کا مدبر ہے اور یہ کہ وہ الہ اس دنیا کی مختصر زندگی کے بعد اعمال کا حساب و کتاب لے گا اور ہمارے دور میں مادیت اور الحاد کے پیروکار ایسے ہی لوگ ہیں۔ جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ ایسے لوگوں میں دلچسپی نہیں لے سکتے جو آخرت سے غافل ہیں اور نہ ایسے لوگوں کے ہمقدم زندگی بسر کرسکتے ہیں جو آخرت کے منکر ہیں کیونکہ دونوں قسم کے لوگوں کے منبع زندگی اس قدر متضاد ہوتے ہیں کہ یہ ایک دوسرے کے ساتھ ایک قدم بھی نہیں چل سکتے کیونکہ زندگی کے نکات میں سے وہ باہم کسی نکتے پر بھی متفق نہیں ہوسکتے۔ ان کی زندگی کی قدریں اور پیمانے ہی الگ ہوتے ہیں۔ اہداف مختلف ہوتے ہیں ، تصورات مختلف ہوتے ہیں۔ لہٰذا وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بھی نہیں کرسکتے۔ وہ اس زمین پر ایک جگہ کوئی سرگرمی نہیں رکھ سکتے کیونکہ ان کی زندگی کے پیمانے ، قدریں اور مقاصد مختلف ہوتے ہیں۔ ان کی دوڑ دھوپ کا منہاج مختلف ہوگا اور غرض وغایت جدا ہوگی۔ جب دونوں کے درمیان کوئی یکسانیت اور یکجہتی نہیں ہے تو ایک دوسرے میں دلچسپی کیا ہوگی ؟ اگر کوئی مومن ایی سے لوگوں میں دلچسپی لیتا ہے جو اللہ کے ذکر سے منہ موڑتے ہیں اور سوائے حیات دنیا کے اور کچھ نہیں چاہتے تو وہ ایک سراسر ایک عبث کام کرتا ہے اور وہ بےمصرف اپنی قوت کو خرچ کررہا ہے۔ پھر اعراض اور روگردانی سے ایک اور غرض بھی ہے یہ کہ جو لوگ اللہ پر ایمان نہ لانے پر تلے ہوئے ہوں ان کو نظر انداز کرنا ، ان کو اہمیت نہ دینا بھی اپنی جگہ ایک مقصد ہے جو لوگ صرف دنیا کے بندے ہوں ان کو اس لئے نظر انداز کیا جاتا ہے کہ وہ ہیں ہی اس قابل کہ ان کو نظر انداز کیا جائے۔ وہ حق سے دور ہیں۔ حق کے ادراک کے اہل نہیں۔ یہ پردوں کے پیچھے کھڑے ہیں ان کے اور حقیقت کے درمیان حجاب ہے۔ یہ اس دنیا کے دائرے اور حدود سے باہر نکل نہیں سکتے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اہل دنیا کا علم دنیا ہی تک محدود ہے، اللہ تعالیٰ ہدایت والوں کو اور گمراہوں کو خوب جانتا ہے یہ چند آیات کا ترجمہ ہے، ان میں اولاً رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب فرمایا کہ جس شخص نے ہماری نصیحت سے اعراض کیا آپ اس کی طرف سے اعراض فرمائیں، بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی ہے اور مطلب یہ ہے کہ آپ ان کے پیچھے نہ پڑیں اور ان کی حرکتوں سے دلگیر نہ ہوں ان کو دنیا میں جھٹلانے اور انکار کرنے کی سزا مل جائے گی اور آخرت میں تو ہر کافر کے لیے عذاب ہے ہی اس سے چھٹکارہ نہیں۔ جن لوگوں نے قرآن سے اعراض کیا ان کی ایک صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَ لَمْ يُرِدْ اِلَّا الْحَيٰوةَ الدُّنْيَاؕ٠٠٢٩﴾ (کہ اس نے صرف دنیا والی زندگی کا ارادہ کیا) اس میں یہ بتادیا کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب سے اعراض کرنے والوں کی یہ صفت بھی ہوتی ہے کہ وہ صرف دنیا ہی کو چاہتے ہیں دنیا ہی انکا مقصود اور مطلوب ہوتی ہے اسی کے لیے کھاتے ہیں اور کماتے ہیں