Surat un Najam

Surah: 53

Verse: 45

سورة النجم

وَ اَنَّہٗ خَلَقَ الزَّوۡجَیۡنِ الذَّکَرَ وَ الۡاُنۡثٰی ﴿ۙ۴۵﴾

And that He creates the two mates - the male and female -

اور یہ کہ اسی نے جوڑا یعنی نر مادہ پیدا کیا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

مِن نُّطْفَةٍ إِذَا تُمْنَى

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٢] یعنی میاں اور بیوی میں سے ہر ایک کا مادہ منویہ تو ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ مگر کبھی ان کے ملاپ سے اللہ بیٹا بنا دیتا ہے اور کبھی بیٹی۔ یعنی حمل قرار پانے کے بعد رحم مادر میں جنین کی ساخت جسمانی میں ایسی تبدیلی پیدا کرنا جس سے کوئی جنین نر بن جائے اور کوئی مادہ۔ یہ اللہ ہی کی قدرت ہے۔ اور جو ذات رحم مادر میں ایسی تبدیلی لاسکتی ہے وہ تمہیں دوبارہ بھی پیدا کرسکتی ہے۔ اور تمہارا دوبارہ پیدا کرنا اس کے ذمہ ہے اور یہی پہلی بار کی پیدائش کا نتیجہ ہے کیونکہ اس کا کوئی کام بلامقصد اور بےنتیجہ نہیں ہوا کرتا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاَنَّہٗ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْاُنْثٰى۝ ٤٥ ۙ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے زوج يقال لكلّ واحد من القرینین من الذّكر والأنثی في الحیوانات الْمُتَزَاوِجَةُ زَوْجٌ ، ولكلّ قرینین فيها وفي غيرها زوج، کالخفّ والنّعل، ولكلّ ما يقترن بآخر مماثلا له أو مضادّ زوج . قال تعالی: فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثى[ القیامة/ 39] ، وقال : وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ [ البقرة/ 35] ، وزَوْجَةٌ لغة رديئة، وجمعها زَوْجَاتٌ ، قال الشاعر : فبکا بناتي شجوهنّ وزوجتي وجمع الزّوج أَزْوَاجٌ. وقوله : هُمْ وَأَزْواجُهُمْ [يس/ 56] ، احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْواجَهُمْ [ الصافات/ 22] ، أي : أقرانهم المقتدین بهم في أفعالهم، وَلا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلى ما مَتَّعْنا بِهِ أَزْواجاً مِنْهُمْ [ الحجر/ 88] ، أي : أشباها وأقرانا . وقوله : سُبْحانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْواجَ [يس/ 36] ، وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنا زَوْجَيْنِ [ الذاریات/ 49] ، فتنبيه أنّ الأشياء کلّها مركّبة من جو هر وعرض، ومادّة وصورة، وأن لا شيء يتعرّى من تركيب يقتضي كونه مصنوعا، وأنه لا بدّ له من صانع تنبيها أنه تعالیٰ هو الفرد، وقوله : خَلَقْنا زَوْجَيْنِ [ الذاریات/ 49] ، فبيّن أنّ كلّ ما في العالم زوج من حيث إنّ له ضدّا، أو مثلا ما، أو تركيبا مّا، بل لا ينفكّ بوجه من تركيب، وإنما ذکر هاهنا زوجین تنبيها أنّ الشیء۔ وإن لم يكن له ضدّ ، ولا مثل۔ فإنه لا ينفكّ من تركيب جو هر وعرض، وذلک زوجان، وقوله : أَزْواجاً مِنْ نَباتٍ شَتَّى [ طه/ 53] ، أي : أنواعا متشابهة، وکذلک قوله : مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ [ لقمان/ 10] ، ثَمانِيَةَ أَزْواجٍ [ الأنعام/ 143] ، أي : أصناف . وقوله : وَكُنْتُمْ أَزْواجاً ثَلاثَةً [ الواقعة/ 7] ، أي : قرناء ثلاثا، وهم الذین فسّرهم بما بعد وقوله : وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ [ التکوير/ 7] ، فقد قيل : معناه : قرن کلّ شيعة بمن شایعهم في الجنّة والنار، نحو : احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْواجَهُمْ [ الصافات/ 22] ، وقیل : قرنت الأرواح بأجسادها حسبما نبّه عليه قوله في أحد التّفسیرین : يا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ راضِيَةً مَرْضِيَّةً [ الفجر/ 27- 28] ، أي : صاحبک . وقیل : قرنت النّفوس بأعمالها حسبما نبّه قوله : يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ ما عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَراً وَما عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ [ آل عمران/ 30] ، وقوله : وَزَوَّجْناهُمْ بِحُورٍ عِينٍ [ الدخان/ 54] ، أي : قرنّاهم بهنّ ، ولم يجئ في القرآن زوّجناهم حورا، كما يقال زوّجته امرأة، تنبيها أن ذلک لا يكون علی حسب المتعارف فيما بيننا من المناکحة . ( ز و ج ) الزوج جن حیوانات میں نر اور مادہ پایا جاتا ہے ان میں سے ہر ایک دوسرے کا زوج کہلاتا ہے یعنی نر اور مادہ دونوں میں سے ہر ایک پر اس کا اطلاق ہوتا ہے ۔ حیوانات کے علاوہ دوسری اشیاء میں جفت کو زوج کہا جاتا ہے جیسے موزے اور جوتے وغیرہ پھر اس چیز کو جو دوسری کی مماثل یا مقابل ہونے کی حثیت سے اس سے مقترن ہو وہ اس کا زوج کہلاتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثى [ القیامة/ 39] اور ( آخر کار ) اس کی دو قسمیں کیں ( یعنی ) مرد اور عورت ۔ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ [ البقرة/ 35] اور تیری بی بی جنت میں رہو ۔ اور بیوی کو زوجۃ ( تا کے ساتھ ) کہنا عامی لغت ہے اس کی جمع زوجات آتی ہے شاعر نے کہا ہے فبکا بناتي شجوهنّ وزوجتیتو میری بیوی اور بیٹیاں غم سے رونے لگیں ۔ اور زوج کی جمع ازواج آتی ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ هُمْ وَأَزْواجُهُمْ [يس/ 56] وہ اور ان کے جوڑے اور آیت : ۔ احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْواجَهُمْ [ الصافات/ 22] جو لوگ ( دنیا میں ) نا فرمانیاں کرتے رہے ہیں ان کو اور ان کے ساتھیوں کو ( ایک جگہ ) اکٹھا کرو ۔ میں ازواج سے ان کے وہ ساتھی مراد ہیں جو فعل میں ان کی اقتدا کیا کرتے تھے اور آیت کریمہ : ۔ إِلى ما مَتَّعْنا بِهِ أَزْواجاً مِنْهُمْ [ الحجر/ 88] اس کی طرف جو مختلف قسم کے لوگوں کو ہم نے ( دنیاوی سامان ) دے رکھے ہیں ۔ اشباہ و اقران یعنی ایک دوسرے سے ملتے جلتے لوگ مراد ہیں اور آیت : ۔ سُبْحانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْواجَ [يس/ 36] پاک ہے وہ ذات جس نے ( ہر قسم کی ) چیزیں پیدا کیں ۔ نیز : ۔ وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنا زَوْجَيْنِ [ الذاریات/ 49] اور تمام چیزیں ہم نے دو قسم کی بنائیں ۔ میں اس بات پر تنبیہ کی ہے ۔ کہ تمام چیزیں جوہر ہوں یا عرض مادہ و صورت سے مرکب ہیں اور ہر چیز اپنی ہیئت ترکیبی کے لحا ظ سے بتا رہی ہے کہ اسے کسی نے بنایا ہے اور اس کے لئے صائع ( بنانے والا ) کا ہونا ضروری ہے نیز تنبیہ کی ہے کہ ذات باری تعالیٰ ہی فرد مطلق ہے اور اس ( خلقنا زوجین ) لفظ سے واضح ہوتا ہے کہ روئے عالم کی تمام چیزیں زوج ہیں اس حیثیت سے کہ ان میں سے ہر ایک چیز کی ہم مثل یا مقابل پائی جاتی ہے یا یہ کہ اس میں ترکیب پائی جاتی ہے بلکہ نفس ترکیب سے تو کوئی چیز بھی منفک نہیں ہے ۔ پھر ہر چیز کو زوجین کہنے سے اس بات پر تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ اگر کسی چیز کی ضد یا مثل نہیں ہے تو وہ کم از کم جوہر اور عرض سے ضرور مرکب ہے لہذا ہر چیز اپنی اپنی جگہ پر زوجین ہے ۔ اور آیت أَزْواجاً مِنْ نَباتٍ شَتَّى [ طه/ 53] طرح طرح کی مختلف روئیدگیاں ۔ میں ازواج سے مختلف انواع مراد ہیں جو ایک دوسری سے ملتی جلتی ہوں اور یہی معنی آیت : ۔ مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ [ لقمان/ 10] ہر قسم کی عمدہ چیزیں ( اگائیں ) اور آیت کریمہ : ۔ ثَمانِيَةَ أَزْواجٍ [ الأنعام/ 143]( نر اور مادہ ) آٹھ قسم کے پیدا کئے ہیں ۔ میں مراد ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَكُنْتُمْ أَزْواجاً ثَلاثَةً [ الواقعة/ 7] میں ازواج کے معنی ہیں قرناء یعنی امثال ونظائر یعنی تم تین گروہ ہو جو ایک دوسرے کے قرین ہو چناچہ اس کے بعد اصحاب المیمنۃ سے اس کی تفصیل بیان فرمائی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ [ التکوير/ 7] اور جب لوگ باہم ملا دیئے جائیں گے ۔ میں بعض نے زوجت کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ ہر پیروکار کو اس پیشوا کے ساتھ جنت یا دوزخ میں اکٹھا کردیا جائیگا ۔ جیسا کہ آیت : ۔ احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْواجَهُمْ [ الصافات/ 22] میں مذکور ہوچکا ہے اور بعض نے آیت کے معنی یہ کئے ہیں کہ اس روز روحوں کو ان کے جسموں کے ساتھ ملا دیا جائیگا جیسا کہ آیت يا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ راضِيَةً مَرْضِيَّةً [ الفجر/ 27- 28] اے اطمینان پانے والی جان اپنے رب کی طرف لوٹ آ ۔ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی ۔ میں بعض نے ربک کے معنی صاحبک یعنی بدن ہی کئے ہیں اور بعض کے نزدیک زوجت سے مراد یہ ہے کہ نفوس کو ان کے اعمال کے ساتھ جمع کردیا جائیگا جیسا کہ آیت کریمہ : ۔ يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ ما عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَراً وَما عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ [ آل عمران/ 30] جب کہ ہر شخص اپنے اچھے اور برے عملوں کو اپنے سامنے حاضر اور موجود پائیگا ۔ میں بھی اس معنی کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَزَوَّجْناهُمْ بِحُورٍ عِينٍ [ الدخان/ 54] اور ہم انہیں حورعین کا ساتھی بنا دیں گے ۔ میں زوجنا کے معنی باہم ساتھی اور رفیق اور رفیق بنا دینا ہیں یہی وجہ ہے کہ قرآن نے جہاں بھی حور کے ساتھ اس فعل ( زوجنا ) کا ذکر کیا ہے وہاں اس کے بعد باء لائی گئی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ حوروں کے ساتھ محض رفاقت ہوگی جنسی میل جول اور ازواجی تعلقات نہیں ہوں گے کیونکہ اگر یہ مفہوم مراد ہوتا تو قرآن بحور کی بجائے زوجناھم حورا کہتا جیسا کہ زوجتہ امرءۃ کا محاورہ ہے یعنی میں نے اس عورت سے اس کا نکاح کردیا ۔ ذَّكَرُ ( مذکر) والذَّكَرُ : ضدّ الأنثی، قال تعالی: وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنْثى [ آل عمران/ 36] ، وقال : آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ [ الأنعام/ 144] ، وجمعه : ذُكُور وذُكْرَان، قال تعالی: ذُكْراناً وَإِناثاً [ الشوری/ 50] ، وجعل الذَّكَر كناية عن العضو المخصوص . والمُذْكِرُ : المرأة التي ولدت ذکرا، والمِذْكَار : التي عادتها أن تذكر، وناقة مُذَكَّرَة : تشبه الذّكر في عظم خلقها، وسیف ذو ذُكْرٍ ، ومُذَكَّر : صارم، تشبيها بالذّكر، وذُكُورُ البقل : ما غلظ منه الذکر ۔ تو یہ انثی ( مادہ ) کی ضد ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنْثى [ آل عمران/ 36] اور ( نذر کے لئے ) لڑکا ( موزون تھا کہ وہ ) لڑکی کی طرح ( ناتواں ) نہیں ہوتا آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ [ الأنعام/ 144] کہ ( خدا نے ) دونوں ( کے ) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں ( کی ) مادینوں کو ۔ ذکر کی جمع ذکور و ذکران آتی ہے ۔ چناچہ فرمایا :۔ ذُكْراناً وَإِناثاً [ الشوری/ 50] بیٹے اور بیٹیاں ۔ اور ذکر کا لفظ بطور کنایہ عضو تناسل پر بھی بولاجاتا ہے ۔ اور عورت نرینہ بچہ دے اسے مذکر کہاجاتا ہے مگر المذکار وہ ہے ۔ جس کی عادت نرینہ اولاد کی جنم دینا ہو ۔ ناقۃ مذکرۃ ۔ وہ اونٹنی جو عظمت جثہ میں اونٹ کے مشابہ ہو ۔ سیف ذوذکر ومذکر ۔ آبدار اور تیر تلوار ، صارم ذکور البقل ۔ وہ ترکاریاں جو لمبی اور سخت دلدار ہوں ۔ أنث الأنثی: خلاف الذکر، ويقالان في الأصل اعتبارا بالفرجین، قال عزّ وجلّ : وَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحاتِ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثى [ النساء/ 124] ، ولمّا کان الأنثی في جمیع الحیوان تضعف عن الذکر اعتبر فيها الضعف، فقیل لما يضعف عمله : أنثی، ومنه قيل : حدید أنيث قال الشاعر : عندي ... جراز لا أفلّ ولا أنيث وقیل : أرض أنيث : سهل، اعتبارا بالسهولة التي في الأنثی، أو يقال ذلک اعتبارا بجودة إنباتها تشبيها بالأنثی، ولذا قال : أرض حرّة وولودة . ولمّا شبّه في حکم اللفظ بعض الأشياء بالذّكر فذكّر أحكامه، وبعضها بالأنثی فأنّث أحكامها، نحو : الید والأذن، والخصية، سمیت الخصية لتأنيث لفظ الأنثيين، وکذلک الأذن . قال الشاعر : ضربناه تحت الأنثيين علی الکرد وقال آخر : وما ذکر وإن يسمن فأنثی يعني : القراد، فإنّه يقال له إذا کبر : حلمة، فيؤنّث . وقوله تعالی: إِنْ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا إِناثاً [ النساء/ 117] فمن المفسرین من اعتبر حکم اللفظ فقال : لمّا کانت أسماء معبوداتهم مؤنثة نحو : اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَمَناةَ الثَّالِثَةَ [ النجم/ 19- 20] قال ذلک : ومنهم۔ وهو أصحّ- من اعتبر حکم المعنی، وقال : المنفعل يقال له : أنيث، ومنه قيل للحدید الليّن : أنيث، فقال : ولمّا کانت الموجودات بإضافة بعضها إلى بعض ثلاثة أضرب : - فاعلا غير منفعل، وذلک هو الباري عزّ وجلّ فقط . - ومنفعلا غير فاعل، وذلک هو الجمادات . - ومنفعلا من وجه کالملائكة والإنس والجن، وهم بالإضافة إلى اللہ تعالیٰ منفعلة، وبالإضافة إلى مصنوعاتهم فاعلة، ولمّا کانت معبوداتهم من جملة الجمادات التي هي منفعلة غير فاعلة سمّاها اللہ تعالیٰ أنثی وبكّتهم بها، ونبّههم علی جهلهم في اعتقاداتهم فيها أنها آلهة، مع أنها لا تعقل ولا تسمع ولا تبصر، بل لا تفعل فعلا بوجه، وعلی هذا قول إبراهيم عليه الصلاة والسلام : يا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ ما لا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ وَلا يُغْنِي عَنْكَ شَيْئاً [ مریم/ 42] . وأمّا قوله عزّ وجل : وَجَعَلُوا الْمَلائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبادُ الرَّحْمنِ إِناثاً [ الزخرف/ 19] فلزعم الذین قالوا : إنّ الملائكة بنات اللہ . ( ان ث) الانثی ( مادہ ) بہ ذکر یعنی نر کی ضد ہے اصل میں انثیٰ و ذکر عورت اور مرد کی شرمگاہوں کے نام ہیں پھر اس معنی کے لحاظ سے ( مجازا) یہ دونوں نر اور مادہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔{ وَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى } ( سورة النساء 124) ۔ جو نیک کام کریگا مرد یا عورت (4 ۔ 124) اور چونکہ تمام حیوانات میں مادہ منسلک نر کے کمزور ہوتی ہے لہذا اس میں معنی ضعف کا اعتبار کرکے ہر ضعیف الاثر چیز کو انثیٰ کہہ دیا جاتا ہے چناچہ کمزور لوہے کو حدید انیث کہا جاتا ہے شاعر نے کہا ہے ع (28) ۔۔۔۔۔ عندی ۔۔ جراز لا افل ولا انیث میرے پاس شمشیر براں ہے جو کند اور کمزور نہیں ہی ۔ اور انثی ٰ ( مادہ) کے ساتھ تشبیہ دیکر نرم اور زرخیز زمین کو بھی ارض انیث کہہ دیا جاتا ہے یہ تشبہ یا تو محض نری کے اعتبار سے ہے ۔ اور یا عمدہ اور پیداوار دینے کے اعتبار سے ہے سے اسے انیث کہا گیا ہے جیسا کہ زمین کو عمدہ اور پیداوار کے اعتبار سے حرۃ اور ولو د کہا جات ہے ۔ پھر بعض اشیاء کو لفظوں میں مذکر کے ساتھ تشبیہ دے کر اس کے لئے صیغہ مذکر استعمال کیا جاتا ہے ۔ اور بعض کو مؤنث کے ساتھ تشبیہ دے کر صیغہ تانیث استعمال کرتے ہیں جیسے ۔ ید ۔ اذن اور خصیۃ چناچہ خصیتیں پر تانیث لفظی کی وجہ سے انثیین کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ( ع وافر) (29) وماذکر وان یسمن مانثی ٰاور کونسا مذکر ہے کہ اگر وہ موٹا ہوجائے تو مؤنث ہوجاتا ہے ۔ اس سے مراد قرا دیعنی چیچر ہے کہ جب وہ بڑھ کر خوب موٹا ہوجاتا ہے تو اسے حلمۃ بلفظ مونث کہا جاتا ہے اسی طرح آیت کریمہ ؛۔ { إِنْ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا إِنَاثًا } ( سورة النساء 117) وہ خد ا کے سو ا جن کی بھی پرستش کرتے ہیں وہ مادہ ہیں ۔ میں اناث ، انثی ٰ کی جمع ہے ) بعض مفسرین نے احکام لفظیہ کا اعتبار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مشرکین اپنے بتوں کو جن اسماء سے پکارتے تھے جیسے لات ، عزی ، منات الثالثہ یہ سب مؤنث ہیں اس لئے قرآن نے اناث کہہ کر پکارا ہے ۔ اور بعض نے معنٰی کا اعتبار کیا ہے اور کہا ہے کہ ہر منفعل اور ضعیف چیز کو انیث کہا جاتا ہے جیسے کمزور لوہے پر انیث کا لفظ بولتے ہیں اسکی تفصیل یہ ہے کہ موجودات کی باہمی نسبت کے اعتبار سے تین قسمیں ہیں فاعل غیر منفعل ، یہ صفت صرف ذات باری تعالیٰ کے ساتھ مختص ہے ۔ منفعل غیر فاعل یہ خاصہ جمادات کا ہے ۔ 3 ۔ ایک اعتبار سے فاعل اور دوسرے اعتبار سے منفعل جیس جن دانس اور ملائکہ کہ یہ اللہ تعالیٰ کے اعتبار سے منفعل اور اپنی مصنوعات کے لحاظ سے فاعل ہے اور چونکہ ان کے معبود جمادات کی قسم سے تھے جو منفعل محض ہے لہذا اللہ تعالیٰ نے انہیں اثاث کہہ کر پکارا ہے اور اس سے ان کی اعتقادی جہالت پر تنبیہ کی ہے کہ جنکو تم نے معبود بنا رکھا ہے ان میں نہ عقل ہے نہ سمجھ ، نہ سن سکتے ہیں اور نہ دیکھ سکتے ہیں بلکہ کسی حیثیت سے بھی کوئی کام سرانجام دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ اسی بنا پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے و تو حید کی طرف دعوت کے سلسلہ میں ) اپنے باپ سے کہا ۔ { يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنْكَ شَيْئًا } ( سورة مریم 42) کہ ابا آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکیں لیکن آیت کریمہ ؛۔ { وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَنِ إِنَاثًا } ( سورة الزخرف 19) اور انہوں نے فرشتوں کو کہ وہ بھی خدا کے بندہ ہیں ( مادہ خدا کی بیٹیاں ) بنادیا میں ملائکہ کو اناث قرار دینے کے معنیٰ یہ ہیں کہ وہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا کرتے تھے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

مخنث بھی مذکر یا مونث سے ہوگا قول باری ہے (وانہ خلق الزوجین الذکر والا نثیٰ من نطفۃ اذا تمنی اور یہ کہ اسی نے نر اور مادہ دونوں جنسوں کو نطفہ سے پیدا کیا ہے جب وہ ٹپکایا جاتا ہے) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری (الذکر والا نثیٰ ) چونکہ اسم جنس ہے اس لئے وہ سب پر مشتمل ہے۔ یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہر فرد یا تو مذکر ہوگا یا مونث ۔ نیز یہ کہ مخنث اور وہ شخص جس کی تذکیر و تانیث کا معاملہ ہمارے لئے مشتبہ ہو (یعنی خنثیٰ مشکل) وہ لازمی طور پر مذکر ومونث میں سے کسی ایک سے ہوگا۔ امام محمد الحسن کا قول ہے کہ خنثیٰ مشکل صرف اس وقت تک خنثیٰ مشکل ہوتا ہے جب تک وہ بچہ ہوتا ہے ۔ لیکن جب وہ بالغ ہوجاتا ہے تو اس کے اندر لازماً مذکر یا مونث ہونے کی علامتوں کا ظہور ہوجاتا ہے۔ یہ آیت امام محمد کے قول کی صحت پر دلالت کرتی ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٥۔ ٤٩) اور وہی دونوں قسم یعنی نر و مادہ کو نطفہ سے بناتا یا یہ کہ پیدا کرتا ہے جبکہ نطفہ رحم عورت میں ڈالا جاتا ہے اور یہ کہ قیامت کے دن دوبارہ زندہ کرنا اسی کے ذمہ ہے اور وہی نفس کو خلقت سے غنی کرتا ہے اور وہی اس کی خلقت کو اس کے نفس کا محتاج بناتا ہے یا یہ کہ وہی خلقت کو پسندیدہ اور قناعت کرنے والا یا صابر بناتا ہے یا یہ کہ وہی مال دے کر غنی کرتا ہے اور جو دیتا ہے اس پر اسے راضی کرتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ وہی سونے اور چاندی کے ذریعے سے غنی کرتا ہے اور اونٹ گائے اور بکریاں دے کر سرمایہ دار بناتا ہے اور وہی مالک ہے سیارہ شعری کا بھی یہ وہ ستارہ ہے جو جوزاء کے ساتھ رہتا ہے اس ستارہ کی قبیلہ خزاعہ پرستش کرتے تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٥ ‘ ٤٦{ وَاَنَّہٗ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ الذَّکَرَ وَالْاُنْثٰی ۔ مِنْ نُّطْفَۃٍ اِذَا تُمْنٰی ۔ } ” اور یہ کہ وہی ہے جس نے پیدا کیے ہیں جوڑے نر اور مادہ کے ‘ ایک ہی بوندھ سے جبکہ وہ ٹپکائی جاتی ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(53:45) (7) وانہ خلق الزوجین الذکرو الانثی۔ اور یہ کہ بیشک اسی نے پیدا کیا یا وہی پیدا کرتا ہے جوڑے کو۔ ایک نر اور ایک مادہ۔ لغات القرآن میں الزوجین کے معنی یوں درج ہیں :۔ وہ دو شکلیں جن میں سے ہر ایک دوسرے کا نظیر ہو یا نقیض ہو ۔ جوڑا۔ زوج کا تثنیہ بحالت نصب و جز۔ آیت شریفہ ومن کل شیء خلقنا زوجین ( ) اور ہر چیز کے بنائے جوڑے “۔ میں بعض نے زوجین کے معنی نر اور مادہ کے لئے ہیں اور بعض نے مرکب کے۔ اور صحیح وراجح معنی صنفوں اور قسموں کے ہیں ہر شے کی ہم نے دو قسمیں کی ہیں اور قسم سے مراد مقابل ہے یعنی ہر شے میں خوئی نہ کوئی صفت ذاتی یا عرضی ایسی ہے جس سے دوسری شے جس میں اس صفت کی ضد اور نقیض ملحوظ ہے اس کے مقابل شمار کی جاتی ہے۔ جیسے آسمان و زمین۔ جو ہر و عرض ، گرمی سردی، چھوٹی بڑی، خوشنما بدنما، سفیدی اور سیاہی ۔ روشنی اور تاریکی وغیرہ وغیرہ قاموس القرآن میں ہے : دو قسمیں۔ میاں ، بیوی۔ صاحب الیسر التفاسیر لکھتے ہیں :۔ ای الصنفین الذکر والانثی من سائر الحیوانات۔ یعنی تمام حیوانات کو دو قسموں میں پیدا کیا۔ ایک نر اور مادہ۔ مزید وضاحت کے لئے ملاحظہ ہو مفردات القرآن۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جو ” رب “ موت وحیات پر قادر ہے اسی نے انسان کو ایک نطفہ سے پیدا کیا اور وہی اسے دوبارہ پیدا کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم، حضرت حوا ( علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے سوا ہر انسان کو ایک نطفہ سے پیدا کیا ہے جسے عورت کے رحم میں ڈالا جاتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ اسے نَر یا مادہ کی شکل میں پیدا کرتا ہے۔ ” تُمْنٰی “ کا معنٰی ہے مقدر میں کیا جانا، آزمایا جانا، توفیق دیاجانا اور امتحان لیا جانا وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں انسان کی تخلیق کو بڑی تفصیل کے ساتھ ذکر فرمایا ہے جس کا خلاصہ یوں ہے۔ ” اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا فرما کر ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیے۔ اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نگران ہے۔ “ (النساء : ١) ( فَلْیَنظُرْ الْاِِنسَانُ مِمَّ خُلِقَ خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍ یَخْرُجُ مِنْ بَیْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَآءِبِ اِِنَّہٗ عَلٰی رَجْعِہٖ لَقَادِرٌ) (الطارق : ٥ تا ٨) ” پس انسان دیکھ لے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔ ایک اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔ جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔ یقیناً وہی خالق اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔ “ ” یقیناً ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ پھر ہم نے اسے ایک محفوظ جگہ ٹپکی ہوئی بوند میں تبدیل کیا۔ پھر اس بوند کو لوتھڑے کی شکل دی پھر لوتھڑے کو بوٹی بنایا۔ پھر بوٹی سے ہڈیاں بنائیں پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا پھر اسے ایک دوسری شکل میں لاکھڑا کیا۔ بڑا ہی بابرکت ہے اللہ سب کاریگروں سے اچھا کاریگر۔ “ (المومنون : ١٢ تا ١٤) ” لوگو اگر تمہیں زندگی کے بعد موت کے بارے میں شک ہے تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ہے پھر نطفے سے پھر خون کے لوتھڑے سے پھر گوشت سے جو بوٹی کامل اور ناقص بھی تاکہ تم پر حقیقت واضح کریں کہ ہم جس نطفے کو چاہتے ہیں ٹھہرائے رکھتے ہیں۔ ایک خاص وقت تک رحموں میں پھر تمہیں ایک بچے کی صورت میں نکالتے ہیں تاکہ تم جوان ہوجاؤ اور تم میں سے کوئی پہلے ہی واپس بلالیا جاتا ہے اور کوئی ناکارہ عمر کی طرف پھیر دیا جاتا ہے تاکہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر نہ جان سکے اور تم دیکھتے ہو کہ زمین خشک ہوتی ہے پھر ہم نے اس پر بارش برسائی کہ یکایک وہ ابھرتی اور پھول گئی اور اس نے ہر قسم کی خوش نما نباتات اگلنی شروع کردی۔ “ (الحج : ٥) ” اللہ زمین و آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جسے چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔ جسے چاہتا ہے بیٹے اور بیٹیاں ملا جلا کردیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے بانجھ رکھتا ہے، وہ سب کچھ جانتا اور ہر چیز پر قادر ہے۔ “ (الشوریٰ : ٤٩، ٥٠) اللہ ہی انسان کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ انسان کو دوبارہ پیدا کرنا اس کا وعدہ ہے جس کی خلاف ورزی نہیں ہوپائے گی۔ اس لیے اس کا فرمان ہے کہ اے انسان ! تجھے دنیا کی زندگی اپنے رب کے بارے میں کسی فریب میں مبتلا نہ کردے۔ (فاطر : ٥) مسائل ١۔ اللہ ہی نر اور مادہ پیدا کرتا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو نطفہ سے پیدا کرتا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دوبارہ پیدا کرے گا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انسان کو دوبارہ پیدا کرے گا : ١۔ یقیناً قیامت کے دن اللہ تمہیں جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں۔ (الانعام : ١٢) ٢۔ آپ فرما دیں تمہارے پہلے اور آخر والے سب کو ضرور اکٹھا کیا جائے گا۔ (الواقعۃ : ٤٧ تا ٥٠) ٣۔ پھر ہم تمہیں تمہاری موت کے بعد اٹھائیں گے۔ (البقرۃ : ٥٦) ٤۔ ” اللہ “ ہی نے مخلوق کو پیدا کیا، پھر وہ اسے دوبارہ پیدا کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (الروم : ١١) ٥۔ قیامت کے دن ” اللہ “ ہی سب کو اٹھائے گا پھر ان کے اعمال کی انھیں خبر دے گا۔ (المجادلہ : ٦ تا ١٨) ٦۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو اٹھائے گا تاکہ ان کے درمیان فیصلہ صادر فرمائے۔ (الانعام : ٦٠) ٧۔ آپ فرما دیں کہ تم ضرور اٹھائے جاؤ گے۔ (التغابن : ٧) ٨۔ اللہ تعالیٰ تمام مردوں کو اٹھائے گا پھر اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ (الانعام : ٣٦) ٩۔ آپ فرما دیں اللہ ہی نے تخلیق کی ابتداء کی پھر دوبارہ پیدا کرے گا پھر تم کہاں بہک گئے ہو ؟ (یونس : ٣٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وانہ ........ والانثیٰ (٣٥ : ٥٤) من ........ تمنیٰ (٣٥ : ٦٤) ” اور اس نے نر اور مادے کا جوڑا پیدا کیا ایک بوند سے جب وہ ٹپکائی جاتی ہے۔ “ یہ بھی ایک عظیم حقیقت ہے جو اس دنیا میں ہر لمحے میں واقع ہوتی ہے چونکہ یہ عظیم واقعہ ہر وقت ہوتا رہتا ہے۔ اس لئے انسان اسے بھول جاتا ہے حالانکہ یہ ایک ایسا معجزہ اور عجوبہ ہے جو تمام تخیلاتی عجوبوں سے زیادہ عجیب ہے۔ ایک نطفہ ، ایک بوند جو گرتی ہے جو انسانی جسم کا ایک لیسدار مادہ ہے اور یہ اسی قدر زیادہ ہے جس طرح پسینہ ، آنسو اور دوسرے مواد۔ ایک وقت گزرنے کے بعد یہ کیا سے کیا بن جاتا ہے پھر یہ مرد اور عورت کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ مذکر ومونث بن جاتا ہے اور یہ معجزہ کس طرح رونما ہوتا ہے۔ اگر یہ واقع نہ ہوتا تو ہم اس کے بارے میں سوچ بھی نہ سکتے تھے۔ یہ انسان جو ایک قوی اور شیدید اور سخت باڈی رکھتا ہے۔ یہ کہاں تھا ؟ یہ اس سیال نطفے میں کہاں چھپا ہوتا تھا بلکہ اس نطفے کے کئی ملین اجزاء میں سے یہ ایک تھا۔ اس کی ہڈیاں کہاں تھیں۔ گوشت کہاں تھا جلد اور رگیں کہاں تھیں۔ بال اور ناخن کہا تھے اور اس کی خصوصیات اور صلاحیتیں کہاں تھیں اور اس کے اخلاق اور اس کا مزاج کہاں تھا۔ ایک مائیکروسکوپ سے دیکھا جانے والا خلیہ جس کے ساتھ اور کئی ملین ایسے خلیے موجود ہیں اور یہ سب ایک ہی نطفے میں ہیں جو بوند کی شکل میں نکلتا ہے۔ اس خلیے میں خصوصاً مذکر و مونث کا نقشہ کیا تھا۔ آخر کار یہ نقشہ جنین کے اندر ظاہر ہوا۔ کوئی ایسا ذی عقل انسان نہیں ہوسکتا جو اس عظیم حقیقت پر تدبر کرے اور پھر وہ ششدر نہ رہ جائے۔ یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ اس عظیم معجزے کا کوئی انکار کردے اور غرور سرکشی کرکے یہ کہے ” بھائی یہ اسی طرح ہوتا ہے پس جائیے والسلام “ اور یہ کام یونہی ہوگیا فقط ” اسی طرح مرد و عورت پیدا ہوگئے اور بس ہم زیادہ نہیں جانتے “ یا کوئی زیادہ تعلیم یافتہ بننے کی کوشش کرے اور کہے کہ یہ واقعات اس طرح ہوئے کیونکہ اس مواد میں ازرو ئے فطرت یہی استعداد تھی اور تمام زندہ چیزوں کے اندر تناسل کی یہ صلاحیت ہے لیکن اس کا جواب پھر سوال اور تشریح کا محتاج ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ استعداد کس نے ودیعت کردی اور یہ جذبہ کس نے ہر چیز کو دیا کہ وہ خود کار طریقے سے حفظ نوع اور تسلسل حیات کے لئے کام کرے۔ پھر یہ قوت ان چیزوں کو کس نے دی کہ وہ ایک ضعیف حالت سے تنومند حالت تک پہنچیں۔ یہ راستہ کس نے بتایا اور یہ خواہش کس نے رکھی اور ہر چیز کے اندر اس کے نوع کے خواص کس نے رکھے اور ان کے اندر اس نوع کی چیزوں کو دوبارہ پیدا کرنے کے خواص کس نے رکھے۔ ظاہر ہے کہ ایک قوت مدبرہ ہے جو اپنے ارادے اور حکم اور اذن سے ان معاملات کو چلارہی ہے اور ہر چیز کو ایک متعین راہ اور طریقے پر چلاتی ہے۔ اور پھر اس پہلی پیدائش سے جو ناقابل انکار حقیقت ہے۔ اللہ انسان کو دوسری پیدائش کی طرف متوجہ فرماتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ ہی نے جوڑے پیدا کیے : ﴿وَ اَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰى ۙ٠٠٤٥ ﴾ (اور بیشک اسی نے دو جوڑے پیدا کیے مذکر اور مونث، مذکر مونث کے لیے اور مونث مذکر کے لیے جوڑا ہے) ۔ ﴿مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى٠٠٤٦﴾ مرد عورت دونوں کو نطفہ سے پیدا فرمایا وہ کود کر اندر رحم میں پہنچتا ہے تو اس سے حمل ٹھہرتا ہے۔ ﴿وَ اَنَّ عَلَيْهِ النَّشْاَةَ الْاُخْرٰى ۙ٠٠٤٧ ﴾ (اور بلاشبہ اس کے ذمہ ہے دوبارہ پیدا کرنا) یعنی زندگی کے بعد یوں ہی مرکھپ کر ختم نہیں ہوجانا ہے، دوبارہ پھر زندہ ہوں گے حساب و کتاب، عذاب وثواب کا مرحلہ درپیش ہوگا اس کو یوں ہی چلتی ہوئی بات نہ سمجھیں دوبارہ زندہ ہونا اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے ذمہ ضروری قرار دے رکھا ہے۔ قال صاحب روح المعانی : ناقلا عن البحر لما کانت ھذہ النشاة ینکرھا الکفار بولغ لقولہ تعالیٰ علیہ کانہ تعالیٰ اوجب ذلک علی نفسہ (روح المعافی صفحہ ٦٩: ج ٢٧) ﴿وَ اَنَّهٗ هُوَ اَغْنٰى وَ اَقْنٰىۙ٠٠٤٨﴾ (اور یہ کہ اس نے غنی کیا اور سرمایہ باقی رکھا) یعنی اللہ تعالیٰ نے مال بھی دیا او مالیات میں وہ چیزیں بھی عطا فرمائیں جو باقی رہتی ہیں ذخیرہ کے طور پر کام دیتی رہتی ہیں جیسے باغیچے اور عمارتیں وغیرہ۔ ﴿وَ اَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعْرٰى ۙ٠٠٤٩ ﴾ (اور یہ کہ وہ شعریٰ کا رب ہے) شعریٰ ایک ستارہ کا نام ہے جس کی اہل عرب عبادت کرتے تھے اور اس عالم میں اس کی تاثیر کے معتقد تھے۔ روح المعانی میں لکھا ہے کہ بنی حمیر اور بنی خزاعہ اس کی عبادت میں مصروف رہتے تھے اور نقل کیا ہے کہ بنی خزاعہ میں ایک شخص ابوکبشہ تھا اس نے سب سے پہلے شعریٰ کی عبادت شروع کی تھی جسے ابوکبشہ کہا جاتا تھا۔ اللہ جل شانہ، نے ان کی تردید فرمائی اور فرمایا کہ شعریٰ میں کوئی تاثیر نہیں ہے اللہ تعالیٰ شانہ، جیسے سب چیزوں کا رب ہے، شعریٰ کا بھی رب ہے لہٰذا شعریٰ کی عبادت کرنے والے غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑیں اور اللہ تعالیٰ شانہ، کی عبادت میں لگیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(45) اور یہ کہ وہی دونوں قسمیں نر اور مادہ کی پیدا کرتا ہے۔ ہر انسان اور حیوان کے جوڑے نر اور مادہ کے وہی پیدا کرتا ہے۔