اور اسی کے لیے جیتے ہیں اور مرتے ہیں جس نے دنیا ہی کو مقصود بنا لیا وہ موت کے بعد کی زندگی کے لیے اور وہاں کام آنے والے اعمال کی طرف متوجہ ہوتا ہی نہیں اس کا سونا جاگنا اٹھنا، بیٹھنا دنیا ہی کے لیے ہوتا ہے ﴿ ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ ﴾ (یہ ہی ان کے علم کی پہنچ ہے) جتنی بھی ترقی کرلیں اور جتنا بھی پڑھ لیں اور جتنی بھی ڈگریاں حاصل کرلیں، ان کا سب کچھ غوروفکر اور مقصود اور مطلوب دنیا کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا جو دنیا میں غرق ہوگیا آخرت کی فکر سے اسے واسطہ ہی نہ رہا، سورة روم میں فرمایا ﴿ يَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ١ۖۚ وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ ٠٠٧﴾ (یہ لوگ دنیاوی زندگانی کے ظاہر کو جانتے ہیں اور آخرت سے غافل ہیں) اصحاب دنیا کو دنیا کی محبت ایمان قبول نہیں کرنے دیتی اور جو لوگ ایمان قبول کرلیتے ہیں اس کا بھی یہی حال ہوتا ہے جتنی دنیا غالب ہوگی اس قدر آخرت سے غفلت ہوگی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ( من احب دنیاہ اضر باخرتہ ومن احب اخرتہ اضر بدنیاہ فاٰثروا مایبقٰی علی من یفنی) (جو شخص اپنی دنیا سے محبت کرے گا اپنی آخرت کو نقصان پہنچائے گا اور جو شخص اپنی آخرت سے محبت کرے گا اپنی دنیا کو نقصان پہنچائے گا لہٰذا تم باقی رہنے والی کو فنا ہونے والی پر ترجیح دو ) (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ ٤٤١) مطلب یہ ہے کہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی ہے۔ اسی کو ترجیح دینا ہوش مندی کی بات ہے۔ ایک حدیث میں فرمایا : حب الدنیا راس کل خطیئة دنیا کی محبت ہر گناہ کی جڑ ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ ٤٤٤)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

17:۔ ” فاعرض۔ الایۃ “ یہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تسلی ہے اور مشرکین کے لیے زجر ہے۔ ” ذکر “ سے مراد قرآن ہے (روح) ۔ جو لوگ قرآنی تعلیمات سے اعراض کرتے ہیں، توحید و رسالت اور حشر و نشر کے منکر ہیں ان سے اعراض کریں آپ حق تبلیغ ادا کرچکے ہیں لیکن یہ لوگ محض ضدوعناد کی وجہ سے انکار و جحود پر تل گئے ہیں اور آخرت کے مقابلہ میں دنیوی زندگی ہی کو اصل زندگی سمجھتے ہیں۔ ان کا مبلغ علم ہی یہی ہے ان کی عقل و فہم کی رسائی بس یہیں تک ہے۔ ان کی نظریں دنیائے فانی کی چہل پہل، رونق و آرائش اور چند روزہ عیش و تنعم پر مرکوز ہو کر رہ گئی ہیں اور عالم آخرت ان کی گناہوں سے اوجھل ہے ایسے لوگوں کو آپ جتنی تبلیغ کریں گے اس سے ان کے عناد و تعنت میں مزید اضافہ ہوگا، اس لیے آپ ان سے اعراض فرمائی۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(29) پس آپ ایسے شخص کو منہ نہ لگائیے اور ایسے شخص سے منہ پھیر لیجئے اور اس سے بےالتفاقی کا برتائو کیجئے جس نے ہماری نصیحت اور ہماری ذکر سے روگردانی اختیار کر کھی ہو اور سوائے دنیوی زندگی کے اس کا اور کوئی مقصد نہ ہو۔